الجمعة، يناير 30، 2015


ثبوت اورحجت کے بغیر
 کسی مسلمان کو کافر قرادینے سے گریز کریں!

اردو قالب: شفاء اللہ الیاس
جامعہ امام ابن تیمیہ
۱-کسی فرد مسلم کو کا فرٹھرانے سے احتراز برتنا ضروری ہے, کیونکہ کسی ایسے مسلمان کو کافر کے زمرے میں شامل کرنا جس کے اندر کفر کا کوئی شائبہ نہ ہو, گناہ عظیم ہے, اس سلسلے میں امام بخاری اور مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ سے ایک روایت نقل کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس فرد بشر نے بھی اپنے بھائی کو کافر کہا, تو دونوں میں سے کسی کے ساتھ یہ تکفیر ثابت ہوجاتی ہے, اگر یہ صفت دوسرے کے اندر نہیں پائی جاتی تو قائل اس صفت سے ضرور متصف ہوجاتا ہے"
 امام ابن حبان نے اپنے صحیح اور امام بخاری نے " التاریخ الکبیر" میں ایک دوسری حدیث حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے جس کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں پر مجھے اس شخص کا زیادہ خوف ہے جو تلاوت قرآن کا اتنا خوگر ہو کہ اس کا جمال اس کے اوپر عیاں ہو, لیکن وہ اسلام کو سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہواور اس کے  درست مفہوم سے بہت دور بھٹک رہا ہو,نتیجتا اسلام سے بھی دور ہوجائے اور اسلام کے سچی تعلیمات کو پس پشت ڈالکر اپنے پڑوسی کو شرک کا مرتکب قراردیدے اور اس کے خلاف تلوار سونت لے, حضرت حذیفہ کہتے ہیں :میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول ! ان میں سے کون زیادہ شرک کے قریب ہوگا؟ وہ شخص جس کے اوپر شرک کا الزام لگایا گیا, یا وہ شخص جس نے شرک کا الزام لگایا؟  جواب عرض ہوا : الزام تراشنے والا ہی سب سے زیادہ شرک کا حقدرا ٹھریگا"(بہ تحسین علامہ البانی)
۲-یہ شدت وسختی ایسے شخص کے باے میں ہے جو اپنے مسلم بھائی کے حق میں صفت کفرکو ثابت کرے جبکہ وہ اس سے بالکل ہی پاک صاف ہو, اور جرأت تکفیر کے لئے اس کے پاس شرعی دلیل اور بین ثبوت بھی نہ ہو, لیکن اگر کوئی مسلمان ایسے شخص پر کفر وشرک کا حکم لگاتا ہے جو واقعی کافر اورمشرک ہے, اور اسکا کفر واضح بھی ہے, تو اس کے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے, کیونکہ اس نے مشرک شخص کو ایسی صفت سے متصف کیا ہے جس کا وہ حقدار ہے,حدیث رسول کے الفاظ بھی یہی بتاتے ہیں" فإن کان کما قال وإلا رجعت علیہ" جس سے یہ مطلب واضح طور پر سمجھ میـں آتا ہے کہ اہل شرک وکفر کو کافر اور مشرک ٹھرانے میں کوئی قباحت اور شرعی ممانعت نہیں ہے,کیونکہ کفر کو واجب ٹھرانے والی جو صفات اسلام میں بتائی گئی ہیں, وہ ایسے لوگوں میں بدرجئہ اتم پائی جاتی ہیں,جن کے سبب انہیں کافر اور مشرک کہنے والے شخص پر کسی قسم کی شرعی گرفت کا جواز نہیں بنتا,شیخ ابن باز رقم طراز ہیں: جس شخص کے اندر کفریہ یا شرکیہ اعمال موجود نہیں, اس کے اوپر تکفیر کا حکم لگانا شرعی زاوئے سے درست اور جائز نہیں, ہاں اگرکفریہ یا شرکیہ صفات اس کے اندر پائی جائیں تو کفر وشرک سے اسے موصوف کرنا قابل اعتراض نہیں, اور نہ ایسا کہنے کرنے والے کے اوپر کو ئی سرزنش ہے(فتاوی نور علی الدرب)
مذکورہ حدیث کے اندر  "خوارج" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو کافر ٹھرانے کی بدعت ایجاد کرکے امت میں تکفیر کا دروازہ کھولا, ان کا ماننا ہے کہ جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہیں,اور جو معاصی میں مبتلا ہیں,وہ در اصل کفر کر رہے ہیں, اسی غلط فکر اور بے بنیاد عقیدہ کی وجہ سے ایسے گنہگار لوگوں کا قتل تک ان کے نزدیک مباح ہے, ان کے اس باطل عقیدہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صنم پرست کو چھوڑ کر اللہ اور رسول اللہ کے اقراری گنہگاروں سے قتال وجدال جائز اور روا ہے_
۳-شرعی دلیل پائے جانے سے پہلے ہی کسی مسلمان کو اس کے ظاہری عمل کی بنیاد پر کافر کے صف میں شمار کرنا شرعی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں, اس سلسلے میں شیخ ابن عثیمین لکھتے ہیں کہ بغیر حجت قائم  کئے کسی انسان پرکفر کا حکم ثبت کرنا اسلام کی نگاہ میں درست نہیں, کونکہ اللہ کا فرمان ہے" وأوحی إلی ھذا القرآن لأنذرکم بہ ومن بلغ" نیز اللہ کا ارشاد ہے "وما كان ربك مهلك القرى حتى يبعث في أمها رسولا يتلو عليهم آياتنا وما كنا مهلكي القرى إلا وأهلها ظالمون " مطلب یہ کہ انبیاء ورسل اور آسمانی کتابوں کے نزول کا اصل مقصد انسانوں پر حجت قائم کرنا اور انہیں حقیقی علم سے روشناس کرانا ہی تھا, تاکہ بغیر دلیل اور ثبوت وحجت کے کسی کو کافر ٹہرانے اور اسے عذاب میں مبتلا کرنے کا جواز باقی نہ رہے_
شیخ مزید لکھتے ہیں : کفریہ اعمال کے صدور اور اس سلسلے میں دلیل اور حجت ثابت ہونے سے قبل کسی شخص معین کو کافر ٹھرانا روا اور جائز نہیں_(فتاوی نور علی الدرب)
کسی فرد مسلم پر کفر وفسق کا حکم لگانے سے قبل دو چیزوں کالحاظ رکھنا ضروری ہے:
۱-جو فعل انجام دیا جارہا اور جو بات کہی جارہی ہے,دونوں شرعی دلیل کی روشنی میں کفر اور فسق کو واجب قرار دینے والے اعمال میں سے ہیں یا نہیں_
۲-تکفیر کا حکم اسی حالت میں جائز ہو سکتا ہے جبکہ کفر اور فسق کو واجب قرار جینے والی تما شرطیں اس کےحق میں ثابت ہورہی ہوں  اور کفر وفسق کی نفی کرنے والی ہر قسم کی ممانعت مفقود اور غیر موجود ہوں_
تکفیر کے اہم شروط:
۱-وہ شخص اس شریعت مخالف قول وعمل سے باخبر ہو جس کے سبب اس کا فسق اور کفر ثابت ہورہا ہے
۲-بغیر کسی قصد وارادہ کے اگر وہ کسی ایسے عمل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے جس سے کفر ثابت ہوتا ہے,  تو اسے کافر نہیں قرار دیا جاسکتا, کیونکہ یہ تکفیر کے موانع(روکنے والی چیزوں) میں سے ہے_
۳-تکفیر کے موانع میں یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر درست تاویل کرنے کی قابلیت ہو, اس کے اندر بعض ایسے شبہات پائے جاتے ہوں جو شریعت کی حقیقی دلیل کو سمجھنے اور شرعی حجت کے صحیح مفہوم تک پھنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں_
ایسے مقام پر یہ بات زیادہ اہم اور سنگین بات یہ ہے کہ شخص معین جو کسی غلطی,نادانی, جہالت, تاویل مباح  یا ان جیسی دوسری عذر کے سبب معذوربھی ہو سکتا ہے,کی تکفیر سے بچنے کا مطلب یہ ہے گز نہیں کہ  اس طرح کے قول وعمل ہی کو بنفس نفیس کفر وشرک کی صفت سے پاک صاف مان لیا جائے, بلکہ ایسے اعمال کا شرک قرارپانا حکم الہی سے ثابت ہو چکا ہے, یہی اس سلسلے میں زیادہ اہم ہے او راس باب میں یہی مطلوب بھی, بطور خاص ایسے وقت میں جب جہالت ونادانی سرچڑھ کر بول رہی ہو, اعتقادی کمزوریاں رواج پارہی ہوں, اور اس سلسے میں ثبوت و حجت کی ضرورت تک محسوس نہ کی جاتی ہو اور بسا اوقات ایسے افعال واقوال کے مرتکبین کى حالات کو حقیقت سے زیادہ نظریاتی طور پر لیاجارہا ہو_

زمان ومکان کی تفریق سے اوپر اٹھ کر دعوت کی راہ میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے خلاف جو بھی اعمال ہیں, انکی تفصیل اور توضیح پیش کی جائے اورشریعت کو ہی اعمال واقوال کو پرکھنے کا میزان مانا جائے تاکہ کوئی بھی انسان اس قسم کا کوئی بھی کام انجام دینے کی جسارت نہ کرسکے اور ان سے گریزاں رہے_

الثلاثاء، يناير 27، 2015

عالمی د ہشت گردی کا موجودہ منظر نامہ (ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ)

سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

آج دہشت گردی کی جو تصویر افق عالم پہ چھائی ہوئی ہے اور فضاء کائنات جس کے گندہ سے مکدر ہو رہی ہے...کسی بھی دین دھرم اور آسمانی پیغام وپیام سے اسکا دور کا بھی رشتہ نہیں...کیونکہ مذہب ظلم کی مخالفت کانام ہے..جبکہ انتہا پسندی کا اصل نام ہی ظلم ہے...!
جب حقیقت اس طرح ہے تو یہ دہشت گرد ہیں کون...جبکہ وہ بھی خود کو مذہبی کہتے اور دنیا بھی اسے مذہب سے جوڑتے نہیں تھکتی...؟
دہشت گرد در اصل ہر وہ انسان ہے جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے,سرکشی روا رکھتا ہے,نوعیت جو بھی ہو, شکل جیسی بھی ہو...صرف ظلم ہے تووہ دہشت اورتشدد ہے..!
مظلوم وہ ہے جو دہشت,ظلم اورتشدد کانشانہ بنے, انصاف کو دربدر نگر نگر بھٹکے اور مایوس لوٹ آئے..تھک ہار جائے.. ٹوٹ پڑے..پھوٹ پڑے..جسے کہیں سے بھی  دلاسا اور دل آشا نہ ملے...وہ اپنا دفاع کرنا چاہے, اپنے بچاؤ کا اپائے کرے پھر بھی ظالم کہلائے...موجودہ عالمی منظر نامے پہ یہی دوہرا پیمانہ غالب سے غالب تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے, ظالم کا ظلم مضبوط تر ہوتا جارہا ہے, تباہی اور بربادی کے وسائل وسیع تر ہوتے جارہے ہیں...دوسری طرف مظلوم کی آہ وفغاں تیزتر ہوتی جارہی ہے, کسک بڑھ ہی رہا ہے, اس کا دفاعی اقدام , وسائل اپنانے کی کوشش, اور انتقامی جذبہ کے اظہارکو بھی انتہا پسندی کہا جارہا ہے,مظلوم کے اس دفاعی انتظام کو اس کے مذہب سے جوڑ کر, اسے باغی اور انتہا پسند مذہب کا پیروکار ہونے کا ملزم قرار دیکر, زمانے کی نظر میں اسے مجرم بتایا جارہا ہے...یہ سب کھلے عام زمانے کی پھٹی آنکھوں کے سامنے دن کے اجالے میں سرعام سر مجلس ہو رہا ہے....ایسا مظلوم جب تمام اسباب زیست سے تہی دست ہوجاتا ہے, دنیا اس کے سامنے اندھیری ہوجاتی ہے,پھر جب وہ عقل سے بھی معذور ہوجاتا ہے, زندگی اور موت اس کے لئے برابر ہوجاتے ہیں, تب وہ موت کا مزید انتظار کرنا بے سود سمجھتا ہے...موت کی طرف خود بڑھنے لگتا ہے...؟ اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا گلہ گھونٹ دیتا ہے, موت کا جام گھونٹ لیتا ہے..اس وقت یہ مظلوم بھی بظاہر ظالم ہوتا ہے.. اسے اس ظلم پر اسکا پہلا ظالم مجبور کرتا ہے,یہ ظلم بھی اسی کو عود کرتا ہے..دوہری دہشت گردی کا یہ مجرم پھر بھی زمانے کا ہنر مند انٹلکچوئل کہلاتا ہے, بدستور دندناتا پھرتا ہے, اورظلم بالائے ظلم کہ  دنیا کو وہی امن پسندنظر آتا ہے...؟!
یہ عالمی دہشت گردی کا وہ منظر نامہ ہے جو دراصل  منظم کوششوں کا نتیجہ اور خاص مقصد کے حصول کی کاوشیں ہیں جسے اگر دنیا پر حاوی ہونے کی یہودی پلاننگ سے تعبیر کیا جائے تو کچھ بے جا نہ ہوگا...!
یہود اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اس دنیا میں اگر کوئی مذہب, ملت, دین اور کوئی قوم اس کی فساد انگیزی, انسانیت کے خلاف اسکی درندگی, دنیا پر قابض ہونے کی اس کی پلاننگ, اور اپنے اثرورسوخ کو نافذ کرنے کی یہودی سازش جیسے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے تو وہ ہے دین اسلام اور قوم مسلم, اسی وجہ سے ابتدائے اسلام ہی سے یہود اپنے مقصد برآری کے لئے مسلمانوں کو گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے, وہ مسلمانان عالم کو ایک ہی دین کے پیرو ہونے کے باوجود اس قدر ٹولیوں میں بانٹنے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ سب آپس میں ایک دوسرے کے جان کے دشمن بنے پڑے ہیں, ہم سب دین کے نام پر ہی باھم متفرق ہیں, ایک دین, ایک رسول, ایک قرآن اور ایک قبلہ کے ہمہ جہت اتحاد کے باوصف ہم انتشار اور عناد ہی کو ترجیح دے رہے ہیں,اپنے ہی بھائی کواپنا دشمن سمجھتے, ایک دوسرے کو ایک آنکہ نہیں دیکھنا چاہتے, باہم دست وگریباں ہیں" إن الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منھم فی شیئ إنما أمرھم إلى اللہ ثم ینبئھم بما کانوا یفعلون" (انعام: ۱۵۹)
برطانیہ کی ایک خبر رساں ایجنسی نے ایک دلچسپ خبر نشر کی ہے جس میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ بیسویں صدی کے چوتھے دھے میں یہودیوں نے بیس افراد پر مشتمل اپنی ایک ٹیم جامعہ أزھر روانہ کیا تاکہ وہاں باضابطہ اسلام کو پڑھے اور اسلام کے دروبست سے آگاہی حاصل کرے...یہ چالیسوں افراد باقاعدہ أزھر سے فراغت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اورپوری اسلامی دنیا میں پھیل گئے...اسلامی رنگ ڈھنگ..مسلمانہ لب ولہجہ..اور مذہبی لبادہ میں ان یہودیوں نے اسلام کے نام پر یہودی دہشت گردی پھیلانا شروع کردیا..اسلامی فکر کے ظاہری خول میں یہودی شدت پسندی, سرکشی,غلو آمیزی,اور دہشت گردی کو پھیلانے کی مہم چل پڑی..یہاں تک کہ اسلام کے نام پر چلنے والی یہ یہودی دہشت گردی, یہودیوں کی مشہور شدت پسندی سے بھی تجاوز کر گئی..کیونکہ اسلام کو دنیا کا سب سے انتہا پسند مذہب کی شکل میں پیش کرنا مقصود تھا,اس لئے اس راہ میں کوئی کوئی کوتاہی روا نہیں رکھی گئی ..اتنا تو بظاہر تھا..بباطن جو نظریہ روبہ عمل تھا وہ یہ کہ یہودیوں کہ علاوہ تمام غیر اقوام( بطور خاص مسلمان)کے ساتھ جو چاہو ظلم روا رکھو, انہیں جینے کا حق ہی نہیں ہے, انہیں جینے ہی نہ دو..یہی وہ زہریلی یہودی فکر ہے جسے صحابئہ کرام کے عہد ذریں سے ہی اسلام کی انسانیت نواز اور ہمدردانہ فکر پر غالب کر نے کی انتھک کوششیں کی جارہی ہیں..یہی وہ مسموم فکر ہے جو منافقانہ رنگ وروپ اوڑھ کربنام اسلام  دنیا میں پھیل رہی ہے..دنیا اسے ہی اسلامی دہشت گردی کا نام دے رہی ہے... آج دنیا جہان میں جو کچھ بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں, در اصل وہ اسی انسانیت سوز یہودی فکر کا عملی نتیجہ ہے, انکی دیرپا دسیسہ کاریوں کا ثمرہ ہے, مسلمانان عالم کے لئے باہمی افتراق کو قبول کرنے کی سزا ہے, تمام تر دینی اتحاد کو پس پشت ڈالکر یہودیوں کا آلئہ کار بننے کا جو گناہ ہم نے اپنی نادانی سے کیا ہے, آج عالم اسلام اسی کی سزا دہشت گردی کے جہنم کی شکل میں بھگت رہی ہے... اسلامی دہشت گردی کے نام پر آج جو کچھ بھی سنے دیکھنے کو آرہا ہے, وہ سب ایسے ہی لوگوں کے کئے دھرے ہیں جنہیں دنیا اسلام کا پیرو سمجھتی ہے, جبکہ وہ ایسے منافقین ہیں جو اسلامی شکل میں یہودی عقل سے کام کر تے ہیں..یہ "یہودی أزہر" کے پروردے ہیں...افراد استعمال کرنے کے اس حربے پریہودی شروع زمانے سے عمل پیرا ہے, تاکہ دنیا ان کے ہاتھوں تخلیق کردہ اس اسلامی دہشت گردی سے نبرد آزما رہے, اسکی بلائوں سے مسلسل جوجھتا رہے, دفاعی اقدامات میں اس قدر مشغول ہوجائے کہ اصل چہرہ تک اسی کی نظرہی نہ پہنچ سکے,پوری دنیا سے مسلمانوں پر عتاب برسے اورمردود یہودی اور صہیونی اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں مصروف رہیں, فساد کی آگ پر تیل چھڑکتے رہیں, دنیا اسکی جھلس سے بھسم ہوتی رہے اوراس کی ایوانوں میں خوشی کے شادیانے بجتے رہیں,فلسطین لالہ زار ہو,عراق لٹ جائے,شام اور لیبیا میں قہرنازل ہو, مصر,افغان, ایران,اور تمام مسلمان امن کے نام کو ترس جائیں, چین کو ڈھونڈتے پھریں, نگر نگر شور ہو پھر بھی دنیا کو ظالم بھی ہم ہی نظر آئیں, یہودی اور صہیونی لابیوں کے شفاف چہرے پر ایک شکن تک نہ آئے...دنیا کو کسی کی فکر دامن گیر رہے تو بس یہودی میڈ اسلامی دہشت گردی کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کی فکر...جس میں ساری دنیا ایک ساتھ کوشش کرنے کے بعد بھی ناکام ہے..اور ناکام ہی رہیگی..کیونکھ ایک غیر موجود کو وجود دینے سے پہلے اسکا خاتمہ کیسے کیا جاسکتا ہے...وجود تو جس نے دیا ہے وہ پردے کے پیچھے ہے اور سارے نمبر رانگ ڈائل ہو رہے ہیں...!
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچہ

دیتے ہیں بازی گر دھوکا کھلا

الخميس، يناير 22، 2015

زيارة فضيلة مؤسس جامعة الإمام ابن تيمية الشيخ الدكتور الوالد محمد لقمان السلفي حفظه الله

لقد تشرفت _بفضل الله وتوفيقه_ليلة البارحة ليلة الخميس 2 ربيع الثاني 1436 الموافق 21 يناير 2015م بزيارة فضيلة مؤسس جامعة الإمام ابن تيمية ومركز العلامة ابن باز للدراسات الإسلامية الشيخ الدكتور الوالد محمد لقمان السلفي _حفظه الله ورعاه ومن كل سوء وقاه_ وذلك في منزله العامر بمدينة الرياض برفقة إخواني الأفاضل الأعزاء د.ظل الرحمن التيمي والشيخ محمد ثناء الله صادق ساغر التيمي والشيخ حفظ الرحمن لطف الرحمن التيمي ، وقد رحب بنا الدكتور ترحيبا حارا واستقبلنا برحابة صدره ودماثة خلقه وبادربالسؤال عن أحوالنا وعن مناشطنا الدعوية والعلمية كما سألناه نحن عن صحته وقد سررنا بماشاهدناه أنه يتمتع بالصحة والعافية والمعافاة.

وقد تجاذبنا أطراف الحديث حول الجامعة ومناشطها العلمية وسررنا بما سمعنا منه وأسدى إلينا بنصائح قيمة نافعة وتوجيهات سديدة مدعمة بالقصص والوقائع من حياته تضيء لنا الدروب وتفتح لنا الآفاق و نستنير بها في حياتنا_ إن شاء الله_ و قددعا لنا بدعوات صادقة تقبلها الله وفرح بلقاءنا فجزاه الله خيرا. والحمدلله الذي وفقنا لهذه الزيارة كما أشكر _إصالة عن نفسي ونيابة عن إخواني _ والدنا ومرشدنا الشيخ الدكتور على حسن الاستقبال وكرم الضيافة وعلى إعطائه لنا من أوقاته الثمينة سائلين الله تعالى أن يتقبل جهوده ويجعلها في موازين حسناته ويجعلها ذخراله يوم لا ينفع مال ولا بنون، كما نسأله سبحانه أن يرزقه الصحة والعافية والمعافاة وأن يطيل في عمره على طاعته ومرضاته وأن ينفع به الإسلام والمسلمين في أرجاء المعمورة وأن يحفظ جامعتنا من كل مكروه وأن يكفيها شر الأشرار وكيد االفجاروأن يوفق القائمين عليها ويسدد خطاهم آمين يارب العالمين.
والحمدلله الذي بنعمته تتم الصالحات.
كتبه
د.معراج عالم محمد إنفاق التيمي

الجمعة، يناير 16، 2015

غصہ نہ کریں !

بسم اللہ الرحمن الرحیم



"والذین یجتنبون کبائر الإثم والفواحش وإذا ما غضبوا ھم یغفرون"( شورى:۳۷)
جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں , اور جب غصہ ہوتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں

·       صحابی رسول حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی سب وشتم کر رہے تھے , ہم بھی آپ ہی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے, ان میں سے ایک کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا تھا اور وہ اپنے ساتھی کو گالیاں دئے جارہا تھا, نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر وہ پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہیگا, اگر وہ أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لے" اس پر صحابہ نے اس آدمی سے کہا: کیا تم سنتے نہیں اللہ کے رسول کیا فرما رہے ہیں!اس نے کہا: میں کوئی مجنوں نہیں"(ابو داود)
·       صحابی رسول حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول گرامی صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی غصہ ہو جائے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے, اس کے بعد اگرغصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ  لیٹ جائے"(ابوداود)
·       حضرت عطیہ بن سعد القرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غصہ شیطان(کی صفات میں) سے ہے, شیطان کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے, آگ کو صرف پانی ہی بجھا سکتا ہے, چنانچہ تم میں سے کوئی جب غصہ ہو تو وضوء کرلے" (ابوداود)
·       ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی گرامی صلى اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئیے, آپ نے فرمایا: غصہ نہ کرو, اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی اس(مختصر اور جامع) نصیحت میں غور وفکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ غصہ اور غضب ہی تمام برائیوں کی آماجگاہ اور محرک ہے"(ابوداود)
·       حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہادر وہ نہیں جو (دشمن کو) پچھاڑ دے, بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول رکھے"(بخاری)

غضب اور غصہ کی تعریف:
·       امام جرجانی فرماتے ہیں: غضب ایک ایسی تبدیلی کانام ہے جو خون دل کے جوش مارنے سے پیدا ہوتی ہے, اور اس سے سینے کی صفائی اور شفایابی حاصل ہوتی ہے_
·       امام راغب لکھتے ہیں: غصہ, بدلے اور انتقام کے ارادے کے وقت خون دل کے جوش مارنے کا نام ہے_
·       حضرت تھانوی رقم طراز ہیں: غضب, نفس کی ایسی حرکت ہے جو جذبئہ انتقام سے پیدا ہوتی ہے_
·       امام غزالی فرماتے ہیں: جذبئہ انتقام سے جو دل کا خون بھڑکتا اور جوش مارتا ہے, اسی کا نام غصہ اور غضب ہے_

غضب اور غصہ کا علاج:
۱-ذکر الہی سے غصہ دور کرنا
۲-غصہ کے وقت ان احادیث میں غور وفکر کرنا جن میں غصہ پی جانے, عفو و در گزرکرنے, حلم وبردباری اپنانے اور صبر وتحمل سے کام لینے کی فضیلت آئی ہے
۳-اپنے آپ کو اللہ کے عذاب اور عقاب سے خوف دلائے, اور یہ یقین پختہ  کرے کہ جس قدر میں اس انسان پہ قدرت رکھتاہوں, اس  سے کہیں زیادہ اللہ تعالى مجھ پر قادر ہے, اگر میں اس پر اپنا غصہ اتار بھی لوں تو کل قیامت کو اللہ کے غضب سے مامون مہیں رہ سکتا, بہر صورت مجھے عفوو درگزر کو ہی ترجیح دینی چاھئے یہی شان ایمانی ہے
۴-غصہ کے وقت انسان کے چہرے پہ جو بدنمائی ظاہر ہوتی ہے , اس کی قباحت کو یاد کرے اور یہ خیال کرے کہ عالم غضب میں انسان خونخار درندے اور بھونکتے کتے کی مانند ہوتاہے, اور اس حالت میں  وہ علماء, صلحاء اور انبیاء کے اخلاق عالیہ سے بہت ہیچ اور نیچ ہوتا ہے
۵-غصہ اور غضب کے نتیجے میں جو ندامت اور بد انتقامی حاصل ہوتی ہے, اس کو یاد کرے
۶-اپنی موجودہ حالت کو بدلے, اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے, بیٹھا ہو تو لیٹ جائے, وضوء ضرور کرے یا کم سے کم ناک میں پانی ڈال کر اتارے
۷-شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے
۸-عفوو درگزر پر اللہ نے جس ثواب کا وعدہ کیا ہے اس کو یاد کرے اور اپنے نفس کو غصہ پر قابض رکھے

غضب اور غصہ کے اسباب:
امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: غصہ کے بعض اسباب یہ ہیں: کبر ونخوت, خود پسندی, دل لگی, بیہودہ مزاق, حقارت اور توہین, غیرت اور عار دلانے کی کوشش, نوک جھونک, عناد ودشمنی, دھوکہ اور فریب, مال ودولت اور جاہ وحشمت کی بے جا طلب_
اکثر نادان اور جاہل قسم کے لوگوں کے نزدیک غصہ کا سب سے اہم محرک یہ ہوتا ہے کہ وہ غصہ کو بہادری, مردانگی, عزت نفس اور بلند ہمتی کا نام دیتے ہیں, اور جہالت ونادانی میں غصہ کو مختلف تعریفی القاب سے موسوم کرتے نہیں چوک تے, تاکہ دل اس کو برا نہ سمجھے اور نفس کا میلان برقرار رہے, اس نظریہ کو ان حکایات سے مزید تقویت ملتی ہے جو اکابرین کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں (کہ وہ بہت غصیلے ہوتے تھے, بات بات پر چراغ پا ہو جاتے اور مزاج کے خلاف کسی بات کو برداشت نہیں کرتے تھے), نیز ان صفات کو مدح سرائی کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے,اور انہیں بہادری کا سنہرا نام دیا جاتا ہے, چونکہ نفس طبعی طور پر اکابر کی مماثلت اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اس لئے طبیعت وصف غضب کی طرف مائل ہوتی ہے, اور یہ حکایات اس کا اہم سبب ثابت ہوتى ہیں_

غصہ اور غضب کے نقصانات:
۱-غصہ, اللہ رحمان ورحیم کو غضب دلاتا ہے اور اس سے شیطان مردود کو خوشی ہوتی ہے
۲-غصہ پر صبر کرنا دشمن سے لڑنے سے زیادہ گراں ہے
۳-غصہ باہمی ناچاقی اور آپسی دوری کو جنم دیتا ہے
۴-غصہ سے حقد وحسد پیدا ہوتا ہے , اور یہ عقل اور دین دونوں ناحئے سے نقص اور کمی ہے
۵-اکثر ہمیں غصہ کے بعد شرمندگی ہوتی ہے اور ہم معذرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں, بسا اوقات تو ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے
۶-غصہ انسان کو اندھا کردیتا  ہے,اور اسے اس لائق نہیں چھوڑتا کہ نصیحت وموعظت سے کچھ فائدہ اٹھا سکے
۷-انسان کے ظاہری جسم پر بھی غصہ کافی اثر انداز ہوتا ہے, بسا اوقات شدت غضب سے آنکھ کی بینائی چلی جاتی ہے, کبھی قوت سماعت کھو بیٹھتا ہے, اور کبھی گویائی سے ہی انسان محروم ہو جاتا ہے, بلکہ جان جانے اور وفور غصہ سے اسکی جان گھٹ جانے کا بہی اندیشہ رہتا ہے
۸-لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے اور اس سے دور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں
                                                                                                                  
جمع وترتیب:
عبد اللہ بن أحمد العلاف
اللہ انہیں,انکے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
اردو قالب:
سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی
جامعہ إسلامیۃ , مدینہ منورۃ



دہشت گردی...عالمی نظریہ...اسلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ, مدینہ منورہ


موضوع گفتگو حد درجہ حساس ہے, معاملہ صرف بنی بنائی اسلامی دہشت گردی کا نہیں ہے, دہشت گردی تو بہر صورت دہشت گردی ہی ہے, اس کا کوئی مذہب, دین, دھرم اور جنسیت وشہریت نہیں, آج عالم تو یہ ہے کہ پورا عالم اس دہشت گردی کی مختلف شکلوں
سے جوجھ رہا ہے,انفرادی دہشت گردی, اجتماعی تشدد, تنظیمی انتہا پسندی, یہ سب  دہشت گردی کی مختلف نوعیتیں ہیں, امریکہ, یورپ, افریقہ, ایشیا, ملیشیا,آسٹریلیہ,ہر جگہ دہشت ہی دہشت ہے,دہشت کے اسباب مختاف ہیں ,نتیجہ سب کا ایک ہے,جہاں بھی انتہا پسندی ہو, جس جگہ بھی اس کا مظاہرہ کیا جائے, نتیجہ قتل وغارت, خوں ریزی اور سفاکیت کی شکل میں ہی ظاہر ہوتا ہے,یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ دہشت مذہب کا حصہ نہیں ہو سکتا, اور نہ ہی مذہب دہشت کا محرک اور پیامبربن سکتا ہے_سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کا بنیادی مصدر صرف اور صرف ظلم ہے, ظلم کے کوکھ سے ہی ساری انتہا پسندی جنم لیتی ہے,جس سے زندگی میں فساد, بے چینی اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے,ایک انسان جب دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے خواہ جہاں بھی کرے, جس وقت بھی کرے, یہ ایک انسان کے ذریعہ دوسرے انسان کی زندگی کو بے کل کرنے اور اسے سکون وامان سے محروم کرنے کے ہم معنى ہے.....کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے ہی جیسے انسان کے ظلم, نا انصافی, انتہاپسندی کے سبب قتل ہوئے,انکا خون ہوا, زندگی سے محروم کردئے گئے,خواہ یہ جنگ کی حالت میں ہوا ہو, عام معمول کی زندگی میں ہو,شب وروز کے کسی پل میں ہو,روئے زمین کے کسی گوشے میں ہو, کوئی بھی دین نہ تو قاتل کو اس ظلم کی تحریک دلاتا ہے, اور نہ اس کے لئے مقتول کے خون کو حلال قرار دیتا ہے...قاتل بھی انسان,مقتول بھی انسان... حق کو باطل اور باطل کو حق کہ دیں تو حق کی حقانیت کسے ملے...؟معرکہ پھر باطل اور باطل کے درمیان ہی رہ جائیگا...؟پھر باطل کے بطلان کا کیا معنی...؟سچائی یہ ہے کہ حق وہ ہے جس میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو..!باطل ہر وہ چیز ہے جس میں ظلم اپنی کسی بھی قسم اور شکل کے ساتھ موجود ہو..!آسمانی مذاہب..انبیاء ورسل کے پیغامات..منزل من اللہ کتابیں..ان تمام کا مصدر وماخذ صرف حق اور صداقت ہوتا ہے...یہ حق اس ذات باری سے منسوب ہے جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں..."وخلق اللہ السموت والأرض بالحق"(جاثیہ: ۲۲)باطل کا منبع تو بہر صورت ظلم ہوتا ہے...!اللہ نے خود اپنی ذات پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو بھی ہر قسم کے ظلم سے منع فرمایا ہے,اب ظلم کا نہ تو کسی آسمانی دین سے سروکارہو سکتا ہے, اور نہ کسی ربانی پیغام ورسالت سے...ظلم فقط" ذلک بما قدمت أیدیکم" ہمارے کئے کا نتیجہ ہوتا ہے..."وإن اللہ لیس بظلام للعبید" اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا_"إن اللہ لا یظلم الناس شیئا ولکن الناس أنفسھم یظلمون"(یونس:۴۴)چونکہ ظلم اور ظالم دونوں کا انجام خوفناک بتایا گیا ہے,اس لئے قیامت کے روز بھی سب سے دردناک عذاب انہی ظالموں کو دیا جائیگا..."ولو أن لکل نفس ظلمت ما فی الأرض لافتدت بہ وأسروا الندامۃ لما راووا العذاب وقضی بینھم بالقسط وھم لایظلمون"(یونس:۴۵)بلکہ منادی یہ نداء لگائے گا کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ثابت ہو چکی ہے" فأذن مؤذن بینھم أن لعنۃ اللہ على الظالمین"(اعراف:۴۴)ظلم خواہ اپنی حیثیت اور کیفیت میں رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو, بہر صورت ظلم ہے"إن اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ"(نساء:۴۰)کوئی بھی اچھا بھلا انسان ظلم کو روا نہیں سمجھ سکتا, آپ ظلم, ظلم کے اسباب اور اسکے نتائج پر غور کرلیں, بآسانی سمجھ سکینگے کہ زندگی کے بیشتر مسائل اور مشاکل صرف اسی ظلم اور اس کی مختلف نوعیتیں کے سبب وجود میں آتے ہیں...ظالم ہمیشہ خود کو حق پسید سمجھتا ہے,اس کی اسی غلط فہمی کے سبب زمین بگاڑ سے اٹ جاتی ہے, اور وہ خود کو حق کا پرستار ہی گردانتا رہتا ہے" وقال فرعون ذرونی أقتل موسى ولیدع ربہ إنی أخاف أن یبدل دینکم أو أن یظھر فی الأرض الفساد" (غافر:۲۶)ظالم فرعون نے بھی سیدنا موسى علیہ السلام کو یہ الٹا اتہام دیا تھا کہ آپ ہی فساد اور بگاڑ کی وجہ ہیں...!ایسی ہی دوہری غلط فہمی کے سبب فساد برپا ہوتا ہے, اور قابل غور بات ہے کہ دہشت پسندی اور تشدد سب سے بڑا فساد ہے, جو ظلم کے بطن سے جنم لیتا ہے"ظھر الفساد فی البر والبحر بماکسبت أیدی الناس لیذیقھم بعض الضی عملوا لعلھم یرجعون"(روم:۴۱)لوگوں نے ظلم کی انتہا کردی...نتیجتا تشدد کی انتہا ہوگئی... سارا جہاں فساد, بےجینی وبے کلی, بدامنی اور انارکی سے جوجھنے لگا...جب ظلم اور عناد کا سلسلہ تھمیگا...دہشت اور تشدد بھی عود کرجائیگا...فساد کا خاتمہ تب ہی ممکن ہو پائیگا...کاش ایسا ہی ہوتا!جنگ وقتال ظلم ہے, لوگوں کا مال غصب کرنا ظلم ہے,پراپرٹی ہڑپنا ظلم ہے,اراضی اور جائیداد پر قبضہ جمانا ظلم ہے,لوگوں پر ظلم کرنا ظلم ہے,زمین پر برتری دکھانا ظلم ہے,جھوٹی گواہی دینا ظلم ہے, افترا پردازی ظلم ہے,کمزوروں کے خلاف ظلم اور جرم گڑھنا ظلم ہے,خوف ودہشت پھیلانا ظلم ہے,عتاب وعقاب برسانا ظلم ہے,بم وبارود سے آبادیاں سنسان کرنا ظلم ہے, امانت میں خیانت ظلم ہے, عہد ومیثاق کی خلاف ورزی ظلم ہے,بری بات تک ظلم ہے, بڑی بات تو ہے ہی...لوگوں کو حقیر جاننا ظلم ہے,بد گمانی ظلم ہے,انسان اپنے ہی بھائی پر ظلم کرے, یہ ظلم ہے, بلکہ سب سے بڑا ظلم تو یہی ہے, جو دراصل دہشت گردی کی بنیاد اور انتہا پسندی کی جڑ ہے...!آج جو دہشت گردی افق عالم پہ چھائی ہوئی ہے اور فضاء کائنات جس کے گندہ سے مکدر ہو رہی ہے...کسی بھی دین دھرم اور آسمانی پیغام وپیام سے اسکا دور کا بھی رشتہ نہیں...کیونکہ مذہب ظلم کی مخالفت کانام ہے..جبکہ انتہا پسندی کا اصل نام ہی ظلم ہے...!جب حقیقت اس طرح ہے تو یہ دہشت گرد ہیں کون...جبکہ وہ بھی خود کو مذہبی کہتے اور دنیا بھی اسے مذہب سے جوڑتے نہیں تھکتی...؟دہشت گرد در اصل ہر وہ انسان ہے جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے,سرکشی روا رکھتا ہے,نوعیت جو بھی ہو, شکل جیسی بھی ہو...صرف ظلم ہے تووہ دہشت اورتشدد ہے..!مظلوم وہ ہے جو دہشت,ظلم, تشدد کانشانہ بنے, انصاف کو دربدر نگر نگر بھٹکے اور مایوس لوٹ آئے..تھک ہار جائے.. ٹوٹ پڑے..پھوٹ پڑے..جسے کہیں سے بھی  دلاسا اور دل آشا نہ ملے...وہ اپنا دفاع کرنا چاہے..اپنے بچاؤ کا اپائے کرے پھر بھی ظالم کہلائے...موجودہ عالمی منظر نامے پہ یہی دوہرا پیمانہ غالب سے غالب تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے, ظالم کا ظلم مضبوط تر ہوتا جارہا ہے, تباہی اور بربادی کے وسائل وسیع تر ہوتے جارہے ہیں...دوسری طرف مظلوم کی آہ وفغاں تیزتر ہوتی جارہی ہے, کسک بڑھ ہی رہا ہے, اس کا دفاعی اقدام , وسائل اپنانے کی کوشش, اور انتقامی جذبہ کے اظہارکو بھی انتہا پسندی کہا جارہا ہے,مظلوم کے اس دفاعی انتظام کو اس کے مذہب سے جوڑ کر, اسے باغی اور انتہا پسند مذہب کا پیروکار ہونے کا ملزم قرار دیکر, زمانے کی نظر میں اسے مجرم بتایا جارہا ہے...یہ سب کھلے عامزمانے کی پھٹی آنکھوں کے سامنے دن کے اجالے میں سرعام سر مجلس ہو رہا ہے....ایسا مظلوم جب تمام اسباب زیست سے تہی دست ہوجاتا ہے, دنیا اس کے سامنے اندھیری ہوجاتی ہے,پھر جب وہ عقل سے بھی معذور ہوجاتا ہے, زندگی اور موت اس کے لئے برابر ہوجاتے ہیں, تب وہ موت کا مزید انتظار کرنا بے سود سمجھتا ہے...موت کی طرف خود بڑھنے لگتا ہے...؟ اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا گلہ گھونٹ دیتا ہے, موت کا جام گھونٹ لیتا ہے..اس وقت یہ مظلوم بھی بظاہر ظالم ہوتا ہے.. اسے اس ظلم پر اسکا پہلا ظالم مجبور کرتا ہے,یہ ظلم بھی اسی کو عود کرتا ہے..دوہری دہشت گردی کا یہ مجرم پھر بھی زمانے کا ہنر مند انٹلکچوئل کہلاتا ہے, بدستور دندناتا پھرتا ہے, اورظلم بالائے ظلم کہ  دنیا کو وہی امن پسندنظر آتا ہے...؟!انہی مصالح کی حفاظت کے لئے اسلام نے جنگ وقتال سے منع فرمایا ہے, اس کی اجازت اسی صورت میں دی گئی ہے جب ظلم پنپنے لگے,ظالم کا سر ضرورت سے زیادہ اٹھنے لگے اور مظلوم کی مظلومیت ظاہر وباہر ہوجائے : أذن للذین یقاتلون بأنھم ظلموا وإن اللہ على نصرھم لقدیر"(حج: ۲۹)نیز اسلام کے نظریئہ حرب کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ جنگ وجدال اسی کے خلاف جائز ہے جو بذات خود ظلم کا مرتکب ہو, جو قتال وجدال پر آمادہ ہو..."وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولاتعتدوا إن اللہ لا یحب المعتدین"(بقرۃ:۱۹۰)یہی دین اسلام ہے, یہ عالمگیر رحمت ومودت کا پیامبر ہے" وما أرسلناک إلا رحمۃ للعالمین"جب اسلام اس قدر انسانیت نوازی, رحم دلی, بہی خواہی اور باہمی رواداری کا مذہب ہے تو عالمی دہشت گردی جیسے انسانیت مخالف جرم کو اسلام سے جوڑنے کی فکر کہاں سے نمودار ہوئی...؟کون ہے اس کا اصل محرک...اس بھیانک غلط فہمی کا اصل مجرم کون ہے...؟ پس دیوار کوئی تو ہے جو اس عظیم منصوبہ کا جال بن رہا ہے...کہیں دور سے ڈورے ڈال رہا ہے...؟آپ غور فرمائیں!پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں کے خلاف مظالم ہورہے ہیں, ان سب کو خانہ جنگی کانام دیا جارہا ہے, ملکی بغاوت سے موسوم کیا جارہا ہے, آپسی منافرت سے تعبیر کیا جا رہا ہے...ان مظالم کو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی منظم انتہا پسندی کیوں نہیں کہا جا رہا ہے...برسرزمانہ انسانیت سوزی,خوں ریزی,قتل عام, نسل کشی...پھر بھی دہشت گردی نہیں...اس کے بالمقابل ۹/۱۱ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ...؟وجہ ظاہر ہے...اسلام تمام قسم کے ظلم کے خلاف شمشیر بے نیام ہے, اسلام دین الہی ہے جو اس روئے زمین پر ذرہ برابر بھی ظلم کو روا نہیں دیکھنا چاھتا,اس کی نظر میں ظلم ہر حال میں ظلم ہے, خواہ مظلوم کافر ہو یا مسلم...اللہ تعالى کسی کے خلاف بھی ظلم کو قبول نہیں کرتا...ایمان اورکفر کی تفریق سے پہلےبیان فرمادیا گیا "من اھتدى فإنما یھتدی لنفسھ ومن ضل فإنما یضل علیھا" اور فرمایا" من کفر فعلیہ کفرہ ومن عمل صالحا فلأنفسھم یمھدون" نیز ارشاد ہوا" قد جائکم بصائر من ربکم فمن أبصر فلنفسھ ومن عمی فعلیھا" جو جیسا کریگا, وہ ویسا ہی پائیگا!ایمان وکفر انسان کے لئے اختیاری امور ہیں...دین میں کوئی زور زبردستی نہیں" قل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر"(کھف:۲۹) حق اپنی حقانیت کے ساتھ نازل ہو چکا ہے, جو چاہے ایمان لاکر نجات حاصل کرلے , جوچاہے کفر پر راضی رہے اور تباہی وبربادی کو مقدر بنالے!چونکہ اسلام نظریئہ عدل اور قانون انصاف کا قائل ہے, اس لئے ادنی  سے ادنی ظلم بھی اس کی نظر میں عدوانیت, سرکشی اور جاں سوزی کے ہم مثل ہے,اسی لئے دنیا کے تمام ظلم رواں اور عالمی مجرمین اسلام سے کڑھتے ہیں , اپنے ظلم کا بازار گرم رکھنے اور انسانیت کا استحصال جاری رکھنے کے لئے اسلام کا قلع قمع کر دینا چاھتے ہیں...یہی وہ ظلم پسند, انتہا پسند, اور تشدد پسند لوگ ہیں جو عالمی دہشت گردی کے حقیقی ذمہ دار ہیں...کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہو سکتا ہے کہ لوگوں سے انکے گھرچھین لئے جائیں, اگر مظلوم اپنے حق کو بازیافت کرنا چاہے تو اسے دہشت گرد باورکراکر دوہرے ظلم کا نشانہ بنایاجائے..اگر وہ اس پھ مصر ہو تو اسے زندگی سے بھی محروم کردیا جائے,,پھر اسی کے خون سے اسی کی زمین لالہ زار کردی جائے...یہ مظلوم فلسطین کی داستان ہے جو اسرائیلی اور صہیونی دہشت گردی کا  معمولی مظہر ہے" الذین أخرجوا من دیارھم بغیر حق"( حج: ۴۰)اسی جیسے ظالمانہ مقاصد کی باریابی کے لئے یہودی اور صہیونی لابیاں اسلام کو بیخ وبن سے اکھیڑ دینا چاہتے ہیں تاکہ مظلوم کی نصرت ومدد اور ظالم کی گرفت کی آواز اٹھنی بند ہوجائے, اور اپنی زمین ہموار ہوتی رہے... اسی نظریہ کی تکمیل کے لئے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاع وضع کی گئی..اسلامو فوبیا کو وجود بخشا گیا..حقیقی ظالموں سے نظر پھیر کر دنیا کی نظر میں اسلام اور مسلمان کو اصل دہشت گرد باور کرایا گیا,اس کے لئے انہوں نے بھولے بھالے مسلم نوجوانوں کو اپنی مکاری سے اپنے دام میں پھنسایا, انکی برین واشنگ کی, انہیں خود کش بمباری کے لئے باضابطہ تیار کیا, انکی جماعت بندی کی گئی, انکے ذہن و فکر کو یہودیت سے بھر دیا گیا, انکے جسم پر ظاہری شکل وصورت مسلمانوں کی سی بنائی گئی, ظاہری خول کے اندر پورا پورا یہود تیار رکھا گیا, تاکہ وہ یہود ساختہ اسلامی دہشت گردی کا عملی نمونہ بن سکیں, اور دنیا کو یہ باور کرانا آسان ہو جائے کہ دہشت گرد کی اصل شکل یہی ہے, عالمی دہشت گردی کا حقیقی ذمہ دار مسلمان ہی ہیں جن کی صورت ان کے چہرے پہ عیاں ہے....ہائے مکاری...دساسی...ہائے انتہا پسندی کہ جس کی حد ہو گئی!زیادہ تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ دنیا ان سب حقائق سے اب تک دانستہ یا نادانستہ آنکھیں موندے وہی رٹ لگائے جارہی ہے جو یہود انکی زبان سے ورد کروانا چاہتا ہے...اس سے بھی زیادہ افسوس ان نام نہاد مسلمانوں پر ہے جو دشمنان اسلام کی ان سب ریشہ دوانائیوں کے شواہد قرآن وحدیث میں تلاشتے ہیں اور خود ہی اپنے خلاف گڑھے گئے جرم کا ثبوت ڈھونڈ نکالنے کی مذموم کوشش کرتے نظر آتے ہیں...!اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سےمسلمانوں  کی کثرت آج سمندر کے جھاگ کی مانند ہے, انکی حقیقت جانوروں کے اس جھنڈ کی طرح ہے جو باہم منتشر ہوں, اور انکا شکار شکاری کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل جیسا ہو...بعینہ مسلمانان عالم کی بھی اپنی کوئی طاقت نہیں رہ گئی,اب انکے خلاف جو کچھ بھی کیا جائے, وہ روا رہے, وہ جو کچھ بھی کریں, دہشت گردی کہلائے...یہاں تک کہ دہشت گردی ایک ایسا لفظ سمجھ لیا جائے جس کے بولتے سنتے ہی ایک عربی انسان اور مسلم شکل وصورت ذہن ودل میں مرتسم ہوجائے... خواہ اس کا تعلق جس جگھ, جس وقت اور جس پس منظر سے بھی ہو...؟!یہی وہ نقطہ ہے جو عالمی صہیونی کا ہدف ومرام اور مقصد مدام ہے, جس میں وہ پورے طور پر نہیں تو تقریبا پورے کامیاب ہو چکے ہیں..معاملہ بالکل الٹ دیا گیا ہے, تصویر کا رخ بدل دیا گیا ہے, اصل چہرہ اب تک پردہ پوش ہے, جو نظر آرہا ہے, وہ ہو نہیں رہا ہے, جو ہو رہا ہے, وہ نظر نہیں آرہا ہے...!سچ ہے کہ جو اپنے لئے رسوائی کو قبول کرلیتا ہے, غیروں کے لئے ذلت پر راضی رہنا اس کے لئے اور آسان ہوجاتا ہے...!"اللہ المستعان وعلیہ التکلان"