الخميس، أبريل 05، 2018


مسلمانان ہند ، مسلم دنیا   اور  نئے تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی
ہندوستان  میں مسلمانوں کی حالت بھی عجیب ہے ۔ انہیں خود اپنی اتنی پروا نہیں رہتی جتنی دوسرے ملکوں میں بس رہے مسلمان بھائیوں کے لیے وہ پریشان رہتے ہیں ۔ ابھی بھی آپ دیکھیں گے کہ ان کے یہاں ہندوستان کی موجودہ صور ت حال سے کہیں زياد ہ فلسطین ، خلیجی ممالک اور دوسرے  خطوں کے سلسلے میں  فکرمندی  پائی جاتی ہے ۔ یہ فکرمندی در اصل اس عقیدے کا نتیجہ ہے جس کی رو سے دنیا کے سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں ، اس پورے منظر کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ میں تھوڑا پیچھے بھی جانا پڑے گا ۔ معلوم بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نہیں بھی تو ایک بڑی تعداد عرب ممالک ، ایران اور خراسان وغیرہ سے آکر یہاں بسی ہے ، ہندوستانی بادشاہ عرب حکمرانوں سے اجازت حکومت لیتے تھے اور اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی ، ہم مسلمانوں نے بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے دہے میں خلافت تحریک چلائی ہے ، جس خلافت کا ہندوستان سے بس یہ تعلق تھا کہ مسلمانوں کو وہاں ایک مرکز قوت نظر آتی تھی ورنہ ترکی سے اور کیا رشتہ ہو سکتا تھا ،یہ دینی حمیت اور اسلامی اخوت تھی کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کو بچائے رکھنے اور مضبوط رکھنے کی تحریک ہم ہندوستان میں چلا رہے تھے ۔ جس کا جو منطقی نتیجہ نکلنا تھا وہ نکل کر رہا ۔ ہمارا دینی مرکز جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے وہیں صوفیا کے مختلف سلسلوں کو بغداد وغیرہ سے خاص لگاؤ رہا ہے اور ان کے لیے وہی خطہ   مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اس تناظر میں عرب ممالک کے تئیں یہ فکر مندی نہ تو تعجب خيز ہے اور نہ ہی  مستبعد البتہ افسوسناک بات یہ ہےکہ اب اس رشتے میں مسلکی زہر پیوست ہوگیا ہے ۔ اندھی عقیدتیں اورکم تر جانکاری کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی جاری رہتی ہے ۔ ہماری اکثریت کو ان خطوں کی ٹھوس جانکاری نہیں ہےلیکن سب سے زیاد ہ یقین کے ساتھ انہیں خطوں سے متعلق ہماری باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ا س کی  ایک وجہ اس طرف آکر ان ملکوں میں پائی جانے والی دولت بھی ہے ، جس سے انکار ممکن نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ  نیشن  اسٹیٹ کا حوالہ دے کر بر صغیر کے مسلمانوں سے یہ توقع رکھتے ہيں کہ وہ عرب ممالک کے مسائل پر رائے زنی سے گريز کریں وہ ایک ایسی توقع رکھتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوگی البتہ یہ بہر حال افسوسناک ہے کہ ہم ہندوستان  کے لوگ خود اپنے گھر کی خبر اس طرح نہیں لیتے جس طرح لینی چاہیے ۔ تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ ہماری یہی توجہ پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال ، برما ، بھوٹان   اور مالدیپ کے مسلمانوں کے تئیں دیکھنے میں نہيں آتی ۔  نہ معلوم کیوں یہاں آکر ہماری اخوت ایمانی اور غیرت دینی کیوں کمزور پڑجاتی ہے !!
ہندوستان ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ، ایک دوسرے پر لعنت کے تیر برساکر ہم اپنے دشمنوں کو صرف مضبوط ہی کرسکتے ہیں ، ہمارے دشمنوں کو پتہ ہے کہ وہ ہمیں ہندوستان سے مٹا نہیں سکتے اس لیے وہ ہمیں بےدست و پا کرنے کی کوشش میں ہیں ، سیاسی سطح پرہمیں بے وقعت بنانے سے لے کر  ہر طرح کے سماجی اور عوامی پلیٹ فارم سے وہ ہمیں دور کردینا چاہتے ہیں ، ان کی خواہش اور سازش دونوں یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم مسائل میں الجھا کر رکھیں اور قومی سطح پر ہمارے  بحیثيت ایک مضبوط ملت کے اٹھان کو روکا جا سکے ، اسی لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے مسائل باہر لائے جارہے ہیں جن کا قوم ملت کی ترقی و تعمیر سے دور دور تک کا رشتہ نہیں ، ایسے مسائل کو چھیڑا جارہا ہے جن سے مسلمانوں کے مختلف مسالک  اور فرقوں کے بیچ دوری پیدا کرکے دشمنی کے بیج بوئے جا سکیں ۔
اس صورت حال میں ہماری سمجھدار ی بہر حال اسی میں ہے کہ ہم اپنی تعمیری پیش رفت کو متاثر نہ ہونے دیں ، تعلیم و تعلم کی راہ پر جو قافلہ چل پڑا ہے وہ بے راہ نہ ہو نے پائے ، ایک جمہوری ملک میں جو مواقع دستیاب ہیں وہ ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائیں بلکہ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان کوششوں کو اور مضبوط کیا جائے ، نئے نئے ادارے وجود میں آئیں اور دو قدم آگے بڑھ کر ملت کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے ۔ ہماری تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم نا موافق حالات میں اور بھی زیاد ہ بہتر نتیجے حاصل کرتے ہیں ۔ انیسویں صدی کے آخری نصف اور بیسوی صدیں کے پہلے نصف کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس عرصے میں ہمارے ہاتھ سے اقتدار نکل گیا وہیں ہم نے کئی سطحوں پر بے مثال کارنامے بھی انجام دیے اور ہم میں ایسے ایسے دماغ اور افراد ابھرے جنہوں نے نازک وقت میں ملت کی بہترین رہنمائی کا فريضہ انجام دیا ۔ سر سید ،  شبلی ، اقبال ، آزاد اور بقیہ رہنماؤں اور ان کے کارناموں کو  دیکھیے تو آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ۔موجودہ حالات میں مسلک مسلک ، ایران سعودی اور ترکی وہابی کا کھیل کھیلنے سے قبل یہ ضرور دیکھیے کہ آپ کی اپنی کشتی کس منجھدار میں ہے ۔ یاد رکھیے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان میں بستی ہے ، اس آبادی میں ایک پر ایک بڑے لوگ ہیں ، بڑا دماغ اور شعور ہے ، آنے والی نسلیں ہمیں نہیں بخشیں گیں کہ اگر یہ دماغ اور شعور تعمیر کی بجائے تخریب یا آپسی اختلافات کی نذر ہوگیا ۔
دشمن تاک میں ہے ، اس نے اپنے جال پھیلا دیے ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ ہم بہر حال دشمن کو مات دیں گے اور سرخروئی ہمارا ہی مقدر ہوگی ۔ اللہ کرے کہ ہم حالات کو سمجھ سکیں اور بہتر سمت میں اپنی قوت لگا سکیں ۔راحت کی زبانی ہم اور بھی مضبوطی سے کہ سکیں ۔
ابھی غنیمت ہے صبر میرا ، ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں
مجھے وہ مردہ سمجھ رہا ہے ، اسے کہو میں مرا نہیں ہوں
وہ  کہ رہا ہے کہ کچھ دنوں میں مٹا کے رکھ دوں گا نسل تیری
ہے اس کی عاد ت ڈرا رہا ہے ، ہے میری فطر ت ڈرا نہیں ہوں
راحت اندوری

السبت، مارس 03، 2018


پھول اور کانٹے
ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کو جب کبھی بکواس کرنی ہو  وہ ہمارے ہی گھر کا قصد کرتے ہیں ، اور سوالات بھی ایسے ایسے لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ بھر مطلب غصہ آجائے ، میں نے اس مرتبہ سوچا ہوا تھا کہ چاہے جو ہو جائے میں بے نام خاں کو بکواس کرنے کا موقع نہیں دوں گا ۔ اس لیے جب وہ آئے تو انہوں نے بہت ساری باتیں شروع کیں جیسے : اور مولانا صاحب ! کیا حال ہے ۔ میں نے کہا : الحمد للہ اور اپنے کام میں لگا رہا ۔ انہوں نے پھر آغاز کیا : جو کہو مولانا ! یہ بالکل درست بات نہیں  کہ اسرائیل سے سعودی عرب تعلقات استوار کرے ۔ میں نے ہوں کہا یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات کتنی غلط ہے ، اور انہیں سمجھتے دیر نہ لگی کہ ان کے سارے وار خالی جارہے ہیں۔ اب  انہوں نے ایک اور  بات کہی: اچھا مولانا یہ تو بتاؤ کہ پھول اور کانٹے کا ذکر قرآن و حدیث میں کتنی بار اور کہاں کہاں آیا ہے ؟ اب کہ مجھے ان کی طرف اپنی توجہ صرف کرنی ہی پڑی اور میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگيا ۔ میں نے اپنے ذہن کو معلومات کے جزیرے میں دھکیل دیا ، سوچا کہ وہاں سے کچھ تو آئے لیکن نتیجہ یہ تھا کہ ہاتھ خالی تھا ۔ہمارے دوست نے ہماری توجہ اورفکرمندی سے فائدہ اٹھایا اور پھر ان کے افکار وخیالات کی آندھی چل پڑی ۔
دیکھیے مولانا : آپ بھی کہاں کھو گئے ۔ ادھر آئیے ، پھول اور کانٹے کے رشتے پر غور کیجیے ۔ اچھا ، پہلے ایک شعر سنیے
کانٹوں میں جو  کھلتا ہے ، شعلوں میں جو پلتا ہے
وہ پھول ہی گلشن کی تقدیر بدلتا ہے
پھول اور کانٹے کا رشتہ بہت مضبوط اور زبردست ہے ۔ پھول کانٹوں میں لپٹا ہوا ہوتا ہے ۔ گلاب کو کانٹے اپنے حصار میں نہ لیں تو گلاب کبھی گلاب نہ بن پائے ۔ یہ کانٹے گلاب کی حفاظت کرتے ہیں ، اسے مضبوط کرتے ہیں ، خوشبودار بناتے ہیں ، اہم کرتے ہیں ، اسے  مخصوص ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔ کانٹے نہ ہوں تو پھول مر جھا جائیں اور سچ تو یہ ہے کہ کانٹوں کے بغیر پھولوں کی معنویت بھی کیا ہو ۔ایسے میں پھول اگر کانٹوں کو اپنا دشمن یاحریف سمجھ لے اور الجھنے کی سیاست اپنائے تو پھول کانٹوں سے ہار ہی جائیں گے کہ بہر حال نرم ونازک ہوتے ہیں اور کانٹے نوکیلے ، مضبوط اور دھار دار ہوتے ہیں ۔ آپ نے پھولوں کو کانٹوں سے لڑتے ہوئے نہيں دیکھا ہوگا ۔ پھول انہیں پیار سے گلے لگاتے ہیں اور انہیں کے زیر سایہ پلتے بڑھتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیر کر دنیا کی نظروں میں محبوب ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔
مجھے خان صاحب کی باتیں تھوڑی تھوڑی ہی سمجھ میں آرہی تھیں ۔ میں نے کہا: دیکھو بھائی خان صاحب ! تم یار ، یہ تو بتاؤ کہ کہنا کیا چاہتے ہو ؟
خان صاحب مسکرائے جیسے اعتماد کے آسمان سے فکر و نظر کے کئی ستارے گرانے والے ہو ں ۔ مولانا صاحب ! زندگی میں انسان کو بہت سے کانٹوں کا سامنا ہے لیکن اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ کانٹوں سے الجھے بغیر پھول کی طرح اپنا راستہ بنائے ۔ خوشبو بکھیرے اور چھا جائے ۔ یہ کانٹے اس کے محافظ بن جائیں ، اسے بڑا ہونے کا احساس دلائیں کیوں کہ راہ انہیں کی روکی جاتی ہے جن کے چلنے میں قوت ہوتی ہے ، پریشان انہیں کیا جاتا ہے جو اہم ہوتے ہيں ، بڑے ہوتے ہیں ۔ پھول بنو کہ کانٹے محافظ ہوجائیں ۔ زندگی میں آنے والی ان پریشانیوں اور چیلنجیز کو پریشانی یا کلفت کی نظر سے نہیں محافظ کی نظر سے دیکھو کہ یہی تو تمہیں عظیم بناتے ہیں ۔ و ہ جو اصغر گونڈوی نے کہا ہے نا
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوںزندگی دشوار ہو جائے
زيادہ تر لوگ زندگی کو کالے چشمے سے دیکھتے ہیں اور انہیں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے نظر آتے ہیں جبکہ اگر ان کے اندر پھول کی خوبی ہو تو وہ ان کانٹوں کو اپنی بلندی کا ذریعہ بنالیں ۔ اسلام کی عظیم مقدس کتاب قرآن حکیم میں بھی "  ان مع العسر یسرا " کہا گيا ہے ۔ مولانا صاحب ! آپ لوگ کہتے ہيں کہ ہر پریشانی کے بعد آسانی ہے جبکہ قرآن کریم کا پیغام یہ ہے کہ ہر پریشانی کے ساتھ آسانی ہے ، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کانٹے اصلا مسئلہ نہیں ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو راستہ نکالنا آتا ہے یا نہیں ۔ ان پریشانیوں کو آسانیوں میں تبدیل کرناآتا ہے یا نہیں ۔ راہیں کھلتی ضرور ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی چشم بصیرت و بصارت اس کا سراغ پا پاتی ہے یا نہیں ۔ جس امت کی تاریخ میں پاؤں رگڑنے سے زمزم کے پھوٹنے کی روایت موجود ہو ، جس کے نبی کی سیرت میں بچاؤ کے لیے خندق کھودتے وقت قیصر وکسری کےخزانوں کی بشارت موجود ہو ، اس امت کا یہ سوچنا کہ زندگی بہت دشورا ہے ، راستے بند ہیں ، پریشانیاں جان لے رہی ہیں ، در اصل یہ چشم بصیرت سے محرومی کا اشاریہ ہے ۔" والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا " کی الہی ضمانت جہاں موجود ہو وہاں اس قسم کے خیالات کا پنپنا انتہائی خطرناک بات ہے ۔سلمان فارسی کو ہدایت ملی یا نہیں ؟ مکہ کے ستائے گئے کمزور مسلمانوں نے آخر مکہ فتح کیا نہیں ؟ قیصر و کسری کا خزانہ مسلمانوں کے ہاتھ لگا یا نہیں ؟ مکہ کے مہاجر صحابہ نے تجارت کرکے مال و اسباب پیدا کیے یا نہیں ؟  تو کیا ان کی راہیں مشکلات سے خالی تھیں ؟ کیا انہیں کلفتوں سے نہیں گزرنا پڑا ؟ لیکن کیا یہ کانٹے انہیں روک سکے ؟" لقد خلقنا الانسان فی کبد "اگر اللہ پاک کا فرمان ہے اور یقینا ہے تو انسان کو اس زندگی میں جھیلنا تو پڑے گا لیکن کیا یہ پریشانیاں اس کی راہ روک سکتی ہیں ؟ یہیں سے منفی و مثبت افکار کے سارے معاملے سمجھ میں آ جاتے ہیں ۔ دیکھو مولانا ایک شعر یاد آگیا ۔
گل سے حوصلہ سیکھو غم میں مسکرانے کا
قید ہے وہ کانٹوں میں پھر بھی مسکراتا ہے
 کون ہے جو بغیر اسٹرگل کے بڑا بن جاتا ہے ۔ پریوں کی داستانوں کو چھوڑ دو تو ہر بڑے انسان کو پھول بننے سے قبل کانٹوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ وہ چاہے رتن ٹاٹا ہو ، امبانی  ہو یا کوئی اور ۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی  راہوں میں کم کانٹے تھے لیکن کیا یہ کانٹے کی ان کی  راہ روک سکے ۔ جتنے مجددین ، مصلحین اور عظما کی تاریخ پڑھیے گا یہ حقیقت کھلتی جائے گی کہ بڑے ہونے کی راہ آسان نہیں ہوتی لیکن بڑائی انہیں کا مقدر ہوتی ہے تو اس مشکل راہ کو عبور کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔
میرے مولانا دوست ! تمہاری قوم میں آج کل مختلف اسباب کی بنا پر اس قسم کی افسردگی ، یاسیت اور نا امیدی گھر کرنے لگی ہے ۔ قوم کو سمجھاؤ کہ اصل موت حوصلے کی موت ہے ، راستہ بند نہیں ہوتا لیکن یہ سوچنا کہ راستہ بند ہے ، واقعی راستہ بند  کردیتا ہے ۔ بڑھنے والے کو کوئی چيز نہیں روک  پاتی ، بالکل سیلاب کی مانند کہ اسے بڑھنا ہوتا ہے تو وہ اپنی راہ بناہی لیتا ہے ، تمہیں بھی اپنی راہ بنانا ہے اور ہاں ایک بات قوم کے نونہالوں کو سمجھاؤ کہ خود کو بنانے کی راہ میں آنے والی پریشانیاں صرف جھیلنےوالے کو یاد رہتی ہیں ، کسی اور کو نہیں، دنیا تو جھیل کر بڑی جگہ پہنچنے والے شخص کی صرف بڑی کرسی ، بڑا عہدہ اور بڑا مقام دیکھتی ہے ۔  شکوے شکایت کے بھول بھلیے سے نکلو کہ یہاں تمہارا کریئر گم ہو جائے گا ، مستقبل بھٹک جائے گا اور سوائے حیرانی و پریشانی کے زندگی میں اور کچھ نہیں رہ جائے گا ۔  ایک شعر سناکر رخصت لوں گا
کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں
پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے
جاوید وششٹ
اور میں خان صاحب کو مست قدموں سے جاتا ہوا دیکھتا رہا اور اس بیچ سوچتا رہا کہ کبھی کبھی خان صاحب بکواس نہیں بھی کرتے ہیں !!

الاثنين، أكتوبر 30، 2017

بوجھ
ساگر تیمی
کلیم : رحیمہ مجھے لگتا ہے اس بار ضرور بیٹا ہوگا ۔ دو دو بیٹیوں کا بوجھ تو ہم پہلے ہی ڈھو رہے ہیں ۔ اب تیسرا بیٹا تو ہونا ہی چاہیے ۔
رحیمہ : "ہاں ، دعا تو میری بھی یہی ہے لیکن حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے " ۔ یہ الفاظ بھی بہت مشکل سے رحیمہ ادا کرپائی ۔ شوہر کی اس بات کا مطلب اسے معلوم تھا اور وہ جانتی تھی کہ دونوں بیٹیوں کے تئیں اس کے شوہر کا کیا رویہ ہے ۔ ڈر اور خوف کی عجیب نفسیات نے اسے جکڑ لیا جب کلیم نے یہ باتیں دہرائیں ۔ شادی کی پہلی رات سے کلیم کو بیٹے کی جستجو تھی ، معاملہ رحیمہ کا بھی یکساں ہی تھا لیکن ولادت کے بعد وہ اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتی تھی جو محبت اسے اپنے شوہر کی آنکھوں میں نظر نہيں آتی تھی ۔ پہلی بچی دس سال کی اور دوسری چار پانچ سال کی تھی اور اب یہ تیسری اولاد ہونے والی تھی ۔ رحیمہ کا دھیان جب کبھی اپنے شکم کی طرف جاتا وہ سہم جاتی ۔ نہ جانے کیوں اسے لگتا کہ اس بار بھی بیٹی ہوگی اور بچیوں کے ساتھ ساتھ خود اس کا مستقبل بھی اندھیروں میں چلا جائے گا ۔
  اسے وہ رات اچھی طرح یاد تھی جب کلیم نے اسے اپنے خاص انداز میں سمجھایا تھا : دیکھو رحیمہ ! میں ایسا نہیں کہ بچیوں سے پیار نہیں کرتا لیکن یار بچوں کی تو ہمیں ضرورت ہے نا ، ہماری نسل کیسے آگے بڑھے گی ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا کون ہوگا ، ہمارا خواب کیسے پورا ہوگا ، بیٹیوں کو تو ایک دن کسی اور کے گھر جانا ہے اور پھر وہ تو ہمارے اوپر بوجھ ہی ہیں ، ان سے ہمارا بوجھ کم کب ہوگا ۔ آج کے زمانے میں بغیر لاکھوں لاکھ خرچ کیے بیٹیوں کی شادی ہوتی کب ہے ؟
  رحیمہ کو معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے اندرون تک بیٹے کی خواہش ہے جس میں اس کی شفقت پدری سے کہیں زيادہ مادی ہوس کا عمل دخل ہے لیکن عورت کی کمزور ذات کرے تو کیا کرے۔ کبھی کبھی اپنی کلی کی مانند کھلتی ہوئی بیٹیوں کو دیکھتی اور اداس ہو جاتی ۔ بات ایسی بھی نہیں تھی کہ یہ جذبات ان معصوم کلیوں تک نہيں پہنچے ہوں ۔ کبھی کبھی وہ بھی اپنی ماں کی اداسیوں کو الفاظ دے دیتیں ۔ "اماں ! آپ ہماری وجہ سے پریشان رہتی ہیں نا ؟ کیا پتہ ہمیں موت بھی کیوں نہیں آتی ۔" دس سالہ معصوم عصمت کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تو رحیمہ کا کلیجہ چھلنی چھلنی ہوجاتا اور وہ دلار پیار کرکے اپنی جان سے عزیز بیٹی کو اس طرح کے خیالات سے روکتی لیکن خود جیسے ایسے ہی خیالات کی دنیا میں کھو جاتی جہاں اسے لگتا کہ اس کے شوہر اس سے بیٹیاں چھین کر کسی خونخوار جانور کے حوالے کررہے ہیں اور وہ لاحول پڑھنے لگتی ۔
    اللہ کا کرنا دیکھیے کہ تیسری مرتبہ بھی رحیمہ کے بطن سے بیٹی ہی پیدا ہوئی ۔ نرس نے جب اس کی گود میں اس کی بیٹی کو ڈالا تو وہ اس کے حسین آنکھوں میں کھو گئی لیکن معا بعد جب اسے اس کے بیٹی ہونے کا خیال آیا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے ۔ شوہر تب کہیں اور تھا ۔ جب اسے اس کی اطلاع ملی تو جیسے کسی نے اس پر سرد پانی کی صراحی انڈیل دی ہو ۔ گھر آنے پر اس نے نہ صرف یہ کہ بچی کو گود نہيں لیا بلکہ رحیمہ کا حال احوال لینا بھی  ضروری نہیں  سمجھا ۔ رحیمہ کو چوں کہ اس قسم کی صورت حال کی توقع تھی اس لیے وہ خون کے آنسو پی جانے میں کامیاب رہی ۔
  لیکن یہ نفرت کلیم کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی ۔ وہ ایک پر ایک شیطانی منصوبے بنا رہا تھا لیکن پھر جیسے کچھ سوچ کر رک جارہا تھا یا جیسے کوئی خوف اسے دامنگیر ہو جارہا تھا ۔ کبھی پانی میں ڈبونے کا خیال آتا تو کبھی چاقو سے ذبح کردینے کا اور کبھی کہیں کسی اونچی جگہ سے نیچے پھینک دینے کا لیکن اس طرح کے ہر خیال کے بعد جیسے وہ خود ہی ڈر جاتا اور خیال ارادہ کی منزل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتا لیکن برے خیالات اگر جھٹکے نہیں جاتے تو کسی نہ کسی شکل میں عملی پیکر میں نمودار ہو ہی جاتے ہیں ۔ شیطان اپنا کام کر ہی جاتا ہے ۔
  گاؤں سے ممبئی کا سفر ریل گاڑی سے کافی لمبا تھا ۔ رات کا وہی کوئی دس بج رہا ہوگا ۔ رحیمہ نیچے والی سیٹ پر سوئی ہوئی تھی ۔ دونوں بیٹیاں اوپر والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن وہ باربار نیچے دیکھ رہی تھیں جیسے انہیں کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنا ہو ۔ کلیم نے بیٹیوں کی جب یہ کیفیت دیکھی تو اس کے دماغ میں ایک شیطانی خیال آیا اور اس نے بیٹیوں کو پیار سے نیچے اتار لیا ۔ ان کے ہاتھ پکڑے اور کہا : آؤ گیٹ کے پاس سے ٹھیک سے باہر کا نظارہ کراتے ہیں ۔ بیٹیاں بہت خوش ہوئيں اور باپ کا ہاتھ پکڑے گیٹ پر آگئیں ۔ وہ انہیں باہر کے مناظر دکھاتا رہا ، بعض دفعہ جب وہ کچھ پوچھتیں تو انہیں پیار سے بتاتا بھی رہا ، کچھ دیر گزرنے کے بعد جب بچیاں پوری طرح منظروں میں کھو گئیں ، ہنسنے مسکرانے لگیں ، دونوں بہنیں ایک دوسرے سے چھیڑ کرنے لگیں تو اس نے سناٹا دیکھ اپنا شیطانی ارادہ پورا کیا اور دونوں بچيوں کو تیز دھکے سے ٹرین کے باہر کردیا ۔
    تیز رفتار ٹرین آگے نکل گئی لیکن بوجھ اتنی آسانی سے اترتا کب ہے ۔ بچیاں جہاں گریں وہیں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا ، انہوں نے بچیوں کو اس حالت میں دیکھ کر جلدی جلدی ہاسپیٹل پہنچایا ۔ گھنٹوں بعد جب بڑی بچی کو ہوش آيا تو ساری حقیقت سامنے آئی لیکن پولیس سے لے کر ہاسپیٹل کے سارے عملہ کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تیرنے لگے جب بچی نے کہا : لیکن میرے پاپا کو کچھ مت بولیے گا ۔ انہیں جیل میں مت ڈالیے گا ۔ وہ بہت اچھے پاپا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ اور ایک بار پھر اس کا ہوش جاتا رہا ۔۔۔۔۔

  

الاثنين، سبتمبر 11، 2017

ڈر کے ماحول میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی
ثناءاللہ صادق تیمی
   اللہ پاک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بناکر مبعوث کیا اور زندگی کے تمام مرحلوں کے لیے آپ کی زندگی میں ایسے نمونے رکھ دیے کہ رہتی دنیا تک ایمان والوں کو روشنی ملتی رہے گی ۔ ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ جہاں عقیدت و محبت کی نظر سے کرنا چاہیے وہیں آپ کی زندگی کو مسائل کے حل کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے ۔ انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگی کے لیے آپ کی سیرت میں ایسے روشن نمونے موجود ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہمیں مسائل کا حل دیتے ہیں ۔
    عالمی سطح پر بطور عام اور اپنے ملک کی سطح پر بطور خاص بظاہر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں ، ہم بحیثیت امت کے ہر جگہ پریشان ہیں ، مختلف سطحوں پر ہمارے خلاف پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے دشمنوں نے پوری تیاری کررکھی ہو ، میانمار ، لیبیا ، یمن ، شام ، کشمیر اور افغانستان کہیں بھی ہمارے حق میں کچھ اچھا نہيں ہورہا ہے ۔ پچھلی کئی صدیوں سے ہم بحیثيت امت لگاتار مصائب سے جوجھ رہے ہیں، مختلف سمتوں سے ظلمت کی بدلیاں اٹھتی ہیں اور چھاتی چلی جاتی ہیں ۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سوچنے سمجھنے کا انداز بھیActive  ہونے کی بجائے Passive  ہوگيا ہے ، ہمارے نونہالان بھی عنفوان شباب سے یہ سمجھنے لگ رہے ہیں کہ وہ نبسۃ ایک زوال پذیر قوم کا حصہ ہیں ، پچھلے چند سالوں میں جتنی تحریرں زوال امت پر لکھی گئی ہیں ان کا مثبت نتیجہ کیا برآمد ہوا وہ تو بعد کی بحث ہے ، منفی نتیجہ یہ ضرور برآمد ہوا ہے کہ ہم نے بحیثيت امت کہ اپنے زوال کو بطور خود تسلیم کرلیا ہے ، بسا اوقات اس کا اظہار بھی ہم اس طرح کرتے ہیں جیسے کمزور اور نادار ہونا کوئی خاصے کی چيز ہو !!
  بہرحال حالات کی سنگينی سے قطع نظر ایک چيز اور بھی ہے اور وہ ہے کسی قوم کا اپنے عقائد و ایمان اور اصول و مبادی میں مستحکم اور غیر متزلزل ہونا ، اس کا یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور ظلمت کی بدلیاں اب تب چھٹنے ہی والی ہیں ۔ زوال کی اس نفسیات کا ایک منفی اثر بہر حال یہ رہا ہے کہ امکانات سے متعلق گفتگو عموما یا تو نظر انداز ہوئی ہے یا پھر رد عمل کی نفسیات کے تحت ہوئي ہے ۔ امکانات پر ہم نے بحیثيت امت کے سنجیدگی اور مثبت رویے کے ساتھ کم کم ہی توجہ مبذول کی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زوال پر لاکھ آنسو بہانے کے باوجود وہ زوال اب بھی سینہ ٹھونکے کھڑا ہے !!
 اس خاص تناظر میں اگر ہم قران حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں جو ہدایتیں ملتی ہیں ان میں روشنی اور امید کی کرنیں بہت نمایاں ہیں ۔ قرآن بہت صاف انداز میں ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں کسی بھی ناکامی یا پریشانی کے بعد گھبرانے یا ڈر کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور نجات اور کامرانی کے امکانات اللہ نے بہت رکھے ہیں ۔ ان مع العسر یسرا کا پیغام یہ ہے کہ پریشانی کے ساتھ آسانی کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہے ! ان مسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ  کا واضح مطلب ہے کہ دشمن سے مرعوب ہونے کی بجائے یہ سمجھو کہ دشمن کو بھی تو نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے ساتھ لا تقنطوا من رحمۃ اللہ کی صدائے الہی اس بات کا تاکیدی اشاریہ ہے کہ ابھی راہیں بند نہیں ہوئیں لیکن ابھی ٹھہریے ! اس سے بھی آگے اللہ پاک کی نشاندہی یہ ہے کہ جہاں بظاہر تمہیں خسارہ نظر آتا ہے اور ہزیمت کی ذلت محسوس ہوتی ہے وہاں بھی خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوسکتا ہے عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم ! قرآن اپنی ہدایت میں کسی پس و پیش کا شکار نہیں ، پیغام بہت واضح ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں یہ مرحلے آسکتے ہیں اور وہ قوموں کی زندگی میں آتے بھی رہے ہیں لیکن بحیثيت ایک ایمان والی قوم کے ہمت نہ ہارنا اور امکانات کی تلاش کرتے رہنا ہی ہماری کامیابی ہے اور ان شاءاللہ اس تلاش کے نتیجے میں وہ راہ ملے گی بھی ضرور و العاقبۃ للمتقین ، و ان جندنا لھم الغالبون ، کان حقا علینا نصر المومنین !!!
   رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان مرحلوں کے نمونے دیکھیے تو ہمیں کیا کیا روشنی نظر آتی ہے ۔ ہجرت کے سفر میں قدم قدم پر اس کی مثالیں سامنے آتی ہیں ۔ دشمنوں نے جب ننگی تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور بانکے نوجوان گردن اڑانے کو گھر کا محاصرہ کیے ہوے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آيات پڑھتے ہوئے ان کے پاس سے گزررہے ہیں ۔ غار ثور کے منہہ پر جب دشمن آگئے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے متعلق گھبرا رہے ہیں تو انہیں کیا ایمان افروز تسلی دے رہے ہیں " یا اباکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما ، لا تحزن ان اللہ معنا " ابوبکر ان دو لوگوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو جس کا تیسرا اللہ ہے ! گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے !!
ہجرت کے اسی سفر میں جب سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کا پیچھا کرتے ہیں تو آپ اس بے سروسامانی کے عالم میں کس درجے کے اعتماد ، اپنے مشن کی کامیابی پر یقین سے لبریز ہیں کہ انہیں قیصر وکسری کے کنگن کی بشارت دے رہے ہیں !!
   دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ، مکہ سے لے کر اطراف کے یہود تک ایک ہوکر مدینہ پر چڑھائی کرچکے ہیں ، مسلمان بچاؤ کے لیے خندک کھود رہے ہیں ، اس کھودائی کے بیچ جب کہ اپنی حفاظت بظاہر آسان نظر نہیں آرہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کھودائی بھی کررہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو قیصر و کسری کی فتح کی خوشخبریاں بھی دے رہے ہیں ۔ دنیا کے خزانے مسلمانوں کو ہاتھ لگنے والے ہیں یہ بھی بتارہے ہیں ۔ حالات کی نزاکت نے مشن کی بلندی اور نظر کی وسعت کو محدود نہیں کیا ہے ۔ سامنے کی ظاہری ظلمت نے ایمان و یقین کے اجالے کو مدھم نہیں ہونے دیا ہے ۔
   سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے روشن نمونے ہیں ۔ جنگ احد میں جب دشمنوں نے جنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ، جب مسلمان تتر بتر ہوگئے ہیں اور پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں  اس وقت آپ نے آواز لگائی ہے حالانکہ معلوم ہے کہ آپ کو نشانہ بنایا جائے گا ، جنگ حنین میں یہی کیفیت عود کرآئی ہے اور آپ نے انا النبی لا کذب انا عبد المطلب پڑھا ہے اور اپنے اوپر کسی بھی قسم کی منفی نفسیات کو حاوی ہونے نہیں دیا ہے ۔ مشن کی کامیابی اور پریشانی کے بیچ سے نکل کر کامران و کامیاب ہونے کا یقین آپ کی زندگی کا بہت روشن پیغام ہے اور آپ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اس مثبت اور مستحکم عقیدے کے ساتھ جینے کا نتیجہ کامرانی اور کامیابی ہی ہے ۔ ہمیں اس پر آشوب دور میں رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان پہلوؤں پر بطور خاص تو جہ دینے کی ضرورت ہے ۔ فتح ہمارا ہی مقدر ہے ، کامیابی ہمارے ہی حصے میں ہے لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ رویہ مثبت اپنایا جائے ، ایمان کا رشتہ کمزور نہ ہونے دیا جائے اور اللہ کے وعدے پر لازوال اور غیر متزلزل یقین رکھا جائے اور نچلے بیٹھنے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرتے رہا جائے ۔

اللہ ہمیں بہتر توفیق ارزانی کرے ۔ 

الأحد، مايو 07، 2017

احمد امین کی" حیاتی "
ثناءاللہ صادق تیمی
  جن دنوں جامعہ امام ابن تیمیہ میں اولی فضیلہ( ثانیہ کلیہ) کا طالب علم تھا ، جامعہ کی ماہانہ میگزین مجلہ طوبی کے سب ایڈیٹر کی حیثيت سے مولانا ابونصرندوی ( مکی صاحب ) جامعہ آئے تھے ۔ ان کی شادی ہماری بستی میں ہے ، گاؤں کے رشتے سے پھوپھا لگتے تھے ، ان کا اپائنٹمنٹ لیٹر میں ہی لے کر گيا تھا ، اس لیے جب وہ جامعہ آئے تو بڑی خوشی ہو ئی ، قربت بڑھی تو اور بھی مزہ آيا کہ پھوپھا تو بڑے باغ وبہار آدمی نکلے ۔ علم وادب کا بڑا ستھرا ذوق ، مست الست قسم کے آدمی ، سب سے کھل کر ملنا اور کسی سے کوئی بیر نہ رکھنا ، کتابوں کے شوقین ، اردو سے خصوصی دلچسپی ، ادبی تحریروں کے رسیا ، اقبال ، آزاد ، سید سلیمان ، شبلی ، مودودی اور وحیدالدین خان سب کے قدرداں ، شخصیات کے بیچ افکار کے اختلافات پر سیدھا اور واضح جواب خذ ما صفا و دع ما کدر ۔ ان سے قربت بڑھی اور انہوں نے پڑھنے لکھنے کا ذوق دیکھا تو ایک ایک کرکے سب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی سال تھا جب مجھے درسیات سے دلچسپی کم رہی تھی ، اس سال ششماہی امتحان میں تیسری پوزیشن آئی تھی اور اس وقت سمجھ میں آيا تھا کہ فرسٹ آنے کے بعد تھرڈ آنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے !!!
  عربی سے تھوڑی بہت دلچسپی خود سے پیدا ہوگئی تھی ، کامل کیلانی ، عبدالرحمن رافت پاشا اور ابوالحسن علی ندوی کو پڑھتا رہتا تھا لیکن اس جانب منظم رہنمائی بھی مولانا ابونصر ندوی نے ہی کی ، کچھ کچھ رہنمائی استاذ محترم مولانا فضل الرحمن ندوی حفظہ اللہ سے بھی ملی ، مکی پھوپھا نے ہی منفلوطی ، طہ حسین ، عقاد اور احمد امین کے نام لیے اور یوں شوق کی اس دنیا میں جس کی جو کتاب ہاتھ لگتی گئی دیکھتا گيا ۔ من بعید ، حدیث الاربعاء ، کتاب الاخلاق ، عبرات ، نظرات، عبقریات وغیرہ جہاں تہاں سے پڑھ ڈالے ۔ احمد امین کی حیاتی  لاکھ تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکی اور یوں تشنگی رہ گئی ۔ جے این یو میں ہمارے کلاس فیلو جناب عمران احمد ندوی صاحب نے اپنا ایم فل حیاتی پر کیا تھا ، سو ان کے پاس رکھی کتاب جہاں تہاں سے دیکھنے کو مل جاتی تھی لیکن خود کے کام میں مصروفیت رہتی تھی سو نہ پڑھ سکا۔ البتہ ان کی فجر الاسلام ، ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں فجر الاسلام پوری اور بقیہ حصے  جہاں تہاں سے جے این یو کے زمانے ہی میں پڑھا ۔
  احمد امین کی کتاب الاخلاق اس لیے کچھ پلے نہ پڑی کہ تب پلے پڑنے کی عمر ہی نہ تھی ، بس شوق تھا کہ جو کتاب مل جائے پڑھ ڈالو ، کتاب الاخلاق کا حوالہ دے کر کہ ہم نے اسے پڑھی ہے، بہت سی جگہوں پر علمی دھونس جمانے کا بھی موقع مل جاتا تھا ۔ ادھر پچھلے دنوں شمس کمال انجم صاحب کے " یومیات " نے پھر سے احمد امین کے حیاتی کی یاد دلادی ، انہوں نے حیاتی میں موجود ایک دلچسپ واقعے کو لکھا تھا ۔
    جریر بک اسٹور گیا تو نصف بہتر کا موبائل تو نہ لیا جاسکا کہ جو ان کو پسند تھا وہ تھا نہیں اور جو تھا انہیں پسند نہیں تھا ، موقع کا فائدہ اٹھا کر ہم نے کتابوں میں تھوڑا وقت صرف کرنا چاہا ، تراجم کےخانے میں حیاتی مل گئی اور جھٹ خرید لیا ۔ ویسے بھی سو ریال جو نکاح پڑھانے کے ملے تھے کہیں اور خرچ کرنا مناسب نہیں تھا !! دو تین انگریزی اور دو تین عربی کتابیں خرید لیں ۔ اس درمیان البتہ محترمہ کا ماتھا ٹھنکا رہا کہ اگر پانچ چھ کتابیں ہی خریدنی تھیں تو یہ دو گھنٹہ کتابوں کے بیچ ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟؟
   اس درمیان گھر کی شفٹنگ اور دوسری مصروفیتوں کے بیچ کتابیں کدھر رکھ دی گئیں ، پتہ ہی نہیں چلا لیکن پرسوں جب ہاتھ لگی تو رات دیر گئے تک ختم کرکے ہی دم لیا ۔
  احمد امین اپنے ششتہ اسلوب کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ، انہوں نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ لوگ اس پس وپیش میں رہتے ہیں کہ انہیں عالم کہا جائے یا ادیب اور سچی بات یہ ہے کہ ان کی نثر میں وضاحت اور سادگی پائی جاتی ہے جو ادبیت سے زیادہ علمیت کے قریب ہے لیکن اس اسلوب کا کمال یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی خشکی ، کھردراپن اور اکتاہٹ میں ڈالنے کی کیفیت نہیں پائی جاتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بولنے والی زبان لکھ دی ہے ۔ لگ بھگ یہی کیفیت ان کی فجر الاسلام ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں یہ رنگ اور چوکھا ہوگيا ہے ۔
 کتاب کا مطالعہ ہمیں جہاں احمد امین سے واقف کراتا ہے وہیں اس وقت کا مصر بھی نگاہوں میں پھر جاتا ہے ، مڈل کلاس لوگوں کی زندگی ، بچوں کی تربیت کا ڈراؤنا انداز، ازہر اور اس کی قدامت پسندی ، استعمار اور کے زہریلے سانپ ، نئی تعلیم اور پرانے علوم کی رسہ کشی ، غلامی اور جد وجہد آزادی کی کوششیں اور ان سب پر ایک انسان کی زندگی میں پیش آنے والے وہ واقعات جو ہمیں بہت کچھ سکھانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ احمد امین نے شادی سے متعلق جو نقشہ کھینچا ہے ، احباب کی جو باتیں لکھی ہیں ، ہاں اور نا کے کشمکش کی جو تصویرکشی کی ہے اور پھر شادی کے تکمیل پانے سے لے کر شروعاتی ازدواجی زندگی کے جو کوائف بیان کیے ہیں وہ خاصے کی چیز ہے ،انگریزی سیکھنے کی للک ، اس کے اسباب اور پھر اس کا طریقئہ کار بہت دلچسپ ہے ۔ اسفار کی تفصیل بھی اچھی ہے لیکن خاص طور سے ترکی کا سفر مزیدار ہے کہ ابھی ابھی وہاں انقلاب آیا تھا ، اس سلسلے میں ان کی اپنے استاذ سے گفتگو بہت اہمیت رکھتی ہے اور آج کے ترکی کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے ۔ منصب پر ہونے اور نہ ہونے پر احباب اور لوگوں کے رویے کو احمد امین نے ایک خاص درد دے دیا ہے ۔ کتاب کی بہت سی خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ ہے کہ مصنف نے کھلے دل سے اپنے محسنین کا اعتراف کیا ہے اور اس میں کسی مشرق مغرب کی کوئی تفریق نہیں کی ہے ۔ اگر آپ اس کتاب کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں تو عراق کا سفر اور اس میں شیعہ مقرر کی تقریر والا حصہ ضرور پڑھیے گا، آپ کو مزہ بھی آئے گا اور ہنسی بھی چھوٹے گی ۔
   اردو میں بھی بہت سی خود نوشت لکھی گئی ہے ہمیں عبدالماجد دریابادی کی " آپ بیتی " بہت اچھی لگی تھی اور عربی میں حیاتی بھی پسند آئی ہے !!! ویسےالایام اور انا کے بعض حصوں کو چھوڑ دیجیے تو عربی میں پڑھا ہی کیا ہے !!!!