الأربعاء، سبتمبر 17، 2014

آرزوئے دراز:
(عربی کے ایک منظوم کلام کو اردو تعبیر دینے کی کوشش)

بچے جوان ہونا چاہتے ہیں
بوڑھےاب غلمان ہونا چاہتے ہیں
فارغ البال ‘تنگیئ  شغل سے آزاد ہے

مشغول کا عالم یہ کہ کام کہ بوجھ سے ناشاد ہے
مالدار کثرت دولت سے پریشان ہے
نادار اپنے فقر سے حیران ہے
صاحب اولاد‘ اولاد کے کردار سے موہوم ہے
تو بے اولاد ‘محرومی اولاد سے مغموم ہے
کوئی فتنہ حسن پہ شکوہ بزباں ہے
توکوئی جمال سے تہی دامنی پہ ماتم کناں ہے
کسی کے لئے شکست ہی گو کہ مقدر ہے
کوئی ہے کہ فوز وفلاح کا سکندرہے
شرف ومجد کی جیسے کوئی جنگ ہے
اگر ہاتھ آجائے تو پھر بھنگ ہے
شکوہ سنجوں کاکوئی معیارنہیں

چپقلش ہے کہ عدل کا اعتبار نہیں
یہ انسان تقدیر سے ششدر وحیران ہے

یا کہ تقدیر ہی ان سے پشیمان ہے؟


      (اردو قالب:سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی)



الاثنين، سبتمبر 15، 2014

سیاست کیجیے لیکن سنبھل کر
ثناءاللہ صادق تیمی ، ریسرچ اسکالر جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
   اناؤ سے لوک سبھا کے ممبر پارلیامنٹ جناب ساکشی مہاراج نے الزام لگایا ہے کہ مدارس کے اندر صرف دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اگر یہ مدارس حب الوطنی سکھاتے ہیں تو ان پر ترنگا کیوں نہیں لہرایا جاتا ؟ ساتھ ہی انہوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ہے لو جہاد کے لیے مسلم ممالک یہاں کے نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ سکھ لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے 11 لاکھ روپے ، ہندو لڑکی سے شادی کرنے کے لیے 10 لاکھ روپیے ، جین لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے 8 لاکھ روپیے اور دیگر برادری کی لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے 6 لاکھ روپیے دیئے  جاتے ہیں ۔
   ابھی یوپی کی صورت حال انتہائي درجے میں پریشان کن ہے ۔ پورا ملک بالعموم اور اترپردیش بالخصوص آگ کے شعلوں پر کھڑا ہے ۔ بی جے پی کے بڑے بڑے نیتا گمراہ کن اور بھڑکیلے بیان داغ رہے ہيں ۔ ان کو معلوم ہے کہ اسی طرح سے ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ووٹ کی اس سیاست میں البتہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی بولتی نہ جانے کیوں پوری طرح بند ہے ۔ ہمارے دیش کے نئے وزیر اعظم جنہیں اپنے بارے میں ایک پر ایک خوش گمانیاں ہيں ،اچھے دن لانے والے  وکاش پرش اس پوری صورت حال پر نہایت سمجھداری سے خاموشی کی چادر تانے ہوئے ہيں ۔ لیکن یہ کس کو معلوم ہے کہ کل کے پیٹ میں کس کے لیے کیا مقدر ہے ۔ اقتدار کا نشہ اتنا بھی نہ چھاجائے کہ آدمی آدمی ہی نہ بچے ۔
اس سے پہلے مرکز میں جب بی جے پی کی حکومت تھی تب اس وقت کے وزیر خارجہ ایل کے اڈوانی، جنہیں آج کل کسی قابل نہیں سمجھا جاتا ، نے بھی مدارس کو اپنے گمراہ کن اور لچر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اپنی ساری مکارانہ سیاست کے باوجود مدارس کا کچھ بگاڑ نہیں پائے تھے ۔ بی جے پی کے لوگوں کو شاید یہ بات نہیں معلوم کہ اگر مدارس دہشت گردی کے اڈے ہوتے تو پھر اس پورے ملک کا کیا ہوتا ! ساکشی مہاراج اگر ایک دن بھی ایک مدرسے کے اندر چلے جائیں اور وہاں کچھ پڑھ لکھ نہ بھی سکیں صرف وہاں کے ربانی اور روحانی ماحول ، پدارنہ شفقت ، بے مثال محبت اور انسانیت نوازي کا مشاہدہ کرلیں اور ان کے سینے میں دل بھی ہو تومارے شرم کے پانی پانی ہو جائیں کہ انہوں نے کیا کچھ کہ دیا لیکن سوال تو یہی ہے نا کہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کے سینے میں دل ہوتا کب ہے ؟ کل اڈوانی جی بھی جانتے تھے اور آج ساکشی مہاراج اور دوسرے وہ نیتا بھی جانتے ہیں جو نفرت اور تفریق کی سیاست کرتے ہیں کہ مدارس کی چہار دیواری میں  قرآن وسنت کی تعلیم دی جاتی ہے ، انسانیت نوازی اور صبر و تحمل کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں ، خدمت خلق کی ٹریننگ دی جاتی ہے ، ایمانداری اور صالح اقدار سے بچوں کو لیس کیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت کے اظہار سے تو سیاست کا چولہا بجھ جائےگا اور  اقتدار کا لڈو مل نہيں پائے گا تو سچ کا اظہار کیوں کیا جائے ؟
         ساکشی مہاراج کے بیان کے اوپر مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا بیان آيا ہے کہ مہاراج کو تاریخ نہیں معلوم ورنہ ہندوستان کو آزاد کرانے والے ہمارے پروجوں میں بہت سے  علماء شامل تھے جو انہيں مدارس کے تربیت یافتہ تھے ۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر مدارس کے خوشہ چیں علماء آزادی کی لڑائی میں اپنی جانوں کا نذرانہ نہ بھی پیش کیے ہوتے تو بھی کیا مدارس کو یوں ہی دہشت گردی کے اڈوں سے موسوم کرنا جائز ہو جاتا ؟ مدارس کے خوشہ چینوں نے نہ صرف یہ کہ ملک کو آزاد کرایا ہے بلکہ پورے دیش کے سیکولر مزاج کو برقرار رکھنے میں بھی اپنی پوری حصہ داری نبھائی ہے ۔ ہندوستان کے لگ بھگ تمام کے تمام مدارس عوامی چندوں کے سہارے بغیر کسی حکومتی مدد کے چلتے ہیں اور سماج کے غریب، ناداراور بے بس بچوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرتے ہیں جس کی ذمہ داری ظاہرہے کہ حکومت کی ہے ۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو مدارس کتنی بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ دیش کی بھی اور دیش کی ترقی کے راستے کھولنے کے معاملے میں بھی ۔ ایسے مجھے ذاتی طور پر ساکشی مہاراج کے اس بیان پر ہنسی ہی آئی کہ اگر مدارس کے اندر حب الوطنی کی تعلیم دی جاتی ہے تو ان میں ترنگے کیوں نہیں لہرائے جاتے ؟ میں خود ایک مدرسے کا فارغ ہوں ۔ مجھے آج تک ایک بھی مدرسہ نہيں ملا جہاں پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کے موقع سے ترنگا نہ لہرایا جاتاہو اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور جن من گن کے نغمے  فضائے بسیط میں نہ گونجتے ہوں ۔
    بی جے پی کے راج نیتا بھولتے جارہے ہيں کہ نفرت کی سیاست سے کرسی تو مل سکتی ہے لیکن دیش کا امن غارت ہو جائےگا اور امن و امان کے غارت ہونے کے بعد نہ صرف یہ کہ دیش کی ترقی رکتی ہے بلکہ دیش واسی کی زندگیاں بھی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہيں ۔ اتنے سارے مذاہب ، زبانیں اور علاقے والے ملک میں لوگ اگر ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور ایک دوسرے کے دین کا احترام کرتے ہيں تو اس کے پیچھے بلاشبہ ہمارے آباءو اجداد کی وہ حکمت پوشیدہ ہے جو انہوں نے اس دیش کو جمہوی اور سیکولر بنا کردکھلایا تھا ۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اس دیش کو اصل خطرہ اقلیت کی انتہا پسندی سے نہیں اکثریت کی انتہا پسندی سے لاحق ہے ۔ بی جے پی کے راج نیتا آرایس ایس کی رہنمائی میں جس قسم کی سیاست کررہے ہيں اس سے پنڈت نہرو کے خدشات حقیقت کی طرف تیزي سے قدم بڑھانے لگے ہیں ۔ اس طرح کی سیاست نہ تو بی جے پی کے حق میں ہے اور نہ دیش کے حق میں ۔ عوام نے نریندر مودی کی قیادت کواس لیے بھی قبول کیا ہے کہ انہوں نے ترقی اور شفافیت کا وعدہ کیا تھا ، لوگ کانگریس سے اوب چکے تھے اور کوئی دوسرا ملکی پیمانے پر متبادل بھی نہيں تھا ۔ ظلم ، افواہ اور تشہیر کی سیاست پائیدار نہيں ہو سکتی ۔ بی جے پی بھی اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لے اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا ۔ مجھے نہيں معلوم کہ اس بات کو کتنے لوگ سچ سمجھینگے یا تسلیم کرینگے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی عوام کی اکثریت امن پسند اور آپس میں محبت کرنے والی ہے ۔ اس ملک کی مٹی میں رواداری ، محبت اور احترام باہم کی خوشبو ملی ہوئی ہے اور یہاں کا پورا تاریخی اثاثہ یہی بتاتا ہے کہ غیر جمہوری ، نفرت خیزاور اشتعال انگیز سیاست وقتی طور پر تھوڑا بہت کامیاب تو سکتی ہے لیکن وہ پائیدار نہيں ہو سکتی ۔ مجھے اپنا ہی شعر یاد آتا ہے ۔

سیاست کیجیے لیکن سنبھل کر

کہيں یہ ملک ہی نہ ڈوب جائے 

الخميس، سبتمبر 11، 2014

وضاحتی اور تریدی بیان : ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

                   تحرير:ڈاکٹرعلی بن عبد العزیز شبل                    
اردو قالب: سیف الرحمان تیمی
مملکت  سعودی عربیہ، جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ   
                        
الحمد لله وحده , وصلى الله وسلم على نبينا ورسولنا محمد , سيد الأنبياء والمرسلين وخليل رب العالمين , وعلى آله وصحبه أجمعين , وبعد :

غلط ,جھوٹ اور افتراپردازی پر مشتمل اس زعم باطل کا یھ ایک اضافی,وضاحتی اور تردیدی بیان ہے جسے میرے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ میں نشر کیا گیا ہے کہ میں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کو منتقل کیا جائے,حجرات مبارکہ کو منہدم کرکے ختم کردیا جائے,اور آپ کے جسد اطہر کو دوسری جگہ مدفون کیا جائے....اس کے علاوہ ان تمام غلط بیانیوں , افتراپردازیوں اور کذب تراشیوں کی یہ وضاحتی تحریر ہے جسے غلط اور باطل طریقے سے میری طرف منسوب کیا گیا ہے- اس مقام پر میں اللہ سے مدد کا خواستگار ہوں اور اس سے ہدایت ودرستگی اور توفیق وراست روی کا طلبگار ہوں:
1-میرے حوالے سے ان ذرائع ابلاغ میں جو کچھ بھی نشر کیا گیا ہے وہ محض جھوٹ,افترا , گمراہی اور تراشیدہ بہتان ہے,میں اس سے اللہ کے حضوربراءت  کا اظہارکرتا ہوں, اور وہی کہتا ہوں جو اللہ نے خود فرمایا ہے:ولولا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بھذا سبحانک ھذا بھتان عظیم"(النور:16) کہ جب تم نے وہ خبر سنی تو تم نے کیوں نہیں کہا کہ ہمارے لئے زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات کریں,اللہ کی ذات پاک ہے, یہ تو بڑا بہتان ہے-
2-اس بہتان کو گڑھنے والے اور اس کے جھوٹے مصادر کی بابت جو کچھ بھی برطانوی اخبار"انڈپنڈنٹ" میں آیا ہے, وہ بھی لغو وباطل گفتگو ہے,فاسد اور بےسود مضمون ہے,اور ایسے مفہوم ومعنی (پر مشتمل ہے )جس سے حرمین شریفین,بطور خاص مسجد نبوی , آپ کے حجرات طیبہ, سنت مبارکہ اور شریعت مطہرہ کے خلاف گندے مقاصد اور مذموم عزائم پر روشنی پڑتی ہے-
3-اللہ کے جس (پسندیدہ) دین کے ہم پیروکار ہیں ,(وہ ہمیں یہ عقیدہ سکھاتا ہے کہ ) اللہ نے انبیاء کرام کی عزت وکرامت,انکے جسموں کی حفاظت وصیانت اور انکی رفعت ومرتبت کے سبب زمین پر انکے جسموں کو کھانااور گلانا حرام قرار دیا ہے, احمد اور ابن ماجہ وغیرھما نے شداد بن اوس سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  إن اللہ حرم علی الارض أجساد الأنبیاء" یعنی اللہ نے انبیا کے جسموں کو زمین   بر  حرام قرار دیا ہے_(اس حدیث کو بیشتر محدثین نے صحیح کہا ہے) اس میں کوئی شک نہیں کہ ان برگزیدہ انبیاء میں ان سب کے سردار ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر فہرست ہیں-
4-آپ جس جگہ مدفون ہیں, دیگر انبیاء کی طرح آپ کا جسد اطہر بھی اسی جگہ مدفون و موجود ہے,امام مالک اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے کہ آپ کی وفات کے وقت صحابہ کے درمیان اختلاف ہو گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ بعض صحابہ کی رائے تھی کہ آپ کو ممبر کے قریب دفن کیا جائے, بعض کی رائے تھی کہ آپ کو بقیع میں دفن کیا جائے.اس موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:ما دفن نبی الا فی المکان الذی قبض اللہ نفسہ فیہ" یعنی کہ تمام انبیاء کو اسی جگہ دفن کیا گیا حہاں انکی وفات ہوئی-امام ترمذی کی ایک دوسری روایت ہے جسے انہوں نے حسن کہا ہے,کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی بات فرماتے ہوئے سنا جسے میں نہیں بھول سکا, آپ نے فرمایا:ما قبض اللہ نبیا الا فی الموضع الذی یحبّ أن یدفن فیہ " کہ اللہ نے نبیوں کی روحیں اسی جگہ قبض کی جس جگہ انکی تدفین مطلوب تھی_پھر ابو بکر صدیق گویا ہوئے: اللہ کے رسول کو آپ کے خواب گاہ او ربستر مبارک کے پاس ہی دفن کرو! اس کے بعد تمام صحابہ کرام اس پر متفق ہوگئے-
ہمارا بھی وہی عقیدہ ہے جسے ابو بکر صدیق نے بیان فرمایا اور تمام صحابہ نے اسے بلا چوں چرا قبول کر اجماع کا ثبوت دیا,رضی اللہ عن الجمیع_
5-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے , آپ نے ارشاد فرمایا:اللھم لاتجعل قبری وثنا یعبد, لعن اللہ قوما اتخذوا قبور انبیائھم مساجد" یعنی کہ اے اللہ تو میری قبر کو وثن مت بنانا کہ اس کی پرستش ہونے لگے, اللہ کی لعنت ہو اس قوم پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد میں بدل دیا_(مالک, احمد اور طبرانی نے اسے روایت کیا ہے)
آپ کی یہ دعا شرف قبولیت سے سرفراز ہوئی, چنانچہ نہ صرف یہ کہ آپ کی قبر مبارک کو اللہ نے وثن بننے سے محفوظ رکھا بلکہ آپکے دونوں صحابہ (جو آپ کے پہلو میں مدفون ہیں) کی قبریں بھی اس لعنت سے محفوظ رہیں,بلکہ اللہ نے ان قبروں کو تین (مختلف اور مضبوط)دیواروں سے(گھیر کر) انکی حفاظت فرمائی:
1-حضرت عائشہ کے حجرئہ مبارکہ کی دیوار جس میں آپ مدفون ہیں
2-دیگر امہات المؤمنین کے حجروں کی وہ دیوار جسے عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کروایا
3-تیسری وہ بیرونی دیوار جو ان حجروں کے ساتھ ساتھ حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنھما کے گھر کو بھی شامل ہے
اس طرح آپ کی اور آپ کے دونوں اصحاب کی قبریں ان اوثان اور اصنام میں تبدیل ہونے سے محفوظ رہ سکیں جن کی عبادت اور پرستش کی جاتی-
امام ابن القیم نے اپنے "قصیدہ نونیہ" میں خوب کہا ہے:
      فأجاب رب العالمین دعائہ       
وأحاطہ بثلاثۃ الجدران
کہ اللہ نے انکی دعا سن لی اور انہیں تین دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا
جیسا کہ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد" یعنی کہ یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ہو, انہوں نے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا- امّا عائشہ فرماتی ہیں:آپ اس مذموم عمل سے متنبہ کررہے ہیں جن کے مرتکب یہود ونصاری ہوئے,اگر ایسا نہیں ہوتا تو آپ کی قبر بھی بلند کردی جاتی , آپ کو یہ خدشہ بہر حال تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی لوگ مسجد نہ بنا لیں-
میں نے اپنے مقالہ "عمارۃ مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودخول الحجرات فیہ دراسة عقدية" کے ساتویں مبحث میں ان تمام تفصیلات کا اعتقادی جائزہ لیا ہے-
6-ابھی جس بحث(مقاله) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس میں کسی بھی طرح یہ من گھڑت اور جھوٹا دعوی نہیں آیا ہے کہ آپ کے جسد مبارک اور آپ کے دونوں صحابہ کی قبروں کو حجروں سے الگ کر دیا جائے-کیوں کہ اصلا یہ مسجد نبوی سے الگ اور خارج ہی ہیں-اس میں یہ مطالبہ بھی نہیں ہے کہ حجروں کو منہدم کر دیا جائے,یا یہ کہ مسجد نبوی کو مسمار کردیاجائے.....جس نے بھی یہ الزام ڈالا ہے اس نے میرے اوپر بہت بڑا بہتان گڑھا ہے, خود کو بڑی غلط فہمی میں مبتلا کیا ہے, اس بہتان کے اسباب وعوامل کے تئیں بد ظنی کا شکار ہوا ہے,اللہ اسے مناسب اور لائق جزااور بدلہ دے(یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم....)اے ایمان والو! بہت زیادہ وہم وگمان سے بچو ,یقینا کچھ بدگمانیاں گناہ ہے­_
7- میرے جس مقالے  کا ذکر گزرا ہے , وہ ایک تمہید, نو مباحث اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے, جو حسب ذیل ہیں:
   1- مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے مسجد نبوی کی تعمیر
2   -عمر بن الخطاب کا مسجد نبوی کی تعمیراور اس میں توسیع کرنا
-عثمان بن عفان کی تعمیر اور انکی توسیع واضافہ
-ولید بن عبد الملک کی تعمیر
-جب ولید بن عبدالملک نے حجروں کو مسجد میں داخل کیا اور اسے سجانے سنوارنے  کا کام کیا تو اسلاف کرام نے اس پر نکیر کی, اس کا بیان
-مہدی کی تعمیر
-عھد ممالیک میں سلطان قابتیانی کی تعمیر اور اس کی جدت طرازیوں کابیان
-عھد عثمانی میں سلطان عبد المجید کی تعمیر
-مسجد نبوی کی تعمیر میں گزشتہ تھذیبوں کے اثرات
-خاتمہ جس میں پانچ توصیات وتجاویز اور تنیہات ذکر کی گئی ہیں جن کا تعلق جہاں کتاب کے پورے مشمولات سے ہے, وہیں ان کا تعلق ان دیرینہ تجربات سے بھی ہے جو میں نے حج کے گزشتہ تین موسموں میں حرم کے اندر کام کرتے ہوئے  مشاہدہ کیا ,یہ ان افراد امت سے بھی متعلق ہیں (جن کی نادانی کو میں نے زخمی دل سے جھیلا) وہ مسجد کے درودیواراور حجروں کی کھڑکیوں کو بطور تبرک چھواکرتے اور بکثرت مجھ پر سوال داغتے تھے کہ قبر مبارک کے طواف کا کیا حکم ہے اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو ابھی محو طواف روضئہ اقدس ہی تھا کہ نماز کا وقت آپہنچا اور جماعت کھڑی ہوگئی.......؟  تا آنکہ ملک فھد کی موجودہ توسیع میں باب السلام کے سامنے باب البقیع کھول دیا گیا-
ان تمام شواھد,ملاحظات اور قرارداد کو سپریم علماء قونصل(ہیئۃ کبارالعلماء) کی خدمت میں بھیجا گیا,پھر ان سے یہ آخری گزارش کی گئی کہ علماء کرام کی ایک خاص کمیٹی تشکیل دیں,جو ان قراردار کامطالعہ کریں, ان پر علمی اور شرعی طریقے سے غوروخوض کریں(تاکہ کسی مثبت نتیجہ تک پہنچا جا سکے)
8-یہ طے شدہ پروپیگنڈے اور باطل ومذموم دعوے جو موسم حج سے پھلے بارہا سامنے آتے رہے ہیں تاکہ حجاج کرام اور زائرین عظام کے تئیں مملکت سعودی عربیہ کی خدمات,حرمین شریفین کی توسیع,نگہداشت,حفاظت اور کمیوں کوتاہیوں کو دور کرنے جیسی قابل ستائش کوششوں کی تحقیر کی جاسکے, اور ان مساعی پر پانی پھیر نے کی جتن کی جائے,(یہ لوگ ایسا کرتے ہوئے در اصل یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سب) اللہ کے حکم کی تعمیل, اس کے دین کی اتباع اور شرعی وجوب کی ادائیگی کے لئے کی جاتی ہیں – (قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحواھو خیر مما یجمعون)
آپ کہ دیجئے کہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے ہی انہیں خوش ہونا چاہئے , یہ ان تمام چیزوں سے بھتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں_
9-شرعی طور پر مومنوں کے لئے یہ واجب ہے کہ خبروں کی(نشرواشاعت) سے پہلے اس کی تحقیق کریں اور توثیق حاصل ہونے کے بعد ہی دوسرے تک پہنچانے کی زحمت کریں, بطور خاص جب خبر کاتعلق دین یا مومنین سے ہو, قرآن کی یہ آیت اسی اصول پر پرزور روشنی ڈالتی ہے "یا ایھا الذین آمنوا ان جائکم فاسق بنبأ فتبینوا أن تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین"
اللہ مسلمانوں کو اس کی توفیق بخشے, ہمیں اس کی مخالفت اور فتنوں کی گمراہیوں سے محفوظ رکھے, مسلمانوں کے کلمہ کو نیکی و بھلائی اور تقوی وپرہیزگاری پر جمع کرے, ہمیں اپنی طاعت وعبادت کے کاموں میں مشغول رکھے,ہمارے حكام اور دعاۃ کو اپنے دین اور اپنے نبی کی سنت کی نصرت واعانت کی توفیق ارزانی کرے, مسلمانان عالم اور حرمین شریفین کےلئے جو خدمات وہ پیش کر رہے ہیں ,اللہ انہیں ان کا بہتر اجر وثواب عطا کرے,والحمد للہ رب العالمین-

                                                  علی بن عبد العزیز الشبل
   استاذ العقیدۃ بوزارۃ التعلیم العالی وعضو التوعیۃ الاسلامیۃ فی الحج والعمرۃ والزیارۃ
                                                  المملکۃ العربیۃ السعودیۃ

الاثنين، سبتمبر 08، 2014

القاعدہ ، مسلمان اور ہندوستان
ثناءاللہ صادق تیمی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی
    آئے دن ایسی خبریں اور واقعات لگاتار رونما ہورہے ہيں جن سے امت مسلمہ کی بے چین اور ڈانواڈول زندگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ کبھی بوکو حرام کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو کبھی داعش کی فتنہ پروری ، کبھی انڈین مجاہدین کا شوشہ تو کبھی القاعدہ کی بربریت ۔ اور ان سب کے سامنے آنے سے اور کچھ تو نہيں ہوتا ہاں اس امت کی شبیہ بگڑتی ہے ۔ سیدھے سادھے مسلمانوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ دینی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ دنیا ایک خاص مشتبہ اور مشکوک نگاہوں سے مسلمانوں کودیھکنے لگتی ہے اور پوری امت خوف کی نفسیات کا شکار ہو جاتی ہے ۔
     القاعدہ کو عالمی سطح پر ایک شدت پسند اور دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک یہ تنظیم بطور خاص عتاب کا شکار رہی ہے اور عالمی سطح پر دہشت کی کاروائیوں کے سرے اس سے جوڑے گئے ہیں ۔ اس قسم کے بعض اقدامات کو اس نے خود بھی اپنا کارنامہ مانا ہے ۔ ایسے جب پوری دنیا میں دہشت گردی اور اسلام کو ایک ساتھ ملا کر دیکھا گیا ہے تب بھی عام طور سے یہ بات مانی گئی ہے اور اسے سراہا بھی گيا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان دہشت گردانہ تنظیموں سے رابطہ نہيں رکھتے ۔ یہ امن پسند اور صلح جو ہیں اور ہندوستان کی مشترکہ تہذيب اور رواداری کے اصولوں کو مضبوط کرتے ہيں ۔ ایسے میں ابھی جب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کیا گیا ہے اور اس کے اندر یہ دھمکی دی گئی ہے کہ القاعدہ ہندوستان کے مختلف صوبوں بشمول گجرات میں اپنی شاخ کھولے گا اور اب ہندوستان کو باضابطہ ٹارگیٹ کرے گا تو عالمی سطح پر ایک پریشانی کی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ملک عزیز کے سمجھدار لوگوں نے حکومت کو چوکسی برتنے اور خفیہ ایجنسیوں کو پوری طرح ہوشیار رہنے کے مشورے دینے شروع کردیۓ ہیں ۔ حکومت نے بھی اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے اور لگ بھگ کاروائی شروع ہوگئی ہے ۔ اس بیچ اس دھمکی کے آنے کے فورا بعد ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے دینی مرکز دیوبند نے کڑے لفظوں میں اس کی مذمت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان القاعدہ کے ذریعہ پھیلائی گئي گمراہیوں کے شکار نہیں ہونگے ۔
  اس سلسلے میں ہندوستان کے لیڈنگ نیوز پیپرز نے اس کو اپنے ایڈیٹوریل کا موضوع بنایا ہے اور لگ بھگ سارے معتبر انگریزی کے اخبارات نے جہاں اس دھمکی کو سنجیدگی سے لینے کی بات کہی ہے وہيں حکومت اور خفیہ ایجینسیوں سے یہ گزارش بھی کی ہے کہ دیش کے ایک خاص طبقہ ( ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے ) کو اس معاملے میں ناجائز طور پر نہ گھسیٹا جائے ۔ اس بات کا خاص خیال رکھاجائے کہ کوئی بے گناہ نہ پھنس جائے ۔ اس اعلان کے بعد ملک کے مسلمانوں کے اندر بطور خاص سراسمیگی پائی جارہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ان کے اس خوف کو بے وجہ بھی نہیں قراردیا جا سکتا ۔ پچھلے کئی سالوں کے تجربات ہندوستانی میڈیا ، خفیہ ایجینسی اور پولیس محکمہ کے  متعصب رویے کی چغلی کھاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اب تک لے دے کر ایک عدلیہ کا ہی معاملہ تھوڑا بہت تشفی بخش نظر آتا ہے جہاں سے مسلمانوں کو انصاف کی امید بھی رہتی ہے اور وہ عدلیہ کی طرف اسی نگاہ سے دیکھتے بھی ہیں ۔
   مسلمانوں کے اندر خوف اس لیے بھی تھوڑا زيادہ گہرایا ہوا ہے کہ ابھی مرکز میں آرایس ایس کے زير نگرانی چل رہی بی جے پی کی حکومت ہے جو عام حالات میں مسلمانوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات کی حامل نہیں سمجھی جاتی ۔ نریند مودی کی قیادت میں چل رہی موجودہ حکومت نے جہاں مختلف ممالک سے تعلقات قائم کرنے اور اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے کی سمت کچھ اچھے اقدامات کیے ہیں وہيں یوگی آدتیاناتھ جیسے متنازع فیہ لیڈر اور امت شاہ جیسے ملزمین کو پارٹی میں معمول سے زیادہ اہمیت دے کر ملک کی اقلیت کو عجیب و غریب قسم کی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ یوپی کے اندر جس طرح سے لو جہاد کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے اور پورے ملک کو فرقہ وارانہ خطوط پہ جس طرح بانٹنے کی کوشش ہورہی ہے اس نے ملک کے سیکولر اور سمجھدار طبقہ کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ ہر چند کہ بی جے پی نے لو جہاد کے ایشو کو باضابطہ طور پر اپنے ایجینڈا میں شامل نہيں کیا ہے لیکن ایک خاص طبقے کی طرف سے ایک خاص کمیونٹی کی لڑکیوں کو پھانسنے جیسی بات در اصل لو جہاد کی اصطلاح سے بچنے کے لیے ہی کہی گئی ہے ورنہ پارٹی کے ایجینڈے میں کوئی فرق نہيں آیا ہے ۔ پورے دیش میں بڑھ رہے فرقہ وارانہ جنون پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی بھی کافی معنی خیز ہو تی جارہی ہے ۔ سیکولرزم کی بجائے ہندوستانی پارلیمنٹ سے اس آواز کا بلند ہونا کہ ہندتوا اس دیش کی پہچان اور فخر ہے ، کم بڑی تشویشنا ک صورت حال کا غماز نہیں ۔ اس پر سے بھارتی جنتا پارٹی کے سربراہ امت شاہ کا یہ بیان بھی پارٹی کے کئی خفیہ ارادوں کی قلعی کھولتا ہے کہ اگر یوپی میں فرقہ وارانہ صورت حال اسی طرح برقرار رہی تو آئندہ حکومت ان کی ہی بنے گی ۔
اس پوری صورت حال میں اگر القاعدہ کی طرف سے اس قسم کا کوئی ویڈیو جاری کیا جاتا ہے جس کے اندر اس ملک کے امن و امن کو سبوتاژ کرنے کی بات کہی جاتی ہے تو اسے کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت کا احساس ہونے لگتا ہے ۔ ہر باشعور آدمی جانتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے بعد ہنوستان کے کمزور ، بے بس اور بے گناہ مسلم نوجوان پر ہی غازہ گرتا ہے ۔ اس لیے اگر سے عالمی صہیونی شازش کے طور پر اگر کچھ لوگ دیکھ رہے ہیں تو اسے اتنا بعید ازقیاس بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ یہ معلوم بات ہے کہ ہندوستان کے شدت پسند فسطائی طاقتوں کا صہیونیوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ بھی رہا ہے اور ایسا کرکے کئی سارے صوبوں میں اقلیت کے خلاف اکثریت کا ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے جس کا ایک تجربہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ہو بھی چکا ہے ۔
اس انتہائی گمبھیر صورت حال میں جہاں حکومت کی حکمت عملی بہت اہمیت رکھتی ہے وہیں امت کے باشعور اور سربرآوردہ طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں نوجوانوں کے اندر سے خوف کی نفسیات کو کھرچنے کی کوشش کریں وہيں ایسے تعمیری اقدامات بھی کریں جن سے پیشگی طور پر امت کے افراد کو ان منحرف افکار و خیالات کے مالک آرگنائزیشنس سے بچایا جاسکے ۔ وہیں پوری جوانمردی اور مکمل اعتماد کے ساتھ کسی بھی قسم کے  غیر منصفانہ رویے کے مقابلہ کے لیے  ملک کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کے مطابق خود کو تیار رکھیں ۔ یاد رہے کہ اقلیتوں کو اپنی شناخت ، حقوق اور وجود کی حفاظت کے لے نہ ختم ہونے والی جد و جہد کرنی ہی پڑتی ہے ۔ ہميں اللہ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ اس ملک کے امن و امان کو قائم رکھے ۔ دہشت پسندوں کے برے ارادوں پر پانی پھیرے اور عالمی سطح پر پریشان امت مرحومہ کی حفاظت کا سامان کرے آمین ۔





