‏إظهار الرسائل ذات التسميات آصف تنوير تيمي. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات آصف تنوير تيمي. إظهار كافة الرسائل

الاثنين، يناير 26، 2015

جامعة امام ابن تيمية میں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے مشاعرہ کا انعقاد



                                                               آصف تنویر تیمی

جامعہ امام ابن تیمیہ ہندوستان کا وہ دینی ادارہ ہے جس کی شہرت دنیا میں اس کے باکمال اساتذہ اور طلبہ سے ہے. یہاں کے طلبہ میں بیک وقت گونا گوں خوبیاں اور صلاحیتیں پائی جاتی ہیں.وہ عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریر وتحریر کی مہارت رکہتے ہیں.زبان کی دونوں قسموں نثر ونظم پر انہیں عبور ہوتا ہے.ان کی تحریر میں آزاد کا عکس اور نظم میں غالب ومیر کی جہلک ہوتی ہے.وہ ابتدائی درجات سے ہی مثر ونظم گوئی کی مشاقی کرتے ہیں، انہیں اسٹیج فراہم کیا جاتا ہے، ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ان کے بال وپر کو سنبہالا جاتا ہے.جامعہ میں "حلقہ ادب" اور مشاعرے کی تاریخ بڑی پرانی ہے، يہ "کیفی" کی یاد، "شکیل" کی کوشش اور "شیدا" کے شدت ذوق کی امین ہے.یہ حسین ماضی کی داستان اور صبح نو کی کرن ہے.ماضی کی تاریخ کو دہراتے ہوئے آج 26/جنوری 2015 ء کو جامعہ میں ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا، جس کے محرک دو کہنہ مشق شاعر ایک استاذ اور دوسرے ان کے شاگر اس سے میری مراد جناب ماسٹر مشتاق احمد شیدا اور جناب ابراہیم سجاد تیمی ہیں، دونوں کی کوششوں سے آج کی رات سہانی ہوگئی. بہائی ذبیح اللہ تیمی نے بہی مشاعرہ میں خوب رنگ بہرا، اپنی خوبصورت نظامت کے ذریعہ سامعین کے ذہن ودماغ پر حاوی رہے.ابہرتے شعراء میں بہائی نسیم وسہیل نے بہی اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا، غزل کی گہرائی میں جہانکتے دکہے، اس کے نشیب وفراز کا جائزہ لیا، خوب واہ واہی سے ان حضرات کے اشعار کا استقبال کیا گیا، اس کے علاوہ محفل مشاعرہ میں بعض دیگر حضرات بہی تہے، مولانا اشفاق سجاد سلفی(حفظہ اللہ) اور مولانا شجاعت حسین رحمانی نے بہی عربی واردو کے بعض اشعار پیش کیے. مجلس کی صدارت کی ذمہ داری بزرگ استاذ جناب ماسٹر مشتاق احمد شیدا نے انجام دی.کل ملا کر آج کی یہ ادبی نششت اپنے مقصد میں کامیاب رہی،واضح رہے کہ بعض طلبہ نے بہی اپنے کلام کے ساتہہ اس پروگرام میں شرکت کی.سچ بتاوں تو مزہ آگیا اپنے "سر" کے اشعار سن کر، ابراہیم بہائی کے اشعار کے بارے میں کیا کہنا تعلیق سے خالی ہیں،نام ہی کافی ہے.اللہ ہم سب کو حسن عمل کی توفیق بخشے. (آمین)

السبت، يناير 24، 2015

فضول خرچی اور پان

آصف تنویر تیمی


قرآن وحدیث میں فضول خرچی اور اسراف کو ناجائز قرار دیا گیا ہے.اللہ تعالی نے تو ایک جگہ اسراف کرنے والے کو شیطان کا بہائی ٹہرایا ہے.اور پیارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع سے ارشاد فرمایا:"اگر تم بہتے چشمہ کے پاس بہی ہو تو پانی کم بہاو".اور یہ حکم ایک نیک اور مباح عمل وضوء کے تعلق سے دیا، تو ایسے اعمال کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو سراسر حرام یا ناجائز ہوں،یقینا یہ قابل غور بات ہے.
آئیے اب ذرا اپنے گہر سے نکلیں اور اپنے اور اپنے بہائیوں کی فضول خرچیوں کا جائزہ لیں.

سورج اپنی لالی کے ساتہہ رات کی تاریکی کے بعد روشن ہونا چاہتا ہے، لوگ اپنے بستروں سے اٹہہ رہے ہیں، کسی کی زبان پر کلمہ ہے، کسی کی زبان پر گالی تو کوئی گانے اور صبح کی عالمی خبروں سے اپنے جنرل نالج میں اضافہ کرنا چاہتا ہے.صبح کی روشنی میں تو سب نہارہے ہیں، مگر بہ حیثیت مسلمان عمل میں فرق سب کے ہے.فجر کی نماز کی بات تو میں نے اس لیے نہیں کہی کہ ڈر ہے کہ کہیں میرا بہی نام اس بلیک لسٹ میں نہ آجائے.ایسے بہت کم اللہ والے ہیں جو اپنی صبح کا آغاز فجر کی باجماعت نماز سے کرتے ہیں، اور ان کا نام اللہ کے حضور پیش کیا جاتا ہے.

خیر یہ باتیں تو ہم سب اپنے میاں مولوی صاحب سے بلاناغہ جمعہ اور دیگر دینی محفلوں میں سنتے رہتے ہیں.اور ان بے چاروں کا کام بہی اس کے علاوہ کیا ہے، ان سے کہانا بہی کہاتے ہیں اور ضرورت پڑی تو گالیوں کا سوغات بہی ملتا ہے.بہائی آپ مولوی برادری کو مظلوم مانیں یا نا مانیں لیکن میں تو آئندہ اسمبلی الیکشن میں اس کو اپنا مدعا ضرور بناوں گا ہوسکتا ہے، میں اس کے ذریعہ پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاوں.اور ویسے بہی ہماری برادری کے بہت سارے لوگ سیاست کی سیڑہیوں پر پہلے سے موجود ہیں.

اوہ! میں بہی کہاں سے کہاں چلاگیا، بات تو گئی ہی، مگر آپ بہی کتنے بہولے بہالے اور کتنے پورانے ہیں کہ میرے ساتہہ خاموشی سے اب تک لگے ہوئے ہیں.

خیر صبح ہوئی اگرچہ دیر سے ہوئی، یہ میاں کالو سویرے سویرے اپنے کلے میں پان دبائے نکلے چلے آرہے ہیں، موسم تو ٹہنڈی کا ہے ہی، شال وسویٹر میں ڈہکے چہپے اپنے منہ کی سرخی سے سورج کی سرخی کو مات دینا چاہتے ہیں.کلی پر کلی کررہے ہیں، ان کے پان کے شوق نے زمیں کے ایک حصے کو بدنما کردیا ہے، ان کے چہینٹوں سے کئی کے کپڑے خراب ہوچکے ہیں، ان کے منہ اور دانٹ کا تو مت پوچہئے رات کی سیاہی بہی اس کے سامنے پہیکی ہے، پیسے اور وقت کا نقصان اس کا اعتراف تو چچا کالو بہی کرتے ہیں.پان کی بہی مختلف قسمیں ہیں جیسے بازار میں انواع واقسام کی سبزیاں ملتی ہیں اسی طرح پنواڑی کے پاس پان اور اس کے مصالحے، یہ نشہ آور پان ہے، یہ سادہ پان ہے، یہ اس کی جڑی بوٹیاں ہیں،جڑی بوٹیاں اس تعداد میں ہین کہ اگر میرے جیسا کمزور حافظے کا کوئی طالب اس کے حفظ کا امتحان دے تو فیل ہوجائے اور دنیائے پان سے بے دخل کردیا جائے (ویسے پہلے سے ہی اس سے محرومی کا غم برداشت کررہا ہوں).

پان کی قیمت کی راز افشا نہیں کروں ورنہ ہوسکتا ہے پان والوں کے گہر انکم ٹکس آفیسر کل صبح ہی پہنچ جائے، اور ٹکس کا مطالبہ کر بیٹہے.پانچ روپئے میں نارمل پان ہے، جس کو غریبوں کا پان کہا جاتا ہے، اس کے آگے کی کوئی حد نہیں پانچ پانچ سو روپئے کا بہی پان موجود ہے.پہر بہی لوگوں نے کہا دکان پر بہیڑ ہوتی ہے، لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں.

اگر آپ مجہہ جیسے کم علم سے یہ سوال کریں کہ جناب آپ تو پان کہاتے ہی نہیں پہر اس کی اتنی تفصیل کیسے معلوم ہے؟ اور اس کے فوائد کیا ہیں آپ کو کیا پتہ؟ تو جناب! اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آج تک میں نے کوئی ایسی کتاب، مضمون، کوئی تقریر ایسی نہیں سنی جس میں مقرر، مصنف اور کسی مضمون نگار نے پان کی فضیلت وافادیت کو بیان کیا ہو، اگر واقعی اس کے کوئی خوبی ہوتی تو کہیں تو کچہہ ہوتا.

تو عقلمندی اسی میں کہ ہم اپنے پان کا پیسہ بچا کر کسی رفاہی تنظیم کو دیں جس سے ہماری دنیا بہی سنورے اور آخرت میں بہی کام آئے.

الجمعة، يناير 23، 2015

فضول خرچی اور سگریٹ نوشی

 آصف تنویر تیمی

کل سے میں پتہ نہیں کیوں فضول کی باتوں میں لگاہوں، آپ بہی میرے ساتہہ خواہ مخواہ لگے رہتے ہیں، میں پورے اعتماد کے ساتہہ کہہ سکتاہوں کہ آپ میرے لاکہہ بہگانے اور بہکانے کے باوجود میدان چہوڑنے والے نہیں.ویسے تو گزشتہ کل ہی سے ارادہ تہا کہ مرداندگی کی علامت، مالداری کی علامت، جوانی کی علامت حضرت سگریٹ کا مختصر مگر جامع تعارف آپ کے سامنے پیش کروں گا، مگر بعد میں خیال آیا کہ اس کے تعارف کی چنداں ضرورت نہیں تہی، آپ جہاں چلے جائیں گہر، بس اسٹیشن، ریلوے اسٹیشن،ہوٹل،ہر موڑ اور ہر نکڑ پر اس کے عشاق اور نام لیوا ہی نہیں بلکہ دہن لیوا بہی پائیں جاتے ہیں.بعض بڑے شہروں میں یاران سگریٹ کے امیج کا بہی بڑا خیال رکہا جاتا ہے، جیسے ایر پورٹ اور اس قسم کی مہنگی جگہوں پر خاص انتظام کیا جاتا ہے،"smoking Room"حضرت عالی پورے تزک واحتشام سے وہاں تشریف لے جاتے اور اپنے شوق کو جلا بخشتے ہیں.پورا ماحول سیاہ آلود ہوتا ہے، دہواں کی وجہ سے دن رات کا نظارہ پیش کرتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے سانسوں کا عالمی مقابلہ جاری ہے.ہر کوئی پوری طاقت سے کش لینے میں مصروف ہوتا ہے.ڈبا کا ڈبا ختم ہوتا چلا جاتا ہے.
یونیورسیٹی اور کالج کے طلبہ اس کے زیادہ شوقین دیکہے جاتے ہیں، کلاس ختم اور ادہر سگریٹ کی کلاس شروع، جینس پینٹ، ٹی شرٹ، گردن میں کتابوں کا بستہ ایک ہاتہہ جینس کے پوکیٹ میں اور دوسرے دست مبارک سے جناب والا سگریٹ کا مزہ لے رہے ہیں، ایسا نہ سمجہیں کے سگریٹ کے اس حسین مرض میں صرف ہماری ہی برادری (مرد حضرات) کے لوگ ہیں بلکہ غیر برادری والوں(خواتیں حضرات) کا نام بہی جلی حروف میں ہے.ان کا نعرہ ہے (ہم کسی سے کم نہیں).
سگریٹ کی تاریخ بڑی قدیم ہے، کچہہ دہائیاں قبل اس کی جگہ لوگ بیڑی پیا کرتے تہے، ویسے بیڑی والے اب بہی دیہاتوں اور گاوں میں پائے جاتے ہیں، بعض لوگ تو "بیڑی والے"ہی کے نام سے مشہور ہیں، جیسے کہ یہ ان کا "تخلص" ہوگیا ہو.کیا کہیے جہالت کا ہم بہی بچپن میں اپنے بڑے بوڑہوں کے لیے بیڑی لانے جایا کرتے تہے."عالم بیڑی"،"مرچہیا"کی بیڑی.
خیر باتیں بہت ہیں؛ آئیے چلتے چلاتے سگریٹ نوشی کی اہمیت وفضیلت اور اس کے چند اہم فوائد کا سرسری جائزہ لے لیا جائے تاکہ ہمارے اتنے طول طویل بہاشن کا کچہہ تو نتیجہ آمد ہو، فائدہ نمبر ایک:اگر آپ سگریٹ کے عادی ہیں تو آگ اور سلائی کی کمی نہیں ہوگی.راستہ میں بہی چولہا جلانے کی بہی ضرورت ہو تو بہ آسانی جلا سکتے ہیں.فائدہ نمبر ٹو:گناہوں کے علاوہ سگریٹ سے بہی آپ کے دل کا کلر بدل سکتا ہے.فائدہ نمبر سوم:نئے سٹائل کے تحت اگر درجی کپڑے میں سراخ کرنا بہول گیا تو آپ کی یہ بہترین عادت اس کمی کو پورا کر سکتی ہے.فائدہ نمبر چار:آپ اپنے اس خوشگوار عمل کے ذریعہ آلودگی کے روک تہام میں ملک کی اچہی خدمت کر سکتے ہیں.فائدہ نمبر فائنل: دنیا کے فائنل کہیل میں آپ کی ہار یقینی ہے.
سگریٹ کے انسدادی سفر میں کیا آپ ہمارے ساتہہ ہیں؟ اگر ہاں تو زور سے بولیے"مخدرات مردہ باد".

سعودی عرب کے باد شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز رحمہ اللہ

                                                                 آصف تنویر تیمی

صحیح عقیدہ کے حامل، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے خادم، کتاب وسنت کے شیدائی، مسلک سلف کے امین، علماء اور طلبہ کے قدر داں، عالم اسلام اور عام مسلمانوں کے سپاہی، اپنوں اور بے گانوں کے معین ومددگار، سعودی قوم کے دلوں پر حکومت کرنے والے حاکم وقت جناب عبد اللہ بن عبد العزیز (رحمہ اللہ) اب اس دنیا میں نہ رہے، ہمیشہ ہمیشہ کے ہم سب سے بہت دور جاچکے ہیں، اب صرف ان کی باتیں اور یادیں رہ گئیں ہیں.تقریبا دو دہائی سے زیادہ کی حکومتی مدت میں انہوں نے ملک وملت کی فلاح وبہبودی کی خاطر بے شمار کارہائے نمایاں انجام دیں ہیں، جس سے دنیا آگاہ ہے، اور یہ خدمات ان کے لیے صدقہ جاریہ بہی ہے

یقینا ان کی کامیاب زندگی پر قلم کار حضرات ہزاروں صفحات کی کتابیں اور مقالیں تحریر فرمائیں گے، سمینار اور کانفرنس منعقد ہوگی، ان کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو ہوگی، اور ہونی بہی چاہیے، مگر ان کے صدقہ جاریہ میں دو کام بہت اہم ہے اور دونوں کا تعلق اللہ کے گہر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے ہے.انہوں نے اپنے دور حکومت میں دونوں مسجدوں کی جو غیر معمولی توسیع کا کام کیا ہے یقینا وہ قابل رشک ہے.عربوں اور کہربوں کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والا یہ کام ان شاء اللہ ان کے میزان حسنہ کو وزنی بنائے گا.

خاص طور سے حرم مکی میں جو توسیع کا کام ہوا اور ہورہا ہے اس سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر کبہی نہیں ہوا، یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں بلکہ مشاہدہ پر مبنی اور حقیقت ہے.

اس کے علاوہ عالم اسلام پر بہی ان کے بہت احسانات ہیں.دنیا کی تمام دینی وملی تنظیمیں اور تحریکیں اس ملک اور اس کے باشندے کی احسان مند ہیں.

اللہ ملک عبد اللہ بن عبد العزیز کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کے خاندان کے غم زدہ افراد کو صبر جمیل کی توفیق دے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، اور اس مملکت توحید کے ایک ایک اینٹ کی حفاظت کرے، اور ان کے جانشیں ملک سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ کو ملک وملت کے حق میں مفید بنائے.

جامعہ امام ابن تیمیہ بہار (الہند)کے تمام ذمہ داران، اساتذہ، طلبہ،اور تمام منسوبین آل سعود کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالی سے ممدوح کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے ہیں.
انا للہ وانا الیہ راجعون

الخميس، نوفمبر 20، 2014

{جامعہ امام ابن تیمیہ میں سپریم اسلامی کونسل برائے فتوی وقضاء" کی تشکیل}

 آصف تنویر تیمی 

ویسے تو جامعہ کے ذریعہ اول دن ہی سے سماجی ومعاشرتی مسائل میں لوگوں کی رہنمائی کتاب وسنت کے مطابق ہوتی رہی ہے، اس مقصد کی خاطر جامعہ کے بعض سینئر اساتذہ مختص تہے، جو اس فریضے کو بحسن وخوبی انجام دیا کرتے تہے.اب تک سیکڑوں سوالات کے جوابات جامعہ کے پلیٹ فارم سے دیے جاچکے ہیں.

مگر اب اس شعبہ کو مزید متحرک اور فعال بنانے کے لیے اس میں بعض اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دین سے جوڑا جاسکے، ان کو حکومتی چارہ جوئی اور شکم پرور مفتیوں کے باطل فتووں سے محفوظ رکہا جاسکے. پہلے صرف فتوی پر ہی اکتفا کیا جاتا تہا جب کہ اب مسلمانوں کے دیگر معاشرتی وسماجی مسائل کا تصفیہ بہی اس کونسل کے ذریعہ ان شاء اللہ کیا جائیگا، اس کونسل سے جو فیصلہ ہوگا وہ سرکاری طور پر بہی فریقین کے لیے قابل تسلیم ہوگا کیونکہ کونسل کو سرکاری حمایت حاصل ہوگی.حسب ضرورت مدعی اور مدعی علیہ کو کونسل کی آفس میں آکر اپنا بیان دینا اور اپنا مدعا پیش کرنا ضروری ہوگا ضروت پیش آنے پر فریقین کے نام اخبارات وجرائد میں بہی نوٹس جاری کیے جاسکتے ہیں.اس کونسل کی جامعہ کے احاطہ میں ایک مستقل آفس کا انتظام کیا گیا ہے، جہاں اس کے نام کا بینر بہی ہوگا.
اس کونسل کے لیے جامعہ نے جن علماء کرام کا انتخاب کیا ہے ان کے نام اس طرح ہیں:
1-حصرت مولانا محمد ارشد فہیم مدنی.
2-حضرت مولانا محمد سمیع اللہ مدنی.
3-حضرت مولانا نور الاسلام مدنی.
4-حضرت مولانا عبد الرحمن مدنی.
5-مولانا اسد الرحمن تیمی.
6-مولانا ذبیح اللہ تیمی.
7-آصف تنویر تیمی.
اگر کسی کے پاس کوئی استفتاء یا دینی ومعاشرتی سوال ہو تو وہ کتاب وسنت کی روشنی میں اپنا جواب اس کونسل سے حاصل کرسکتا ہے.ساتہہ ہی آپ دیگر افراد کو بہی اس کمیٹی کے نشاطات سے با خبر کریں تاکہ وقت پڑنے پر وہ اس کونسل سے رجوع کرسکیں.
اس کمیٹی کو آپ سب کے سوالات کا انتظار ہے.

الجمعة، نوفمبر 14، 2014

{ DML PUBLIC SCHOOL کا دوسرا سالانہ تعلیمی کانفرنس }



{آصف تنویر تیمی}

آج بتاریخ 12/نومبر 2014 کو جامعہ امام ابن تیمیہ بہار کے زیر اشراف چل رہے DM L PUBLIC SCHOOL کے وسیع وعریض آنگن میں یک روزہ دوسرے تعلیمی کانفرنس کا شاندار افتتاح اسکول کے ہی ایک طالب علم زاہد انور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا.اس کے بعد نازیہ نے اپنی سہیلیوں کے ساتہہ اسکول کا ترانہ بڑے ہی خوبصورت اور اچہوتے انداز میں پیش کیا.پہر یک بعد دیگرے ڈاکٹر ارشد مدنی حفظہ اللہ نے خطبہ استقبالیہ، مولانا ظفیر عالم سلفی نے تعیلم کے میدان میں جامعہ اور اس کے جملہ شعبہ جات کی کارکردگی کی ایک جہلک، ماسٹر مشتاق احمد شیدا نے انگریزی زبان میں DLM کا تعارف، شیخ مصطفی مدنی نے جونیئر ماڈل اسکول کا تعارف پیش کیا.
اس کے بعد اسکول کے بعض طلبہ نے اردو، انگریزی، ہندی اور سنسکرت زبانوں میں اپنی اپنی نمائندہ تقاریر سے سامعین کو محظوظ کیا.جن طلبہ نے اس میں حصہ لیا ان میں نوشاد، عبد اللہ، شازیہ، عقیل طارق، انچل کماری، عاصم پرویز، سندیش کمار، مریم شاہین وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے.
اس موقع سے علم کی اہمیت وافادیت پر مبنی دو ڈرامے بہی سٹیج کیے گئے، جسے لوگوں نے کافی پسند کیا.پہلے ڈرامہ میں یہ دکہانے کی کوشش کی گئی تہی کہ اگر آدمی جاہل اور ان پڑہہ ہو تو اس کو زندگی کے مختلف مراحل میں کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور سے نوکری اور دوران سفر کی پریشانیاں بڑی تکلیف دہ ہوتی ہیں.دوسرے ڈرامے کا لب لباب یہ تہا کہ بچیوں کی تعلیم بہی بچوں کی تعلیم کی طرح اہم اور ضروری ہے.ہوسکتا ہے بسا اوقات گہر کے افراد بہی غلط فہمی کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کریں.مگر ان کو اگر علم کی اہمیت باور کرائی جائے تو وہ بہی حصول علم کے لیے تیار ہوسکتے ہیں.
اس کے بعد اس پروگرام میں شامل مہمانوں نے اپنے اپنے تاثرات کا کہل کر اظہار کیا.جناب پون کمار جیشوال، جناب نوشاد عالم صاحب نے صاف لفظوں میں ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کی جملہ کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی جم کر تعریفیں کیں، اور جامعہ اور اس سے منسلک تمام شعبوں کی مدد کی کامل یقین دہانی کرائی.انہوں نے پوری وضاحت سے کہا کہ ملک کو اس جیسے اور اسکولوں اور یونیورسیٹیوں کی ضرورت ہے تاکہ بہارت کا پچہڑا ہوا یہ علاقہ تعلیم کے میدان میں ترقی کرسکے.سامعین نے ان کی باتوں کی تائید میں اپنے ہاتہوں کو لہراتے اور تالیوں سے حوصلہ بخشتے رہے.اس کانفرنس میں تشریف لائے سینئر تیمی اور "ہمارا سماج"اردو کے اڈیٹر جناب ڈاکٹر خالد برکت اللہ تیمی نے بہی زور دار انداز میں بانی جامعہ کی تاریخی قربانیوں کا جذباتی انداز میں تذکرہ کیا، اور اس بات پر افسوس کا بہی اظہار کیا کہ اس عالمی شخصیت کو اب تک اپنی قوم، علاقے اورملک سے وہ پزیرائی نصیب نہیں ہوئی جس کے وہ حقدار تہے یا ہیں.
کانفرنس کے اخیر میں اپنے صدارتی کلمات کے ساتہہ بانی جامعہ جناب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ مائک پر حاضر ہوئے.ان کی تشریف آوری پر پنڈال کے طول وعرض میں بیٹہے بزاروں لوگوں نے تالیوں کی گڑ گڑاہٹ کے ساتہہ ان کا شایان شان استقبال کیا.اس عبقری شخصیت نے اپنی باتوں کی ابتدا حمد وصلاة سے کی اور مختصر وقت میں دو تین اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا جس کی تفصیل کے لیے وقت درکار ہے.موصوف نے اپنی زندگی کا نچوڑ بیان کرتے ہوا کہا کہ ہزاروں کتابوں کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ علم ہی انسان کی بلندی اور ترقی کا راز ہے.علم انسان کو عزت وقار عطاکرنے کے ساتہہ ساتہہ اس کے اندر تہذیب وتمدن بہی پیدا کرتا ہے.پہر ڈاکٹر موصوف نے اپنی باتوں کی تائید میں امریکہ کے پہلےصدر ابراہیم لنکن کی زندگی کے کئی سنہری واقعات پیش کیے. جنہیں سامعین ہمہ تن گوش سماعت فرماتے رہے.اس کے علاوہ بہی انہوں نے بہت ساری قیمتی نصیحتیں طلبہ وطالبات اور عام سامعین کو کیں.
اس طرح یہ بے مثال کانفرنس پوری کامیابی کے ساتہہ اپنی انتہا کو پہنچی. نائب رئیس جامعہ جناب ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی نے اس کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا.
واضح رہے کہ اس پورے پروگرام کی نظامت برادرم ابراہیم سجاد تیمی نے شروع سے اخیر تک انگریزی زبان میں کی.اور اس کانفرنس کو کامیابی کی سیڑہیوں تک پہنچانے میں جن ہستیوں نے رات دن ایک کیا ان میں ہمارے دو بہائیوں کا نام سر فہرست ہے اس سے میری مراد جنرل ڈائرکٹر آف جامعہ امام ابن تیمیہ اور DLM PUBLIC SCHOOL جناب عبد الرحمن تیمی اور ان کے مضبوط بازو عربی وانگریزی کے ساتہہ ہندی واردو کے باکمال ادیب جناب اسد الرحمن تیمی صاحبان ان دونوں کی جتنی بہی تعریفیں کی جائیں کم ہیں.ہم لوگوں کو جو کچہہ دیکہنے اور سننے کو ملا وہ انہی دونوں کے خوابوں کی خوبصورت تعبیر تہی.اللہ انہیں سلامت رکہے، اور ان کے تمام مصاحبین اور کارکنان کو بہی.
نوٹ: میں نے پروگرام کی یہ مختصر رپورٹ اپنے ان بہائیوں کے لیے تیار کی ہے جو جامعہ کے ایک ایک اینٹ سے محبت کرتے ہیں، اس کی تعمیر وترقی کے لیے ہمہ وقت دست بدعا ہوتے ہیں مگر خوشی کے اس قسم کے لمحات سے کسی وجہ سے وہ محروم رہتے ہیں.

{جامعہ امام ابن تیمیہ کی عظیم الشان مسجد میں درس بخاری کا انعقاد}

آصف تنویر تیمی

بانی جامعہ کی مبارک تشریف آوری کی وجہ سے جامعہ خوشیوں سے نہا رہا ہے.جامعہ کے جملہ متعلقین میں عجب قسم کی امنگیں دیکہنے کو مل رہی ہیں.ہر طرف سے علم وہنر کی باد بہاری چلتی محسوس ہورہی ہے.متنوع قسم کے علمی اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے.درس قرآن، درس حدیث اور خطاب عام سے جامعہ کی کل فضا معطر ہے.
اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ کل کا درس بخاری بہی ہے.جو کہ جہاں ایک طرف محترم بانئی کے لیے صدقہ جاریہ ہے تو وہیں طلبہ جامعہ کے ایک انمول علمی سرمایہ.اس درس میں جامعہ کےآخری سال کے تمام طلبہ اور طالبات نے حصہ لیا.قرآن مجید کے بعد دنیا کے سب سے صحیح کتاب "بخاری شریف"کی پہلی اور آخری حدیث کا سبق اپنے مربی اور عالم اسلام کے معروف عالم دین ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ سے اخذ کیا.تقریبا تیس سے زائد طلبہ اور طالبات نے یک بعد دیگرے بخاری شریف کی پہلی یا تو دوسری حدیث کو پڑہا. ڈاکٹر موصوف پوری تن دہی سے سبہوں کی قرات سنتے رہے اور حسب ضرورت اصلاحات بہی کیں.
ویسے تو اس درس کے اصل مخاطبین اس سال جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ اور طالبات ہی تہیں مگر درس کی اہمیت اور اس کی افادیت کی خاطر وسیع وعریض مسجد اساتذہ جامعہ اور طلبہ جامعہ سے اٹی ہوئی تہی.
حدیثوں کی خواندگی کے بعد ڈاکٹر موصوف نے اپنے خاص علمی انداز میں درس کا آغاز کیا، چونکہ وقت کافی گزر چکا تہا اس لیے انہوں نے اختصار کو اپنے سامنے رکہتے ہوئے اپنے طلبہ(بیٹے) طالبات (بیٹیوں) کو حدیث سے مستفاد چند نہایت قیمتی باتیں بتلائیں.انہوں نے کہا:ہر چہوٹے بڑے نیک عمل اور عبادت کے لیے نیت صالحہ کا پایا جانا ضروری ہے.بلکہ حدیث کی زبانی تمام تر اعمال کا دار مدار نیت کی سلامتی پر ہے.اس لیے امام بخاری نے اپنی کتاب کے اندر پہلی جو حدیث نقل کی وہ نیت کی اصلاح سے متعلق ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلا نیت کسی عمل کا کوئی شمار وقطار نہیں.خاص طور سے طلبہ اور دعاة اپنے فرائض کی انجام دہی میں نیت کی پاکی کا خاص خیال رکہیں.
اس کے بعد آخری حدیث کی شرح میں بہت سارے علمی وفنی حقائق کا انکشاف کیا. جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اپنی زندگی کو عمل سے آباد رکہنی چاہیے، عبادات سے کبہی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہیے.اور اگر آدمی حسن نیت کے ساتہہ عمل پیہم کرتا رہے تو ان شاء اللہ وہ اللہ کی رحمت اور توفیق سے جنت کا حقدار ہوسکتا ہے جیسا کہ امام بخاری کی حدیث سے پتا چلتا ہے.
خاص طور سے ذکر و اذکار اور توبہ واستغفار سے بندے کا کوئی پل خالی نہیں ہونا چائے کیونکہ اس کے ذریعہ ایک مسلمان کو وہ چیزیں حاصل ہوتی ہیں جس کی اسے امید بہی نہیں ہوتی.اس ضمن میں قرآن وحدیث کے نصوص کے علاوہ ڈاکٹر موصوف نے امام احمد (رحمہ اللہ) کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ بہی ذکر کیا.
ایک مرتبہ امام احمد(رحمہ اللہ) کہیں جارہے تہے، رات ہوگئی، رات گزارنے کی خاطر پرانے زمانے کے مطابق قریب کی ایک مسجد کا رخ کیا. مسجد کا متولی کچہہ بد اخلاق اور جاہل قسم کا تہا.نماز کے بعد جب اسے امام موصوف کے ارداے کا پتہ چلا تو وہ اس امر پر راضی نہ ہوا کہ وہ مسجد میں ٹہریں، کہینچ کر اس بدبخت نے امام احمد(رحمہ اللہ) کو مسجد سے باہر نکال دیا.اسی درمیان ایک شخص کا گزر ہوا اس نے یہ سارا ماجرا قریب سے دیہکا اسے امام صاحب پر بڑا ترس آیا (واضح رہے کہ یہ شخص اور نہ مسجد کا متولی امام صاحب کا پہچانتا تہا، اور نہ امام احمد (رحمہ اللہ) نے اپنے بارے میں کچہہ بتایا تہا) اس نے امام صاحب کو اپنے ساتہہ چلنے پر آمادہ امام صاحب کو تو رات گزارنی تہی تیار ہوگئے.آپ کو لے جانے والا شخص پیشے کے اعتبار سے ایک نان بائی تہا.وہ بڑی محبت کے ساتہہ اپنے ساتہہ لے کر گیا، اپنی دکان جہاں وہ کام کرتا تہا آپ کی راحت کا سارا انتظام کیا،اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا.
آپ نے(امام صاحب) دیکہا کہ ان کا میزبان(نان بائی) روٹی بیلتا ہے، آگ میں ڈالتا ہے، نکالتا ہے.اور اپنے ہر عمل کے ساتہہ کثرت سے"استغر اللہ"کا ورد کرتا ہے.امام احمد(رحمہ اللہ) دیر تک اس کا جائزہ لیتے رہے اور اخیر میں سوال کیا، اے میرے بہائی! ذرا یہ تو بتلاو جو یہ تم بار بار "استغر اللہ"پڑہہ رہے کیا اس کا فائدہ بہی تمہیں ہوا ہے؟ اس نے کہا اے مسافر آدمی سنو! میرے اس کثرت استغفار کی وجہ سے اب تک میں نے جو دعائیں اللہ سے کی ہیں ساری قبول ہوئیں سوائے ایک خواہش کے.امام صاحب نے پوچہا وہ خواہش کون سی ہے؟ تو اس نے بتلایا میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ:میری موت اس وقت تک نہ آنے جب تک ان آنکھوں سے میں امام احمد بن حنبل (رحمہ اللہ) کو نہ دیکہہ لوں.
جب امام موصوف نے یہ بات سنی تو ان کی آنکہیں چہلک پڑہیں اور کہا لو یہ خواہش بہی تمہاری پوری ہوگئ.پہر تفصیل سے بتلایا کہ میں ہی امام احمد بن حنبل(رحمہ اللہ) ہوں.قربان جائے آدمی اس عالی مرتبت امام کی تواضع اور خاکساری پر.
اس واقعہ کے ذریعہ ڈاکٹر موصوف سامعین کو عمل صالح اور اوراد وظائف پر ابہارنے کی کوشش کررہے تہے، ساتہہ ہی انہوں نے اپنی پوری تقریر کا خلاصہ اور پیغام اس واقعہ کو قرار دیا.
اس کے بعد ہمارے ممدوح ڈاکٹر صاحب حفظہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی زندگی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی، علم حدیث کے باب میں ان کی لازوال قربانیوں اور خاص طور سے شہر بخاری کی پریشانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی آنکہیں ڈبڈبا گئیں.انہوں نے برملا اپنے اس خیال کا اظہار بہی کیا کہ اسلاف کے تذکرے اور سوانح حیات کے مطالعے سے مجہے یہ اندازہ ہوا کہ صحابہ کے بعد اس دنیا میں اب تک امام بخاری(رحمہ اللہ) سے بڑا انسان نہیں گزرا (انہوں نے اس کو محض اپنی ایک ذاتی رائے سے تعبیر کیا)
اس کے علاوہ انہوں نے سفیان ثوری(رحمہ اللہ) اور دیگر محدثین عظام اور فقہائے کرام کی خدمات حدیث و فقہ کی طرف بہی اشارہ کیا.
اس طرح دعاوں کے ساتہہ اس عظیم الشان کتاب کا شاندار درس پایہ تکمیل کو پہنچا، طلبہ نے اپنے مربی اور استاذ سے ملاقات کی، مصافحہ کیا، اور خبر وخیرت کی دریافت کے ساتہہ علم وعرفان کے پروانوں کا یہ قافلہ اپنے اپنے نشیمن تک جاپہنچا.
اللہ تعالی جملہ مشارکین کو حسن عمل کی توفیق بخشے اور ہم سب کے مربی اور گارجین محترم ڈاکٹر موصوف کو اللہ صحت وایمان کے ساتہہ لمبی عمر عطا کرے تاکہ دیر تک ہم ان سے خوشہ چینی کرسکیں.
سدا آباد رہے چمن یہ ہمارا.

الاثنين، نوفمبر 10، 2014

رئیس جامعہ امام ابن تیمیہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کے ایک پر مغز خطاب کا خلاصہ


آصف تنویر تیمی

دنیا ایک اندھیری کوٹھری سے عبارت تھی، انسانیت روشنی کے لیے پریشان تھی.ہر کسی کو انتظار تھا ایسی روشنی کا جو انہیں قعر مذلت سے نکال سکے،اندازہ لگائیے اگر ایک تاریک کمرہ ہو،کہیں سے کسی شعاع تک کا گزر اس کے اندر ممکن نہ ہو، کوئی کھڑکی یا روشن دان بھی موجود نہ ہو.اور سیکڑوں افراد اس کمرے میں ہوں،بھلا اس کوٹھری کا کیا حال ہوگا۔

کچھ ایسا ہی حال طلوع اسلام سے قبل اس دنیا کا تھا.حیوان کیا اس سے بہی بدتر زندگی لوگ گزار رہے تہے.عقائد، عبادات اور معاملات تمام شعبوں میں لوگ افرا تفری کے شکار تھے.

ایسے تاریک زمانے میں اللہ نے اہل دنیا پر رحم کیا، اور ہادی عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرآن کی شکل میں روشنی عطا کرکے سارے عالم کے لیے مینارہ نور بنادیا.ان کے ذریعہ ہمیں ایسا ٹارچ ملا جس سے کائنات کا اکثر حصہ منور ہوگیا، ظلمت چھٹ گئی، روشنی ہر جگہ عام ہوگئ.جس کے سبب لوگوں نے اپنے آپ کو پہچانا، اپنے رب کو جانا، اپنے نبی کے حقوق کو سمجہا.

ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم مسلمان ہیں، صاحب ایمان ہیں.ہمیں روشنی کا ایسا پاور ہاوس حاصل ہے جس سے دنیا کے بہت سارے لوگ محروم ہیں.یہودیوں کو اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ دین اسلام میں ہر مرض کا علاج موجود ہے، مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کا مناسب حل مل سکتا ہے تو فقط دامن اسلام میں، جیسا کہ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) اور ایک یہودی کے مکالمے میں موجود ہے.
میرے بھائیوں اور میرے بچوں! قرآن وحدیث کا علم ہی حقیقی علم ہے، اس کے علاوہ سارے علوم مجازی ہیں.
وہ علم ہی کیا جو رب کا عرفان اور رسول کی معرفت نہ دے سکے.آپ بڑے سے بڑے یہودی عیسائی ڈاکٹر انجینئر یا ان کے علماء سے پوچھ لیجئے ان کو غسل اور آب دست تک کا علم نہیں ہوتا، آخر ان کو اس کا علم ہو بھی کیسے جبکہ ان کو یہ چیزیں سکھائی ہی نہیں جاتیں.یہ علم النفس اور دیگر دنیاوی علوم جس میں بسا اوقات قرآن وحدیث سے عاری شخص اپنے کمال کا دعوی کرتا ہے بھلا وہ اس ذات سے زیادہ نفسیات کے راز کو کیسے جان سکتا ہے جس نے اس نفس کو پیدا کیا، جی نہیں، نہیں جان سکتا، ان کی اکثر باتیں تو غلط ہوتی ہیں اور جو تھوڑی بہت مبنی بر حقیقت ہوتی ہیں وہ یا تو کتاب وسنت سے ماخوذ ہوتی ہیں یا اس کی اصل ہمارے پاس وحی الہی یا احادیث رسول کی شکل میں موجود ہوتی ہے جس کے لیے ان ناپاک لوگوں کی تحقیق کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں.

علمائے کرام! اللہ نے آپ کو نورانی کتابوں (علم قرآن، علم حدیث) کی تعلیم وتعلم کے لیے چن لیا ہے، اور واضح رہے علم حقیقی یا علم شرعی صرف چند کتابوں کی ورق گردانی کا نام نہیں.بلکہ پورے طور پر ان نورانی کتابوں کے حوالے اپنے آپ کو کردینے کا نام ہے.خاص طور سے عقائد اور عبادات میں کوتاہی سے علم شرعی کا نور حاصل نہیں ہوسکتا.امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے تعلق سے آتا ہے کہ جب کبھی انہیں کوئی مسئلہ نہیں سمجھ میں آتا تو کسی ایسی مسجد کا رخ کرتے جہاں لوگ کم آیا جایا کرتے تھے،وہاں جاکر امام صاحب کبھی اپنے دائیں اور کبھی بائیں گال کو مٹی سے رگڑتے اور دعا کرتے"یا معلم ابراہیم علمنی"اے ابراہیم (علیہ السلام) کے معلم مجھے بھی سکھلا۔
کیا کبھی ہم نے بھی ایسا تجربہ کیا ہے؟ اپنے رب کے حضور اس انداز میں تذلل کے ساتھ کہڑے ہونے کی کوشش کی ہے؟ آپ کے کمروں کے اندر بھی ایسی جگہ مختص ہونی چاہیے جہاں آپ رات کی تاریکی میں اٹھ کر اپنے رب کی عبادت کرسکیں، سنن ونوافل کا اہتمام کرسکیں، یقین جانیے یہ نبوی طریقہ اور سلف صالحین کا وطیرہ رہا ہے۔
علم شرعی کا راستہ کامیابی اور سرفرازی کا راستہ ہے.اللہ نے اس راہ کا راہی ہمیں بنایا ہے تو ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پورے انہماک اور محنت سے اس نور کو حاصل کریں جس سے دنیا کے شرک وبدعت کی تاریکی کا ہم خاتمہ کرسکیں،دعوت وتبلیغ کا فریضہ بخوبی انجام دے سکیں، قرآن کی لذت اور حدیث کی چاشنی کو ہم محسوس کرسکیں۔
امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عربی کا اتنا درک جس سے آدمی کے اندر قرآن وحدیث کی فہم آ سکے واجب ہے.
اس کے علاوہ رئیس وموسس جامعہ ( ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ ) نے آج فجر کی نماز کے بعد جامعہ کی وسیع وعریض مسجد میں موجود اساتذہ اور طلبہ کو بہت ساری قیمتی نصیحتیں کیں، ان سے ملاقیں کیں، طلبہ گرمجوشی سے کافی دیر تک مصافحہ کرتے رہے اور رئیس جامعہ مسکراتے ہوئے سب کی خبر خیریت دریافت کرتے رہے.
اللہ موصوف کی عمر اور علم میں مزید برکت دے تاکہ جامعہ کا ذرہ ذرہ ان سے اسی طرح استفادہ کرتا رہے.

نوٹ: سابقہ سطور میں ان کی پر مغز تقریر کی محض ادنی ترجمانی کی کوشش کی گئی ہے.اگر اس میں کسی طرح کی کوئی معنوی یا لفظی غلطی ہو تو وہ میری جانب سے تصور کی جائے گی.