‏إظهار الرسائل ذات التسميات الجامعة ومؤسسها. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات الجامعة ومؤسسها. إظهار كافة الرسائل

الثلاثاء، أغسطس 24، 2021

مفسر قرآن علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ- حیات و خدمات پر دو روزہ سیمینار



مایہ ناز سیرت نگار ومفسر قرآن اور معروف دینی دانش گاہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے بانی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ تاریخ ساز شخصیت كے مالک تھے ۔آپ نے 23 اپریل 1943 میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں اور 5 مارچ 2020 عیسوی کو اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ آپ بیک وقت مفسر قرآن وسیرت نگار، محقق و مصنف، مترجم و ادیب اور ماہر تعلیم تھے، آپ نےمثالی طرز تحریر، منفرد انداز بیان، جادو اثر خطابت اور معاملہ فہمی ودانشوری میں ایسا کمال حاصل کیا کہ علماء وفضلاء اور طللباء وعوام کے لیے بہترین آئیڈیل بن گئے ، آپ نے جامعہ امام ابن تیمیہ کے نام سے ایسی اسلامی درسگاہ اور تعلیمی ودعوتی قلعہ قائم کیا جو بہت مختصر عرصہ میں ہندو بيرون ہند میں اپنی معیاری تعلیم وتربیت كی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جانےلگا اور جس کے تحت کلیۃ سید نذیر حسین محدث دہلوی ،کلیۃ خدیجۃ الکبری لتعليم البنات ،معھد زید بن ثابت لتحفیط القرآن الکریم، ڈاکٹر محمد لقمان پبلک اسکول، بی ایڈ کالج ، سمیت متعدد شعبے سرگرم عمل ہیں اور اسی طرح جامعہ کی پچاسوں شاخیں ہندوستان کے طول وعرض میں کام کررہی ہیں۔


علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کے جد امجد بالاکوٹ کے میدان میں لڑی جانے والی ہندوستان کی سب سے پہلی جنگ آزادی كے مجاہدین میں سے تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم روایتی طور پر آبائی گاؤں چندن بارہ مشرقی چمپارن بہار کے مکتب میں ہوئی، پھرآپ نے پورنیہ کے ایک مکتب میں تعلیم حاصل کی, اس کے بعد آپ نے آزاد مدرسہ ڈھاکہ میں اپنی علمی تشنگی بجھائی, علم کے شوق میں آپ نے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئےشمالی ہند کی قدیم ترین دینی درسگاہ دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ،بہار میں داخلہ جہاں آپ كو نابغہ روزگار علماء وفضلاء سے کسب فیض کا شرف حاصل ہوا، وہاں آپ کی شخصیت نکھرتی چلی گئی اور آپ مثالی وممتاز طلباء میں شمار کیے جانے لگے، کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، ذمہ داران دارالعلوم نے آپ کی غیرمعمولی ذہانت و استعداد کو دیکھتے ہوئے فراغت سے پہلے ہی عالم اسلام کی مشہور اسلامی یونیورسیٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ کے لیے آپ کا نام پیش کیا اور وہاں کے اولین طلباء میں آپ کا داخلہ ہوگیا، وہاں آپ نے اپنے وقت کے اکابر علماء علامہ عبدالعزيز ابن باز ، علامہ ناصر الدين البانی اور علامہ عبدالقادر شیبہ الحمد رحمہم اللہ وغیرہم سے اکتساب فیض کیا اور ممتاز نمبرات کے ساتھ وہاں سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس كے بعد آپ نے المعہد العالی للقضاءریاض سے ایم اے کیا۔آپ نے 1984ء میں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ،ریاض سے حدیث نبوی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ 1968ء میں مملكت سعودی عرب کے دارالافتاء میں مترجم کی حیثیت سے متعين كيے گئے۔وہاں مفتی عام محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کی زیر سرپرستی کام کرنے کا موقع ملا, جب فقیہ دوراں علامہ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ مفتی عام بن کر دارالافتاء تشریف لائے , تو آپ کے تعلقات مفتی عام سے مزید استوار ہوتے چلے گئے, اور دھیرے دھیرے آپ ان کے معتمد خاص میں شمار ہونے لگے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست - تا نبخشد خدائے بخشندہ


آپ نے شاہ فیصل رحمہ اللہ کے حکم سے مسلم دنیا کا سفر کیا۔آپ نے امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، کویت اور قطر کے دعوتی اسفار بھی کئے۔جو آپ کی علمی وعملی اور قومی وملی زندگی میں سنگ میل ثابت ہوئے۔
آپ کی دور رس نگاہوں نے 1964 میں اپنے گاؤں میں المعہد الاسلامی کے نام سے دینی و تعلیمی ادارہ قائم کیا جو 1988ء میں ترقی کرکے مرکز العلوم الاسلامیہ ہوگیا۔وہی ادارہ ترقی کرتا ہوا 1990ء میں جامعہ امام ابن تیمیہ جیسا تعلیمی قلعہ بن گیا۔ آپ نے 1996 میں جامعہ کے احاطہ میں علمی و تحقیقی ادارہ مرکز علامہ ابن باز برائے دراسات اسلامیہ قائم کیا جہاں سے اب تک سو سے زائد کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر علمی دنیا سے داد تحسین حاصل کرچکی ہیں۔


آپ نےجامعہ کی چہاردیوار میں ایک وسیع و عریض دو منزلہ مولانا آزاد سنٹرل لائبریری قائم کی جس میں ایک اندازے کے مطابق عربی، اردو، ہندی اور انگریزی کی ايك لاكھ سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ آپ چمپارن رتن ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ اپ کی چند اہم تصنیفات میں "تیسیر الرحمن لبیان القرآن،ا لصادق الأمین, سیرۃ سید المرسلین, السعی الحیثیث إلى فقہ أہل الحدیث، اہتمام المحدیثن بنقد الحدیث, مکانۃ السنۃ,القراءۃ العربیۃ , رش البرد, رحلۃ مریم جمیلہ أمریکیہ من الکفر إلى الإسلام اور کاروان حیات نے بطور خاص علمی وتحقیقی حلقوں میں خوب داد تحسین حاصل کی۔اسی معیار کی آپ نے درجنوں دوسری اہم تالیفیات سے علمی دنیا کو مالامال کیا جو انشاء اللہ رہتی دنیا تک علمی وفکری خوشبو بکھیرتی رہیں گی۔
آپ نے عربی میں الفرقان اور اردو میں طوبی نامی دو ایسے مجلات کا اجراء کیا جو آغاز سے لے کر آج تک معاشرہ کی اصلاح وتربیت کا کام انجام دے رہے ہیں. ان دونوں مجلات کی تحریریں علمی حلقوں میں قدر کی نگا ہ سے دیکھی اور خوب سراہی جاتی ہیں۔


جامعہ کے ہزاروں فارغین و فارغات نہ صرف بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال،ہریانہ اور پڑوسی ملک نیپال میں علم و نور کی کرنیں بکھیر رہے ہیں بلکہ وطن عزیز کے گوشے گوشے کے علاوہ بیرون ملک بلاد حرمین شریفین اور دیگر مختلف ملکوں میں بھی علم و شریعت اور انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، الحمد لله يہاں کے فارغین دعوت و اصلاح،درس وتدریس اور تعلیم وتربيت کے ساتھ ساتھ ملک کی صحافت، سیاست ، اقتصادیات، معاشرت، عدلیہ، مقننہ،، ادب اور فنون لطیفہ گویا کہ ہر شعبہ حیات میں اپنا جھنڈا گاڑے ہوئے ہیں اور زندگی کے ہررزم وبزم میں پورے آب و تاب اور توانائی کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔
علامہ کی حیات تابندہ اور خدمات درخشندہ قوم وملت کے لیے مشعل راہ ہیں ۔اور ان کے معارف اور قائم کردہ ادارے قوم وملت کی امانت اور گراں قدر اثاثہ ہیں۔ااور ان کا وسیع پیمانے پر تعارف اوران کی حفاظت قوم وملت کی ذمہ داری ہے۔تاکہ چراغ سے چراح جلانے کا انبیائی عمل جاری وساری رہے۔ علامہ کی حیات وخدمات سے معنون یہ کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

الخميس، يناير 22، 2015

زيارة فضيلة مؤسس جامعة الإمام ابن تيمية الشيخ الدكتور الوالد محمد لقمان السلفي حفظه الله

لقد تشرفت _بفضل الله وتوفيقه_ليلة البارحة ليلة الخميس 2 ربيع الثاني 1436 الموافق 21 يناير 2015م بزيارة فضيلة مؤسس جامعة الإمام ابن تيمية ومركز العلامة ابن باز للدراسات الإسلامية الشيخ الدكتور الوالد محمد لقمان السلفي _حفظه الله ورعاه ومن كل سوء وقاه_ وذلك في منزله العامر بمدينة الرياض برفقة إخواني الأفاضل الأعزاء د.ظل الرحمن التيمي والشيخ محمد ثناء الله صادق ساغر التيمي والشيخ حفظ الرحمن لطف الرحمن التيمي ، وقد رحب بنا الدكتور ترحيبا حارا واستقبلنا برحابة صدره ودماثة خلقه وبادربالسؤال عن أحوالنا وعن مناشطنا الدعوية والعلمية كما سألناه نحن عن صحته وقد سررنا بماشاهدناه أنه يتمتع بالصحة والعافية والمعافاة.

وقد تجاذبنا أطراف الحديث حول الجامعة ومناشطها العلمية وسررنا بما سمعنا منه وأسدى إلينا بنصائح قيمة نافعة وتوجيهات سديدة مدعمة بالقصص والوقائع من حياته تضيء لنا الدروب وتفتح لنا الآفاق و نستنير بها في حياتنا_ إن شاء الله_ و قددعا لنا بدعوات صادقة تقبلها الله وفرح بلقاءنا فجزاه الله خيرا. والحمدلله الذي وفقنا لهذه الزيارة كما أشكر _إصالة عن نفسي ونيابة عن إخواني _ والدنا ومرشدنا الشيخ الدكتور على حسن الاستقبال وكرم الضيافة وعلى إعطائه لنا من أوقاته الثمينة سائلين الله تعالى أن يتقبل جهوده ويجعلها في موازين حسناته ويجعلها ذخراله يوم لا ينفع مال ولا بنون، كما نسأله سبحانه أن يرزقه الصحة والعافية والمعافاة وأن يطيل في عمره على طاعته ومرضاته وأن ينفع به الإسلام والمسلمين في أرجاء المعمورة وأن يحفظ جامعتنا من كل مكروه وأن يكفيها شر الأشرار وكيد االفجاروأن يوفق القائمين عليها ويسدد خطاهم آمين يارب العالمين.
والحمدلله الذي بنعمته تتم الصالحات.
كتبه
د.معراج عالم محمد إنفاق التيمي

الاثنين، نوفمبر 10، 2014

رئیس جامعہ امام ابن تیمیہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ کے ایک پر مغز خطاب کا خلاصہ


آصف تنویر تیمی

دنیا ایک اندھیری کوٹھری سے عبارت تھی، انسانیت روشنی کے لیے پریشان تھی.ہر کسی کو انتظار تھا ایسی روشنی کا جو انہیں قعر مذلت سے نکال سکے،اندازہ لگائیے اگر ایک تاریک کمرہ ہو،کہیں سے کسی شعاع تک کا گزر اس کے اندر ممکن نہ ہو، کوئی کھڑکی یا روشن دان بھی موجود نہ ہو.اور سیکڑوں افراد اس کمرے میں ہوں،بھلا اس کوٹھری کا کیا حال ہوگا۔

کچھ ایسا ہی حال طلوع اسلام سے قبل اس دنیا کا تھا.حیوان کیا اس سے بہی بدتر زندگی لوگ گزار رہے تہے.عقائد، عبادات اور معاملات تمام شعبوں میں لوگ افرا تفری کے شکار تھے.

ایسے تاریک زمانے میں اللہ نے اہل دنیا پر رحم کیا، اور ہادی عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرآن کی شکل میں روشنی عطا کرکے سارے عالم کے لیے مینارہ نور بنادیا.ان کے ذریعہ ہمیں ایسا ٹارچ ملا جس سے کائنات کا اکثر حصہ منور ہوگیا، ظلمت چھٹ گئی، روشنی ہر جگہ عام ہوگئ.جس کے سبب لوگوں نے اپنے آپ کو پہچانا، اپنے رب کو جانا، اپنے نبی کے حقوق کو سمجہا.

ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم مسلمان ہیں، صاحب ایمان ہیں.ہمیں روشنی کا ایسا پاور ہاوس حاصل ہے جس سے دنیا کے بہت سارے لوگ محروم ہیں.یہودیوں کو اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ دین اسلام میں ہر مرض کا علاج موجود ہے، مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کا مناسب حل مل سکتا ہے تو فقط دامن اسلام میں، جیسا کہ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) اور ایک یہودی کے مکالمے میں موجود ہے.
میرے بھائیوں اور میرے بچوں! قرآن وحدیث کا علم ہی حقیقی علم ہے، اس کے علاوہ سارے علوم مجازی ہیں.
وہ علم ہی کیا جو رب کا عرفان اور رسول کی معرفت نہ دے سکے.آپ بڑے سے بڑے یہودی عیسائی ڈاکٹر انجینئر یا ان کے علماء سے پوچھ لیجئے ان کو غسل اور آب دست تک کا علم نہیں ہوتا، آخر ان کو اس کا علم ہو بھی کیسے جبکہ ان کو یہ چیزیں سکھائی ہی نہیں جاتیں.یہ علم النفس اور دیگر دنیاوی علوم جس میں بسا اوقات قرآن وحدیث سے عاری شخص اپنے کمال کا دعوی کرتا ہے بھلا وہ اس ذات سے زیادہ نفسیات کے راز کو کیسے جان سکتا ہے جس نے اس نفس کو پیدا کیا، جی نہیں، نہیں جان سکتا، ان کی اکثر باتیں تو غلط ہوتی ہیں اور جو تھوڑی بہت مبنی بر حقیقت ہوتی ہیں وہ یا تو کتاب وسنت سے ماخوذ ہوتی ہیں یا اس کی اصل ہمارے پاس وحی الہی یا احادیث رسول کی شکل میں موجود ہوتی ہے جس کے لیے ان ناپاک لوگوں کی تحقیق کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں.

علمائے کرام! اللہ نے آپ کو نورانی کتابوں (علم قرآن، علم حدیث) کی تعلیم وتعلم کے لیے چن لیا ہے، اور واضح رہے علم حقیقی یا علم شرعی صرف چند کتابوں کی ورق گردانی کا نام نہیں.بلکہ پورے طور پر ان نورانی کتابوں کے حوالے اپنے آپ کو کردینے کا نام ہے.خاص طور سے عقائد اور عبادات میں کوتاہی سے علم شرعی کا نور حاصل نہیں ہوسکتا.امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے تعلق سے آتا ہے کہ جب کبھی انہیں کوئی مسئلہ نہیں سمجھ میں آتا تو کسی ایسی مسجد کا رخ کرتے جہاں لوگ کم آیا جایا کرتے تھے،وہاں جاکر امام صاحب کبھی اپنے دائیں اور کبھی بائیں گال کو مٹی سے رگڑتے اور دعا کرتے"یا معلم ابراہیم علمنی"اے ابراہیم (علیہ السلام) کے معلم مجھے بھی سکھلا۔
کیا کبھی ہم نے بھی ایسا تجربہ کیا ہے؟ اپنے رب کے حضور اس انداز میں تذلل کے ساتھ کہڑے ہونے کی کوشش کی ہے؟ آپ کے کمروں کے اندر بھی ایسی جگہ مختص ہونی چاہیے جہاں آپ رات کی تاریکی میں اٹھ کر اپنے رب کی عبادت کرسکیں، سنن ونوافل کا اہتمام کرسکیں، یقین جانیے یہ نبوی طریقہ اور سلف صالحین کا وطیرہ رہا ہے۔
علم شرعی کا راستہ کامیابی اور سرفرازی کا راستہ ہے.اللہ نے اس راہ کا راہی ہمیں بنایا ہے تو ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پورے انہماک اور محنت سے اس نور کو حاصل کریں جس سے دنیا کے شرک وبدعت کی تاریکی کا ہم خاتمہ کرسکیں،دعوت وتبلیغ کا فریضہ بخوبی انجام دے سکیں، قرآن کی لذت اور حدیث کی چاشنی کو ہم محسوس کرسکیں۔
امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عربی کا اتنا درک جس سے آدمی کے اندر قرآن وحدیث کی فہم آ سکے واجب ہے.
اس کے علاوہ رئیس وموسس جامعہ ( ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہ اللہ ) نے آج فجر کی نماز کے بعد جامعہ کی وسیع وعریض مسجد میں موجود اساتذہ اور طلبہ کو بہت ساری قیمتی نصیحتیں کیں، ان سے ملاقیں کیں، طلبہ گرمجوشی سے کافی دیر تک مصافحہ کرتے رہے اور رئیس جامعہ مسکراتے ہوئے سب کی خبر خیریت دریافت کرتے رہے.
اللہ موصوف کی عمر اور علم میں مزید برکت دے تاکہ جامعہ کا ذرہ ذرہ ان سے اسی طرح استفادہ کرتا رہے.

نوٹ: سابقہ سطور میں ان کی پر مغز تقریر کی محض ادنی ترجمانی کی کوشش کی گئی ہے.اگر اس میں کسی طرح کی کوئی معنوی یا لفظی غلطی ہو تو وہ میری جانب سے تصور کی جائے گی.

الاثنين، ديسمبر 30، 2013

فرصة لإبتعاث خريجي الجامعات السعودية

تعلن إدارة جامعة الإمام ابن تيمية بمدينة السلام عن حاجتها لأعضاء هيئة التدريس على أن يكونوا من خريجي الجامعات السعودية والأولوية لحاملي الماجستير والدكتورة ويتم ابتعاثهم من قبل وزارة الشئون الإسلامية والأوقاف، و المقاعد محدودة فعلى الراغبين التقدم بأسرع وقت ممكن،  للإستفسار يمكن الإتصال على رقم مؤسس الجامعة الدكتورمحمد لقمان السلفي مباشرة : 
00966502714594

الخميس، سبتمبر 16، 2010

تعريف بجامعة الإمام ابن تيمية بمدينة السلام (الهند)

يمكن التعرف على جامعة الإمام ابن تيمية وأنشطتها بالضغظ على هذه الروابط






التعريف بمجلة "طوبى" ومجلة "الفرقان" بقلم فضيلة الشيخ ظل الرحمن التيمي 

إلحاق ومعادلة الجامعة بقلم فضيلة الشيخ سميع الله العمري 

أسلوب الجامعة والمركز التعليمي والدعوي بقلم : فضيلة الشيخ أبو القيس عبد العزيز المدني 


إنطباعات المشائخ عن الجامعة


جامعة الإمام ابن تيمية في نظر الدكتور مقتدى حسن الأزهري رحمه الله



وإنطباعات الدكتور الأزهري رحمه الله باللغة العربية يمكن قراءتها بالضغط هنا

الجمعة، فبراير 12، 2010

استعراض أدبي لتأليف الدكتور محمد لقمان السلفي حول السيرة الطيبة"الصادق الأمين"

إن السيرة النبوية على صاحبها أفضل الصلوات والسلام مشعل نور ومنبع هداية ومصباح يزيح الظلما ت ومرجع لكل خير وفضیلة إنها تفسير للقرآن الكريم وشرح للرسالة السماوية الغراء ودليل ومرشد في العقيدة والعبادات والمعاملات، ومن أعظم نعم الله سبحانه وتعالى على الإنسانية، إن مزاياها العالية ومشاعل نورها المستنيرة كانت ولاتزال أعظم مُرَبٍّ للأجيال المسلمة عبر العصور وأقوى العناصر تأثيرا في النفس والعقل في كل زمان ومكان وقدوة حسنة ومثالا يحتذي به حتى تقوم الساعة، بعث الله نبيه رحمة للعالمين وهداية للانسانية ورسول الأخوة والمحبة والمساواة للناس كافة، جاء نبينا في عصر كان العالم كله فيه مليئا بجميع أنواع الأمراض المزمنة التي تفتك بالبشرية كلها،القوي كان يقتل الضعيف ويظلمه والحكومات القوية كانت تغير على الحكومات والشعوب الضعيف، فقام نبي الرحمة بدعوة الناس إلى الإسلام والسلام والأمن والأخوة والعدل والمساواة والمحبة، إنه دعا الإنسانية كلها في مشارق الأرض ومغاربها إلى عبادة الله الواحد الأحد لينصهروا في بوتقة الإسلام -

الأربعاء، يناير 06، 2010

زيارة العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي الكويت

مساء يوم الثلاثاء الموافق 5/1/2010 قدم فضيلة الدكتور محمد لقمان السلفي الكويت لمدة يومين حسب العادة وذلك لزيارة بعض كبار الشخصيات واللجان الخيرية في الكويت واستقبله على المطار الشيخ عارف جاويد المحمدي، وأقامه في شقة الشيخ عبد الخالق المدني والشيخ محمد انور السلفي، ومن مكارم الدكتور النبيلة أنه يحرص اللقاء مع خريجي جامعة الإمام ابن تيمية ويستأنس بالجلوس معهم وبمعرفة أحوالهم كما يتهلل وجهه فرحا وسرورا إذا سمع عن أي نشاط ملموس قام به الإخوة التيميين والأخوات التيميات، ومن تواضعه أنه يخبرنا بالإتصال عن قدومه إلى الكويت .

