الأربعاء، فبراير 18، 2015

بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی 3

ثناءاللہ صادق تیمی
 جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

   ہم ابھی اقامہ کے انتظار میں ریاض ہی میں ہیں ۔  اور ہمارے مربی جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے مؤسس علامہ ڈاکٹرمحمد لقمان السلفی اپنے تعمیر کردہ گلشن علم و آگہی کا دیدار کرکے  حظ وکیف کی دنیا لیے  واپس بھی آگئے ۔ وہاں سے آنے کے بعد آپ نے ہمیں پھر اپنے یہاں رات کے کھانے پر بلا لیا ۔ اس بار ہم تیمیوں  ( ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، حفظ الرحمن تیمی اور ثناءاللہ صادق تیمی ) کے علاوہ ہمارے کلیگ جناب نور عالم سلفی بھی ہمارے ساتھ  تھے ۔ بعد نماز عشاء شیخ کی بھیجی ہوئي گاڑی سے ہم شیخ کے یہاں حاضر ہوئے ۔ آپ نے مخصوص پیار بھرے انداز میں ہمارا استقبال کیا ۔

   علماء اور ان میں بھی خاص طور سے وہ علماء جن کی زندگیاں مختلف میدانوں میں اپنے نقوش ثبت کرتی ہوئی نظر آئے ان سے ملنے کا مطلب ہمارے ذاتی خیال سے یہ نہيں ہونا چاہیے کہ آپ ان کی صورت دیکھ لیں ، ہونا یہ چاہیے کہ ان سے تجربات حاصل کریں ، سیکھیں اور اپنے دامن مراد کو ان کے تجربات و نصا‏ئح کے لعل و گہر سے بھر لیں ۔ میں آپ سے لگاتار یہ باتيں اس لیے شيئر کررہا ہوں کہ افادہ عام ہو اور روشنی کا دائرہ جتنا پھیل سکتا ہو پھیلے ۔ خیر تو ہم نے شيخ سے خبر خیریت دریافت کی ۔ جامعہ الامام ابن تیمیہ کی کے بارے میں پوچھا اور آپ نے سارے امور کے فٹ درست ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔ پھر مختلف موضوعات اور شخصیات پر باتوں کا سلسلہ چل پڑا ۔

    علامہ احسان الہی ظہیر سے اپنے دوستانہ مراسم اور یارانہ بے تکلفی کا ذکر کیا ۔ آپ نے بتایا کہ علامہ بڑے جلالی آدمی تھے ۔ ایک مرتبہ ایک آفیشیل کام کی وجہ سے مجھے لائن میں لگنا پڑا اور دیر ہوگئی ۔ جب ان کی آواز گرجی تو سارے کارکنان جلدی جلدی کرنے لگے ۔ حالانکہ میں نے کہا کہ کوئی بات نہيں لیکن ان کا رویہ اپنی جگہ پر قائم رہا ۔ حرم شریف میں پاکستانی حکمراں ضیاءالحق نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ میں تو دین کا کام کررہا ہوں ، آپ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں ۔ اس نے انہيں شیشے میں اتارنے کی کوشش کی لیکن علامہ نے صاف کہ دیا کہ آپ دین کا نام لینا چھوڑ دیجیے اور ہم آپ کی مخالفت کرنا چھوڑ دینگے ۔ آپ دین کا نام لے کر منافقانہ رویہ کیوں اپناتے ہيں ۔ دین کا سیاسی استعمال کرکے اپنا الو کیوں سیدھا کرتے ہیں ۔ آپ نے  علامہ احسان الہی ظہیر کا مزید  ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ تھا ۔ کسی بات پر انہوں نے پنے ڈرائیور کو سخت سست کہا ۔ جب وہ اندر چلے گئے ۔ ان کے ڈرائیور نے مجھے مخاطب کیا اور کہا کہ آپ ان کی ظاہری ترشی سے ان کے بارے میں کوئی غلط رائے مت قائم کیجیے گا ۔ یہ بڑے نرم دل ہيں ۔ ان کے دم سے ہی ہمارا پورا پریوار چلتا ہے ۔ ایک دلچسپ بات علامہ کی یہ بتلائی کہ جامعہ اسلامیہ کے دنوں میں ایک مرتبہ ہم ایک ریسٹورنٹ میں گئے اور جب کھانے کا آرڈر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے لیے ایک لیکن ہمارے لیے دو منگوائیے ۔ قد کاٹھی کے مضبوط آدمی تھے ۔ مردانہ وجاہت کی مثال ۔ اس کے بعد میں ہمیشہ ان کے لیے دو ڈش آرڈر کرتا تھا ۔ وہیں آپ نے ان کے علمی ، دعوتی اور اصلاحی کارناموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ نے عمر کم مقدر کی تھی ورنہ وہ کیا آدمی تھے ۔ عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی نے بیان کیا کہ میں جہاں کہیں گیا لوگ جھک کر ملے سوائے احسان الہی ظہیر کے وہ پورے اعتماد اور وقار سے سر اٹھائے ملتے تھے ۔  ڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ  اخیر دنوں میں ملاقات ہوئی تو کہنے لگے یار ذرا ہماری کتابوں پر ایک نظر ڈال لو ۔ شیعوں کو کچھ نہيں ملا تو اب ہماری عربی میں خامی تلاش کرنے لگے ہيں ۔

  علامہ البانی رحمہ اللہ کا ذکر آیا تو کافی والہانہ انداز میں بتانے لگے ۔ میں نے محمد المجذوب کی کتاب "علماء و مفکرین عرفتھم " کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے اندر علامہ البانی رحمہ اللہ کے ترش اورسخت رویے کی شکایت کی ہے ۔ آپ نے بتلایا کہ شیخ محمد المجذوب بھی ہمارے استاد ہیں ۔ لیکن استاد محترم علامہ البانی رحمہ اللہ کے اندر کوئی ترشی نہیں پائی جاتی تھی ۔ انہيں سازش کرکے ورغلانے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن وہ ہمیشہ اپنے خاص سنجیدہ اور علمی انداز کو برقرار رکھتے تھے ۔ اللہ نے تو ان کے ذریعہ وہ کام لیا جو صدیوں میں کبھی کسی کے حصہ میں آتا ہے ۔ آپ نے بتلایا کہ جامعہ الامام ابن تیمیہ کے اندر جو صالۃ العلامہ البانی ہے ، میں نے اس کے لیے علامہ سے باضابطہ اجازت لی ۔ میں بیروت گيا ۔ ان کے داماد سے ٹیلی فون پر بات ہوئي اور جب ہم نے بتلایا کہ ہم ان کے شاگرد ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ سب تو یہی کہتے ہیں کہ ان کے شاگرد ہيں ۔ ہم نے کہا کوئي بات نہيں، اپنا نام بتلایا اور کہا کہ  آپ یہ کریں کہ شیخ سے اجازت طلب کریں ۔ اگر اجازت دیں تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہيں ۔ دوسرے دن جب ہم نے ٹیلی فون کیا تو انہوں نے السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام یا فضیلۃ الشیخ کہا اور دوسرے دن دس بجے ملنے کو بلایا ۔ میں اپنے استاذ اور علامہ البانی رحمہ اللہ کے کبار تلامذہ میں سے ایک شیخ شقرۃ کے ہمراہ علامہ سے ملنے گیا اور وہیں صالۃ العلامۃ البانی کی اجازت طلب کی ۔ پہلے تو آپ نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے ؟  لیکن جب شیخ شقرۃ نے بتلایا کہ یہ آپ کے شاگرد ہيں ، آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے منسوب کرکے اپنے ادارے کے اندر ایک ہال کا نام رکھنا چاہتے ہیں تو پھرآپ نے اجازت دے دی ۔  ڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ ہم شاگردان تو علامہ البانی رحمہ اللہ سے محبت کرتے ہيں ۔ ان کے بارے میں کوئي غلط بات بولے  لکھے تو ہم لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

    آپ نے جامعہ امام ابن تیمیہ کی وجہ سے آنے والی پریشانیوں ، ابتلاء و آزمائش کا بھی ذکر کیا لیکن صبر کرنے اور جمے رہنے کو اللہ کی توفیق قرار دیتے ہوئے بتلایا کہ انہيں بھلا دینے ہی میں بھلائی ہے ورنہ آنے والی پریشانیوں کا تعلق صرف ان سے نہيں رہا جو ہمارے مخالفین تھے ، ان میں وہ بھی تھے جنہیں ہم اپنا سمجھتے ہیں ۔ ایسے اللہ نے عزت بھی اس راستے سے خوب دی ۔ بہار کے سابق گورنر جناب اخلاق الرحمن قدوائی کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ وہ بڑی محبتوں سے ملتے اور بہت عزت کرتے تھے ۔ ہم نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ تو اتنے بڑے آدمی ہیں ۔ ہم لوگ تو معمولی لوگ ہیں اور آپ اتنی عزت ا‌فزائی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کام کردکھلایا ہے وہ بڑے بڑوں کے بس کا نہيں ہے ۔ آپ معمولی کیسے ہوسکتے ہیں ۔

  آپ نے ہمیں خوب محنت کرنے کی تلقین کی ۔ اپنی لیاقت ثابت کرنے پر ابھارا اور یاد دلایا کہ عرب اتنی آسانی سے کسی کا لوہا نہيں مانتے ۔ بہت محنت کرنے کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے جب آپ کے حصے میں تھوڑی بہت تعریف آتی ہے ۔ آپ نے بتلایا کہ ابھی عمر ہے خوب پڑھیں ، آگے بڑھیں ، کتابوں سے تعلق مضبوط رکھیں ، کبروغرور کو نزدیک نہ پھٹکنے دیں ۔ ہم نے شکایت کی کہ آج ہمارے درمیان اعتراف کا جذبہ کم پایا جاتا ہے ۔ آپ نےکہا کہ معاصرت سے لے کر اور دوسرے اسباب ہیں جو کارفرما ہوتے ہیں ۔ ان چیزوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرتے جانا چاہیے ۔

   سعودی عرب کی اس اسلامی حکومت کو اللہ کا خاص فضل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں قرآن وسنت کی دعوت کو عام کرنے کا جو عمل یہاں سے غیر شعوری طور پر اور شعوری طور پر انجام پایا ہے وہ اپنے آپ  میں ایک تاریخ ہے ۔ قرآن وسنت کی بنیاد پر بیعت لینا اور قرآن وسنت کو اپنا دستور قرار دینا آج کے اس فتنہ پرور دور میں قابل ذکر کارنامہ ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ اس ملک کو اس حکومت کو تادیر قائم رکھے اور اپنے دین کا کام لیتا رہے ۔

رات زیادہ ہو رہی تھی ۔ ہم نے شیخ سے اجازت لی ۔ آپ نے ڈرائیور کو آواز دیا ۔ مین گیٹ کے باہر تک ہمیں چھوڑنے آئے اور ہم ان کی محبتوں ، کرم فرمائیوں اور ذرہ نوازیوں کے پھول اپنے دامن میں بھرتے ہوئے اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ آئے ۔ میر کا شعر یاد آرہا تھا ۔
پیدا کہاں ہیں ہم سے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی




بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی 2

ثناءاللہ صادق تیمی
جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

    بانی جامعہ امام ابن تیمیہ علامہ ڈاکٹرمحمد لقمان السلفی نے ہمیں پہلی ملاقات پر رخصت کرتے ہوئے ایک روز کھانے کی دعوت دی تھی اور آج انہوں نے بڑے بھائی ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی سے رابطہ کرکے اپنے ڈرائیور کو بھیج کرہم تینوں تیمی اخوان کو رات کے کھانے پر بلالیا ۔ ہمارے لیے یہ دعوت اہم تھی اس لیے بھی کہ ہمیں ان سے بہت کچھ سننا تھا ۔ کھانے کی میز پر جانے سے پہلے جب ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو پھر ہم نے انہيں چھیڑنا شروع کیا ۔ ہم نے سن بھی رکھا تھا کہ جب وہ سناتے ہيں تو سناتے ہیں اور یوں بھی ہمیں الحمد للہ کئی ایسے مواقع حاصل رہے ہیں جب ہم نے ان کو سنا اور ان سے استفادہ کیا ہے ۔ جامعہ امام ابن تیمیہ کے  دور طالب علمی میں  فجر کی نماز کے بعد ان کے دروس ہم بطور خاص کافی ذوق و شوق سے سنتے تھے ۔ انیس کا شعر

خیال خاطر احباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
پہلے پہل ان کی ہی زبانی سنا تھا اور شعر کی قرائت کا انداز ایسا تھا کہ اسی وقت جو یاد ہوا تو شعر الحمد للہ اب تک یاد ہے ۔ دوستی اور دوست کے انتخاب پر بڑا ہی جاندار اور بصیرت افروز خطاب تھا وہ ۔ اس کے علاوہ اگر یاد خطا نہ کرے تو ایک مرتبہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے مہمان خانے میں ان کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا ۔ ایک آدمی نے انہيں دعائیں دیں اور کہا کہ اللہ آپ کو بہت لمبی عمر دے اور انہوں نے جھٹ عربی شاعر کا ایک شعر سنایا ۔

سئمت من الحیاۃ و من یعش
ثمانین عاما لا ابا لک یسئم

اور اس طرح سنایا اور ہم سے استفسار کیا کہ شعر اب تک یاد ہے ۔ خیر تو ہم نے شیخ کوچھیڑا ۔ ان کی اردو میں سلاست اور عربی تحریروں میں وزن کی بابت دریافت کیا تو کہنے لگے کہ اپنی تحریروں کا ناقد خود بنیں ۔ ایک واقعہ سنایا کہ جب میں ایک ہفتہ وار رسالے میں کام کرتا تھا ۔ مجھے پہلی مرتبہ اس کے مدیر نے "خبر وتعلیق " کالم کے تحت لکھنے کے لیے کہا ۔ تب گرمی کےموسم میں ہم چھت پر سویا کرتے تھے ۔ ہم نے رات بھر تین چار مرتبہ لکھا اور مٹایا ۔ بالآخر جب فجر کی آذان ہوگئی تو ہم نے سمجھا کہ اب شاید کسی قابل ہوگیا ہوگا ۔ لکھے ہوئے مواد کو لے کر جب اخبار کے دفتر میں پہنچے اور مدیر نے اسے دیکھا تو اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔ پہلے تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ میں نے لکھا ہے لیکن جب اسے میری سنجیدگی اور ولولے کا پتہ چلا تو بڑا متاثر ہوا اور پھر وہ کالم میرے سپرد ہوگیا ۔ ہم نے عربی رسالہ " المسلمون " جسے ڈاکٹرسعید رمضان سویزرلینڈ سے نکالا کرتے تھے ، پڑھنا شروع کیا ۔ وہ حسن البناء کے بہنوئی تھے ۔ اس کی زبان ثقیل اور معقد ہوا کرتی تھی ۔ ہمیں ایسا لگا کہ ہمیں تو عربی آتی ہی نہیں ۔ ہم نے اپنے بعض عرب دوستوں سے ذکر کیا کہ ہمیں تو عربی کچھ بھی نہيں آتی ۔ انہوں نے جب اسباب کا پوچھا اور ہم نے بتایا کہ ہمیں" المسلمون" کے بہت سے حصے سمجھ میں نہیں آتے تو انہوں نے المسلمون کے قریب بھی نہ جانے اور طہ حسین کی کتابوں کے پڑھنے کا مشورہ دیا ۔ ہم نے "علی ھامش السیرۃ " پڑھی اور پھر احساس ہوا کہ نہيں تھوڑی بہت عربی ہمیں بھی آتی ہے ۔ اسی لیے میں طلبہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ طہ حسین کی کتابوں کا مطالعہ ضرور کریں ۔ آپ نے بتایا کہ مصطفی لطفی المنفلوطی کے یہاں تکلف اور تصنع بہت ہے ۔ تھوڑا بہت تکلف کا اثر مولانا ابوالحسن علی الندوی رحمہ اللہ کے یہاں بھی محسوس ہوتا ہے ۔ لکھنے پڑھنے کی بات چلی تو بتلایا کہ میں اپنے ایک دوست سے پوچھا کرتا تھا کہ مجھے لکھنے کیسے آئےگا اوروہ کہتے تھے کہ یہ نیم کا پیڑ ہے اسی کے بارے میں لکھنا شروع کردو کہ پیڑ ایسا ہے ویسا ہے ، تنے ایسے ہیں اور جڑ ایسی ہے وغیرہ ۔ بعد میں جب میں لکھنے لگا ۔ میری تحریریں چھپنے لگیں ۔ وہ انہیں پڑھتے ۔ ایک زمانے کے بعد جب ملاقات ہوئی تو بڑی خوشی اور رشک کا اظہار کیا ۔ بتانے لگے کہ لکھتے لکھتے اور مشق کرتے کرتے کچھ آتا ہے  ۔ ہم نے محنت کی تو اللہ نے وہ مقام دیا کہ عربوں کے رہتے ہوئے ہمارے شیخ علامہ ابن باز رحمہ اللہ جب کوئي اہم بات ہوتی تو کہتے کہ محمد (لقمان) کو دو وہ لکھینگے ۔

  اردو کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ پاکستان میں جو اردو بولی جاتی ہے اور جس طرح سے وہاں کی یہ سرکاری زبان ہوئي ہے اس نے اس کے پنپنے کے مواقع کھول دیئے ہیں ۔ کہنے لگے کہ وہ وہاں لوگ غیرارادی طور پر بھی اچھی اور ستھری زبان بولتے ہیں جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں ہے ۔ ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی کی اردو تحریر کی بڑی تعریف کی اور ہمیں  ہماری عربی کے بارے میں حوصلہ افزا کلمات سے نوازا۔  آپ نے دوران گفتگو یہ بھی بتلایا کہ اللہ کو کچھ اور منظور تھا کہ ہم اپنے ہی علاقے میں کچھ کام کریں ورنہ ہم تو ایک زمانے میں پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کا بھی ارادہ رکھتے تھے ۔ آپ نے اپنے احباب علامہ احسان الہی ظہیر اور مولانا عبدالرحن مدنی کو بڑے خوب صورت لفظوں میں یاد کیا ۔ ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی نے جب یہ کہا کہ ہندوستان میں تو مدارس کی وجہ سے اردو باقی ہے تو آپ نے اتفاق کرتے ہوئے یہ اضافہ بھی کیا کہ مدارس کے اندر بھی سارے مدارس کی کارکردگی ایک جیسی نہیں ہے ۔ آپ نے زبانوں کے بارے میں ایک بڑی اچھی بات یہ بتلائی کہ بلاوجہ کئی ایک زبانوں میں ماہر ہونے کی کوشش کرنا حماقت ہے ۔ آدمی کے لیے یہ بہت ہے کہ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ دو زبان اچھی طرح سیکھ لے ۔ آپ نے بتلایا کہ آج کی دنیا میں انگریزی اور عربی پر فوکس کیا جائے ۔ بچوں پر کئی کئی زبانوں کا بوجھ ڈالنا عقلمندی نہيں ۔ اسی طرح مدارس کے اندر بے مطلب سارے عصری علوم کے پڑھانے کی وکالت کرنا مدارس کے اصل مقصد کو ختم کرنے جیسا ہے ۔ ہاں ابتدائی درجات میں بنیادی معلومات بہم پہنچا دینا دوسری بات ہے ۔  لیکن جو لوگ اسلامی علوم کے حصول میں لگے ہوئے ہیں ، ان کا ان علوم کے اندر ہی دستگاہ حاصل کرنا ضروری ہے ۔ دس طرف ہاتھ پاؤں پھیلانے کا کوئي مطلب نہيں ۔

   باتوں باتوں میں ایک دلچسپ بات یہ بتلائی کہ اگر ہمارے زمانے میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں کلیہ اللغۃ ہوتا تو ہم اسی میں داخلہ لیتے ۔ لیکن خیر اللہ نے قرآن و حدیث کی خدمت کے لیے چن لیا ۔ اس سلسلے میں امام ذہبی رحمہ اللہ کا ذکر کیا کہ وہ چاہتے تھے کہ طب پڑھیں لیکن انہوں نے لکھا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے بس یہ چاہا کہ وہ حدیث رسول کے خادم ہوں ۔ وہ ذہبی کہ کعبہ کا غلاف پکڑ کرابن حجر دعا کرتے ہیں اے اللہ ہمیں امام ذہبی کا علم دے دے ۔ دوران گفتگومولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا ذکر آیا تو کہا کہ اس کے اندر تاریخ ہے لیکن روحانیت کی کمی معلوم پڑتی ہے ۔ اسے پڑھ کررونگٹے کھڑے نہیں ہوتے ۔

   سعودی عرب کا ذکر آیا تو آپ نے یہاں کے پر امن ماحول اور مضبوط سسٹم کو اللہ کی خاص مہربانی قراردیا اور بتلایا کہ آل سعود کو اللہ نے بڑی سوجھ بوجھ اور سمجھداری سے نوازا ہے ۔ شاہ فیصل کے بارے میں بتلایا کہ انہوں نے امریکیوں کو کھجور کھلایا اور نہایت جری انداز میں اس کا پتہ پیش کیا ہاتھ صاف کرنے کے لیے اور کہا کہ ہم تو ان کھجوروں پر بسر کرلینگے ۔ تمہارا کیا ہوگا اگر ہم نے تیل بند کردیا ۔ شاہ فہد کے بارے میں بتایا کہ ان کے زمانے میں ایک عتیبی نے ایک آدمی کو بہت مارا اور کہا کہ جاؤ اپنے بادشاہ کو بتاؤ ۔ دیکھتا ہوں وہ میرا کیا کرلیتا ہے ۔ اللہ کو منظور تھا اس آدمی کی جان بچ گئی اور اس نے شاہ فہد سے سارا واقعہ جاکر بیان کیا ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ وہ آدمی ہمیں ہر صورت میں چاہیے ۔ تین کے اندر اسے پکڑ لیا گیا ۔ اسے پھانسی دی گئی ۔ اس کی لاش کو لٹکا یا گیا اور بادشاہ نے اعلان کیا کہ عتیبیوں کو خبر دار کردو کہ غنڈا گردی کی تو ہم سات تہ زمین کے اندر سے ہی سہی نکال لائینگے اور سزا دے کر رہیںگے ۔ آپ نے باتوں باتوں میں بتلایا کہ امام احمد بن حنبل کہا کرتے تھے کہ کسی کو جنت اگر دیکھنی ہو تو بغداد کو دیکھے ۔ آج یہی بات سعودی  عرب کے بارے میں کہی  جاسکتی ہے ۔ آپ نے ہم اخوان کو خوب محنت کرنے ، کتابیں پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ اپنے اندر حاصل کرنے کا دھن پیدا کرنے کی تلقین کی ۔ کہا کہ یاد رکھیے کہ ابھی آپ لوگوں کے لیے ہنوز دلی دور است ۔ خالص ہندوستانی طرز کے نفیس اور نہایت لذیذ کھانے سے شادکام ہونے کے بعد شیخ کے حکم پر شیخ کے ڈرائیور نے ہمیں ہمارے ٹھکانے پر لاکر ڈراپ کردیا ۔ آج ان کو دیکھ سن کراپنا ہی ایک شعر بار بار ذہن میں آیا۔
ان سے جب ملے ساگر ، دل نے کی یہ سرگوشی
آدمی بھی رہتے ہیں آدمی کے میلوں میں







بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی


ثناءاللہ صادق تیمی 
 جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

      ریاض آنے کے بعد ہماری پہلی خواہشوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جامعہ امام ابن تیمیہ کے مؤسس علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ تبارک و تعالی سے ملاقات کا شرف حاصل ہو ۔ اللہ بہتر بدلہ دے جناب عاصم سلفی صاحب کو کہ انہوں نے فیس بک کے ذریعہ رابطہ کیا اور ہمیں لینے ہمارے ہوٹل پہنچ گئے ۔ کئی سارا کام بڑی آسانیوں سے انہوں نے کروادیا ۔ شام کو  بڑے بھائي اور متحرک داعی ڈاکٹر معراج عالم التیمی بھی آگئے ۔ ان سے علیک سلیک کے بعد ہم نے اپنے میزبان جناب عاصم سلفی صاحب کے سامنے یہ بات رکھی کہ ہم ڈاکٹرلقمان السلفی سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس وقت سابق نائب رئیس جامعہ شیخ خورشید عالم المدنی کے بڑے صاحبزادے جناب فواد بھی ڈاکٹر معراج عالم تیمی کے ہمراہ تھے ۔ محبت سے ملے اور اپنے تجربات کی روشنی میں کچھ بڑے گڑ کی باتیں شیئر کیں ۔ ہم چار تیمی ، ڈاکٹر معراج عالم تیمی ، ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، جناب حفظ الرحمن تیمی اور ثناءاللہ صادق تیمی ( میں ) ریاض میں واقع ڈاکٹر محمد لقمان السلفی کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔ ڈاکٹر صاحب اپنے بالکل روایتی محبت اور شفقت بھرے انداز میں ملے اور پھر باتوں کا سلسلہ چل پڑا ۔ حالانکہ ہم پہلے سے بھی جانتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بہت باغ و بہار آدمی ہیں ۔ صاف ستھرا اور مزیدار ذوق رکھتے ہيں ۔ خشکی ان کو چھو کر بھی نہيں گئی ۔ لیکن اس دن اس کا اندازہ تھوڑا زیادہ ہی ہوا ۔ ہمارے میزبانوں نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر صاحب بالکل روایتی انداز میں ملتے ہی نہيں خالص بہاری اور وہ بھی اپنے علاقے کے ٹریڈیشنل ڈشوں سے ہی ضیافت کرتے ہیں اور اس کا عملی تجربہ بھی ہمیں ہوا ۔ اچھی خاصی مقدار میں ناشتے کا سامان آیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ کہتے ہوئے کہ پورا ختم کرنا ہوگا ایک بڑا دلچسپ لطیفہ سنایا کہ ایک پٹھان نے ایک بنگالی کی دعوت کی ۔ دسترخوان پر کھانا لگانے کے ساتھ کئی لوگوں کو چاروں طرف سے گھیرا بنا کر کھڑا کردیا اور جب اس بیچارے بنگالی نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہيں تو کہا کہ ہمارے یہاں اگر کوئی مہمان پورا کھانا نہیں کھاتا تو اسے ڈنڈے لگائے جاتے ہيں ۔ لطیفہ سے زیادہ ڈاکٹر صاحب کے خاص انداز نے لطف پیدا کردیا اور ہم تہذیب کے دائرے میں ہی سہی ہنسے بنا نہيں رہ سکے ۔

     ان کی طبیعت اور صحت کی بابت دریافت کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی الحمد للہ پہلے کے مقابلے میں صحت اچھی ہے ۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اچھا خاصا کام ہو چکا ہے ۔ " کاروان حیات " کے نام سے وہ کتاب سامنے آئےگی تو آپ لوگ دیکھینگے ۔ ڈاکٹر معراج عالم التیمی نے کہا کہ ہم تو دیکھینگے بھی اور حاشیہ بھی چڑھائینگے ۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے جھٹ کہا کہ ہم اجازت دینگے تبھی تو آپ حاشیہ چڑھائینگے اور محفل میں خوشگواری پھیل گئی ۔ ہم سے نصیحت کی کہ اپنی پی ایچ ڈی ضرور مکمل کریں اور جب ہم نے گورمنٹ جاب میں رہتے ہوئے ایسا کرنے کی پریشانی کا ذکر کیا تو اردو شعر کا ایک خوب صورت مصرع سنا دیا کہ
تو نہیں اور سہی اور نہيں اور سہی

   باتوں کا سلسلہ دراز تو تھا ہی ۔ اس بیچ ہم تیمی اخوان ان سے سننے کو ہی ترجیح دے رہے تھے ۔ مدارس میں تربیت کے نظام کی خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بالعموم مدرسوں میں طالب علم کی صلاحیتوں کو ابھرنے اور پنپنے کا موقع نہیں ملتا ۔ ذمہ داران مدارس بچوں کو دھونسیا کر رکھتے ہیں جس سے ان کی فطری صلاحیتوں پر ضرب پڑتی ہے ۔ آپ کا ماننا تھا کہ طلبہ کے اندر خود اعتمادی ، اعلا ظرفی اور بڑی سوچ تبھی پیدا ہوگی جب ان کی تربیت میں انہيں یہ احساس دلایا جائے گا کہ وہ بہت قیمتی اور قابل قدر ہيں ۔ اپنے ایک دوست کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ اپنے بچے کو جب وہ پٹ کر آجاتا تھا پیٹ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ باہر سے پیٹ کر آؤ پٹ کر مت آؤ۔
     باتوں ہی باتوں میں کبر و غرور سے بچنے کی خاص تلقین کی ۔ بتلایا کہ میں نے زندگی میں کسی مغرور آدمی کو کامیاب نہيں پایا ۔ کبر اللہ کا خاصہ ہے ۔ اللہ کی چادر ہے ۔ اگر کوئی اس سے چھیننے کی کوشش کرےگا اللہ اسے نہيں بخشے گا ۔ اپنا ایک واقعہ بیان کیا کہ جب ہم لوگ امتحان دینے کے لیے اکٹھا تھے ۔ ہم نے کسی بات پر کاپی کوعلاقائی اثر کی وجہ سے  کوپی کہا ۔ اس پر ایک طالب علم نے بڑا مذاق اڑایا اور جب رزلٹ آیا تو اس آدمی کو انڈے ہی انڈے ملے تھے ۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ انہوں نے خود ہم طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ متوسط درجے کے آدمی تھے ۔ ان کے کلاس میں ایک پر ایک بڑے ذہین اور فطین طلبہ تھے لیکن نہ معلوم انہيں زمین نے نگل لیا یا آسمان نے اچک لیا، کہاں گئے کچھ پتہ نہیں چلا ۔ انہوں نے بطور خود محنت کی اور تواضع اختیار کیا تو اللہ نے نواز دیا ۔ انہوں نے اس واقعے کا ذکر کرکے ہم طلبہ کو تواضع اور للہیت اختیار کرنے کو کہا ۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتلایا کہ صاحبان علم یہاں خود کو طلبۃ العلم کہتے ہیں ۔ آپ نے اپنے مزید تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ادارے سے دو چار لوگوں کا پیدا ہو جانا اس ادارے کی بڑائی کی بات نہیں کہ کچھ لوگ تو ذہین وفطین ہوتے ہی ہيں ۔ ادارے کا اصل پتہ تو اس سے چلتا ہے کہ وہاں تربیت کا نظام کیسا ہے اور اچھے اور بالیاقت فارغین کا ریشیو کیا ہے ؟ عربی شاعر حطیہ کا ہجویہ شعر

دع المکارم لا تسعی لبغیتھا
اقعد فانک انت الطاعم الکاسی
کئی ایک بار پڑھا اور بتایا کہ وہ آدمی جس کی ہجو کی گئی تھی اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی اور کہا کہ حطیہ نے ہماری ہجو اس طرح سے کیا ہے ۔ حضرت عمر سے اس آدمی نے شکایت تو کی لیکن وہ اس شعر میں ہجو کے ادراک کے باوجود امیر المومنین کو بتایا نہیں پارہا تھا کہ آخر ہجو کیا ہے ۔ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے حضرت حسان کو بلایا اور پوچھا کہ شعر میں ہجو کیا ہے ۔ حضرت حسان رضي اللہ عنہ نے بتلایا کہ شاعر نے تو اس آدمی کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ اس نے تو اسے کتے سے تشبیہ دے دی ہے کہ بیٹھے رہو ، پیٹ پالو اور رفعتوں کا خیال مت کرو ۔ شعر دراصل ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے سنایا جنہیں ہمیشہ صرف اپنا الو سیدھا کرنے کی فکررہتی ہے ۔

   چائے وائے پلانے کے بعد یہاں علماء کا جو لباس ہے اس بابت بھی چند نصیحتیں کیں ۔ غطرہ باندھنے اور توب سلوا کر پہننے کا مشورہ دیا اور جب ہم نے اجازت طلب کی ۔ ایک روز کھانا کھانے کی دعوت دی اور اپنے دروازے تک ہم تمام احباب کو چھوڑنے آئے ۔ ان کے پاس سے آتے ہوئے یہ شعر بہت یاد آرہا تھا ۔
بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی
وہ اپنی ذات سے اک انجمن ہیں


السبت، فبراير 14، 2015

دولت کی بھوک اور شہرت کا روگ

محمد شاکر عادل تیمی

جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ


آپ نے سنا ہوگا کہ فلاں شخص دولت کا بھوکا ہے،اسے ٹکا تھمائیے اور کام نکالئے.یعنی اس کے نزدیک پیسہ سے زیادہ کسی بات کو اہمیت نہیں.اور وہ معمولی دوکوڑی کے لئے بھی بہت حد تک گر سکتا ہے.
اسی طرح ایک روگ شہرت کا ہے.اس کا مریض ایسے جیسے کسی صیاد کے دام میں شکار.اب اس کی خیر نہیں بعد از مرگ ہی اس بیماری سے جان چھوٹے. 
میں نے دولت اور شہرت میں فرق کیا اور دولت کے ساتھ بھوک کو ملایا اور شہرت کو مرض سے تشبیہ دی.وہ اس لئے کہ نظریاتی طور پر دیکھیں تو دولت کچھ حد تک بھوک کا ساماں ہوتا ہے.لیکن شہرت ایک حسی اور معنوی طور پر  بے سود چیز ہے جیسے انسان کسی روگ کو محسوس کرتا ہے حالاں کہ وہ بظاہر غیر مفید شیئ معلوم ہوتی ہے.یہاں پر شرعی رو سے شہرت اور روگ میں بنیادی فرق ہے. شہرت ظاہری فائدہ اور معنی گناہ کے ساتھ نیکی کا خسارہ.  اس کے برعکس روگ ظاہرمیں نقصان اور باطن میں اللہ سے اجر وثواب میں زیادتی اور گناہوں کے کفارے کا فائدہ.
شاید یہ بات تھوڑی سمجھ میں نہ آئے.
دیکھئے!شہرت معنی غیر مفید اس لئے کہ ظاہرا اس سے ملنے والی خوشی اور اس کی کیفیت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں.لیکن شہرت کا معنوی پہلو جس پر نگاہ نہیں جاتی وہ ہے غیر منافع بخش یعنی گھاٹے کا سودا.اب سودا کیوں؟وجہ صاف ہے کہ ایک انسان شہرت کی چاہ میں اپنی گاڑھی کمائی بھی بے دریغ لٹا دیتاہے اور بطور منفعت ہاتھ میں کھوٹا سکہ بھی نہیں.بلکہ اللہ کے یہاں مجرمیں کہ صفوں میں شمار کیا جائے گا.والعیاذباللہ!
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں اگر کسی بات کے تعلق سے سب سے زیادہ ڈر تھا تو وہ ہے دکھلاوا،ریاء،نمو اور شہرت.چناں چہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تم لوگوں کے بارے میں جس تعلق سے سب سے زیادہ خائف ہوں وہ ہے چھوٹا شرک"ریاء".
اس لئے کہ ریاء کو بطور ترکہ ورثے میں ملنے والے جو اوصاف ہیں وہ سب انسان کو ذلت وخواری کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیتے.اور وہ شخص کبروغرور کا شکار ہوکر اپنی حیثیت تمام کربیٹھتا ہے.اب نہ لٹانے کو کچھ رہا اور نہ بچانے کو کچھ. 

اور رہی بات دولت اور اس کی بھوک تو یہ دونوں باتیں معتوب اور مطعون نہیں ہیں.بلکہ ایک  مطلوب ہے اور دوسرا اس کے حصول میں جد وجہد ہے.
لیکن یہ بات ضرور غلط ہے کہ ایک انسان سب کچھ پیسہ کو ہی سمجھ لے اور اس کے لئے وہ عزت وشرافت اور خودداری جیسی صفات کو پامال کردے. اس لئے کہ جو مال اس راہ آئے وہ نہ تو سکون قلب کا باعث ہے اور نہ ہی شرف ومروت کی بات ہے.بلکہ یہ حرام اور خبیث مال ہے جو اللہ رب العزت کی پاک اور حلال پسند کے منافی ہے.
اللہ تعالی فرماتاہے:ائے ایمان والوں پاک اور حلال چیزوں میں سے کھاؤ"
اور رسولوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:"ائے رسولوں پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور عمل صالح کرو.
آٰیت کا پہلا ٹکڑا جس میں رسولوں کو حلال رزق کے اختیار کی تلقین کی جارہی ہے .دوسرے قطعہ میں نیک کاموں کا حکم دیا جارہاہے.یعنی عبادات کے قبول کی شرط میں سے ہے کہ رزق حلال اور پاکیزہ اپنایا جائے.جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مسلم کہ روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ دونوں آیات کے بیان کے بعد ایک ایسے شخص کا ذکر کرتے ہیں جو لمبا سفر طے کرکے آیا ہو اس کے بال پراگندہ ہوں غبارآلود ہوں. اور وہ اپنے دونوں ہاتھ آسماں کی جانب اٹھائے ہو. اور ائے میرے رب!ائے میرے رب!کی پکار لگارہاہو.حالاں کہ اس کا کھانا حرام کا ہے،پانی حرام کاہے.اس کے بدن پر پوشاک حرام کمائی کا ہے.اس کی پرورش حرام طریقے پر ہوئی ہے.ایسی صورت میں اس کی  دعاء قبول ہوگی؟!!!
یہ بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے.اللہ ہمیں کسب حلال کی توفیق دے اور اس کی راہ آسان کرے.

اب اگراصول اور شرعی حدود وقیود کی بندش سے آزاد نہ ہوکر دولت کمائی جائے اور اس کی بھوک ہو تو کوئی بات نہیں. بلکہ یہ مستحسن امر ہے.
اللہ تعالی تجارت میں وقت کی پابندی کو متعین کرتے ہوئے فرماتا ہے:ائے ایمان والوں جب جمعہ کی نماز کے لئے آذان پکاری جائے تو اللہ کے ذکر (نماز)کے لئے جلدی کرو اور اپنی تجارت کو چھوڑ دو.اس میں تمہارے لئے خیروبھلائی (پوشیدہ)ہے اگر تم جان لیتے.اور جب نماز پوری ہوجائے تو زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل(رزق)کو تلاش کرو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو شاید کے تم کامیاب ہوجاؤ.

دولت اور شہرت پر گفتگو کے بعد ایک بات آئینے کی طرح بالکل صاف ہوگئی کہ دولت کی بھوک اگر غیر مشروع طور پر مٹانے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام شہرت کے روگ کے انجام کے مماثل ہوگا.یعنی دونوں کا طالب عنداللہ معتوب ہے.لیکن اگر حلال طریقے سے مال کمایا جائے تو یہ مطلوب اور مستحسن امر ہے.معلوم ہوا کہ دولت کی بھوک جائز طریقے سے مٹائی جاسکتی ہے لیکن شہرت کا روگ تو کسی طور پر بھی سود مند نہیں بلکہ اس میں مال،عزت اور سکون سب کا خسارہ ہے.یعنی شہرت کسی بھی زاویے سے یا اس کا کوئی بھی پہلو قصیدہ خوانی کا مستحق نہیں.البتہ اس کے طالب کا جنونی پہلو ستائش کا مستحق ہے اور کاش وہ اپنے اس جنون کا فائدہ اپنی شخصیت کی مثبت تعمیر میں لگاتے.

الخميس، فبراير 12، 2015

ہندوستانی پارلیمنٹ سے اسلامی پارلیمنٹ تك

ڈاکٹر ظل الرحمن لطف الرحمن التیمی 


سات جولائی 2014 كو میری تقرری ہندوستانی پارلمینٹ كے راجیہ سبھا میں بطور ترجمان simultaneous interpreter)) ہوئی۔ راجیہ سبھا اور لوك سبھا میں ہندی وانگریزی سمیت متعدد زبانوں میں فوری ترجمہ وترجمانی (simultaneous interpretation) كی خدمات پیش كی جاتی ہیں۔ میں اردو سے انگریزی زبان میں فوری ترجمہ وترجمانی كرنے پر مامور ہوا تھا۔ عام طریقہ سے مسلم نمائندگان پارلیمنٹ جو بہار، یوپی، دلہی، كاشمیر، اندھرا پردیش اور مہاراشٹر وغیرہ سے تعلق ركھتے ہیں ،وہ اردو زبان میں اپنے خیالات كا اظہار كرتے ہیں۔راجیہ سبھا میں مجھے جناب محمد ادیب صاحب(ایم پي) كی سليس ورواں اردو سننے كو ملی۔ جناب محمد سلیم (ایم پي) كا انداز بھی نرالا تھا۔ جناب غلام نبی آزاد (ایم پي)كی زبان دانی كا اعتراف كیے بغیر نہیں رہ سكتے۔ جناب غلام رسول بلیاوی(ایم پي) اپنی لچھے دار تقریروں كی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ جناب علی انور (ایم پي) كا پوچھنا ہی كیا ہے، وہ سماجی كاركن اور اچھے مقرر ہونے كے ساتھ كافی ملنسار بھی ہیں۔ محترمہ كہكشاں پروین صاحبہ(ایم پي) نے تو راجیہ سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں ہی سب كو قائل كرلیا۔ البتہ جناب مختار عباس نقوی صاحب (ایم پي)كی پارلیمنٹ كے سرمائی اجلاس میں ہونے والی تمام تقریروں كے ترجمہ كا جو كام مجھے ملا، وہ میرے لیے كوئی آسان نہیں تھا۔ كیونكہ ان كی تقریروں میں اردو كے الفاظ كم اور ہندی كے زیادہ ہوا كرتے تھے۔ البتہ ان تقریروں سے مجھے ہندی كے الفاظ سیكھنے اور سمجھنے كا سنہری موقع ملا۔ میں نے ان كی جن تقریروں كے ترجمے كیے وہ پارلیمانی ڈبیٹ میں ہندی واردو كے ساتھ انگریزی میں شائع بھی ہوئے۔


تقرری كے سلسلے میں مجھے سب سے پہلے جناب ڈی بي سنگھ صاحب، ایڈیشنل سكریٹری ، راجیہ سبھا نے فون كركے اطلاع دی ۔ انہوں نے بتایا كے تین مرحلوں میں ہونے والے امتحان میں آپ نے اول مقام حاصل كیا ہے، اور چونكہ راجیہ سبھا میں اردو سے انگریزی میں ترجمانی كے لیے ایك ہی اسامی تھی ، اس لیے آپ كا( كنٹریكچول )تقرر كیا جاتا ہے۔ انہوں 4 جولائی كو فون كیا تھا ، اور بتایا كہ آپ جلدی تقرری كی كارروائی مكمل كرلیں ، تاكہ 7جولائی سے شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں خدمات انجام دیں سكیں۔ تقرری كی كارروائی مكمل كرنے كے بعد میری ملاقات شعبہ ترجمانی كے سربراہ شری راماكانت داس صاحب، جوائنٹ سكریٹری، راجیہ سبھا سے ہوئی۔ انہوں نے پرجوش استقبال كیا اور سروس كی نزاكتوں سے مطلع كیا۔ انہوں نے بلا كسی تاخیر لوك سبھا كے اردو-انگریزی ترجمان جناب نفیس احمد صاحب كو فون كركے تشریف لانے كو كہا۔ ان كے تجربات اور اس سروس كی باریكیوں كے متعلق ان كی آرا بھی ایك نئے ترجمان كے لیے مشعل راہ كی حیثیت ركھتے تھے۔ پھر انہوں اس سروس كی ڈائركٹر محترمہ نیشي چڈھا كو بھی فون كركے بلوایا۔ انہوں نے محترمہ كو مكلف كیا كہ مجھے سروس كے افسران سے متعارف كروائیں اور سروس كی ساری تفصیلات اور كام كرنے كی نوعیت سے آگاہ كردیں۔ انہوں نے نہایت خوبصورتی كے ساتھ سب سے اس انداز سے متعارف كرایا كہ كہیں بھی اجنبیت كا احساس تك نہیں ہوا۔ پارلمینٹ كے روم نمبر 122 میں مجھے بیٹھنے كی جگہ دی گئی۔ پھر كیا تھا میں نےاپنے كام كوسمجھنا اور اپنی ذمہ داریوں كو ادا كرنا شروع كردیا۔

راجیہ سبھا كی اس سروس سے مجھے بہت ساری نئی چیزیں سیكھنے اور اپنے علمی افق كو فزوں تر كرنے كا موقع ملا۔یہا ں كے ٹریننگ سیشن سے بھی میں نے كافی استفادہ كیا۔ اس ٹریننگ سیشن میں جنا ب منجل كمار پانڈے ، جناب كرشنن مینن، جناب جوائے ماتھیو، جناب منوج كمار اور سوربھ شیكھر(مذكورہ تمام افسران راجیہ سبھا میں جوائنٹ ڈائركٹر كے عہدہ پر فائز ہيں) كی رہنمائیاں كافی اہم رہیں۔

ایك دن راجیہ سبھا كے سكریٹری جنرل جناب شمشیر كے شریف صاحب نے كسی اہم دستاویز كے ترجمہ كے لیے بلوایا۔انہوں نے اس موقع كو غنیمت جانتے ہوئے اردو اور اس كی بقاء وتحفظ كے متعلق كئی ساری باتیں بتائیں اور مناسب رہنمائی بھی كی۔ چونكہ بڑے افسران كو بھی ان سے ملنے كے لیے پہلے سے ہی وقت لینا پڑتا ہے، اور مجھے كسی دستاویز نے ترجمہ كے بہانے خود وہاں پہونچا دیا، تو مجھے اندازہ ہوا كے سڑك سے پارلیمنٹ تك كسی نہ كسی شكل میں یہ زبان اپنا وجود ركھتی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری صاحب كو دارالمصنفین ، اعظم گڑھ كے صد سالہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ اس موقع سے ان كی تقریر انگریزی زبان میں تیار ہوئی تھی۔ البتہ انہیں وہاں اپنا مقالہ اردو میں پڑھنا تھا ، كیونكہ پروگرام میں زیادہ تر اردو داں طبقہ كے شركت كرنے كی امید تھی ۔ چنانچہ وہ تقریر میرے پاس آئی اور میں نے اپنی بساط بھر اسے اردو كا جامہ پہنا كر ان كی خدمت میں پیش كیا۔انہوں نے ترجمے كو پسند فرمایا، اور وہ تقریر اردوو انگریزی دونوں زبانوں میں شائع بھی كی گئی اور اردو زبان میں پیش كی گئی۔ نائب صدر جمہوریہ كی ویب سائٹ پر اس كا مطالعے بھی كیا جاسكتاہے۔

ابھی میں نے پارلمینٹ كی چہار دیواری میں چند ہی مہینےگذارے تھے كہ ائمہ حرمین كی ترجمانی اور امام محمد بن سعود اسلامك یونیورسٹی ، ریاض میں كالج برائے السنہ وترجمہ میں تدریسی اسامیوں كاپتہ چلا۔ مملكت سعودی عرب كےوفد كی ،ان اسامیوں كی تقرری كے سلسلے میں ہندوستان كے دورہ پر آنے كی خبر جیسے ہی مجھے لگی، میں نےفورا اس میں شریك ہونے كا ارادہ كیا۔ میں نےاس سلسلے میں اپنے چھوٹے بھائی عزیزم حفظ الرحمن اور عزیزم ثناء اللہ صادق تیمی كو فون كركے بتایا ، اور اس میں شریك ہونے كے لیے كہا۔ میں نے عزیزم ثناء اللہ كو بھائی نور عالم سلفی كو بھی فون كركے خبر دینے كے لیے كہا اور الحمد للہ میرا اور ان تینوں حضرات كا اس مقابلہ میں انتخاب ہوگیا۔ وللہ الفضل من قبل ومن بعد

ائمہ حرمین كی ترجمانی كے سلسلے میں تقرری كے بعد میں نے اس شرف واعزاز كو اپنے لیے دنیا كی دوسری تمام مشغولیتوں سے زیادہ اہم سمجھا اور یہاں آنے كا فیصلہ كرلیا۔ اس سلسلے میں جیسے ہی میں نے تحریر ی اطلاع راجیہ سبھا میں دی ، تو سب نےاچھی جگہ جانے پر خوشی اور بچھڑنے پرافسوس كا اظہار كیا، كچھ مخلصین تو دور ہونے اور بچھڑنے پر كچھ زیادہ ہی غمزدہ ہوئے ۔ ان میں سے بعض نے آخری دنوں میں پرتكلف دعوتیں بھی كیں۔ روم نمبر 96 كے افسران نے ایك ساتھ مل كر كمرے میں ہی الوداعیہ دیا۔ سروس كی ڈائركٹر محترمہ نیشی چڈھا صاحبہ نے انڈیا ہیبٹیٹ سینٹر میں الوادعیہ دیا۔ جوائنٹ ڈائركٹر جناب منجل كمار پانڈے نے كے ایف سی، كناٹ پلیس میں مدعو كیا۔ جناب سوربھ شیكھر، جوائنٹ ڈائركٹر، جناب كرشنن مینن، جوائنٹ ڈائركٹر اور جناب رنجن جھا نے ہماچل بھون كی كینٹین میں الوداعیہ پارٹی دی۔ ان تمام ساتھیوں كی محبتوں اور عنایتوں كو فراموش نہیں كیا جاسكتا جو مذہب اور علاقائیت سے اوپر اٹھ كر تھی۔ فجزاہم اللہ وہداہم اللہ

شاتم رسول تسلیمہ نسرین کے پیچھے کون ؟


رحمت کلیم امواوی
(جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی)

سچائی کا یہ چہرہ کبھی قابل انکار نہیں ہو سکتا کہ مذہب اسلام کو جس قدر اہل اسلام نے ٹھیس پہنچائی ہے اور جس طرح مذہب اسلام کے احکام کو پامال کیاہے، اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے اور عالمی پیمانے پر اسلامی روح کو زک پہنچانے کی ناروا کوششیں کی ہیں شاید ہی دوسرے مذاہب کے ساتھ اس کے ماننے والوں نے ایسا سلوک کیا ہوگا۔ تاریخ کے اوراق ایسے واقعات وسانحات سے بھرے پڑے ہیں جنہیں بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے اور شعر کے اس مصرعہ میں بھی قوی سچائی ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
اسلامی لیبل چسپاں کئے یا لاالہ اللہ کا بینر لگائے جتنی بھی نام نہاد اسلامی تنظیمیں ہیں چاہے وہ طالبان ہوں یا القائدہ، جماعة الدعوہ ہوںیاانڈین مجاہدین،حجب اللہ ہوں یا داعش۔ مذکورہ تمام تنظیموں نے اسلامی شبیہ کو مسخ کرنے میں جتنا گھناﺅنا کردار ادا کیا ہے اتنا ان تنظیموں نے نہیں کیا جو مغرب نے بطور خاص ہمارے لیے تیار کیے ہیں۔اسامہ بن لادن ہو یا ابوبکر بغدادی، حافظ سعید ہو یا داﺅد ابراہیم یا پھر اس قطار میں کوئی اور سبھوں نے اپنے اپنے طور پر اسلامی حیثیت اور اسلامی حقیقت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی ہیں اور کم علم وعقل مسلم نوجوانوں کو جذباتی و مذہبی بلیک میل کرکے اس انداز میں تشدد کے راہ پر گامزن کردیا ہے کہ ان کے اذہان و قلوب پر تالے پڑ گئے ہیں اور حقیقت شناسی سے بہت دور بھاگتے ہوئے جذباتی انداز میں اسلام کے نام پر غلط راہ پر چل پڑے ہیں جن کے کارناموں سے آئے دن اسلام پر انگشت نمائی ہوتی رہتی ہے۔خیر یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے اپنے گھر سے کب اور کس طرح اپنے ہی مذہب کے دشمن بن گئے اس کا احساس بھی نہ ہوا اور جب تک ان لوگوں کو سمجھ پاتے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔لیکن عالمی پیمانے پر مذہب اسلام کو نشانہ بنانے کیلئے جس انداز میں سعی کی جارہی ہے اور جس قسم کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔مغرب نے اپنے وجود کو بطور خاص مذہب اسلام کے خلاف وقف کر رکھا ہے اور موقع بہ موقع مغربی کارفرمائیوں کا ہمیں مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کارٹون شائع کیے جاتے ہیں تو کبھی جوتے پرمعاذ اللہ’ اللہ و محمد‘ لکھا جاتا ہے تو کبھی اسلامی تعلیمات کو منفی انداز میں فلما کر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور طریقے سے اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور مسلمانوں کی غیرت و حمیت کا باربار امتحان لیا جاتا ہے مگران تمام حرکات سے بالا تر مغرب کی سب سے مضبوط اور کار آمد پالیسی جو ہے وہ ہے ہمارے اپنوں کے ہاتھوں اپنے مقصد کو حاصل کرنا ۔یعنی ہمارے درمیان یا یوں کہیے کہ ایسے نام نہاد (so called) مسلمان جنہیں شہرت اوردولت اپنے مذہب کے بالمقابل کچھ زیادہ ہی عزیز ہو اور اس حقیر دولت و شہرت (بدنامی) کو حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہوں ایسے لوگوں کا استعمال اپنے مفادات کیلئے مغرب خصوصاً کرتا ہے اور مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے نان ونفقہ کا لالچ دے کر ایسے منافقوں سے ہم پر حملے کراتا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں آج بھی محفوظ ہیں۔
لیکن ہم تاریخ کے پیچ و خم میں نہ الجھ کر ماضی قریب کا سہارا لیتے ہوئے حال تک اس حوالے سے پہنچنے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون لوگ ہیں جو مغربی غذا کھا کر اسلام کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔اس فہرست میں عام طور پر دو نام فوراً ذہن میں آتے ہیں ۔ایک شاتم رسول سلمان رشدی اوردوسرا گستاخ رسول تسلیمہ نسرین کا۔سلمان رشدی کے خلاف بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ توخاموش ہے لیکن شاتم رسول تسلیمہ نسرین کے خلاف لاکھ آواز اٹھانے اور جلا وطن کرنے کے بعد بھی اس کی دریدہ دہنی میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ بدستور اپنی زہر افشانی پر قائم ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور کس کی شہ پر نسرین اس قدر جری ہے ان سوالات کا احاطہ بعد میں کریں گے،پہلے اس بدنام زمانہ خاتون کی زندگی کے بارے میں چند بنیادی باتیں جان لیں ۔
            اس بد نصیب کی پیدائش 25 اگست 1962کوبنگلہ دیش میں ہوئی اور وہیں ابتدائی تعلیم کے بعد ایم بی بی ایس تک کی تعلیم بھی مکمل کی۔ بچپن سے ہی اس کی بد چلنی، فحاشی اور بے حیائی کے چرچے تھے، اسکول و کالج میں اس کو اسی حوالے سے جاناجاتا تھا، چال چلن اور عادات واطوار ایسی کہ کوئی بھی باکردار اس کے سایے سے بھی پناہ مانگے ،یہی وجہ ہے کہ تسلیمہ نسرین کی ازدواجی زندگی کبھی کامیاب نہ ہو سکی اور یکے بعد دیگرے تین تین شادیاں کیں لیکن سبھوں نے اس کی بے راہ روی سے عاجز آکر اسے طلاق دے دی۔ سن 1982ء میں وہ بنگلہ دیش کے مشہور شاعر محمد شاہد اللہ کے عشق میں گرفتار ہوگئی اورگھر سے بھاگ کر شادی کرلی لیکن سن1986ء میں شاہد اللہ نے تھک ہار کر اس کو آزاد کردیا،پھر اسکے بعد اس نے ایک صحافی نعیم الاسلام خان سے شادی رچائی لیکن خان کی زندگی میں آتے ہی اس خاتون نے اس کی زندگی اجیرن کردی اور مجبور ہوکر نعیم نے بھی سن1991ء میں اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا، اس طرح اسے یہ دوسری طلاق ملی۔ اس کے بعد بھی اس کی جنسی بھوک نہیں مٹی تواس نے ایک ہفت روزہ کے ایڈیٹر کو اپنے جال میں پھنسایا اور منار محمود سے شادی کر لی لیکن اس کی بے حیائیاں اور بد تمیزیاں یہاں بھی کم نہ ہوئیں تو منار نے بھی عاجز آکر اس کوسن 1992ء میں ہمیشہ کیلئے آزادی کا پروانہ دے دیا۔اس کے بعد سے اب تک یہ ادھر ادھر منہ مار رہی ہے اور مغربی ٹکروں پر پلتے ہوئے اسلام کے خلاف زہر افشانیاں کر رہی ہے۔بنگلہ دیش میں بھی اس کے کالے کرتوت موقع بہ موقع سبھوں کے سامنے آتے رہے ہیں ۔ سن1999میں بنگلہ دیش ساہتیہ اکادمی کے اس وقت کے چیئر مین سنیل گنگ اپادھیائے نے جب تسلیمہ کی ایک گندی اور پھوہڑکتاب کے خلاف فیصلہ دیا تو اس نے خوداس صاف وستھری شبیہ والی شخصیت پر اپنے ساتھ جنسی استحصال کا الزام لگا دیا۔
            بہر کیف یہ تمام باتیں اس سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ یہ بدکردارخاتون کسی بھی اعتبار سے پاک دامن اور کسی ایک مذہب کی نہیں ہے۔جب وہ اپنی ازدواجی زندگی خوشحال نہ بنا سکی او ر تین تین گھر اجاڑ دیے تو اس کے بعد اس گستاخ کو کوئی مستحکم ٹھکانہ نہیں مل پار ہا تھا، آخر کار اسے مغربی منصوبہ کو اختیار کرنا آسان لگا اور یہ امید بھی جگی کہ مغرب کا گرویدہ ہونے اور راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچنے کیلئے سب سے آسان راستہ مذہب پر حملہ کرنا ہی ہے۔ اس کے بعد یقینا کچھ لوگ موافق تو کچھ مخالف بن جائیں گے۔ لیکن معاملہ یہ تھا اگر وہ عیسائی یا یہودی عقیدے کے خلاف کچھ بولتی یا لکھتی ہے تو چاروں طرف سے بے سہارا ہو جائے گی اور جینا مشکل ہو جائے گا اور اگر ہندوازم پر وار کر تی ہے تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی مانند آخری سہارا جو ہندوستان ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا اس لیے اس نے اپنی مذموم حرکت کیلئے مذہب اسلام کا انتخاب کیا چونکہ وہ جانتی تھی کہ مفت کی شہرت اور مغرب سے حقہ پانی مسلمانوں کو ٹھیس پہنچا کر ہی مل سکتا ہے۔
اس لیے اس نے ایک ناول تصنیف کی اور سن 1993ء میں’لجا‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آیا۔جس میں ہمارے تاجدار بطحی محمد عربی ﷺ کی شان اقدس میں نہایت گستاخی کی گئی پھر کیا تھا مذہبی حمیت سے سرشار مسلمان سڑکوں پر اتر آئے اور مخالفت مستقل اس انداز میں جاری رہی کہ بنگلہ دیش حکومت نے تسلیمہ نسرین کو سن 1994ء میں جلا وطن کردیا ،مسلمانوں کی جانب سے دی گئی قتل کی دھمکی سے ڈر کربدنام زمانہ شاتم رسول ادھر ادھر مغربی آقاﺅں کی پناہ میں ان کے تلوے چاٹتی رہی، درمیان میں سن 2004ء میں ہندوستانی حکومت نے بھی اس کو عارضی طور پر پناہ دی تھی لیکن مسلمانوں نے ا س کوبرداشت نہیں کیا اور مجبوراً سن 2008 میں یہاں سے اسے بھاگنا پڑا۔ سن 1993سے لیکر اب تک بے شمار ایسے ایسے غلیظ اور شرپسند انہ کرتوت کیے کہ اگر اس کے اندر ذرہ برابر بھی حیا باقی ہوتی تو شرم سے ڈوب مرتی ،لیکن اس بے غیرت سے اچھائی کی توقع عبث ہے چونکہ مغرب نے بہت ہوشیاری سے اس کو اپنے استعمال کیلئے رکھا ہے اور شاتم رسول اسی میں خوش ہے،ساتھ ہی ساتھ اپنی ذمہ داری کو اس خوف سے مسلسل انجام دے رہی ہے کہ کہیں مغربی آقاﺅں نے ناراض ہو کر رشتہ منقطع کرلیا تو پھر کسی کام کی نہیں رہ پاﺅں گی۔علاوہ ازیں وطن عزیز ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت بننے سے گستاخ مصنفہ کے حوصلے کو مزید تقویت ملی ہے۔ چونکہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ مغرب کا چھوٹا بھائی برصغیر میں آر ایس ایس اور بی جے پی ہے اور اگر اس قسم کا رشتہ نہ بھی ہوتو دونوں کے منصوبے مسلمانوں کے حوالے سے یکساں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج گستاخ رسول ہندوستان میں بے خوف وخطر قیام پذیر ہے اور بہت مضبوطی کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کو زک پہنچانے کی وقتاً فوقتاً کوششیں کر رہی ہے۔ساتھ ہی یہ بد نصیب ہر اس کام پر کھلے دل سے خوشی کا اظہار کرتی ہے جو مذہب اسلام یا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں اور ہر اس وقت کا بھرپور استعمال کرتی ہے جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک جملہ بھی لکھنے کا موقع ملتا ہے۔اس کی واضح مثال29جنوری 2015 کی ہے جب 66ویں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے امریکی صدر براک اوبا مہ اور ان کی اہلیہ مشیل اوبامہ ہندوستان کے دورہ پر تھیں۔ دورے کے بعد یہاں سے سیدھے سعودی عرب جانے کا پروگرام تھا چونکہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا انتقال ہو چکا تھا اور پوری دنیا سے لوگ تعزیت کیلئے جا رہے تھے ایسے میں اوبامہ کا یہ فیصلہ کافی لائق ستائش تھا، اوبامہ سعودی عرب پہنچے اور ساتھ میں ان کی اہلیہ مشیل اوبامہ بھی تھیں۔ مشیل اوباما کا لباس وہی نیم برہنہ تھا جس لباس میں وہ ہندوستان آئی تھیں، حالانکہ مشیل اوبامہ کو احتیاط برتنی چاہیے تھی اور سعودی کلچرکے ساتھ ساتھ ملک کے آداب کا کچھ نہ کچھ ضرور پاس و لحاظ رکھنا چاہیے لیکن ایسا انہوں نے نہیں کیا۔ عالمی پیمانے پر ہرصاحب حل وعقد نے ان کے اس عمل کی مذمت کی اور احتیاط برتنے کو ضروری قرار دیا لیکن یہاں پر شاتم رسول تسلیمہ نسرین کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا، اس نے فوراً ٹوئٹ کرکے دل کہ گہرائی سے مشیل اوبامہ کے اس عمل پر خوشی کا اظہارکیا، گستاخ رسول نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ
’A million thanks to Michelle Obama for not wearing a veil in Saudi Arbia.It is necessary to disrespect Saudi's rigid repressive rule  
حالیہ دنوں میں عالمی منظر نامے پر عموماً اور مشرق وسطی کے حوالے سے خصوصاً اس نے ایک ٹوئٹ ایسا بھی کیا جس میں اس نے شیعہ اور سنی کو پوری دنیا میں امن کا دشمن اور سکون کے فقدان کا ذمے دار قرار دیا ،اس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ شیعہ سنی کا قتل کر رہے ہیں اور سنی شیعہ کا ،دونوں ایک دوسرے کو قتل کر کے ختم کر دیں گے تو پھر دنیا میں سکون قائم ہو جائے گا
 Sunnis are killing Shias.Shias also killing Sunnis .They will finish each other off.We'll finally live in peace. ۔
اس قسم کے اور بھی بیانات شاتم رسول آئے دن دیتی رہتی ہے اور مذہب اسلام کے خلاف بولنے اور لکھنے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ آخر اس گستاخ رسول کو اتنی ہمت کہاں سے مل رہی ہے،کون ہے جو پشت پناہی کر رہا ہے اور ہندوستان میں رہ کر بھی اپنے حوصلے کا بر ملا اظہار کس کے سہارے کر رہی ہے اور کون ہے جو اس کو ہندوستان میں اسلام کے خلاف مستحکم کر رہا ہے؟کیا ہم یہ مان کر کے چلیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی والوں کی شہ پر یہ اچھل رہی ہے یا پھر مغربی دشمنوں نے یہاں باضابطہ انداز میں خیمہ ڈال دیا ہے۔خیر جو بھی ہو وقت کا تقاضہ ہے کہ اس گستاخ رسول کے حوالے سے محتاط رہیں اور کسی سوچی سمجھی اور منظم شر انگیزی کے پیچھے چھپے بڑے منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے اسلامی اور اصولی حکمت عملی پر دھیان دیں۔

اس کو لہر نہیں قہر کہتے ہیں


رحمت کلیم امواوی 

(جواہر لعل نہرو یونیورسٹی)

ملک کی راجدھانی دہلی میں ہونے والے سن 2015 کے اسمبلی انتخابات اور اس کے نتائج شاید تاریخ کے صفحات میں اس لیے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ محفوظ کیے جائیں گے کہ ایک ایسا شخص جو واقعتا عام آدمی ہواور نہتا ملک کی دارالسلطنت کے انتخابی دنگل میں دو چند پڑھے لکھے حامیوں کے ساتھ قدم جمانے کیلئے مضبوط ارادے کے ساتھ نکلا ہوا اور بڑے بڑے سورما ﺅں کو ایک آن میں دھل چٹا دی ہو۔اروندر کجریول اینڈ کمپنی کوئی بہت ہی زیادہ پرانی اور سیاسی فہم وشعور سے لیس نہیں تھی ۔لیکن حوصلے بلند تھے،شبیہ صاف ستھری تھی اس لیے دہلی کی عوام نے پہلی بار ایک ساتھ دانشمندانہ فیصلہ لیا ہے اور سیاسی دنیا میں طوفان بلا خیز لا دیا ہے۔ گزشتہ 10فروری کو انتخابا ت کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور دہلی کی کل 70سیٹوں میں سے 67 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کو کامیابی نصیب ہوئی اور مرکز میں قائم بی جے پی کو صرف 3سیٹ اتفاقیہ طور پر مل پائی اور افسوس کہ کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھل پایا ۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گذشتہ آٹھ ماہ قبل پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی اور یکے بعد دیگر کئی ریاستوں میں مودی لہر کے نام پر سرکار بنانے میںکامیاب رہنے والی پارٹی بی جے پی دہلی میں کیوں اور کیسے بری طرح ناکام ہوگئی ۔ساتھ ہی ساتھ پچھلے پندرہ سالوں سے دہلی کو سجانے سنوارنے کا دعوی کرنے والی کانگریس پارٹی کو اس انداز میں شکست فاش سے دوچار کیوں ہونا پڑا۔کبھی کبھی یہ نتیجہ بہت ہی عجیب وغریب سا لگتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی جس کا وجود کل ہوا ہے اس کے باوجود بھی اس نے دہلی کی سیاسی سرزمین پر تاریخ رقم کردی ۔یہ دہلی کی تاریخ ہی نہیں پورے ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب کسی پارٹی کو اس اکثریت کے ساتھ جیت ملی ہو۔واقعتا یہ ایک نیا باب ہے جو مکمل طور پر تاریخ میں کجریوال اور اسکی عام آدمی پارٹی پر مشتمل ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ آخر کل تک پورے ہندوستان میں بڑے فخر کے ساتھ دہرایا جانے والا جملہ کہ’ مودی لہر کا اثر ہے ‘دہلی میں کہا ںگیا۔حالانکہ یہاں بھی وزیر اعظم ہندوستان نے اپنی پارٹی کیلئے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھاور ایک دو نہیں کئی ریلیاں کی تھیں۔مزے کی بات تویہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے سارے وزراءکو اپنی اپنی وزارت سے فرصت دے کر صرف اور صرف دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے راجدھانی بلا کر باضابطہ انداز میں کچھ کچھ اسمبلی ہر وزیرکے نام کر دیا تھا، اور وہاں انتکابی مہم چلانے اور امیدوار کو کامیابی دلانے کی ذمہ داری عائد کی تھی۔ساتھ ہی کئی ریاستوں کے وزراءاعلی کو بلوا کر ان سے بھی پارٹی کی تشہیر کرائی گئی اور مودی جی خود اپنی لہر پھیلانے کیلئے ہر لمحہ اس دوران پارٹی کے ساتھ ساتھ رہے لیکن اس کے باوجود ساری کہ ساری لہر اور کوششیں ناکام و نامراد ہو گئیں اور ایک معمولی جھاڑو والے کی ٹیم نے اس انداز میں ہرایا کہ دنیا حیران ہوگئی اور چراغ لے کر مودی لہر کو ڈھونڈنے لگی۔اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ بی جے پی کا جنازہ اٹھانے کیلئے بھی ایک کاندھا کم پڑ گیا اور تین ہی امیدوار کامیاب ہوئے،کانگریس کی تو بات ہم اس لیے بھی زیادہ نہیں کریں گے کہ کانگریس کے برے دن آئے ہوئے ہیں اور پہلی بار کانگریس کسی ریاست میں تیسری پوزیشن پر باقی رہنے کیلئے دہلی میں انتخاب لڑی ہے اور اس میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔لیکن مودی لہر کا کیا ہوا اور کہاں گئے وہ قسمت والی سرکار ،کہاں گیا کرن بیدی کا ایماندارانہ چہرہیہ دہلی ہے میری جان ۔یہاں سمجھداروں اور پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد دوسرے ریاستوں کے بالمقابل زیادہ رہتی ہے ،یہاں کسی کی ہمیشہ نہیں چلتی،یہاں کی عوام کسی کو بہت محبت کرتی ہے تو اس محبت کی ناقدری پر اسی اندازمیں ذلیل و رسوا بھی کرتی ہے جس کی واضح مثال حالیہ انتخابات کے نتائج ہیں۔کانگریس کیڈر اور بی جے پی کیڈر اوران کے سارے سیاسی حربے ایک معمولی زمین سے جڑے ہوئے شخص اوراس کی ناتجربہ کار ٹیم کے سامنے ناکام ہوگئے۔اروندر کجریوال کو آخر اتنی بڑی جیت اور بی جے پی وکانگریس کو اتنی بری ہار کیوں ملی ۔اس کے پیچھے بہت سارے بنیادی مسائل ہیں اور وہ سب آپ کے سامنے عیاں ہیں ۔میں اس کو مزید واضح کرنا نہیں چاہتالیکن ایک بات ضرور واضح کرنا چاہوں گا کہ جو لوگ سماج سے جڑے ہوتے ہیں اور زمین سے جڑے مسائل اور اس کے دردکو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے اس کوپوری قوم اور عوام کے مسائل کے طور پر قبول کرتے ہوئے ایک چیلنج سمجھ کر اسکے خلاف جب کوئی کھڑا ہوتا اور اس کے جو نتائج سامنے آتے ہیںتو اس کو لہر نہیں قہر کہتے ہیں اور یہ قہر ان لوگوں کیلئے یا ان لیڈران کیلئے ہوتاہے جو کئی سالوں سے عوام کی آنکھوں میں دھل جھونک کر ،ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ،ان کا گھر اجاڑ کر ،ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر کے اپنا مستقبل سنوارنے میں محو ہوتے ہیں اور عوام در در کی ٹھوکریں کھاتی رہتی ہیں،یہ قہر اس وقت برپا ہوتا ہے جب عوام کا رہبر رہزن بن گیا ہو اور اپنا پیٹ بھرنے کیلئے غریبوں کی تھالی کی روٹی چھین لیا کرتا ہو اور موجودہ سیاسی قہر ان نیتاﺅں پرہے جو اپنی انا کی خاطر کسی بھی حد تک عوامی نقصانات کراتا تھے،جو فرقہ وارانہ فساد بھڑکا کر اپنی سیاسی روٹی سینکتے تھے اور اپنے جانوروں کے سایے کیلئے غریبوں کی بستی اجاڑ دیا کرتے تھے،یہ قہر ہے ان نام نہاد دھوکے باز رہنماﺅں پر جو اب تک عوام کو بیوقوف اور خود کو سب سے زیادہ دانا سمجھا کرتے تھے اور یہ قہر ہے ان تمام لیڈران پرہے جو کل تک عوامی جائداد کو اپنی جائداد سمجھ کر ناحق ان پر قابض تھے اور اپنی عیاشی کیلئے غریبوں کی زندگی تباہ و برباد کر رہے تھے۔

ایک قیمتی بات یہ بھی واضح کر دوں کہ جب عام آدمی ہوش کے ناخن لیتا ہے اور اس کے آنکھوں کے سامنے سیاسی رہنماﺅں کے ذریعے ڈالے گئے جھوٹ اورمکر وفریب کا پردہ ہٹتا اور ساری سچائی واضح ہو جاتی تو عوام کا جو رد عمل ہوتا ہے ا س کو سیاسی دنیا میں قہرکہتے ہیں اورعوام کی جانب سے یہی قہر حالیہ انتخابات میں برپا کیا گیا ہے۔تاکہ کرسی پر برسوں سے بیٹھے لیڈران کو ایک جھٹکے میں ہی ہواس باختہ کر دیں اور ایسا ہی ہوا ہے ،سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔




الأحد، فبراير 01، 2015

صحافت، دائرہ کار اور کردار

محمد شاکر عادل محمد عباس تیمی
جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ 

ہر عمل کا ایک معلوم دائرہ ہوتا ہے.اور اس پیشہ سے جڑا فرد اسی دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو سر انجام دیتا ہے. بسااوقات وہ دائرہ محدود ہوتاہے اور کبھی اس میں وسعت ہوتی ہے.کبھی حدود کی تنگی صاحب عمل کے لئے پریشان کن ہوتی ہے تو کبھی ضرورت سے زیادہ اس کی وسعت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے.گویا کسی بھی پیشہ کے اصول و ضوابط اور دائرہ کار میں اعتدال نہ ہو تو اس پیشے سے وابسطہ افراد ذہنی خلجان کاشکار رہتے ہیں.
اس تحریر میں گفتگو کا محورصحافت، اس کے مبادیات اور  جملہ اجزاءہیں. 
صحافت:
3الفاظ کامرکب یہ لفظ اپنے دائرہ کار میں بڑی وسعت رکھتا ہے.گرچہ اس کی تعریف میں فقط یہ باتیں شامل ہیں کہ"سماج و معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات و واقعات سے عوام کو با خبر کرنا".
تیکنیکی لحاظ سے صحافت کے اس "اخباری عمل" کے کئی اجزاء ہو سکتے ہیں
لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ "عوام کو باخبر کرنا ہے".

صحافت کی ابتداء:
اس ضمن میں منقول بات یہ ہے کہ اٹلی اور جرمنی میں کچھ افراد ایسے تھے جو اہم حادثات و واقعات پر مشتمل تحریروں کو جمع کرتے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے درمیان ان اخبار کو نشر کرتے.تقریبا سولہویں صدی میں جرمنی کے اندر انہیں مکتوبات کی اشاعت کو لے کر سب سے پہلے طباعت خانہ کا فکرہ سامنے آیا.اور کچھ عرصہ بعد" پیرس"اور"لندن"کی حکومتوں نے بھی خبروں کی اشاعت کے عمل کو شروع کردیا.( A new frame work of interpretation for the birth of journalism,Media History 2011)

نشو ونما اور ارتقاء:
زمانہ قدیم سے ہی خبروں کو پھیلانا،نشرکرنا،عام کرنا صحافت کے معنی و مفہوم میں شامل رہاہے.اور مصر،چین اور عربوں(کے عہد جاہلیت)میں پتھروں پر کندہ جو تحریریں جوملتی ہیں وہ عہد قدیم کے صحافت ہی کی مثالیں ہیں. جن میں
"عہد بطلیموس خامس"کے (Rosetta Stone ),"بادشاہ حمورابی" کے(Law of Justice )اور"Julius Caesar "کا(Actadurina )قابل ذکر ہے.
مؤرخ"Joseph Flavius " کہتاہے کہ"بابلیوں کےمؤرخین تھے ،جن کا کام واقعات وحوادث کو تحریر کرنا تھا.تیسری صدی قبل میلادی "نیروز" نے اپنی کتاب "کلدانیوں کی تاریخ "میں انہیں تحریری مواد پر اعتماد کیاہے".
اگر یہ باتیں درست ہیں جیسا کہ مؤرخ Joseph نے بیان کیا تو یہاں ایک بات بالکل واضح ہوچکی کہ صحافت سماجی رجحان کے مطابق بہت قدیم ہے جس کا ثبوت پرانے عہد میں بھی ملتاہے.

صحافت کی اہمیت:
جدید دور میں صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کرچکی ہے. عوام کا بڑے پیمانے پر خبروں کے حصول کے لئے صحافت پر اعتماد اس کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے.اب ا خباروں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ،ٹیلی ویژن اور ریڈیو بھی عوامی مواصلات کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں. ٹویٹر،فیس بک،گوگل پلس،یوٹیوب جیسے آن لائن  شوسل نیٹ ورکس کے علاوہ عالمی سیٹلائٹ اسٹیشنوں نے مواصلات کی دنیا میں جیسے برق رفتاری لادی ہو.صحافت نے اپنی حیثیت اس طور منوائی کہ آج دنیا اسے "چوتھی طاقت"کانام دیتی ہے.اور اس کا مقارنہ قانون ساز ،جوڈیشیل اور ایگزیکیٹو اتھارٹیز سے کیاجاتا ہے.چنانچہ آئر لینڈ کا ایک سیاسی مفکر Edmund Burke کہتاہے:"یہاں پارلیمنٹ کی چھت کے نیچے تین قسم کی طاقتیں ہیں،لیکن وہاں Reporting Hall میں چوتھی طاقت براجمان ہے.اور وہ تم سبھوں سے اہم ہے".

صحافت کے مقاصد:
Bill Kovach اور Tom Rosenstiel "The Elements of Journalism "میں صحافت کی غایت کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ"اس کے مقصد کو نہ تو کسی ٹکنالوجی کے ذریعہ بیان کیا جاسکتا اور نہ ہی صحافیوں سے یا ان کے صحافتی فن سے،بلکہ کچھ اہم اور بہت ہی بنیادی باتوں کے ذریعہ اس کے مقصد کو معلوم کیا جاسکتا ہے. اس کا مقصد ہے کہ یہ شہریوں کو ایسی اطلاعات فراہم کرتا ہے،جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے. اور پھر وہ شہری اس حاصل معلومات کی بنیاد پر  اپنی زندگی ،قومیت،سماج اور اپنی حکومت کے بارے میں بہتر رائے قائم کرسکتاہے.

صحافت کےمبادیات: The Elements of Journalism سے ماخوذ 10 مبادیات صحافت کو ذکر  کیاجاتاہے،کسی بھی صحافتی مضمون میں جن کا پایا جاناعمدہ صحافت کی علامت. 
1)سچائی،یہ صحافت کے اولین واجبات میں سے ہے.یعنی خبروں میں جھوٹ کا عنصر شامل نہ ہو.
2)شہریوں کی ترجیحات کو مقدم رکھنا.
3)خبروں کی اشاعت میں بحث وتحقیق کے نظام کو بحال رکھنا.
4)عوام کی حریت کا خیال کیا جائے.
5)صحافت کااستعمال بطور آزاد  طاقت ور نگراں کے ہو.
6)اس کے لازمی عناصر میں سے ہے کہ یہ عوام کو اپنی رائے پیش کرنے اور مسائل کے تصفیہ کے لئے مجال فراہم کرے.
7)خبروں کو معتبر،دلچسپ اور موضوعی بنانے کے لیے اس پر سخت محنت کی جائے.
8)خبریں اپنے تمام جزئیات کو محیط ہوں اور متناسب ہوں.
9)اس پیشہ سے منسلک افراد کو لازمی طور پر اس بات کی اجازت دی جانی چاہئے کہ وہ اپنی ذاتی رائے کا استعمال کرے. 
10)خبروں کے بارے میں شہری بھی مسؤول ہیں اور ان  پر بھی کچھ ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں.


صحافتی کردار کی اساس :
سچائی،ایمانداری اور جدوجہد وہ تین بنیادی اساس ہیں جس پر بنیاد پاکر کوئی بھی شعبہ اپنے اعمال کو بحسن و خوبی شفافیت کے ساتھ انجام دے سکتا ہے.لیکن ارباب صحافت نے شفافیت،متواضعیت اور اصالت کی تین اصطلاح پر صحافتی کردار کی بنیاد رکھی ہے.(البتہ اس بنیاد کا تصور سچائی ،ایمانداری اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں.)
1)شفافیت:(Transparency )یعنی:صحافی اپنا کام اس طرح پیش کرے کہ قاری،ناظرین اور سامعین ان کی باتوں پر یقین کرنے میں کسی دوسرے ذرائع کا محتاج نہ ہو.
2)تواضع:(Humility )یعنی:ایک صحافی کو متواضع اور منکسر المزاج ہونا چاہئے.اسے اپنی معلومات پر فخر اور تکبر نہ ہو.ایک صحافی کی واقعیت اس بات میں بھی ہے کہ وہ افتراضی نہیں ہوتا.اس کی خبریں حقیقت کا عکس پیش کرتی ہیں.       
Jack Fuller ایک مصنف،ناول نگار  اور ایڈیٹر  ہےاس نے بطور مشورہ کہا کہ"صحافیوں کواپنی معلومات اور اس کے ذرائع سے متعلقہ امور میں تواضع اور اعتدال برتنے کی ضرورت ہے.
Gregory Favre ,Sacramento اور Chicago میں طویل مدت سے ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ اپنا  ایک سادہ سا اصول ہے"DO NOT PRINT ONE IOTA BEYOND WHAT YOU KNOW".یعنی:صرف اپنی معلومات پر منحصر ہو کر ایک لفظ بھی نہ شائع کرو.بلکہ اس خبر کے بارے میں مکمل اطمینان حاصل کرلو.
3)اصالت:(Originality )یعنی:معلومات حقائق پر مبنی ہوں.ایسا بھی نہ ہو کہ صرف دوسروں کی معلومات پر انحصار کیاگیا ہو،بلکہ خبروں کےاطلاع میں خود کی محنت کی گئی ہو.اور جس میں  ابداعیت کی جھلک دکھائی دے.
ایک صحافی کہتاہے:"صحافی  اس عمل کے محور "خبر" پر غورکریں تو معلوم ہوگا کہ ایک صحافی بیک وقت اس خبر کا "عینی شاہد" بھی ہوتا ہے،"مخبر" بھی اور" مؤرخ" بھی.اور ناانصافی کی جگہ "منصف"بھی.

صحافت کے اقسام:
دیگر علوم وفنون کی طرح صحافت کی بھی اساسی 3 قسمیں ہوسکتی ہیں: 
(1)پرنٹ میڈیا.
(2) الیکٹرانک میڈیا.
(3)سائبر میڈیا یا سوشل میڈیا.
ذیل میں جرنلزم کی اساسی شاخوں سے نکلی ہوئی ان قسموں کاذکر ضروری ہے جو سماجی احوال کےتنوع سے معرض وجود میں آئیں اور سماج سے بہت ہی گہرا رشتہ استوار کرچکی ہیں:
1)ایڈوکیسی جرنلز :یہ صحافت کی ایک خاص اصطلاح ہے جس سے جڑی خبریں (Advocacy Journalism)کہلاتی ہیں.یعنی: خاص سیاسی یا سماجی مقصد کے فروغ کے لئے صحافت کی تکنیک کا استعمال.
2)نشریاتی صحافت: خبروں کی اشاعت کے لئے تحریر یا ریڈیو یا ٹیلی ویژن کا 
استعمال.
3)ڈرون جرنلزم  :اس میں بغیر پائلٹ کےطیارے کا استعمال ہوتا ہے جو اپنے اندر نصب خاص قسم کے کیمرہ کی مدد سے تصویریں قید کرتے ہیں.
4)گونجو جرنلزم  :اس کا استعمال سب سےپہلے "ہنٹر. ایس.تھامسن"(Hunter. S.Thompson)نے کیاتھا. خبروں کی رپورٹنگ میں یہ صحافیوں کا بہت ہی معیاری اور خاص طریقہ کار ہے.
5)تفتیشی جرنلزم  :ذرائع سے حاصل شدہ خبروں کی تحقیق.چوں کہ بعض اوقات صحافی موقع واردات سے خبررسانی کا فریضہ انجام نہیں دیتا اور معاون ذرائع کی مدد لیتا ہے،جس کی چھان بین ایک صحافی کی ذمہ داری ہے.
6)تصویری جرنلزم :تصاویر کی مدد سے حادثات وواقعات کی خبر دینا.
7)شرمپ جرنلزم:کھیلوں کے فروغ کے لئے سوشل میڈیا کی مدد سے بے بنیاد افواہیں پھیلانا.
8)بزنس جرنلزم:اس میں تجارتی دنیا کی ہر چھوٹی بڑی خبریں پیش کی جاتی ہیں.جیسے:کسادبازاری،شیئر مارکیٹ میں اچھال،نئی مصنوعات کا لاؤنچ ،گرانی سے متعلق عوامی نظریات وغیرہ.
9)سیٹیزن جرنلزم:(عوامی صحافت)عوام کا خبریں اور معلومات اکٹھی کرنا اور صحافیانہ خدمات انجام دینا.
10)ماحولیاتی جرنلزم:اس شعبہ سے جڑے صحافی کا مطمح نظر صرف ماحولیاتی خبریں ہوتی ہیں اور وہ ماحولیات سے جڑی ہر چھوٹی بڑی خبروں سے عوام کو آگاہ کرتا ہے.اور یہ ایک صحت مند سماج کے لئے مثبت عمل ہے.
11)اسپورٹس جرنلزم:ایک صحافی کھیل سے متعلق جملہ تفصیلات عوام کو پیش کرتا ہے.
12)کرائم جرنلزم:صحافت کا یہ شعبہ سماجی بہبود کے لئے بہت ہی مددگار مانا جاتاہے ،جس میں جرائم سے جڑی خبروں کا انکشاف ہوتا ہے.
13)ترقیاتی جرنلزم:سماج کی ترقی کےلئے یہ شعبہ کام کرتا ہے.اس صحافت کا فکرہ 1960 کی دہائی میں"پریس فاؤنڈیشن آف ایشیاء"میں منظر عام آیا.جب دو "فلیپینی"صحافی(Alan Charley)اور(Juan mercado)کو محسوس ہوا کہ "نیوز فاؤنڈیشن"سماجی اور اقتصادی ترقی میں نااہلی کا ثبوت پیش کرر ہے ہیں. 
14)کراؤڈ جرنلزم یا کراؤڈ میڈیا:
رپورٹرز اپنے آرٹیکلز کے لیے اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں سوشل میڈیا کے طفیل وجود میں آنے اور فروغ پانے والی اس فوٹو گرافی نے ’’کراؤڈ میڈیا‘‘ کا نام پایا ہے.
15)یلو جرنلزم:(زردصحافت)صحافت کی پست ترین شکل جس میں کسی خبر کے سنسی خیز پہلو پر زور دینے کے لئے اصل خبر کی شکل اتنی مسخ کر دی جاتی ہے کہ اس کا اہم پہلو قاری کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتاہے.
یہ اصطلاح انیسویں صدی کی آخری دہائی میں وضع ہوئی.جب "نیویارک"کے اخبارات کے رپورٹر اپنے اخبار کی اشاعت بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر وحشت ناک اور ہیجان انگیز رپورٹنگ کرتے تھے.یہ اشاعتی جنگ(Circulation War) اس وقت عروج پرپہنچی جب "ہسپانوی فوجوں "کے مظالم کی داستانیں "کیوبا"میں اخبارات میں خوب نمک مرچ لگا کر شائع کیں،اور امریکی رائے عامہ کےخلاف "اسپین" کو اس قدر برانگیختہ کردیا کہ امریکا اور اسپین کی جنگ تقریبا. ناگزیر ہوگئی.
"زرد صحافت " کی اصطلاح دراصل اس سنسی خیز کامک سیریل سے ماخوذ ہے جو Yellow Kid کے عنوان سے امریکی اخبارات میں شائع ہوتا تھا.

موجودہ صحافت:
صحافتی قدریں کھو دی گئی ہیں.اس پیشہ سے جڑے کچھ ہی افراد ہوں گے جو اس کی روح کوسمجھ پارہے ہیں. ورنہ موجودہ صحافت سیاسی ٹولوں کا غلام بن کر رہ گئی ہے. قلم کا استعمال عوامی انصاف کے لئے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے جھوٹے کارناموں کی تشہیر اور سینیماؤں کے promotion کے لئے ہوتاہے.یا پھر خبریں انہیں کی شائع کی جاتی ہیں جن سے صحافیوں کا مفاد جڑاہو.اگر کسی نے حق بات کہی تو اس کو نہ شائع کر اس کی آواز کو دبا دیاجاتاہے.خبریں حقیقت سے دور اس طرح سے توڑ مروڑ کر کر تیار کی جاتی ہیں کہ مجرم بری ہوجاتاہے اور مظلوم اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتاہے.آج کی صحافت یہ ہے کہ منصوبہ بندی سے کسی معصوم کی جان لے لی جاتی ہے اور صحافی کے قلم کا زور کذب بیانی کی بنیاد پر اس موت کو ایک حادثہ ثابت کردیتا ہے.بایں طور موجودہ صحافت کو "زرد صحافت "سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا کہ سماج کا بہت حد تک سکون انہیں کی غلط بیانیوں سے غارت ہے.
"ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ برائیاں صرف میڈیا نے ہمارے معاشرے میں پھیلائی ہیں.ہاں مگر ہمارے سماج میں بڑھتی ہوئی نفرت،(مذہبی تعصب)،شدت پسندی،اخلاقی وسماجی برائیاں، معدوم ہوتی ہوئی رواداری،شرم وحیا اور غیرت بھی کافی حد تک میڈیا کی منفی،یعنی:چٹخارے دار رپورٹنگ،ٹاک شوز کی جھڑپوں،واہیات ڈراموں اور لچر اشتہاروں کا شاخسانہ ہے".(یہ دل سوز اقتباس ایک پاکستانی قلم کار سرفراز صدیقی کی تحریر سے منقول ہے)
غسان مائیکل روبیز "جنیوا"میں قائم گرجا گھروں کی عالمی کونسل کے سابق مشرق وسطی کے سکریٹری ہیں.وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائی جارہی منافرت اور مذہبی تعصبات پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"نئے میڈیا کی کثرت نسلی مذہبی گروہوں کے باہمی تعلقات پر مثبت یا منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے...ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اچھی خبروں کی نسبت بری خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں...اور نفرت بھری حرکات کو باربار نشر کرنا مختلف کمیونٹیز کے درمیان تباہ کن اثرات کا موجب بن سکتا ہے".
ذیل کے نکات سے میڈیا کے منفی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہےکیا:
1)تفہیم،رواداری اور درد دل کے جذبے کو فروغ دینے والے نشاطات نشر کئے جائیں.
2)میڈیا کی نگرانی کے لئے اداروں کی تشکیل ہو.
3)پروڈیوسرز،ایڈیٹرز اور رپورٹرز پر منفی خبروں کی عدم اشاعت کے لئے دباؤ.



نوٹ:جملہ مواد(انگریزی،عربی اور اردو) ثلاثیات سے ماخوذ ہیں.
1)Wikipedia of Journalism English,Arabic and Urdu.
2)International Encyclopedia of Communication. 
3)American Press of Journalism. 
4)ABC News.(Drone Journalism )
4)Types of Journalism.

السبت، يناير 31، 2015

ماں کا پژمردہ چہرہ

محمد شاکر عادل محمد عباس تیمی
جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ



 ماں تو خوشی سے آج پاگل ہوئی جاتی ہے. پڑوسن پوچھتی ہے کیا بات ہے رحیمن آپا "لگتا ہے کوئی" سونے کا ٹکڑا"ہاتھ لگ گیا ہے! ماں جواب میں کہتی ہے.ان کا چہرہ لائق دید ہے."میرا لعل دسویں کتھا میں اول نمبر لایاہے" زندگی کس مپرسی میں ہے.اور قرض لے کر شیرینی تقسیم ہورہی ہے کہ "میرا بابو"ثانویہ میں فرسٹ پوزیشن لایا ہے. اب جامعہ کے لئے فیس کا بندوبست.نیا ڈریس بھی تو ہونا چاہئے.کتابیں بھی خریدنی ہوں گی.پرانی کتابیں بھی اسٹالوں سے خریدی جاسکتی ہیں.مگر نہیں. ان کا بیٹا کیسے پرانی کتابوں میں پڑھے گا. جب کہ دوسروں کے پاس نئی کتابیں ہوں گی.بیٹا کہتاہے"ماں!ایک جوتا چمڑے کا ہوتا تو..."ابھی الفاظ پورے بھی نہیں ہوئے کہ اپنی مسکنت کے کرب کومسکراہٹ میں چھپا کر کہتی ہے"کوئی بات نہیں میرے لعل میں لادوں گی". گھر سے کالج روانگی کا وقت آن پڑا. ماں نہیں چاہتی کہ اس کے جگر کا ٹکڑا اس سے جدا ہو.مگر کیا کرے! یہ تعلیم و تعلم ضروریات ہیں.واجبات ہیں. زندگی کے تجربات ہیں. جنہیں گھر بیٹھے حاصل نہیں کیا جاسکتا.اس لئے وہ اپنے لاڈلے کی دوری کے الم کو برداشت کرنے پر مجبور ہے. وہ صبر کرتی ہے.سلامتی کی دعائیں کرتی ہے. اور اس وقت کا انتظار کرتی ہے جب وہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا.اس کے کمزور بازؤوں کو سہارا دے گا.اس کے لاغر جسم کو قوت بخشے گا.اس کی کمزور بینائی کا بینا بنے گا.اس کاسکھ بنے گا،سکون بنے گا.مشفق ہوگا. لطیف ہوگا.مہربان ہوگا. آج ماں کا حال یہ ہے کہ وہ خوشی سے دوہری ہوئی جاتی ہے کہ اس کی محنت بے رنگ نہ ہوئی. ان کا بیٹا اب پڑھائی مکمل کرچکا ہے. ماشاءاللہ قسمت سے اچھی ملازمت بھی پائی ہے.اور اب ساری فکر اسی بات پر آ ٹکی ہے کہ کوئی پری پیکر اس کے گھر آنگن کی تقدیر بن جائے.رشتوں کا تانتا ہے.اور یہ تو ہونا ہی ہے جب لڑکا ہونہار ہو.وجیہ شخصیت کا مالک ہو. اور سونے پر سہاگہ اس وقت جب کسی اچھی فرم میں ملازم ہو تو ہر لڑکی والا چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کا رشتہ قبول کیا جائے جس کے لئے وہ دعائیں بھی کرتا ہے.سفارشیں بھی لگتی ہیں.ایسا ہی کچھ آج ماں کے اس فرزند کا بھی ہے.  خیر سے رشتہ ہو چکا. اب چند روز میں شادی کی ساری رسمیں ادا ہو جائیں گی.تیاریاں جاری ہیں.آج دعوت نامے تو کل کپڑے کی خریداری. حلوائی کوگلاب جامن اور بالو شاہی کا آرڈر. ماں کے مائکہ والے بھی آئے ہیں.لڑکا کے ماموں زادوں اور خالہ زادوں کی بھیڑ ہے. سبھوں پر ذمہ داریاں تقسیم ہیں جسے وہ اچھے انداز میں نباہنے میں مصروف ہیں.شادی کو مثالی بنادینا چاہتے ہیں.ادھر ماں خوش تو ہے پر تھوڑا کھوئی-کھوئی سی ہے.رہ رہ کر بسااوقات وہ کسی انجانے خوف سے ڈر بھی جاتی ہے.مگر کسی کو اس کا احساس نہیں ہونے دیتی.بلکہ مستعدی سے سارے کام انجام دے رہی ہے.جملہ ذمہ داریوں کی نگراں بھی ہے.اور آج چوں کہ بارات کی روانگی ہے.اس لئے لمحہ بھر کو ان کے جسم میں سکون نہیں. کھانا تو دور کی بات شاید چائے پانی بھی پیا ہو.بس وہ لاڈلا کو سہرا میں سجا دیکھنا چاہتی ہے. ادھر لڑکی والوں نے بھی کسی اچھے ہوٹل کا انتظام کیا ہے جہاں نکاح کے بعد کھانے کی رسم ادا ہوگی اور لڑکی وہیں سے رخصت کردی جائے گی. اور یہ شادی کی رسمیں بھی عجیب ہیں.ابتداء تا انتہا خرافات ہی خرافات.بہت سے افراد اسے اچھا نہیں مانتے تاہم وہ ان رسوم سے آزاد بھی نہیں ہونا چاہتے.نتیجہ سامنے ہے.یہ بارات.یہ لاکھوں کا جہیز.کھانے میں فضول خرچیاں تو اس قدر کے کسی غریب کے گھر اس اخراجات سے مہینوں کا راشن پانی ہو جائے. بہر کیف!اب دلہن گھر آچکی ہے.گاؤں سماج سے دیکھنے والیوں کا تانتا ہے.کچھ تبصرے جہیز پر ہیں تو کچھ لڑکی والوں کے انتظام وانصرام پر.کوئی تعریف کے کلمے پڑھ رہا ہے تو کسی کی عادت ہی صرف نقص نکالنا ہے.اور ابھی یہ سارے ہنگامے ہفتہ دن تو چلیں گے ہی.پھر سارا کچھ معمول پر ہوگا. ماں کی طبیعت آج ناساز ہے مگر وہ اس کا اظہار نہیں کرتی.کہیں دور  سوچوں.میں گم ہے. خود سے باتیں کر  رہی ہیں: " میں دیکھ رہی ہوں جب سے  دلہن گھر میں آئی ہے بیٹا آفس بہت زیادہ ناغہ کرنے لگا ہے.ایسا ہوا تو ملازمت سے بھی ہاتھ دھونی پڑے گی...اور ہاں!پہلے سے رویے میں بھی بہت تبدیلی آئی ہے.پہلے آفس کے لئے گھر چھوڑتا تو سلام اور دعائیں لیتا..آتا تو ماں!ماں!کی پکار لگاتا گھر میں داخل ہوتا.اب تو جیسے ہفتوں کانیں "ماں"جیسے میٹھے اور انمول شَبد (بول)سننے کو ترس جاتی ہیں..مجھے تو کچھ اچھا نہیں لگتا.بس کبھی کبھار اگر اس کے من میں آیا تو رسمی مسکراہٹ لئے سامنے آجاتا ہے اور پھر چلاجاتا ہے.یہی تقریبا 6 ماہ سے شب و روز کا معمول ہے.میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی.ایک دن تو اس وقت حد ہوگئی جب آفس سے گھر پہنچتے ہی بَرَس پڑا.اور نہ جانے کن باتوں کو لے کر پورے گھر کو سر پر اٹھا لیا.میں خاموش رہی.چوں کہ میں جانتی ہوں. بچپن سے یہ تھوڑا سخت مزاج ہے اور کچھ میرے لاڈ نے بھی اسے بگاڑ دیا. اس لئے وہ جب اپنی ننھی زندگی میں بھی کسی ضد اور غصہ کا اظہار کرتا تو میں پیار سے سن لیتی. مگر وہ تو اس کا بچپنا تھا .اب تو وہ شعور والا ہے.کم سنی میں باتوں کی گرفت نہیں ہوتی. بڑا ہونے کے بعد تو ایک-ایک نقل وحرکت کی  نگرانی ہوتی ہے.اللہ بھی انسان کی طفولت کا خیال کرتے ہوئے اسے مرفوع القلم (یعنی اس کی غلطیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی نہیں جاتیں)سمجھتا ہے.لیکن اب اس کے لفظ پر پہرہ ہے.اللہ کا رقیب مقرر ہے.وہ لکھتاہے.پھر کیوں اس نے ایسا کیا.خیر کیا کروں.اب تو صبر کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں.اللہ سے اس کی سلامتی کی دعاء کرتی ہوں". اس کے علاوہ بیچاری ماں کربھی کیا سکتی ہے.رو رہی ہے ،بلک رہی ہے،آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں.چہرہ پژمردہ ہے. تنہا سسکیوں میں زندگی کے بچے ایام گزر رہے ہیں.اور لاڈلے صاحب ہیں کہ ان کو فرصت ہی نہیں.طبیعت کی ناسازی کا حال کون دریافت کرے.بہت ہوا تو سامنے سے مسکرا کر گزر گئے جیسے ماں کے احسان کا بوجھ اتار رہے ہوں.صبح ہوئی تو آفس چل دئے.شام گھر لوٹے تو بیوی بچوں میں مصروف ہیں.ہفتے کو چھٹی ملی تو دوست احباب کی آمد یا ان سے ملاقات کی رسم ادائیگی یا شادی بیاہ کی بناؤٹی رسمیں.ماں کی کون خیریت لیتا ہے.کھایا نہیں کھایا.عید کو ایک "ساٹن" کی ساری بابو صاحب نے لاکر دی تھی وہ سال بھر سے چل رہی ہے.بیوی بچوں کے پوشاک جیسے کپڑوں کا گودام ہو.شاید سال میں ایک بار بھی کسی کپڑے کی دوبارہ باری آتی ہوگی.موسم کافی سرد ہے.یوں بھی اس جاڑے میں اچھے اچھوں کی گرمی غبارہ ہوجاتی ہے اور وہ تو بوڑھی ہڈی ہے ٹھنڈک کا کپکپی والا احساس تو اسے اور بھی پریشان کرتا ہوگا.مگر کیا کرے! بس کسی طرح زندگی کاٹ لینا چاہتی ہے.وہی ایک 10 سال پرانی شال ہے جو شوہر صاحب نے اپنی حیات میں لاکر دی تھی اب تو ان کی وفات کو 2 سال گزر چکے ہیں.اور ایک سویٹر جو ان کا لاڈلا والد کی وفات کے بعد لایا تھا. بس!گُدریوں کا اوڑھنا ہے اور چارپائی پر پُوال ڈال کر اناج کی بوریاں بچھا لیتی ہیں.کھانے میں کبھی شاید ہی پہلے کھا لیا ہو.بھوک بھی لگی ہو تو مَن مارے بیٹھی ہیں کہ سب کھالے اور رُوکھا سُوکھا کچھ بچے تو ماں بھی کھالے. وہ اس دن کے بعد سے اور بھی ڈرنے لگی کہ ایک دن بہو کے مائیکہ سے کچھ مہمان آنے والے تھے اور اس موقع پر بہت سے پکوان کے ساتھ "شامی کباب" بھی تیار ہوا تھا.بہو نے اپنے ہاتھوں سے پکایا تھا.یوں عام دنوں میں وہ بہت کم ہی کھانا بنانے کا جوکھم اٹھاتی تھی.مگر آج اس نے بھائی اور بھابھی کی آمد پر کھانا تیار کیا تھا.شوہر نام دار کو سامان کی لمبی چوڑی فہرست تھمائی کے وہ نوکر کے معرفت یہ سامان بھیجوادیں.شوہر تابع دار نے بھی ویسا ہی کیا.اب لذیذ اور مُرَغَّن کھانا تیار تھا.اماں بیچاری کو کیا سوجھی.حالاں کہ اس سے قبل انہوں نے بہو کی آمد کے بعد ایسی جرأت نہیں دکھلائی تھی.تو ہو یوں کہ اماں نے شامی کباب میں سے تھوڑا چَکھ لیا کہ دیکھوں بہو نے کیسا بنایا ہے اور مہمان کی بھی آمد ہے.اب کیا تھا! ایک پوتا کی نظر اس چکھنے پر پڑ گئی .وہ بچہ ذات اسے کیا معلوم کہ نتیجہ کیا ہوگا.وہ ممی سے کہتا ہے:"مَمّی!مَمّی!میں نے ڈیکھا ڈاڈی ڈان ماموں ڈان کا کپاپ کھا لہی تھیں".ان باتوں کا سننا تھا کہ بہو پھٹ پڑیں: "کیا؟ان کو ذرا بھی صبر نہیں ہوتا.انہیں معلوم ہے کہ آج مائکے سے مہمان آنے والے ہیں.ایک تو پہلے ہی سے تھوڑا تھا.اور چھوٹا "احمد"بھی بہت پسند کرتا ہے.اور اس پر سے انہوں نے کھالیا.اب کتنا بچا ہی ہوگا.سارا کام بگاڑ دیا.اس عمر میں آکر لوگ نہ جانے کیوں بے صبر ہوجاتے ہیں". سو اب ماں اسی وقت کھاتی ہے جب سارے لوگ کھالئے ہوں.پھر ماں برتن دھل کر رکھ دیتی ہے. اور بستر پر کروٹیں بدلتے ان کے شب وروز کٹ جاتے ہیں.یہی روزانہ کا معمول ہے.نماز کا وقت ہوا نماز ادا کی. بہو کو تو ڈر سے جگاتی ہی نہیں کہ ان پر برس پڑے گی.صبح اٹھیں. نماز کی ادائیگی کے بعد تلاوت کیا.اور یہ بھی کھٹکا لگا ہے کہ بہو کے بیدار ہونے سے پہلے بچوں کے اسکول کا ٹفن تیار کرنا ہے.ورنہ بہو کی روز روز کی بڑبڑاہٹ:"ایک تو سارے دن بستر پر پڑے رہنا ہے. اتنا بھی نہیں ہوتا کہ بچوں کو اسکول کے لئے تیار کر دوں". اس طرح گھر کی "مالکن" ماں اپنے ہی گھر میں اب بہو کی"نوکرانی" ہے. اور ماں کا لاڈلا جیسے اس کو سانپ سونگھ گیا ہو.اطاعت و فرماں برداری کے سارے جذبے اب کتابوں کی لکھاوٹ ہیں.ماں کو ماضی کی یادیں ڈستی ہیں کہ بیٹا کے بڑے بڑے دعوے تھے:"ماں میں پڑھ لکھ کر جب بڑا ہو جاؤں گا تو یہ کروں گا اور وہ کروں گا".اب جب کہ وہ اچھی تنخواہ دار ہے تو ماں کا کچھ بھی خیال نہیں.وہ  ساری صعوبتوں کو بھول چکا جو اس کی ماں نے اس کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں اٹھائیں.اب بس ایک ہی دھن ہے.دولت جمع کرنی ہے ،بچوں کی تعلیم ہے اور بیوی کی نازبرداریاں. یہ تعلیم یافتہ،اشراف اور مہذب ومثقف لوگوں کے سماج کا نقشہ ہے.جن کی اونچی دیواریں بظاہر بلند ہونے کا پتا دیتی ہیں مگر وہ حقیقت میں پست ہیں. رہی بات پچھڑے سماج کی تو وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ ماں کے حق میں ان کی کوتاہیاں کوتاہیاں بھی ہیں.ان کا کہنا یہ ہے کہ میرا تو اپنا ہی تن کھلا رہتا ہے.خود کا اور بچوں کا پیٹ بھی نہیں بھر سکتا تو ماں کو کہاں سے دوں.کیا ان کے جواب سے اتفاق کیا جاسکتا ہے؟؟؟ان کے یہاں بیوی اور بچوں کے حقوق وجوبی ہیں.اورماں کے لئے ان کی زیارت ہی کرلینا کافی ہے.یعنی:خالی ہاتھ مسکرا کر بے شرمی سے چلے جائیں،ان کا راشن پانی کھالیں اور ہاتھ سُکھا کر چلے آئیں.یہ ان لوگوں کا رویہ ہے جن کی مائیں اپنے اجداد کی زمین پر ہوتی ہیں اور اولاد ملازمت کے لئے اپنے گاؤں یا وطن سے دور اہل خانہ کے ساتھ. بہت ہوا یا کسی نے عار دلائی تو دو چار ماہ پر ہزار دو ہزار کسی کے معرفت بھیج دیا.یا وہ بھی ضروری نہیں سمجھا. کہاں ہے یہ طبقہ؟؟؟ کوئی ان سے اس کا جواز طلب کرے. یہ بات بالکل درست ہے کہ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں ہوتا. روزگار کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا ہوگا.گھر کی دہلیز سے باہر نکلنا ہوگا.لیکن روزگار کا بہانہ بناکر کیا ماں کے حقوق سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے؟کیا ماں کے حقوق یہی ہیں کہ کچھ بندھی رقمیں ماہانہ ڈاک سے لگا دی جائیں ؟ یہ میں نے کچھ زیادہ کہہ دیا. بلکہ دو چار ماہ پر کچھ رقمیں ارسال کردیں اور اپنی ذمہ داریوں سے مطمئن ہوگئے. کہاں گیا احسان؟ماں کے ساتھ حسن سلوک کیا اسی کا نام ہے؟ان کے لئے اپنے بازؤوں کو بچھادویہ اللہ کا حکم ہے.بہت ہی نادر ہے ایسی مثال ہمارے معاشرے میں جو اللہ کے فرمان کی عملی تفسیر پیش کرتی ہو.اس کے برعکس ماں کے ساتھ بدسلوکی سماج کی شناخت بن چکی ہے .ماں سے اونچی آواز میں کلام،بات-بات پر جِھڑکی، طعنے دینا اور برا بھلا کہنا یہ بہت ہی معمولی بات ہے.بلکہ نوبت تو یہ ہے کہ ہاتھ بھی اٹھانے میں تامل نہیں ہوتا اور مار پیٹ کرتے ہیں.یہ ہے ہمارا سماج جس میں ماں کی حالت یتیم ونادار اور بیواؤوں سے بھی بدتر ہے. استغفراللہ! جب کہ اللہ کا حکم ہے: "جب والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو". لعن طعن تو بڑے جرات کی بات ہے. معاشرہ میں ایک طبقہ ایسا بھی پایا گیا جو اپنی وسعت بھر ماں کے حق سے ادا ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ جتلانے سے بھی باز نہیں آتے.اور یہ عموما اس وقت دیکھا جاتا ہے جب کسی کو اللہ نے اولاد سے نوازا ہو.چناں چہ بھائی آپس میں ایک دوسرے کا منھ تکتے ہیں کہ ان کا بوجھ کون اٹھائے.بوجھ اس لئے کہ اولاد ماں کی دیکھ ریکھ اس نیت سے نہیں کرتی کہ اس پر ان کے اللہ کی جانب سے فرض حقوق ہیں.بلکہ سماج کا عار اور اس کا طعن اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس بوجھ سے بری ہوجائیں.کیا امید رکھی جائے ایسی خدمت سے. کیا یہی احسان ہے جس کا ذکر اللہ رب العالمین نے بطور وصیت کیا: "ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ سے متعلق نصیحت کی ہے،اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا،اور اس کی دودھ چھڑائی برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر،تم سب کو میری طرف لوٹ کر آناہے". (لقمان/14) اور صحیح بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا:لوگوں میں کون سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمہاری ماں".پھر پوچھا:پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"پھر تمہاری ماں".پھر پوچھا:پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھرتمہاری ماں".پھر پوچھا:پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمہارا باپ ". بلکہ بسااوقات ماں کی نافرمانی موت کے وقت کلمہ توحید کے اقرار سے روک دیتی ہے.جیسا کہ عبداللہ بن ابی اوفی کی مشہور روایت ہے کہ ایک شخص موت کے وقت کلمہ توحيد کا اقرار صرف اس وجہ سے نہیں کرپارہا تھا اور تکلیف میں تھا کہ وہ اپنی ماں کا نافرمان تھا،گرچہ وہ نمازی تھا.پھر جب اس کی ماں نے رضامندی ظاہر کی تو اسے کلمہ کی توفیق ملی. اللہ رب العزت کی اس وصیت اور نافرمانی کے انجام کو معلوم کرنے کے بعد بھی اگر کوئی معاشرہ اپنی ماؤوں کے حق میں بے حس ہوگا تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں کہ وہ اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہے.اور عجب نہیں کہ وہ دنیا ہی میں آلام ومصائب سے دوچار کیا جائے جیسا کہ عبداللہ بن ابو اوفی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں گزرا کہ وہ شخص کلمہ توحید کی ادائیگی سے محروم تھا جس نے ماں کی حکم عدولی کی. اخیر میں یہی کہ ماں کی عظیم ممتا کا کوئی مول نہیں.ماں کی بے پناہ محبت،9 ماہ شکم میں برداشت کرنے کی صعوبت اور پھر بعد ولادت رضاعت وطفولت سے سن شعور کا مرحلہ.اگر ایک ذی شعور اور زندہ شخص ان کی بے لوث قربانیوں پر غور کرے تو وہ تاحیات ان کا ایک وفادار اور متواضع غلام بن کر زندگی گزارے گا. اللہ ہماری ماؤوں کے درجات بلند کرے.ان کے سیئات مٹائے اور اس کا نعم البدل جنت الفردوس دے. ■■■■■■■■■■■■■■■■■ ملاحظہ:اس تحریر میں جملہ باتیں ماں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہیں.اس لئے کہ ماں کا چہرہ اور اس کا مقام وفضل سماج میں سب سے بڑھا ہواہے.اور اللہ تعالی کے یہاں بھی ماں کا باپ کی نسبت کچھ الگ اور خاص مقام ہے. پھر یہ کہ باپ کے اندر بحیثیت مرد مشکلات کے مقابلہ کی قوت زیادہ ہوتی ہے اور وہ اولاد کی نافرمانی کے قلق کو بہت حد تک برداشت کرلیتا ہے.جب کہ ماں کے لئے یہ بات بڑی شاق ہوگی کہ اس کا وہ لاڈلا جسے اس نے اپنے بطن میں 9 ماہ رکھا،زچگی کی سخت تکلیف کو جھیلا،دودھ پلایا،اس کی ٹھنڈی گرمی کا خیال کیا اور پھر وہ نافرمان ہوگیا.