‏إظهار الرسائل ذات التسميات ثناء الله تيمي. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات ثناء الله تيمي. إظهار كافة الرسائل

الاثنين، سبتمبر 28، 2015

منی کا حادثہ


شہیدوں کے پاک خون سے ناپاک سیاست تک
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب

اس مرتبہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں بھی حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ہم نے پہلے لوگوں کی زبانی ( ان لوگوں کی زبانی بھی جو سعودی عرب کو ایسے گالیاں ہی دیتے ہیں ) سنا تھا کہ بہت ہی عمدہ اور قابل تعریف نظم رہتا ہے ۔ سعودی عرب کے لوگ حاجیوں کی دل کھول کر خدمت کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے اللہ نے انہیں ساری نعمتیں اس لیے دے رکھی ہوں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے حاجیوں پر لٹاتے پھریں ۔ ہمیں اپنے صحافیانہ ذوق کی وجہ سے بھی اور اسلامی طرز فکر و نظر کی وجہ سے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بشمول سعودی عرب سے ایک قسم کا لگاؤ تھا اور ہم یہاں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانے والی کوششوں سے آگاہ بھی ہوتے تھے اور خوش بھی کہ ایک ایسا ملک بھی ہے جس کے اندر اس پر آشوب دور میں بھی دینی حمیت اور ملی غیرت نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ قابل صد رشک ہے ۔ اللہ کا فضل دیکھیے کہ اللہ نے ہمیں حرم کی خدمت کے لیے پاک ترین سرزمین مکہ مکرمہ پہنچادیا ۔ یہاں آکر جب قریب سے سعودی عرب کو دیکھنے کا موقع ملا تو دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ یہاں کے لوگوں اور حکومت کے جذبہ خیر کو یوں ہی باقی رکھے ۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ میں آیا کہ سعودی عرب کے مخالفین بھی حج کے بعد سعودی عرب کے بارے میں اچھی رائے دینے پر بالعموم مجبور کیوں ہوجا تے ہیں ۔
حج کی سعادت تو نصیب ضرور ہوئی لیکن پے درپے دو ایسے حادثے رونما ہوئے جس نے اندر سے پورا وجود زخمی کردیا ۔ پہلے کرین گرنے سے اللہ کے مہمانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا اور پھر حج کے درمیان منی کے اندربھگدڑ کی وجہ سے ایک ہزار سے زيادہ اللہ کے مہمان جاں بحق ہوگئے ۔
   منی کے حادثے پر کیا مسلمان  ہر ایک آدمی جس کے سینے میں دل تھا ، کراہ اٹھا ، ہم زندگی میں پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل کررہے تھے ، دل کے کس کس گوشے میں سرور کا رنگ نہیں تھا ، آنکھوں میں چمک اور زبان پر تہلیل و تکبیر کی صدائیں اور کیا کیا ولولےنہیں تھے جو سینے میں اٹھ رہے تھے ،لیکن حادثے کے بارے میں جانتے ہی ایسا لگا جیسے یکایک کائنات کا حسن مرجھا گیا ہو ، دل کی دنیا بجھ سی گئی ہو اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا ہو ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
پوری دنیا کے' انسانوں' نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ ہمیں یہ امید تھی کہ بعض مسلکی ، منہجی اور فکری اختلافات کے باوجود پوری دنیا کے مسلمان اس افسوسناک حادثے پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرینگے ، سعودی عرب کو دلاسہ دلائینگے اور اللہ سے دعا کرینگے کہ اللہ ہم مسلمانوں کو صبر کی توفیق دے اور دوبارہ اس قسم کے حادثے کے رونما ہونے سے بچاؤ کی توفیق ارزانی کرے ۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ امید بالکلیہ ٹوٹ گئی ، نہيں ، بلکہ بعض ذمہ دار اور سمجھدار لوگوں نے جس طرح سے حجاج کرام کی خدمتوں کے لیے پیش کی جارہی سعودی عرب کی خدمتوں کو سہارا اور حادثے پر صبر کی تلقین کی وہ بلاشبہ حوصلہ افزا اور قابل تعریف روش تھی ہم یہاں قاسمی برادران کا ذکر کرناچاہینگے جنہوں نے پوری سمجھداری اور کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پورے معاملے میں کافی محتاط اور صحیح رویہ اپنایا اور لوگوں کو سعودی عرب کے مخالفین اور سنی مسلمانوں کے اعداء کے فریب میں آنے سے بچانے کی کوشش کی ۔ فجزاہم اللہ خیرا
لیکن حادثے کے فورا بعد ایران اور اس کے حلیفوں کی جانب سے جس قسم کا رویہ اپنایا گیا اس نے ہمیں صدمے میں ڈال دیا ۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے شیعہ برادران سنی مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں ، حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں ، مائی عائشہ پر تہمتیں تراشتے ہیں ، جھوٹ کی تقدیس کرتے ہیں ، ہم تاریخ کی ان سچائیوں سے بھی واقف تھے کہ انہوں نے ایک نہیں کئی ایک بار اللہ کے مامون گھر بیت اللہ شریف میں قتل و خون کی ہولی کھیلی ہے ، سازشوں کے تانے بن کر اللہ کے گھر اور ان کے حاجیوں کو زک پہنچانے کی کامیاب و ناکام کوشش کی ہے ، ہمیں علم تھا کہ وہ یمن کے اندر باغی حوثیوں کے پيچھے ہیں اور کسی بھی طرح سعودی عرب کو بالخصوص اور عرب ممالک کو بالعموم ستیاناس کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہ عداوت و دشمنی میں اس قدر اندھے ہو جائینگے کہ مقدس شہادتوں پر اپنی ناپاک سیاست کی عمارت تعمیر کرنے کی ناکام کوشش کرینگے ۔ جانوں کے ضیاع پر دلاسہ اور تعزیت تو دور کی بات الٹے وہ افتراء پردازیوں اور کذب بیانیوں کا مضحکہ خیز رویہ اپنائینگے ۔
     دشمنی میں قومیں کس حد گرسکتی ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ الزام تک لگادیا کہ حادثہ پرنس محمد بن سلمان (ولی ولی العھد) کے ساتھ ان کے جتھے کی آمد سے رونما ہوا۔ پوری دنیا میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کرنے کی کوشش کی ، عالمی سطح پر سعودی عرب کو حاجیوں کی خدمت کے لیے نا اہل ثابت کرنے میں لگ گئے۔ تعجب کی انتہا تو تب ہوگئی جب نوری المالکی جیسے نکمے نے بھی زبان دازی شروع کردی اور مفسد جماعت حزب اللہ کا نام نہاد قائد حسن نصراللہ یہ کہتے سنا گیا کہ اس حادثے کے بعد سعودی عرب کے اس اصرار کی کوئی منطق نہیں رہ جاتی کہ وہی تنہا حاجیوں کی ضیافت کرے ۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ تعجب کا موقع تھا بھی نہیں ، یہی ان کی اصل شناخت ہے پھر وہ اس سے الگ کیسے ہو سکتے تھے ۔ یہ تو ذہن و دماغ میں مدتوں سے پل رہے اس شیطنت کا اظہار ہے جس نے اندر اندر نہ جانے کتنی خباثتوں کی دنیا آباد کررکھی ہے ۔ خمینی نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا " ہم ان شاءاللہ مناسب وقت میں  امریکہ اور آل سعود سے انتقام لے کر اپنے لوگوں کے غموں کا انتقام لینگے ، ہم اس بڑے جرم کی حسرتوں کا نشان ان کے دلوں پر چھوڑینگے ، ہم حق کی فتحیابی کا جشن مناکر شہداء کے خاندان کے حلق میں مٹھائياں ڈالینگے، ہم کعبہ کو گناہگاروں کے ہاتھوں سے آزاد کرکے مسجد حرام کو آزاد کرینگے "( یاد رہے کہ سعودی عرب میں  400 مجرم شیعوں کودھماکہ خیز مادوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور حجاج کرام کو قتل کرنے کی سازش کے جرم  میں تہہ تیغ کیا گیا تھا )
اور رفسنجانی نے 1987 میں کہا تھا " دنیا میں مسلمانوں کے علماء اگر مکہ مکرمہ کے چلانے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس بات کی استعداد موجود ہے کہ وہ اس مقدس مقام کی آزادی کے لیے لڑائی لڑے "( الجزيرۃ ، 28 ستمبر 2015 ، کوثر الاربش کی تحریر)
 عرب ممالک بشمول سعودی عرب کو اللہ نے امن و امان اور استقرار کی دولت سے نوازے رکھا ، اس لیے ایرانی شیعوں کے لیے اپنے ان ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ ہو سکا اور وہ گھٹیا حرکتوں پر اترآئے ، فکری جنگ سے کام لیا ، منافقین کی ایک جماعت تیارکی ، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر پیش کرنے والے پیشہ ور قلمکاروں کی کھیپ تیار کی ، مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو بہلا پھسلاکر سنیوں اورعرب مسلمانوں کے خلاف اتارنے کی سازشیں رچیں اور امریکہ بہادر کے سامنے بڑے اعتماد سے کہا کہ ہمارا اصل دشمن اسرائیل نہیں سعودی عرب ہے اور ساتھ ہی ہر وہ حربہ اختیار کیا جس سے سعودی عرب کو بدنام اور کمزور کیا جاسکے اور عرب اورسنی مسلمانوں کو بے وزن کیا جاسکے ۔
منی کے دل دہلادینے والے حادثے کے پیچھے اسباب کیا تھے ، خامی انتظامی امور میں تھی ، کسی سازش نے اپنا کردار ادا کیا ہے ، ایرانیوں کی بے ہودہ حرکت تھی یا لمحاتی کسی چوک سے اتنا بڑا حادثہ رونما ہوگیا اس کی تحقیق ابھی جاری ہے ، وقت سے پہلے کسی موقف کی تائيد و توثیق مناسب نہیں لیکن ایران اور اس کے حلیفوں نے حادثے کے فورا بعد جس طرح کا رویہ اپنایا ہے اس سے ان کے دجل وفریب اور انسانیت دشمنی کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہمیں خدائی نظام کے باغی بے دین ملحدوں اور اسلام دشمنی میں سر سے پیر تک ڈوبے ان انتہا پسند ہندوؤں سے اس لیے بھی کوئی شکوہ نہیں کہ انسانیت سے گرے ہوئے ان لوگوں سے ہمیں خیر کی توقع کبھی تھی بھی نہیں ۔ اس لیے وہ اس المناک حادثے پر اگر جشن منارہے ہیں یا تمسخر کررہے ہیں تو اس پر ہمیں بہت افسوس ہونا بھی نہیں چاہیے کہ درندوں سے انسانیت کی توقع بجا بھی نہیں ہوتی !!!

