الأحد، فبراير 16، 2014

ہندوستانی مسلمان اور پارلیمانی انتخابات


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل یونیورسیٹی ،نئی دہلی(

ملک عزیز میں عام انتخابات کی تیاری پورے زورو شورکے ساتھ چل رہی ہے ،ساری پارٹیا ں حتی المقدور اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی سعی پیہم کر رہی ہیں لیکن ایک مسئلہ جو کہ آزادی کے بعد سے ا ب تک دامن گیر رہا ہے اور اس کا اب تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے کہ آخر مسلمان کس کوووٹ دیں؟اگر بی جے پی کو اپنا ووٹ دیتے ہیں تو پھر گجرات کا دلدوزسانحہ رونما ہوجاتا ہے،اگر کانگریس کے ہاتھوں میں زمام پادشاہی دیتے ہیں تو پھر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عام ہو جاتی ہے اور بٹلہ ہاوس انکانٹر جیسا جانکاہ حادثہ وقوع پذیر ہوجاتا ہے اور اگر سماجوادی پارٹی کو اپنا مسیحا بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر دھولیہ اور مظفر نگر کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ،الغرض ایسی کوئی پارٹی آزادی کے بعد سے اب تک معرکہ وجود میں نہیں آئی جوواقعتا ہندو مسلم ،سکھ عیسائی تصادم سے بالا تر ہوکر صرف ہندوستان کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرے ،بلکہ سبھوں نے اپنی سیاسی دنیا کو رنگا رنگ رکھنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کرائے اور لاچار و بے بس عوام کی زندگی لیکر اپنی دنیا چمکائے،شاید یہی وجہ کہ اب یہ بات کہی جانے لگی ہے اور بڑے اعتما سے کہی جا رہی ہے کہ سیاست کا فساد سے بڑا گہرا تعلق ہے،یعنی سیاست میں کامیابی اور ناکامی کیلئے فسادات برپا کرنا یا کرانا انتہائی اہم اور کا رآمد ہوتا ہے،اب ایسے میں یہ فیصلہ کرناتقریباً ناممکن ہے کہ فی الوقت ہندوستان میں موجود سیاسی پارٹیوں میں کون سی پارٹی سیکولر ہے اور مسلمانوں کی ہمدرد ہے پھر کھلے عام یہ بھی نہیں کہا جانا چاہیے کہ فلاں پارٹی فرقہ پرست ہے چونکہ یہاں جمہوریت ہے اور جمہوریت میں سب سے بڑی یہاں کی عدلیہ ہوتی ہے،گرچہ کچھ پارٹیاں ایک دوسرے کوفرقہ پرست کہنے اور زبانی دعوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی لیکن یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ سیدھے سادھے بھولے بھالے عوام کی نظروں میں مخالفین کو ظالم و جابر اور اپنے آپ کو عوام کا سب سے بڑا مسیحا ثابت کر سکے،لیکن اب عوام پوری طرح سے ہوشیار و بیدار ہو چکی ہے اور بہت حد تک موجودہ سیاسی پارٹیوں کے حقیقت کی تہ تک پہنچ چکی ہے،انہیں ان پارٹیوں کا اصلی چہرہ صاف دکھ گیا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ کونسی پارٹی ملک اور ملک کے عوام کے حق میں کتنا بہتر ثابت ہو سکتی ہے،جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور آنے والے انتخابات کیلئے کس طرح کی تیاری کرنی چاہیے،تو اس کیلئے بعض لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بہتری اسی میں ہے کہ ہم ایک علیحدہ سیکولر مسلم پارٹی بنالیں۔یہ ان لوگوں کی ذاتی رائے ہے جنہیں لگتا ہے کہ مسلمان بڑی آسانی کے ساتھ ہندوستان کی گدی پر بیٹھ سکتا ہے،بہر کیف یہاں آزادی رائے کی پوری اجازت ہے اور ہر کسی کو اسکاپروانہ حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے اس ملک میں پوری آزادی کے ساتھ پیش کرسکے۔لیکن میںذاتی طورپر ایسے لوگوں کی رائے سے فی الوقت اتفاق نہیں رکھتا اس لیے کہ یہ فیصلہ ابھی خطرے سے خالی نہیں معلوم پڑتا ہے،چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان میں ایک ایسی پارٹی ہے جس کو استحکام صرف ان ہندں کی وجہ سے ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں صرف ہندو راج ہی ہو اور مسلمان یہاں سے پاکستان چلے جائیں،لیکن یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہندوں کی ایک اچھی خاصی تعداد سیکولر ذہنیت کی حامل ہیں جو ایسا نہیں چاہتے اورجس کی وجہ سے مذہب کی سیاست کرنے والی پارٹی پوری طرح قدم نہیں جما پارہی ہے ایسے میں ہم نے اگر سیکولر مسلم سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا تو بہت ممکن ہے کہ ہم سے ان جماعتوں کا ساتھ چھوٹ جائے جو سیکولر ہیں اور ہندوستان کی کرسی پر سیکولر رہنما بیٹھانا پسند کرتے ہیں اور جب ایسا ہوگا تو پھر فرقہ پرست طاقتیں پوری طرح ملک پر قابض ہو جائیں گی اور پھر مسلم اقلیت کا کیا حال ہوگا وہ اللہ ہی جانے۔
علاوہ ازیں ایک سوال جو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اخر مسلمانوں میں سیاسی قیادت کا فقدان کیوں ہوا؟اس سلسلے میں اول تو ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تقسیم ہند و پاک کے بعد مسلمانوں کی وہ اکثریت پاکستان ہجرت کر گئیں جو دولت و ثروت کے بادشاہ تھے اور بیشتر کمزور مسلمان ہندوستان میں رہ گئے،لیکن اس کے باوجود بھی جو لوگ اس وقت مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کر رہے تھے وہ پوری ایمانداری کے ساتھ کر رہے تھے ،تاریخ گواہ ہے کہ مولانا آزاد کے بعد سے اب تک کوئی ایسا مسلم قائد کا ہندوستانی سیاست میں جنم نہیں ہوا جو مسلمانوں کے مسائل کو ایوان بالا میں ببانگ دہل رکھتا ہو اور پوری طرح مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑتا رہا ہو یہ واحد آزاد کی ذات تھی جنہوں نے صحیح معانی میں مسلم قیادت کا حق ادا کیا ہے،لیکن ان کے بعد آج تک کوئی ایسا مسلم چہرہ ہندوستانی سیات میں نظر نہیں اآتا جنہوں نے اس طرح کی جواں مردی کا ثبوت دیا ہو،دوسری بات یہ کہ ہم مسلمانوں نے اپنی تاریخ کو بہت حد تک فراموش کردی ہے،ہم نے اپنی پہچان کھودی ہے،اور ہم نے اپنے اسلاف کے طور سیاست کو بھلا دیاہے،ورنہ قیادت و سیادت تو ہم مسلمانوں کی خمیر کا عنصر رہا ہے ،دنیا بھر میں ہماری حکومت کا چرچہ رہا ہے لیکن جب ہم نے اپنی زندگی کا لبادہ بدلہ،مادہ پرستی،مفاد پرستی اور دنیا پرستی کو اپنے گلے لگایا تو یہ نعمت عظمی ہمارے ہاتھ سے یکسر نکلتی چلی گئی اور پھر ہم حاکم سے محکوم بن گئے۔یہاں پر یہ سوال بھی کافی اہم ہے کہ آخر مسلمانوں میں سیاسی لیڈروں کی کمی کا ذمہ دار کون ہے ؟مسلم عوام،مسلم قائدین یا سیکولر جماعتیں؟میرا ماننا یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار ہم خود مسلم عوام ہیں ۔چونکہ ہم اپنے ووٹ کی قدرو قیمت کا اندازہ نہیں کرتے۔ہم اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ،ہم اس کو چند سکوں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں،ہم لالچ میں آکر سونے کو کوئلے کے دام تول دیتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ بعض خطے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں سے بھی مسلم نمائندے کو کامیابی نہیں مل پاتی،ہم نے دیکھا ہے کہ بیشتر مسلمان لوگوں کے بہلاوے میں آجاتے ہیں،ہم نے یہ بھی دیکھا ہے مسلمان لالچ میں آ کر فریب کھا جاتے ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں اور اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھ کر ایک ساتھ مناسب نمائندہ چنے تو پھر یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مسلم لیڈران کی کمی نہ ہوکر آئے دن اضافہ ہی ہوتا جائے گا ۔اگر ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کے ہم پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ ووٹ کریں، اس کا بیک وقت دو فائدہ ہو گا ،اول تو یہ کہ آپ کے اتحاد کی ایک بڑے پیمانے پر پہچان بنے گی اور دوئم یہ کہ مسلم نمائندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آخر ہم کانگریس یا بی جے پی دونوں میں سے کسی ایک کو کھل کر کیوں نہیں سپورٹ کرتے؟کیا دونوں مسلم دشمن پارٹی ہیں؟کیا دونوں کا ایک ہی منشور ہے ؟اور کیا دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟جواباً یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ دونوں پارٹی ایک سکے کے دورخ کے جیسے گرچہ نہیں ہیں لیکن دونوں پارٹی” نہلے پے دہلا“کے مانند ہیں ،بی جے پی کھلے عام مسلمانوں کا قتل عام کراتی ہے تو کانگریس آستین میں پل کر اچانک ڈنک مار دیتی ہے یعنی دونوں پارٹیاں مسلمانوں کے حق میں بھلائی کیلئے بہت کم سوچتی ہے ،بی جے پی تو سرے سے مسلمانوں کو کامیاب دیکھنا ہی نہیں چاہتی البتہ کانگریس کچھ حد تک مسلمانوں کے حق میں مثبت اقدام کرتی ہے۔اب بات یہ سمجھنے کی رہ جاتی ہے کہ مسلمان آخر کیسے اپنے ووٹ کو موثر بنا سکتے ہیں؟چونکہ ملک عزیز کے چند ریاستوں میں مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن ووٹ ہوتا ہے ،لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا اپنا فیصلہ نہیں ہوپا تا اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے باہمی انتشار ،اور مادیت کا بخار ۔اول تو یہ کہ ہم کسی بھی مسئلے پر چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی،معاشی ہو یا تعلیمی جلد متحد نہیں ہوتے اور دوسری بات یہ کہ ہم اپنے ووٹ کی قدر نہیں کرتے ،ہم اس کی طاقت کا اندازہ نہیں کرتے،اور سیاسی کھلونوں سے باآسانی بہل جاتے ہیں جس کی وجہ سے جب نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو وہ ہمارافیصلہ نہیں ہوتا اور جو نمائندہ منتخب ہو کے آتا ہے وہ بھی ہمارا نہیں ہوتا چونکہ ہم نے آدمی دیکھ کر کے ووٹ نہیں دیا ہے۔لیکن ہمیں اپنے ووٹ کو موثر بنانا ہی ہوگا چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں دن بہ دن سر اٹھاتے ہی جا رہی ہیں اگر ہم اس کے خلاف اپنے قائد کی قیادت میں نہیں کھرے ہوں گے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہ پائیں ،یہ صرف میری رائے ہی نہیں ہے بلکہ یہ وقت کی پکار ہے جس پر مسلمانوں کا کان دھرنا اور اس کو عملی جاما پہنانا ہی ایک کار آمد راستہ معلوم پڑتا ہے،اس لیے ہمیں اپنے ووٹ کی قدر وقیمت کا اندازہ لگا نا ہوگا ،اتحاد کا دامن تھامنا ہوگا اور مادر وطن کے سیاسی میدان میں ہمیں اپنا قائد و نمائندہ زیادہ سے زیادہ بھیجنا ہوگا،چونکہ فرقہ پرست طاقتیں ہمارے خلاف ہر وقت گھات لگائے بیٹھی ہیں اور موقع ملتے ہی ہماری زندگی میں دخل اندازی شروع کرنے لگیں گی۔اور اگر ہمیںاپنے مضبوط قائد کا ساتھ نہ ملا تو وہ بہت جلد کامیاب ہو جائیں گی۔اس لیے ہمیں اپنے ووٹ کو موثر و کا رآمد بنانے کیلئے اس کی طاقت کو سمجھنا ہوگا۔اب فیصلہ یہ کرنا باقی رہ جاتا ہے کہ آخر آنے والے عام انتخابا ت میں مسلمان کس کو ووٹ دیں؟پہلے تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم جہاں جہاں سے ہو مسلم نمائندگان کو کامیاب بنانے کی جان توڑسعی کریں اس کے بعد دوسری یہ کہ کانگریس کو مرکز میں لانے کی کامیاب کوشش کریں چونکہ ہم مسلمان جانتے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت ابھی ریاستی سطح پر ہے تو اس طرح ہمیں تباہ وبرباد کر رہی کہ کچھ کہا نہیں جاسکتا اور اگر مرکز میں آگئی تو پھر نہ جانے کیا کرےگی جس کا ہم لوگ شاید تصور بھی نہیں کرپائیں البتہ کانگریس پارٹی سے کچھ حد تک امیدلگانے کے جواز کا ثبوت ملتا ہے اس لیے ہمیں فی الوقت اسی بینر تلے اپنے نمائندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کی کوشش کرنی چاہیے ،پھر ایسا ہوگا کہ ایک دن کانگریس پارٹی کی پہچان ہی مسلمان پارٹی سے ہوجائے گی۔اللہ ہم سب مسلمانوں کو ہندوستانیسیاست میں تاریخی انقلاب پیدا کرنے کی توفیق دے:آمین
rahmatkalim91@gmail.com

الاثنين، فبراير 10، 2014

ڈاکٹر معراج عالم تیمی کے والد گرامی جناب انفاق صاحب انتقال فرما گئے


السلام ایجوکیشنل اینڈویلفیر فاؤنڈیشن پٹنہ کے جنرل سکریٹری ہمارے مربی اور مشفق بھائی ڈاکٹر معراج عالم تیمی مدنی کے والدگرامی قدر جناب انفاق صاحب کا آج صبح اچانک انتقال ہوگیا ، سینہ میں ہلکا سادردمحسوس ہوا اورکچھ دیر کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گھرکے ہر فردسے ہمارا اتنا قریبی تعلق تھا کہ ہم خود کولواحقین میں محسوس کررہے ہیں اور یہ دل خراش خبر سن کر جذبات سے بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔لیکن موت سے کس کو رستگاری ہے ، آج وہ کل ہماری باری ہے ۔ اس موقع سے ہم پورے اہل خانہ بالخصوص بڑے بھائی جمال الدین مدنی ، برادرم ڈاکٹر معراج عالم مدنی ،ہم سبق سراج الدین تیمی ، عزیز ی اعجاز الدین اور اکرم جمال تیمی سے کہیں گے :أعظم اللہ أجرکم ، اوران سے گذارش کریں گے کہ صبرسے کام لیں،اللہ کے فیصلے سے راضی ہوں، یہ دنیا کی ریت ہے،یہاں کوئی ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا، اللہ پاک موصوف کی مغفرت فرمائے اوران کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔آمین ہم تیمی احباب موصوف کے غم میں برابرکے شریک ہیں ۔

الأحد، فبراير 09، 2014

رد عمل کی نفسیات خطرنا ک ہوتی ہے !!!


ثناءاللہ صادق تیمی
 جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی

       عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ عمل کا رد عمل ہوتا ہے ۔ ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے اور یہ بات کچھ اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ یقینا عمل کا رد عمل ہوا ہے لیکن اس معاملے میں یہ بات عام طور سے نظر انداز کی گئی ہے کہ یہ رد عمل بالعموم بہت اچھی شکل میں سامنے نہیں آتا ۔ اسی لیے اس کے نتائج بھی اچھے نہیں ہوتے ۔ ردعمل کی نفسیات در اصل ایک منفی نفسیات ہے ۔ رد عمل کے تحت سوچنے والوں کے اندر مثبت طرز فکروعمل کی کمی پائی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مثبت فکر کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ اس نفسیات کا شکار انسان بالعموم معاملے کے صرف ایک پہلو کو دیکھتا ہے اور دوسرے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کردیتا ہے ۔ رد عمل کی نفسیات در اصل ایک قسم کے غلط ڈیفینس کے اظہار کے طور پر سامنے آتی ہے یا پھر اپنے فخر و اعتزاز کے بیان کے طور پر اور ان ہر دو صورت میں آدمی بہتر حکمت عملی اور صحیح شعور کی بجائے جذباتیت کا شکار ہوتا ہے اور یہ معلوم بات ہے کہ جذباتیت سے کبھی اچھے نتائج رونما نہیں ہوتے ۔
          تاریخ کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ رد عمل کی یہ نفسیات ہمیشہ غلط ہی رہی ہے ۔ ہر چند کہ وہ دینی،ملی اور قومی غیرت کی شکل میں ہی کبھی کبھی کیوں نہ ظاہر ہو ۔  اس قسم کے ایک رد عمل کی مثال ہمیں حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے یہاں نظر آتی ہے جو انہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع سے صلح کے کڑے شرائط پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی پر دکھلایا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیکھے قسم کے سوالات کیے تھے اور جن کا بہت ہی متوازن اور حکمت آمیز جواب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی اس حرکت پر زندگی بھر ملال رہا اور آپ اللہ سے اپنی مغفرت کی دعا کرتے رہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع سے حضرت عمر کی نہ صرف یہ کہ بات نہيں مانی بلکہ آپ نے مثبت طرز فکرو عمل کی ایک نہایت روشن مثال قائم کردی اور پیار سے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے عمل کو خدائی حکم قراردیا اور کسی قسم کے غصے یا رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال وہاں بھی نظر آتی ہے کہ جب ایک یہودی نے آپ کو السام علیک کہا تو آپ نے وعلیک کہا ۔ حضرت عائشہ رضي اللہ عنھا آپ کی بیوی تھیں اور آپ سے بلاشبہ بہت محبت کرتی تھیں ۔ یہودی کی یہ بات آپ کوبہت بری لگی اورآپ نے یہودی کو جلی کٹی سناتے ہوئے کہا کہ تم پر موت آجائے اور تم پر اللہ کی لعنت ہو ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو ایسا کہنے سے منع کیا اور جب حضرت عائشہ نے کہا کہ آپ نے سنا نہیں کہ اس یہودی نے آپ کو کیا کہا تو آپ نے فرمایا اے عائشہ ! اور کیا تم نے سنا نہيں کہ میں نے اسے اس کا جواب بھی دے دیا اور پھر آپ نے حضرت عائشہ کو رفق و نرمی برتنے کی تلقین کی ۔ اسی طرح جب ایک کافر نے آپ کو مذمم کہا تو آپ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ میں تو محمد ہوں ۔
         انسانی زندگی میں ایسے مواقع بہت آتے ہیں جب انسان کے اندر اس قسم کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے ۔ در اصل انسان ایک سماجی جانور ہے ۔ اس کے اندرمختلف قسم کی خواہشیں پائی جاتی ہیں ۔ انسان اپنے تمام خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے جب کہ اس محدود زندگی میں اس کی لامحدود خواہشات کی تکمیل ہو نہیں پاتی اور وہ ایک قسم کے احساس محرومی میں جینے لگتا ہے اور پھر یہ احساس محرومی اس کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا کردیتا ہے ۔ انسانوں سے گھرے ہونے کے باعث وہ بالعموم اپنی محرومی کا ذمہ دار خود کو سمجھنے کی بجائے دوسروں کو سمجھنے لگتا ہے کبھی کبھار بظاہر ایسا لگتا بھی ہے کہ اس کی پریشانی واقعی کسی اور کی وجہ سے ہی ہے اور پھروہ غلط سلط قسم کے اندازے لگا کر رد عمل کی نفسیات میں گھر جاتا ہے ۔ ایسے انسان کو در اصل ایک قسم کی بیماری لگ جاتی ہے ۔ وہ مریضانہ ذہنیت سے سوچنے لگتا ہے اور زندگی کے اس مختصر سے سفرمیں جس سے تس سے جھگڑنے لگتا ہے ۔
         اسلام سرے سے اس قسم کی نفسیات کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ در اصل وہ تمام ایسے طریقے سکھلاتا ہے جس سے انسان اس قسم کی رد عمل والی نفسیات سے بچ سکے ۔ وہ انسان کو سکھلاتا ہے کہ انسان کے پاس جب کوئي خبر پہنچے تو وہ کسی بھی قسم کے رد عمل سے پہلے اس خبر کے استناد کو تلاش کرے ۔ وہ پہلے یہ دیکھے کہ وہ خبر صحیح بھی ہے یا نہيں اور پھر ٹھہر کر اس کے ما لہ و ماعلیہ پر غور کرنے کے بعد حکمت و دانائی سے کوئی مثبت قدم اٹھائے ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ یاایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین( الحجرات : 6 )
          اسلام بتلاتا ہے کہ انسان کو اگر کسی معاملے میں بظاہر کوئی ناکامی ملے تو گھبرانے کی بجائے وہ اللہ سے امید باندھے اور صبر کا دامن تھام لے ۔ اس سے اس کے اندر بہتر خیالات پیدا ہوںگے اور وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے پھر سے کوشش کرے گا ۔ حدیث کے اندر اسے مومن کی ایسی خصوصیت سے تعبیر کیا گیا ہے جو اور کسی کے اندر نہیں پائی جاتی ۔ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ عجبا لامر المومن ان امرہ کلہ لہ خیرو ما ذلک الا للمومن۔ ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ  ۔ اسلام سکھلاتا ہے کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ یہ عقیدہ در اصل انسان کے اندر ایک قسم کا اطمینان اور سکون پیدا کرتا ہے ۔ وہ رد عمل یا احساس محرومی تلے نہیں جیتا ۔ وہ اللہ سے لو لگاتا ہے اور ہر ایک ناکامی کے بعد زیادہ اعتماد سے کوشش کرتا ہے اور بالآخر وہ اپنی منزل کو پا ہی لیتا ہے ۔ قرآن کریم کے اندر اللہ نے فرمایا ہے ۔ والعاقبۃ للمتقین ۔ اس موقع سے  مجھے اس سلسلے میں کسی مفکر کی وہ بات یاد آتی ہے کہ آپ کوشش کرتے رہیں اور جب تک آپ کو آپ کا رزلٹ نہیں ملتا اس وقت تک یہ سمجھیں کہ ابھی اس کا آخری مرحلہ نہیں آیا ہے ۔
   رد عمل کے تحت جینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی مثبت انداز فکروعمل سے محروم ہو جاتا ہے ۔ وہ بات بات میں غصہ کرتا ہے اور لڑنے جھگڑنے کو تیار ہوجاتا ہے اور ہر جگہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔  اسی لیے حدیث کے اندر آتا ہے کہ جب ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ انہيں نصیحت کریں تو آپ نے کہا کہ غصہ مت کرو۔ صحابی رسول نے تین مرتبہ آپ سے نصیحت کی درخواست کی اور آپ نے تینوں  مرتبہ یہی نصیحت کی کہ غصہ مت کرو ۔ اسلام اسی لیے کہتا ہے کہ انسان اپنے اندر زیادہ سے زیادہ جذبہ شکر کو پروان چڑھائے اور اپنے سے نیچے کو دیکھے اوپر کو نہیں تاکہ اس کے اندر شکر کے جذبات پیدا ہو سکیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ انظروا الی من ھو اسفل منکم ولا تنظروا الی من ھو فوقکم فھو اجدر ان لا تزدروا بنعمۃ اللہ علیکم ۔
       اجتماعی زندگی میں بھی اس نفسیات سے بچنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بتلاتی ہے کہ آپ نے حضرت خالد بن ولید کو اس جنگ کے موقع سے سیف اللہ کے خطاب سے نوازا جس کے اندر انہوں نے کمال ہوشیاری سے مسلم فوج کو بچ بچاکر دشمنوں کے نرغے سے نکال لیا تھا ۔ جب کچھ لوگوں نے اس  پر طنز کیا تو آپ نے اس کی تردید کی اور حضرت خالد کی تعریف کی ۔ حکمت عملی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر حقیقت کی روشنی میں کوئی فیصلہ لیتا ہے ۔ اس کی ایک مثال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں ملتی ہے کہ انہوں نے اپنے مثبت فکرو عمل کو کام  میں لاتے ہوئے اور صورت حال سے ڈرے بغیر نہایت حکمت و دانائی کا ثبوت پیش کیا اور حضرت اسامہ کے لشکر کو نہ صرف یہ کہ  روانہ کیا بلکہ منعین زکوۃ اور مرتدین کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی اور کامیاب و کامران ہوئے ۔ اس کی ایک مثال خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ملتی ہے کہ جب اہل مکہ نے بد عہدی کی اور صلح حدیبیہ کے دفعات کی خلاف ورزی کی تو آپ نے 8 ہجری میں مکہ پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ وہ مکہ کے سردار تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اب مسلمانوں کی قوت کافی بڑھ چکی ہے اور اکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چڑھائی کردی تو ان کی فتح طے ہے ۔ اس لیے انہوں نے اپنی پوری کوشش اس بات میں لگادی کہ کسی بھی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کو باقی رکھنے پر رضامند کیا جائے ۔ لیکن یہ معلوم بات ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی کسی بھی صلح سے بالکلیہ انکار کردیا اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مکہ پر چڑھائی بھی کی اور کامران و کامیاب بھی  ہوئے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ نے اس سلسلے میں پوری انسانیت نوازی کا مظاہرہ کیا اور بے مثال فراخی اور کشادہ قلبی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بد ترین جانی دشمنوں کو بھی بخش دیا۔
       آج مسلمانوں کے اندر انفرادی اور اجتماعی  سطح پر رد عمل کی نفسیات پیدا ہوگئی ہے ۔ اسی لیے وہ بجائے اس کے کہ حکمت و دانائی کا راستہ اپنائیں غلط سلط انداز میں رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ مہیا مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹی سیدھی مشکلوں کا رونا روتے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی بات پر لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اس معاملے میں برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں کا گراف تھوڑا زیادہ ہی اونچا ہے ۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں پچھڑے ہوئے ہیں ۔ ان کے  پاس عذر بہت ہے ۔ شکایتیں بہت ہيں ۔ جا و بے جا شکووں کی بھرمار ہے لیکن ان کے اندر کچھ کرگزرنے کا جذبہ نہیں ۔ کوئي بہتر پلان نہیں ۔ حمکت و دانائی نہيں ۔ موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ نہيں ۔ یاد رہے کہ رد عمل کی نفیسیات سے الگ ہو کر سوچنے کی دعوت دینے کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالا جائے کہ آدمی بزدلی کا راستہ اختیار کرلے ۔ اس کا مطلب اصلا یہ ہے کہ آدمی صورت حال کا صحیح طریقے سے جائزہ لے کر مناسب قدم اٹھائے  ۔ اگر ضرورت اقدام کی ہو تو اقدام کرے اور اگر دفاع کی ہو تودفاع کرے اور اگر خموشی کے تقاضے ہوں تو خموشی کو ترجیح دے ۔ وہ جذباتیت سے بچے اور ہر ممکن کوشش کرے کہ مثبت انداز میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہے ۔ اسے ایک حدیث کے اندر اس طرح سمجھا یا گیا ہے کہ اپنی ذمہ داری ادا کرو اور اپنے حقوق اللہ کے ذمے لگادو۔ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ ادوا ماعلیکم و اسئلوا اللہ حقکم  ۔  دعا ہے کہ اللہ ہمیں رد عمل کی غلط نفسیات سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔

الثلاثاء، فبراير 04، 2014

روشنی ( ایک افسانہ )

ساگر تیمی
 جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067

" پروردگار عالم ! تجھے خبر ہے کہ یہ سارا کام میں صرف اور صرف تیری رضا جوئی کےلیے کرتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ میرے احباب اور دوست مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں ۔  لیکن میں یہ سب صرف اس لیے کرتا ہوں کہ میرا ان کے اوپر اثر باقی رہے اور میں ان سے دینی مشن میں کام لے سکوں ۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا مقصد سوائے تیری خوشنودی اور تیرے پیغام کی اشاعت کے اور کچھ نہیں ۔  پروردگار! میرا مال ، میری جان اور میری تعلیم اگر اس مشن میں کام آسکی تو ٹھیک ورنہ ان کا حاصل بھی کیا ہے ؟ "
     اجمل  کے سامنے یادوں کا سارا دریچہ کھل گيا ۔ وہ ملک کی بہت مشہور اور بہترین یونیورسٹی تھی ۔ صرف قابل اور محنتی طلبہ ہی اس یونیورسٹی میں داخلہ پاتے تھے ۔ وہاں داخلہ ملنے کا مطلب یہ مانا جاتا تھا کہ اب آپ کی زندگی کامیابی کے زینے پر قدم رکھ چکی ہے ۔ طلبہ بڑے جوش اور فخر سے بیان کرتے تھے کہ وہ اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔ یونیورسٹی کا ماحول تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ آزادی اور الحاد کی تو جیسے وہاں سے ہوا ہی اٹھتی تھی ۔ ہم جنس پرستوں سےلے کر ہر طرح کے فیشن کو یہاں سے تقویت ملتی تھی ۔ لڑکیوں کی آزادی ہی نہیں بلکہ مکمل آزادی کی صدا جیسے اس یونیورسٹی کے بام ودر سے آتی تھی ۔ لڑکیوں کو ماں ، بہن ، بیوی اور دیوی ہونے تک پر اعتراض تھا ۔ وہ صرف لڑکیاں بننا چاہتی تھیں اور وہ بھی ایسی جیسی وہ خود چاتی تھیں ۔ انہیں یہ بالکل بھی گوارہ نہیں تھا کہ ان کے لباس ، بود و باش یا سوچنے سمجھنے کے انداز میں کسی قسم کی رخنہ اندازی کی جائے ۔ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا نظام نافذ تھا ۔ لڑکے اور لڑکیاں ہاسٹل میں رہتے تھے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں تھے ۔ رات رات بھر ڈھابے کھلے رہتے تھے ۔ وہاں تو جیسے رات ہوتی ہیں نہیں تھی ۔ پڑھنے والے بھی رات کو شب بیداری کا فریضہ انجام دیتے تھے اور مستیاں کرنے والے بھی شام کےبعد ہی حرکت میں آتے تھے ۔
       اجمل ایک متوسط گھرانے کا لڑکا تھا ۔ یونیورسٹی سے پہلے کی  تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی ۔ جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے اس کا تعلق تھا ۔ وہ سانولے رنگت کا خوش شکل اور لمبا چوڑا  لڑکا تھا ۔ اس یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے اس نے ملک کی ایک دوسری یونیورسٹی سے بے ایڈ کیا تھا ۔ اس کے اندر بلا کی کشش پائی جاتی تھی ۔ مسکراہٹ جیسے اس کے وجود کا حصہ ہو ۔ اس کی آنکھوں میں گہرائی اور پیشانی  پر چمک تھی ۔ لڑکیاں بالعموم اس پر نثار ہو جاتی تھیں ۔ بی ایڈ کے زمانے میں اس کے اندر کافی تبدیلی رونما ہوئی تھی ۔ در اصل مدرسے کی پابند زندگی کے مقابلے میں اتنی آزاد زندگی میں وہ کچھ سے کچھ ہو گیا تھا ۔ یہ بات اس کے صرف قریبی دوست ہی جانتے تھے کہ وہ ایک مدرسے کا باضابطہ فارغ التحصیل عالم ہے ۔ دراصل وہ چاہتا بھی نہیں تھا کہ لوگ اسے اس حیثیت سے جانیں ۔ لیکن اتنی ساری تبدیلی اور آزادی کے باوجود اس کے اندر ایک چیز بڑی ریمارکیبل تھی ۔ وہ لوگوں کے کام بہت آتا تھا ۔ اس کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کی باتوں کو بالعموم ہنس کر ٹال دیتا تھا ۔ اس لیے اس کی کبھی کسی سے برائي نہيں ہوتی تھی ۔ وہ اپنے سرکل میں لڑکیوں سے تھوڑا زیادہ ہی کھلا ہوا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کی تعریف کرنے کی خوبی سے واقف تھا ۔ لیکن بہرحال وہ اپنے حدود کو بھی نظر میں رکھتا تھا ۔
         یونیورسٹی میں اس کی دوستی ایک دوسری ہی  قسم کے طالب علم سے ہو گئی ۔ وہ در اصل اتفاق ہی تھا ۔ لیکن اجمل کے  سماجی اعتبارسے متحرک ہونے  اور اس کے  دوست شاداب کے خلوص کی وجہ سے اس کے اندر بہت گہرائي آگئی تھی۔ شاداب مضبوط ارادوں کا مالک جوان تھا ۔ لمبا چہرا ، چوڑی پیشانی ، چھوٹی چھوٹی سمجھدار آنھکیں اور اس پر لجائی ہوئي مسکراہٹ اسے وقار و اعتبار عطا کرتی تھی ۔ بہار کے ایک قصبے سے اس کا تعلق تھا۔ وضعداری اور دینداری اس کی اصل پہچان تھی   ۔ ان دونوں کے بیچ ایک اور تیسرا طلب بھی تھا نوید ۔ یہ در اصل ان دو انتہاؤں کے بیچ ایک پل کی حیثيت رکھتا تھا ۔ شاداب ایک ایمان والے عملی مسلمان کا نمونہ تھا ۔ پوری یونیورسٹی میں ہر طرح کے مسلم اور انسانیت کے مسائل کو لے کر وہ پریشان رہا کرتا تھا ۔ وہ اس دین بیزار دانش گاہ میں پکا سچا مسلمان تھا ۔ پانچ وقت کی نمازین ، ہفتے میں دو روزے سموار اور جمعرات کے اور ہمہ وقت وضو کی حالت میں رہنا اس کی عادت میں شامل تھا ۔ وہ نہ تو کوئي فلم دیکھتا تھا اور نہ فلموں سے اسے کسی قسم کی کوئي دلچسپی تھی۔ وہ کسی قسم کی بے مقصد مجلس کا حصہ بننا پسند نہیں کرتا تھا۔ یونیورسٹی میں کلچر کے نام پر آئے دن رقص و سرود وغیرہ کی محفلیں سجاکرتی تھیں لیکن اسے ان سے کوئی سروکارنہيں تھا ۔ در اصل اس کی پچھلی زندگی اس کے بقول جاہلیت کی تھی ۔ جب وہ صرف نام کا مسلمان تھا اور سارے کام غیر مسلموں والے کیا کرتا تھا ۔ اس کی عملی زندگی کو دیکھ کر اسیا لگتا جیسے وہ اپنی پچھلی زندگی کی تلافی کررہا ہو ۔ عام طور سے طلبہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر پھبتیاں کسا کرتے تھے ۔ در اصل وہ ایک الگ ہی قسم کا انسان تھا ۔ لوگوں کو اس کی اخلاقی بلندی اور اصول پسندی کا بھی اعتراف تھا اس کے باوجو نہ جانے کیوں اسے لوگ قبول کرنے کوتیار نہیں رہا کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے اپنے مقابلے میں اس کی نیکیوں کی وجہ سے لوگ اس سے چڑھ جاتے ہوں ۔ لیکن وہ تھا کہ بس اپنے کام میں لگاہوا تھا ۔ اس کے اندر ایسا نہیں کہ خامیاں نہیں تھیں۔ اسے تعریف بہت پسند تھی ۔ وہ بھی اپنے آپ کو کبھی کبھی اس طرح پیش کرتا جیسے واقعۃ اس کے علاوہ کوئی نیک ہو ہی نہیں لیکن ایسا کم کم ہی ہوتا تھا ۔ ان بن کی صورت میں وہ ہمیشہ معافی مانگنے میں جلدی کیا کرتا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے رہتے تھے اور جب اللہ رسول کا ذکر آتا تو وہ سیلاب کی مانند بہ جاتے ۔
           اجمل اور نوید بالعموم ایک طرف ہو جاتے اوراسے دق کیا کرتے ۔ اس کا مزہ لیتے ۔ اور جب وہ غصہ کیا کرتا تو یہ خوب خوش ہوتے ۔ پھر یہ دونوں ناراض ہو جاتے اور وہ انہیں منانے کے لیے کسی اچھے ریستوراں میں پارٹی دیتا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ۔ لیکن دوسرے طلبہ کے لیے یہ بڑی عجیب بات تھی ۔ وہ سوچتے کہ یہ دونوں آخر ایک ساتھ رہتے کیوں ہیں ۔ ان کی ایک ساتھ اتنی اچھی کیوں کر بن جاتی ہے ۔ کمال کی بات یہ تھی کہ اجمل اور نوید اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نماز وغیرہ کی پابندی بھی کرلیا کرتے اور ہر طرح کے دینی اور سماجی کاموں کا حصہ ہو جایا کرتے ۔ البتہ ہر سموار اور جمعرات کو افطار کرنے کے باوجود انہیں کبھی نفلی روزے کی توفیق نہیں ملی تھی ۔ لیکن شاداب کے لیے اتنا بھی کم نہیں تھا کہ یہ لوگ نماز ادا کرلیتے ہیں ۔ دینی اور سماجی کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور ان کی وجہ سے اسے اپنے مقاصد کے حصول میں آسانی ہوتی ہے ۔ ایسے وہ ان کی مدد بھی کم نہیں کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش بھی کرتا تھا کہ اگر وہ کوئی علمی کام کررہا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دوست بھی ایسا ضرور کریں ۔ وہ ٹیم ورک میں یقین رکھتا تھا ۔ وہ اتنا سماجی تھا کہ کبھی کبھی نوید اسے الٹے نصیحتوں سے نوازنے لگتا۔ اکیڈمک پر دھیان دینے کی گزارش کرنے لگتا۔ اور بالعموم وہ یا تو ہوں ہاں کرکے رہ جاتا یا پھر ٹوپک چینج کردیتا۔ در اصل وہ اپنے اسٹڈیز میں بھی اچھا ہی تھا ۔
             اتنے لمبے عرصے کی دوستی میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب ان کے درمیان تو تو میں میں ہوئي ۔ وہ ایک دوسرے سے ناراض ہوئے اور پھر بات بن گئي۔ بات یہ تھی کہ نوید بالعموم الجھنے کی بجائے مذاق میں ٹال جاتا تھا اور اجمل کے اندر رد عمل کی نفیسات تھی نہیں ۔ اور اگر کبھی ایسا ہو بھی جاتا تو شاداب کی معافی کےبعد  معاملے کے نہ بننے کا سوال ہی نہیں بچتا ۔ حالانکہ ایسی کوششیں بھی کی جاتیں کہ ان تینوں میں کچھ گڑ بڑ ہوجائے ۔ لیکن شاداب کا خلوص سب پر حاوی پڑ جاتا ۔
         لیکن اس مرتبہ کی صورت حال کچھ اور ہی تھی ۔ شاداب کی معافی اور نوید کی صلح کرانے کی کوشش سب بے کار ہو چکی تھی ۔ در اصل اجمل نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے اب اس پابند زندگی سے پیچھا چھڑا ہی لینا ہے ۔ وہ یوں بھی اپنے لبرل دوستوں کے درمیان زیادہ ہی طنز کا نشانہ بن جایا کرتا تھا ۔ اسی لیے جب کسی بات پر شاداب نے اسے کچھ کہ دیا تو اب اسے جیسے ایک بہانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔ ایسے شاداب کے اندر بھی ایک قسم کا تحکمانہ انداز پایا جاتا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھتا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس خیال میں کبھی کبھی وہ دوستوں کی آزادی میں مخل بھی  ہو جایا کرتا تھا ۔ وہ جذبہ خلوص کی شدت میں بھول جاتا کہ لوگوں کے اپنے بھی احساسات ہوتے ہیں ۔ اس کے دوست باتوں باتوں میں اسے اس کا احساس بھی دلاتے لیکن وہ دوسری باتوں کی طرح اسے بھی ان کا مذاق ہی خیال کرتا ۔
 یہ صورت حال سب سے زیادہ نوید کے لیے  پریشان کن تھی ۔ اس لیے کہ وہ بہرحال یہ نہيں چاہتا تھا کہ جو رشتے اتنی مدت تک چلتے رہے ہیں ، وہ یوں ٹوٹ جائیں ۔ بات یہ بھی تھی کہ خود نوید بھی اس رشتے سے اتنا جڑ گيا تھا کہ اس کے بغیر اس کی پوری یونویرسٹی لائف بے کیف سی معلوم ہوتی تھی ۔ لیکن وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی کوششیں بھی کچھ خاص نہیں کرپارہی ہیں ۔ اس کے سامنے ایک مرحلہ یہ بھی تھا کہ آخر وہ کیا کرے ۔ وہ دونوں سے محبت کرتا تھا ۔ اس کے لیے دونوں کو یوں الگ کرکے دیکھنا آسان نہیں تھا ۔ اسے کبھی کبھی شاداب کے مشن کی بھی یاد آتی تھی ۔ اور وہ جانتا تھا کہ ہر چند کہ وہ اور اجمل عملی سطح پر اس کے لیے بہت اچھے معاون نہيں ہیں لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اس کے مشن کے لیے مفید تھے ۔ بات یہ تھی کہ خود نوید کے اندر بھی بہتر سماج بنانے کی للک کچھ کم نہ تھی ۔ وہ دین کے نظری پہلوؤں پر بطور خاص بہت گہری نظر رکھتا تھا ۔ اس نے اپنے وقت کے اچھے اسلامی مفکرین کو پڑھا تھا ۔ لیکن اس کی سیمابیت اسے کچھ کرنے نہيں دیتی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بیلینس نہیں کرپاتا تھا۔  در اصل مختلف میدانوں کی آری ترچھی معلومات کے سہارے وہ چاہتا تھا کہ ہر ایک فیلڈ سر کرلے ۔ اس لیے وہ کہیں پر اپنی پوری حصہ داری نبھا نہیں پاتا تھا۔ لیکن اس کا اصل پیشن در اصل یہی تھا کہ وہ بھی کچھ قابل ذکر کام کر سکے ۔ اس معاملے میں اسے اکثر اپنے والد کی یاد آتی تھی جو اسے ایک آئڈیل انسان کے طورپر دیکھنا چاہتے تھے ۔
        اجمل نے  آخری بار یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب اسے شاداب سے تعلق توڑ لینا ہے ۔ وہ اپنا بچا کھچا سامان شاداب کے روم سے لے کر نکل جانا چاہتا تھا ۔ لیپ ٹاپ ، کپڑے اور کتابیں جب وہ لے کر نکلنے کا ارادہ کررہا تھا تو اس کی نظر شاداب کی  ڈائری پر پڑي اور وہ یہ سوچ کر اسے دیکھنے لگا کہ اتنی دیر میں اگر شاداب آگیا تو اسے آخری سلام کرکے نکل جائيگا ۔ اس کے سامنے ڈائری کا جو صفحہ کھلا اس نے اسے پریشان ہی کردیا ۔ اکثر وہ اور نوید یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگرہم دونوں نہ ہوں تو شاداب اکیلا مر جائے ۔ اس دقیہ نوس انسان کو بھلا کون اپنا ساتھ دے۔ ہم تو کسی کے ساتھ بھی نباہ سکتے ہیں ۔ اس کا تو کسی کے ساتھ نہيں چل پائیگا۔ یہ الگ بات تھی کہ کبھی کبھی وہ دونوں اس پر رشک بھی کیا کرتے تھے لیکن انہيں اپنی برتری کا احساس رہتا ہی تھا ۔ یہاں ڈائری یہ کہ رہی تھی کہ وہ تو ان دونوں کو ان دونوں سے بھی زیادہ جانتا ہے اور صرف اس لیے ان کے سارے نخرے برداشت کرتا ہے کہ اس کے اپنے نیک دینی اور ایمانی مقاصد حاصل ہو سکیں ۔ اجمل اب ایک دوسری ہی قسم کی پشیمانی میں مبتلا تھا۔ اس کے من میں آرہا تھا کہ ہم کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے فکرمند تھے اور شاداب کتنی دور رس نگاہ سے دیکھ رہا تھا ۔ تیری تجارت کامیاب رہی دوست! کاش ہم تمہيں پہلے اس طرح سمجھ سکتے ! ہم تمہاری مجبوری نہیں تھے ۔ تم نے تو ہمیں اپنے اتنے اونچے مقاصد کا حصہ بنا لیا تھا ۔ اور اس کے لیے تم نے کیا کیا نہيں برداشت کیا تھا  ۔ اس نے سارا سامان وہیں چھوڑ دیا اور جب نوید کو ٹیلی فون کرکے اس نے یہ کہا کہ وہ شاداب سے معافی مانگنا چاہتا ہے تو نوید کے لیے اپنی خوشیوں پر قابو پانا آسان نہيں رہا اور اس کے آنسو نکل پڑے۔

الخميس، يناير 23، 2014

تقدیر پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے

ثناءاللہ صادق تیمی
ایمان کا چھٹا رکن تقدیر پر ایمان لانا ہے ۔ بالعموم ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنا نہیں چاہتے ۔ بہت زیادہ قیل قال کرنا یا بال کی کھال نکالنا تو بلاشبہ غلط ہے اور اس سے نقصان ہی ہوتا ہے لیکن سرے سے اسے چھوڑ بھی دینا غلط ہے ۔ اگر تقدیر کو جانا نہ جائے تو پھر اس پر ایمان کیسے لایا جائے گا ۔
        بہت سے لوگوں کو تقدیر کے سلسلے میں پریشانیاں ہوتی ہیں اور وہ کافی کنفیوژن کے شکار رہتے ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے تو پھر انسان تو مجبور محض ہے ۔ وہ چاہے کچھ بھی کرلے ہوگا تو وہی جو لکھا ہوا ہے ۔ وہیں کچھ لوگ اس کے بالکل بر خلاف یہ سوچتے ہیں کہ یہ تقدیر کوئی چیز نہيں ہے بلکہ انسان مختار اور آزاد ہے جو چاہے گا وہی ہوگا ۔ اصطلاح میں ایک زمانے میں پہلے کو جبریہ اور دوسرے کو قدریہ کہا گیا ۔ لیکن یہ جبریے اور قدریے آج بھی موجود ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حق ان دونوں کے بیچ ہے ۔
       تقدیر کا مطلب ہے اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی کے علم ازلی کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ جو کچھ ہونے والا ہے اسے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے اور جو فیصلے اس نے کردیے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ ساری کائنات اس کی مخلوق ہے اور سب کچھ اس کی مشیئت کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔
     لیکن تقدیر پر ایمان لانے سے پہلے چند بنیادی باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
1۔ اللہ تعالی اس کائنات کا خالق و مالک ہے ۔ اللہ خالق کل شیء
2۔ کائنات کا سارا کاروبار اسی کی مشیئت کے مطابق چلتا ہے ۔
3۔ اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے ۔ احاط بکل شیء علما
4۔ وہ عادل ہے اور ظلم کو اس نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے ۔ یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی فلا تظالموا علی انفسکم ۔
5۔ اسی نے انسان کے اعمال کو بھی پیدا کیا ۔ خلقکم و ما تعملون
6۔ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے ۔ اسے یہ پسند نہیں کہ بندے نافرمان ہوجائیں ۔ لایرضی من عبادہ الکفر
7۔ اللہ اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس سے بھی زیادہ جتنی ایک ماں اپنے بچے سے کرسکتی ہے ۔
8۔ اللہ رحیم ہے اور اس کی صفت رحمت اس کی صفت غضب پر حاوی ہے ۔ ان رحمتی وسعت غضبی ۔
       ان تمام امور پر اگر غور کیا جائے اور ایمان لایا جائے تو پھر انسان کو تقدیر کے بارے میں وہ کنفیوژن نہیں ہوگا جس میں بالعموم پڑ کر وہ پریشان ہوتا ہے اور بسا اوقات اپنا ایمان ہی ضائع کرلیتا ہے ۔  اور ان تمام امور کو ماننا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا تعلق اللہ پر ایمان لانے سے ہے ۔ اب اگر اللہ پر ایمان ہی مکمل اور صحیح نہ ہو تو بھلا تقدیر پر ایمان کیسے صحیح ہو سکتا ہے ۔
   مختلف صحیح احادیث کے اندر اس بات کی وضاحت آئی ہے کہ ایک انسان نیکی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کےدرمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ گناہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اور وہ جہنمیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک بندہ گنا ہ کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ نیک کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جنتیوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ اس قسم کی احادیث سے بالعموم لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ تب عمل کا کیا فائدہ ہے ؟  بالکل یہی سوال صحابہ کرام نے رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ عمل کرتے رہو اس لیے کہ جو جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ کام اس کے لیے آسان کردیا جاتا ہے ۔
          تقدیر کے سلسلے میں لوگ بات کرتے ہوئے بالعموم اس بات کو فراموش کردیتے ہیں کہ تقدیر اللہ کے محیط علم کا حصہ ہے اور ہمیں اس کی کوئی خبر نہيں ۔ دنیا کے کسی بھی میدان سے متعلق اگر آپ ایسی چیز کے بارے میں بولیں جسے آپ نہيں جانتے تو لوگ آپ کو بیوقوف ہی کہینگے ۔ پھر بھلا کس قدر تعجب کی بات ہے کہ لوگ تقدیر میں کیا ہے اس کو نہيں جانتے اور بے مطلب اٹکل پچو مارتے رہتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان جان بھی نہیں سکتا تبھی تو اس کی ذمہ داری کرتے رہنے کی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے۔ سیقول الذین اشرکوا لوشاءاللہ ما اشرکنا ولا آباؤنا ولا حرمنا من شیء کذلک کذب الذین من قبلھم حتی ذاقوا باسنا قل ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن و ان انتم الا تخرصون، سورۃ الانعام    
دیکھیں یہاں بھی کافروں اور مشرکوں کا استدلال یہی ہے کہ اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو ہم ایسا بالکل بھی نہیں کرتے ۔ اللہ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ایسا کوئي علم ہے تو بولو ۔ سچی بات یہ ہے کہ تم صرف گمانوں سے کام لیتے ہو ۔
         یہاں اس بات کو سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اللہ نے انسان کو محدود اختیار دیا ہے ۔ یعنی انسان نہ تو پورے طور پر مجبور ہے اور نہ پورے طور پر مقید ۔ اسے پروردگار نے اس کائنات میں بھیجا ہے اور اسے اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے مطابق جو چاہے کرسکے لیکن اس کا یہ اختیار بہر حال کلی نہیں جس طرح وزیر بہت سارے معاملات میں آزاد ہوتا ہے لیکن بہرحال اسے وزیر اعظم کے اندر ہونا ہوتا ہے ۔ جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کو اصل طاقت مانا جاتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزراء کچھ نہيں کرسکتے لیکن کسی نہ کسی کو تو بہر حال سب سے اوپر ماننا ہوگا ۔ یہی حیثيت سب سے بڑے ہونے کی کائنات کے معاملے میں اللہ کو حاصل ہے ۔ و للہ المثل الاعلی ۔ اللہ نے اسی لیے انسان کو ان معاملات میں جوابدہ بتایا ہے جن میں اس کا اختیار کام کرتا ہے اور ان معاملات میں اس سے پوچھ گچھ بھی ہوگی ۔ بقیہ جہاں اس کے اختیارات معدوم اس کی جوابدہی بھی ختم ۔ پاگل سے، بچے سے اور بھول کر کچھ کرنے والے سے نہیں پوچھا جائے گا ۔ کسی معاملے میں ایک دم مجبور انسان سے نہیں پوچھا جائیگا ۔ یہاں تک کہ کلمہ  کفر بھی اگر محبوری کی وجہ سے ہے تو وہ بھی معاف ۔ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان ۔ انسان کی جوابدہی اس کے اختیار کے مطابق ہے ۔ اللہ نے انسان کو شعور دی ۔ اس کے پاس نبیوں اور رسولوں کو بھیج کر یہ مطالبہ کیا کہ ان اچھی تعلیمات پر چلو اور دنیا آخرت سنوار لو ۔ انا ھدیناہ السبیل  اما شاکراو اما کفورا۔ وہیں اس نے اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ اتنا ڈرو جتنا ڈر سکتے ہو ۔ فاتقواللہ استعطتم ۔
 جو لوگ تقدیر کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی آدمی ان کو نقصان پہنچائے اور کہے کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا تو کیا وہ مان لے گا یا پھر اس آدمی کو مورد الزام ٹھہرائے گا ۔ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو کیا وہ جیسی تیسی چیز کو قبول کرلے گا یا پھر اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھی سے اچھی چیز حاصل کرے ۔ تو پھر اللہ اور اس کے حکم کے معاملے میں تقدیر کو بہانا بنانا کہاں کا انصاف ہے ؟
     تقدیر پر ایمان در اصل ایک بڑا ہتھیار ہے کہ انسان کسی قسم کی ناامیدی کا شکار نہ ہو ۔ پریشانی لاحق ہوتو صبر کرے اور اگر خوشی حاصل ہو تو شکر بجالائے اور ہر دو صورت میں راضی بہ رضا رہے ۔ تقدیر در اصل آپ کے لیے قوت ہے لیکن یہ تب جب آپ اسے قوت بنا کر دیکھیں ۔ ایک ہی انسان ذمہ داری کو ذمہ داری سمجھ کر کیا سے کیا کارنامے انجام دیتا ہے اور ایک انسان ذمہ داری کو بوجھ سمجھ کر کیا کیا پریشانیاں کماتا ہے ۔ ذمہ داری تو ذمہ داری ہی رہتی ہے ۔ اس ایمان سے انسان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہو تا ہے ۔ اس کے اندر کبر وغرور کی نفسیات جنم نہیں لیتی اور وہ صبر وشکر کے جذبے کے تحت جیتا ہے ۔ اسے یک گونہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر۔ لکیلا تاسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتاکم واللہ لا یحب کل  مختال فخور ۔

تقدیر اللہ تبارک وتعالی کا راز ہے ۔ ہمیں ان باتوں پر ایمان لانا ہے جو بتلائی گئی ہیں اور جو نہیں بتلائی گئيں ان کے پیچھے پڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ۔ ایمان والے تقدیر کو اپنی سستی اور کاہلی کا ذریعہ نہيں بناتے وہ اسے اپنی قوت کا ذریعہ اور اپنی سعادت کا زینہ سمجھتے ہیں اور وہ کارہا ئے نمایاں انجام دیتے ہیں جن پر دنیا رشک کرتی ہے ۔ یاد رہے کہ تقدیر کا پتہ ہمیں اس وقت چلتا ہے جب وہ چیز وقوع پذیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ واقع ہونے سے پہلے ہنگامہ کرنا حماقت کہ بغیر علم کی دعویداری اور وقوع پذیر ہونے کے بعد ہنگامہ غلط کہ جس پروردگار نے یہ تقدیر لکھی اسی نے صبر وشکر کی بھی تلقین کی ۔ ایک کو پکڑنا  اور ایک چھوڑنا صحیح نہیں ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق دے ۔ آمین ۔

الاثنين، يناير 20، 2014

غزل

ساگر تیمی

سفر کی بات ہے موت و حیات مت کیجیے
تمام عمر تو رونے کی  بات مت کیجیے
چلی ہے بات جب کردار کے بلندی کی
تو بیچ بیچ میں صوم و صلوۃ مت کجیے
خدا کی ذات کے جب آپ ٹھہرے انکاری
تو بات بات میں پھر اس کی بات مت کیجیے
تمام دن تو  یوں ہی ضائع کردیا بے کار
اسی کی نذر تو اب پوری رات مت کیجیے
کبھی کبھار تو کچھ  اپنے دم ہو سے آخر
ہر ایک کام میں " تیرا ہی ساتھ " مت کیجیے
اسے بڑھائيے لیکن حدود میں رہیے
وہ آنکھ ہے تو اسے کائنات مت کیجیے
اسے غرور ہے ساگر امیر ہونے پر

فقیر آپ ہیں تو التفات مت کیجیے 

الأحد، يناير 19، 2014

آپ کس کے ساتھ ہیں؟

ثناءاللہ صادق تیمی
میرے دوست جناب بے نام خاں نے آتے ہی یہ سوال پوچھا کہ آپ کس کے ساتھ ہيں اور میں بالکل ہی ہڑبڑا گیا کہ آخر انہيں کیا جواب دوں ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا انہوں نے کہا بھائی آخر آپ کسی کے ساتھ تو ہوں گے ۔  اس لیے کہ ہر صورت میں آدمی کسی نہ کسی کے ساتھ تو ہوتا ہی ہے ۔ پھر بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ میں نے جلدی جلدی میں کہا میں تو آپ کے ساتھ ہوں ! اس پر ہمارے دوست ناراض ہوگئے ۔ جناب آپ مولویوں کو ہمیشہ مذاق کیوں سوجھتی رہتی ہے ۔ میں بالکل سنجیدہ ہوں ۔ آج کی زبان میں کہوں تو میں بالکل سیریس ہوں ۔ میں نے کہا اگر آپ سیریس ہیں تو بھائی ہاسپیٹل جائیے ۔ میرا دماغ کیوں کھا رہے ہیں  ۔  اگر اکیلے نہيں جا سکتے تو چلیے  بھائی میں ہی پہنچا دیتا ہوں ۔ اس پر بے نام خاں اپنی بتیسیوں کے ساتھ ہنسنے لگے اور بولے دیکھو تم کتنے سیدھے ہو ۔  میں سنجیدہ ہوں ۔ سیریس نہيں ۔ اگر سیریس ہوتا تو تم سے اس طرح کیسے بات کررہا ہوتا ۔ میں نے کہا تو پھر جھوٹ بولنے کی ضرورت کیا تھی ۔ اور ہمارے دوست سر پکڑ کر بیٹھ گيے ۔  تھوڑی دیر بعد پھر گویا ہوئے چلو اچھا بتاؤ تم کس کے ساتھ ہو ؟ بھائی میں تو کسی کے ساتھ نہیں ہوں ۔ تم پوچھنا کیا چاہتے ہو؟ اگر تم سیریس نہيں ہو تو مجھے لگتا ہے کہ میں ضرور سیریس ہوجاؤںگا ۔ ایسے میں مسلمان ہوں اور ہر اس چیز کے ساتھ ہوں جو مسلمان ہے اور ہر اس چیز سے الگ جو مسلمان نہيں ہے ۔ یعنی کہ تم پورے طور پر ایک انتہا پرست مسلمان ہو ۔ ہاں وہ تو ہوں اور نہ بھی رہوں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ چہرا کچھ ایسا ہے کہ لوگ خواہ مخواہ ایک انتہا پسند مسلمان سمجھ لیتے ہیں ۔ خیر چلو اب بتاؤ کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟  یعنی تمہيں یہ بات ابھی سمجھ میں نہيں آئی کہ میں کس کے ساتھ ہوں ۔ تم میرا دماغ مت خراب کرو ، میں کسی کے ساتھ نہيں ہوں۔  بے نام خاں اب میری ناراضگی سے پریشان ہورہے تھے ۔ انہوں نے پیار کے ساتھ میرے گال کو چھوا ، داڑھی پر تقدس آمیز نگاہ ڈالی اور کہا کہ میرے دوست ناراض ہونے کی کوئی بات نہيں بس اتنا ہی تو بتانا ہے کہ تم کس کے ساتھ ہو ؟ مجھے اس بار واقعی بہت غصہ آیا ۔ وہ تو اسلام میں غصہ حرام ہے سو میں نے برداشت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ دوست میں نہ کسی کے ساتھ تھا نہ کسی کے ساتھ ہوں۔ میں ایک عام سا انسان اور ایک بے عمل سا مسلمان ہوں ۔ لوگ میری داڑھی اور شکل و شباہت سے بالعموم دھوکہ کھا جاتے ہيں ۔ اس لیے جہاں کچھ لوگ مجھے خدارسیدہ ، بزرگ اور مستجاب الدعوات سمجھتے ہيں وہيں پڑھے لکھے سمجھدار لوگ جاہل ، احمق اور بے وقوف ہی نہیں دقیانوس بھی سمجھ لیتے ہیں اور میں تمہیں صحیح بتاتا ہوں کہ جہاں مجھے پہلے گروہ کی سادہ لوحی پر ترس آتا ہے اور ان سے محبت ہو جاتی ہے وہيں دوسرے گروہ کی حماقت پر ہنسی بھی آتی ہے اور میں اپنی ہنسی روک نہیں پاتا ۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ مجھے مولانا سمجھتے ہیں وہ میری اس لیے زیادہ عزت کرتے ہیں کہ میں انگلش میں بھی یس نو کر لیتا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ یس اور نو بھی میں ان سادہ لوحوں کے سامنے ہی کرتا ہوں ۔ کبھی کسی انگریزی تعلیم یافتہ انسان کے سامنے ایسا بالکل بھی نہیں کرتا ۔ بعض جو سیدھے اور تعلیم یافتہ حضرات ہیں وہ اس لیے مجھ سے مرعوب رہتے ہيں کہ میں ان کے سامنے ہمیشہ بھاری بھرکم اردو میں بولتا ہوں ۔ وہ بیچارے سمجھتے ہیں کہ میری صلاحیت بہت زیادہ ہے تبھی تو اتنی بھاری زبان استعمال کرتا ہوں ۔ میں بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوں اور کبھی کبھار عربی کے ایک دو جملے بول کر  اپنی قابلیت کا جھنڈا گاڑ دیتا ہوں ۔ بس یہی تو میں کرتا ہوں ۔
میرے دوست نے میری ان باتوں کو اتنی غور سے سنا تھا کہ میں نے سمجھا کہ ان کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ میں کیا ہوں اور کیا کرتا ہوں ۔ لیکن جب انہوں نے زبان کھولی تو پہلا سوال یہی کیا کہ اچھا  یہ تو سب تو ٹھیک ہے یہ بتلائیے کہ آپ کس کے ساتھ ہيں ؟ اب میرے لیے غصہ پر قابو پانا آسان نہيں تھا ۔ میرے اضطراب کی شدت بڑھ رہی تھی اور میں بہت بری طرح پریشان ہو رہا تھا۔ میں نے ایسے ہی  بغیر کچھ سمجھے بول دیا کہ میں لالو پرساد یادو کے ساتھ ہوں ۔ بے نام خاں اچھل پڑے۔ ارے تو اس ميں اتنی دیر لگانے کی کیا ضرورت تھی ۔ پہلے بھی تو بول سکتے تھے ۔ چلیے مولانا ہیں کچھ تو گھما پھرا کر ہی بولیں گے ۔ تو آپ لالو پرساد کے ساتھ ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سیکولر پارٹی کے ساتھ ہيں ؟ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نتیش کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟  سونیا جی سے آپ کو کیا پرابلم ہے ؟ اور کیجریوال نے آپ کیا بگاڑا ہے ؟ آپ عام آدمی کے ساتھ کیوں نہيں ہیں ؟؟؟
پے درپے سوالات نے مجھے بالکل ہی پریشان کردیا ۔ مجھے تو سمجھ میں آہی نہيں رہا تھا کہ کیا بولوں ۔ کوئی بات نہیں مولانا ! آپ کوئی اکیلے بے وقوف نہیں ہیں جو لالو پرساد کے آج بھی ساتھ ہيں ۔ بہت سے لوگ ہيں ۔ دنیا لالو سے ہو کر نتیش اور ان سے بھی بڑھ کر کیجریوال تک آگئي اور آپ ہيں کہ لالو تک ہی ہیں ۔ جواب ہی نہيں آپ کا تو ؟ واہ کیا پچھڑاپن ہے ! واہ واہ! سبحان اللہ !!  اچھا تو یہ بتلائیے کہ آپ خاندانی لالوئی ہیں یا پھر صرف آپ لالوئي ہیں اور آپ کے گھر کے دوسرے افراد نتیشی ہیں اور کچھ کانگریسی اور کچھ مودیائی ۔ معاف کیجیے گا آپ لوگ مودیائي تو نہيں ہو سکتے ؟  نہیں نہيں ہو بھی سکتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے ہی تو اسے ٹوپی پہنایا تھا ۔ کبھی کھبی تو آپ لوگ بیان بھی دیتے ہیں اس کے حق میں ؟ بولیے بھی بھائي ؟  میں نے بے نام خاں سے پوچھا کہ کیا بولوں ؟  اس پر وہ ناراض ہو کر کرخت لہجے میں بولے یہی کہ لالوئی ہی کیوں ہیں آپ ؟  اور خدارا اب یہ مت بولیے گا کہ آپ مسلمان ہيں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ پھر میں آپ سے پوچھونگا کہ آپ کون سے مسلمان کے ساتھ ہيں ؟ شیعہ مسلمان یا سنی مسلمان ؟  شیعہ مسلمان تو پھر زیدی شیعہ مسلمان یا اثناعشری شیعہ مسلمان ۔ رافضی شیعہ مسلمان یا رضوی شیعہ مسلمان ؟ سنی مسلمان تو پھر حنفی سنی مسلمان یا پھر شافعی سنی مسلمان ۔ حنبلی سنی مسلمان یا مالکی سنی مسلمان یا پھرا ہل حدیث سنی مسلمان ۔ حنفی سنی مسلمان تو پھر تبلیغی مسلمان یا خانخاہی مسلمان یا پھر جماعت اسلامی والا مسلمان ۔ اہل حدیث مسلمان تو سیدھا والا اہل حدیث مسلمان یا پھر غرباء والا اہل حدیث مسلمان ؟؟؟
 میں اس سے پہلے کہ بے نام خاں کے سوالات کے حصار کو توڑتا ، بے نام خاں گویا ہوئے ۔ تو بتاؤ کہ تم لالوئی کیوں ہو ؟ اور دوسرے کیوں نہیں ؟ میں نے بھی اب غصے کو موقع دیا اور کہا کہ بھائي کس کانگریس کے ساتھ رہوں ۔ سیکولر کانگریس کے ساتھ یا فاسسٹ کانگریس کے ساتھ ۔ کس نتیش کے ساتھ رہوں وہ جو مودی کے ساتھ تقریر کرتا ہے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بناتا ہے یا اس نتیش کے ساتھ جو ان سے دوری بنا کر اپنے آپ کو سیکولر ثابت کرتا ہے اور اسکولوں ميں سورج نمسکار لاگو کرواتا ہے ۔ اس کیجریوال کے ساتھ جو انا ہزارے کے ساتھ تھا یا اس کیجریوال کے ساتھ جو ان سے الگ ہے اور ابھی دہلی کا وزیر اعلی ہے ۔ اس مودی کے ساتھ جو مسلمانوں کا باضابطہ قاتل ہے یا اس مودی کے ساتھ جو اب صرف اور صرف وکاس کی بات کرتا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی ریلی میں ٹوپی لگا کر آئيں ۔ بتاؤ کس کے ساتھ جاؤں ؟  اس لیفٹ کے ساتھ جو اعتدال پسند ہے اور سیکولزم میں وشواس رکھتا ہے یا اس لیفٹ کے ساتھ جو انتہا پسند ہے اور سیکولر حکومتوں کے بھی خلاف ہے ۔ کہاں جاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ۔ ان ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو دین کا مذاق اڑاتے ہیں ، مولویوں کوگالی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو برہنہ کرکے روشن خیالی پر اتراتے ہیں یا ان روشن خیالوں اور ماڈرن لوگوں کے ساتھ جو گالی تو نہيں دیتے ، مذاق تو نہیں اڑاتے لیکن بےوقوف ضرور سمجھتے ہیں اور جو ہمیشہ لپیٹ کر بات کرتے ہیں اور گھما پھرا کر کہ کوئی مطلب ہی نہیں چھوڑتے ؟؟؟ اب تم بتلاؤ کہ میں کدھرجاؤں اور کس کے ساتھ رہوں ؟؟؟

       اب اتفاق سے پریشان ہونے کی باری بے نام خاں کی تھی ۔ اس لیے انہوں نے کہا : چھوڑو بھی یا ر کہاں ہم لوگ بے مطلب سیاست ویاست کے چکر میں پڑ گيے ۔ یہ بتاؤ کہ تمہاری شادی کب ہورہی ہے ؟؟؟ اور میں مسکرائے بغیر رہ نہيں پایا ۔

الثلاثاء، ديسمبر 31، 2013

نبذة عن فقيد جماعة أهل الحديث أستاذ اﻷساتذه الشيخ عبدالسلام الرحماني رحمه الله


د. معراج عالم محمد انفاق المدني 

إسمه :
هو الداعية الكبير والعالم الجليل الشيخ أبوعبدالله عبدالسلام الرحماني بن محمدعباس بن حبيب الله بن جمائي بن كريم بخش .

ولادته:
ولد في جمادى اﻵخرة1357-أغسطس1938 في قرية كوندؤ لمديرية غونده (بلرامفور حاليا ) في وﻻية أترابراديش في أسرة معروفة بالعلم والتدين.

تعليمه:
حصل على الدراسة اﻻبتدائية في مدرسة عريقة معروفة جامعة سراج العلوم بونديهار لمدةأربع سنوات.ثم ارتحل للطلب إلى دلهي مع عمه الشيخ محمدعابدالرحماني والتحق في الجامعة الرحمانية وذلك في أغسطس1947 والتحق في السنةاﻷولى المتوسطة إﻻ أنه رجع إلى قريته في نوفمبر1947 بسبب اﻻضطرابات التي حصلت وقت تقسيم الهند إلى دولتين الهند وباكستان. والتحق مرة أخرى في جامعة سراج العلوم ودرس حتى الثانوية اﻷولى ثم سافرإلى بنارس والتحق بالجامعة الرحمانية في الثالثة المتوسطة. كما أنه سافر في هذه اﻷيام على إيعاز من جده إلى لكناؤ والتحق بكلية الطب لكنه رجع إلى بنارس بعد شهرين أو ثلاثة أشهر. وأكمل الدراسة الشرعية في الجامعة الرحمانية وتخرج فيها عام 1958 وباﻹضافة إلى دراسته النظامية قد اختبرباﻻنتساب للإختبارات الحكومية الثانوية والعالمية والفضيلة العالية.

في ميدان العمل:
ومنذ تخرجه بدأ يزاول المهمة التعليمية والدعوية فدرس ثلاثة أشهر في الصفوف اﻷولية في وﻻية مدهيه براديش . ثم انتقل إلى المعهد اﻹسلامي في أكرهرا بوﻻية أترابراديش فدرس فيه سنة فقط. ثم انتقل إلى جامعة سراج العلوم بونديهارفدرس فيها منذ 1960 حتى1963 وفي عام1964انتقل إلى معهد رئيس دي بهمري ودرس فيه المواد الشرعية لمدة سنة فقط. ثم انتقل إلى الجامعة الرحمانية بنارس ودرس فيها حتى 1972. وتولى منصب نائب اﻷمين العام لجمعية أهل الحديث المركزية لعموم الهند في 1972وظل في هذا المنصب داعيا وموجها حتى1975 ثم أختيرلمنصب اﻷمين العام في يوليو1975م وكان رئيس التحرير لجريدة ترجمان أيضا وقد كتب مقاﻻت وبحوث نافعة ومفيدة. ثم استقال في يونيو 1978 من منصب اﻷمين العام وارتحل إلى فيجي داعية ناجحا ومعلما بارعا وموجها ومربيا وبقي فيها حتى 1985 ففي مارس1985 رجع من فيجي. وفي مايو 1985 أقيم مؤتمر عام فحمل عليه منصب اﻷمين العام للجمعية مرةً أخرى إﻻ أنه استقال في 1987 لظروف أحاطت به.  والتحق بجامعة سراج العلوم بونديهار مدرسا و وكيلا للجامعة وظل فيها حتى آخرحياته. كما أنه أختيرلمنصب نائب أميرالجمعية في 1990م وظل في هذا المنصب قرابة عشرسنوات. وكان رحمه الله داعية ناصحا ومدرسا ناجحا ومحباً للخير ومتفانيا في نشر الدعوة والعلم و قد قضى حياته كلها في الدعوة والتدريس والتعليم والتوجيه. ودرس قرابة أربعين سنة واستفاد منه خلق كثيرمنهم: د.عبدالعليم عبدالعظيم البستوي و د.جمال أختر وهما بمكة ود.عبدالرحمن عبدالجبار الفريوائي الأستاذ بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض ود.صغيرأحمد حنيف ود.محمد إقبال بسكوهري والشيخ المحقق عزير شمس بمكة والشيخ شاهد جنيد رئيس الجامعة السلفية بنارس وغيرهم كثيرون.

مؤلفاته:
عمل على إيعاز وترشيح من الشيخ العلامة عبيد الله الرحماني في تحقيق وتعليق تحفة اﻹشراف بمعرفة اﻷطراف في ممبئي. له قرابة عشرين مؤلفا بعضها مطبوع واﻵخرمخطوط فمن مؤلفاته:
1: القصص اﻹسلامية 3 مجلدات
2- حسن بصري حاﻻت وملفوظات
3- المنكرات في العقائد واﻷعمال والعادات
4-محرم الحرام ومسألة حسن ويزيد
5-ماه ربيع اﻷول اورحب الرسول صلى الله عليه وسلم.
6- تزئين مساجد كي شرعي حيثيت
7-خضاب كي شرعي حيثيت
8-اتباع سنت كامفهوم
9- تزئين وتجميل كي شرعي حيثيت
10- فريضة اﻷمربالمعروف والنهي عن المنكر.وغيرها.

عضويته في الهيئات:
اختاره الشيخ العلامة أبوالحسن علي الندوي رحمه الله عضوا في هيئة اﻷحوال الشخصية للمسلمين. كمااختيرعضوا في الهيئة الملية الهندية (ALL INDIA MILLI COUNCIL) من قبل الشيخ مجاهد اﻹسلام القاسمي رحمه الله.

أسفاره الدعوية:
لقد سافر الشيخ رحمه الله في أنحاء الهند وأرجائها لأغراض سامية دعوية وتنظيمية وألقى محاضرات قيمة قبل أن يتولى منصب الأمين العام للجمعية وثم أثناء توليه هذا المنصب وبعد تركه الجمعية أيضاً إضافة إلى ذلك فقد شارك مناسبات دعوية عديدة وألقى محاضرات علمية ودعوية وتوبوية في عدة دول منها المملكة العربية السعودية وباكستان ونيبال وماليزيا وسدني وسنغافور ونيوزي ليند وأمريكا وأستراليا ويابان وإطاليا وأبوظبي والصين وإنجلترا وفرنسا ومصر والكويت ودوبئي والبحرين وعمان والدوحة والشام والأردن وإندونيسيا وكنيدا وجنيف ودنمارك وغيرها. باﻹضافة إلى أعماله الدعوية ومناشطه العلمية والإدارية وكالة الجامعة فقد كان عضوا في مختلف المجالس اﻻستشارية والتنفيذية لمختلف الجامعات اﻹسلامية بالهند منها: - الجامعة السلفية في بنارس. - وجامعة اﻹمام ابن تيمية في بيهار - والجامعة المحمدية منصوره ماليغاؤن.

وفاته :
وقد وافته المنية يوم اﻷحد 29 ديسمبر2013م وله 75سنة. وقد خلف 3 أبناء و3 بنات وزوجة. وبموته رحمه الله وقعت فجوة وثغرة في جماعة أهل الحديث بالهند ونيبال وحدثت ثلمة في اﻷوساط العلمية والدعوية. غفرالله لفقيدنا وأفاض عليه شآبيب الرحمة والرضوان وأدخله الفردوس اﻷعلى من الجنان وألهم ذويه وجميع محبيه الصبر والسلوان. ومالنا إﻻ أن نقول ما يرضي ربنا فإنالله وإنا إليه راجعون. لله ما أخذ وله ما أعطى ولكل أجل كتاب. والحمدلله على قضائه وقدره. 

إعداد: معراج عالم التيمي

الاثنين، ديسمبر 30، 2013

فرصة لإبتعاث خريجي الجامعات السعودية

تعلن إدارة جامعة الإمام ابن تيمية بمدينة السلام عن حاجتها لأعضاء هيئة التدريس على أن يكونوا من خريجي الجامعات السعودية والأولوية لحاملي الماجستير والدكتورة ويتم ابتعاثهم من قبل وزارة الشئون الإسلامية والأوقاف، و المقاعد محدودة فعلى الراغبين التقدم بأسرع وقت ممكن،  للإستفسار يمكن الإتصال على رقم مؤسس الجامعة الدكتورمحمد لقمان السلفي مباشرة : 
00966502714594

الأحد، ديسمبر 15، 2013

بڑے بول کا سر نیچا

رحمت کلیم امواوی (جے این یو)

رحمت کلیم امواوی 
ایک انسان جب شعور و آگہی کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے اور دوڑتی بھاگتی دنیا کو ہر لمحہ سرگرداں دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ایک طرح کی بیداری پیدا ہوتی ہے اوروہ بیداری صرف اور صرف کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے ،ہر انسان اپنے طورپر یہ کوشش کرتا ہے کہ اسکی زندگی انتہائی خوشگوار ہو ،کامیابی کے اعلی سے اعلی مقام تک پہنچ جائے،دنیامیں اس کا نام روشن ہواور ایک الگ پہچان بنے،اپنی عزت و عظمت ہر کسی کے دل میں بیٹھا دے،ہر کوئی اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھے،اور دنیااس کے مقام و مرتبہ ،شہرت و مقبولیت اور خدمات کو سراہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ازآدم تا ایں دم نہ جانے ایسے کتنی ہستیوں کا وجود مسعود ہوا ہے جنہوںنے اپنی بساط بھر جد و جہد کرکے اپنی الگ شناخت پیدا کیں ہیں ،اور لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام بنایا ہے،ہم ارسطو،سیکسپیئر،افلاطون،ملٹن،ابو ریحان،جابر ،رابندر ناتھ ٹیگور ،علامہ اقبال،نہرو،آزاداور مہاتما گاندھی جیسے عظیم المرتبت شخصیتوں کو ان کے گذر جانے کے سالوں سال بعد آج بھی محبت و عقیدت کے ساتھ صرف اس لیے یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کارناموں سے دنیا کو مبہوت کردیا ،سبھوںکی نظروں کو خیرہ کردیا ،اور ایسا کار خیر انجام دیا کہ دنیا کا ہر ہرکس و ناکس ان کا گرویدہ ہو گیا ،آج بھی انہیں وہی عزت و شہرت اوراحترام حاصل ہے جو کل تک حاصل تھیں،یعنی ان نابغہ روزگاروں کو مقبولیت دوام حاصل ہے،لیکن تاریخ کا ایک ایسا بھی صفحہ ہے جہاں ہمیں ایسے لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے کمال کی مقبولیت حاصل کیں،دولت وثروت کا پہاڑ حاصل کیا،شہرت کے آسمان تک پہنچے،دنیا انہیں ہدیہ صدتبریک پیش کرنے لگی،بلندی کا نام ان کے نام سے جوڑا جا نے لگا،طاقت و ہمت اور دانشمندی کے حوالے سے پہلے پہل انہیں حضرات کا نام لیا جانے لگا،عوام الناس کے دلوں پر رعب و دبدبہ قائم ہو گیا،ان کا اپنا سکہ چلتا تھا،ہر طرف ان کی طوطی بولتی تھی،اور ہر کوئی انہیں بڑا تسلیم کیا کرتا تھا لیکن ایک ایسا بھی وقت آیا جب ان نامور شخصیتوں کی اہمیت گرد پاکے برابر بھی نہ رہی،ایک آن میں ساری عزت خاک میں مل گئی،اور دیکھتے ہی دیکھتے عظمت کا شیش محل چکنا چور ہوگیا،اس کی مثال ہم نہ فرعون کے عبرت آموز حشر سے دینا چاہیں گے اور ناہی شداد کی فضیحت سے،ہم نہ نمرود کے واقعے کوپیش کریںگے نا ہی ابو جہل کی ہزیمت کو،چونکہ یہ سارے واقعے دقیانوس ہیں ،ہم اکیسویںصدی میںسانس لے رہے ہیں،ہم اسی صدی کے حوالے سے یہ بتانا چاہیں گے کہ کیسی کیسی نامورو شہرت یافتہ ہستیاں ذلیل و خوار ہوگئیں،اور کتنے بڑے بڑے طاقتور شیر ایک ہی جھٹکے میں ڈھیر ہوگئے،اور کتنے قد آور شخصیتوں کا سر نگوں ہو گیا ۔
اکیسویں صدی کا نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ آغازہوتا ہے،امریکہ میں بل کلنٹن صدارتی کرسی پر گذشتہ کئی سالوں سے قابض ہوتا ہے،لیکن جب 2001میں صدارتی انتخاب ہوتا ہے تو پھر بل کلنٹن کو شکست فاش ہوتی ہے،اور جارج ڈبلیو بش زمام صدارت سنبھالتا ہے اور امریکہ کا تینتالیسواں صدر بن کر 20جنوری 2001کو صدارتی آفس میں داخل ہوجاتاہے،اس کے بعد سے امریکہ میں جو ترقی ہوتی ہے وہ یقینا محیر العقول ہے،دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ دنیا کا سوپر پاور ملک بن جاتا ہے،اور اس کی طاقت کا غلبہ دنیا کی تمام ملکوں پر ہوتا ہے،دریں اثنا صدارت کی کرسی پر بیٹھ کر جارج ڈبلیو بش کبھی عراق کی سرزمین کو عراقی باشندگان کے خون سے سیراب کرتا ہے تو کبھی افغانستان کے معصوموں کا قتل کر تا ہے،الغرض طاقت کا بہت حد تک غلط استعمال بھی کرتا ہے،صدارتی دور کا پہلا ٹرم مکمل ہوتا ہے 2005میں پھر صدارتی انتخاب ہوتا ہے اور بش کے مقابلے میں سیاہ فام براک حسین اوبامہ آتا ہے مگر ناکامی ہاتھ لگتی ہے اور دوبارہ امریکہ کا صدر جارج ڈبلیو بش ہی بنتا ہے،اس کے بعد امریکہ کی معاشی اور سیاسی حالت کو مزید مستحکم کر کے امریکہ کو دنیا کا سب سے طاقت ور ملک بنا دیتا ہے،اور اس کا سہرہ اسی جارج ڈبلیو بش کے سر جاتا ہے جس کے ہاتھ عراقی بچوں کے خون سے رنگے ہو ئے ہیں ،جس کے پاں کے نیچے بغداد کے عوام کی لاشیں ہیں، اخیر کار صدارتی دور کا آخری وقت آتا ہے،دسمبر کا مہینہ چل رہا ہوتا ہے،اوراسی مہینے تک اس کی حکومت بھی ہوتی ہے،چونکہ2009میں پھر انتخاب ہوناہوتا ہے، اتفاقیہ طور پر جارج ڈبلیو بش کا آخری صدارتی خطاب عراق کی راجدھانی بغداد میں ہونا طے پاتا ہے جہاں کا ہر یتیم بچہ بش کو اپنے باپ کا قاتل اور ہر ماں اپنے نوجوان بیٹے کا جانی دشمن مانتی ہیں ،14دسمبر2008کو جارج ڈبلیو بش اپنے آخری دورہ کیلئے نکل پڑتا ہے،بغداد میں ان کے لئے ایک تہنیتی پروگرام کا انعقاد عمل میں آتا ہے،پروگرام میں بش کی شان میں قصیدے پڑھے جارہے تھے،بش کا سر اعلی و بالا کیا جا رہا تھا،لیکن جب ڈائس پر خطاب کرنے کیلئے بش کھڑا ہواتو ایک صحافی نے اس کی ساری عظمت و بڑائی کو محض دو چند سکنڈ کے اندر خاک میں ملا دیا،جارج ڈبلیو بش نے جب خطاب کے دوران یہ کہا کہ”یہ ایک حتمی راستہ تھا فتح یاب ہونے کا“تو منتظر زیدی نامی البغدادیہ ٹی وی رپورٹر اپنے پاں کے دونوں جوتوں سے بش پر حملہ بول دیتا ہے،اوریہ کہتا ہے کہ یہ تمھارا اختتامیہ ہے۔یہ صرف چند سکنڈ کے اندر کی بات تھی جب زیدی نے جوتے سے حملہ کیا ،لیکن اسی دو سکنڈ نے بش کی گذشتہ نو سالوں میں حاصل کی گئی ساری عزت و شہرت اورعظمت و بڑکپن کو خاک میں ملا دیا اور پوری دنیا کے سامنے بش کا سر شرم سے ہمیشہ کیلئے جھک گیا۔
تاریخ کا ایک اور صفحہ پلٹیے ،اور دیکھیے کہ معمر قذافی کی کیا آن با ن و شان تھی،کیا الگ مست دنیا تھی،اورکیا طاقت و ہمت ،مگر حشر آخر کار کیا ہوا؟تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس سے بخوبی واقف ہیں کہ 1964ءسے 2011ءتک مسلسل چالیس سال تک معمر قذافی نے لیبیا کے عوام پر حکومت کی،انہوں نے لیبیا کی عوامی دولت و ثروت کو ذاتی مال سمجھ کر اس قدر عوام کا استحصال کیا کہ لیبیائی باشندے دل کے آنسو رو پڑے،درندگی بنام عیاشی اس طرح ہو رہی تھی کہ کہا جاتا ہے کہ قذافی کے کمرے سے رات بھر میں کئی کئی لڑکیاں اسٹریچر پر نکالی جاتی تھیں،لیبیا کا سونا(GOLD)باپ بیٹا مل کر لٹا رہاتھا،اور عوام بے چاری سوکھی روٹی تور رہی تھی،مذہبی مذاق اس کا عام شیوہ تھا،البتہ ایک خاصیت ضرور تھی کہ یہ کبھی امریکہ کی منہ بھرائی نہیں کرتا تھا،اقوام متحدہ میں بھی اپنی زبان بولا کرتا تھا،کسی سے خوف نہیں کھاتا تھا،امریکہ کی جی حضوری کبھی دیکھنے کو نہیں ملی،اور یہی ایک چیز قذافی کوبڑا بنا دیتی ہے،دولت وثروت کی کمی کسی بھی ناحیے سے نہیں تھی،عالمی پیمانے پر ایک الگ پہچان بھی تھی،لیبیا کے باہر بھی عوام اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے،ایک بڑا و کامیاب رہنما تسلیم کرتے تھے،لیکن ایک ایسا وقت بھی آیا جب پورے مشرق وسطی میں آگ لگی تھی،حکومت کا تختہ پلٹا جا رہا تھا،عوام پوری طرح اپنی طاقت کا استعمال کرنے لگی تھی،درد و کرب اور مسائل سے بے چین عوام سڑک پر نکل کر حاکم وقت کے خون کی پیاسی ہوگئی تھی،دیکھتے ہی دیکھتے اردن ،مصر اور بحرین کاکام تمام ہو گیا ،اور وہان کی عوام کامیاب ہوگئی،اور پھر یہ آگ جب لیبیا تک پہنچی تو پھر قذافی کے گھنگھڑیلے بال میں بھی لگ گئی،عوام کے ہاتھ جب قذافی کے گریبان تک پہنچے تو پھر بھاگنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا،قذافی فوراً اپنے آبائی وطن سرت میں جاکر زمین کے اندر ایک گوفہ میں چھپ گیا،لیکن درد کی ماری لیبیائی عوام کو چین نہیں آرہا تھا،وہ چاہتی تھی کہ قذافی ان کے ہاتھ لگ جائے،بالآخر ایسا ہی ہوا،نیشنل ٹرانجیشنل کونسل فورسیز (NTCF)نے قذافی کو زمین کے نیچے سے بھی ڈھونڈ نکالا ،اور سڑک پر گھسیٹتے ہوئے سرے عام گولی مار دی،اور قذافی امان امان چلاتے ہوئے 20اکتوبر2011کو ہمیشہ کیلئے امان پا گیا۔
بیرون ہند کے بعد جب ہم جب ہم اپنے وطن کی طرف رخ کرتے ہیں اور اکیسویں صدی کا جائزہ جب ہم ہندوستانی پس منظر میں لیتے ہیں تو ہمارے سامنے دو اہم نام جلوہ گر ہو جاتا ہے،جنہیں کل تک ہندوستانی عوام محبتوں اور عقیدتوں کا گل دستہ پیش کرتی تھیں لیکن آج ان کے نام پر طعن وتشنیع کرتی ہیں ۔باپو آشا رام کو شاید ہی کوئی نہیں جانتا ہو ،خصوصاً غیر مسلم طبقہ میں ان کی مقبولیت اور ان کا جو مقام و مرتبہ کل تک تھا وہ یقینا قابل رشک ہے،انہیں جو عزت و شہرت اور جتنی عقید ت ملی وہ یقینا لائق ستائش ہے،آشام رام کامقام اتنا بلند ہوگیا تھا کہ ایک خاص طبقہ انہیں اپنا معبود ماننے لگا تھا،مرادیں پوری کرنے کیلئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگے تھے،رکشہ چالک اپنی سلامتی کیلئے انکا نام لیکر گاڑی چلانا شروع کرتا تھا ،دوکاندار منافے کیلئے انہیں کا نام لیکر دوکان کھولا کرتے تھے،الغرض ان کو خدا کا درجہ حاصل تھا ،لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے میلوں کی مسافت طے کرتے تھے،لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ ولی کے لباس میں شیطان ہے،بابا کے نام پر عزت و عصمت کا لٹیرا ہے ،اور مذہبی پیشوا کی شکل میں ایک زانی ہے،لیکن اس سچائی سے کس کو انکار ہے کہ حقیقت ایک نہ ایک دن کھل کر سامنے آہی جاتی ہے،اور جب آشا رام کی حقیقی شکل دنیاکے سامنے کھل کر آئی تو پوری دنیا ناطقہ سر بہ گریباں ہوگئی۔کہا جاتا ہے کہ آشارام نے اپنے مادر وطن گجرات میں1970ءمیں پہلا آشرم بنوایا ،اور اب تک پورے ہندوستان میں چار سو سے زائد چھوٹے بڑے آشرم بنائے جا چکے ہیں،البتہ ان آشرموں کے اندر کیا ہو رہا تھا یہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے،اور فی الوقت آشارام کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے او رکون سا دفعہ لگایا گیا ہے یہ بھی سب کے سامنے واضح ہو چکا ہے،مگر ان تمام معاملات میں گذشتہ چھ اکتوبر کو جو ایف آئی آر درج کرائی گئی وہ کچھ زیادہ ہی خطرناک ہے،اس میں لکھا گیا ہے کہ آشارام نے اپنی بڑی بہن کا ریپ احمد آباد آشرم میں کیا ،اور 2002سے2004 تک سورت میں آشارام کے بیٹے سائی رام نے آشارام کی چھوٹی بہن کی مسلسل عصمت دری کی(نعوذباللہ)
کہنے کی بات یہ کہ آشارام جو کل تک خدا بنا بیٹھاتھا،بلندیاں ان کے قدموں میں تھیں،ان کا سر مذہبی و روحانی پیشوا کی فہرست میں سب سے اونچا تھا لیکن کیا کسی کو یہ بھی پتا تھا کہ ایک دن آشارام کو ذلت کے اس مقام تک آنا پر جائے گاکہ لوگ ان کے نام پر تھوکنے لگیں گے،اور یہاں تک جگ ہنسائی و رسوائی ہو گی جہاں سے ایک انسان خودکشی کرنے میں اپنے لیے عافیت سمجھتا ہو۔علاوہ ازیں ہندوستان کی سرزمین پر ایک اور نام کا تہلکہ مچا ہوا ہے،جن کا مقام و مرتبہ کل تک عوج ثریا پرتھا لیکن آج خاک میں ہے،جن کی عزت ہر چھوٹا بڑا کیا کرتا تھا لیکن اب ہر کوئی الٹے زبان سے اس کا نام لیتا ہے، تہلکہ نیوز پیپر کے فانڈر و ایڈیٹر تیج پال سنگھ آج انتہائی گھنونی حرکت کے پاداش میں سلاخ کے پیچھے ہے کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی تیج پال سنگھ کیلئے ایسا تصور تھا ؟تیز پال سنگھ کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور کیا جرم ہے سبھوں کے سامنے پوری طرح واضح ہو چکا ہے۔لیکن دل کے نہاں خانے میں ایک سوال یہ بار بار پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ عرش پر کمند ڈال چکے اور دلوں کو جیت چکے بڑے بڑے لوگوں کا ایسا حشر کیوں ہوتا ہے؟
خلاصہ کلام یہ کہ انسان جب تک انسانیت کا علمبردار ہوتا ہے،اور انسانیت کا پوری طرح لحاظ و خیال رکھتا ہے،تب تک وہ انتہائی با وقار ہوتا ہے،اور دنیا اسے پیار و محبت اور عزت و شہرت کے دولت سے بھی خوب نوازتی ہے،لیکن جب وہی انسان انسانیت سے ذرا برابر بھی ہٹتا ہے تو پھر وہی عوام جو کل تک آپ کو محترم سمجھتی تھی آج حقیر و بدترین انسان سمجھ کر اس قدر ذلیل کرتی ہے کہ انسان خود اپنی نظر میں بھی گر جاتا ہے،جارج ڈبلیو بش سے لیکر ترون تیج پال سنگھ تک سبھوں کا حشر ایسا اس لیے ہوا اور ہورہا ہے کہ انہوں نے انسانیت اور انسانی اصولوں سے بغاوت کیں ہیں ، حیوانیت کا روپ دھاڑ لیا تھا اور یہ تو بہت بڑی سچائی ہے کہ حیوانیت کو بقاءنہیں ہے۔
اللہ ہم سب کو ذلت آمیز حرکات و سکنات سے محفوظ رکھے ۔آمین