الأحد، سبتمبر 07، 2014

زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی


سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

اس امت کے بیشتر نوجوان اپنے اندر طاقت وقوت,اور استطاعت وقدرت کا اتنا وافر مقدار رکھتے ہیں کہ وہ چاہیں تو انکے زور وبل پر سماج کا رخ بدل سکتا اور معاشرے کا زاویہ تبدیل ہوسکتا ہے,لیکن ان کے پائے عمل اور رفتار سرگرمی میں بھی وہی زنجیر لپٹی ہوئی ہے جو گزشتہ مصلحین اور سماجی کارکنان کے پائے رفتار میں لپٹی ہوئی تھی ,انھیں بھی حقارت وذلت اور معاشرتی طعن وتشنیع کا سامنا ہے,حوصلہ شکنی نہ صرف انکے معاصرین کی جانب سے ہوتی ہے, بلکہ وہ زیادہ دل شکستہ تب ہوتے ہیں اور انکے ارمان پارہ پارہ جب بزرگوں کی زبان سے بھی  انھیں بے  جا,دل شکن,اور ناروا تبصرے سننے پڑتے ہیں, ان پر نا عقلی کا الزام لگتا ہے , ان پر جوانی دیوانی کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے,اور اپنا الو سیدھا کرنے کا الزام دیا جاتا ہے-
گویا وہ اپنی زبان حال سے کہ رہے ہوتے ہیں کہ کچہ نہ کر یوں ہی بے حس و حرکت  بیٹھے رہو,زوال حال کا تماشائی بنے رہو ,جب حالات موافق ہو جائیں ,ہوا کا رخ حسب منشا ہو اور ماحول کی سنگینی ختم ہو چلے تب تم بھی اٹھنا میں بہی اٹھونگا سب مل کر مزے اڑا ئینگے,بے محنت کی نعمت سے لطف اندوز ہونگے اور ٹیک لگا کر اخبار پڑھینگے-یہ وہ لوگ ہیں جنہیں لگتا ہے کہ دنیا خود بخود بدل جائیگی, اسکی بدتری از خود زائل ہوجائیگی,اور بغیر کوشش اور کسی محنت کے حالات بہتر ہونگے اور برتری لوٹ آئیگی-
یہ بغیر عمل کی اصلاح کی کوشش ہے , بالکل اسی طرح  کہ کوئی کہے مجھے جنت دے میں پھر عمل کرونگا, آگ سے کہے کہ مجھے روشنی اور حرارت دے پھر میں تمہیں ایندھں دونگا-
اصلاح کے خواہاں اور عمل کے دلدادہ کے لئے ایک ہی تھیم اور ایک ہی آئیڈیل ویو(مثالی نظریہ) ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی کام اور اصلاح وتبدیلی کا عزم کرلو تو اللہ پر بہروسہ کرواور خود اعتمادی کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے جاؤ,انتظار نہ کرو کہ آسمان سونا برسائیگا اور راتوں رات اربوں کھربوں کا مالک ہو جاؤنگا, ایسا تو کام چور لوگ کرتے ہیں اور یہ تن پسندوں کا حربہ ہے, بلکہ پیہم چلتے رہو آگے کو قدم بڑھاتے رہو اور حسب استطاعت کوشش میں لگے رہو,دیر یا سویر کامیابی تمہاری ہی ہے-
                             چلے چلیو کہ چلتے رہنا ہی دلیل کامرانی ہے
                                جو تھک کے بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے
کچہ کرنے اور کچھ پانے کی فکر دامن گیر ہونا اچھی بات ہے اور بعض اوقات یہ ضروری بھی ہے , تاہم اس کا ایک دائرہ اور منتہی ہونا بھی لازمی ہے, کیونکہ اگر حرکت ونشاط سے پہلو تہی کرکے آدمی ہمہ وقت صرف سوچنے اور پلاننگ کرنے میں لگا رہے تو اسے کب فرصت عمل ہاتھ آئیگی,بلکہ اس سے اس کے اندر بےخوابی آئیگی اوروہ مسلسل کام کرنے کے جتن سے دور ہی ہوتا چلا جائیگا,اس لئے پلاننگ اور صرف سوچنے بچارنے کے دائرہ کو محدود رکھنا ازحد زیادہ ضروری ہے  تاکہ عمل اور جتن کا حلقہ وسیع ہو اور حسب تخطیط کام کو دوام دیا جانا ممکن ہو سکے,یہ سوال ذہن ودل میں پیدا ہو نا ضروری نہیں  کہ کل کیا ہوگا اور ہمیں تقدیر کے ہاتھوں کن حالات سے دوچار ہونا پڑیگا لیکن یہ سوال بہر صورت  اپنے آپ سے کرنا اور کرتے رہنا لازمی ہے کہ موجودہ حالات کو بہتر سے برتر بنانے کےلئے میں کیا کرسکتاہوں اور مجھے کیا کرنا چاہئے, ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنی اصلاح کے لئے کیا اقدام کیا,نفس اور ذات  کی بہتری اور سدھار کے لئے ہماری کیا تخطیط اور کیا منصوبہ ہے جسے بر وقت عمل میں لایا جانا چاہئے,ترقی, بیداری,اور بلندی اورپائدار کامیابی کے لئے میں نے اپنی سطح پر کیا کیا اور اصلاح وعمل کی ذہنی اپج کو زمینی حقیقت میں بدلنے کے لئے ہم نے کون سی پیش رفت کی , یہ سوال ہر ایک کے لئے اہم ہے, اسی سوال کے نہاں خانے سے تبدیلی کی کرن اور انقلاب کی صبح نو نمودار ہو سکتی ہے-
چھوٹے سے چھوٹے عمل سے بھی اگر آپ اپنے عمل کی ابتدا کرتے ہیں اور اسے مسلسل کام کے تسلسل میں بدلنے کا عزم رکھتے ہیں تو یہ اس بات سے بدرجہا بہتر ہے کہ آپ انتظار کی گھڑیاں گنیں اور کل کے انتظار میں رہیں جو نہ کبھی آیا ہے نہ آئیگا,یہ کل دراصل بیکار عقل کی اپج ہے جو انسان کو سست سے کاہل محض بناتا چلا جاتا ہے,میرے  ہم نوا! یہ جان رکھیے کہ کامیابی پانےاور کسی بھی ادنی کوشش کو منتہا سے ہمکنار کرانے کے لئے سب سے اہم محرک ہے ہمہ تن اس کا احساس زندہ رکھنا اور اسی کو اوڑھنا بچہونا بنانا , کیونکہ “The dream is not what we see in sleep ,but the dream is that does not let us sleep”"خواب وہ نہیں جو ہم سوکر بند آنکھوں سے دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہے جو ہمیں سونے نہیں دیتا", اس لئے کسی بھی اہم پلاننگ کی ابتدا اور اعلی مقصد کا آغاز اگر نہایت ادنی پیمانے اور سادہ انداز میں ہوتا ہے اور اس میں خوئے مداومت برقرار رکھی جاتی ہے تو یہ اس کی بڑی کامیابی کی ضمانت اور تابناک کل کا اشاریہ ہے,اور اسی طرز عمل اور ادائے انقلاب کے ذریعہ بے عملی , تن پسندی اور کاہلی کے بدبودار تنگ نائے سے نکل کرکامیابی,کامرانی,سرخروئی اور صلاح وفلاح کے کشادہ شاہراہ  اور معطر گلشن کو پایا جا سکتا ہے-
اس ضمن کی کچھ اہم اور قابل غور نکات ذیل میں ذکر کئے جا رہے ہیں , ان سے صرف نظر کر ساحل کامیابی سے ہمکنار ہونا دشوار ہے:
 سب سے اہم اور ضروری اقدام ہے عمل کرنے کا آغاز, لیکن اس سے بھی اہم ہے صحیح وقت پر صحیح وسائل کے ذریعہ صحیح کام کو انجام دینا
 طے شدہ منصوبہ اور منہجی کارکردگی کی اہمیت , افادیت اور اثرانگیزی ہر کسی کو پتہ ہے, یوں کہیئے تو بجا ہے کہ منصوبہ کے تحت کیا جانے والاایک گھنٹہ کا کام بے منصوبہ کے تین گھنٹوں کے کام کے برابر ہے
• کام میں لگ جانے کا مطلب یہ قطعا نہیں کہ آپ اصل مقصد کو بھلا کر بس کام ہی کام کرتے رہیں بلکہ آپکا ہر ایک کام آخری اور اصل مقصد کے حصول کا زینہ ہونا چاہئے,آغاز تھوڑا اور معمولی سے ضرور ہو سکتا ہے لیکن نگاہیں اسی بلندی پر ہونی چاہئے جہاں پھنچ کر دم لینا ہے
 مقصد اور غایت کسی بھی عمل اور وسیلئہ عمل کو اہم یا غیر اہم نہیں بناتی بلکہ عمل ایک چیز ہے , وسیلئہ عمل ایک چیز,اور مقصد وغایت ایک الگ چیز, اس سے آگاہ رہیں!
ناکامی کی صرف یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ تجربات اور مہارات میں کوتاہی پائی جائے ,اس لئے ہر ناکامی کا سامنا کرنے کی اہلیت اور ہمت رکھنے کے ساتھ اس سے تجربہ حاصل کرنے کا ذوق اور حوصلہ بھی ہونا چاہئے  , کیونکہ تجربات اور مشاہدات کے انہی زینوں پر چڑھ کر کامیابی کے اوج ثریا _“the failure is the pillar of success” تک پہنچا جا سکتا ہے   ,کہ لیجئے کہ ناکامی کامیابی کا زینہ ہے
 کامیابی کے وقت بھی زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس طرح ہر ناکامی ہمیں کامیابی کے کچہ راز سکھاتی ہے اسی طرح کامیابی بھی اپنے ساتھ ناکامی کے طرب آمیز اور جذباتی کیف لیکر نمودار ہوتی ہے جس میں مگن ہو کر اکثر نادان جذبات کی رو میں بہ جاتے اورایک وقتی موقع کو خوشگوار بنانے کی فکر میں تمام آنے والی خوش آئند مناسبات کواپنے ہی ہاتھوں گنوا  دیتے ہیں-وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی جہاں وقتی طور پر بہت ساری کمیوں ,کوتاہیوں اور خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے وہیں اس کے جلو میں کی جانے والی طرب آمیزیاں اور ناروا مستیاں تادیر اپنا اثر باقی رکھتی ہیں!
 آخر میں اللہ کا یہ فرمان  آپ کے حوالہ ذوق مطالعہ کرتا ہوں, جو در اصل اصلاح وعمل کا امین اور تمام بھلی سرگرمیوں کی کامیابی کا راز ہے:
" وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ " (التوبة105 )
یعنی آپ کہئے کہ تم لوگ نیک عمل کرو ,اس لئے کہ اللہ آئندہ تمہارے عمل کو دیکھیگا اور اس کے رسول اور مؤمنین بھی,اور تم لوگ اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤگے جو غائب وحاضر کا جاننے والاہے,پھر تمہیں تمہارے کئے کی خبر دیگا_
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی
خطا معاف یہ حسن بیاں کا وقت نہیں!