‏إظهار الرسائل ذات التسميات رحمت كليم امواوي. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات رحمت كليم امواوي. إظهار كافة الرسائل

الخميس، فبراير 12، 2015

شاتم رسول تسلیمہ نسرین کے پیچھے کون ؟


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی)

سچائی کا یہ چہرہ کبھی قابل انکار نہیں ہو سکتا کہ مذہب اسلام کو جس قدر اہل اسلام نے ٹھیس پہنچائی ہے اور جس طرح مذہب اسلام کے احکام کو پامال کیاہے، اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے اور عالمی پیمانے پر اسلامی روح کو زک پہنچانے کی ناروا کوششیں کی ہیں شاید ہی دوسرے مذاہب کے ساتھ اس کے ماننے والوں نے ایسا سلوک کیا ہوگا۔ تاریخ کے اوراق ایسے واقعات وسانحات سے بھرے پڑے ہیں جنہیں بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے اور شعر کے اس مصرعہ میں بھی قوی سچائی ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
اسلامی لیبل چسپاں کئے یا لاالہ اللہ کا بینر لگائے جتنی بھی نام نہاد اسلامی تنظیمیں ہیں چاہے وہ طالبان ہوں یا القائدہ، جماعة الدعوہ ہوںیاانڈین مجاہدین،حجب اللہ ہوں یا داعش۔ مذکورہ تمام تنظیموں نے اسلامی شبیہ کو مسخ کرنے میں جتنا گھناﺅنا کردار ادا کیا ہے اتنا ان تنظیموں نے نہیں کیا جو مغرب نے بطور خاص ہمارے لیے تیار کیے ہیں۔اسامہ بن لادن ہو یا ابوبکر بغدادی، حافظ سعید ہو یا داﺅد ابراہیم یا پھر اس قطار میں کوئی اور سبھوں نے اپنے اپنے طور پر اسلامی حیثیت اور اسلامی حقیقت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی ہیں اور کم علم وعقل مسلم نوجوانوں کو جذباتی و مذہبی بلیک میل کرکے اس انداز میں تشدد کے راہ پر گامزن کردیا ہے کہ ان کے اذہان و قلوب پر تالے پڑ گئے ہیں اور حقیقت شناسی سے بہت دور بھاگتے ہوئے جذباتی انداز میں اسلام کے نام پر غلط راہ پر چل پڑے ہیں جن کے کارناموں سے آئے دن اسلام پر انگشت نمائی ہوتی رہتی ہے۔خیر یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے اپنے گھر سے کب اور کس طرح اپنے ہی مذہب کے دشمن بن گئے اس کا احساس بھی نہ ہوا اور جب تک ان لوگوں کو سمجھ پاتے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔لیکن عالمی پیمانے پر مذہب اسلام کو نشانہ بنانے کیلئے جس انداز میں سعی کی جارہی ہے اور جس قسم کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔مغرب نے اپنے وجود کو بطور خاص مذہب اسلام کے خلاف وقف کر رکھا ہے اور موقع بہ موقع مغربی کارفرمائیوں کا ہمیں مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کارٹون شائع کیے جاتے ہیں تو کبھی جوتے پرمعاذ اللہ’ اللہ و محمد‘ لکھا جاتا ہے تو کبھی اسلامی تعلیمات کو منفی انداز میں فلما کر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور طریقے سے اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور مسلمانوں کی غیرت و حمیت کا باربار امتحان لیا جاتا ہے مگران تمام حرکات سے بالا تر مغرب کی سب سے مضبوط اور کار آمد پالیسی جو ہے وہ ہے ہمارے اپنوں کے ہاتھوں اپنے مقصد کو حاصل کرنا ۔یعنی ہمارے درمیان یا یوں کہیے کہ ایسے نام نہاد (so called) مسلمان جنہیں شہرت اوردولت اپنے مذہب کے بالمقابل کچھ زیادہ ہی عزیز ہو اور اس حقیر دولت و شہرت (بدنامی) کو حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہوں ایسے لوگوں کا استعمال اپنے مفادات کیلئے مغرب خصوصاً کرتا ہے اور مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے نان ونفقہ کا لالچ دے کر ایسے منافقوں سے ہم پر حملے کراتا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں آج بھی محفوظ ہیں۔
لیکن ہم تاریخ کے پیچ و خم میں نہ الجھ کر ماضی قریب کا سہارا لیتے ہوئے حال تک اس حوالے سے پہنچنے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون لوگ ہیں جو مغربی غذا کھا کر اسلام کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔اس فہرست میں عام طور پر دو نام فوراً ذہن میں آتے ہیں ۔ایک شاتم رسول سلمان رشدی اوردوسرا گستاخ رسول تسلیمہ نسرین کا۔سلمان رشدی کے خلاف بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ توخاموش ہے لیکن شاتم رسول تسلیمہ نسرین کے خلاف لاکھ آواز اٹھانے اور جلا وطن کرنے کے بعد بھی اس کی دریدہ دہنی میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ بدستور اپنی زہر افشانی پر قائم ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور کس کی شہ پر نسرین اس قدر جری ہے ان سوالات کا احاطہ بعد میں کریں گے،پہلے اس بدنام زمانہ خاتون کی زندگی کے بارے میں چند بنیادی باتیں جان لیں ۔
            اس بد نصیب کی پیدائش 25 اگست 1962کوبنگلہ دیش میں ہوئی اور وہیں ابتدائی تعلیم کے بعد ایم بی بی ایس تک کی تعلیم بھی مکمل کی۔ بچپن سے ہی اس کی بد چلنی، فحاشی اور بے حیائی کے چرچے تھے، اسکول و کالج میں اس کو اسی حوالے سے جاناجاتا تھا، چال چلن اور عادات واطوار ایسی کہ کوئی بھی باکردار اس کے سایے سے بھی پناہ مانگے ،یہی وجہ ہے کہ تسلیمہ نسرین کی ازدواجی زندگی کبھی کامیاب نہ ہو سکی اور یکے بعد دیگرے تین تین شادیاں کیں لیکن سبھوں نے اس کی بے راہ روی سے عاجز آکر اسے طلاق دے دی۔ سن 1982ء میں وہ بنگلہ دیش کے مشہور شاعر محمد شاہد اللہ کے عشق میں گرفتار ہوگئی اورگھر سے بھاگ کر شادی کرلی لیکن سن1986ء میں شاہد اللہ نے تھک ہار کر اس کو آزاد کردیا،پھر اسکے بعد اس نے ایک صحافی نعیم الاسلام خان سے شادی رچائی لیکن خان کی زندگی میں آتے ہی اس خاتون نے اس کی زندگی اجیرن کردی اور مجبور ہوکر نعیم نے بھی سن1991ء میں اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا، اس طرح اسے یہ دوسری طلاق ملی۔ اس کے بعد بھی اس کی جنسی بھوک نہیں مٹی تواس نے ایک ہفت روزہ کے ایڈیٹر کو اپنے جال میں پھنسایا اور منار محمود سے شادی کر لی لیکن اس کی بے حیائیاں اور بد تمیزیاں یہاں بھی کم نہ ہوئیں تو منار نے بھی عاجز آکر اس کوسن 1992ء میں ہمیشہ کیلئے آزادی کا پروانہ دے دیا۔اس کے بعد سے اب تک یہ ادھر ادھر منہ مار رہی ہے اور مغربی ٹکروں پر پلتے ہوئے اسلام کے خلاف زہر افشانیاں کر رہی ہے۔بنگلہ دیش میں بھی اس کے کالے کرتوت موقع بہ موقع سبھوں کے سامنے آتے رہے ہیں ۔ سن1999میں بنگلہ دیش ساہتیہ اکادمی کے اس وقت کے چیئر مین سنیل گنگ اپادھیائے نے جب تسلیمہ کی ایک گندی اور پھوہڑکتاب کے خلاف فیصلہ دیا تو اس نے خوداس صاف وستھری شبیہ والی شخصیت پر اپنے ساتھ جنسی استحصال کا الزام لگا دیا۔
            بہر کیف یہ تمام باتیں اس سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ یہ بدکردارخاتون کسی بھی اعتبار سے پاک دامن اور کسی ایک مذہب کی نہیں ہے۔جب وہ اپنی ازدواجی زندگی خوشحال نہ بنا سکی او ر تین تین گھر اجاڑ دیے تو اس کے بعد اس گستاخ کو کوئی مستحکم ٹھکانہ نہیں مل پار ہا تھا، آخر کار اسے مغربی منصوبہ کو اختیار کرنا آسان لگا اور یہ امید بھی جگی کہ مغرب کا گرویدہ ہونے اور راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچنے کیلئے سب سے آسان راستہ مذہب پر حملہ کرنا ہی ہے۔ اس کے بعد یقینا کچھ لوگ موافق تو کچھ مخالف بن جائیں گے۔ لیکن معاملہ یہ تھا اگر وہ عیسائی یا یہودی عقیدے کے خلاف کچھ بولتی یا لکھتی ہے تو چاروں طرف سے بے سہارا ہو جائے گی اور جینا مشکل ہو جائے گا اور اگر ہندوازم پر وار کر تی ہے تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی مانند آخری سہارا جو ہندوستان ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا اس لیے اس نے اپنی مذموم حرکت کیلئے مذہب اسلام کا انتخاب کیا چونکہ وہ جانتی تھی کہ مفت کی شہرت اور مغرب سے حقہ پانی مسلمانوں کو ٹھیس پہنچا کر ہی مل سکتا ہے۔
اس لیے اس نے ایک ناول تصنیف کی اور سن 1993ء میں’لجا‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آیا۔جس میں ہمارے تاجدار بطحی محمد عربی کی شان اقدس میں نہایت گستاخی کی گئی پھر کیا تھا مذہبی حمیت سے سرشار مسلمان سڑکوں پر اتر آئے اور مخالفت مستقل اس انداز میں جاری رہی کہ بنگلہ دیش حکومت نے تسلیمہ نسرین کو سن 1994ء میں جلا وطن کردیا ،مسلمانوں کی جانب سے دی گئی قتل کی دھمکی سے ڈر کربدنام زمانہ شاتم رسول ادھر ادھر مغربی آقاﺅں کی پناہ میں ان کے تلوے چاٹتی رہی، درمیان میں سن 2004ء میں ہندوستانی حکومت نے بھی اس کو عارضی طور پر پناہ دی تھی لیکن مسلمانوں نے ا س کوبرداشت نہیں کیا اور مجبوراً سن 2008 میں یہاں سے اسے بھاگنا پڑا۔ سن 1993سے لیکر اب تک بے شمار ایسے ایسے غلیظ اور شرپسند انہ کرتوت کیے کہ اگر اس کے اندر ذرہ برابر بھی حیا باقی ہوتی تو شرم سے ڈوب مرتی ،لیکن اس بے غیرت سے اچھائی کی توقع عبث ہے چونکہ مغرب نے بہت ہوشیاری سے اس کو اپنے استعمال کیلئے رکھا ہے اور شاتم رسول اسی میں خوش ہے،ساتھ ہی ساتھ اپنی ذمہ داری کو اس خوف سے مسلسل انجام دے رہی ہے کہ کہیں مغربی آقاﺅں نے ناراض ہو کر رشتہ منقطع کرلیا تو پھر کسی کام کی نہیں رہ پاﺅں گی۔علاوہ ازیں وطن عزیز ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت بننے سے گستاخ مصنفہ کے حوصلے کو مزید تقویت ملی ہے۔ چونکہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ مغرب کا چھوٹا بھائی برصغیر میں آر ایس ایس اور بی جے پی ہے اور اگر اس قسم کا رشتہ نہ بھی ہوتو دونوں کے منصوبے مسلمانوں کے حوالے سے یکساں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج گستاخ رسول ہندوستان میں بے خوف وخطر قیام پذیر ہے اور بہت مضبوطی کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کو زک پہنچانے کی وقتاً فوقتاً کوششیں کر رہی ہے۔ساتھ ہی یہ بد نصیب ہر اس کام پر کھلے دل سے خوشی کا اظہار کرتی ہے جو مذہب اسلام یا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں اور ہر اس وقت کا بھرپور استعمال کرتی ہے جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک جملہ بھی لکھنے کا موقع ملتا ہے۔اس کی واضح مثال29جنوری 2015 کی ہے جب 66ویں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے امریکی صدر براک اوبا مہ اور ان کی اہلیہ مشیل اوبامہ ہندوستان کے دورہ پر تھیں۔ دورے کے بعد یہاں سے سیدھے سعودی عرب جانے کا پروگرام تھا چونکہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا انتقال ہو چکا تھا اور پوری دنیا سے لوگ تعزیت کیلئے جا رہے تھے ایسے میں اوبامہ کا یہ فیصلہ کافی لائق ستائش تھا، اوبامہ سعودی عرب پہنچے اور ساتھ میں ان کی اہلیہ مشیل اوبامہ بھی تھیں۔ مشیل اوباما کا لباس وہی نیم برہنہ تھا جس لباس میں وہ ہندوستان آئی تھیں، حالانکہ مشیل اوبامہ کو احتیاط برتنی چاہیے تھی اور سعودی کلچرکے ساتھ ساتھ ملک کے آداب کا کچھ نہ کچھ ضرور پاس و لحاظ رکھنا چاہیے لیکن ایسا انہوں نے نہیں کیا۔ عالمی پیمانے پر ہرصاحب حل وعقد نے ان کے اس عمل کی مذمت کی اور احتیاط برتنے کو ضروری قرار دیا لیکن یہاں پر شاتم رسول تسلیمہ نسرین کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا، اس نے فوراً ٹوئٹ کرکے دل کہ گہرائی سے مشیل اوبامہ کے اس عمل پر خوشی کا اظہارکیا، گستاخ رسول نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ
A million thanks to Michelle Obama for not wearing a veil in Saudi Arbia.It is necessary to disrespect Saudi's rigid repressive rule  
حالیہ دنوں میں عالمی منظر نامے پر عموماً اور مشرق وسطی کے حوالے سے خصوصاً اس نے ایک ٹوئٹ ایسا بھی کیا جس میں اس نے شیعہ اور سنی کو پوری دنیا میں امن کا دشمن اور سکون کے فقدان کا ذمے دار قرار دیا ،اس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ شیعہ سنی کا قتل کر رہے ہیں اور سنی شیعہ کا ،دونوں ایک دوسرے کو قتل کر کے ختم کر دیں گے تو پھر دنیا میں سکون قائم ہو جائے گا
 Sunnis are killing Shias.Shias also killing Sunnis .They will finish each other off.We'll finally live in peace. ۔
اس قسم کے اور بھی بیانات شاتم رسول آئے دن دیتی رہتی ہے اور مذہب اسلام کے خلاف بولنے اور لکھنے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ آخر اس گستاخ رسول کو اتنی ہمت کہاں سے مل رہی ہے،کون ہے جو پشت پناہی کر رہا ہے اور ہندوستان میں رہ کر بھی اپنے حوصلے کا بر ملا اظہار کس کے سہارے کر رہی ہے اور کون ہے جو اس کو ہندوستان میں اسلام کے خلاف مستحکم کر رہا ہے؟کیا ہم یہ مان کر کے چلیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی والوں کی شہ پر یہ اچھل رہی ہے یا پھر مغربی دشمنوں نے یہاں باضابطہ انداز میں خیمہ ڈال دیا ہے۔خیر جو بھی ہو وقت کا تقاضہ ہے کہ اس گستاخ رسول کے حوالے سے محتاط رہیں اور کسی سوچی سمجھی اور منظم شر انگیزی کے پیچھے چھپے بڑے منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے اسلامی اور اصولی حکمت عملی پر دھیان دیں۔

