الخميس، مايو 14، 2015

مسلمانوں کی تاریخ معجزوں سے بھری ہوئي ہے
ثناءاللہ صادق تیمی ، الرئاسۃ العامۃ لشؤون المسجد الحرام و المسجد النبوی
قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ایسا لگتا ہے کہ جیسے اب ان قوموں کا مٹ جانا طے ہے ۔ کتاب حیات سے ان کے صفحات ہمیشہ کے لیے کھرچ کر الگ کردیے جائیگے اور روئے زمین پر ان کا نام لیوا کوئی نہ رہ جائے گا ۔ بہت سی قوموں اور تہذیبوں کے نام و نشان مٹے بھی ہیں اوروہ صحیح معنوں میں نسیا منسیا کی مثال بھی بنے ہیں ۔ امت مسلمہ کی تاریخ پر نظر دوڑائیے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تاریخ میں کئی موڑ ایسے آئے جب لگنے لگا کہ اس امت کی بساط لپیٹ دی جائے گی ۔ لیکن ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ کا سب سے روشن تجربہ یہ ہے کہ سورج کی مانند یہ امت کبھی غروب نہ ہوسکی ۔ اقبال نے کہا ہے ۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
ہماری شروعات ہی ایسی ہوئی کہ جیسے ایک چراغ مسلسل آندھی کی زد میں ہے ۔ لیکن مکہ کی پوری کافر برادری اپنے سارے سازو سامان ، آن و بان اور قوت وشہامت کے باوجود اس سراج منیر کا کچھ بھی بگاڑ پانے میں ناکام رہی ۔ اسے رسول الامۃ کا معجزہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ جس دعوت کی شروعات ایک فرد نے کی تھی ، جسے ستایا گیا تھا ، جان لینے کی کوشش کی گئی تھی ، جس کے نادار ماننے والوں پر ظلم و عذاب کی ساری سنتیں تازہ کر دی گئی تھیں ، جسے خود اپنے شہر سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا وہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ سال کی مختصر مدت میں بحیثيت فاتح لوٹتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس کے سامنے اس کے سارے دشمن سرنیچا کیے عفوو درگذر کے سوالی بنے کھڑے ہیں ۔ غور سے دیکھیے تو مسلمانوں کی تاریخ ہی معجزوں کی تاریخ ہے ورنہ مضبوط پٹھوں والے نوجوانوں کے بیچ سے سورۃ یس کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر نکل جانا آسان تھا کیا ۔ در اصل یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی ۔ تین سو تیرہ کے نہتھے جتھے کا ایک ہزار کے مسلح لشکرکو چت کردینا اور غزوہ احزاب میں باد باد صر صر کے ذریعہ دشمنان اسلام کے خیمے میں ہلچل پیدا کرکے مسلمانوں کی حفاظت ہم سے کیا کہتی ہے ؟
    رسول کائنات کی وفات کے بعد ارتداد اور مانعین زکوۃ کے فتنے نے جس طرح سر اٹھایا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مسلمان جس طرح سے ٹوٹے ہوئے تھے لگ تو ایسا رہا تھا کہ بس اب اس قافلے کے بکھر کر مٹ جانے کا وقت آگیا ہے لیکن صرف ایک آدمی کی بصیرت اور ایمان نے ایسا سماں پیدا کردیا کہ چاروں طرف مسلمانوں کی قوت کی دھاک بیٹھ گئی ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جس طرح سے گھیر کر بلوائیوں نے ظلم و تعدی کے سارے حدود پار کرتے ہوئے شہید کردیا ، سوچا جا سکتا ہے کہ مظلومیت اور حق کی کسمپرسی کی کیا کیفیت رہی ہوگی کہ لمبی چوڑی اسلامی حکومت کے فرمانروا کو یوں قتل کردیا جائے ۔ جنگ جمل اور جنگ صفین کے وہ لمحات کیسے رہے ہونگے جب ایک مسلمان کے مد مقابل دوسرا مسلمان رہا ہوگا ۔ تاریخ کے تجربات نے تاریخ سے یہی کہا ہوگا کہ اب اس قوم کا آخری وقت آرہا ہے لیکن یہ دیکھیے کہ امت بنو امیہ کی خلافت میں کس قوت سے ابھر رہی ہے !!
 تاتاریوں نے قتل و خون کا جو ننگا ناچ ناچا ہے اور امت کے اوپر جس قسم کا عذاب مہین نازل ہوا ہے کس کے گمان میں تھا کہ اللہ تبارک وتعالی اسی خونریز قوم کو کہ ایمان والوں کو مٹانے کے لیے اٹھی ہے ، ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنا دے گا ۔ یہ اس امت کا کیسا معجزہ ہے !!
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
دور کیوں جائیے اپنے ہندوستان ہی کی تاریخ کو ذہن میں رکھ لیجیے ۔ اور اس میں بھی مغلوں کی شاندار سلطنت کی نہیں بلکہ آزادی کے بعد تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والی اس صورت حال کو ذہن میں رکھ لیجیے جب پوری قوم بحیثيت قوم خوف کی نفسیات میں جی رہی تھی ۔ جب آئے دن فسادات کے نہ جانے کتنے گولے داغے گئے ، باضابطہ پلاننگ کرکے ان شہروں کو فسادات کی آگ میں جھونکا گیا جہاں ہماری معیشت مضبوط تھی ۔ فسطائی ذہنیت نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ 1992 میں بابری مسجد ڈھائی گئی اور ملک کے چاروں طرف الٹے ہمیں ہی نشانہ بنایا گیا ۔ ہمارے خلاف تعصب کے سارے بچھو آزمائے گئے اور نفرت کے سانپ کو ہمارے پیچھے چھوڑ دیا گیا لیکن انجام کار کیا ہوا ؟ کیا ہم مٹ گئے ؟ کیا ہماری بساط الٹ دی گئی ؟ کیا ہمارا ایمان اور ہمارے اعمال صالحہ کی روشنی مدھم پڑ گئی ؟ کیا حق و صداقت کے حاملین نے صبروشکیبائي کے ساتھ آگے کا سفر جاری نہيں رکھا ؟