فلما وصل الدكتور إلى الكويت اتصل بي حسب العادة فلا تسأل عن بهجتي وسعادتي بالكلام معه فأخذت الموعد مباشرة لزيارته في سكن الشيخ محمد أنور السلفى في جليب الشيوخ بمرافقة الأخ الحبيب كرم الله عبد الرؤف التيمي وتعشينا معه، وبعد العشاء جرى الحوار حول الجامعة وأنشطتها العلمية لبعض الدقائق، وقد ألزمت على نفسي أن لا أتكلم عند كبار الناس إلا بقدر طرح السؤال المفيد وأبذل كل جهدي إلى الإستماع والإصغاء، فمما استفدت من جلسة الدكتور بعد الفراغ من العشاء أقدم اليكم بعض النقاط تعميما للفائدة -
"ينبغي لطالب العلم أن يواظب على الدراسة ويكثر من قراءة الكتب ، وأن لا يضيع وقته بدون فائدة وليكن جل همه الصعود الى الجبل الشامخ ولا يرضى بالدون ، كما ينبغي له أن يكتب ويسجل ويدون المعلومات فالأئمة الكبار الذين برعوا في مجالاتهم لم يكتفوا بالقراءة و المطالعة فحسب بل سجلوا ما كانت لديهم من معارف حتى أصبحت تلك المدونات والمخطوطات مراجع ومصادر لطلاب العلم من بعدهم। وقد يروى عن شيخ الإسلام الإبن تيمية الذي ألف من الكتب المفيدة ما لو وزع ما ألّف لكان نصيب كل يوم من حياته أربعين صفحة" -
وأضاف قائلا :
" فقد لاحظت أن معظم الطلاب الذين يعملون في الجاليات الدعوية بالخليج بعد التخرج من الجامعات والمعاهد الدينية ضعف مستواهم العلمي لقناعة ما عندهم وعدم الإهتمام بتطويرذاتهم ، وكان المفروض أن يهتموا بتطوير شخصيتهم فالإنسان لايولد عالما فالمثابرة والإستمرار والبذل والكد هي العوامل الأساسية التي يصل بها الإنسان إلى القمة" 
ومن خلاله ذكر قصته أنه عمل كـ داعية ومترجم بالبداية ولكن واصل الدراسة ولم ينقطع عنها البته حتى بلغ الآن الى ما بلغ -
وقال ايضا
" ينبغي لطالب العلم أن يخلص نيته ويخدم الإسلام والمسلمين ابتغاء لوجه الله تعالى وطلباً لمرضاته وحسن مثوبته ، و للتقرب إليه سبحانه لايريد من الناس جزاء ولا شكورا " 
وقد بين أنه لما تخرج من الجامعة فتوظف على راتب 1200 ريال سعودى ، ثم جاءه الطلب بأن يكون مترجما باللغة العربية والإنجليزية على راتب 12000 دولار(أو ريال) بشرط أن يتخلى عن بعض الشعائر الدينية من لبس البنطلون وتقصير اللحىة فرفض يتاتا وامتنع عن قبول الطلب ، فعوضه الله بالعلم والمكانة العالية حتى حصل على الجنسية السعودية وأعطاه الله من المال الوفير وهذا كله بناء على قاعدة " من ترك شيئا لله عوضه الله خيرا منه -
واستطرد قائلا
" كما ينبغي للمسلم أن يكون فخورا بإسلامه بأنه يتدين بدين الحق وقد هداه ربه إلى الهدى , فخورا بأن أنعم عليه بنعمة الإسلام وكفى بها نعمة – ويلزم على الداعية على الأخص أن يكون معتزا بالإسلام وفخورا به أمام عباد الأوثان والأصنام والأبقار والفروج" -
ولما سألت الدكتور عن عمله حاليا فقال بأنه مشغول في تأليف كتاب " السعى الحثيث الى فقه أهل الحديث" الذي سيكون في ثلاث مجلدات ان شاء الله تعالى، وعلى هذا انتهت الجلسة بحمد الله وتوفيقه ورجعنا الى مساكننا على موعد اللقاء القادم .

الاثنين، سبتمبر 21، 2009

نبذة عن سيرة مؤسس الجامعة العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي وحياته الدعوية

فان أرض الهند الثرية ولا سيما ولاية بيهار أنجبت رجالا ضحوا بأنفسهم وأموالهم لنشردين الله تعالى وإعلاء كلمته، وعلى رأس هولاء الرجال في العصر الحديث مؤسس ورئيس جامعة الإمام ابن تيمية العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي بن بارك الله بن المجاهد البطل محمد ياسين بن محمد سلامت بن عبد العليم الصديقي – متعنا الله بطول حياته
ان سعادة الدكتور نموذج من نماذج السلف الصالح، يتصف بالتقوى والخشية لله تعالى ويعرف بالصدق والأمانة والإخلاص في القول والعمل كيف لا؟ وقد تربى في ظل كبار العلماء والمشائخ أمثال سماحة الشيخ ابن باز والعلامة الألباني رحمهما الله ـ

أما مكانته العلمية فهو عالم جليل ومجاهد كبير ومفسر عظيم وأديب بارع وخطيب مصقع و تمتاز شخصيته من بين سائر الشخصيات أنه يجمع بين العلوم الدينية والعلوم العصرية حيث يتقن اللغة الإنجليزية و يعرف تطورات العصر الجديد والأزمات التي تلاحق الأمة المسلمة، ومن كان هذا شأنه كيف يعيش وحيدا في رحاب بيته ؟ فقد وجدته من خلال الحوار معه يتألم ويتأسف عما تمر به الأمة المسلمة من البؤس والإضمحلال في جميع نواحي الحياة الإنسانية وخير شاهد علي حرصه قيامه بتأسيس جامعة الإمام ابن تيمية حتى يقوم المتخرجون فيها من ايقاظ المسلمين من سباتهم العميق ، فقد رأيته - مع ما ببلغ من العمر- حريصا على السفر يحل و يرتحل لمصلحة الجامعة حتى يسافر إلى الهند مرتين في السنة- وإليكم ترجمة موجزة لهذا الرجل العبقري:

ولادته:
ولد الشيخ في عام 1943 م في بلدة آبائه ”جندنبارة ” بمديرية جمبارن الشرقية في ولاية بيهار بشمال شرقي الهند في أسرة دينية ، تحب العلم والعلماء كما كان جد الشيخ من فرسان الجهاد الإسلامي مكث في خراسان حوالى 14 عاما يجاهد في سبيل الله لإعلاء كلمة الله ، فقد تربي الشيخ في هذه الأسرة الدينية فكان عليه طابعا دينيا منذ نعومة أظفاره .

دراسته:
وقد درس الشيخ العادة دراسته الإبتدائية في قريته ثم رحل إلى دارالعلوم الأحمدية السلفية بدربنجه بولاية بيهار الهند , وكان متفوقا على زملاءه وأقرانه منذ بداية الدراسة، ومن هنا تم ترشيحه بعد التخرج فيها لمواصلة الدراسة بالجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، فسافر إلى السعودية وتلمذ في الجامعة على كبار العلماء والمشائخ آنذاك ، كـالشيخ الألباني والشيخ ابن باز رحمهما الله تعالى-

ملازمته للشيخ ابن باز رحمه الله:
فالدكتورلازم الشيخ ابن باز ملازمة شديدة حتي لم يتركه إلى حين وفاته، وذلك لما تخرج الدكتور من الجامعة الإسلامية عام 1964م وانتقل الشيخ ابن باز من الجامعة الإسلامية إلى رئاسة لهيئة كبار العلماء فالهيئة إختارته كـ مترجم للغة الأردية والأنجليزية على إيعاز من سماحة المفتي العام بالنظر إلى رصانتة العلمية وأخلاقه الحميدة، فانتقل الدكتور مع الشيخ ابن باز الى الرياض. وأصبح يعمل عنده كباحث ومترجم باللغة الإنجليزية ، يقول الدكتور في مقالته على حياة الشيخ ابن بازمبينا علاقته معه:

