الجمعة، مارس 22، 2013



صدا کوئ نہیں چہرا نہیں ہے
جہاں میں ہوں وہاں دنیا نہیں ہے
نہ جانے کیا کمی ہے سادگی میں
کوئی میری طرف بڑھتا نہیں ہے
اگر جاؤں تو اب جاؤں کہاں میں
خدایا کیوں دعا سنتا نہیں ہے
بڑا شہرہ ہے اس کی شاعری کا
مگر وہ آدمی اچھا نہیں ہے
یہ غم ہے یا عذاب جاودانی
مسلسل بڑھ رہاہے گھٹتا نہیں ہے
کسی کی یاد ہی ہے سرگرانی
محبت عشق تو اچھا نہیں ہے
اگر ساگر اسے اپنا بھی لے تو
اسے ڈر ہے کہ وہ اس کا نہیں ہے


ليست هناك تعليقات: