‏إظهار الرسائل ذات التسميات تعزیتی نظم. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات تعزیتی نظم. إظهار كافة الرسائل

الثلاثاء، مارس 10، 2020

بانئ جامعہ علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کی یاد میں


 شرف الدین ساحل

قوم کے بے لوث خادم حضرتِ لقمان تھے
عالموں کی صف میں رکھتے اک بڑی پہچان تھے
دین کی خدمت سدا بے لوث ہو کر خوب کی
کتنے اچھے اور پیارے منکسر انسان تھے
ڈھیر ساری خوبیوں سے متصف تھی زندگی
کبر سے، فخر و ریا سے، ایک دم انجان تھے
فقہ و سنت کا ہو میداں، سیرت و تفسیر ہو
سچ کہوں، ہر علم میں رکھتے نمایاں شان تھے
دین کا قلعہ ہے ٹھہرا، جامعہ بن تیمیہ
آپ تھے روحِ رواں اور آپ ہی تو جان تھے
غم میں ڈوبے کہہ رہے ابنائے تیمی سب یہی
ہو گئے رخصت وہی جو، اپنی شان و بان تھے
جو بھی تیرے در پہ آیا لوٹا خوشیوں سے بھرا
خوب کرتے تھے سخاوت اچھے جو انسان تھے
زندگی ہی وقف کر دی، قوم کی خدمات میں
ہر مجالِ زندگی میں وہ تو عالیشان تھے
سیکڑوں لکھی کتابیں آپ کی ہر فن میں ہیں
سب کے سب یہ کہہ رہے وہ عبقری انسان تھے
ہے دعا ساحل کی رب سے بخش دے مولی انہیں
اصلِ دیں کی، کی جو خدمت وہ میاں لقمان تھے
شرف الدین ساحل
مدھوبنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہار

آپ جیسا کہاں سے ہم لائیں


اصغر صبا تیمی

 آپ جیسا کہاں سے ہم لائیں  
یہ بتائیں کہ ہم کہاں جائیں
کن کے چہرے کو دیکھ مسکائیں

کوئ چہرہ نظر نہیں آتا
آپ جیسا کہاں سے ہم لائیں

کوئ پل ہی نہیں گزرتا ہے
آپ جس پل میں یاد نہ آئیں

شام سے پہلے کیوں غروب ہوئے
روشنی اب کہاں سے ہم لائیں

ہاں یہ ممکن نہیں مگر پھر بھی
دل بہ ضد ہے کہ آپ آ جائیں

جانے والے کبھی نہیں آتے
اے صبا آپ خود کو سمجھائیں

شریک غم
اصغر صبا تیمی

اظہار ِغم بر وفات بانی جامعہ


 محمد عالمگیر تابش تیمی
 مدیر التعلیم جامعہ الہدی الاسلامیہ کولکاتا

بے کسوں  کا  درد مند و مہرباں  وہ  اٹھ گیا
گلشنِ  علم  وعمل  کا  نگہباں  وہ   اٹھ  گیا
نقش ہیں یادیں سنہرے پل کی جس کی ہر جگہ
 آہ ! باغِ جامعہ  کا  باغباں  وہ   اٹھ  گیا
خوبصورت، خوب سیرت صاحبِ روشن ضمير
ماہر  فقہ و ادب،   شیریں  زباں   وہ  اٹھ  گیا
وہ محرر،  وہ  مقرر،  وہ  محدث  وہ  ادیب
ایسی ایسی جس میں تھیں سوخوبیاں وہ اٹھ گیا
مظہرِ  صدق و صفا،    وہ  پیکرِ جود  وسخا
سلف و صالح کا تھا فکری ترجماں وہ اٹھ گیا
قید تھے برسوں سے جس کے بال و پر زنجیر میں
وہ   پرندہ  بھی قفس  سے  آسماں  کو  اٹھ  گیا
نام  تھا  لقمان ،  تنہا  سو نفس  پرتھا گراں
سلفیت  کا  تھا  حقیقی  پاسباں  وہ  اٹھ  گیا
گلستاں کے ذرے ذرے کی زباں پر ہے دعا
رحمتیں نازل ہوں اس پر،  جو وہاں کو اٹھ گیا
یا الہی! بخش  دے  تو لغزشیں  ان کی تمام
دے جگہ فردوس میں تو، میہماں وہ اٹھ گیا
آسمانِ  فکر و دانش  پر چمکتا  تھا کبھی
 آفتاب  و ماہ وانجم، کہکشاں وہ اٹھ گیا
حسرتیں دل میں تھیں پنہاں ساتھ جینے کی مگر
سب کو  دیکر  ہجرکا،  درد  نہاں  وہ  اٹھ گیا
اشکہائے غم  بہاتے رہ گیا تابش  یونہی
حاملِ قرآن و سنت ،حکمراں وہ اٹھ گیا


الأحد، مارس 08، 2020

عالم لگے ویرانہ : محمد ابراہیم سجاد تیمی


سانحہء ارتحال ڈاکٹر محمد لقمان سلفیؒ بانی جامعہ امام ابن تیمیہؒ چندن بارہ چمپارن


بساط فکر۔سالک بستوی ایم اے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہہ رہی  ہے  زمیں  کہہ رہا ہے گگن
جاوداں  ہے  فقط  خالق ذوالمنن

حسن  تقویٰ  پہ  جو  جان  دیتے رہے
جانب  خلد  وہ  ہوگئے   گا  مز ن

دیکھو لقمان  بندہ  تھا   اللہ  کا
نور  سجدہ  جبیں پہ تھا جلوہ فگن

مردہ دل عاشق  زندگی  ہو گئے
لطف  افروز تھے ان کے امرت بچن

ان کی تبلیغ  شمشیر  اسلام   تھی
کاٹتی  تھی  رگ  فتنہء  اہرمن

وہ محقق' محدث دل  آویز  تھے
چشم  دانش  میں  تھے نازش علم وفن

وہ کئ خوبیوں سے تھے آراستہ
ان کی  ذات مکرم  تھی اک انجمن

بجھ گئ  مشعلِ  روح ان کی مگر
اب  بھی روشن ہے "تفسیر"کا بانکپن

وہ  بہاروں کی سالک نوازی نہیں 
دور یوں  ہوگئے غمگسار  چمن

تم مر ہی نہیں سکتے (والد روحانی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ)


          ساگر تیمی 

جسے دیکھو تمہاری موت کی باتیں بتاتا ہے 
جسے دیکھو تمہارے کام کی تعریف کرتا ہے 
جسے دیکھو دعاے خیر کرتا ہے 
تمہارے علم و حکمت کی 
تمہارے زہدو تقوی کی 
تمہارے فکر و خدمت کی 
تمہارے شہر دانش کی 
حسیں یادیں بتاتاہے 
تو تم کیا واقعی میں مر گئے ہو 
جا چکے ہو گھر 
یہ دیکھو میری ہی آنکھیں 
یہ دیکھو میرے ہی دل 
کس طرح آنسو بہاتی ہیں 
یہ کیسے تڑپے جاتا ہے 
تو کیا میں خود کو ہی جھٹلانے کی
کوشش میں بیٹھاہوں 
یہ دیکھو ہاتھ کہتا ہے 
کہ اس نے مٹی بھی دی ہے 
دعا ہے کہ تمہیں اللہ 
نوازے اس طرح جنت  
نبی اکرم کی صحبت دے 
کہ تو سنت کا شیدا تھا 
مگر یہ دل اسے اک اوربھی احساس لاحق ہے 
یہ کہتا ہے کہ تم مرہی  نہيں سکتے 
مروگے تم بھلا کیسے 
یہ دیکھو جامعہ ہے نا 
یہ دیکھو کلیہ ہے نا 
یہ دیکھو ڈی ایم یل ہے نا 
یہ دیکھو تم نے جو لکھی ہیں 
اچھی سب کتابیں 
اور جو پیدا کیے 
علماء ، قرآن کے حافظ 
بنائے ہیں جو تیمیات کا لشکر 
کہ ظلمت کو ختم کردیں 
یہ سب باقی اگر ہیں 
اور سب زندہ ہیں تو پھر تم 
بھلا مر کیسے سکتے ہو ؟