”ولا أرى بأساً أن أذكر –تحدثاً بنعمة الله- أني أحد أولئك الذين يعتزون بالإنتماء إليه، وقد بايعته –رحمه الله- فيما يراه النائم، وعرضت رؤياي على سماحته فبشرني بالخير، وقد عبرت تلك الرؤيا بنفسي بأني سأقوم بعمل دعوي امتداداً لدعوة شيخي. وقد ظهر تعبيرها في صورة جامعة ابن تيمية وجمعية شيخ الإسلام ابن تيمية التعليمية الخيرية ومركز العلامة عبدالعزيز بن باز للدراسات الإسلامية في الهند.وقد درست عليه العقيدة الطحاوية في الجامعة وحضرت دروسه ولم أزل استقي من منهله الصافي المستمد من الكتاب والسنة حتى لقي ربه.لم تنقطع صلتي به بعد تخرجي وسفري إلى مدينة الرياضسافرت إلى مدينة الرياض بعد تخرجي من كلية الشريعة بالجامعة للبحث عن عمل في مجال التدريس، ولكن الله أراد لي خيراً مما أردت، فحصلت على وظيفة المترجم الانجليزي في إدارة الدعوة بالخارج بدار الإفتاء”

ولكنه لم يترك مواصلة الدراسة بالإنشغال في الأمور الدعوية بل ظل يدرس ويواظب على الدراسة حتي حصل على الماجستيرمن المعهد العالى للقضاء عام 1970م والدكتوراة في الحديث النبوي من كلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية .

مع العلامة احسان الهي ظهير:
والدكتور من زملاء العلامة الشهيد إحسان الهي ظهير رحمه الله درس معه في الجامعه الإسلامية، يقول ثناء علي العلامة الشهيد
" لقد عرفت هذا المجاهد الذي أوقف حياته بل باع نفسه في سبيل الله أكثر من خمس وعشرين سنة عندما جمعتني به رحمه الله مقاعد الدراسة في الجامعة الإسلامية، جلست معه جنباً إلى جنب لمدة أربع سنوات فعرفته طالباً ذكياً يفوق أقرانه في الدراسة، والبحث، والمناظرة! وجدته يحفظ آلاف الأحاديث النبوية عن ظهر قلب"

ومن المناصب التي تولاها:
مدير إدارة الترجمة بمكتب سماحة المفتي العام بالمملكة العربية السعودية كما تشرف بكونه كبير باحثين بمكتب سماحة المفتي العام و هو المؤسس لجامعة الإمام ابن تيمية، ومركز العلامة ابن باز و دارالداعي للنشر والتوزيع بالرياض. و جامعة الإمام ابن تيمية بمدينة السلام بولاية بيهار الهند من أشهر الجامعات الدينية والتربوية في شبه القارة الهندية وقد لعبت الجامعة دورا ملموسا في تربية الأجيال الناشئة ومحو الأمية حتى ذاع صيتها داخل الهند وخارجها وتوافد إليها الطلبة من شتى أنحاء الهند، وانتشروا في العالم دعاة إلى الله تعالى بعد أن نهلوا من منهلها الصافي، فزادها الله بركة ونشاطا
التأليف والترجمة:
من يتوجه الى الأعمال الخيرية قلما يفرغ نفسه للتأليف والتصنيف رغم رغبته الأكيدة لإنشغاله في الأعمال الخيرية و عدم توفر الفرصة ولكن من عجائب حياة الدكتور أنه توجه الى التصنيف و التأليف بالإضافة إلى الأعمال الخيرية وله آثاره العلمية تشهد على نبوغه في هذا المجال ومن هذه الآثار
1- كتاب "السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي" (رسالة الماجستير)
2- و كتاب " اهتمام المحدثين بنقد الحديث سندا ومتنا ودحض مزاعم المستشرقين وأتباعهم" (رسالة الدكتوراة ) ،
3- و كتاب "رحلة مريم جميلة الأمريكية من الكفر إلى الإسلام"،
4- كتاب " تحفة الكرام لشرح بلوغ المرام"،
5- كتاب "فيوض العلام تفسير آيات الأحكام"
6- كتاب "الرحمة المهداة في سيرة سيد المرسلين الهداة"
7- كتاب "الصادق الأمين"
8- كتاب "رش البرد شرح الأدب المفرد للإمام البخاري"
9- "تيسير الرحمن لبيان القرآن" باللغة الأردوية
10- كتاب " السعى الحثيث إلى فقه أهل الحديث" 3 مجلدات
11-  كتب "السلسلة الذهبية للقراءة العربية" (12 مجلدا) وغيرها من الكتب القيمة

هذا غيض من فيض من حياة العلامة - حفظه الله - تم تدوينه في هذه العجالة ولى مواقف كثيرة من شمائل الشيخ سأقوم بتدوينها بالتفصيل في وقت لاحق . أدعو من الله العلى القدير أن يحفظ الشيخ ويلبسه لباس الصحة والعافية وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين