الاثنين، سبتمبر 11، 2017

ڈر کے ماحول میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی
ثناءاللہ صادق تیمی
   اللہ پاک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بناکر مبعوث کیا اور زندگی کے تمام مرحلوں کے لیے آپ کی زندگی میں ایسے نمونے رکھ دیے کہ رہتی دنیا تک ایمان والوں کو روشنی ملتی رہے گی ۔ ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ جہاں عقیدت و محبت کی نظر سے کرنا چاہیے وہیں آپ کی زندگی کو مسائل کے حل کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے ۔ انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگی کے لیے آپ کی سیرت میں ایسے روشن نمونے موجود ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہمیں مسائل کا حل دیتے ہیں ۔
    عالمی سطح پر بطور عام اور اپنے ملک کی سطح پر بطور خاص بظاہر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں ، ہم بحیثیت امت کے ہر جگہ پریشان ہیں ، مختلف سطحوں پر ہمارے خلاف پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے دشمنوں نے پوری تیاری کررکھی ہو ، میانمار ، لیبیا ، یمن ، شام ، کشمیر اور افغانستان کہیں بھی ہمارے حق میں کچھ اچھا نہيں ہورہا ہے ۔ پچھلی کئی صدیوں سے ہم بحیثيت امت لگاتار مصائب سے جوجھ رہے ہیں، مختلف سمتوں سے ظلمت کی بدلیاں اٹھتی ہیں اور چھاتی چلی جاتی ہیں ۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سوچنے سمجھنے کا انداز بھیActive  ہونے کی بجائے Passive  ہوگيا ہے ، ہمارے نونہالان بھی عنفوان شباب سے یہ سمجھنے لگ رہے ہیں کہ وہ نبسۃ ایک زوال پذیر قوم کا حصہ ہیں ، پچھلے چند سالوں میں جتنی تحریرں زوال امت پر لکھی گئی ہیں ان کا مثبت نتیجہ کیا برآمد ہوا وہ تو بعد کی بحث ہے ، منفی نتیجہ یہ ضرور برآمد ہوا ہے کہ ہم نے بحیثيت امت کہ اپنے زوال کو بطور خود تسلیم کرلیا ہے ، بسا اوقات اس کا اظہار بھی ہم اس طرح کرتے ہیں جیسے کمزور اور نادار ہونا کوئی خاصے کی چيز ہو !!
  بہرحال حالات کی سنگينی سے قطع نظر ایک چيز اور بھی ہے اور وہ ہے کسی قوم کا اپنے عقائد و ایمان اور اصول و مبادی میں مستحکم اور غیر متزلزل ہونا ، اس کا یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور ظلمت کی بدلیاں اب تب چھٹنے ہی والی ہیں ۔ زوال کی اس نفسیات کا ایک منفی اثر بہر حال یہ رہا ہے کہ امکانات سے متعلق گفتگو عموما یا تو نظر انداز ہوئی ہے یا پھر رد عمل کی نفسیات کے تحت ہوئي ہے ۔ امکانات پر ہم نے بحیثيت امت کے سنجیدگی اور مثبت رویے کے ساتھ کم کم ہی توجہ مبذول کی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زوال پر لاکھ آنسو بہانے کے باوجود وہ زوال اب بھی سینہ ٹھونکے کھڑا ہے !!
 اس خاص تناظر میں اگر ہم قران حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں جو ہدایتیں ملتی ہیں ان میں روشنی اور امید کی کرنیں بہت نمایاں ہیں ۔ قرآن بہت صاف انداز میں ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں کسی بھی ناکامی یا پریشانی کے بعد گھبرانے یا ڈر کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور نجات اور کامرانی کے امکانات اللہ نے بہت رکھے ہیں ۔ ان مع العسر یسرا کا پیغام یہ ہے کہ پریشانی کے ساتھ آسانی کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہے ! ان مسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ  کا واضح مطلب ہے کہ دشمن سے مرعوب ہونے کی بجائے یہ سمجھو کہ دشمن کو بھی تو نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے ساتھ لا تقنطوا من رحمۃ اللہ کی صدائے الہی اس بات کا تاکیدی اشاریہ ہے کہ ابھی راہیں بند نہیں ہوئیں لیکن ابھی ٹھہریے ! اس سے بھی آگے اللہ پاک کی نشاندہی یہ ہے کہ جہاں بظاہر تمہیں خسارہ نظر آتا ہے اور ہزیمت کی ذلت محسوس ہوتی ہے وہاں بھی خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوسکتا ہے عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم ! قرآن اپنی ہدایت میں کسی پس و پیش کا شکار نہیں ، پیغام بہت واضح ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں یہ مرحلے آسکتے ہیں اور وہ قوموں کی زندگی میں آتے بھی رہے ہیں لیکن بحیثيت ایک ایمان والی قوم کے ہمت نہ ہارنا اور امکانات کی تلاش کرتے رہنا ہی ہماری کامیابی ہے اور ان شاءاللہ اس تلاش کے نتیجے میں وہ راہ ملے گی بھی ضرور و العاقبۃ للمتقین ، و ان جندنا لھم الغالبون ، کان حقا علینا نصر المومنین !!!
   رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان مرحلوں کے نمونے دیکھیے تو ہمیں کیا کیا روشنی نظر آتی ہے ۔ ہجرت کے سفر میں قدم قدم پر اس کی مثالیں سامنے آتی ہیں ۔ دشمنوں نے جب ننگی تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور بانکے نوجوان گردن اڑانے کو گھر کا محاصرہ کیے ہوے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آيات پڑھتے ہوئے ان کے پاس سے گزررہے ہیں ۔ غار ثور کے منہہ پر جب دشمن آگئے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے متعلق گھبرا رہے ہیں تو انہیں کیا ایمان افروز تسلی دے رہے ہیں " یا اباکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما ، لا تحزن ان اللہ معنا " ابوبکر ان دو لوگوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو جس کا تیسرا اللہ ہے ! گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے !!
ہجرت کے اسی سفر میں جب سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کا پیچھا کرتے ہیں تو آپ اس بے سروسامانی کے عالم میں کس درجے کے اعتماد ، اپنے مشن کی کامیابی پر یقین سے لبریز ہیں کہ انہیں قیصر وکسری کے کنگن کی بشارت دے رہے ہیں !!
   دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ، مکہ سے لے کر اطراف کے یہود تک ایک ہوکر مدینہ پر چڑھائی کرچکے ہیں ، مسلمان بچاؤ کے لیے خندک کھود رہے ہیں ، اس کھودائی کے بیچ جب کہ اپنی حفاظت بظاہر آسان نظر نہیں آرہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کھودائی بھی کررہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو قیصر و کسری کی فتح کی خوشخبریاں بھی دے رہے ہیں ۔ دنیا کے خزانے مسلمانوں کو ہاتھ لگنے والے ہیں یہ بھی بتارہے ہیں ۔ حالات کی نزاکت نے مشن کی بلندی اور نظر کی وسعت کو محدود نہیں کیا ہے ۔ سامنے کی ظاہری ظلمت نے ایمان و یقین کے اجالے کو مدھم نہیں ہونے دیا ہے ۔
   سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے روشن نمونے ہیں ۔ جنگ احد میں جب دشمنوں نے جنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ، جب مسلمان تتر بتر ہوگئے ہیں اور پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں  اس وقت آپ نے آواز لگائی ہے حالانکہ معلوم ہے کہ آپ کو نشانہ بنایا جائے گا ، جنگ حنین میں یہی کیفیت عود کرآئی ہے اور آپ نے انا النبی لا کذب انا عبد المطلب پڑھا ہے اور اپنے اوپر کسی بھی قسم کی منفی نفسیات کو حاوی ہونے نہیں دیا ہے ۔ مشن کی کامیابی اور پریشانی کے بیچ سے نکل کر کامران و کامیاب ہونے کا یقین آپ کی زندگی کا بہت روشن پیغام ہے اور آپ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اس مثبت اور مستحکم عقیدے کے ساتھ جینے کا نتیجہ کامرانی اور کامیابی ہی ہے ۔ ہمیں اس پر آشوب دور میں رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان پہلوؤں پر بطور خاص تو جہ دینے کی ضرورت ہے ۔ فتح ہمارا ہی مقدر ہے ، کامیابی ہمارے ہی حصے میں ہے لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ رویہ مثبت اپنایا جائے ، ایمان کا رشتہ کمزور نہ ہونے دیا جائے اور اللہ کے وعدے پر لازوال اور غیر متزلزل یقین رکھا جائے اور نچلے بیٹھنے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرتے رہا جائے ۔

اللہ ہمیں بہتر توفیق ارزانی کرے ۔ 

الأحد، مايو 07، 2017

احمد امین کی" حیاتی "
ثناءاللہ صادق تیمی
  جن دنوں جامعہ امام ابن تیمیہ میں اولی فضیلہ( ثانیہ کلیہ) کا طالب علم تھا ، جامعہ کی ماہانہ میگزین مجلہ طوبی کے سب ایڈیٹر کی حیثيت سے مولانا ابونصرندوی ( مکی صاحب ) جامعہ آئے تھے ۔ ان کی شادی ہماری بستی میں ہے ، گاؤں کے رشتے سے پھوپھا لگتے تھے ، ان کا اپائنٹمنٹ لیٹر میں ہی لے کر گيا تھا ، اس لیے جب وہ جامعہ آئے تو بڑی خوشی ہو ئی ، قربت بڑھی تو اور بھی مزہ آيا کہ پھوپھا تو بڑے باغ وبہار آدمی نکلے ۔ علم وادب کا بڑا ستھرا ذوق ، مست الست قسم کے آدمی ، سب سے کھل کر ملنا اور کسی سے کوئی بیر نہ رکھنا ، کتابوں کے شوقین ، اردو سے خصوصی دلچسپی ، ادبی تحریروں کے رسیا ، اقبال ، آزاد ، سید سلیمان ، شبلی ، مودودی اور وحیدالدین خان سب کے قدرداں ، شخصیات کے بیچ افکار کے اختلافات پر سیدھا اور واضح جواب خذ ما صفا و دع ما کدر ۔ ان سے قربت بڑھی اور انہوں نے پڑھنے لکھنے کا ذوق دیکھا تو ایک ایک کرکے سب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی سال تھا جب مجھے درسیات سے دلچسپی کم رہی تھی ، اس سال ششماہی امتحان میں تیسری پوزیشن آئی تھی اور اس وقت سمجھ میں آيا تھا کہ فرسٹ آنے کے بعد تھرڈ آنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے !!!
  عربی سے تھوڑی بہت دلچسپی خود سے پیدا ہوگئی تھی ، کامل کیلانی ، عبدالرحمن رافت پاشا اور ابوالحسن علی ندوی کو پڑھتا رہتا تھا لیکن اس جانب منظم رہنمائی بھی مولانا ابونصر ندوی نے ہی کی ، کچھ کچھ رہنمائی استاذ محترم مولانا فضل الرحمن ندوی حفظہ اللہ سے بھی ملی ، مکی پھوپھا نے ہی منفلوطی ، طہ حسین ، عقاد اور احمد امین کے نام لیے اور یوں شوق کی اس دنیا میں جس کی جو کتاب ہاتھ لگتی گئی دیکھتا گيا ۔ من بعید ، حدیث الاربعاء ، کتاب الاخلاق ، عبرات ، نظرات، عبقریات وغیرہ جہاں تہاں سے پڑھ ڈالے ۔ احمد امین کی حیاتی  لاکھ تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکی اور یوں تشنگی رہ گئی ۔ جے این یو میں ہمارے کلاس فیلو جناب عمران احمد ندوی صاحب نے اپنا ایم فل حیاتی پر کیا تھا ، سو ان کے پاس رکھی کتاب جہاں تہاں سے دیکھنے کو مل جاتی تھی لیکن خود کے کام میں مصروفیت رہتی تھی سو نہ پڑھ سکا۔ البتہ ان کی فجر الاسلام ، ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں فجر الاسلام پوری اور بقیہ حصے  جہاں تہاں سے جے این یو کے زمانے ہی میں پڑھا ۔
  احمد امین کی کتاب الاخلاق اس لیے کچھ پلے نہ پڑی کہ تب پلے پڑنے کی عمر ہی نہ تھی ، بس شوق تھا کہ جو کتاب مل جائے پڑھ ڈالو ، کتاب الاخلاق کا حوالہ دے کر کہ ہم نے اسے پڑھی ہے، بہت سی جگہوں پر علمی دھونس جمانے کا بھی موقع مل جاتا تھا ۔ ادھر پچھلے دنوں شمس کمال انجم صاحب کے " یومیات " نے پھر سے احمد امین کے حیاتی کی یاد دلادی ، انہوں نے حیاتی میں موجود ایک دلچسپ واقعے کو لکھا تھا ۔
    جریر بک اسٹور گیا تو نصف بہتر کا موبائل تو نہ لیا جاسکا کہ جو ان کو پسند تھا وہ تھا نہیں اور جو تھا انہیں پسند نہیں تھا ، موقع کا فائدہ اٹھا کر ہم نے کتابوں میں تھوڑا وقت صرف کرنا چاہا ، تراجم کےخانے میں حیاتی مل گئی اور جھٹ خرید لیا ۔ ویسے بھی سو ریال جو نکاح پڑھانے کے ملے تھے کہیں اور خرچ کرنا مناسب نہیں تھا !! دو تین انگریزی اور دو تین عربی کتابیں خرید لیں ۔ اس درمیان البتہ محترمہ کا ماتھا ٹھنکا رہا کہ اگر پانچ چھ کتابیں ہی خریدنی تھیں تو یہ دو گھنٹہ کتابوں کے بیچ ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟؟
   اس درمیان گھر کی شفٹنگ اور دوسری مصروفیتوں کے بیچ کتابیں کدھر رکھ دی گئیں ، پتہ ہی نہیں چلا لیکن پرسوں جب ہاتھ لگی تو رات دیر گئے تک ختم کرکے ہی دم لیا ۔
  احمد امین اپنے ششتہ اسلوب کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ، انہوں نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ لوگ اس پس وپیش میں رہتے ہیں کہ انہیں عالم کہا جائے یا ادیب اور سچی بات یہ ہے کہ ان کی نثر میں وضاحت اور سادگی پائی جاتی ہے جو ادبیت سے زیادہ علمیت کے قریب ہے لیکن اس اسلوب کا کمال یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی خشکی ، کھردراپن اور اکتاہٹ میں ڈالنے کی کیفیت نہیں پائی جاتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بولنے والی زبان لکھ دی ہے ۔ لگ بھگ یہی کیفیت ان کی فجر الاسلام ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں یہ رنگ اور چوکھا ہوگيا ہے ۔
 کتاب کا مطالعہ ہمیں جہاں احمد امین سے واقف کراتا ہے وہیں اس وقت کا مصر بھی نگاہوں میں پھر جاتا ہے ، مڈل کلاس لوگوں کی زندگی ، بچوں کی تربیت کا ڈراؤنا انداز، ازہر اور اس کی قدامت پسندی ، استعمار اور کے زہریلے سانپ ، نئی تعلیم اور پرانے علوم کی رسہ کشی ، غلامی اور جد وجہد آزادی کی کوششیں اور ان سب پر ایک انسان کی زندگی میں پیش آنے والے وہ واقعات جو ہمیں بہت کچھ سکھانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ احمد امین نے شادی سے متعلق جو نقشہ کھینچا ہے ، احباب کی جو باتیں لکھی ہیں ، ہاں اور نا کے کشمکش کی جو تصویرکشی کی ہے اور پھر شادی کے تکمیل پانے سے لے کر شروعاتی ازدواجی زندگی کے جو کوائف بیان کیے ہیں وہ خاصے کی چیز ہے ،انگریزی سیکھنے کی للک ، اس کے اسباب اور پھر اس کا طریقئہ کار بہت دلچسپ ہے ۔ اسفار کی تفصیل بھی اچھی ہے لیکن خاص طور سے ترکی کا سفر مزیدار ہے کہ ابھی ابھی وہاں انقلاب آیا تھا ، اس سلسلے میں ان کی اپنے استاذ سے گفتگو بہت اہمیت رکھتی ہے اور آج کے ترکی کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے ۔ منصب پر ہونے اور نہ ہونے پر احباب اور لوگوں کے رویے کو احمد امین نے ایک خاص درد دے دیا ہے ۔ کتاب کی بہت سی خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ ہے کہ مصنف نے کھلے دل سے اپنے محسنین کا اعتراف کیا ہے اور اس میں کسی مشرق مغرب کی کوئی تفریق نہیں کی ہے ۔ اگر آپ اس کتاب کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں تو عراق کا سفر اور اس میں شیعہ مقرر کی تقریر والا حصہ ضرور پڑھیے گا، آپ کو مزہ بھی آئے گا اور ہنسی بھی چھوٹے گی ۔
   اردو میں بھی بہت سی خود نوشت لکھی گئی ہے ہمیں عبدالماجد دریابادی کی " آپ بیتی " بہت اچھی لگی تھی اور عربی میں حیاتی بھی پسند آئی ہے !!! ویسےالایام اور انا کے بعض حصوں کو چھوڑ دیجیے تو عربی میں پڑھا ہی کیا ہے !!!!




  

الاثنين، يناير 30، 2017

غزل
 ساگر تیمی
لکھنے والے غلط تھے لیکن پڑھنے والے ٹھیک تھے
سطریں جیسے کہہ رہی ہوں مرنے والے ٹھیک تھے
ساری حقیقت جیسے ان افسانوں ہی میں قید ہو
اہل دانش کہہ رہے ہیں گڑھنے والے ٹھیک تھے
ظلم کی تم تائید کرو ہو شہ کے مصاحب بنتے ہو
اور ضمیر کہا کرتا ہے اڑنے والے ٹھیک تھے
کس کے اندر کس میں کتنی رہ گئی ہے بہادری
سارے فوجی سوچتے ہیں ڈرنے والے ٹھیک تھے
میرے اس کے بیچ کتنی قربتوں کا درد ہے
عشق میں روز اول ہی نہ کرنے والے ٹھیک تھے
اب تک ساگر جنگوں کی تاریخ سے کھلنا باقی ہے
 بچ کر جینے والے یا پھر مرنے والے ٹھیک تھے

الخميس، يناير 12، 2017

راہل گاندھی جی ! اس تیور کو برقرار رکھیے
ثناءاللہ صادق تیمی
2014 کے لوک سبھا الیکش میں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد ملکی سطح پر کانگریس کی جو شبیہہ بنی تھی اور جس طرح سے یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ کانگریس اب ملک کا ماضی ہے ، حال یا مستقبل نہیں ، اس میں اب کہیں نہ کہیں تھوڑی تبدیلی آنےلگی ہے ۔ لوک سبھا انتخاب سے پہلے ہی کانگریس نے جیسے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی ، اس کے بڑے بڑے نیتا خاموش تھے ، حد تو یہ تھی کہ دو ٹرم میں اس نے جو کام کیے تھے ، اسے بھی وہ ٹھیک سے عوام تک نہیں لا پائی تھی ۔ ملک نے مودی جی پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ جیت سے ہمکنار کیا تھا ، ان کے وعدے بھی بڑے لبھانے والے تھے لیکن آدھی مدت گزارنے کے بعد بھی وہ وعدے وعدے ہی ہیں بلکہ خود ان کی پارٹی نے بعض وعدوں کو انتخابی جملہ کہا ہے ۔ اس بيچ ملکی سطح پر جمہوری قدروں کی پامالی دیکھنے کو ملی ہے، آربی آئی سے لے مختلف دوسرے اداروں کا استقلال اور آزادی خطرے میں نظر آئی ہے ، تعلیمی اداروں میں خاص ذہنیت رکھنے والوں کو زبردستی بٹھایا گيا ہے، طلبہ کو سڑکوں پر آنا پڑا ہے ، ادباء شعراء کو اپنا ایوارڈ واپس کرنا پڑا ہے، ملک کے اقلیتوں میں سراسیمگی رہی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دیش بڑی تیزی سے ہندوتو کی طرف جارہا ہے ۔ روزگار کے مواقع کیا بڑھتے ، لوگوں کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ کیا آتے الٹے نوٹ بندی کے زير اثر وہ خود اپنے پیسینے کی کمائی کے لیے ترس کر رہ گئے ہیں، پچاس دن سے زيادہ کا عرصہ گزرگیا ہےاور نوٹ بندی کے برے اثرات ختم نہيں ہوئے ۔ حد تو تب ہوگئی جب آرٹی آئی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آر بی آئی کو اس بات کا علم ہی نہيں کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے پیسے چھاپے گئے ہيں !!
  ڈھائی سال سے پہلے کی مدت پر نظر دوڑائیے تو پورے ملک میں لے دے کر کیجریوال یا پھر جے این یو کے کنہیا کمار اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھاتے نظر آرہے تھے ، لالو یادو نے بہار الیکشن کے موقع سے ضرور ماحول بنایا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے لیکن ملکی سطح پر اپوزیشن کا وجود باضابطہ محسوس نہيں ہوا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کانگریس کو جس دن کا انتظار تھا وہ دن آگیا ہے ۔ اب تک جو پارٹی ڈیفینس کرتی نظر آرہی تھی وہ اب اٹیک کرنے کے رویے کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے ۔ راہل گاندھی نے جس طرح ڈریے نہیں ڈارائیے کا فارمولہ دیا ہے وہ اپنے آپ میں خوب ہے ، انہوں نے کھل کرکہا ہے کہ اچھے دن تب آئیں گے جب 2019 میں کانگریس جیت کر آئے گی ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب کانگریس تھوڑی زیادہ سرگرمی کے ساتھ میدان میں آئے گی ۔ اس بیچ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پرینکا گاندھی کو میدان میں لے آیا گیا ہے ، یوپی الیکشن کے لیے ڈمپل یادو اور پرینکا گاندھی کے بیچ کی ملاقات اور اتحاد بنانے کی کوشش کو بہت محدود پیمانے پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ ڈھائی سال کے عرصہ کے گزرنےکے بعد کئی سطحوں پر مودی حکومت کو گھیرا جاسکتا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، وعدہ خلاقی ، جمہوری اداروں کے استقلال کی پامالی ، کالا دھن اور کرپشن سے جڑی غلط دعویداری اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نوٹ بندی سے پیدا ہونے والی اقتصادی ایمرجینسی کی کیفیت ۔ اگر مکمل اعتماد اور تیاری سے کانگریس نے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تو اس کا فائدہ بہرحال اسے ملے گا ۔ جاننےکی بات یہ بھی ہے کہ اب کانگریس کے پاس گنوانے کے لیے کچھ بچا بھی نہیں ہے ، بھکتوں کو چھوڑ دیجیے تو عام آدمی بہر حال ناراض ہے اور اس ناراضگی کا مظاہرہ وہ الیکشن کے موقع سے کرسکتے ہيں ۔

  راہل گاندھی کو اپنا یہ تیور برقرار رکھنا ہوگا ، ان کے پارٹی کارکنان کو لوگوں تک پہنچنا ہوگا ، آن لائن اور ڈور ٹو ڈور کمپین سے کام لینا ہوگا ، اسی طرح انہیں سیاسی اتحاد سے بھی کام لینا ہوگا ، کہیں جھکنا تو کہیں جھکانا ہوگا لیکن سمجھداری دکھانی ہوگی ، سیکولر پارٹیوں سے جڑنا ہوگا تبھی جاکر وہ کچھ کر پائیں گے ۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد مودی جی کا جادو اترنے لگا ہے ، عوام کو اب سمجھ میں آرہا ہے وہ بھاشن دینا جانتے ہیں لیکن اس طرح سے وکاش پرش نہیں ہیں جس طرح کا ہنگامہ مچایا گیا تھا ۔ کانگریس پہلی بار اس تیور میں نظر آرہی ہے ، اپنے کارکنان اور عوام میں اپنے تئیں یقین جگانے کے لیے بھی یہ ایک اچھی پالیسی ہےلیکن یہ اہم ضرور ہے کہ یہ تیور مدھم نہ پڑے ، رکے نہیں بلکہ مسلسل چلتا رہے ۔ آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں مختلف ہتھکنڈوں سے انہيں گھیرنا بھی چاہیں گیں ، خود مودی جی اوچھے حملوں سے بھی کام لے سکتے ہیں لیکن انہیں تیار رہنا ہوگا کہ اب اگر وہ اپنے اس تیور سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کا اور ان کی اپنی پارٹی کا ہی نقصان ہوگا ۔

الأحد، يناير 08، 2017

ہمارا اسلامی لٹریچر اور بدلتی دنیا
ثناءاللہ صادق تیمی ، اسسٹنٹ پروفیسر امام یونیورسٹی ، ریاض
علامہ اقبال کا بڑا مشہور شعر ہے ۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
مولانا حالی کی اس بات کو خاص طور سے زبانوں کے تناظر میں دیکھیے تو اس کے اندر اور بھی سچائی نظر آئے گی ۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان پر مسلمانوں کی سلطنت قائم تھی ، حکمرانوں کی زبان فارسی تھی ، اس لیے دیکھتے دیکھتے ہر پڑھے لکھے انسان کی زبان فارسی ٹھہری اور اس میں کسی دین دھرم مسلک طبقے کا فرق نہیں رہا بلکہ فارسی ہی تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل سمجھی جانے لگی ۔ فارسی ہی کے زیر اثر پنپنے والی زبان اردو کا بھی یہی حال رہا ۔ مغلیہ سلطنت کے دور زوال میں اردو کا اٹھان شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے بغیر تفریق مذہب و ملت ہر مہذب انسان کی زبان اردو ہوگئی ۔ آج بھی سکھوں میں اردو کا چلن ہے ۔ ہمیں اس وقت شرم محسوس ہوئی جب ہم نے پٹنہ ایئر پورٹ پر ایک سکھ کو اردو کا اخبار خریدتے ہوئے دیکھا اور ہم نے خود انگریزی اخبار لیا ۔ فارسی اردو کے اثرات آج بھی عدالتوں کے اندر محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ ایک وقت تو وہ بھی تھا جب اردو کا شاعر کہتا تھا ۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
لیکن جب حالات بدلے توبدلنے والے حالات کو ہمارے اسلاف نے بڑی خوبی سے سمجھا اور آپ جائزہ لیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنی مختصر مدت میں اردو کے اندر کتنا اچھا خاصا اسلامی لٹریچر پھیل گیا ۔ کسی مبالغے کے بغیر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عربی کے بعد اسلامی ادب کا سب سے بڑا اور مضبوط حصہ اردومیں پایاجاتا ہے ۔ ہمارے اسلاف نے لگ بھگ سارے فنون پر اردو میں لکھا اور اس کثرت سے لکھا کہ آج بھی ان کی تابانی قائم ہے ۔ آپ کو اردو میں اسلام کے تمام گوشوں پرکتابیں مل جائیں گیں ، جب انہوں نے لکھا تو یقینا وہ وقت کی ضرورت بھی تھی اور الحمد للہ ان کی تحریروں سے دینی ضرورت کی تکمیل بھی ہوئی ، تب ایک بڑی اچھی بات یہ بھی تھی کہ اعلا تعلیم یافتہ طبقہ بھی اردو سے بہرور تھا اور کم پڑھا لکھا طبقہ بھی اردو جانتا تھا ، اس لیے اردو کی ایک مہذب تصنیف ہر سطح کے لوگوں کی تشنگی بجھا پانے میں کامیاب ہوجاتی تھی لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ حالات پھر ویسے نہیں رہے ، کافی کچھ بدلاؤ آیا ، مسلمانوں کے ہاتھوں سے اقتدار ہی نہیں گیا ، صرف انگریز حاکم ہی نہیں ہوئے ، ان کے ظلم و ستم کے مسلمان شکار ہی نہیں ہوئے ، ملک کو آزادی ہی نہيں ملی بلکہ آزادی کے ساتھ تقسیم کا گہرا گھاؤ بھی ملا ، ملکی سطح پراردو دشمنی بھی ملی ، مسلم ذہنوں میں مرعوبیت کا بچھو بھی ملا ، بے سروسامانی کی کیفیت بھی ملی اور یوں دیکھتے دیکھتے اردو بےچاری ان غریب مسلمانوں کی زبان بن کررہ گئی جن کے پاس اور کچھ پڑھنے کا ذریعہ نہیں رہا ، اردو روزگارسے الگ رہی اوراس کی جگہ انگریزی نے لیا ، انسان کو زندگی جینے کےلیے بہتر معاش کی بہت ضرورت ہوتی ہے ، وہ انہیں اسباب کو اختیار کرتا ہے جن سے اس کی معیشت مضبوط ہو سکے کہ سارا سماجی مقام اسی سے جڑا ہوتا ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صورت حال یہ ہوئی کہ تقسیم کے بعد اردو مسلمانوں کی ہی نہیں کمزور مسلمانوں کی زبان ٹھہری ( استثناءات سے انکار نہیں !! ) اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ آج جہاں اردو مدارس کے دم پر زندہ ہے وہیں یونیورسٹیوں کے اندر بھی اردو پڑھنے والوں کی اکثریت کسی نہ کسی شکل میں مدرسہ بیک گراؤنڈ ہی رکھتی ہے !!
جن کے حالات اچھے ہيں وہ عام حالات میں اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے ، ان کی زبان انگریزی ہے اور ہم نے اب تک قابل ذکر صورت میں اسلامی لٹریچر انگریزی میں تیار نہیں کیا ہے ۔ اب کیفیت یہ ہے کہ ویسے اعلا تعلیم یافتہ لوگ اپنی اسلامی معلومات کے لیے جن لوگوں کو پڑھ رہے ہیں ان میں یا تو مستشرقین ہیں یا پھر وہ لبرل لوگ ہیں جن کے قلم نے اسلام کو کمزور کرنے کی ہی کوشش کی ہے ۔ ایسے میں مسلمانوں کے اس تعلیم یافتہ طبقےکا صحیح اسلام سے دور رہنا کوئی ویسی تعجب خیز بات بھی نہیں ۔ مجھے ام القری یونیورسٹی میں میڈیکل سائنس کے ایک ہندوستانی پروفیسر کی اس بات سے تعجب نہیں ہوا کہ قرآن تو خیر ٹھیک ہے لیکن حدیث ہم تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچی ، انہوں نے وہی باتیں دہرائیں جو مستشرقین یا لبرلز نے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں ۔ ان حالات میں کیا ہمیں اپنے لٹریچر کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیا ہمیں یہ نہیں سجمھنا ہوگا کہ غیروں کو تو چھوڑ دیجیے خود اپنے پڑھے لکھے طبقے تک صحیح دین پہنچانے کے لیے ہمیں انگریزی کی ضرورت ہے ۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہر حال خوشی ہورہی ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہاں تک ان لوگوں نے بھی اس طرف پیش قدمی شروع کردی ہے جن پر عام طور سے دقیانوسیت اور قدامت پرستی کا الزام رہا ہے چنانچہ ملفوظات ، سوانح اور اس قبیل کی دوسری چیزیں بڑے پیمانے پر انگریزی میں ترجمہ کی جاری ہیں اور بازار میں دستیاب کرائی جارہی ہیں ، بعض مسلم جماعتوں کے پاس بھی قابل ذکر نہیں تو بھی ایک حد تک انگریزی میں اسلامی لٹریچر ہے لیکن اس پورے معاملے میں سب سے تہی دست ہم سلفیان ہند نظر آرہے ہیں ، ہم کہ جنہوں نے ہمیشہ علم وحکمت کی راہ میں قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے ، ہم کہ جن سے جامعہ رحمانیہ منسوب رہا ہے ، ہم کہ جنہوں نے سب سے پہلے اصلاح نصاب کی آرہ میں تحریک چلائی ہے ، ہم کہ جنہوں نے جمعیت علماء ہند ہی نہیں ندوۃ العلماء کو بھی اپنی رہنمائی سے نوازا ہے ، ہم کہ جنہوں نے ہمیشہ حالات کو سمجھا ہے ۔ آج ہم کہیں نہ کہیں پیچھے نظر آرہے ہیں ۔ ابھی تک ہمارے پاس انگریزی میں کوئی قابل ذکر لٹریچر نہيں ہے ، ہمارے اسلاف کے قابل قدر اور بیش بہا سرمایوں کو انگريزی میں منتقل کرنے کا ہمارے پاس کوئی جذبہ یا منصوبہ بھی نہيں ہے ۔ اقبال کا ایک شعر یاد رہا ہے
چراغ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے
اگراجازت دی جائے تو عرض کروں کہ حالات کا یہ شدید تقاضہ ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ اپنے اسلاف کی متاع بے بہا کو انگریزی میں منتقل کرنے کا سامان کریں بلکہ مختلف موضوعات پر حالات وظروف کو سامنے رکھتے ہوئے لٹریچر بھی تیار کریں ۔ ہم نے اگر اور زيادہ کوتاہی برتی تو نتائج بہر صورت سنگین ہی ہوں گے ۔ اس کے لیے ہمیں کچھ اور نہیں جذبے اورمنصوبے کی ضرورت ہے ۔ آج دوسری زبانوں کے بہ نسبت انگریزی میں کام کرنا زيادہ آسان ہے ۔ اس کام کے لیے جہاں تنظیموں کو سرجوڑکر بیٹھ کرسوچنے کی ضرورت ہے ، حدیث ، تفسیر ، عقیدہ ، تاريخ اور دوسرے موضوعات پر باضابطہ لٹریچر تیار کرنے کی ضرورت ہے وہیں افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جن سے جہاں تک ہو سکے وہ کوتاہی نہ برتیں ۔ اس کا یہ قطعا مطلب نہیں کہ اردو میں کام کرنا چھوڑ دیا جائے کہ بہر حال اس کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہے البتہ اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ انگریزی سے اب کسی بھی صورت بے اعتنائی نہ برتی جائے کہ پہلے تو غیروں تک بات پہنچانے کے لیے ہمیں انگریزی ضروری لگتی تھی اب تو اپنوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے بھی یہی ذریعہ رہ گيا ہے ۔ یاد رہے کہ دنیا کا کام چلتے رہنا ہے ، وہ کسی کے لیے نہیں رکتی ۔ حالات کے بدلاؤ کا ہم ساتھ نہیں دے پائیں گے تو یہ ہمارا ہی نقصان ہوگا ۔
لگے ہاتھوں ایک اور سچائی کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ جہاں ہمیں انگریزی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے وہیں ہندی سے بے اعتنائی بھی گھاتک ثابت ہوگی ۔ یہ بہر حال افسوسناک بات ہے کہ اتنی مدت سے ہندوستان میں ہم مسلمان جی رہے ہیں اور ہم نے اپنے برادران وطن کو اسلام سے روشناس نہیں کرایا ہے لیکن اب ہمیں نہ صرف یہ کہ اپنے غیر مسلم ہندو بھائیوں کے ایک بڑے طبقے تک پہنچنے کے لیے ہندی کی ضرورت ہے بلکہ خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنے کے لیے بھی ہندی کی ضرورت ہے ۔ مدرسہ والوں کو چھوڑ دیجیے تو زيادہ تر مسلمانوں کو اردو رسم الخط میں پڑھنا لکھنا نہيں آتا ۔ ہندی کے قومی زبان ہونے کی وجہ سے انہیں ہندی تو آتی ہے لیکن اردو نہیں آتی ۔ اس کا اندازہ بات چیت میں کم ہوتا ہے کہ بہر حال پرورش وپرداخت تو مسلم گھرانوں میں ہوئی ہے ، سبحان اللہ ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے الفاظ ہمیں دھوکہ میں ڈال دیتے ہیں لیکن جیسے پڑھنے لکھنے کی بات آتی ہے ساری حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ آپ کو تعجب ہوتا ہو تو ہوتا ہو لیکن یہ سچ ہے کہ اردو اخبارات کے معتد بہ صحافی ایسے ہیں جو اپنی رپورٹ رومن رسم الخط میں تیار کرتے ہیں وہ اردو کے فارسی رسم الخط سے واقف نہيں ہیں یعنی جو اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں ان کا یہ حال ہے تو سوچیے ان کا کیا حال ہوگا جنہیں اردو سے کوئی مطلب ہی نہیں ۔ شمالی ہندوستان ( جو کہ اردو کا بھی گہوارہ ہے ) کے مسلمانوں کی اکثریت ہندی اخبارات ہی پڑھتی ہے کہ انہيں اردو پڑھنا نہیں آتا ۔ ایسے میں کیا اس ضرورت سے انکار ممکن ہے کہ ہمیں اسلامی لٹریچر کو ہندی میں پیش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آسان اردو( جو ہندی سینیما میں استعمال کی جاتی ہے ) میں چيزیں لکھی جائیں اور انہیں رومن رسم الخط میں چھاپا جائے ۔ یاد رہے کہ ہندی اور انگریزی کی طرف یہ توجہ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ اس سے ہم غیر مسلموں تک دین پہنچا پائیں گے ، نہیں ، بلکہ یہ توجہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ہم خود اپنے مسلمان بھائیوں تک اسلام پہنچا پائيں گے !!!