اس کو لہر نہیں قہر کہتے ہیں


رحمت کلیم امواوی 

(جواہر لعل نہرو یونیورسٹی)

ملک کی راجدھانی دہلی میں ہونے والے سن 2015 کے اسمبلی انتخابات اور اس کے نتائج شاید تاریخ کے صفحات میں اس لیے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ محفوظ کیے جائیں گے کہ ایک ایسا شخص جو واقعتا عام آدمی ہواور نہتا ملک کی دارالسلطنت کے انتخابی دنگل میں دو چند پڑھے لکھے حامیوں کے ساتھ قدم جمانے کیلئے مضبوط ارادے کے ساتھ نکلا ہوا اور بڑے بڑے سورما ﺅں کو ایک آن میں دھل چٹا دی ہو۔اروندر کجریول اینڈ کمپنی کوئی بہت ہی زیادہ پرانی اور سیاسی فہم وشعور سے لیس نہیں تھی ۔لیکن حوصلے بلند تھے،شبیہ صاف ستھری تھی اس لیے دہلی کی عوام نے پہلی بار ایک ساتھ دانشمندانہ فیصلہ لیا ہے اور سیاسی دنیا میں طوفان بلا خیز لا دیا ہے۔ گزشتہ 10فروری کو انتخابا ت کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور دہلی کی کل 70سیٹوں میں سے 67 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کو کامیابی نصیب ہوئی اور مرکز میں قائم بی جے پی کو صرف 3سیٹ اتفاقیہ طور پر مل پائی اور افسوس کہ کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھل پایا ۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گذشتہ آٹھ ماہ قبل پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی اور یکے بعد دیگر کئی ریاستوں میں مودی لہر کے نام پر سرکار بنانے میںکامیاب رہنے والی پارٹی بی جے پی دہلی میں کیوں اور کیسے بری طرح ناکام ہوگئی ۔ساتھ ہی ساتھ پچھلے پندرہ سالوں سے دہلی کو سجانے سنوارنے کا دعوی کرنے والی کانگریس پارٹی کو اس انداز میں شکست فاش سے دوچار کیوں ہونا پڑا۔کبھی کبھی یہ نتیجہ بہت ہی عجیب وغریب سا لگتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی جس کا وجود کل ہوا ہے اس کے باوجود بھی اس نے دہلی کی سیاسی سرزمین پر تاریخ رقم کردی ۔یہ دہلی کی تاریخ ہی نہیں پورے ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب کسی پارٹی کو اس اکثریت کے ساتھ جیت ملی ہو۔واقعتا یہ ایک نیا باب ہے جو مکمل طور پر تاریخ میں کجریوال اور اسکی عام آدمی پارٹی پر مشتمل ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ آخر کل تک پورے ہندوستان میں بڑے فخر کے ساتھ دہرایا جانے والا جملہ کہ’ مودی لہر کا اثر ہے ‘دہلی میں کہا ںگیا۔حالانکہ یہاں بھی وزیر اعظم ہندوستان نے اپنی پارٹی کیلئے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھاور ایک دو نہیں کئی ریلیاں کی تھیں۔مزے کی بات تویہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے سارے وزراءکو اپنی اپنی وزارت سے فرصت دے کر صرف اور صرف دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے راجدھانی بلا کر باضابطہ انداز میں کچھ کچھ اسمبلی ہر وزیرکے نام کر دیا تھا، اور وہاں انتکابی مہم چلانے اور امیدوار کو کامیابی دلانے کی ذمہ داری عائد کی تھی۔ساتھ ہی کئی ریاستوں کے وزراءاعلی کو بلوا کر ان سے بھی پارٹی کی تشہیر کرائی گئی اور مودی جی خود اپنی لہر پھیلانے کیلئے ہر لمحہ اس دوران پارٹی کے ساتھ ساتھ رہے لیکن اس کے باوجود ساری کہ ساری لہر اور کوششیں ناکام و نامراد ہو گئیں اور ایک معمولی جھاڑو والے کی ٹیم نے اس انداز میں ہرایا کہ دنیا حیران ہوگئی اور چراغ لے کر مودی لہر کو ڈھونڈنے لگی۔اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ بی جے پی کا جنازہ اٹھانے کیلئے بھی ایک کاندھا کم پڑ گیا اور تین ہی امیدوار کامیاب ہوئے،کانگریس کی تو بات ہم اس لیے بھی زیادہ نہیں کریں گے کہ کانگریس کے برے دن آئے ہوئے ہیں اور پہلی بار کانگریس کسی ریاست میں تیسری پوزیشن پر باقی رہنے کیلئے دہلی میں انتخاب لڑی ہے اور اس میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔لیکن مودی لہر کا کیا ہوا اور کہاں گئے وہ قسمت والی سرکار ،کہاں گیا کرن بیدی کا ایماندارانہ چہرہیہ دہلی ہے میری جان ۔یہاں سمجھداروں اور پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد دوسرے ریاستوں کے بالمقابل زیادہ رہتی ہے ،یہاں کسی کی ہمیشہ نہیں چلتی،یہاں کی عوام کسی کو بہت محبت کرتی ہے تو اس محبت کی ناقدری پر اسی اندازمیں ذلیل و رسوا بھی کرتی ہے جس کی واضح مثال حالیہ انتخابات کے نتائج ہیں۔کانگریس کیڈر اور بی جے پی کیڈر اوران کے سارے سیاسی حربے ایک معمولی زمین سے جڑے ہوئے شخص اوراس کی ناتجربہ کار ٹیم کے سامنے ناکام ہوگئے۔اروندر کجریوال کو آخر اتنی بڑی جیت اور بی جے پی وکانگریس کو اتنی بری ہار کیوں ملی ۔اس کے پیچھے بہت سارے بنیادی مسائل ہیں اور وہ سب آپ کے سامنے عیاں ہیں ۔میں اس کو مزید واضح کرنا نہیں چاہتالیکن ایک بات ضرور واضح کرنا چاہوں گا کہ جو لوگ سماج سے جڑے ہوتے ہیں اور زمین سے جڑے مسائل اور اس کے دردکو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے اس کوپوری قوم اور عوام کے مسائل کے طور پر قبول کرتے ہوئے ایک چیلنج سمجھ کر اسکے خلاف جب کوئی کھڑا ہوتا اور اس کے جو نتائج سامنے آتے ہیںتو اس کو لہر نہیں قہر کہتے ہیں اور یہ قہر ان لوگوں کیلئے یا ان لیڈران کیلئے ہوتاہے جو کئی سالوں سے عوام کی آنکھوں میں دھل جھونک کر ،ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ،ان کا گھر اجاڑ کر ،ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر کے اپنا مستقبل سنوارنے میں محو ہوتے ہیں اور عوام در در کی ٹھوکریں کھاتی رہتی ہیں،یہ قہر اس وقت برپا ہوتا ہے جب عوام کا رہبر رہزن بن گیا ہو اور اپنا پیٹ بھرنے کیلئے غریبوں کی تھالی کی روٹی چھین لیا کرتا ہو اور موجودہ سیاسی قہر ان نیتاﺅں پرہے جو اپنی انا کی خاطر کسی بھی حد تک عوامی نقصانات کراتا تھے،جو فرقہ وارانہ فساد بھڑکا کر اپنی سیاسی روٹی سینکتے تھے اور اپنے جانوروں کے سایے کیلئے غریبوں کی بستی اجاڑ دیا کرتے تھے،یہ قہر ہے ان نام نہاد دھوکے باز رہنماﺅں پر جو اب تک عوام کو بیوقوف اور خود کو سب سے زیادہ دانا سمجھا کرتے تھے اور یہ قہر ہے ان تمام لیڈران پرہے جو کل تک عوامی جائداد کو اپنی جائداد سمجھ کر ناحق ان پر قابض تھے اور اپنی عیاشی کیلئے غریبوں کی زندگی تباہ و برباد کر رہے تھے۔

ایک قیمتی بات یہ بھی واضح کر دوں کہ جب عام آدمی ہوش کے ناخن لیتا ہے اور اس کے آنکھوں کے سامنے سیاسی رہنماﺅں کے ذریعے ڈالے گئے جھوٹ اورمکر وفریب کا پردہ ہٹتا اور ساری سچائی واضح ہو جاتی تو عوام کا جو رد عمل ہوتا ہے ا س کو سیاسی دنیا میں قہرکہتے ہیں اورعوام کی جانب سے یہی قہر حالیہ انتخابات میں برپا کیا گیا ہے۔تاکہ کرسی پر برسوں سے بیٹھے لیڈران کو ایک جھٹکے میں ہی ہواس باختہ کر دیں اور ایسا ہی ہوا ہے ،سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔




السبت، أكتوبر 18، 2014

نمائندگان ملک و ملت کے نام ایک پیغام


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی)

انسانی سماج و معاشرے کا یہ اپنا اصول ہے کہ اگر وہ کسی شخص کو اپنے درمیان بہت ہی معتبر اور باعزت گردانتا ہے،ہر قسم کے امتیازات سے انہیں نوازتا ہے تو واضح رہے کہ یہی سماج ان محبتوں کی ناقدری کرنے پر اسی شخص کو اس انداز میں ذلیل و خوار کرتا ہے کہ اس کا تصور کبھی خواب خیال میں بھی نہیں کرتا۔معاشرے کی تشکیل و تعمیر بڑے اچھوتے اور انوکھے انداز میں ہوتی ہے ۔ ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے کی خوش رنگ آب و ہوا کبھی بدلنے نہ پائے اور معاشرے کی فطرت کا یہ ایک مضبوط حصہ ہے کہ وہ ہر مجال میں اپنا ایک ترجمان یا نمائندہ چاہتا ہے،چاہے وہ سیاسی ہو،ثقافتی ہو،تعلیمی ہو یا صحافتی وغیرہ اور پھر اس چاہت کے پیچھے جو حکمت عملی کار فرما ہوتی ہے اور معاشرے کے جو مطالبات ہوتے ہیںوہ یہ کہ سماجی فلاح و بہبودی کیلئے ہر وہ کام کیے جائیںجو امکان کے دائرے میں آتے ہیں۔بجائے یہ کہ اپنا وقت غیر ضروری چیزوں کی نذر کریں ہمیشہ اس بات کی کوشش ہو نی چاہیے کہ سماج اور ملک وملت کو مستحکم کرنے کیلئے پوری توانائی کے ساتھ قدم بڑھائیں۔اب یہ سوال بر محل معلوم ہو تاہے کہ بنیای طور پر کن نمائندگان یا رہنماں سے اس قسم کی امید رکھتے ہیں؟میں یہ واضح کر دوں کہ سماج ایک چھوٹا سا حصہ ہو تا ہے کسی بھی ملک کا اور کئی معاشرے کے انسلاک کے بعد ایک ملک کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔لیکن سماجی سطح سے لیکر ملکی پیمانے تک ہر ان حضرات سے معاشرے کی یہ توقع ہوتی ہے جو ان کے سماج اور ملک کی نمائندگی سرکاری یا غیر سرکاری طور پر کر رہے ہوتے ہیں ۔چاہے وہ سیاسی میدان میں ہوں،مذہبی میدان میں ہو ں یا تعلیمی و ثقافتی وغیرہایک سوال اور یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے نمائندگان کا کردار اس حوالے سے کیا ہے؟میں تاریخ کے پیچ و خم میں الجھنے کے بجائے حالیہ دنوں جو پاسبان ملک وملت کا رول دیکھنے کو مل رہا ہے اس حوالے سے اس سوال کا جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں۔عہد حاضر میں سماجی سطح سے لیکر ملکی پیمانے تک ہمارے نمائندگان کا جو رول رہا ہے اس کے مشاہدے کے بعد یہ فیصلہ کرنے میں بڑی آسانی ہو جاتی ہے کہ ہمارے بیشتر نام نہاد رہنماں کے پاس معاملے کے تئیں فہم و ادراک کا شعور نہیں ہے۔واضح لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں دخل اندازی کی تمیز نہیں ہے اور کونسی چیز غیر ضروری ہے ،کس معاملے میں ان کی مداخلت غیر ضروری ہے وغیرہ وغیرہ ان چیزوں کی تفریق کے ملکہ سے ہمارے بیشتر سیاسی ،مذہبی اور صحافتی ترجمان ناآشنا ہیں۔ البتہ ایک بات تو صاف ہے کہ ان تمام نمائندگان پر شہرت کا بھوت زبردست انداز میں سوار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس فراق میں رہتے ہیں کہ کب موقع ملے جب ہم عوام کے درمیان سرخرو ہو جائیں اور راتوں رات شہرت کے ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔
مذکورہ تمام باتیں (الزامات) کسی بھی ناحیہ سے غلط اور بے بنیاد نہیں ہیں بلکہ یہ تمام بڑی مضبوط سچائی ہے جن کی تائید و توثیق کیلئے ہمارے پاس ڈھیروں دلائل ہیں۔آئیے ماضی قریب کا سہارا لیتے ہوئے اس حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔آج سے تقریباًآٹھ دس سال قبل ہندوستان کی مشہور و معروف ٹینس اسٹار کھلاڑی ثانیہ مرزا کے لباس پر بڑے عجیب و غریب انداز میں علمائے کرام کی ایک جماعت وایلا مچانے لگی اور طرح طرح کی بیان بازیاں بھی ہوئیں۔جس پر ان حضرات کو ثانیہ مرزا نے یہ کہہ کر خاموش کر دیا تھا کہ’دیکھنا ہے تو میرے کھیل کو دیکھیں میرے اسکاٹ اور پاں کو نہ دیکھیں‘۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ کھیل تنگ لباس کے بغیر نہایت ہی مشکل ہے اور پھریہ کہ ثانیہ مرزا کونسا ہمارے اسلام کو ملک و بیرون ملک (Represnt)پیش کرتی ہے کہ علمائے کرام برہم ہوکر سیدھے میڈیا کے سامنے آگئے۔ ثانیہ مرزا نام رکھ لینا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پوری طرح مسلمان ہے؟ تھوری دیر کیلئے اگر ہم اسے مان بھی لیں کہ وہ مسلمان کے زمرے میں ہے تو پھر ہمیں یہ یاد رکھنی چاہیے کہ اس کا گھر خاندان دور دور تک اسلامی نہیں، مغرب زدہ ہے۔اس کے باوجود بھی علمائے کرام کی یہ کوشش تھی کہ مرزا کو اسلامیات کا جامہ پہنائیں تو پھر یہ طریقہ کہ ڈائریکٹ میڈیا کے سامنے آکر ثانیہ کے خلاف بولنا شروع کر دیں غلط تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دو چند لوگ ثانیہ کے پاس جاتے اور اسے اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے تو پھر یہ ایک مہذبانہ طریقہ ہو سکتا تھا اور بہت حد تک اس میں کامیابی ملنے کی امید بھی کی جا سکتی تھی۔شاہ رخ خان جو کہ ہندوستانی فلمی جگت کا بادشاہ کہلاتا ہے ایک مرتبہ کسی شخص نے خان کے حوالے سے سوال کیا کہ آیا شاہ رخ خان مسلم ہیں یا نہیں؟ اس پر بھی علمائے کرام نے مستقل فتوے صادر کرکے انہیں کافر گردانا۔ اسی طرح سے جب شاہ رخ خان سروگیٹ(Surrogate) کی مدد سے ایک بچے کے باپ بنے تو پھر علمائے امت فتوی در فتوی اس انداز میں دینے لگے کہ خان بھی ایک وقت کیلئے گھبرا گئے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں ایک اور فتوی آیا ہے کہ شاہ رخ خان یا سلمان خان نام رکھنا صحیح نہیں ہے۔اس فتوی کی وجہ جو بتائی جا رہی ہے وہ یہ کہ شاہ رخ خان اور سلمان خان دونوں خاص طور پر اپنی فلمیں عید و بقرعید کے موقع پر ریلیز کرواتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کا رجحان ان کی فلموں کی طرف زیادہ بڑھتا جا رہا ہے، مذہبیات سے دور کرنے میں ان کی فلمیں اہم رول اداکررہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سلمان یا شاہ رخ خان نام رکھنے سے یہ رجحان کم ہو جائے گا؟کیا ان کی فلمیں دیکھنے والوں کا نام شاہ رخ یا سلمان ہی ہوتا؟اور پھر اب تک کیا کسی کے شاہ رخ یا سلمان نام رکھنے پر ان دونوں اداکار پر کوئی اثر ہوا ہے جو نام نہ رکھنے کی صورت گمان کیا جا رہا ہے؟معمولی سی بات ہے کہ آپ اپنی اصلاح خود کریںبجائے یہ کہ نام ،بال ،لباس کا سہارا لیکر مخالفت کا جھوٹا ڈھنڈوڑاپیٹیں۔مذہبی رہنماں کے علاوہ سیاسی ،سماجی نمائندگان کا بھی اگر آپ جائزہ لیں گے تو معلوم ہو گا کہ معاملہ ’نہلے پے دہلہ‘کے مانندہے۔یہ لوگ بھی کم نہیں ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال بالی ووڈ دبنگ سلمان خان کے خلاف احتجاج و مظاہرہ ہے۔ٹیلی ویژن کا مشہور شو’بگ باس‘کے سیزن آٹھ کا افتتاح ہو رہا تھا۔سلمان خان بطور ہوسٹ(Host) موجود تھے۔ ماڈل(Model)مختلف قسم کی لباس میں ریمپ(Ramp)پر اتر رہی تھی۔اسی میں ایک ماڈل ایسے تنگ لباس میں تھی جس پر عربی میں’اللہ‘لکھا ہوا تھا۔اب یہ خبر موقع پرست نام نہاد مسلم رہنماں اور قلم کاروں کو لگ گئی ۔پھر کیا تھا سیاسی لیڈران نے تو باضابطہ طور پر چند مسلم نوجوانوں کو مذہبی جذبات کا حوالہ دے کر احتجاجی اکھاڑے میں اتر آئے اور جم کر مظاہرے کیے،کیس درج کیا گیا،معافی کا مطالبہ کیا گیا،کفر کا فتوی صادر کرنے کی دھمکی دی گئی وغیرہ وغیرہساتھ ہی ساتھ کچھ شہرت پسند قلم کاروں نے بھی اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی اور سلمان خان کے خلاف قرطاس در قرطاس سیاہ کرتے چلے گئے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ سلمان خان جو عربی اور اردو کے ایک لفظ سے واقف نہیں وہ کیا جا نتا ہے کہ عربی میں اللہ اور خدا کیسے لکھا جاتا ہے اور پھر سلمان خان یا شاہ رخ خان یہ تو گانے بجانے والے لوگ ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،یہ لوگ دیوی دیتاں کے سامنے بھی ہاتھ جوڑتے ہیں ،گرجا گھر کی سیر کرتے ہیں،پھر مسجد بھی آتے ہیں ،ان کا تو کبھی کوئی مذہب رہا ہی نہیں۔پھر سلمان خان بگ باس کا مالک تو نہیں اسے پیسہ دیا جاتا تو وہ اس پروگرام کو ہوسٹ کرتا ہے۔تو یہ ہنگامہ بے معنی کیوں؟میں سلمان یا شاہ رخ کسی شخصیت (Personality)کا فین(Fan)نہیں ہوںاور ناہی کسی خاص شخص کو پسند کرتا ہوں البتہ ہر کسی کی اچھائیوں کو ضرور قبول کرتا ہوں چاہے وہ دوست ہو یا دشمن،مسلم ہو یاغیر مسلم۔لیکن بات یہ ہے کہ ہمیں ان کے خلاف ایسے موضوع پر بولنا جس کا وہ خود گمان نہیں کر سکتا ہو کیا معنی رکھتا ہے؟ مشہور شاعر وسیم بریلوی نے بہت خوب کہا ہے کہ
                        کونسی بات کہاں ،کیسے ،کہی جاتی ہے
                         یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
جموں کشمیر میں جب سیلاب کی وجہ سے نفسی نفسی کا عالم تھا ،کھانے پینے اور دیگر راحتی اشیاءکی انہیں سخت ضرورت تھی تب ہمارے نام نہاد رہنماءبجائے یہ کہ ان متاثرین کی امداد کیلئے مضبوطی سے آگے آئیں اور تن من دھن سے ان کی معاونت کریں یہ لوگ سلمان خان کے خلاف میڈیا میں شہرت بٹورنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔جس وقت ہندوستان میں صفائی مہم کی مدد سے گندگیوں کے خاتمے کیلئے ایک خوشگوار پہل کی جارہی تھی اس وقت چند نام نہاد سیاسی رہبران اور کچھ سماجی تنظیم اس کی تاریخ کو موضوع بنا کر اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گاندھی جینتی اب تک ہر سال نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا تا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس حوالے سب باشندگان ہند کو اب تک ملا کیا؟اگراب اسی بہانے صفائی کا پیغام عام کیا جا رہا ہے تو پھر اس میں مضائقہ کیا ہے۔یہ تو اچھی بات ہے کہ اس گاندھی جینتی پر ہندوستانی عوام کو ’سووچھ بھارت ابھیان‘کی تحریک ملی۔پھر اس پر چہ می گوئیاں کہ یہ گاندھی جینتی ہے ،اس دن صفائی مہم کا آغاز گاندھی کی شان میں گستاخی ہے،گاندھی کو جھارو لگانے کے جیسا ہے وغیرہ وغیرہ بالکل بے بنیاد اور غیر ضروری ہے۔گاندھی جو خود صفائی ستھرائی کے تئیں ہمیشہ بیدار رہے اور اس کو ہمیشہ ترجیح دیا،اور اس کی اپیل بھی کی ،ایسے میں بجائے نکتہ چینی کے اگریہ کہا جاتا تو کیا خوب ہوتا کہ گاندھی جینتی کی مناسبت سے گاندھی جی کے ایک پیغام کو عام کر نا خوشگوار عمل ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے پاسبان قوم و ملت کیلئے وقت آگیا ہے کہ اپنی اہمیت آپ سمجھیں اور کس مقام پر ان کی پیش قدمی کی ضرورت ہے اس احساس کو زیادہ سے زیادہ پنپنے دیں۔وقت وحالات کب کس چیز کے متقاضی ہیں اس تمیز کو ضرور بروئے کار لائیں۔عوام کی امید اور ان کی تمناں کوٹھیس پہنچانے ،غیر ضروری کاموں کو بغرض تشہیر کرنے کے بجائے ملک و ملت ،سماج و معاشرہ کو مستحکم کرنے کیلئے مضبو ط قدم اٹھائیں قبل اس سے کہ معاشرہ آپ کا قدم اکھاڑ دے۔اللہ ہمارے رہنماں کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق دے:آمین

الأربعاء، أبريل 09، 2014

شادی کارڈ (افسانہ)

رحمت کلیم امواوی
(جے این یو :9560878428)

میاں جاوید کی شادی پندرہ سال کی عمر ہی میں ان کے والد نے مولوی صغیر کی بیٹی بشری سے کردی تھی،شادی کے فوراً بعد میاں جاوید تعلیمی سفر روک کر ایک پرائیویٹ آفس میں نوکری کرنے لگے ،آفس میں انہوں نے منشی کے عہدے پر رہ کر اس ایمانداری کے ساتھ کام کیا کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہوگیا ،شادی کو تقریباً سات سال ہوگئے لیکن اب تک میاں جاوید اور بشری کی ازدواجی زندگی میں کوئی پھول نہیں کھل پایا تھا،جبکہ اولاد کی تمنا دونوں کے دلوں میں یکسا ں تھیں ،بشری پنچ وقتہ نماز کے ساتھ ساتھ تہجد بھی پڑھا کرتی تھی،اور اولاد جیسی نعمت عظمی کیلئے خوب دعا کیا کرتی تھی،میاں جاوید بھی عبادت گزار تھے اور اس امید کے ساتھ خوب خیر و خیرات کیا کرتے تھے کہ شاید اب اللہ ہم پر رحم فرماوے اور ہمارا کوئی وارث بنا دے۔
آفس میں حارث میاں جاوید کا سب سے قریبی دوست تھا،ایک دن میاں جاوید نے اپنا سارا درد حارث کے گوش گذار کردی،پھر حارث نے میاں جاوید کو مشورةً کہا کہ اجمیر شریف کا ایک بار دورہ کرلو شاید اس وسیلے سے کوئی فائدہ ہو جائے۔اولاد کی لالچ میںپاگل میاں جاوید دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ ایک بار اجمیر شریف کی زیارت کر کے دیکھتے ہیں ۔آفس سے ایک ہفتے کی چھٹی لیکر میاں جاوید اپنی اہلیہ کے ہمراہ اجمیر شریف تشریف لے گئے،دونوں نے وہاں خوب منتیں مانیں ،مرادیں پوری کرنے کی دعا مانگیں،اجمیر شریف میں عقیدتمندوں کے جم غفیر کی بیتابی دیکھ میاں جاوید اور بشری کے دلوں کو کچھ اطمینان ہوا،اور دونوں امید بر آنے کا خواب دیکھنے لگے،اور اسی خواب کے عالم میں پورے دو سال گذر گئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا،اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
میاں جاوید جس آفس میں کام کر رہے تھے اس کی سالانہ قریب ہونے والی تھی اور اس میں کچھ پرانے ورکروں کو اعزاز بھی دیا جانا تھا،جس میں سے ایک میاں جاوید بھی تھے۔وقت معینہ پر میاں جاوید آفس پہنچے اور ایڈیٹوریم میں ایک کونے والی کرسی پر بیٹھ گئے،اعزازات کاسلسلہ شروع ہوا اور سب سے پہلے میاں جاوید کا ہی نام پکارا گیا،بیس ہزار کا ایک چیک اورایک ٹرافی گلدشتہ کے ساتھ میاں جاوید کے ہاتھ میں تھما یا جاتا ہے اور اسٹیج پر ہی لگے کرسی پر بیٹھنے کو کہا جاتا ہے،میاں جاوید کے بعد حارث کانام لیاجاتا ہے ،جب حارث اسٹیج پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس کی پانچ سالہ ننھی ،چنچل خوبصورت بیٹی زینب بھی انگلی پکڑے ساتھ ساتھ آتی ہے اور خوشی سے اچھل رہی ہوتی ہے،میاں جاوید کو یہ منظر کافی دلبرداشتہ کر دیتا ہے،اور وہ دل کے آنسوں اندر ہی اندر رونے لگتے ہیں جذبات پر قابو کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر ناکام ہوتے ہیں اور دونوں آنکھوں سے گرم گرم آنسو ں نکل پڑتے ہیں ،حاضرین معاملہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر میاں جاوید کو کیا ہوگیا،مشارکین میں میاں جاوید کے پڑوسی حاجی اکرام بھی تھے جو اسیٹیج کے بہت قریب آگے والی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے،انہوں نے سمجھ لیا کہ میاں جاوید کو کون سی چیز کی کمی کھل رہی ہے۔شام کو جب تقریب ختم ہوئی اور سارے لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے تو حاجی اکرام میاں جاوید کے گھر پہنچے،دروازے پے دستک دی ،اندرسے آواز آئی کون؟جواب دیا!اکرام،بشری دروازہ کھولی حاجی اکرام نے پوچھا میاں جاوید کہاں ہے؟بشری نے بتایا کہ آفس سے ابھی آئے ہیں ان کے سر میں درد ہے وہ سو رہے ہیں،حاجی اکرام نے کہا میرا نام لے کے کہیے کہ اکرام صاحب ملنا چاہتے ہیں،جب حاجی اکرام میاں جاوید کے پاس پہنچے تو علیک سلیک کے بعد میاں جاوید نے استفسار کیا کہ کیسے آنا ہوا حاجی صاحب؟میاں جاوید سے مخاطب ہوکر حاجی اکرام نے کہا کہ میاں جاوید شادی کو مکمل دس سال ہوگئے،اور اس دس سال میں اولاد کیلئے تم برابر پریشان رہے،کہاں کہاں کا سفر کیااور نہ جانے کتنے دربار کی خاک چھانیایک درد مند دل رکھنے والا انسان تمھاری پریشانیوں کو سمجھ سکتا ہے،میرا ایک مشورہ ہے شاید تمھارے کام آجائے اور کچھ بات بن جائے،ایک بار خانے کعبہ کی زیارت اور حج کے ارادے سے مکہ مکرمہ کا سفر کرلو،وہاں کی دنیا ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے،وہاں رات و دن اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں،وہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں اور دربار خداوندی میں اپنے مسائل پیش کرتے ہیںاور اللہ انہیں خاص رحم وکرم سے نوازتا ہے،تو بھی ایک بار جاکر دیکھ شاید رحمت خداوندی جوش میں آئے اور تمھاری زندگی میں خوشیاں ڈال دے۔حاجی اکرام کی بات میاں جاوید کے دل کو بھا گئی اور اس سلسلے میں بشری سے رائے لینی چاہی،بشری جو ماں بننے کیلئے اپنے جان کی بازی تک لگا سکتی تھی فوراً حامی بھردی،حج کا موسم آیا ،دونوں میاں بیوی امید و آرزو کا توشہ لیکر مکہ معظمہ تشریف لے گئے،اور انتہائی اہتمام کے ساتھ دونوں نے ارکان حج کی بجا آوری کیں۔میاں جاوید نے کبھی خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر رب العزت سے اولاد مانگی تو کبھی عرفات کے میدان میں دونوں ہاتھ اٹھائے گڑگڑاتے ہوئے بارگاہ الہی میں اپنی درخواشت پیش کی ۔بشری نے کبھی حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اولاد کو بوسہ دینے کی خواہیش کو اللہ کے نذر کی،تو کبھی صفا و مروہ پر سعی کرتے ہوئے حضرت ہاجرہ کے بیٹے جیسے نیک حلیم وبردبار بیٹے کی تمنا کو مالک دو جہاں سے پوری کرنے کی دعا مانگیحج کی مدت ختم ہوئی ،حجاج کرام اپنے اپنے گھر لوٹے ،میاں جاوید اور بشری بھی اپنے گھر لوٹ آئے،دونوں اندر ہی اندر خوش وخرم تھے اور پر امید بھی۔
حج سے واپسی کو سات ماہ ہو گئے تھے ،میاں جاوید دھیرے دھیرے امید کا دامن چھوڑنے لگے تھے،انہیں ایسا لگنے لگا تھا کہ اب انکا کوئی وارث نہیں ہوگا۔جمعہ کا دن تھا ،میاں جاوید نماز جمعہ پڑھ کے آئے اور آنگن میں کھاٹ ڈال کر دراز ہوگئے،بشری اچانک بیڈ روم سے نکلی اور باتھ روم کی طرف دوڑتے ہوئے گئی،میاں جاوید کھاٹ سے اٹھ بیٹھے،اور باتھ روم کی طرف جانے لگے باتھ روم میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ قے کرنے کی آواز سنائی دی،میاں جاوید فوراًپشت کی جانب ہوکر سر آسمان کی طرف اٹھائے باتھروم کی باہری دیوار سے لگ کھڑے ہوگئے اور دونوں مٹھی کو مضبوطی کے ساتھ باندھتے ہوئے دل ہی دل اللہ کا شکریہ بجا لایا،پھر بشری کو سنبھال کر آنگن میں لائے اور کھاٹ پر بیٹھا دیے۔اب دونوں کے آنکھوں میں ایک طرح کی چمک پیدا ہوگئی تھی،جبیں پے مسرت و شادمانی کے آثار لوٹ پوٹ کر رہے تھے،اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ ہولے ہولے مسکرا رہے تھے۔عصر کا وقت ہونے میں ابھی آدھہ گھنٹہ باقی تھا مگر میاں جاوید کھاٹ سے اٹھے اور وضو ءکرکے مسجد پہنچے پھر دو رکعت شکرانہ نماز ادا کی۔
ایک ماہ بعد بشری نے میکے جانے کا ارادہ ظاہر کیا ،میاں جاوید سوچنے لگے کہ اگر بشری اپنے میکے چلی جائےگی تو پھر میں کیسے رہ پاﺅں گا،بشری بھی اس بات کو سمجھ رہی تھی کہ میرے جانے کے بعد میاں جاوید کے کھان پان کا بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا،بشری کو ایک ترکیب سوجھی اس نے کہا کہ ایسا کریں حاجی اکرام سے اس سلسلے میں بات کر کے دیکھئے کہیں کچھ بات بن جائے،میاں جاوید نے جب حاجی اکرام سے بات کی تو حاجی اکرام نے کہا !میاں جاوید تم بھی کیا بات کرتے ہو،یہ بھی تمھارا ہی گھر ہے ،پوری آزادی کے ساتھ آﺅ ،جاﺅ،کھاﺅ،پیوبشری اپنے میکے چلی گئی اور میاں جاوید حاجی اکرام کے یہاں مستقل کھانا کھانے لگے۔
سموار کا دن تھا ،آفس میں میاں جاوید کو کچھ زیادہ ہی کام کرنے پر گئے تھے،جس کی وجہ سے گھر لوٹنے میں تاخیر ہوگئی،تھکے تھکائے میاں جاوید گھر لوٹے اور مغرب عشاءکی ایک ساتھ نماز پڑھ کر عشائیہ کیلئے حاجی اکرام کے یہاں تشریف لے گئے،کھاناکھاکر لوٹے اور سو گئے،تھکے ہوئے تھے اس لیے بستر پر جاتے ہی نیند آگئی۔رات کے دو بج رہے تھے،کہ میاں جاوید کے موبائل کی گھنٹی بجی ،میاں جاوید آنکھ بند کیے ہوئے ہی بستر پر ہاتھ گھما کر موبائل تلاش کی اور نیم آنکھوں سے اسکرین پر نمبر دیکھا ،نمبر میاں جاوید کی سالی یسری کاتھا،میاں جاوید فوراً اٹھ بیٹھے اور فون اٹھایا،آواز آئی !
ہیلو،جی جا جی :السلام علیکم 
میاں جاوید:وعلیکم السلام ورحمة اللہ
یسری:خیریت سے ہیں جی جا جی؟
میاں جاوید :میں تو ٹھیک ہوں ،پر آپ نے اتنی دیر رات فون کیا ،سب ٹھیک تو ہے؟
یسری:کیا ٹھیک رہے گا،کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے،اور یہ سب آپ ہی نے خراب کیا ہے۔
میاں جاوید :مطلب کچھ سمجھا نہیں،کچھ واضح انداز میں بتائیں گی؟
یسری:ہاں ضرور بتاﺅںگی،لیکن کسی کو آپ بتائیں گے نہیں تو؟
میاں جاوید :بالکل کسی سے نہیں بتاﺅں گا،آپ بتائیے۔
یسری:مبارک ہو آپ کو بیٹا ہوا ہے۔
میاں جاوید :اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے،لیکن بشری کیسی ہے؟
یسری:ہاں آپا ٹھیک ہیں،کوئی خاص پریشانی نہیں ہے،اچھا اب فون رکھتی ہوں جلدی آکر منہ میٹھا کروا دیجیے گا۔
میاں جاوید:ارے یہ بھی کوئی بات کہنے کی ہے ٹھیک ہےخدا حافظ۔
اس خوش خبری کے بعد میاںجاوید نے ایک لمبی سانس لی اور دل سے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔
بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اب کا ہے کو میاں جاوید کو نیند آئے،اس وقت سے فجر تک میاں جاوید جاگتی آنکھوں سے خواب سجانے لگے،اور خیالات کی دنیا میں غوطہ زن ہوگئے۔صبح جب ہوئی تو میاں جاوید فوراً میٹھائی کی دوکان پر پہنچے اور قیمتی میٹھائی لیے سب سے پہلے حاجی اکرام کے گھر پہنچے اور ان کا منہ میٹھ کیا ،حاجی اکرام نے میاں جاوید کو بدھائی دی اور بچے کی سلامتی کی دعاکی۔
سات دن بعد میاں جاوید نے دو موٹا وفربہ بکرے لاکر بیٹے کا عقیقہ کیا اور عندلیب نام رکھا،عندلیب کی پرورش اس کے والدین نے انتہائی لاڈ وپیار کے ساتھ کی،بشری مذہبی تعلیمات سے بہت حد تک آگاہ تھی،چونکہ وہ ایک اسلامی ادارے سے فارغ تھی،اور میاں جاوید عصری تعلیم کے نمائندہ تھے،اس لیے عندلیب کو دینی وعصری بنیادی تعلیمات گھر سے ہی مل گئیں۔عندلیب بڑا ہوا ،اعلی تعلیم کیلئے چھوٹے شہر سے بڑے شہر کا رخ کیا ،والدین بھی مجبور تھے،اوریہ مجبوری عندلیب کے روشن مستقبل کو لیکر تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں عندلیب دہلی آیا،اور ایک انجینئر نگ کالج میں داخلہ لے لیا۔عندلیب پڑھنے میں تیز تھا ،بہت کم وقت میں کلاس میں اپنی پہچان بنا لی ،عندلیب کے اخراجات میاں جاوید ہر ماہ وقت معینہ پر بھیجا کرتے تھے،اور اس امید وآس کو لیکر خوش تھے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا اور ہم انتہائی اہتمام کے ساتھ اس کی شادی کرکے گھر بسا دیںگے۔
کالج میں عندلیب یکے بعد دیگر کئی انعامات حاصل کرکے کلاس کے باہر بھی اپنی پہچان بنا لی۔عندلیب کے کلاس میں فاطمہ نام کی ایک لڑکی بھی تھی،وہ بھی کلاس کے اچھے اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی،فاطمہ ذہین کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی تھی،اس لیے عندلیب بہت جلد اس کی طرف مائل ہوگیا،اور فاطمہ بھی جلد عندلیب کے قریب ہوکر گرل فرینڈ بن گئی،اب دن بہ دن عندلیب کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا،جبکہ گھر میں عندلیب کے والد بلڈ پریشر کے شکار ہو گئے تھے اور وہ مسلسل بیمار چل رہے تھے جس کی وجہ سے آمدنی کا بیشتر حصہ میاں جاوید کے علاج و معالجہ میںصرف ہوجاتا تھا،لیکن اس کے باوجود والدین نے عندلیب کو کسی قسم کی پریشانی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
کالج میں عندلیب کا آخری سال تھا،امتحان قریب آچکا تھا،عندلیب اور فاطمہ دونوں مل جل کر امتحان کی تیاری کررہے تھے،امتحان ختم ہوا،اس کے بعد عندلیب نے ایک کمپنی میں انٹرویو دی اور بحالی ہوگئی،گھر فون کر کے ابو اور امی کو خوشخبری دی کہ میرا انجینئر نگ مکمل ہوگیا ہے اور مجھے ایک کمپنی میں نوکری بھی مل گئی ہے ۔میاں جاوید اور بشری دونوں بہت خوش تھے کہ بیٹا انجینئر بن گیا ہے۔اب اس کی شادی پورے دھوم دھام کے ساتھ کرنے کیلئے میاں جاوید اور بشری تیاری میں لگ گئے۔ادھر فاطمہ اور عندلیب کے تعلقات بھی مستحکم ہوگئے تھے،کچھ دنوں بعد فاطمہ کی بھی ایک کمپنی میں بحالی ہوگئی،پھر کیا تھا دونوں کے تعلقات اس قدر مضبوط ہوگئے کہ بہت جلد دونوں نے آپس میں شادی کا فیصلہ کرلیا،فاطمہ نے اپنے والدین کو اپنی شادی کی خبر اس لیے نہیں دی کہ انہوں نے فاطمہ کی شادی اپنے قریبی رشتہ دار میں طے کر رکھی تھی جو فاطمہ کو بالکل پسند نہ تھی،اورعندلیب نے اس لیے اپنے والدین کی رائے نہیں لی کہ کہیں وہ انکار کر دیں گے۔بہر کیف دونو ں نے آپس میں شادی کا فیصلہ کر لیا ،تاریخ متعین کی،اور شادی کارڈ بھی چھپوا لیا،عندلیب نے جہاں اپنے دوستوں و احباب کو دعوت نامہ بھیجا وہیں ایک شادی کارڈ اپنے والدین کے نام بھی پوسٹ کردیا،عندلیب نے جو شادی کارڈ اپنے ابو کے نام پوسٹ کیا اس کوپہلے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیک کیا،اور بہت بنا ،سنوار کر اس پر برائیکیٹ میں لکھاپیارے ابو وامی جان کے نام،اور پھر پوسٹل ایڈریس درج کرکے ارسال کردیا۔ 
اتوار کادن تھا ،میاں جاوید گھر پر ہی تھے،دوپہر کا کھانا کھا کرقیلولہ کر رہے تھے،دروازے پر ڈاکیہ نے دستک دی ،میاں جاوید فوراًدروازہ کی طرف گئے،اورڈاکیے سے ملاقات کی،ڈاکیہ نے کہا کہ ایک خوبصورت خط آپ کے بیٹے نے بھیجا ہے۔میاں جاوید خط لیکر واپس آنگن میں آئے اور آواز دی !بشری کہاں ہو،دیکھو عندلیب نے خط بھیجا ہے اور اوپر بڑے اچھے انداز میں لکھا ہے پیارے ابو و امی جان کے نام۔بشری دوڑی ہوئی آنگن میں آئی اور انتہائی خوشی کے ساتھ میاں جاوید کے کاند ھے پر دونوں ہاتھ رکھ کے گال ٹیک دی اور بڑے مزے لیکر کہا کہ ذرا کھولیے تو دیکھیں ہمارے شہزادے نے کیا لکھ بھیجاہے،میاں جاوید نے انتہائی پیار و خوشی کے امتزاج کے ساتھ دھیرے دھیرے لفافے کوکھولا،اس میں سے اک مضبوط اور خوبصورت ومنقش کارڈ نکلا،جس کے اوپری حصہ میں لکھا تھا” شادی کا رڈ“ اسکے نیچے بڑے اچھے انداز میں لکھا تھا !عندلیب ہمراہ فاطمہ،تاریخ شادی ۹۲ مئی بوقت شام سات بجے
بشری فوراً کاندھے سے ہاتھ ہٹاکر اپنے منہ پر حیرت سے ہاتھ رکھ لی اور میاں جاوید خط پڑھنے کے ساتھ ہی بے قابو ہوگئے اور جلد ہی زمین پر گڑ پرے،ان کا پورا بدن شل ہوگیا،بشری زور زور سے چلانے لگیحاجی صاحبحاجی صاحبسکینہ چاچیرخسار
آواز سن کر حاجی اکرام کی بیٹی رخسار دوڑتے ہوئے آئی ،اس نے دونوں کو ایسی حالت میں دیکھ فوراً اپنے ابو کو بلا لائی،،حاجی اکرام نے جلدی سے گاڑی منگوا کر میاں جاوید کو ہسپتال میں ایڈمٹ کر وا دیا پھر اطمینان سے باہر بیٹھ گئے،پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر اندر سے نکلا اور حاجی اکرام سے کہا !حاجی صاحب :معاف کیجئے مریض کو آدھہ گھنٹہ پہلے ہی دل کا دورہ پڑگیا اور ان کی روح پرواز کر گئی،اب وہ اس دنیامیں نہیں رہے۔حاجی اکرام نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا ! انا للہ و انا الیہ راجعون اور پھرمرحوم میاں جاوید کی لاش کو گھر لے آئے،اس کے بعد حاجی صاحب نے عندلیب کو خبر دی کہ وہ فوراً گھر واپس آئے ،عندلیب جب اصرار کیا کہ آخر معاملہ کیا ہے کچھ بتائیں گے؟تب حاجی اکرام نے کہا کہ تمھارے ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے ،اتنا سننا تھا کہ عندلیب نے فون کٹ کر دیا اور ندامت کے آنسو رونے لگا،تھوری دیر بعد عندلیب نے اپنے گاﺅں کے دوست شایان کو فون کیا اور کہا کہ حاجی اکرام صاحب سے یہ کہ دو کہ وہ نہیں آسکتا۔ادھرسکینہ اور رخسار دونوں نے مل کر بشری کے ہاتھ کی چوڑی توڑ ی اور عدت کے سفید لباس میں ملبوس کر دیا،دریں اثنا بشری کو مسلسل غشی طاری ہوتی رہی اور جب ہوش میں ہوتی تو چیخی چلاتی۔سوگوار ماحول میں میاں جاوید کو دفن کر دیاگیا،اور بشری عدت کے بندھن میں بندھ گئی۔اب بشری کے ذہن و دماغ پر جہاں میاں جاوید کے چلے جانے کا لامتناہی غم تھاوہیں بیٹے کے اس ناقابل یقین کرتوت کا ناسور صدمہ اور اسی دونوں ناقابل فراموش سانحے نے بشری کو اندر ہی اندر اس قدر کھوکھلا وکمزور کردیا کہ بشری اس صدمے سے ابر نہیں پائی اور حالت عدت ہی میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔

rahmatkalim91@gmail.com

الأربعاء، مارس 19، 2014

مسلم معاشرے پر ہندی سنیما کا اثر


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل نہرو یونیورسیٹی،نئی دہلی)

سائنس وٹکنالوجی کی ایجادات اور برق رفتار ترقی نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں کہ انسانی دماغ بعض دفعہ حیرن و ششدرہو جاتا ہے اورتھوری دیر کیلئے یہ یقین کھو بیٹھتا ہے کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے۔کل تک ایک انسان مشرق سے مغرب کا سفر مہینوں اور سالوں میں کیا کرتا تھا جبکہ آج ایک شخص با آسانی ایک پل میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے پہنچ جاتا ہے ۔لیکن یہ واضح رہے کہ اس محیر العقول حصولیابی کاکوئی ایک میدان نہیں ہے بلکہ بیشتر میدان اور تقریباًہر سمت میں ایجادات وترقی بام عروج پر ہے،چاہے وہ معاشیات کا شعبہ ہو یا تعلیمات کا ،سماجیات کا شعبہ ہو یا فلمیات کا،الغرض ہر فیلڈ میں سائنس و ٹکنالوجی نے اپنا جھنڈا گاڑ رکھا ہے،اور دنیا کی بے انتہا ترقی میں سائنس و ٹکنالوجی نے اہم رول نبھایا ہے جس سے انکار کی قطعاً گنجائش نہیں۔اس حوالے سے اگر ہم فلمیات کے شعبہ کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ فلمیات کی دنیا میں بھی اس سے کافی ترقی ہوئی ہے اور مزید یہ دنیاروبہ ترقی ہے۔فی الوقت اس شعبہ کی ایک الگ شناخت بن گئی ہے،کل جب ہمارے یہاں فلمیں بنائی جاتی تھیں تو اول یہ کہ اس کی اتنی پذیرائی نہیں ہوتی تھی جتنی آج کے فلموں کی ہوتی ہے چونکہ وسائل نہیں تھے اور آج جب کوئی فلم بنائی جاتی ہے تو اس کی ریلیز بڑی آسانی کے ساتھ بیک وقت ہندوستان اور کینڈا،پاکستان اور برطانیہ وغیرہ کے سنیما گھروں میں ہوتی ہے۔یہ صرف ایجادات یعنی سائنس وٹکنالوجی کا کمال ہے کہ اس نے ہمارے فلمیات کے شعبہ کو عالمگیریت بخشی۔پھر دوسری بات یہ کہ آج کے فلموں کی اسکرپٹ اور کہانیوں میں پہلے کے بالمقابل کافی کچھ نیاپن بھی آگیا ہے،یعنی ہندی سنیما کے موضوعات کا دائرہ کافی وسیع اور متنوع ہوگیا ہے،کل تک جو فلمیں بنتی تھیں ان میں عموماًہماری تہذیب وثقافت اور ہمارے رسم و رواج کو بڑے انوکھے اور اچھوتے انداز میں بار بار پیش کیا جاتا تھااور آج کی فلموں میں نہ صرف یہ کہ ہمارے کلچر کو بحسن وخوبی پیش کیا جاتا ہے بلکہ دوسرے ممالک کے ثقافت کو بھی بڑے عمدہ اندازمیںسامنے لایاجاتا ہے،لیکن یہ واضح رہے کہ موضوعا ت کے تنوع سے ہماری اپنی تہذیب کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہواہے۔چونکہ ہندی سنیما نے مغربی تہذیب کو فلما کر جب ہندوستان میں پیش کیا تو باشندگان ہند کو ایک نئی چیز سے آگاہی کا احساس ہوا ،انہیں ایسا لگا کہ یہ عجیب وغریب ،بے پرواہ اور سب سے الگ دنیا ہے ۔جس کی وجہ سے ہندوستانیوں نے اس نئی چیز کو بڑی محنت سے دیکھنے کی کوشش کیںاور ہندوستان کے فلمی جگت کو یہ احساس ہوا کہ مغربی پیداوار سے ملک عزیز میں اچھی تجارت ہو سکتی ہے۔چونکہ لوگوںکی دلچسپی کا انہیں اندازہ ہوگیا تھا۔پھر کیا تھا ہندی سنیما میں مغرب کو بڑا مقام دیا جانے لگا،اور اس طرز پر خوب فلمیں بنائی گئیں۔ایک زمانے تک ہندی ناظرین نے اسے بغرض علم و استفادہ دیکھا ،لیکن دھیرے دھیرے وہ تمام چیزیں جو پردے پر دکھائی جا رہی تھیںان کے عملی زندگی میں سرایت کرتی گئیں،پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ہندوستان میں بھی عریانیت جو مغرب کی پہچان ہے،بے حیائی جو مغربی تہذیب ہے،دین بیزاری جو مغربی سوچ ہے اور بدکاری و بدکرداری جو مغربی زندگی کالازمہ ہے بہت جلد عام ہوگئیں،اور فلموں کو اس انداز میں فلمایا جانے لگا کہ اب شاید ہی کوئی ہندی فلم ایک ساتھ گھر کے سارے افراد کابیٹھ کر دیکھ پانا ممکن ہو۔اور یہ بھی بہت مضبوط صداقت ہے کہ اس سے ہندوستانی تہذیب کو زبردست کا جھٹکا لگا ہے،مغربی کلچر نے اسٹائل اور فیشن کا لبادہ چڑھائے بڑی آسانی کے ساتھ ہندوستان میں خیمہ ڈال دیا،جس کا نتیجہ یہ دیکھنے کو ملا کہ حیا سپر دخاک ہوگئیں،عزت وعصمت کو پس پشت ڈال دی گئی،ادب و احترام کا جنازہ نکل گیا،انسانیت شرمندہ ہوگئی،اور آدمیت اپنے وجود پر ماتم کناں۔خاندان اب خاندان نہ رہا،باپ اور بیٹے کا فرق بھلا دیا گیا،اخلاقیات کا قلع قمع کردیا گیا،حسن پرستی اور شہوت پرستی عام کر دی گئی،عزت و آبرو کو پیسے کے بھینٹ چڑھا دی گئی،اور دین و مذہب کا لباس اتار کر پوری طر ح جانور بن گئے۔الغرض ہندی سنیما نے علوم ومعرفت اور ترقی کے نام پر جہاں ہماری تہذیب کو پوری طرح کھوکھلا کردیا وہیںبے حیائی،انارکی،مفاد پرستی،بے راہ روی و بد تہذیبی وغیرہ کو پوری طرح عام کردیا۔البتہ ہم قطعاً اس کے منکر نہیں کہ ہندی سنیما سے ہمیں کچھ بھی فائدہ نہیں ہوالیکن یہ فائدہ آنٹے میں نمک کے برابر ہے۔سماجی سطح پر اس حوالے سے جب ہم گفتگو کرتے ہیںکہ ہندی سنیما نے ہمارے سماج پر کیا اثر ڈالا ہے،اور جب اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کل سے آج تک ہندی سنیما نے ہمارے سماج میں کیا بدلا پیدا کیا ہے تو پھر ہم حیرت سے دانتوں تلے انگلیاںدبانے لگتے ہیں،خاص طور پر جب ہم مسلم معاشرے کا اس تناظرمیں جائزہ لیتے ہیں تو ہم صدمے سے حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔
ہم اس سے کبھی انکار نہیں کر سکتے کہ کل تک مسلم سماج اور ہندوستانی مسلمان کی اپنی ایک الگ شناخت تھی،سب سے الگ اور نمایاں تہذیب و ثقافت کے پروردہ ہم ہی تھے،ہمارے طرز زندگی کو لوگ حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے تھے،لیکن آج ہمارے ہی عادات واطوار کو دیکھ دنیا حیران و ششدرہے اور یہ دبے لفظوں میں ہم سے متعدد سوالات کر رہے ہیں کہ آخر یکایک کیا ہوگیا ہے ان مسلمانوں کو کہ ان کے یہاں اخلاقی انارکی،بے راہ روی و بد کرداری بڑی زور وشور سے پنپنے لگی ہے؟۔سچائی یہی ہے کہ مسلمانوں نے نام نہاد ترقی کے بہانے اپنی زندگی اور اپنے معاشرے کا رنگ و روپ اس اندا زمیں بدلا ہے کہ اب پہچاننا بھی مشکل ہوچکا ہے،اور یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مسلم معاشرے کے اس منفی تبدیلی وترقی میں سب سے اہم کردار اسی ہندی سنیما کا ہے۔
کل تک مسلم بستیوں سے صبح صبح بھینی بھینی تلاوت کلام پاک کی آواز پوری شیرینی کے ساتھ کانوں سے ٹکراتی تھی اور آج اسی معاشرے میں صبح وشام ہیجانی کیفیت پیدا کردینے والی فحش موسیقی بجتی رہتی ہے،کل تک مسلم خواتین اپنے گھر کے اندر بھی بے پردگی سے احتراز کیا کرتی تھیں جبکہ آج پورے اہتمام کے ساتھ نیم عریاں لباس زیب تن کیے ہوئے باہرآتی ہیں اور محرم وغیر محرم کی تمیز کیے بغیر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوجاتی ہیں۔کل تک مسلم معاشرے میں بچے سماج کے بڑے بزرگ کی بڑی قدر کیا کرتے تھے،اور ان کا بڑا ادب وحترام بھی کرتے تھے،جبکہ آج بچے جب اپنے ماں باپ کا ہی ادب واحترام نہیں کرتے تو پھر معاشرے کے بڑے بزرگ کیا معنی رکھتے ہیں،کل تک مسجد و مدرسہ ،درس گاہ ودینی مجالس وغیرہ میں مسلمانوں کاجم غفیر ہوتا تھااور لوگ بڑے پیمانے پر دینیات و اسلامیات کو فروغ دینے اور اس پر عمل پیرا ہونے وکرنے کیلئے بیدار رہتے تھے لیکن آج اسی مسجد میں سناٹا چھایا رہتا ہے،اور سنیما گھروتھیٹر میں مسلمانوںکاہجوم نظر آتا ہے، کل تک مسلم معاشرہ اور مسلم نواجوان اپنا آئیڈیل انبیاءورسل اور صحابہ کرام کو مانا کرتے تھے،اور ان کی پیروی کیا کرتے تھے،جبکہ آج بیشتر مسلم نوجوان فلمی اداکار کو اپنا آئیڈیل مان کر اس کے طرز زندگی ،عادات واطوار کی نقالی کرتے ہیں۔
اب اس سلسلے میں کوئی دو رائے قائم کی ہی نہیں جاسکتی کہ مسلم نوجوانوں کو بے راہ رو اور مسلم معاشرے کو پراگندہ کرنے میں ہندی سنیما کا غیر معمولی رول ہے ،اور مزید یہ رول مستحکم ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ،چونکہ دین و مذہب سے دور لے جانے کی اس بینر تلے بڑی مضبوط سعی ہورہی ہے اور خاص طور پر مسلم نوجوانوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے لیکن افسوس کہ مسلم نوجوانوں کو اس کاذرہ برابر بھی احساس نہیں ہے اور مسلم معاشرہ آئے دن اس زہر ہلال کو آب زمزم سمجھ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ نوش فرماتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ان کی شناخت ملیامیٹ ہو رہی ہے بلکہ اس سے دونوں جہاں میں رسوائی کا سامان بھی تیار ہو رہا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ہندی سنیما نے مسلم معاشرے کاپوری طرح سے چولا بدل دیا ہے،مسلم سماج کو بری طرح منتشر کر دیاہے،اور مسلمانوں کے اندر انارکی و اخلاقی گراوٹ اور دینی اقدار میں تنزلی اسی ہندی سنیما کی دین ہے،جس کی وجہ سے جہاں مسلمان اپنی وقعت کھوتے جا رہے ہیں،اپنا وقار اپنے ہاتھوں مجروح کررہے ہیں،اور اپنے آپ کو بربادی کے عمیق گڑھے میں ڈالے جارہے ہیں وہیںعالمی پیمانے پر مسلمان بدنامی کے شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ضرورت ہے کہ مسلمان از سر نو اپنا محاسبہ کرے اپنے عظمت رفتہ کی حصولیابی کیلئے قرآن وسنت کو سامنے رکھ کر اس کے مطابق شبانہ روز چلنے کی کوشش کرے،اسی میں ہماری بھلائی ہے اور یہی ہمارا مقصد حیات بھی۔اللہ ہم مسلمانوں کو اپنے اندر دینی بیداری اور عملی تحریک پیدا کرنے کی توفیق دے:آمین
rahmatkalim91@gmail.com

الأحد، فبراير 16، 2014

ہندوستانی مسلمان اور پارلیمانی انتخابات


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل یونیورسیٹی ،نئی دہلی(

ملک عزیز میں عام انتخابات کی تیاری پورے زورو شورکے ساتھ چل رہی ہے ،ساری پارٹیا ں حتی المقدور اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی سعی پیہم کر رہی ہیں لیکن ایک مسئلہ جو کہ آزادی کے بعد سے ا ب تک دامن گیر رہا ہے اور اس کا اب تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے کہ آخر مسلمان کس کوووٹ دیں؟اگر بی جے پی کو اپنا ووٹ دیتے ہیں تو پھر گجرات کا دلدوزسانحہ رونما ہوجاتا ہے،اگر کانگریس کے ہاتھوں میں زمام پادشاہی دیتے ہیں تو پھر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عام ہو جاتی ہے اور بٹلہ ہاوس انکانٹر جیسا جانکاہ حادثہ وقوع پذیر ہوجاتا ہے اور اگر سماجوادی پارٹی کو اپنا مسیحا بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر دھولیہ اور مظفر نگر کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ،الغرض ایسی کوئی پارٹی آزادی کے بعد سے اب تک معرکہ وجود میں نہیں آئی جوواقعتا ہندو مسلم ،سکھ عیسائی تصادم سے بالا تر ہوکر صرف ہندوستان کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرے ،بلکہ سبھوں نے اپنی سیاسی دنیا کو رنگا رنگ رکھنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کرائے اور لاچار و بے بس عوام کی زندگی لیکر اپنی دنیا چمکائے،شاید یہی وجہ کہ اب یہ بات کہی جانے لگی ہے اور بڑے اعتما سے کہی جا رہی ہے کہ سیاست کا فساد سے بڑا گہرا تعلق ہے،یعنی سیاست میں کامیابی اور ناکامی کیلئے فسادات برپا کرنا یا کرانا انتہائی اہم اور کا رآمد ہوتا ہے،اب ایسے میں یہ فیصلہ کرناتقریباً ناممکن ہے کہ فی الوقت ہندوستان میں موجود سیاسی پارٹیوں میں کون سی پارٹی سیکولر ہے اور مسلمانوں کی ہمدرد ہے پھر کھلے عام یہ بھی نہیں کہا جانا چاہیے کہ فلاں پارٹی فرقہ پرست ہے چونکہ یہاں جمہوریت ہے اور جمہوریت میں سب سے بڑی یہاں کی عدلیہ ہوتی ہے،گرچہ کچھ پارٹیاں ایک دوسرے کوفرقہ پرست کہنے اور زبانی دعوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی لیکن یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ سیدھے سادھے بھولے بھالے عوام کی نظروں میں مخالفین کو ظالم و جابر اور اپنے آپ کو عوام کا سب سے بڑا مسیحا ثابت کر سکے،لیکن اب عوام پوری طرح سے ہوشیار و بیدار ہو چکی ہے اور بہت حد تک موجودہ سیاسی پارٹیوں کے حقیقت کی تہ تک پہنچ چکی ہے،انہیں ان پارٹیوں کا اصلی چہرہ صاف دکھ گیا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ کونسی پارٹی ملک اور ملک کے عوام کے حق میں کتنا بہتر ثابت ہو سکتی ہے،جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور آنے والے انتخابات کیلئے کس طرح کی تیاری کرنی چاہیے،تو اس کیلئے بعض لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بہتری اسی میں ہے کہ ہم ایک علیحدہ سیکولر مسلم پارٹی بنالیں۔یہ ان لوگوں کی ذاتی رائے ہے جنہیں لگتا ہے کہ مسلمان بڑی آسانی کے ساتھ ہندوستان کی گدی پر بیٹھ سکتا ہے،بہر کیف یہاں آزادی رائے کی پوری اجازت ہے اور ہر کسی کو اسکاپروانہ حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے اس ملک میں پوری آزادی کے ساتھ پیش کرسکے۔لیکن میںذاتی طورپر ایسے لوگوں کی رائے سے فی الوقت اتفاق نہیں رکھتا اس لیے کہ یہ فیصلہ ابھی خطرے سے خالی نہیں معلوم پڑتا ہے،چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان میں ایک ایسی پارٹی ہے جس کو استحکام صرف ان ہندں کی وجہ سے ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں صرف ہندو راج ہی ہو اور مسلمان یہاں سے پاکستان چلے جائیں،لیکن یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہندوں کی ایک اچھی خاصی تعداد سیکولر ذہنیت کی حامل ہیں جو ایسا نہیں چاہتے اورجس کی وجہ سے مذہب کی سیاست کرنے والی پارٹی پوری طرح قدم نہیں جما پارہی ہے ایسے میں ہم نے اگر سیکولر مسلم سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا تو بہت ممکن ہے کہ ہم سے ان جماعتوں کا ساتھ چھوٹ جائے جو سیکولر ہیں اور ہندوستان کی کرسی پر سیکولر رہنما بیٹھانا پسند کرتے ہیں اور جب ایسا ہوگا تو پھر فرقہ پرست طاقتیں پوری طرح ملک پر قابض ہو جائیں گی اور پھر مسلم اقلیت کا کیا حال ہوگا وہ اللہ ہی جانے۔
علاوہ ازیں ایک سوال جو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اخر مسلمانوں میں سیاسی قیادت کا فقدان کیوں ہوا؟اس سلسلے میں اول تو ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تقسیم ہند و پاک کے بعد مسلمانوں کی وہ اکثریت پاکستان ہجرت کر گئیں جو دولت و ثروت کے بادشاہ تھے اور بیشتر کمزور مسلمان ہندوستان میں رہ گئے،لیکن اس کے باوجود بھی جو لوگ اس وقت مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کر رہے تھے وہ پوری ایمانداری کے ساتھ کر رہے تھے ،تاریخ گواہ ہے کہ مولانا آزاد کے بعد سے اب تک کوئی ایسا مسلم قائد کا ہندوستانی سیاست میں جنم نہیں ہوا جو مسلمانوں کے مسائل کو ایوان بالا میں ببانگ دہل رکھتا ہو اور پوری طرح مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑتا رہا ہو یہ واحد آزاد کی ذات تھی جنہوں نے صحیح معانی میں مسلم قیادت کا حق ادا کیا ہے،لیکن ان کے بعد آج تک کوئی ایسا مسلم چہرہ ہندوستانی سیات میں نظر نہیں اآتا جنہوں نے اس طرح کی جواں مردی کا ثبوت دیا ہو،دوسری بات یہ کہ ہم مسلمانوں نے اپنی تاریخ کو بہت حد تک فراموش کردی ہے،ہم نے اپنی پہچان کھودی ہے،اور ہم نے اپنے اسلاف کے طور سیاست کو بھلا دیاہے،ورنہ قیادت و سیادت تو ہم مسلمانوں کی خمیر کا عنصر رہا ہے ،دنیا بھر میں ہماری حکومت کا چرچہ رہا ہے لیکن جب ہم نے اپنی زندگی کا لبادہ بدلہ،مادہ پرستی،مفاد پرستی اور دنیا پرستی کو اپنے گلے لگایا تو یہ نعمت عظمی ہمارے ہاتھ سے یکسر نکلتی چلی گئی اور پھر ہم حاکم سے محکوم بن گئے۔یہاں پر یہ سوال بھی کافی اہم ہے کہ آخر مسلمانوں میں سیاسی لیڈروں کی کمی کا ذمہ دار کون ہے ؟مسلم عوام،مسلم قائدین یا سیکولر جماعتیں؟میرا ماننا یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار ہم خود مسلم عوام ہیں ۔چونکہ ہم اپنے ووٹ کی قدرو قیمت کا اندازہ نہیں کرتے۔ہم اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ،ہم اس کو چند سکوں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں،ہم لالچ میں آکر سونے کو کوئلے کے دام تول دیتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ بعض خطے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں سے بھی مسلم نمائندے کو کامیابی نہیں مل پاتی،ہم نے دیکھا ہے کہ بیشتر مسلمان لوگوں کے بہلاوے میں آجاتے ہیں،ہم نے یہ بھی دیکھا ہے مسلمان لالچ میں آ کر فریب کھا جاتے ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں اور اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھ کر ایک ساتھ مناسب نمائندہ چنے تو پھر یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مسلم لیڈران کی کمی نہ ہوکر آئے دن اضافہ ہی ہوتا جائے گا ۔اگر ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کے ہم پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ ووٹ کریں، اس کا بیک وقت دو فائدہ ہو گا ،اول تو یہ کہ آپ کے اتحاد کی ایک بڑے پیمانے پر پہچان بنے گی اور دوئم یہ کہ مسلم نمائندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آخر ہم کانگریس یا بی جے پی دونوں میں سے کسی ایک کو کھل کر کیوں نہیں سپورٹ کرتے؟کیا دونوں مسلم دشمن پارٹی ہیں؟کیا دونوں کا ایک ہی منشور ہے ؟اور کیا دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟جواباً یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ دونوں پارٹی ایک سکے کے دورخ کے جیسے گرچہ نہیں ہیں لیکن دونوں پارٹی” نہلے پے دہلا“کے مانند ہیں ،بی جے پی کھلے عام مسلمانوں کا قتل عام کراتی ہے تو کانگریس آستین میں پل کر اچانک ڈنک مار دیتی ہے یعنی دونوں پارٹیاں مسلمانوں کے حق میں بھلائی کیلئے بہت کم سوچتی ہے ،بی جے پی تو سرے سے مسلمانوں کو کامیاب دیکھنا ہی نہیں چاہتی البتہ کانگریس کچھ حد تک مسلمانوں کے حق میں مثبت اقدام کرتی ہے۔اب بات یہ سمجھنے کی رہ جاتی ہے کہ مسلمان آخر کیسے اپنے ووٹ کو موثر بنا سکتے ہیں؟چونکہ ملک عزیز کے چند ریاستوں میں مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن ووٹ ہوتا ہے ،لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا اپنا فیصلہ نہیں ہوپا تا اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے باہمی انتشار ،اور مادیت کا بخار ۔اول تو یہ کہ ہم کسی بھی مسئلے پر چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی،معاشی ہو یا تعلیمی جلد متحد نہیں ہوتے اور دوسری بات یہ کہ ہم اپنے ووٹ کی قدر نہیں کرتے ،ہم اس کی طاقت کا اندازہ نہیں کرتے،اور سیاسی کھلونوں سے باآسانی بہل جاتے ہیں جس کی وجہ سے جب نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو وہ ہمارافیصلہ نہیں ہوتا اور جو نمائندہ منتخب ہو کے آتا ہے وہ بھی ہمارا نہیں ہوتا چونکہ ہم نے آدمی دیکھ کر کے ووٹ نہیں دیا ہے۔لیکن ہمیں اپنے ووٹ کو موثر بنانا ہی ہوگا چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں دن بہ دن سر اٹھاتے ہی جا رہی ہیں اگر ہم اس کے خلاف اپنے قائد کی قیادت میں نہیں کھرے ہوں گے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہ پائیں ،یہ صرف میری رائے ہی نہیں ہے بلکہ یہ وقت کی پکار ہے جس پر مسلمانوں کا کان دھرنا اور اس کو عملی جاما پہنانا ہی ایک کار آمد راستہ معلوم پڑتا ہے،اس لیے ہمیں اپنے ووٹ کی قدر وقیمت کا اندازہ لگا نا ہوگا ،اتحاد کا دامن تھامنا ہوگا اور مادر وطن کے سیاسی میدان میں ہمیں اپنا قائد و نمائندہ زیادہ سے زیادہ بھیجنا ہوگا،چونکہ فرقہ پرست طاقتیں ہمارے خلاف ہر وقت گھات لگائے بیٹھی ہیں اور موقع ملتے ہی ہماری زندگی میں دخل اندازی شروع کرنے لگیں گی۔اور اگر ہمیںاپنے مضبوط قائد کا ساتھ نہ ملا تو وہ بہت جلد کامیاب ہو جائیں گی۔اس لیے ہمیں اپنے ووٹ کو موثر و کا رآمد بنانے کیلئے اس کی طاقت کو سمجھنا ہوگا۔اب فیصلہ یہ کرنا باقی رہ جاتا ہے کہ آخر آنے والے عام انتخابا ت میں مسلمان کس کو ووٹ دیں؟پہلے تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم جہاں جہاں سے ہو مسلم نمائندگان کو کامیاب بنانے کی جان توڑسعی کریں اس کے بعد دوسری یہ کہ کانگریس کو مرکز میں لانے کی کامیاب کوشش کریں چونکہ ہم مسلمان جانتے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت ابھی ریاستی سطح پر ہے تو اس طرح ہمیں تباہ وبرباد کر رہی کہ کچھ کہا نہیں جاسکتا اور اگر مرکز میں آگئی تو پھر نہ جانے کیا کرےگی جس کا ہم لوگ شاید تصور بھی نہیں کرپائیں البتہ کانگریس پارٹی سے کچھ حد تک امیدلگانے کے جواز کا ثبوت ملتا ہے اس لیے ہمیں فی الوقت اسی بینر تلے اپنے نمائندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کی کوشش کرنی چاہیے ،پھر ایسا ہوگا کہ ایک دن کانگریس پارٹی کی پہچان ہی مسلمان پارٹی سے ہوجائے گی۔اللہ ہم سب مسلمانوں کو ہندوستانیسیاست میں تاریخی انقلاب پیدا کرنے کی توفیق دے:آمین
rahmatkalim91@gmail.com

الأحد، ديسمبر 15، 2013

بڑے بول کا سر نیچا

رحمت کلیم امواوی (جے این یو)

رحمت کلیم امواوی 
ایک انسان جب شعور و آگہی کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے اور دوڑتی بھاگتی دنیا کو ہر لمحہ سرگرداں دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ایک طرح کی بیداری پیدا ہوتی ہے اوروہ بیداری صرف اور صرف کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے ،ہر انسان اپنے طورپر یہ کوشش کرتا ہے کہ اسکی زندگی انتہائی خوشگوار ہو ،کامیابی کے اعلی سے اعلی مقام تک پہنچ جائے،دنیامیں اس کا نام روشن ہواور ایک الگ پہچان بنے،اپنی عزت و عظمت ہر کسی کے دل میں بیٹھا دے،ہر کوئی اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھے،اور دنیااس کے مقام و مرتبہ ،شہرت و مقبولیت اور خدمات کو سراہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ازآدم تا ایں دم نہ جانے ایسے کتنی ہستیوں کا وجود مسعود ہوا ہے جنہوںنے اپنی بساط بھر جد و جہد کرکے اپنی الگ شناخت پیدا کیں ہیں ،اور لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام بنایا ہے،ہم ارسطو،سیکسپیئر،افلاطون،ملٹن،ابو ریحان،جابر ،رابندر ناتھ ٹیگور ،علامہ اقبال،نہرو،آزاداور مہاتما گاندھی جیسے عظیم المرتبت شخصیتوں کو ان کے گذر جانے کے سالوں سال بعد آج بھی محبت و عقیدت کے ساتھ صرف اس لیے یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کارناموں سے دنیا کو مبہوت کردیا ،سبھوںکی نظروں کو خیرہ کردیا ،اور ایسا کار خیر انجام دیا کہ دنیا کا ہر ہرکس و ناکس ان کا گرویدہ ہو گیا ،آج بھی انہیں وہی عزت و شہرت اوراحترام حاصل ہے جو کل تک حاصل تھیں،یعنی ان نابغہ روزگاروں کو مقبولیت دوام حاصل ہے،لیکن تاریخ کا ایک ایسا بھی صفحہ ہے جہاں ہمیں ایسے لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے کمال کی مقبولیت حاصل کیں،دولت وثروت کا پہاڑ حاصل کیا،شہرت کے آسمان تک پہنچے،دنیا انہیں ہدیہ صدتبریک پیش کرنے لگی،بلندی کا نام ان کے نام سے جوڑا جا نے لگا،طاقت و ہمت اور دانشمندی کے حوالے سے پہلے پہل انہیں حضرات کا نام لیا جانے لگا،عوام الناس کے دلوں پر رعب و دبدبہ قائم ہو گیا،ان کا اپنا سکہ چلتا تھا،ہر طرف ان کی طوطی بولتی تھی،اور ہر کوئی انہیں بڑا تسلیم کیا کرتا تھا لیکن ایک ایسا بھی وقت آیا جب ان نامور شخصیتوں کی اہمیت گرد پاکے برابر بھی نہ رہی،ایک آن میں ساری عزت خاک میں مل گئی،اور دیکھتے ہی دیکھتے عظمت کا شیش محل چکنا چور ہوگیا،اس کی مثال ہم نہ فرعون کے عبرت آموز حشر سے دینا چاہیں گے اور ناہی شداد کی فضیحت سے،ہم نہ نمرود کے واقعے کوپیش کریںگے نا ہی ابو جہل کی ہزیمت کو،چونکہ یہ سارے واقعے دقیانوس ہیں ،ہم اکیسویںصدی میںسانس لے رہے ہیں،ہم اسی صدی کے حوالے سے یہ بتانا چاہیں گے کہ کیسی کیسی نامورو شہرت یافتہ ہستیاں ذلیل و خوار ہوگئیں،اور کتنے بڑے بڑے طاقتور شیر ایک ہی جھٹکے میں ڈھیر ہوگئے،اور کتنے قد آور شخصیتوں کا سر نگوں ہو گیا ۔
اکیسویں صدی کا نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ آغازہوتا ہے،امریکہ میں بل کلنٹن صدارتی کرسی پر گذشتہ کئی سالوں سے قابض ہوتا ہے،لیکن جب 2001میں صدارتی انتخاب ہوتا ہے تو پھر بل کلنٹن کو شکست فاش ہوتی ہے،اور جارج ڈبلیو بش زمام صدارت سنبھالتا ہے اور امریکہ کا تینتالیسواں صدر بن کر 20جنوری 2001کو صدارتی آفس میں داخل ہوجاتاہے،اس کے بعد سے امریکہ میں جو ترقی ہوتی ہے وہ یقینا محیر العقول ہے،دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ دنیا کا سوپر پاور ملک بن جاتا ہے،اور اس کی طاقت کا غلبہ دنیا کی تمام ملکوں پر ہوتا ہے،دریں اثنا صدارت کی کرسی پر بیٹھ کر جارج ڈبلیو بش کبھی عراق کی سرزمین کو عراقی باشندگان کے خون سے سیراب کرتا ہے تو کبھی افغانستان کے معصوموں کا قتل کر تا ہے،الغرض طاقت کا بہت حد تک غلط استعمال بھی کرتا ہے،صدارتی دور کا پہلا ٹرم مکمل ہوتا ہے 2005میں پھر صدارتی انتخاب ہوتا ہے اور بش کے مقابلے میں سیاہ فام براک حسین اوبامہ آتا ہے مگر ناکامی ہاتھ لگتی ہے اور دوبارہ امریکہ کا صدر جارج ڈبلیو بش ہی بنتا ہے،اس کے بعد امریکہ کی معاشی اور سیاسی حالت کو مزید مستحکم کر کے امریکہ کو دنیا کا سب سے طاقت ور ملک بنا دیتا ہے،اور اس کا سہرہ اسی جارج ڈبلیو بش کے سر جاتا ہے جس کے ہاتھ عراقی بچوں کے خون سے رنگے ہو ئے ہیں ،جس کے پاں کے نیچے بغداد کے عوام کی لاشیں ہیں، اخیر کار صدارتی دور کا آخری وقت آتا ہے،دسمبر کا مہینہ چل رہا ہوتا ہے،اوراسی مہینے تک اس کی حکومت بھی ہوتی ہے،چونکہ2009میں پھر انتخاب ہوناہوتا ہے، اتفاقیہ طور پر جارج ڈبلیو بش کا آخری صدارتی خطاب عراق کی راجدھانی بغداد میں ہونا طے پاتا ہے جہاں کا ہر یتیم بچہ بش کو اپنے باپ کا قاتل اور ہر ماں اپنے نوجوان بیٹے کا جانی دشمن مانتی ہیں ،14دسمبر2008کو جارج ڈبلیو بش اپنے آخری دورہ کیلئے نکل پڑتا ہے،بغداد میں ان کے لئے ایک تہنیتی پروگرام کا انعقاد عمل میں آتا ہے،پروگرام میں بش کی شان میں قصیدے پڑھے جارہے تھے،بش کا سر اعلی و بالا کیا جا رہا تھا،لیکن جب ڈائس پر خطاب کرنے کیلئے بش کھڑا ہواتو ایک صحافی نے اس کی ساری عظمت و بڑائی کو محض دو چند سکنڈ کے اندر خاک میں ملا دیا،جارج ڈبلیو بش نے جب خطاب کے دوران یہ کہا کہ”یہ ایک حتمی راستہ تھا فتح یاب ہونے کا“تو منتظر زیدی نامی البغدادیہ ٹی وی رپورٹر اپنے پاں کے دونوں جوتوں سے بش پر حملہ بول دیتا ہے،اوریہ کہتا ہے کہ یہ تمھارا اختتامیہ ہے۔یہ صرف چند سکنڈ کے اندر کی بات تھی جب زیدی نے جوتے سے حملہ کیا ،لیکن اسی دو سکنڈ نے بش کی گذشتہ نو سالوں میں حاصل کی گئی ساری عزت و شہرت اورعظمت و بڑکپن کو خاک میں ملا دیا اور پوری دنیا کے سامنے بش کا سر شرم سے ہمیشہ کیلئے جھک گیا۔
تاریخ کا ایک اور صفحہ پلٹیے ،اور دیکھیے کہ معمر قذافی کی کیا آن با ن و شان تھی،کیا الگ مست دنیا تھی،اورکیا طاقت و ہمت ،مگر حشر آخر کار کیا ہوا؟تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس سے بخوبی واقف ہیں کہ 1964ءسے 2011ءتک مسلسل چالیس سال تک معمر قذافی نے لیبیا کے عوام پر حکومت کی،انہوں نے لیبیا کی عوامی دولت و ثروت کو ذاتی مال سمجھ کر اس قدر عوام کا استحصال کیا کہ لیبیائی باشندے دل کے آنسو رو پڑے،درندگی بنام عیاشی اس طرح ہو رہی تھی کہ کہا جاتا ہے کہ قذافی کے کمرے سے رات بھر میں کئی کئی لڑکیاں اسٹریچر پر نکالی جاتی تھیں،لیبیا کا سونا(GOLD)باپ بیٹا مل کر لٹا رہاتھا،اور عوام بے چاری سوکھی روٹی تور رہی تھی،مذہبی مذاق اس کا عام شیوہ تھا،البتہ ایک خاصیت ضرور تھی کہ یہ کبھی امریکہ کی منہ بھرائی نہیں کرتا تھا،اقوام متحدہ میں بھی اپنی زبان بولا کرتا تھا،کسی سے خوف نہیں کھاتا تھا،امریکہ کی جی حضوری کبھی دیکھنے کو نہیں ملی،اور یہی ایک چیز قذافی کوبڑا بنا دیتی ہے،دولت وثروت کی کمی کسی بھی ناحیے سے نہیں تھی،عالمی پیمانے پر ایک الگ پہچان بھی تھی،لیبیا کے باہر بھی عوام اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے،ایک بڑا و کامیاب رہنما تسلیم کرتے تھے،لیکن ایک ایسا وقت بھی آیا جب پورے مشرق وسطی میں آگ لگی تھی،حکومت کا تختہ پلٹا جا رہا تھا،عوام پوری طرح اپنی طاقت کا استعمال کرنے لگی تھی،درد و کرب اور مسائل سے بے چین عوام سڑک پر نکل کر حاکم وقت کے خون کی پیاسی ہوگئی تھی،دیکھتے ہی دیکھتے اردن ،مصر اور بحرین کاکام تمام ہو گیا ،اور وہان کی عوام کامیاب ہوگئی،اور پھر یہ آگ جب لیبیا تک پہنچی تو پھر قذافی کے گھنگھڑیلے بال میں بھی لگ گئی،عوام کے ہاتھ جب قذافی کے گریبان تک پہنچے تو پھر بھاگنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا،قذافی فوراً اپنے آبائی وطن سرت میں جاکر زمین کے اندر ایک گوفہ میں چھپ گیا،لیکن درد کی ماری لیبیائی عوام کو چین نہیں آرہا تھا،وہ چاہتی تھی کہ قذافی ان کے ہاتھ لگ جائے،بالآخر ایسا ہی ہوا،نیشنل ٹرانجیشنل کونسل فورسیز (NTCF)نے قذافی کو زمین کے نیچے سے بھی ڈھونڈ نکالا ،اور سڑک پر گھسیٹتے ہوئے سرے عام گولی مار دی،اور قذافی امان امان چلاتے ہوئے 20اکتوبر2011کو ہمیشہ کیلئے امان پا گیا۔
بیرون ہند کے بعد جب ہم جب ہم اپنے وطن کی طرف رخ کرتے ہیں اور اکیسویں صدی کا جائزہ جب ہم ہندوستانی پس منظر میں لیتے ہیں تو ہمارے سامنے دو اہم نام جلوہ گر ہو جاتا ہے،جنہیں کل تک ہندوستانی عوام محبتوں اور عقیدتوں کا گل دستہ پیش کرتی تھیں لیکن آج ان کے نام پر طعن وتشنیع کرتی ہیں ۔باپو آشا رام کو شاید ہی کوئی نہیں جانتا ہو ،خصوصاً غیر مسلم طبقہ میں ان کی مقبولیت اور ان کا جو مقام و مرتبہ کل تک تھا وہ یقینا قابل رشک ہے،انہیں جو عزت و شہرت اور جتنی عقید ت ملی وہ یقینا لائق ستائش ہے،آشام رام کامقام اتنا بلند ہوگیا تھا کہ ایک خاص طبقہ انہیں اپنا معبود ماننے لگا تھا،مرادیں پوری کرنے کیلئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگے تھے،رکشہ چالک اپنی سلامتی کیلئے انکا نام لیکر گاڑی چلانا شروع کرتا تھا ،دوکاندار منافے کیلئے انہیں کا نام لیکر دوکان کھولا کرتے تھے،الغرض ان کو خدا کا درجہ حاصل تھا ،لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے میلوں کی مسافت طے کرتے تھے،لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ ولی کے لباس میں شیطان ہے،بابا کے نام پر عزت و عصمت کا لٹیرا ہے ،اور مذہبی پیشوا کی شکل میں ایک زانی ہے،لیکن اس سچائی سے کس کو انکار ہے کہ حقیقت ایک نہ ایک دن کھل کر سامنے آہی جاتی ہے،اور جب آشا رام کی حقیقی شکل دنیاکے سامنے کھل کر آئی تو پوری دنیا ناطقہ سر بہ گریباں ہوگئی۔کہا جاتا ہے کہ آشارام نے اپنے مادر وطن گجرات میں1970ءمیں پہلا آشرم بنوایا ،اور اب تک پورے ہندوستان میں چار سو سے زائد چھوٹے بڑے آشرم بنائے جا چکے ہیں،البتہ ان آشرموں کے اندر کیا ہو رہا تھا یہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے،اور فی الوقت آشارام کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے او رکون سا دفعہ لگایا گیا ہے یہ بھی سب کے سامنے واضح ہو چکا ہے،مگر ان تمام معاملات میں گذشتہ چھ اکتوبر کو جو ایف آئی آر درج کرائی گئی وہ کچھ زیادہ ہی خطرناک ہے،اس میں لکھا گیا ہے کہ آشارام نے اپنی بڑی بہن کا ریپ احمد آباد آشرم میں کیا ،اور 2002سے2004 تک سورت میں آشارام کے بیٹے سائی رام نے آشارام کی چھوٹی بہن کی مسلسل عصمت دری کی(نعوذباللہ)
کہنے کی بات یہ کہ آشارام جو کل تک خدا بنا بیٹھاتھا،بلندیاں ان کے قدموں میں تھیں،ان کا سر مذہبی و روحانی پیشوا کی فہرست میں سب سے اونچا تھا لیکن کیا کسی کو یہ بھی پتا تھا کہ ایک دن آشارام کو ذلت کے اس مقام تک آنا پر جائے گاکہ لوگ ان کے نام پر تھوکنے لگیں گے،اور یہاں تک جگ ہنسائی و رسوائی ہو گی جہاں سے ایک انسان خودکشی کرنے میں اپنے لیے عافیت سمجھتا ہو۔علاوہ ازیں ہندوستان کی سرزمین پر ایک اور نام کا تہلکہ مچا ہوا ہے،جن کا مقام و مرتبہ کل تک عوج ثریا پرتھا لیکن آج خاک میں ہے،جن کی عزت ہر چھوٹا بڑا کیا کرتا تھا لیکن اب ہر کوئی الٹے زبان سے اس کا نام لیتا ہے، تہلکہ نیوز پیپر کے فانڈر و ایڈیٹر تیج پال سنگھ آج انتہائی گھنونی حرکت کے پاداش میں سلاخ کے پیچھے ہے کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی تیج پال سنگھ کیلئے ایسا تصور تھا ؟تیز پال سنگھ کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور کیا جرم ہے سبھوں کے سامنے پوری طرح واضح ہو چکا ہے۔لیکن دل کے نہاں خانے میں ایک سوال یہ بار بار پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ عرش پر کمند ڈال چکے اور دلوں کو جیت چکے بڑے بڑے لوگوں کا ایسا حشر کیوں ہوتا ہے؟
خلاصہ کلام یہ کہ انسان جب تک انسانیت کا علمبردار ہوتا ہے،اور انسانیت کا پوری طرح لحاظ و خیال رکھتا ہے،تب تک وہ انتہائی با وقار ہوتا ہے،اور دنیا اسے پیار و محبت اور عزت و شہرت کے دولت سے بھی خوب نوازتی ہے،لیکن جب وہی انسان انسانیت سے ذرا برابر بھی ہٹتا ہے تو پھر وہی عوام جو کل تک آپ کو محترم سمجھتی تھی آج حقیر و بدترین انسان سمجھ کر اس قدر ذلیل کرتی ہے کہ انسان خود اپنی نظر میں بھی گر جاتا ہے،جارج ڈبلیو بش سے لیکر ترون تیج پال سنگھ تک سبھوں کا حشر ایسا اس لیے ہوا اور ہورہا ہے کہ انہوں نے انسانیت اور انسانی اصولوں سے بغاوت کیں ہیں ، حیوانیت کا روپ دھاڑ لیا تھا اور یہ تو بہت بڑی سچائی ہے کہ حیوانیت کو بقاءنہیں ہے۔
اللہ ہم سب کو ذلت آمیز حرکات و سکنات سے محفوظ رکھے ۔آمین