اللہ کی قسم ہمارے دشمن کی یہ ذلت ہی ہے کہ انہوں نے درندگی اور سبعیت کے ایک پر ایک ریکارڈ بنا ڈالے لیکن انہيں کامیابی نہ مل سکی ۔ ہم نے ایمان ، عمل صالح اورمضبوط قوت دفاع کے ذریعہ ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کیا اور الحمد للہ سرخرو ہوئے ۔ ایسا نہیں کہ اس بیچ ہمارا نقصان نہيں ہوا ، جانیں ضائع نہ گئیں ، عصمتیں تارتار نہ ہوئيں ، ہمارے جگرگوشوں پر آرے نہ چلائے گئے اور ہماری نگاہوں میں سلائیاں نہ پھیری گئیں لیکن یہ سچ ضرور ہے کہ ہم ڈوبے نہیں ، ہم نے پسپائي اختیار نہ کی اوربحیثیت ایک قوم کے ہمارا سفربہر حال جاری رہا ۔
    قوموں کی زندگی میں برے وقت آتے ہیں ۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ آج ان کی حکومت ہے جن کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہيں ، جن کی پہچان نفرت اور شعار تعصب ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ وقت سدا کے لیے باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ دیکھ لیجیے کہ چہرے پر جو غازہ لیپا گیا تھا اب وہ پگھلنےلگا ہے ، نفرت کے سوداگروں کو عوام پھر سے دھتکاررہے ہیں اور کوئي بعید نہیں کہ مشرق سے ابھرنے والا سورج کوئي اور ہی پیغام لے کر نمودار ہو ۔ ہمارا علاج نہ تو ہمت شکن خوف میں ہے اور نہ ایمان فروش بزدلی میں اور نہ حماقت آمیز جوش میں ۔ ہمارے مسائل کا حل ایمان ، عمل صالح ، ٹھوس حکمت عملی ، بصیرت افروز پالیسی اورصبر وشکیبائی کے اس نور میں ہے جسے تقوی و پرہیزگاری قوت فراہم کرتی ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے ( وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا )
   یاد رہے کہ ہمارا مخالف چال چل رہا ہے کہ خوف کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ پوری قوم ترقی کے راستے سے ہٹ جائے لیکن یہ دشمن کو بھی پتہ ہے کہ اب یہ قوم بیدار ہے ، نگاہیں کھل چکیں ہیں ، عقلوں نے تقلید کی بندشیں توڑ دی ہیں ، ایمان میں قرار اور قوت ہے اور آگے بڑھنے کی امنگ اندھیروں سے پریشان ہونے والی نہیں ہے ۔ بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی سے مالامال یہ قوم شب دیجور کے شکم سے صبح تازہ نکال کر ہی دم لے گی ۔ بقول شاعر غلام ربانی تاباں ۔
یہ رات بہت تاریک سہی ، یہ رات بھیانک رات سہی
اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنا ہے
اور علامہ اقبال کی زبانی
میں ظلمت شب میں لے کے نکلونگا اب درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری ، نفس میرا شعلہ بار ہوگا
  بعض افراد ایسے ہیں جن کے ایمان کی کمزوری اور تجربے کی کمی نے انہیں شاہراہ حق وصداقت سے منحرف کردیا ہے ، جنہوں نے دشمنوں کے خیمے میں جاکر پناہ ڈھونڈنا شروع کردیا ہے اور نفاق و تملق کی سیڑھی چڑھ کر نام نہاد ترقی کے راستے پر چلنے کی کوشش شروع کردی ہے، ہمیں ان کی طرف رشک بھری نگاہوں سے دیکھنے کی بجائے اس بھیانک نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے جسے اللہ نے منافقوں اور ابن الوقتوں کے لیے مقرر کررکھا ہے ۔ اللہ کی سنت ان کے لیے بدلنے والی نہیں ہے اور یہ اپنے سیاہ اعمال کے منطقی نتیجے تک اب تب پہنچنے ہی والے ہیں ۔ بس ہمارا یہ یقین اور ایمان تازہ رہے کہ سچ کا مقدر شکست نہیں ہے اور تاریکی چاہے جتنی گہری ہو روشنی کی ہلکی سی کرن بھی اسے شکست فاش سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔
اپنی صفوں میں علم ہے ،جرائت ہے، وقت ہے
ایسا نہیں کہ سچ کا مقدر شکست ہے
ایمان تازہ رہے ۔ دشمن مکر کررہا ہے اور ہماری جانب سے اللہ کا مکر جاری ہے ۔ (ویمکرون و یمکر اللہ و اللہ خیر الماکرین ) وہ بھی مکرکررہے ہیں اور اللہ بھی مکرکررہا ہے اور اللہ سب سے بہتر مکر رکرنے والا ہے ۔ پھر یہ خوف کی نفسیات کیوں ؟ آگے بڑھنےمیں پریشانی کیوں ؟ لوٹے جانے کا ڈر کیوں ؟ اسے نکال پھینکیے کہ یہ ایمان کی کمزوری ہے ! اوربرملا کہ دیجیے !
لو ہم پھر جلا رہے ہیں چراغ
اے ہوا حوصلہ نکال اپنا









مدارس نہيں ، کالج کی ضرورت ہے ؟؟؟
(آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے )
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض ، سعودی عرب
برصغیر ہندو پاک کی حد تک یہ بات پوری طرح درست ہے کہ اسلام کی روح ، مسلم شناخت اور دین کا جو کچھ بھی تصور و مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے اس میں مداراس اسلامیہ کا سب سے اہم کردارہے ۔  ہمارے اسلاف واقعۃ بڑے سمجھدار اور بصیرتوں کے مالک تھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد امت مسلمہ کے دینی تشخص کی حفاظت مشکل ہو جائے گی تو انہوں نے مدارس اسلامیہ کا جال پھیلا دیا ۔ سادگی ، قناعت اور جفاکشی کی بنیاد پر دینی تعلیم کا بندو بست کیا گيا اور دیکھتے دیکھتے یہ جال ایک ایک بستی میں مکتب کی شکل میں پھیل گیا ۔ پوری دنیا میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں میں اپنے دین کا شعور بہت ہوتا ہے اور یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہی پڑےگی کہ بہرحال یہ کریڈٹ مدارس ومکاتب اور اس کے اندر اپنی جاں سوزی اور جگرکاوی سے روشنی بکھیرنے والے علماء کو ہی جاتا ہے ۔ مدارس کا بنیادی مقصد دین کی تعلیم ، اسلامی دعوت کا فروغ اور اسلامی تربیت سے لیس مسلم نوجوانوں کی کھیپ تیار کرنا ہے ۔ آج سے بیس پچیس سال قبل تک مدارس میں تعلیم کا مطلب اللہ کے دین کی خدمت اور دعوت اسلامی کی اشاعت کا جذبہ ہوا کرتا تھا ۔ بہت سے صاحب حیثيت لوگ بھی اپنے بچوں کو اسی جذبے کے تحت مدارس کے اندر داخل کرتے تھے اور مدارس سے فارغ ہونے والے علماء بھی دعوت و خدمت سے جڑے معاملات سے خود کووابستہ رکھا کرتے تھے ۔ لیکن جب مغربی افکار کے زیر اثر مادیت کا طوفان اٹھا تو اس کی زد میں مدارس بھی آئے ۔ طلبہ مدارس کو خود کفیل کرنے کے لیے سائنس و ٹکنالوجی ، انگریزی اور عصری علوم پڑھانے کی پرزور وکالت کی گئی اور دیکھتے دیکھتے جہاں بہت سے مدارس نے اپنے نصاب میں ترمیم و تبدیل سے کام لیا وہیں بہت سے مدارس نے یونیورسٹیز سے اپنے ادارے کا الحاق بھی کرایا ۔ پھر دیکھنے میں یہ آیا کہ زیادہ تر بالیاقت اور ذہین طلبہ نے عصری جامعات کا رخ کرلیا۔ ایسے فارغین مدارس دعوت و تعلیم کے سوا دوسرے میدانوں میں اپنی حیثيت منوارہے ہیں ۔ خاص طور سے کارپوریٹ میں تو خوب کھپ رہے ہیں ۔ اتنا ہی پر شاید یہ معاملہ رک جاتا تو چل بھی جاتا لیکن ہوا یہ کہ اسی بیچ جب خلیج کے اندر دولت ظاہر ہوئی اور وہاں کے مسلمانوں نے مسلمانان عالم کو اپنے عطیات سے نوازنا شروع کیا تو برصغیر کے ارباب مدارس اس میں آگے آگے رہے ۔ بلڈنگیں بنیں ، بڑے بڑے مدارس وجود میں آئے ، بہت سا کام ہوا ، سعودی عرب نے اساتذہ کو تنخواہیں دینی شروع کی ، بہت سے اداروں کے اندر مدنی علماء مبعوث ہوئے اور یوں مدارس سے جڑا ہوا مفلسی کا تصور آہستہ آہستہ محو ہوتا گیا ۔ عوامی سطح پر یہ بات عام ہوئی کہ اب مدارس کے اندرتعلیم پانا دنیاوی زندگی کی آشائش کی قربانی پر نہیں ہے بلکہ صورت حال دونوں ہاتھ میں لڈو کی ہے یعنی دینی تعلیم سے حاصل ہونے والی عزت و وقار بھی ہے اور عصری علوم سے بہرور ہونے کے امکانات بھی اورنہیں تو ابتعاث کی دولت سے مالا مال ہونے پر خوشحال اور الجھنوں سے دور زندگی گزارنے کی سعادت بھی ۔ ایک خاص دائرے تک اس میں کوئي بڑا مضایقہ بھی نہیں تھا لیکن ہوا یوں کہ ارباب مدارس ، اساتذہ مدارس اور مدارس سے جڑے ہوئے لوگوں کے ذہن سے دعوت و خدمت کا تصور آہستہ آہستہ اگر ختم نہیں ہوا تو مدھم ضرور پڑا اور قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والے ادارے لاموجود الا البطن کی پکار لگانے لگے ۔ اس پر ایک دوسرا ظاہرہ یہ پیدا ہوا کہ پینٹ کو ٹ والے عصری علوم سے مالا مال حضرات اپنے طور پر دینی علوم حاصل کرکے دعوت کے میدان میں کود پڑے ۔ ان کے پاس دین کا علم تو کم تھا لیکن حالات پرنظر اچھی تھی ۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف تھے ۔ میڈیا میں رہنے کا ہنر آتا تھا چنانچہ رہا سہا کسر اس ظاہرے سے ٹوٹ گیا اور مرعوبیت کا مہیب سایہ گہرا سے گہرا ہوتا گیا ۔  اور نتیجہ اب اس طرح نکل رہا ہے کہ ارباب مدارس اب اپنی توجہ مدارس پر مرکوز کرنے کی بجائے مختلف قسم کے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ ، بی ایڈ کالج اور جونئیر اسکولز وغیرہ پرصرف کرنے لگے ہيں ۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش کرنی ہیں ۔
1 ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اتنے زیادہ مدارس ہونے کے باجود ابھی بھی سماج میں علماء کی کمی ہے ۔ ایسا نہیں کہ سماج کے اندر علماء اتنے زيادہ ہوگئے ہيں کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے ۔
2 ۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کو صحیح مانیں تو مسلمانوں کا صرف چار فیصد طبقہ مدارس میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ یعنی چھیانوے فیصد مدارس کے باہر ہے ۔
3 ۔ بڑے بڑے دینی مدارس اس بات کا رونا رورہے ہيں کہ انہیں بالیاقت اساتذہ نہیں مل رہے ہیں ۔ اس کا اندازہ اخبارات میں ارباب مدارس کی جانب سے دیے جانے والے اشتہارات سے لگایا جاسکتا ہے ۔
4 ۔ اگر ہم نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو پتہ چلے کہ اب ہمارے اداروں سے ماہرین حدیث ، فقہ ، تفسیر ، تاریخ وغیرہ نہیں نکل رہے ہیں ۔ زیادہ تر ایسے افراد نکل کر آرہے ہيں جو تفقہ فی الدین کی صفت سے متصف نہیں ہیں ۔
5 ۔ بالعموم مدارس کے اندر وہ لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے اورجو دوسری دنیاوی علوم کے اخراجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتے ۔
        ان حقائق کو سامنے رکھیے ، مدارس کے اہداف ومقاصد کو ذہن میں رکھیے اور پھر ذرا اس رجحان کے بارے میں سوچیے ۔ وہ صاحبان مدارس جن کے پاس پیسے ہیں وہ تیزی سے بی ایڈ کالج ، اسکول اور ٹکنیکل انسٹیٹیوٹ کھولنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اہل خیر حضرات کے وہ پیسے جو کمزور اور غریب طلبہ کی کفالت کے لیے دیے جاتے ہیں ان سے ایسے ادارے کھولے جارہے ہیں جن کے اندر غریبوں کے لیے کوئي جگہ نہیں ۔ کمال تو یہ ہے کہ بعض ارباب مدارس نے تو اپنے مدرسوں کے اندر داخلہ پانے کی فیس بھی اتنی بڑھادی ہے کہ ایک غریب آدمی اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ہمارے حساب سے ایسے ذمہ داران مدارس کو اپنے مین گیٹ پر جلی حروف میں لکھ دینا چاہیے کہ ہمارا مدرسہ غریبوں کی تعلیم کے لیے نہیں ہے ۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ دینی تعلیم اس وقت مہنگی کی جارہی ہے جب لگ بھگ پوری دنیا میں بنیادی تعلیم کو بچے کا حق بتایا جارہا ہے اور حکومتیں مفت تعلیم کا نظم کررہی ہیں ۔ بعض احباب کے واسطے سے یہ بات بھی معلوم ہوئي کہ گلف وغیرہ میں لوگ مشروع کے نام پر ہی پیسے دیتے ہیں وہ دینی تعلیم کے نام پر پیسہ نہيں دیتے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب حل وعقد جو خلیجی ممالک میں ما شاءاللہ اپنی اچھی خاصی پہچان رکھتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کی امراء اور ملوک تک رسائی ہے کیا وہ انہیں یہ نہیں سمجھا سکتے کہ ہمارے یہاں کس چیز کی ضرورت ہے ؟
بہت سے ادارے کی صورت حال یہ ہے کہ مدرسہ بے چارا کسمپرسی میں مبتلا ہے ، اساتذہ لائق فائق نہیں ہیں ، طلبہ گھٹتے گھٹتے نہ کے برابر رہ گئے ہيں لیکن ہاں یونانی کالج اور اسکول کی دنیا پوری طرح آباد ہے ۔
   آپ کو یہ جان کر کیا معلوم کیسا لگے لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سے روشن خیالان ارباب مدارس نے اپنے مدارس کو کالج میں بدل دیا ہے ۔ اب ان کے یہاں مدرسہ نہیں کہ اس سے تو آمدنی کی بھی توقع نہیں ہوتی اور چندے کی ذلت بھی اٹھانی پڑتی ہے اس لیے اسی چندے کے مال سے بنائے گئے مدرسے کو اسکول بنادیا ۔ ہماری ملاقات ایک طالب علم سے ہوئی ، عربی اور انگلش بچے کی اس کے اپنے مستوی کے حساب سے اچھی تھی ہم نے پوچھا کہاں پڑھتے ہو بابو؟ طالب علم کا جواب تھا : شیخ! ناظم صاحب نے تو مدرسہ کو اسکول میں بدل دیا ہے ۔ کسی اچھے مدرسے کی تلاش میں ہوں ۔۔۔۔۔ ۔
ایک صاحب کے اوپر سماجی خدمت اوررفاہ عام کا وہ بھوت سوار ہوا کہ انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے کی ساری توجہ رفاہ عام پر لگادی ۔ حضرت تو اتنے چمکے کہ کیا سماج اور کیا سیاست ہر جگہ ان کی چاندی ہوگئی ۔ ہاں البتہ وہ بیچارا مرکز علم و آگہی کہیں کا نہ بچا ۔ جہاں سے باصلاحیت علماء اور دعاۃ نکلا کرتے تھے اب صورت حال یہ ہے کہ بس نام کی دینی تعلیم ہورہی ہے اور ساری توجہ کہیں اور ہے ۔
      ہم نے خود جے این یو میں اعلا تعلیم حاصل کی ہے ۔ ہم عصری علوم کے خلاف ہو بھی نہیں سکتے ۔ لیکن جس طرح سے ارباب مدارس عصری علوم کی خدمت کرنا چاہ رہے ہيں وہ بلا شبہ خطرنا ک ہے ۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب مدرسے کے ساتھ اسکول کھولا جاتا ہے تو مدرسہ کی بجائے ذمہ دارکی ساری توجہ اسکول پر ہوتی ہے ۔ مدرسہ کے طلبہ کے بالمقابل اسکول کے طلبہ کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور یوں مدرسہ کے طالب علم کے اندر ایک قسم کا احساس کمتری پیدا ہونے لگتا ہے ۔ مدرسے کے مؤسس کا اخلاص اپنی جگہ لیکن ان کے وارثین مدرسہ کو بس نام کے لیے چلاتے ہيں ۔ ان کی محنت و لگن کا سارا مرکز اسکول ، کالج یا انسٹیٹیوٹ ہوتا ہے ۔ عام طور سے کہا جاتا ہے کہ ہم عصری تعلیم دینی ماحول میں دینگے اورصورت حال کیا ہوتی ہے وہ اتنی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔
    ذاتی طور پر جب جب میں عزیز وطن ہندوستان کے اندر مدارس کے بارے میں سوچتا ہوں نہ جانے کیوں ایک عجیب وغریب خوف چھاجاتا ہے ۔ میرے بعض احباب کو لگتا ہے کہ میں پیچھے کی طرف ڈھکیلنے کی کوشش کررہا ہوں جبکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر وقت پر ہی دھیان نہيں دیا گیا توبساط الٹی بھی جاچکی ہوگی اور احساس بھی نہ ہوگا ۔
ایک طرف فرقہ پرست ذہن لوگ ہیں جن کی نظر میں یہ دینی ادارے کانٹوں کی مانند چبھ رہے ہیں اور وہ مختلف حربے اختیار کرکے ان پر روک لگانے کی کوشش میں ہیں اور دوسری طرف ہماری دینی قیادت ہے جو خود ہی اس سے دست برداری کی کیفیت میں ہے ۔ اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسکول ، کالج اور انسٹیٹیوٹ اور لوگ بھی کھول سکتے ہيں اور چلا سکتے ہیں (بہت سے لوگ کامیابی سے چلا بھی رہے ہیں ) لیکن مدرسہ تو ہم علماء کی وراثت ہے ۔ مرعوبیت یا مادہ پرستی کا یہ کون سا اندھیرا ہے جس میں روشنی سے دست برداری کی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ لکھ لیجیے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو آنے والی نسل کتابوں میں مدارس کا تذکرہ سنےگی اور دین کے نام پر چند رسوم و رواج کی پابند ہوگی اور شاید وقت گزرتے گزرتے وہ بھی ناپید ہوتے جائینگے ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن سچائی سے آنکھیں موندی بھی کیسے جائیں ؟
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
حالات اور وقت کا ساتھ دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا آدمی اپنی اساس ہی بدل دے ۔ مدارس پر جب زيادہ توجہ کی ضرورت ہے ارباب مدارس ان سے اعراض برت کر کسی اور طرف رخ کررہے ہیں ۔ انسان کو غلطیوں سے سیکھنا چاہیے ۔ تجربات بھی برے نہیں ہوتے لیکن ایسے تجربات جن سے بنیاد متاثر ہوتی ہو ان سے توبہ ہی بھلی ہوتی ہے ۔
 اللہ ہمیں نیک توفیق سے نوازے ۔ آمین





الخميس، فبراير 19، 2015


صوت باك وقلب قاس:

سيف الرحمن حفظ الرحمن التيمي
الجامعة الإسلامية، المدينة النبوية
استشعرت بالأمس ما أظهر لنا أستاذنا اليوم، والحقيقة هكذا وإن اختلفت الألسن و تشتت العبارات؛ فذكر لنا استاذ الفقه لا أريد الكشف عن اسمه احتفاظا بكرامته وإخلاصه، أنه لقي امرأة في المسجد النبوي وهي تسأله عما تسد به جوعها، وذكرت له أنها مسلمة فلسطينية هاجرت منها إلى المملكة حينما سيطر الاحتلال الإسرائيلي على بقاع الفلسطين وضاق بهم ذرعا، حتى وضعت البراميل المتفجرة على سقوف بيوتهم وهم يشاهدون الموت بأعينهم، وصاروا من الضنكة بمقام كأنهم ينتظرون البراميل كي تنفجر وتبتلع حياتهم، فما وجدت هذه الفلسطينية إلى الخلاص سبيلا إلا أن تأوي إلى مامن في بلدة آمنة، فاتصلت بقريب له في مكة وهو مسؤول في فندق ما، واستمرت في الاتصال معه إلى أن وعدها بأن يوفر لها الأمان ويقدم لها المساعدة حسب ما يسعه، فلما وصلت هي إلى المملكة اختفى هذا المحسن الواعد ولم يجب الاتصال ولم يرد عليه،فسقطت في يديها، وصارت وحيدة طريدة لا عون لها إلا الله،وبلغها من الألم والأسى ما بلغها، وسهرت من الليالي ما سهرت وهي مضطجعة على بطنها، وقضت من الأيام ما قضت وهي عاكفة على وجهها، ثم اضطرت إلى ما اضطرت من أن تمد يديها إلى من لم تقدم قدمها إليه من قبل، وابتل وجهها ببلة التسول، وأصابها من الحزن ما لا نقدر على تقديره، وهي أم حنون لها أيتام يشبعون من حنونها ويشربون من قرير عينها، فيا لجبل من الألم فاق جبالا من الحجر، والآن حينما نستمع قصتها نظن كأننا نسمع مسجلة سجلها التاريخ وهي تسجل بين أيدينا وعلى مرأى منا، فاللسان عند حكايتها تلكن، والصوت عند بيانها يلثغ، والجلود عند استماعها تقشعر، لكن من أين آتي بقلب يبكي وبعين تذرف..... حينما استمعت لقصة الأم الفلسطينية تجدد ذكرى الأم الحنون العطوف، وأنشدت شفتي:
أمي كم أهواها
أشتاق لمرآها
وأحب للقياها
وأقبل يمناها
و كم تمنيت أن أبكي فلم أستطع... فهل من مهد يهديني قلبا باكيا أفديه بحبي كله...!
فزعت إلى الدموع فلم تجبني
وفقد الدمع عند الحزن داء
وما قصرت في حزن ولكن
إذا عظم الأسى فقد البكاء

الأربعاء، فبراير 18، 2015

وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم لیکن ...


ثناء اللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

  ایک مدت کے بعد آخر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم نے فرقہ واریت پر اپنی خاموشی توڑ ہی دی ۔ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں ہر قسم کی مذہبی منافرت اور دینی انتہا پسندی کو غلط قرار دیتے ہوے کہا کہ ان کی حکومت نہ تو اکثریت کی مذہبی انتہا پسندی کو برداشت کرے گی اور نہ اقلیت کے دینی تشدد کوقبول کرے گی ۔ محترم وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور ہندوستانی آئين کا حوالہ بھی دیا ۔

    قابل غور یہ بھی ہے کہ مودی حکومت بننے کے بعد پچھلے کچھ مہینوں میں جس طرح سے ہندو انتہا پسندوں نے پورے دیش میں غنڈا گردی پھیلائی ہے اس کی وجہ سے پورا دیش اور بطور خاص موجودہ حکومت عالمی سطح پر تنقیدوں کی زد میں رہی ہے ۔ جہاں ملک کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے طبقے کے اندر اضطراب و بے چینی کی کیفیت پائی جارہی تھی وہیں اقلیتوں کا ہوش ہی اڑا ہوا تھا ۔ گرجا گھروں پر حملوں سے لے کر دوسری اقلیتوں اور ان میں بھی مسلمانوں کو جس طرح سے ٹارگیٹ کیا جارہا تھا اس نے پورے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس پوری صورت حال سے اندرون و بیرون ملک سب کے سب پریشان تھے البتہ پریشانی نہيں تھی تو حکومت کے کارکنان اور ملک کے دگج وزیر اعظم  کو ۔ پورا دیش آگ اور خون کی چپیٹ میں تھا اور ملک کے سربراہ چپی سادھے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔ لیکن قدرت بھی کچھ عجیب رنگ میں ظاہر ہوتی ہے ۔ مضبوط وزیراعظم نے پوری دنیا کے فرمانروا سمجھے جانے والے امریکی صدر براک اوباما کو بلایا اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ یہ بھی بھارت کی اپلبھدی (حصولیابی ) ہے لیکن یہ سارا کھیل اس وقت بڑا ہی الٹا پڑ گیا جب امریکی صدر نے ہندوستان کو کڑی نکتہ چینیوں کا نشانہ بنایا اور ہندوستان کے اندر ہی پریس کانفرنس کرکے یہ تک کہ دیا کہ جس طرح کی مذہبی منافرت اس دیش میں پھیلائی جارہی ہے اس سے اس دیش کی ترقی نہیں ہو پائے گی اور یہ کہ اگر مہاتما گاندھی زندہ ہوتے تو انہيں ہندوستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر بڑی شرمندگی اور تکلیف ہوتی ۔ اوباما جب امریکہ لوٹے تو انہوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر بھی اپنے اسی بیان کو ذرا اور شدت سے دہرا دیا ۔ کمال یہ ہوا کہ اسی بیچ نیو یارک ٹائمز نے مودی جی کی اس طویل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر باضابطہ ایک اداریہ ہی تحریر کردیا ۔ صورت حال یہ ہو گئی کہ وزیر داخلہ جناب راج ناتھ سنگھ کو بیان دینا پڑا لیکن کسی کے خلاف تردیدی بیان دے دینا اور بات ہے اور سچ کو جھٹلادینا اور بات ہے ۔ جب پوری دنیا میں دور چھیا ہونے لگی تو ہمارے وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑنی ہی پڑی ۔ ہم اس بیان کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا ہے اس کے مطابق عمل بھی کرینگے اور دیش میں جمہوری اور سیکولر فضا بحال ہوگی اور دیش ترقی کے نئے ہفت اقسام طے کرےگا ۔

لیکن جو بات ہم جیسے ہندوستانیوں کو پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب، جو بزعم خویش سمجھدار بھی کم نہیں ہیں ، انہیں آخر اتنی موٹی سی بات سمجھنے میں اتنی دیر لگی ۔ جب پوری دنیا نے تھوکنا شروع کردیا اور پیارے دیش کی جب چاروں طرف بدنامی ہوگئی تب جاکر ہمارے وزیراعظم کو یہ لگا کہ یہ منافرت اور فرقہ واریت صحیح نہیں ہے ۔ کہيں ایسا تو نہيں کہ محترم وزیر اعظم سمجھ تو بہت پہلے سے رہے تھے لیکن بول سکنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ کبھی کبھی اپنے ہاتھوں پالے پوسے گئے کتے خود اپنے اوپر بھی بھوکنے لگتے ہیں ۔

   محترم وزیراعظم آرایس ایس کے باضابطہ ممبر رہ چکے ہیں ۔ دیش کو مذہبی خطوط پر بانٹنے کا جو پروگرام آرایس ایس کا رہا ہے اس سے وہ ناواقف ہو بھی نہيں سکتے ۔ ان کو وزیر اعظم بنانے میں انہيں کے بقول آرایس ایس کے لوگوں کا بڑا رول رہا ہے پھر بھلا وزیر اعظم کو یہ نہیں پتہ کے ایسے لوگوں کو اگر ضرورت سے زیادہ وقعت دی گئی تو کیا کچھ رزلٹ آئے گا ۔ آپ نے وزارت سے لے کر بیروکریسی تک میں جس طرح سے متعصب ذہن ہندؤں کو بھرنا شروع کیا ہے اس سے کسی متوازن نتیجے کی توقع کرنا فضول ہی ہوگا ۔ محترم وزیر اعظم آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو بہر حال دیش کے دستور کے مطابق ہی چلنا پڑےگا ۔ فیس بوک کا استعمال کرکے آپ وزیر اعظم بنے ہیں تو آپ کو یہ بات تو یاد رکھنی ہی پڑےگی کہ یہی فیس بوک والے  آپ کی نیا ڈبو بھی سکتے ہیں ۔ دہلی کے اسمبلی انتخابات سے تو آپ کو اس کا تجربہ ہو بھی گیا ہوگا ۔ یوں بھی مذہبی منافرت کے خلاف آپ کے اس بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ آپ عام لوگوں اور اقلیتوں کو خود سے قریب کرنا چاہ رہے ہيں اور بھی اس ڈر سے کہ کہیں اور دوسری جگہوں پر بھی آپ کا حشر دہلی جیسا نہ ہو جائے ۔

    آپ نے اپنے بیان میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور آئین کا حوالہ دیا ہے ۔ اس موقع سے ہم آپ کو بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دیش کی مٹی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ منافرت اور انتہا پسندی کو بڑھا دینے والوں کا ساتھ نہيں نبھا سکتی ۔ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم ہیں اوردیا رکھیے کہ اگر جمہویت اور سیکولرزم کو چھوڑ کر آپ نے کوئی اور خفیہ ایجنڈہ چلانے کی کوشش کی ، جس کا بہت سے لوگوں کو خدشہ بھی  ہے ، تو یہ خود آپ کے لیے بھی اور پورے دیش کے لیے بھی کافی گھاتک ثابت ہوگا ۔ اس موقع سے آپ کو یہ بھی یاد رکھنے کی زضرورت ہے کہ صرف بیان دینے سے کام نہيں چلے گا ان بدقماشوں اور غنڈوں پر رسہ بھی کسنا پڑے گا جو پورے دیش کے بھائی چارے کے خلاف ماحول تیار کررہے ہیں اور جو اتفاق سے آپ کے کافی قریب آپ کی اپنی پارٹی لوگ ہیں ورنہ یہ دیش نہ تو آپ کو اور نہ ایسے غنڈوں کو بخشنے کے لیے تیار ہوگا ۔

 سمجھدار اور سیکولر ذہن ہندوستانیوں کو انتظار رہے گا کہ ملک کے وزیراعظم اس سلسلے میں کیا رویہ اپناتے ہيں ۔ 