السبت، أغسطس 29، 2015

اردو کا اسلامی لٹریچر : جائزے کی ضرورت ہے !

ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ،  سعودی عرب

 اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اکثریت تقلیدی ذہنیت رکھتی ہے ۔ یہاں تقلیدی ذہنیت سے مراد ائمہ اربعہ کی فقہی تقلید نہیں ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملی سطح پر اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس طرف ایک چل پڑا سب چل پڑے ۔ ہم نئی راہ نکالنے کا کم ہی سوچتے ہيں ۔ اسی لیے بہت کم ایسا دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ایسی چیز سامنے آتی ہو جسے دیکھ کر آپ مارے خوشی کے بالکل اچھل پڑیں اور ساتھ ہی آپ کو حیرت و استعجاب بھی ہو ۔ وجہ ظاہر ہے کہ ہم کرتے تو ہیں باتیں آزادی ، اجتہاد اور بلندی افکار کی لیکن چلتے ہیں ہمیشہ اسی راہ پر جس پر سب چلتے ہیں ۔ ہمارے یہاں ایک عجیب و غریب رویہ یہ پنپ چکا ہے کہ اگر کبھی کسی بڑے انسان سے کسی رائے میں اختلاف کیجیے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس بڑے انسان کی بے عزتی ہوگئی ، حالانکہ اختلاف رائے کا بے عزتی سے کوئی تعلق نہیں ۔ بدتمیزی اور اختلاف رائے میں آسمان زمین کا فرق ہے ۔ اور یاد رہے کہ جب تک ہماری نسل سچ کہنے اور سچائی کی راہ میں بزرگوں سے اختلاف کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں کرے گی وہ ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھا پائے گی ۔ ہمیں یہ بات ذہن نشیں کرنی ہوگی کہ خطرہ مول لیے بغیر بڑی بلندیاں مشکل سے ہی ہاتھ آتی ہیں ۔
     اب ذرا اردو کے اسلامی رسالوں اور اردو اسلامی لٹریچر پر ہی ایک نظر ڈال لیجیے ۔ جس مکتب فکر کے رسالے آپ ہاتھ میں اٹھالیں سب کا طرزو انداز یکساں نظر آئے گا ۔ مثال کے طور پر ایک اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے کسی ایک ماہنامے کو سامنے رکھیے اور پھر دوسرے کسی اہل حدیث ادارے سے نکلنے والے رسالے کو سامنے رکھیے آپ کو کوئی بہت بڑا فرق نظر نہیں آئے گا ۔ اسی طرح کسی دیوبندی مکتب فکر یا بریلوی مکتب فکر کے رسالے کو اٹھالیجیے آپ کو صورت حال ایسی ہی نظر آئے گی ۔ یہ سب در اصل تقلیدی ذہنیت کی اپج ہے ۔ ایک رسالہ مقبول ہوا سب نے اسی رسالے کی نقالی کرنی شروع کردی ۔ بالکل ایسے ہی جیسے پانچ سال سات پہلے ایم بی اے کرنے والوں کی کھپت زیادہ تھی ، اب جسے دیکھو ایم بی اے کررہا ہے ۔ پتہ چلا کہ اب ایم بی اے ہی ایم بی اے ہے ۔ نہیں ہے تو جاب نہیں ہے ۔
  مجھے یہ بات کم ہی سمجھ میں آتی ہے کہ جب ایک طرح کا رسالہ نکل ہی رہا ہے تو پھر اسی طرح کا ایک دوسرا رسالہ کیا ضروری ہے ۔ ٹھیک ہے کہ ہر ایک کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور ایک سطح پر اس کی افادیت سے انکار بھی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم تھوڑا الگ نہیں سوچ سکتے ؟ کیا ذرا نیا راستہ نہیں اپنا سکتے ؟ کیا کوئی نیا تجربہ نہیں کرسکتے ؟ کیا نئے تجربوں کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا اور ایسے گوشے نہیں ہیں جن پر توجہ صرف کی جاسکتی ہو ؟ روایتی اور تقلیدی دائرے سے نکل کر ان دائروں تک نہیں پہنچا جا سکتا جہاں ضرورت بھی شدید ہے اور جہاں کچھ پایا بھی نہیں جاتا ؟
         عام طور سے مدارس سے تعلیم مکمل کیے بنا نکل جانے والے لوگ جو ابتدائیہ ، متوسطہ یا زیادہ سے زيادہ ثانویہ تک کی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو گورنمنٹ اسکولوں میں میٹرک وغیرہ کرکے تعلیم چھوڑ دیتے ہيں اور جنہیں اردو پڑھنے آتی ہے یا پھر وہ خواتین جن کی گھریلو تعلیم ہوتی ہے ۔ جنہیں قرآن کریم اور اردو پڑھنا آتا ہے ۔ کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی لٹریچر ہے ؟  جب مذکورہ لوگوں کے بارے میں بات ہورہی ہے تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کی استعداد اتنی زيادہ بھی نہیں ہوتی کہ وہ ان رسالوں سے استفادہ کرسکیں جو ہمارے دینی اداروں سے نکلتے ہیں ۔ ان کی استعداد یہ ہوتی ہے کہ وہ پیام تعلیم ، امنگ اور خاتون مشرق قسم کے رسالوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے یہاں زيادہ تر خاتون مشرق ، پاکیزہ آنچل اور ہما وغیرہ کا ہی رواج دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہمارے دینی حلقوں کی کمی یہ ہے کہ وہ مذکورہ طبقے کی تربیت کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ۔
    شمالی بہار کے اہل حدیث گھرانوں میں پہلے سواء الطریق کا چلن تھا ۔ ارباب حل وعقد کی دانشمندی دیکھیے کہ اب اس کتاب کا تذکرہ ہوتا ہے، کتاب کی صورت دیکھنے کو نہيں ملتی ۔ دیوبندی مکتب فکر کے لوگ اپنی بچیوں کو شادی کے موقع سے بہشتی زیور دیا کرتے تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انہوں نے بھی اس کی تہذیب کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس طرز پر ذرا بہتر اور جاذب اسلوب میں اس طرح کی کوئی اور چیز تیار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بریلوی حضرات کے یہاں اس طرف آکر دینی رسالوں کے نکالنے کا رجحان بڑھا ہے لیکن ان کا رویہ بھی اس معاملے میں یکساں ہے ایسے شاید انہیں اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ خاتون مشرق اور پاکیزہ آنچل وغیرہ کے توسط سے جو دین مسلم گھروں میں داخل ہوررہا ہے وہ وہی دین ہے جن کے یہ ماننے والے ہیں ۔ جماعت اسلامی کا رویہ اچھا رہا ہے انہوں نے حجاب اسلامی ، بتول ، حسنات اور ذکری  جیسے رسالوں سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی رسائی محدود ہے ۔ ان کا اثر محدود ہے ۔ اگر ایسی کوششیں دوسری جماعتیں اپنی سطح سے بھی کریں توایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح ہمارے یہاں بچوں کا کوئی دینی رسالہ نہیں پایاجاتا ۔ یہ بوجھ بھی جماعت اسلامی والے ڈھوتے رہے ہیں ۔ حکومتی اداروں سے بعض بچوں کے رسالے نکلتے ہیں جیسے امنگ اور بچوں کی دنیا لیکن ان کا مقصد دینی تربیت نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ہمارے دینی اداروں سے ایسے رسالے نہ کے برابر نکلتے ہیں جنہيں خالص علمی اور تحقیقی رسالوں کا نام دیا جاسکے ۔ دوسرے ملکوں کے لوگ جب کبھی یہ پوچھتے ہيں کہ آپ کے یہاں سے کوئی قابل ذکر علمی تحقیقی دینی رسالہ نکلتا ہو تو بتائیے تو ہمیں بغلیں جھانکی پڑتی ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جانب توجہ دینے کو تیار ہیں ؟ یا پھر ہمیں لگتا ہی نہیں کہ اس کی ضرورت بھی ہے ؟ کیا خاتون مشرق ، پاکيزہ آنچل اور امنگ کے اسلوب میں صحیح خالص دین کو پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ؟ کیا قرآنی قصے خوبصورت اردو میں نہیں ڈھالے جاسکتے ؟ کیا صحابہ کرام کی زندگیوں سے لوگوں کو نہيں جوڑا جاسکتا ؟ کیا اسلامی عقائد کی آسان اور سہل تشریح و تعبیر نہیں کی جاسکتی ؟ کیا اسلامی تاریخ کے روشن واقعات دلچسپ پیرایے میں نہیں پیش کیے جاسکتے ؟
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
    پچھلے دنوں مدینہ منورہ کے سفر کی سعادت حاصل ہوئی ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فاضل طلبہ سے گفتکو کے درمیان میں نے جب یہ بات رکھی تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا ۔ ہم نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنے دوستوں سے اس موضوع پر گفتگو کریں ، اس کے امکانات پر غور کریں اور پھر ان شاءاللہ اس طرف عملی اقدام کے بارے میں سوچیں ۔ میرا ذاتی طور پر یہ تاثر بہت گہرا رہا ہے کہ اگر اس جانب قدم بڑھایا جائے اور تھوڑی ایماندارانہ کوشش کی جائے تو بڑے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اپنی نسل کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے ۔ یاد رہے کہ اگر شروع سے ان کے اندر اسلام کو بٹھادیا گیا تو پھر کوئی آندھی انہیں ہلا نہیں پائے گی ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سسٹم آپ کے پاس نہ ہو اور جہاں قدم قدم پر غیر اسلامی افکار و خیالات اور مظاہر کی دنیا آباد ہو وہاں اس قسم کی کوششیں بہت ضروری ہوتی ہیں ۔ اللہ ہمیں نیک توفیق دے ۔

الأربعاء، فبراير 18، 2015

وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم لیکن ...


ثناء اللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

  ایک مدت کے بعد آخر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم نے فرقہ واریت پر اپنی خاموشی توڑ ہی دی ۔ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں ہر قسم کی مذہبی منافرت اور دینی انتہا پسندی کو غلط قرار دیتے ہوے کہا کہ ان کی حکومت نہ تو اکثریت کی مذہبی انتہا پسندی کو برداشت کرے گی اور نہ اقلیت کے دینی تشدد کوقبول کرے گی ۔ محترم وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور ہندوستانی آئين کا حوالہ بھی دیا ۔

    قابل غور یہ بھی ہے کہ مودی حکومت بننے کے بعد پچھلے کچھ مہینوں میں جس طرح سے ہندو انتہا پسندوں نے پورے دیش میں غنڈا گردی پھیلائی ہے اس کی وجہ سے پورا دیش اور بطور خاص موجودہ حکومت عالمی سطح پر تنقیدوں کی زد میں رہی ہے ۔ جہاں ملک کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے طبقے کے اندر اضطراب و بے چینی کی کیفیت پائی جارہی تھی وہیں اقلیتوں کا ہوش ہی اڑا ہوا تھا ۔ گرجا گھروں پر حملوں سے لے کر دوسری اقلیتوں اور ان میں بھی مسلمانوں کو جس طرح سے ٹارگیٹ کیا جارہا تھا اس نے پورے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس پوری صورت حال سے اندرون و بیرون ملک سب کے سب پریشان تھے البتہ پریشانی نہيں تھی تو حکومت کے کارکنان اور ملک کے دگج وزیر اعظم  کو ۔ پورا دیش آگ اور خون کی چپیٹ میں تھا اور ملک کے سربراہ چپی سادھے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔ لیکن قدرت بھی کچھ عجیب رنگ میں ظاہر ہوتی ہے ۔ مضبوط وزیراعظم نے پوری دنیا کے فرمانروا سمجھے جانے والے امریکی صدر براک اوباما کو بلایا اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ یہ بھی بھارت کی اپلبھدی (حصولیابی ) ہے لیکن یہ سارا کھیل اس وقت بڑا ہی الٹا پڑ گیا جب امریکی صدر نے ہندوستان کو کڑی نکتہ چینیوں کا نشانہ بنایا اور ہندوستان کے اندر ہی پریس کانفرنس کرکے یہ تک کہ دیا کہ جس طرح کی مذہبی منافرت اس دیش میں پھیلائی جارہی ہے اس سے اس دیش کی ترقی نہیں ہو پائے گی اور یہ کہ اگر مہاتما گاندھی زندہ ہوتے تو انہيں ہندوستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر بڑی شرمندگی اور تکلیف ہوتی ۔ اوباما جب امریکہ لوٹے تو انہوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر بھی اپنے اسی بیان کو ذرا اور شدت سے دہرا دیا ۔ کمال یہ ہوا کہ اسی بیچ نیو یارک ٹائمز نے مودی جی کی اس طویل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر باضابطہ ایک اداریہ ہی تحریر کردیا ۔ صورت حال یہ ہو گئی کہ وزیر داخلہ جناب راج ناتھ سنگھ کو بیان دینا پڑا لیکن کسی کے خلاف تردیدی بیان دے دینا اور بات ہے اور سچ کو جھٹلادینا اور بات ہے ۔ جب پوری دنیا میں دور چھیا ہونے لگی تو ہمارے وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑنی ہی پڑی ۔ ہم اس بیان کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا ہے اس کے مطابق عمل بھی کرینگے اور دیش میں جمہوری اور سیکولر فضا بحال ہوگی اور دیش ترقی کے نئے ہفت اقسام طے کرےگا ۔

لیکن جو بات ہم جیسے ہندوستانیوں کو پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب، جو بزعم خویش سمجھدار بھی کم نہیں ہیں ، انہیں آخر اتنی موٹی سی بات سمجھنے میں اتنی دیر لگی ۔ جب پوری دنیا نے تھوکنا شروع کردیا اور پیارے دیش کی جب چاروں طرف بدنامی ہوگئی تب جاکر ہمارے وزیراعظم کو یہ لگا کہ یہ منافرت اور فرقہ واریت صحیح نہیں ہے ۔ کہيں ایسا تو نہيں کہ محترم وزیر اعظم سمجھ تو بہت پہلے سے رہے تھے لیکن بول سکنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ کبھی کبھی اپنے ہاتھوں پالے پوسے گئے کتے خود اپنے اوپر بھی بھوکنے لگتے ہیں ۔

   محترم وزیراعظم آرایس ایس کے باضابطہ ممبر رہ چکے ہیں ۔ دیش کو مذہبی خطوط پر بانٹنے کا جو پروگرام آرایس ایس کا رہا ہے اس سے وہ ناواقف ہو بھی نہيں سکتے ۔ ان کو وزیر اعظم بنانے میں انہيں کے بقول آرایس ایس کے لوگوں کا بڑا رول رہا ہے پھر بھلا وزیر اعظم کو یہ نہیں پتہ کے ایسے لوگوں کو اگر ضرورت سے زیادہ وقعت دی گئی تو کیا کچھ رزلٹ آئے گا ۔ آپ نے وزارت سے لے کر بیروکریسی تک میں جس طرح سے متعصب ذہن ہندؤں کو بھرنا شروع کیا ہے اس سے کسی متوازن نتیجے کی توقع کرنا فضول ہی ہوگا ۔ محترم وزیر اعظم آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو بہر حال دیش کے دستور کے مطابق ہی چلنا پڑےگا ۔ فیس بوک کا استعمال کرکے آپ وزیر اعظم بنے ہیں تو آپ کو یہ بات تو یاد رکھنی ہی پڑےگی کہ یہی فیس بوک والے  آپ کی نیا ڈبو بھی سکتے ہیں ۔ دہلی کے اسمبلی انتخابات سے تو آپ کو اس کا تجربہ ہو بھی گیا ہوگا ۔ یوں بھی مذہبی منافرت کے خلاف آپ کے اس بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ آپ عام لوگوں اور اقلیتوں کو خود سے قریب کرنا چاہ رہے ہيں اور بھی اس ڈر سے کہ کہیں اور دوسری جگہوں پر بھی آپ کا حشر دہلی جیسا نہ ہو جائے ۔

    آپ نے اپنے بیان میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور آئین کا حوالہ دیا ہے ۔ اس موقع سے ہم آپ کو بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دیش کی مٹی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ منافرت اور انتہا پسندی کو بڑھا دینے والوں کا ساتھ نہيں نبھا سکتی ۔ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم ہیں اوردیا رکھیے کہ اگر جمہویت اور سیکولرزم کو چھوڑ کر آپ نے کوئی اور خفیہ ایجنڈہ چلانے کی کوشش کی ، جس کا بہت سے لوگوں کو خدشہ بھی  ہے ، تو یہ خود آپ کے لیے بھی اور پورے دیش کے لیے بھی کافی گھاتک ثابت ہوگا ۔ اس موقع سے آپ کو یہ بھی یاد رکھنے کی زضرورت ہے کہ صرف بیان دینے سے کام نہيں چلے گا ان بدقماشوں اور غنڈوں پر رسہ بھی کسنا پڑے گا جو پورے دیش کے بھائی چارے کے خلاف ماحول تیار کررہے ہیں اور جو اتفاق سے آپ کے کافی قریب آپ کی اپنی پارٹی لوگ ہیں ورنہ یہ دیش نہ تو آپ کو اور نہ ایسے غنڈوں کو بخشنے کے لیے تیار ہوگا ۔

 سمجھدار اور سیکولر ذہن ہندوستانیوں کو انتظار رہے گا کہ ملک کے وزیراعظم اس سلسلے میں کیا رویہ اپناتے ہيں ۔ 

ہم سا بھی کوئي درد کا مارا نہيں ہوگا __ کلیم عاجز


ثناءاللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

   ٹھیک سے یاد نہيں کہ پہلے پہل کلیم عاجز کا نام کس کی زبانی اور کب سنا تھا ۔ لیکن ایک شعر تھا جو زبان پر جاری رہتا تھا اور وقتا فوقتا  دوستوں کی محفلوں میں اس کا استعمال میں بڑی ہوشیاری سے کیا کرتا تھا ۔ شعر کچھ یوں تھا
ان کی وہ بات کہ دوں اگر سب کے سامنے
سر میرے مہرباں سے اٹھایا نہ جائے گا
یہ راز بعد میں منکشف ہوا کہ اتنے معروف اور زبان زد خاص و عام شعر کے خالق جناب کلیم عاجز ہيں ۔ جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے اندر میں ثالثہ فضیلہ کا طالب علم تھا ۔ شعر وادب سے دلچسپی تھی ۔ تھوڑی بہت جانکاری بھی تھی لیکن جونئیر طلبہ تھوڑا زیادہ ہی سمجھتے تھے ۔ ان دنوں متوسطہ ثانویہ میں کچھ طلبہ خاص طور سے غیر دینی  کتابوں ، مناقشوں اور ادبی چھیڑ چھاڑ میں روچی رکھتے تھے ۔ ان میں خاص طور سے اخلاص احمد ابو طلحہ ، مناظر ارشد امواوی ، جمیل اختر شفیق ، جاوید اکرام اور صھیب صدری کے نام یاد آتے ہيں ۔ وہ ادبی کتابوں پربحثيں کرتے ، لڑتے جھگڑتے اور بعض سیدھے سادھے ان  اساتذہ پر اپنی دھونس جمانے کی بھی کوشش کرتے تھے جن کے اندر ادبی دلچسپی نہيں کے برابر تھی ۔ فراغت کے بعد جب تدریسی مصروفیت کی وجہ  جامعہ امام ابن تیمیہ ہی میں رہنا پڑا تو اس ماحول کو اور بھی آگے بڑھنے کا موقع ملا ۔ ان دنوں حلقہ ادب جامعہ امام ابن تیمیہ کی ماہانہ نشستیں بھی بڑی پابندی سے منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ اس میں ہماری بھی حصہ داری تھی ۔ جے این یو میں داخلہ پانے کے لیے جب ہم دہلی آگئے کہ تو حلقہ ادب کے سرگرم رکن استاذ محترم جناب امحد جوہر سلفی نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سر ایک خون کا الزام ہے اور اس سے پہلے کہ میں گبھراتا انہوں نے جامعہ چھوڑ کر حلقہ ادب کو مار دینے کا قصہ چھیڑ دیا ۔ الغرض بڑے ادبی معرکے رہا کرتے تھے ۔ ان دنوں جامعہ میں  جن ادباء شعرا کا زیادہ ہی چرچا تھا ان میں پروین شاکر ، قرۃ العین حیدر یعنی عینی آپا ‌ اورکلیم احمد عاجز  سب سے آگے تھے ۔ مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہيں کہ اس پورے ہوڑ ہنگامے سے طلبہ کا فائدہ ہوا ہو یا نہيں ، یہ تو وہی بتائینگے  لیکن میں نے اس موقع سے ان تینوں ادباء کو اپنے طور پر پڑھنے کی کوشش ضرور کی ۔ ایک مدت تک ان کا مجموعہ  " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " میرے سرہانے رہا کیا ۔ کئی غزلیں یاد کرڈالیں ۔ اچھے اشعار کو نشان زد کیا اور یادداشت کے صندوقچے کے حوالے کردیا ۔
    اسی بیچ غالبا 2007 میں دربھنگہ میں ایک مشاعرہ ہوا ۔ ہمیں خبر ہوئي کہ کلیم عاجز آنے والے ہیں اور ہم جمیل اختر شفیق کے ہمراہ روانہ ہو گئے ۔ وہاں گئے تو حفظ الرحمن سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ مشاعرے میں انہوں نے اپنی پر سوز آواز میں اپنی دو غزلیں سنائیں ۔کچھ اشعار یاد آرہے ہیں
عاجز یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
تم ہو بھی تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ تم ہو
یہ پچھلے پہر کس کے کہکنے کی صدا ہے
کوئل ہے ، کبوتر ہے ، پپہیا ہے کہ تم ہو
گوکل کی ہے  کوئی بانسری یا اردو غزل ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا کوئی کرشن کنہیا ہے کہ تم ہو 
کلام میں معنویت کے ساتھ آوازمیں وہ سوز تھا کہ کنہیا لال کپور کی بات ذہن میں سچائی کی پوری روح کے ساتھ سرایت کرگئی کہ " کلیم جب پڑھتے ہیں کہ تو ایسا لگتا ہے کہ کوئي زخمی فرشتہ فریاد کررہا ہے " ۔
    مشاعرے کے بعد ہم نے بھائی حفظ الرحمن کی مدد سے ان سے آٹو گراف لیا ۔ انہوں نے اپنا ایک شعر لکھا اور نیچے اپنے دستخط ثبت کردیے ۔
  دہلی آکر ان کی کئی نثری کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ معلوم ہوا کہ ان کی شاعری سے کہیں زیادہ دم تو ان کی نثرمیں ہے ۔ ہم اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں یہ بات کہ سکتے ہیں کہ اس طرف اتنی البیلی ، شوخ اور کلاسیکی روح سے مالامال اور کسی ادیب کی نثر نہيں ہے ۔ اس کا اندازہ تو " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " کے طول طویل مقدمے سے بھی ہو تا ہے لیکن یہ قضیہ اس وقت اور متحقق ہو جاتا ہے جب آدمی ان کی دوسری نثریں کتابیں پڑھتا ہے ۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ ان کی تنقید میں ایک قسم کا غصہ اور جھنجھلاہٹ کا احساس ہوتا ہے ۔
  کلیم صاحب کی شاعری کو میر کی بازگشت اور درد و الم کی تصویر کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ خود انہوں نے بھی کہا ہے
کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے
  اور ایک خاص واقعے کو جس طرح انہوں نے اپنی شاعری کا محور بنا لیا اس نے بھی اس تاثر کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ ایسے بہر حال کلیم صاحب کا یہ کمال ضرور ہے کہ وہ غم ذات کو غم کائنات بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ان کی شاعری کو ان کی زندگی سے الگ کرکے بھی پڑھا جائے تو بھی لطف کم نہيں ہوتا ۔ غم کو آفاقیت کی اس سطح سے انہوں نے برتا ہے کہ غم شخصی ہونے کی بجائے انسانی احساسات کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جو دلآویز نہ بھی ہو تو مانوس ضرور ہے ۔ عام انسانی برتا‎ؤ اور مجلسی زندگی کے لیے جتنے بر محل اشعار کلیم کے یہاں ملینگے اور کسی شاعر کے یہاں مشکل سے مل پائینگے ۔ شاید اسی لیے ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی حیثيت اختیار کرگئے ۔ طنزکی شدت اور تجربات کی گہرائی کی وجہ سے ان کی شاعری جیسے ہر انسان کی اپنی ہی حکایت ہو ۔   میں یہاں کلیم  کے وہ اشعار نقل کرنا چاہونگا جو مجھے پسند ہيں اور جو ضرورت کے وقت بہت کام آتے ہیں ۔
اپنا یہ کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھرملے
بات گرچہ بے سلیقہ ہو کلیم
بات کرنے کا سلیقہ چاہیے
لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیجہ تھام کے سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں
میرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزہ دے ہے
بڑی ہی چالبازي آئے ہے اس آفت جاں کو
شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگادے ہے
تمہاری انجمن ہے جس کو چاہو بے وفا کہ لو
تمہاری انجمن میں تم کو جھوٹا کون سمجھے گا
پہلو نہ دکھے گا تو گوارہ نہیں ہوگا
ہم سا بھی کوئی درد کا مارا نہيں ہوگا

  آج صبح جب کلیم صاحب کی موت کی خبر ملی ۔ بہت افسوس ہوا ۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون 

صحراؤں کا حسن


ثناءاللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض ، سعودی عرب

   سعودی عرب کے دارالسلطنت ریاض آئے ہمیں کئی دن ہوگئے تھے لیکن ابھی شہر سے باہر نکلنا نصیب  نہيں ہوا تھا ۔ ہم ، عزیزم حفظ الرحمن تیمی اور مامو جناب عاصم سلفی صاحبان فیس بک پر ایک متنازع ایشو پر چل رہے مناقشات پر باتیں کررہے تھے کہ حفظ الرحمن صاحب نے جناب ندیم اختر سلفی کی ایک تحریربآواز بلند پڑھ کر سنایا اور ہم سب نے کمال دلچسپی سے  اسے سنا بھی ۔ حفظ الرحمن صاحب اپنی پسندیدگی کا اظہار کررہے تھے کہ مامو نے کہا کہ لائیے آپ کی ان سے بات کراتے ہیں ۔ اور انہوں نے کال لگادی ۔ ہماری باتيں ہوئیں ۔ خوشی ہوئی ، اچھا لگا اور انہوں نے اپنے یہاں آنے کی یہ کہتے ہوئے دعوت دے دی کہ ٹیلی فون پر کیا بات ہوگی ۔ آئیں کچھ باتيں واتیں ہوں ۔ تبادلہ خیال ہو ، تو مزہ آئے ۔ پتہ چلا کہ مامو اور ان کے مابین گہرے رشتے ہيں اور دونوں مدرسے کے زمانے میں کلاس میٹ رہ چکے ہیں ۔

   دوسرے دن ہم ابھی دن کا کھانا کھانے کی تیاری کررہے تھے کہ مامو نے اپنی آفس سے فون کیا کہ آپ لوگ تیار رہیں ندیم کے یہاں چلنا ہے ۔ رات کا کھانا وہيں ہوگا ۔ ہم نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، حفظ الرحمن تیمی ، میں (ثناءاللہ صادق تیمی ) اور مامو جناب عاصم سلفی مامو کی گاڑی سے حوطہ سدیر کے لیے روانہ ہوگئے ۔ شہر میں کافی بھیڑ تھی ۔ مامو کے مطابق دس منٹ کا راستہ پورے پونا گھنٹے میں طے ہوا ۔ شہر سے گاڑی نکلی تو 120 کے رفتار سے بھاگنے لگی ۔ مامو نے کہا کہ صحراؤں کو دیکھیے اور ہم دور تک پھیلے صحرائی خلا کے حسن میں کھو گئے ۔ آج پہلی مرتبہ یہ منظر دیھکنے کو ملا تھا ۔ چلتی گاڑی میں یہ کچھ اور بھی حسین لگ رہا تھا ۔ جہاں تہاں چرتی ہوئی بکریاں اور  راعی کے کیمپ کے ساتھ ساتھ اونٹوں کا جھنڈ ہمیں اس زندگی سے روشناس کرارہا تھا جس کی بابت ہم نے کتابوں میں بہت پڑھ رکھا تھا ۔ اردو داستانوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو ہماری باتوں کی صداقت سمجھ میں آئےگی ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سیرت کی کتابوں کے بعض صفحے پھر سے کھل گئے ہیں ۔

  راستہ بھی تو ایکدم صاف صاف ستھرا اور ساری اہم ٹیکنالوجی سے ہمکنارتھا  ۔ دوسو کیلو میٹردور کا راستہ طے کرکے بھی کوئی تھکاوٹ نہيں ہوئی ۔ حوطہ سدیر گاؤں ہے لیکن کیا کوئی شہر اس کا مقابلہ کرے ۔ صفائی ستھرائی سے لے کر مینٹیننس کے ہر ایک معاملے میں ۔ کہیں کوئي ندی نالہ نہيں ، کوئی بدبو کا گزر بسر نہيں ۔ بالکل ہی مزہ آگیا ۔ اوپر سے مولانا ندیم اختر سلفی کے حسن استقبال اور ضیافت نے سونے پر سہاگا کا کام کیا ۔ جاتے ہی انہوں نے بالکل ہندوستانی( آپ چاہيں تو بہاری بھی پڑھ سکتے ہيں ) طرز کے شام والے ناشتے سے تواضع کیا ۔ چنا، چورا ، دھنیا پتا ، کھیرے کے سلاد کے ساتھ آلو کے سموسے ، مٹھائی اور اوپر سے چائے ۔ اور اس سب کے اوپر میزبان کا خلوص اور محبتوں بھرا اصرار ۔ طبیعت مست ہوگئی۔ اپنا ایک مطلع یاد آگیا
طشتری میں چائے چہرے پر تبسم رکھ دیا
میزباں نے موج الفت میں تلاطم رکھ دیا
 معا بعد ہم نے نمازیں ادا کيں اور پھر اپنے میزبان جناب ندیم اختر سلفی کی گاڑی سے قابل تفریح مقامات کی سیر کو نکل گئے ۔ اب جو شام کے وقت نکلے ہیں تو ہائے اللہ کیا ہوا ہے ۔ کیا فضا ہے ۔ کیا حسن ہے اور کیا دلکشی ہے ۔ ڈاکٹر لقمان السلفی کا جملہ یاد آگیا کہ کسی کو جنت دیکھنی ہو تو سعودی عرب آجائے ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بقول ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی  ہم کسی پہاڑی علاقے  میں آگئے ہوں ۔ تروتازہ اور غیر ملوث ہوا جس میں اتنی خنکی کہ آپ کو ایسی ٹھنڈک سے مالا مال کرے جو آپ کی روح تک کو سرشار کردے ۔ ڈیم پر پہنچے تو وہاں کے منظر نے ہمیں جیسے خیرہ ہی کردیا ۔ عرب کو بدو کہنے والے آکر دیکھیں کہ اللہ کی مہربانی اور حسن تنظیم نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے ۔ ہم نے فطری حسن کا بھرپور آنند لیا ۔ عزیزم حفظ الرحمن تیمی نے اس حسین  پل کو ضائع نہيں جانے دیا اور کئی خوب صورت تصویریں کیمرے میں قید کرلی گئیں ۔ وہاں سے لوٹ کر ہم عزاب (غیر شادی شدہ حضرات ) کے لیے مختص پارک میں آئے ۔ ہم سب نے خوب تفریح کی ، جھولے ٹنگے تھے سو موقع کا فائدہ اٹھایا خوب جھولے ، دلچسپ باتیں کیں ، ایک دوسرے سے لطف لیا اور پھراپنے میزبان کے ہاں لوٹ آئے ۔
    ہاں اس سے پہلے شاپنگ کمپلیکس گئے ۔ وہاں ایک سوڈانی شاپ کیپر سے باتیں ہوئیں ۔ ہم ( حفظ الرحن ، ثناءاللہ )نے جب انہيں طیب صالح کے ناول موسم الھجرۃ الی الشمال کی بابت بتلایا تو خوب خوش ہوئے ۔ ہمارا تجربہ رہا کہ بالعموم سوڈانی نیک طبیعت کے اچھے لوگ ہوتے ہیں ۔ اپنے میزبان کے یہاں لوٹے تو پر تکلف کھانے کا نظم رہا اور بالکل روایتی شمالی بہار کے مسلمانوں کی مانند مولانا نے ہمیں اصرار کرکے خوب خوب کھلایا ۔ اللہ انہيں بہتر بدلہ دے ۔ مولانا ندیم اختر سلفی کی بابت اپنی بستی کے صاحب ذوق چچا جناب آصف حسین کیفی سے سنا کرتا تھا اور ان سے ملے تو حسن اتفاق دیکھیے اسی بیچ ان کے بھائی جناب کاشف حسین کا ٹیلی فون آگیا اور وہ بول پڑے کہ وہ تو آصف کے دوست ہيں ۔ اور یوں میرے سامنے ماضی کی کئی تصویریں پھر گئیں ۔ ان کی بابت آصف صاحب نے کئي بار ہمارے گاؤں کے اس سالانہ پروگرام کے مواقع سے بتایا تھا جو نئے فارغین کو نوازنے اور تعلیم کو پروان چڑھانے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے اور جس کی شروعات میں دوستوں کے ہمراہ اس خاکسار کی اپنی حصہ داری رہی ہے ۔ مولانا یہاں جالیات سے جڑے ہیں ۔ دعوتی کام کرتے ہیں اور اس معاملے میں کافی متحمس اور سرگرم ہيں ۔   آنے لگے تو انہوں نے اپنے دوست جناب عاصم سلفی صاحب کو پانیوں کے دو کارٹون سے بھی نوازا ۔ واضح رہے کہ یہاں پٹرول سے کہیں زیادہ پانی مہنگا ہے ۔
  شاہراہ عام سے پہلے بھی چاروں طرف کا حسن دیدہ زیب تھا ۔ لیکن چاندنی رات نے تو جیسے صحرا کو باغیچہ میں بدل دیا تھا ۔ دور دور چل رہی گاڑیاں کیا منظر خلق کررہی تھیں، بیان سے باہر ہے اور کہیں کہيں پر بسی ہوئی بستیوں میں قمقوں سے پیدا ہونے والی روشنی اس طرح کی صورت گری کررہی تھی جیسے نیلے آسمان میں بہت سارے ستارے اپنے اپنے انداز میں سلیقے سے جمع ہوکر بات چیت کررہے ہوں ۔ راستے میں تعاون علی غیر الخیر کی بڑی اچھی صورت دیکھنے کو ملی ۔ شاہراہ عام پر 120 کی رفتار میکسیمم اسپیڈ ہے ۔ آٹومیٹک کیمرے لگے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی اس کی مخالفت کرے تو جرمانہ لگادیا جائے ۔ اب لوگ کرتے یہ ہيں کہ اس سے کہیں زیادہ رفتار سے چلتے ہیں اور جب کیمرا یا پولیس چیک پوسٹ آنے والا ہوتا ہے رفتار کو میکسیمم اسپیڈ کے مطابق کرلیتے ہیں اور اس معاملے میں ہر آگے والا اپنے پیچھے والے کو انڈیکیٹ ( اشارہ ) کردیتا ہے اور یوں پیچھے والا ہوشیار ہو جاتا ہے ۔

      

چوری اس پر سینہ زوری !!


ثناء اللہ صادق تیمی 
اسسٹنٹ پروفیسر ، امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض ، سعودی عرب

ہمارے دوست کا بھی کچھ عجب حال ہے ۔ وہ وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر جاتے ہیں کہ ہمیں الجھن سی ہونے لگتی ہے ۔ اب جیسے ہی ہم نے نماز کی اہمیت اور اللہ اور بندے کے رشتے کی معنویت انہيں سمجھائی وہ نماز چھوڑنے کا فلسفہ ہمہیں سسمجھانے لگے ۔ انہوں نے کہا کہ بھائی ایسا نہيں ہے کہ نماز چھوڑنا صرف کوتاہی یا بے عملی ہے ۔ یہ تو در اصل ایک فلسفہ ہے ۔ میرا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ؟ ہمارے دوست بے نام خاں گویا ہوئے دیکھو ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ بنایا ہے اور وہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے ۔ بھلا جو رب اپنے بندوں سے اتنی محبت کرتا ہے ۔ اس نے انہيں اتنی بڑی کائنات میں نائب بنا کر بھیج دیا ہے اس اللہ کو آخر کیا حاجت ہوگئی کہ لوگ اس کے آگے ماتھے ٹیکیں ، سجدے کريں اور رورو کر گڑگڑائیں ۔ وہ تو چاہے گا کہ اس کے بندے خوش رہيں ، آباد رہیں اور دی ہوئی زندگی پوری طرح جیئیں ۔ یہ تو مولویوں کے ڈھکوسکے ہیں کہ نماز کو اتنی اہمیت مل گئی ہوئي ہے ۔ بھائی ہمارا رب کیا انسانوں جیسا بادشاہ ہے کہ جب بندہ اس کے آگے جھکےگا وہ خوش ہو جائےگا ؟ سوچو دماغ لگاؤ ۔

    پتہ ہے یہ مولوی ان سوالوں کا کوئی جواب دینے کی بجائے کیا کہینگے کہ نماز چھوڑنے والے کافرہيں ۔ اللہ کے باغی ہیں اور رحمت الہی سے دور ہیں ۔ اور دیکھنا اکثر مولوی ہی اللہ کی رحمت سے دور نظر آئینگے ۔ چہرہ بجھا ہوا ، مسکینی اور محرومی کی تصویر ! ایک مرتبہ عبد الرزاق ملیح آبادی کی ملاقات علامہ تقی الدین ہلالی سے ہوئی ۔ تقی الدین ہلالی مولانا ابو الکلام آزاد  سے ملنے گئے تھے ۔ باتوں باتوں میں ملیح آبادی اور ان سے نماز کے مسئلے پر بات ہونے لگی ۔ ملیح آبادی نے تارک نماز کے کافر نہ ہونے کی انہيں ایسی دلیل دی کہ وہ بس دیکھتے رہ گئے ۔ ملیح آبادی نے کہا کہ بھائی میں نماز نہيں پڑھتا اور ایک لمحے کے لیے بھی  میرے دل میں یہ بات نہيں آتی کہ میں مسلمان نہيں ہوں ! یوں بھی نماز پڑھنے والے لوگ اپنی نماز کا دھونس جما کر لوگوں کو وہ وہ دھوکہ دیتے ہیں کہ غیر نمازی دے ہی نہیں سکتے ۔ آپ تجربہ کرلینا نمازی لوگوں میں عجیب و غریب قسم کا غرور دیکھنے کو ملے گا ۔ وہ بقیہ مسلمانوں کو ہر طرح سے اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں ۔ یہ اتنے بد اخلاق ہوتے ہیں کہ سوچا بھی نہيں جا سکتا ۔

     بھائی ہم اللہ کے بندے ہيں ۔ اس کی زمین پر رہتے ہیں ۔ اس کی دی ہوئي ساری نمعتیں ہيں تو ہم اسے یاد کرلیں یہ کیا کم ہے ۔ اور ہم تو الحمد للہ اللہ کو یاد کرتے ہی رہتے ہيں ۔ ان مولویوں نے تو سارے اسلام کو داڑھی اور نمازمیں سمیٹ دیا ہے ۔ نماز کے علاوہ اخلاق بھی ہے جس کی تکمیل کے لیے رسول بھیجے گئے تھے ۔ لوگوں کی مدد ہے جو انسانیت کا بنیادی تقاضہ ہے ۔ ایسے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نماز چھوڑنے کے معاملے میں مولوی طبقہ سب سے آگے ملےگا ۔ اگر صلاۃ واقعی دخول جنت کے لیے ضروری ہے تو ان مولویوں سے پوچھیے یہ مولویانہ پیشوں سے نکلنے کے بعد نماز کو بالعموم طلاق بتہ کیوں دے دیتے ہيں ۔ یہ جب تک مولوی ہیں تب تک نماز ہے اور جیسے ہی دنیا کے راستے کھلے کہاں داڑھی اور کہاں نماز ! ایک اور بات بتاؤں یہ جب لوگوں کے بیچ ہونگے نماز پڑھینگے اور جب تنہا ہونگے انہیں نماز سے کوئی مطلب نہيں ہوگا ۔ میرے بھائی اصل انسانیت یہ ہے کہ لوگوں کی مدد کیجیے ۔ غریبوں کا خیال رکھیے اور کسی کو اپنی  ذات 
سے تکلیف مت دیجیے ۔ دھوکہ فریب مت کیجیے ۔ حالی نے کہا ہے

یہی ہے عباد ت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
نماز وغیرہ در اصل انسان کو انسانیت سے دور لے جانی والی چیز ہے ۔ اسی لیے اکثر زیادہ پڑھے لکھے ، سمجھدار اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کو دیکھوگے وہ مسلمان ہونگے لیکن نمازی نہيں ۔

    میں نے اپنے دوست سے دو تین باتيں عرض کرنی چاہی ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نماز اسی اللہ کا حکم ہے جس اللہ نے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی نمازی آدمی اخلاق کا برا ہے تو اس میں نماز کا کیا کردار ہے کہ غیر نمازی تو زیادہ تر بھونڈے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں اور کیا ایک بد اخلاق نمازی کی بجائے ایک با اخلاق نمازی کو مثال نہيں بنایا جا سکتا ۔ تیسری بات یہ کہ کیا یہ سارے فلسفے انسان کو قیامت  کے دن اللہ کے قہر سے بچالینگے ۔ ہمارے دوست نے ہمیں مسکراکر دیکھا اور کہا کہ بھائی ناراض مت ہونا ۔ یہ باتیں ہماری کب تھیں یہ تو ہم تمہیں بے  نمازی متفلسفین کے افکار عالیہ سے روشناس کرارہے تھے !


پہلی بار


ثناءاللہ صادق تیمی 
اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

ہم جناب عاصم سلفی کے کمرے میں ریاض کے اندر بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ باتوں باتوں میں  ہم  نے کسی کام کے بارے میں کہا کہ یہ تو ہم  پہلی بار کررہے ہيں  ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک اچھا موضوع دیتا ہوں " پہلی بار" ۔ اور بے نام خاں نے مجھے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ بیٹا سوچتا کیا ہے ۔ یوں بھی موضوعات کا اکال پڑا رہتا ہے ۔ سوچتے رہتے ہو ۔ کیا موضوع منتخـب کروں ! مامو کا شکریہ ادا کرو اور قلم توڑ دو ۔ میں بھلا بے نام خاں کی بات ٹال کب سکتا تھا اور یوں بھی اس کی بات غلط کب تھی کہ ٹال دیتا !

   اس موقع سے ہمیں یاد آئے ہمارے دوست جناب انظر حسین سلفی جو جے این یو میں پی ایچ ڈی  اسکالر ہيں ۔ ہم راجدھانی سے پہلی مرتبہ سفر کررہے تھے ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ ہم سے پہلے کرچکے تھے اور ہم نے ایک دوسرے سے خوب لطف لیا ۔ جس دن ہم ریاض پہہنچے ہماری اور ان کی فیس بک کے واسطے سے باتیں ہوئیں اور انہوں نے پوچھا تو کہیے ہوائی جہاز میں کیا گیا " پہلی بار" کا سفر کیسا رہا اور ہم دونوں دیر تک ہنستے رہے ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ راجدھانی کی مانند ہی یہ ہوائی جہاز سے ہمارا پہلا سفر تھا ۔

   ہمارے والد صاحب مٹھائی کی تجارت کرتے ہيں ۔ انہوں نے ایسا سسٹم بنایا ہوا تھا کہ ہمیں کبھی کوئی چیز خود سے نہيں خریدنی پڑتی تھی ۔ دوا اور راشن سے لے کر کپڑے اور جوتے چپل تک ہم ابو کے کھاتے پر بغیر پیسہ دیے اور بغیر دام معلوم کیے لے کر آتے تھے ۔ جب ہم دہلی پہنچے تو کئی چیزیں خود سے خریدنی پڑیں ۔ اس چکر میں اک آدھ بار بری طرح ٹھگے بھی گئے ۔ ہم نے اس موقع سے اپنے دوست بے نام خاں سے کہا کہ یار ہم  نے کبھی کچھ خریدا نہيں ہے ۔ بے نام خاں کو جیسے یقین نہ آیا ہو اور بولے بیٹا تو کوئي بات نہيں ۔ زندگی میں بہت کچھ پہلی بار کرنا پڑتا ہے ۔ تم پیدا ہونے سے پہلے پیدا ہوئے تھے کیا ؟  مدرسہ جانے سے پہلے مدرسہ گئے تھے کیا ؟ ماسٹر سے پہلی مرتبہ پٹنے سے پہلے پٹے تھے کیا ؟ ماں کی جیب سے پیسہ چرانے سے پہلے چرائے تھے کیا ؟  مولوی صاحب سے بہانہ بنانے سے پہلے بنائے تھے کیا ؟  پہلی مرتبہ تھوڑی دنیا کمانےکے لیے جھوٹ بولنے سے پہلے جھوٹ بولے تھے کیا ؟ جامعہ الامام ابن تیمیہ میں  داخلہ پانے سے پہلے داخلہ پائے تھے کیا ؟  فارغ ہونے سے پہلے فار‏غ ہوئے تھے کیا ؟  فلم دیکھنے سے پہلے دیکھے تھے کیا ؟ غزل لکھنے سے پہلے لکھے تھے کیا ؟  مضمون نگاری کرنے سے پہلے کیے تھے کیا ؟ تقریر کرنے سے پہلے تقریر کیے تھے کیا ؟ ایڈيٹر بننے سے پہلے بنے تھے کیا ؟ رشوت دینے سے پہلے اور اپنی جھوٹی تعریف کرنے سے پہلے کیے تھے کیا ؟ بیٹا ہر آدمی ہر کام ایک اسٹیج پر پہلی مرتبہ ہی کرتا ہے ۔ اس میں بات کا بتنگڑ بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔ ابھی ماں کا دودھ نہيں پی رہے ہو ۔ کوئی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوا ہے ۔ جس طرح بقیہ سارے کاموں جیسے جھوٹ فریب ، سیاست ، مکاری ، دغا بازی ، ذوالوجھینی وغیرہ  میں اکسپرٹ ہو چکے ہو اس میں بھی ہو جاؤگے اور میں بے نام خاں کو بس دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔

    تھوڑی دیر بعد بے نام خاں پھر شروع ہو گئے ۔ بیٹا شادی بھی پہلی ہی بار ہوتی ہے ۔ امتحان بھی آدمی پہلی ہی بار دیتا ہے ۔ مرتا بھی پہلی ہی بار ہے ۔ اس لیے اب سے یہ پہلی بار پہلی بار کی رٹ لگانا بالکل بند کرو  ۔ تمہارے والد صاحب نے تمہیں " بوا" بنا کر رکھا ہوا تھا تو اس میں بھلا ہمارا کیا قصور؟  وہ تو بیٹے پڑھنے میں کچھ اچھے ہو کہ سارا نخرہ برداشت کرکے تمہارا ساتھ نبھاتے ہیں ورنہ تمہیں پوچھتا کون؟
  ایسے ہمارے دوست نے باتوں کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے یا شاید ہمیں ذرا خوش کرنے کے لیے یہ بھی کہا کہ زندگی میں  " پہلی بار" کی معنویت کم نہيں ہے ۔ اب جیسے دیکھو انگریزی میں کہا جاتا ہے
The first impression is the last impression.
اور یہ بھی کہ
Love at first sight.
اس لیے آدمی کو"  پہلی بار " بھی کافی ہوشیار رہنا چاہیے ۔ ایسے یہ فرسٹ امپریشن از لاسٹ امپریشن کا معاملہ کبھی کبھار الٹا بھی پڑ جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی حمکراں ذوالفقار علی بھٹو نے سوچا کہ فوج کی کمان کسی ایسے بے وقوف کو سونپتے ہیں جو ہمارے انگھوٹے تلے رہ کر کام کرسکے ۔ بھٹو نے فوجی سربراہوں کی میٹنگ بلائی ۔ جائزہ لیا ، دیکھا کہ سب سے بے ہنگم ضیاءالحق ہے جس کا ازار بند باہر طرف لٹک رہا ہے ۔ اس نے فیصلہ لیا کہ اسے ہی فوج کی سربراہی سونپ دیتے ہیں اور اسی ضیاءالحق نے بھٹو کو پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا ۔

   پہلی بار سے ہمارے گاؤں میں ہونے والا وہ جلسہ عید میلاد النبی یاد آگیا ۔ ہم چھوٹے بچے شیرینی کےلالچ میں ان محفلوں میں شریک ہونے جاتے تھے ، جو ہمارے گھر میں کبھی منعقد نہيں ہوئیں ۔ وہابی گھرانہ جو ٹھہرا تھا ! خیر مولانا کی تقریر کافی دلچسپ تھی ۔ مولانا بچوں کی تربیت پر تقریر کررہے تھے ۔ انہوں نے واقعہ سنایا کہ سلطانہ ڈاکو بہت بڑا ڈاکو تھا ۔ اس کی ہیبت سے لوگ کانپ کانپ جاتے تھے ۔ اس نے بہت سے لوگوں کو پریشان کیا ۔ حکومت نے اس کے پکڑنے پر بڑا انعام رکھا ۔ آخر کار جب وہ پکڑا گیا اور اس کے واسطے پھانسی کا حکم آيا تو حسب دستور اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی ۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہے ۔ اس کی ماں کو حاضرکیا گیا ۔ اس نے اپنی ماں کو قریب بلایا ۔ اپنا منہ اس کے کانوں کے قریب لے گیا ۔ لوگوں کو لگا کہ وہ ضرور کوئي راز کی بات کہنا چاہ رہا ہوگا ۔ لیکن یکایک لوگوں نے اس کی ماں کی دردنا ک چیخ سنی ۔ پتہ چلا کہ اس نے اپنی ماں کے کان کاٹ لیے ہيں ۔ پوچھے جانے پر اس نے کہا کہ اگراس نے ماں ہونے کا کردار ادا کیا ہوتا اور جس دن میں نے پہلی بار پڑوسی کے گھر سے مرغی کا انڈا چرایا تھا ، منع کردیا ہوتا تو آج دنیا مجھے سلطانہ ڈاکو کی حیثيت سے نہ جانتی ۔ مجھے پھانسی اس بڑھیا کی وجہ سے مل رہی ہے ۔ اس لیے کم سے کم اسے اتنی سزا تو ملنی ہی چاہیے ۔

   ہم اپنے پڑھنے کے شروعاتی زمانے میں کرکٹ اور فلم میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے ۔ ہمارے ایک بڑے اللہ والے صوفی ساتھی تھے ۔ ہم نے سازش رچ کر ان کو اپنے پیسوں سے ٹکٹ دلا کر ایک فلم دکھادی ۔ انہوں نے ہمارے کہنے اور ہمارے خرچ پر پہلی بار فلم دیکھا تھا ۔ آنے والے چھ مہینے میں وہ ہم سے کئی گنا زیادہ فلمیں دیکھ چکے تھے !! ہم نے پان ، کھینی اور سگریٹ کو کبھی منہ نہيں لگایا ۔ ہمارے اکثر دوست کہتے ہيں کہ پہلے پہل تو انہوں نے بس شوقیہ شروع کیا تھا ۔ دوستوں نے ہنسی مذاق میں شروع کروا دیا اور اب عالم یہ ہے کہ
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئي

   اچھے کام کی شروعات اگر نہیں ہو پائی ہے تو جتنی جلد ہوسکے آدمی کو" پہلی بار" کے مرحلے سے گزر جانا چاہیے لیکن اگر کام برا ہے تو اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ"  پہلی بار " کا وہ منحوس لمحہ کبھی نہ آئے کہ اس کے بعد آخری بار کا لمحہ تب تک نہيں آپاتا جب تک آدمی دوسرے کے کاندھوں پر قبرستان نہ پہنچ جائے !! 

بطحا ہر بیماری کا علاج ہے !!


ثناءاللہ صادق تیمی 
 استاذ جامعی بکلیۃ اللغات والترجمۃ ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

ہمیں سب سے پہلے شہر کے فائیو اسٹار ہوٹل مداریم کراؤن میں ٹھہرایا گیا تھا ۔ تین دن تک یونیورسٹی کی طرف سے ہم اس سہولتوں سے بھرے ہوٹل کے مہمان رہے ۔ اسی درمیان جناب عاصم سلفی نے ہمیں ریاض کے بعض علاقوں میں گھمایا ۔ ہمیں اپنے ڈوکومینٹس کا ترجمہ سرکار سے منظور شدہ کسی ادارے سے کرانا تھا ۔  ٹیلی فونک گفتگو کے لیے سیم لینا تھا اور ہندوستانی روپیوں کو سعودی ریال میں اکسچینچ کرناتھا ۔ باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ بطحا ہر بیماری کا علاج ہے ۔ تب ہم نے نہیں سوچا تھا کہ ہوٹل کی مدت ختم ہونے کے بعد ہمیں عاصم صاحب  کے  ہمراہ  ان کے ہی ذریعہ حاصل کیے گئے کمرے میں بطحا ہی کے اندر رہنا ہوگا ۔  اللہ انہيں بہتر بدلہ دے کہ اس اجنبی دیار میں ان کا تعاون بڑا ہی زبردست اور مسرت انگیز رہا ۔ سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مہمان نوازی کا وہ نمونہ پیش کیا کہ ہم نہال ہوگئے ۔ کھانے پینے کے انتظام سے زیاد ہ نئے جگہوں پر کسی آدمی کا آپ کے لیے ٹائم صرف کرنا بہت معنی رکھتا ہے ۔ اللہ کریم ان کی مرادوں کو پورا کرے کہ انہوں نے دامے درمے قدمے سخنے ہر سطح پر ہمارا ساتھ دیا ۔ ان کے ررم پارٹنر اور فواد بھائی کے والد محترم جو ہمارے مربی علامہ ڈاکٹر لقمان السلفی کے چچازاد  بھائی بھی ہيں ، ان کا سلوک بھی  یادگار رہا ۔ انہوں نے اپنے ایک ایک عمل سے بتلایا کہ پرانے لوگوں میں تہذیب ، اپنائیت اور خلوص کس طرح رچا بسا ہوتا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان دونوں حضرات کا کمرہ جمعرات  کی شام سے لے کر جمعہ کے دن کے ختم ہونے اور لگ بھگ  آدھی رات بیتنے تک ان کے علاقے کے لوگوں کے لیے مرجع خلائق کی حیثيت رکھتا ہے ۔ اس لیے  ہماری ملاقات جامعہ امام ابن تیمیہ سے متصل  علاقہ کے لوگوں سے خوب ہوئی ۔ اور محسوس یوں ہوا جیسے کہ ہم ایک بار پھر چندنبارہ (جامعہ امام بن تیمیہ ) پہنچ گئے ہيں ۔  اس بیچ بڑے بھائی جناب مطیع اللہ تیمی ، جناب امان اللہ تیمی  اور جناب  ماہتاب عالم تیمی کا تعامل بھی کافی والہانہ اور مشفقانہ رہا ۔سچی بات یہ ہے کہ ان حضرات کی بے پناہ محبتوں نے کسی بھی قسم کی اجنبیت کو ہم تک پھٹکنے نہيں دیا ۔

 ہمیں بتایا گیاتھا کہ ریاض میں ایک پرانی دلی بسی ہوئی ہے ۔ آنے کے بعد جب ہم نے ادھر ادھر نکلنا شروع کیا تو ہمیں لگا ہی نہيں کہ ہم دہلی سے باہر ریاض آگئے ہيں ۔ اسی طرح کی گلیاں اور اسی طرح کے لوگ ۔  ہاں صفائی ستھرائی کے معاملے میں دلی بیچاری زیادہ مسکین واقع ہوئي ہے ۔ ہم نے ایک آک جگہ عربی میں گفتگو شروع کی اور سامنے والے نے ہم سے اردو میں باتیں کرنی شروع کردی ۔ پتہ چلاکہ بڑے بڑے ہوٹلوں اور دکانوں میں بیٹھے زیادہ تر سیلس مین  ہندوستانی ، پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور نیپالی ہی ہيں ۔  یہاں کیرالہ والوں کی مارکیٹ ہے ، بنگالیوں کی مارکیٹ ہے اور یوپی ہوٹل ہے ۔ دلی دربار ہے ۔  لوگ ہمیں دیکھتے ہی اردو میں شروع ہو جاتے ہیں ۔ دکانوں کے اشتہارات اردو میں ہیں ۔ ایک جگہ گنے کے رس کی دکان پر اشتہار اردو میں تھا ۔ لکھا تھا " یہاں گنے کا رس دستیاب ہے " ہم نے اپنے عزیز حفظ الرحمن تیمی سے کہا کہ یہ دکان کسی پاکستانی کی ہے ۔ انہوں نے کہا وہ کیسے اور ہم نے کہا کہ اگر کسی ہندوستانی کی ہوتی تو لکھا ہوتا " یہاں گنے کا رس ملتا ہے " ۔

    نماز پڑھنے کے لیے ہم اپنے کمرے سے باہر نکلے ۔ نماز ادا کرکے ہم جب لوٹے تو ایک آدمی نے ہم سے پان کے لیے پوچھا ۔ " پان چاہیے پان ؟" ۔ ہم نے کو‏ئی جواب نہيں دیا تو وہ کسی اور کی طرف متوجہ ہوئے ۔ بظاہر پان کی دکان کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا ۔ پتہ چلا کہ پان اسی طرح بیچا جاتا ہے ۔ یہاں ہمارے کمرے کے بالکل نیچے مغرب کی طرف نیسٹو مارکیٹ ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ گوشت کے خانے میں انڈین مٹن اور سبزی کے خانے میں انڈین اونین کے ٹيگ لگے ہوئے ہيں ۔ نیسٹو میں ہم کچھ خریدنے کے لیے سوچ رہے تھے ۔ بسکٹ والے حصے کی طرف گئے تو ایک بھائی نے بڑی محبت سے کہا " لیجیے ، اکسپائری ڈیٹ ابھی نہیں آئی ہے ، صحت کے لیے مفید ہے اور قیمت مناسب ہے " باتیں ہوئيں  پتہ چلاکہ جناب ہندوستان میں مہاراشٹرا سے ہیں اور جے این یو سے اچھی طرح واقف ہيں ۔ ہم نے بتایا کہ ہم امام حرم کے اردو مترجم کے طور پر آئے ہيں تو بہت خوش ہوئے اور دعائیں  دیں ۔

  ہمیں ہمارے مربی علامہ ڈاکٹرمحمد  لقمان السلفی نے  توب سلوانے اور غطرہ باندھنے کا مشورہ دیا تھا ۔ عاصم صاحب نے سالم صاحب کے یہاں اپنی گاڑی سے لے جاکر سلوایا بھی اور ہمیں لے جاکر تین دن کے بعد توب لے کر آئے بھی ۔  ہمیں غطرہ خریدنا تھا ۔ اس موقع بڑے بھائی ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی کی صلاحیتوں کا لوہا ماننا پڑا ۔ آپ نے بڑی خوبصورتی سے مناسب قیمت میں پائجامہ ، گنجی اور غطرہ خرید لیا  اور دکاندار کو پریشانی بھی نہیں ہوئی ۔

    ہمارے بار ے میں پتہ چلا تو کافی لوگوں نے ٹیلی فون سے رابطہ کیا اور بہت سے لوگ ملنے بھی آئے ۔ ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی اور حفظ الرحمن تیمی کے گاؤں کے کافی لوگ یہاں رہتے ہیں ۔ ان میں کئی لوگ ملنے آئے ۔ ان کے ساتھ بھی ہمارا ٹائم بڑا اچھا گزرا ۔ ہمارے دوست جناب آفتاب احمد منیری کے بڑے  بھائی  جناب اشتیاق  احمدعرف مونا آدم بھی تین تین بار ملنے آئے ۔ ہمارے دوست ہی کی مانند نیک اور دینی حمیت سے سرشار ۔ اللہ انہیں بہتر بدلہ دے ۔ اور ان کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم تیمی اخوان نے فیس بک اور ٹیلی فون رابطہ کے ذریعہ اپنی خوشیوں کا اظہار کیا اور ہم تیمی اخوان سے ملنے کی خواہش   کا اعادہ کیا ۔ اللہ انہيں بھی بہتر بدلوں سے نوازے ۔

    زیادہ تر بھائیوں نے دہلی میں ہونے والےاسمبلی الیکشن پر  اپنی توجہ دکھلائی ۔ پتہ چلا کہ زیادہ تر لوگ" آپ "کے فیور میں ہیں لیکن بی جے پی کی جیت کو خارج از امکان نہيں سمجھتے ۔ ہمیں لگا کہ اس اعتبار سے بھی ہم دہلی ہی میں ہيں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ دہلی پر اسی کی حکومت بنے جو پورے طور پر اہالیان دہلی اور ملک کے جملہ باشندگان کے لیے  بہتر ہو ۔ آمین ۔