‏إظهار الرسائل ذات التسميات تعزیتی پیغامات. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات تعزیتی پیغامات. إظهار كافة الرسائل

الثلاثاء، مارس 10، 2020

ڈاکٹر لقمان سلفی ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے، ان کا انتقال ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خسارہ ہے : انیس الرحمن قاسمی

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم اورمتبحرعالم دین شیخ عبداللہ بن بازکے معاون خاص مولاناڈاکٹرمحمدلقمان سلفی کاانتقال ملت اسلامیہ کے لئے عظیم نقصان ہے۔وہ عظیم عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ صفات کے حامل ہمہ جہت خوبیوں کے مالک عظیم انسان تھے۔وہ بیک وقت حدیث وتفسیرپرگہری نگاہ رکھتے تھے۔انہوں نے مختلف فنون میں بہت ساری کتابیں تصنیف کیں جواہل علم کے لئے مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔مولانالقمان سلفی کی بہت ساری خوبیوں میں ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ عالم عرب میں عزت وشہرت حاصل کرنے کے باوجوہمیشہ اپنی مٹی سے جڑے رہے ،اپنے وطن سے ہمیشہ تعلق بنائے رکھااوراپنے وطن کے لوگوں کوکبھی فراموش نہیں کیا۔انہوں نے اپنے وطن میں جامعہ ابن تیمیہ قائم کرکے صرف مشرقی چمپارن کے لوگوں کوہی نہیں بلکہ اہل بہارکوایک عظیم تحفہ دیا۔ان کے بہت سارے علمی کارناموں میں سے جامعہ ابن تیمیہ ان کاعظیم کارنامہ ہے جورہتی دنیاتک ان کے نام کوباقی رکھے گا۔آج کم وقت میں جامعہ ابن تیمیہ نے ملک وبیرون ملک میں جونمایاں مقام حاصل کیاہے وہ ڈاکٹرمولانامحمدلقمان سلفی کے اخلاص کی واضح علامت ہے۔اللہ ان کے علمی ،دینی وملی کارناموں کوقبول فرمائے،انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں جگہ عطافرمائے اورپسماندگان کوصبرجمیل عطافرمائے۔آمین

عالم اسلام کی ایک اھم و معروف شخصیت فضیلة الدكتور محمد لقمان السلفي رحمہ اللہ دار فانی سے کوچ کر گئے


سعود احمد مقصود احمد المدنی

بڑے ہی رنج و غم کے ساتھ سوشل میڈیا پر بار بار یہ خبر پڑھ رھا ھوں کہ عالم اسلام کی ایک اھم و معروف شخصیت فضیلة الدكتور محمد لقمان السلفي رحمہ اللہ دار فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے رفیق اعلی سے جا ملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

اللہ شیخ محترم کی مغفرت فرمائے، قبر کو کشادہ کردے اور جنت میں اعلی مقام دے۔ آپ کے علمی ، رفاھی و سماجی جہود کو میزان حسنات میں بطور صدقہ جاریہ لکھ دے۔ 
یقینا آپ کی وفات پوری امت مسلمہ کے لئے اور بالخصوص جماعت اھل حدیث کے لئے ایک عظیم خسارہ ھے، آپ کے علمی ورثہ میں جامعہ ابن تیمیہ ایک عظیم شاھکار ھے ۔اللہ ادارہ کو بہترین وارث اور جاں نشین عطا کرے۔
ھم اللہ کے فیصلہ پر راضی ہیں ، موت ایک اٹل حقیقت ھے ، اور ھر ایک کو موت کا کڑوا گھونٹ پینا ھے۔ 

غمزدہ و دعا گو!

سعود احمد مقصود احمد المدنی
اسلامک دعوہ سینٹر
خمیس مشیط سعودی عرب

ہائے پھر علم و ادب کا اک ستارہ چھپ گیا

  سلیم ساجد مدنی
بڑے رنج و الم کے ساتھ اطلاع دی جارہی ہے کہ آج مورخہ 10رجب 1441ھ مطابق 5مارچ 2020بروز جمعرات کچھ دیر قبل جامعہ امام ابن تیمیہ چندن بارہ بہار کے بانی ,استاذ الاساتذہ حضرت علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ اس دار فانی کو چھوڑ کر اللہ کو پیارے ہوگئے '  علم وفن کی دنیا کا ایک روشن ستارہ اپنی تابانیاں دکھاکر اب سدا کے لئے غروب ہوگیا'  عالم اسلام کی ایک عبقری' مایہ ناز اور ستودہ صفات کی حامل شخصیت علمی دنیا کو سوگوارچھوڑ گئیـ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
 ڈاکٹر رحمہ اللہ بے حد خلیق '  ملنسار'  معاملہ فہم اور مردم شناس تھے ' آپ درس وتدریس'  تصنیف وتألیف'  دعوت وتبلیغ'  بحث وتحقیق'  نقدوتبصرہ اور مختلف علوم وفنون کا بحرذخار تھے۔
میں عالم اسلام اور جماعت اہل حدیث کو پیش آنے والی اس مصیبت میں شریک غم ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ ڈاکٹر رحمہ اللہ کی دینی خدمات کو قبول فرمائے '  جنت الفردوس میں اعلی مقام پر فائز فر مائے' پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے  اور جماعت اہل حدیث کو ان کا نعم البدل اور خلف الرشید عطا فرمائے ـ آمین ۔


شریک غم :   سلیم ساجد مدنی ، مکتب دعوت و ارشاد غرب الدیرہ ،  ریاض ، سعودی عرب         

ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ


محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

علمی دنیا میں یہ خبر یقیناً حزن و ملال کا باعث سمجھی جائے گی کہ نامور عالم، مفسر، محدث اور دینی کتابوں کے ناشر جناب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کے شاگرد رشید، جامعہ امام ابن تیمیہ چمپارن (بہار) کے بانی و ڈائرکٹر، قرآن کریم کے مفسر اور بلوغ المرام کے شارح تھے۔ ان کا اصل تعلق تو بھارتی ریاست بہار سے تھا مگر انھیں سعودی نیشنلٹی بھی حاصل تھی۔ البلد الامین مکہ مکرمہ میں ان کی رہائش تھی۔
کئی برس قبل جب وہ پاکستان تشریف لائے تو یہ بات میرے اعزاز میں سے ہے کہ وہ مجھ سے ملنے جامعہ ستاریہ کے ایک استاذ شیخ عبد الحی کے ہمراہ مکتبہ دار الاحسن تشریف لائے تھے۔ تقریباً دو دن ان سے کافی طویل ملاقاتیں رہیں۔ اسی دوران میں نے ان کی ملاقات ان کی خواہش پر مشہور محقق اور ماہر ابو الکلامیات ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری سے بھی کروائی تھی۔

ان کی وفات کی خبر سن کر ذہن میں ان سے ملاقات کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ دعا ہے کہ اللہ مرحوم کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ان کے حسنات کو قبول فرماتے ہوئے ان کے درجات بلند کرے۔

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

تعزیتی پیغامات


رسائل وجرائد میں شائع ہونے والے تعزیتی پیغامامات

























الأحد، مارس 08، 2020

تعزیتی کلمات : جمیعت ابناء سلفیہ دربھنگہ

آج بروز اتوار مورخہ 8 مارچ 2020 کو دفتر جمیعت ابناء سلفیہ دربھنگہ میں فضیلۃ الشیخ محمد عرفان السلفی حفظہ اللہ کی زیر صدارت ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں  اشرف علی سلفی،  عرفان سلفی، توصیف احمد مدنی خورشید عالم سلفی، وغیرہ نے شرکت کی اور جمیعت ابناء سلفیہ کے سابق صد اور اسلامی دنیا کی معروف شخصیت دارلعلوم احمدیہ سلفیہ کے عظیم سپوت اور جامعہ امام ابن تیمیہ کے بانی ومؤسس جناب ڈاکٹر لقمان السلفی رحمہ اللہ کے سانحئہ ارتحال  پر غم کا اظہار کیا گیا اور اللہ سبحانہ وتعالی سے یہ دعا کی گئی کہ اللہ تعالی علی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی  لغزشوں کو درگزر فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے. نشست میں شرکاء نے جمیعت آبنائے سلفیہ کے سلسلے میں ان کی خدمات کو یاد کیا اور اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ جمیعت ان کے عہد میں فعال رہی انکے عہد میں انجام پانے والے اہم کاموں میں مجلہ خاص " ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی حیات وخدمات" کی اشاعت بھی تھی جس کے ذریعہ ڈاکٹر سید عبد الحفیظ رحمہ اللہ کی زندگی کے مختلف گوشوں اور کارناموں  سے لوگوں نے واقفیت حاصل کی ،
نشست میں شرکاء نے اللہ تعالی سے یہ دعا کی کہ اللہ تعالی ان کے صاحبزادےجناب ڈاکٹر عبداللہ محمد لقمان حفظہ اللہ کو اپنے والد کی چھوڑے ہوئے عظیم یادگار جامعہ امام ابن تیمیہ کو بحسن و خوبی چلانے کی توفیق عطا فرمائے، اور دارالعلوم سے ان کے والد محترم کی جو وا بستگی رہی تھی اس کو وہ قائم رکھیں. وماذالک علی اللہ بعزیز

تاثرات: پروفیسر کوثر مظہری


           
حضرت مولانا محمد لقمان سلفی صاحب جیسی علمی اور تہذیبی اقدار کے پاسدار شخصیت کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا اس ادارے کا ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کا ناقابل تلافی خسارہ ہے، انھوں نے جس خلوص، جانکاہی، لگن اور پر جوش انداز میں بغیر کسی تکان اور رکاوٹ کے جامعہ ابن تیمیہ کی تعمیر و ترقی میں خود کو لگایا اور بے شمار نسلوں کی ذہنی آبیاری کی... یہ ایک ایسا عمل ہے جو لائقِ تحسین بھی ہے اور لائقِ تقلید بھی... میری دعا ہے کہ ان کا لگایا ہوا علم کا یہ پودا شجر سایہ دار و ثمردار ہو نیز یہ کہ اللہ اسے نظر بد سے بھی محفوظ رکھے اور اس ادارے سے وابستہ تمام متعلقین کو تحمل اور حوصلہ ملے کہ وہ حضرت مولانا مرحوم کی تعلیمی و تہذیبی وراثت کے امین بن سکیں.. آمین ثم آمین!

پروفیسر کوثر مظہری، جامعہ ملیہ اسلامیہ
اگر مناسب سمجھیں تو اسے اخبار میں دے دیں