ہم سا بھی کوئي درد کا مارا نہيں ہوگا __ کلیم عاجز


ثناءاللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

   ٹھیک سے یاد نہيں کہ پہلے پہل کلیم عاجز کا نام کس کی زبانی اور کب سنا تھا ۔ لیکن ایک شعر تھا جو زبان پر جاری رہتا تھا اور وقتا فوقتا  دوستوں کی محفلوں میں اس کا استعمال میں بڑی ہوشیاری سے کیا کرتا تھا ۔ شعر کچھ یوں تھا
ان کی وہ بات کہ دوں اگر سب کے سامنے
سر میرے مہرباں سے اٹھایا نہ جائے گا
یہ راز بعد میں منکشف ہوا کہ اتنے معروف اور زبان زد خاص و عام شعر کے خالق جناب کلیم عاجز ہيں ۔ جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے اندر میں ثالثہ فضیلہ کا طالب علم تھا ۔ شعر وادب سے دلچسپی تھی ۔ تھوڑی بہت جانکاری بھی تھی لیکن جونئیر طلبہ تھوڑا زیادہ ہی سمجھتے تھے ۔ ان دنوں متوسطہ ثانویہ میں کچھ طلبہ خاص طور سے غیر دینی  کتابوں ، مناقشوں اور ادبی چھیڑ چھاڑ میں روچی رکھتے تھے ۔ ان میں خاص طور سے اخلاص احمد ابو طلحہ ، مناظر ارشد امواوی ، جمیل اختر شفیق ، جاوید اکرام اور صھیب صدری کے نام یاد آتے ہيں ۔ وہ ادبی کتابوں پربحثيں کرتے ، لڑتے جھگڑتے اور بعض سیدھے سادھے ان  اساتذہ پر اپنی دھونس جمانے کی بھی کوشش کرتے تھے جن کے اندر ادبی دلچسپی نہيں کے برابر تھی ۔ فراغت کے بعد جب تدریسی مصروفیت کی وجہ  جامعہ امام ابن تیمیہ ہی میں رہنا پڑا تو اس ماحول کو اور بھی آگے بڑھنے کا موقع ملا ۔ ان دنوں حلقہ ادب جامعہ امام ابن تیمیہ کی ماہانہ نشستیں بھی بڑی پابندی سے منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ اس میں ہماری بھی حصہ داری تھی ۔ جے این یو میں داخلہ پانے کے لیے جب ہم دہلی آگئے کہ تو حلقہ ادب کے سرگرم رکن استاذ محترم جناب امحد جوہر سلفی نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سر ایک خون کا الزام ہے اور اس سے پہلے کہ میں گبھراتا انہوں نے جامعہ چھوڑ کر حلقہ ادب کو مار دینے کا قصہ چھیڑ دیا ۔ الغرض بڑے ادبی معرکے رہا کرتے تھے ۔ ان دنوں جامعہ میں  جن ادباء شعرا کا زیادہ ہی چرچا تھا ان میں پروین شاکر ، قرۃ العین حیدر یعنی عینی آپا ‌ اورکلیم احمد عاجز  سب سے آگے تھے ۔ مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہيں کہ اس پورے ہوڑ ہنگامے سے طلبہ کا فائدہ ہوا ہو یا نہيں ، یہ تو وہی بتائینگے  لیکن میں نے اس موقع سے ان تینوں ادباء کو اپنے طور پر پڑھنے کی کوشش ضرور کی ۔ ایک مدت تک ان کا مجموعہ  " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " میرے سرہانے رہا کیا ۔ کئی غزلیں یاد کرڈالیں ۔ اچھے اشعار کو نشان زد کیا اور یادداشت کے صندوقچے کے حوالے کردیا ۔
    اسی بیچ غالبا 2007 میں دربھنگہ میں ایک مشاعرہ ہوا ۔ ہمیں خبر ہوئي کہ کلیم عاجز آنے والے ہیں اور ہم جمیل اختر شفیق کے ہمراہ روانہ ہو گئے ۔ وہاں گئے تو حفظ الرحمن سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ مشاعرے میں انہوں نے اپنی پر سوز آواز میں اپنی دو غزلیں سنائیں ۔کچھ اشعار یاد آرہے ہیں
عاجز یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
تم ہو بھی تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ تم ہو
یہ پچھلے پہر کس کے کہکنے کی صدا ہے
کوئل ہے ، کبوتر ہے ، پپہیا ہے کہ تم ہو
گوکل کی ہے  کوئی بانسری یا اردو غزل ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا کوئی کرشن کنہیا ہے کہ تم ہو 
کلام میں معنویت کے ساتھ آوازمیں وہ سوز تھا کہ کنہیا لال کپور کی بات ذہن میں سچائی کی پوری روح کے ساتھ سرایت کرگئی کہ " کلیم جب پڑھتے ہیں کہ تو ایسا لگتا ہے کہ کوئي زخمی فرشتہ فریاد کررہا ہے " ۔
    مشاعرے کے بعد ہم نے بھائی حفظ الرحمن کی مدد سے ان سے آٹو گراف لیا ۔ انہوں نے اپنا ایک شعر لکھا اور نیچے اپنے دستخط ثبت کردیے ۔
  دہلی آکر ان کی کئی نثری کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ معلوم ہوا کہ ان کی شاعری سے کہیں زیادہ دم تو ان کی نثرمیں ہے ۔ ہم اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں یہ بات کہ سکتے ہیں کہ اس طرف اتنی البیلی ، شوخ اور کلاسیکی روح سے مالامال اور کسی ادیب کی نثر نہيں ہے ۔ اس کا اندازہ تو " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " کے طول طویل مقدمے سے بھی ہو تا ہے لیکن یہ قضیہ اس وقت اور متحقق ہو جاتا ہے جب آدمی ان کی دوسری نثریں کتابیں پڑھتا ہے ۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ ان کی تنقید میں ایک قسم کا غصہ اور جھنجھلاہٹ کا احساس ہوتا ہے ۔
  کلیم صاحب کی شاعری کو میر کی بازگشت اور درد و الم کی تصویر کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ خود انہوں نے بھی کہا ہے
کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے
  اور ایک خاص واقعے کو جس طرح انہوں نے اپنی شاعری کا محور بنا لیا اس نے بھی اس تاثر کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ ایسے بہر حال کلیم صاحب کا یہ کمال ضرور ہے کہ وہ غم ذات کو غم کائنات بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ان کی شاعری کو ان کی زندگی سے الگ کرکے بھی پڑھا جائے تو بھی لطف کم نہيں ہوتا ۔ غم کو آفاقیت کی اس سطح سے انہوں نے برتا ہے کہ غم شخصی ہونے کی بجائے انسانی احساسات کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جو دلآویز نہ بھی ہو تو مانوس ضرور ہے ۔ عام انسانی برتا‎ؤ اور مجلسی زندگی کے لیے جتنے بر محل اشعار کلیم کے یہاں ملینگے اور کسی شاعر کے یہاں مشکل سے مل پائینگے ۔ شاید اسی لیے ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی حیثيت اختیار کرگئے ۔ طنزکی شدت اور تجربات کی گہرائی کی وجہ سے ان کی شاعری جیسے ہر انسان کی اپنی ہی حکایت ہو ۔   میں یہاں کلیم  کے وہ اشعار نقل کرنا چاہونگا جو مجھے پسند ہيں اور جو ضرورت کے وقت بہت کام آتے ہیں ۔
اپنا یہ کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھرملے
بات گرچہ بے سلیقہ ہو کلیم
بات کرنے کا سلیقہ چاہیے
لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیجہ تھام کے سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں
میرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزہ دے ہے
بڑی ہی چالبازي آئے ہے اس آفت جاں کو
شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگادے ہے
تمہاری انجمن ہے جس کو چاہو بے وفا کہ لو
تمہاری انجمن میں تم کو جھوٹا کون سمجھے گا
پہلو نہ دکھے گا تو گوارہ نہیں ہوگا
ہم سا بھی کوئی درد کا مارا نہيں ہوگا

  آج صبح جب کلیم صاحب کی موت کی خبر ملی ۔ بہت افسوس ہوا ۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون