الخميس، فبراير 19، 2015


صوت باك وقلب قاس:

سيف الرحمن حفظ الرحمن التيمي
الجامعة الإسلامية، المدينة النبوية
استشعرت بالأمس ما أظهر لنا أستاذنا اليوم، والحقيقة هكذا وإن اختلفت الألسن و تشتت العبارات؛ فذكر لنا استاذ الفقه لا أريد الكشف عن اسمه احتفاظا بكرامته وإخلاصه، أنه لقي امرأة في المسجد النبوي وهي تسأله عما تسد به جوعها، وذكرت له أنها مسلمة فلسطينية هاجرت منها إلى المملكة حينما سيطر الاحتلال الإسرائيلي على بقاع الفلسطين وضاق بهم ذرعا، حتى وضعت البراميل المتفجرة على سقوف بيوتهم وهم يشاهدون الموت بأعينهم، وصاروا من الضنكة بمقام كأنهم ينتظرون البراميل كي تنفجر وتبتلع حياتهم، فما وجدت هذه الفلسطينية إلى الخلاص سبيلا إلا أن تأوي إلى مامن في بلدة آمنة، فاتصلت بقريب له في مكة وهو مسؤول في فندق ما، واستمرت في الاتصال معه إلى أن وعدها بأن يوفر لها الأمان ويقدم لها المساعدة حسب ما يسعه، فلما وصلت هي إلى المملكة اختفى هذا المحسن الواعد ولم يجب الاتصال ولم يرد عليه،فسقطت في يديها، وصارت وحيدة طريدة لا عون لها إلا الله،وبلغها من الألم والأسى ما بلغها، وسهرت من الليالي ما سهرت وهي مضطجعة على بطنها، وقضت من الأيام ما قضت وهي عاكفة على وجهها، ثم اضطرت إلى ما اضطرت من أن تمد يديها إلى من لم تقدم قدمها إليه من قبل، وابتل وجهها ببلة التسول، وأصابها من الحزن ما لا نقدر على تقديره، وهي أم حنون لها أيتام يشبعون من حنونها ويشربون من قرير عينها، فيا لجبل من الألم فاق جبالا من الحجر، والآن حينما نستمع قصتها نظن كأننا نسمع مسجلة سجلها التاريخ وهي تسجل بين أيدينا وعلى مرأى منا، فاللسان عند حكايتها تلكن، والصوت عند بيانها يلثغ، والجلود عند استماعها تقشعر، لكن من أين آتي بقلب يبكي وبعين تذرف..... حينما استمعت لقصة الأم الفلسطينية تجدد ذكرى الأم الحنون العطوف، وأنشدت شفتي:
أمي كم أهواها
أشتاق لمرآها
وأحب للقياها
وأقبل يمناها
و كم تمنيت أن أبكي فلم أستطع... فهل من مهد يهديني قلبا باكيا أفديه بحبي كله...!
فزعت إلى الدموع فلم تجبني
وفقد الدمع عند الحزن داء
وما قصرت في حزن ولكن
إذا عظم الأسى فقد البكاء

الأربعاء، فبراير 18، 2015

وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم لیکن ...


ثناء اللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

  ایک مدت کے بعد آخر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم نے فرقہ واریت پر اپنی خاموشی توڑ ہی دی ۔ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں ہر قسم کی مذہبی منافرت اور دینی انتہا پسندی کو غلط قرار دیتے ہوے کہا کہ ان کی حکومت نہ تو اکثریت کی مذہبی انتہا پسندی کو برداشت کرے گی اور نہ اقلیت کے دینی تشدد کوقبول کرے گی ۔ محترم وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور ہندوستانی آئين کا حوالہ بھی دیا ۔

    قابل غور یہ بھی ہے کہ مودی حکومت بننے کے بعد پچھلے کچھ مہینوں میں جس طرح سے ہندو انتہا پسندوں نے پورے دیش میں غنڈا گردی پھیلائی ہے اس کی وجہ سے پورا دیش اور بطور خاص موجودہ حکومت عالمی سطح پر تنقیدوں کی زد میں رہی ہے ۔ جہاں ملک کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے طبقے کے اندر اضطراب و بے چینی کی کیفیت پائی جارہی تھی وہیں اقلیتوں کا ہوش ہی اڑا ہوا تھا ۔ گرجا گھروں پر حملوں سے لے کر دوسری اقلیتوں اور ان میں بھی مسلمانوں کو جس طرح سے ٹارگیٹ کیا جارہا تھا اس نے پورے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس پوری صورت حال سے اندرون و بیرون ملک سب کے سب پریشان تھے البتہ پریشانی نہيں تھی تو حکومت کے کارکنان اور ملک کے دگج وزیر اعظم  کو ۔ پورا دیش آگ اور خون کی چپیٹ میں تھا اور ملک کے سربراہ چپی سادھے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔ لیکن قدرت بھی کچھ عجیب رنگ میں ظاہر ہوتی ہے ۔ مضبوط وزیراعظم نے پوری دنیا کے فرمانروا سمجھے جانے والے امریکی صدر براک اوباما کو بلایا اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ یہ بھی بھارت کی اپلبھدی (حصولیابی ) ہے لیکن یہ سارا کھیل اس وقت بڑا ہی الٹا پڑ گیا جب امریکی صدر نے ہندوستان کو کڑی نکتہ چینیوں کا نشانہ بنایا اور ہندوستان کے اندر ہی پریس کانفرنس کرکے یہ تک کہ دیا کہ جس طرح کی مذہبی منافرت اس دیش میں پھیلائی جارہی ہے اس سے اس دیش کی ترقی نہیں ہو پائے گی اور یہ کہ اگر مہاتما گاندھی زندہ ہوتے تو انہيں ہندوستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر بڑی شرمندگی اور تکلیف ہوتی ۔ اوباما جب امریکہ لوٹے تو انہوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر بھی اپنے اسی بیان کو ذرا اور شدت سے دہرا دیا ۔ کمال یہ ہوا کہ اسی بیچ نیو یارک ٹائمز نے مودی جی کی اس طویل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر باضابطہ ایک اداریہ ہی تحریر کردیا ۔ صورت حال یہ ہو گئی کہ وزیر داخلہ جناب راج ناتھ سنگھ کو بیان دینا پڑا لیکن کسی کے خلاف تردیدی بیان دے دینا اور بات ہے اور سچ کو جھٹلادینا اور بات ہے ۔ جب پوری دنیا میں دور چھیا ہونے لگی تو ہمارے وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑنی ہی پڑی ۔ ہم اس بیان کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا ہے اس کے مطابق عمل بھی کرینگے اور دیش میں جمہوری اور سیکولر فضا بحال ہوگی اور دیش ترقی کے نئے ہفت اقسام طے کرےگا ۔

لیکن جو بات ہم جیسے ہندوستانیوں کو پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب، جو بزعم خویش سمجھدار بھی کم نہیں ہیں ، انہیں آخر اتنی موٹی سی بات سمجھنے میں اتنی دیر لگی ۔ جب پوری دنیا نے تھوکنا شروع کردیا اور پیارے دیش کی جب چاروں طرف بدنامی ہوگئی تب جاکر ہمارے وزیراعظم کو یہ لگا کہ یہ منافرت اور فرقہ واریت صحیح نہیں ہے ۔ کہيں ایسا تو نہيں کہ محترم وزیر اعظم سمجھ تو بہت پہلے سے رہے تھے لیکن بول سکنے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ کبھی کبھی اپنے ہاتھوں پالے پوسے گئے کتے خود اپنے اوپر بھی بھوکنے لگتے ہیں ۔

   محترم وزیراعظم آرایس ایس کے باضابطہ ممبر رہ چکے ہیں ۔ دیش کو مذہبی خطوط پر بانٹنے کا جو پروگرام آرایس ایس کا رہا ہے اس سے وہ ناواقف ہو بھی نہيں سکتے ۔ ان کو وزیر اعظم بنانے میں انہيں کے بقول آرایس ایس کے لوگوں کا بڑا رول رہا ہے پھر بھلا وزیر اعظم کو یہ نہیں پتہ کے ایسے لوگوں کو اگر ضرورت سے زیادہ وقعت دی گئی تو کیا کچھ رزلٹ آئے گا ۔ آپ نے وزارت سے لے کر بیروکریسی تک میں جس طرح سے متعصب ذہن ہندؤں کو بھرنا شروع کیا ہے اس سے کسی متوازن نتیجے کی توقع کرنا فضول ہی ہوگا ۔ محترم وزیر اعظم آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو بہر حال دیش کے دستور کے مطابق ہی چلنا پڑےگا ۔ فیس بوک کا استعمال کرکے آپ وزیر اعظم بنے ہیں تو آپ کو یہ بات تو یاد رکھنی ہی پڑےگی کہ یہی فیس بوک والے  آپ کی نیا ڈبو بھی سکتے ہیں ۔ دہلی کے اسمبلی انتخابات سے تو آپ کو اس کا تجربہ ہو بھی گیا ہوگا ۔ یوں بھی مذہبی منافرت کے خلاف آپ کے اس بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ آپ عام لوگوں اور اقلیتوں کو خود سے قریب کرنا چاہ رہے ہيں اور بھی اس ڈر سے کہ کہیں اور دوسری جگہوں پر بھی آپ کا حشر دہلی جیسا نہ ہو جائے ۔

    آپ نے اپنے بیان میں ہندوستان کی پرانی تہذیب اور آئین کا حوالہ دیا ہے ۔ اس موقع سے ہم آپ کو بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دیش کی مٹی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ منافرت اور انتہا پسندی کو بڑھا دینے والوں کا ساتھ نہيں نبھا سکتی ۔ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم ہیں اوردیا رکھیے کہ اگر جمہویت اور سیکولرزم کو چھوڑ کر آپ نے کوئی اور خفیہ ایجنڈہ چلانے کی کوشش کی ، جس کا بہت سے لوگوں کو خدشہ بھی  ہے ، تو یہ خود آپ کے لیے بھی اور پورے دیش کے لیے بھی کافی گھاتک ثابت ہوگا ۔ اس موقع سے آپ کو یہ بھی یاد رکھنے کی زضرورت ہے کہ صرف بیان دینے سے کام نہيں چلے گا ان بدقماشوں اور غنڈوں پر رسہ بھی کسنا پڑے گا جو پورے دیش کے بھائی چارے کے خلاف ماحول تیار کررہے ہیں اور جو اتفاق سے آپ کے کافی قریب آپ کی اپنی پارٹی لوگ ہیں ورنہ یہ دیش نہ تو آپ کو اور نہ ایسے غنڈوں کو بخشنے کے لیے تیار ہوگا ۔

 سمجھدار اور سیکولر ذہن ہندوستانیوں کو انتظار رہے گا کہ ملک کے وزیراعظم اس سلسلے میں کیا رویہ اپناتے ہيں ۔ 

ہم سا بھی کوئي درد کا مارا نہيں ہوگا __ کلیم عاجز


ثناءاللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض

   ٹھیک سے یاد نہيں کہ پہلے پہل کلیم عاجز کا نام کس کی زبانی اور کب سنا تھا ۔ لیکن ایک شعر تھا جو زبان پر جاری رہتا تھا اور وقتا فوقتا  دوستوں کی محفلوں میں اس کا استعمال میں بڑی ہوشیاری سے کیا کرتا تھا ۔ شعر کچھ یوں تھا
ان کی وہ بات کہ دوں اگر سب کے سامنے
سر میرے مہرباں سے اٹھایا نہ جائے گا
یہ راز بعد میں منکشف ہوا کہ اتنے معروف اور زبان زد خاص و عام شعر کے خالق جناب کلیم عاجز ہيں ۔ جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے اندر میں ثالثہ فضیلہ کا طالب علم تھا ۔ شعر وادب سے دلچسپی تھی ۔ تھوڑی بہت جانکاری بھی تھی لیکن جونئیر طلبہ تھوڑا زیادہ ہی سمجھتے تھے ۔ ان دنوں متوسطہ ثانویہ میں کچھ طلبہ خاص طور سے غیر دینی  کتابوں ، مناقشوں اور ادبی چھیڑ چھاڑ میں روچی رکھتے تھے ۔ ان میں خاص طور سے اخلاص احمد ابو طلحہ ، مناظر ارشد امواوی ، جمیل اختر شفیق ، جاوید اکرام اور صھیب صدری کے نام یاد آتے ہيں ۔ وہ ادبی کتابوں پربحثيں کرتے ، لڑتے جھگڑتے اور بعض سیدھے سادھے ان  اساتذہ پر اپنی دھونس جمانے کی بھی کوشش کرتے تھے جن کے اندر ادبی دلچسپی نہيں کے برابر تھی ۔ فراغت کے بعد جب تدریسی مصروفیت کی وجہ  جامعہ امام ابن تیمیہ ہی میں رہنا پڑا تو اس ماحول کو اور بھی آگے بڑھنے کا موقع ملا ۔ ان دنوں حلقہ ادب جامعہ امام ابن تیمیہ کی ماہانہ نشستیں بھی بڑی پابندی سے منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ اس میں ہماری بھی حصہ داری تھی ۔ جے این یو میں داخلہ پانے کے لیے جب ہم دہلی آگئے کہ تو حلقہ ادب کے سرگرم رکن استاذ محترم جناب امحد جوہر سلفی نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سر ایک خون کا الزام ہے اور اس سے پہلے کہ میں گبھراتا انہوں نے جامعہ چھوڑ کر حلقہ ادب کو مار دینے کا قصہ چھیڑ دیا ۔ الغرض بڑے ادبی معرکے رہا کرتے تھے ۔ ان دنوں جامعہ میں  جن ادباء شعرا کا زیادہ ہی چرچا تھا ان میں پروین شاکر ، قرۃ العین حیدر یعنی عینی آپا ‌ اورکلیم احمد عاجز  سب سے آگے تھے ۔ مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہيں کہ اس پورے ہوڑ ہنگامے سے طلبہ کا فائدہ ہوا ہو یا نہيں ، یہ تو وہی بتائینگے  لیکن میں نے اس موقع سے ان تینوں ادباء کو اپنے طور پر پڑھنے کی کوشش ضرور کی ۔ ایک مدت تک ان کا مجموعہ  " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " میرے سرہانے رہا کیا ۔ کئی غزلیں یاد کرڈالیں ۔ اچھے اشعار کو نشان زد کیا اور یادداشت کے صندوقچے کے حوالے کردیا ۔
    اسی بیچ غالبا 2007 میں دربھنگہ میں ایک مشاعرہ ہوا ۔ ہمیں خبر ہوئي کہ کلیم عاجز آنے والے ہیں اور ہم جمیل اختر شفیق کے ہمراہ روانہ ہو گئے ۔ وہاں گئے تو حفظ الرحمن سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ مشاعرے میں انہوں نے اپنی پر سوز آواز میں اپنی دو غزلیں سنائیں ۔کچھ اشعار یاد آرہے ہیں
عاجز یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
تم ہو بھی تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ تم ہو
یہ پچھلے پہر کس کے کہکنے کی صدا ہے
کوئل ہے ، کبوتر ہے ، پپہیا ہے کہ تم ہو
گوکل کی ہے  کوئی بانسری یا اردو غزل ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا کوئی کرشن کنہیا ہے کہ تم ہو 
کلام میں معنویت کے ساتھ آوازمیں وہ سوز تھا کہ کنہیا لال کپور کی بات ذہن میں سچائی کی پوری روح کے ساتھ سرایت کرگئی کہ " کلیم جب پڑھتے ہیں کہ تو ایسا لگتا ہے کہ کوئي زخمی فرشتہ فریاد کررہا ہے " ۔
    مشاعرے کے بعد ہم نے بھائی حفظ الرحمن کی مدد سے ان سے آٹو گراف لیا ۔ انہوں نے اپنا ایک شعر لکھا اور نیچے اپنے دستخط ثبت کردیے ۔
  دہلی آکر ان کی کئی نثری کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ معلوم ہوا کہ ان کی شاعری سے کہیں زیادہ دم تو ان کی نثرمیں ہے ۔ ہم اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں یہ بات کہ سکتے ہیں کہ اس طرف اتنی البیلی ، شوخ اور کلاسیکی روح سے مالامال اور کسی ادیب کی نثر نہيں ہے ۔ اس کا اندازہ تو " وہ جو شاعری کا سبب ہوا " کے طول طویل مقدمے سے بھی ہو تا ہے لیکن یہ قضیہ اس وقت اور متحقق ہو جاتا ہے جب آدمی ان کی دوسری نثریں کتابیں پڑھتا ہے ۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ ان کی تنقید میں ایک قسم کا غصہ اور جھنجھلاہٹ کا احساس ہوتا ہے ۔
  کلیم صاحب کی شاعری کو میر کی بازگشت اور درد و الم کی تصویر کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ خود انہوں نے بھی کہا ہے
کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے
  اور ایک خاص واقعے کو جس طرح انہوں نے اپنی شاعری کا محور بنا لیا اس نے بھی اس تاثر کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ ایسے بہر حال کلیم صاحب کا یہ کمال ضرور ہے کہ وہ غم ذات کو غم کائنات بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ان کی شاعری کو ان کی زندگی سے الگ کرکے بھی پڑھا جائے تو بھی لطف کم نہيں ہوتا ۔ غم کو آفاقیت کی اس سطح سے انہوں نے برتا ہے کہ غم شخصی ہونے کی بجائے انسانی احساسات کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جو دلآویز نہ بھی ہو تو مانوس ضرور ہے ۔ عام انسانی برتا‎ؤ اور مجلسی زندگی کے لیے جتنے بر محل اشعار کلیم کے یہاں ملینگے اور کسی شاعر کے یہاں مشکل سے مل پائینگے ۔ شاید اسی لیے ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی حیثيت اختیار کرگئے ۔ طنزکی شدت اور تجربات کی گہرائی کی وجہ سے ان کی شاعری جیسے ہر انسان کی اپنی ہی حکایت ہو ۔   میں یہاں کلیم  کے وہ اشعار نقل کرنا چاہونگا جو مجھے پسند ہيں اور جو ضرورت کے وقت بہت کام آتے ہیں ۔
اپنا یہ کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھرملے
بات گرچہ بے سلیقہ ہو کلیم
بات کرنے کا سلیقہ چاہیے
لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیجہ تھام کے سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں
میرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزہ دے ہے
بڑی ہی چالبازي آئے ہے اس آفت جاں کو
شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگادے ہے
تمہاری انجمن ہے جس کو چاہو بے وفا کہ لو
تمہاری انجمن میں تم کو جھوٹا کون سمجھے گا
پہلو نہ دکھے گا تو گوارہ نہیں ہوگا
ہم سا بھی کوئی درد کا مارا نہيں ہوگا

  آج صبح جب کلیم صاحب کی موت کی خبر ملی ۔ بہت افسوس ہوا ۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون 

صحراؤں کا حسن


ثناءاللہ صادق تیمی
 اسسٹنٹ پروفیسر امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض ، سعودی عرب

   سعودی عرب کے دارالسلطنت ریاض آئے ہمیں کئی دن ہوگئے تھے لیکن ابھی شہر سے باہر نکلنا نصیب  نہيں ہوا تھا ۔ ہم ، عزیزم حفظ الرحمن تیمی اور مامو جناب عاصم سلفی صاحبان فیس بک پر ایک متنازع ایشو پر چل رہے مناقشات پر باتیں کررہے تھے کہ حفظ الرحمن صاحب نے جناب ندیم اختر سلفی کی ایک تحریربآواز بلند پڑھ کر سنایا اور ہم سب نے کمال دلچسپی سے  اسے سنا بھی ۔ حفظ الرحمن صاحب اپنی پسندیدگی کا اظہار کررہے تھے کہ مامو نے کہا کہ لائیے آپ کی ان سے بات کراتے ہیں ۔ اور انہوں نے کال لگادی ۔ ہماری باتيں ہوئیں ۔ خوشی ہوئی ، اچھا لگا اور انہوں نے اپنے یہاں آنے کی یہ کہتے ہوئے دعوت دے دی کہ ٹیلی فون پر کیا بات ہوگی ۔ آئیں کچھ باتيں واتیں ہوں ۔ تبادلہ خیال ہو ، تو مزہ آئے ۔ پتہ چلا کہ مامو اور ان کے مابین گہرے رشتے ہيں اور دونوں مدرسے کے زمانے میں کلاس میٹ رہ چکے ہیں ۔

   دوسرے دن ہم ابھی دن کا کھانا کھانے کی تیاری کررہے تھے کہ مامو نے اپنی آفس سے فون کیا کہ آپ لوگ تیار رہیں ندیم کے یہاں چلنا ہے ۔ رات کا کھانا وہيں ہوگا ۔ ہم نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، حفظ الرحمن تیمی ، میں (ثناءاللہ صادق تیمی ) اور مامو جناب عاصم سلفی مامو کی گاڑی سے حوطہ سدیر کے لیے روانہ ہوگئے ۔ شہر میں کافی بھیڑ تھی ۔ مامو کے مطابق دس منٹ کا راستہ پورے پونا گھنٹے میں طے ہوا ۔ شہر سے گاڑی نکلی تو 120 کے رفتار سے بھاگنے لگی ۔ مامو نے کہا کہ صحراؤں کو دیکھیے اور ہم دور تک پھیلے صحرائی خلا کے حسن میں کھو گئے ۔ آج پہلی مرتبہ یہ منظر دیھکنے کو ملا تھا ۔ چلتی گاڑی میں یہ کچھ اور بھی حسین لگ رہا تھا ۔ جہاں تہاں چرتی ہوئی بکریاں اور  راعی کے کیمپ کے ساتھ ساتھ اونٹوں کا جھنڈ ہمیں اس زندگی سے روشناس کرارہا تھا جس کی بابت ہم نے کتابوں میں بہت پڑھ رکھا تھا ۔ اردو داستانوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو ہماری باتوں کی صداقت سمجھ میں آئےگی ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سیرت کی کتابوں کے بعض صفحے پھر سے کھل گئے ہیں ۔

  راستہ بھی تو ایکدم صاف صاف ستھرا اور ساری اہم ٹیکنالوجی سے ہمکنارتھا  ۔ دوسو کیلو میٹردور کا راستہ طے کرکے بھی کوئی تھکاوٹ نہيں ہوئی ۔ حوطہ سدیر گاؤں ہے لیکن کیا کوئی شہر اس کا مقابلہ کرے ۔ صفائی ستھرائی سے لے کر مینٹیننس کے ہر ایک معاملے میں ۔ کہیں کوئي ندی نالہ نہيں ، کوئی بدبو کا گزر بسر نہيں ۔ بالکل ہی مزہ آگیا ۔ اوپر سے مولانا ندیم اختر سلفی کے حسن استقبال اور ضیافت نے سونے پر سہاگا کا کام کیا ۔ جاتے ہی انہوں نے بالکل ہندوستانی( آپ چاہيں تو بہاری بھی پڑھ سکتے ہيں ) طرز کے شام والے ناشتے سے تواضع کیا ۔ چنا، چورا ، دھنیا پتا ، کھیرے کے سلاد کے ساتھ آلو کے سموسے ، مٹھائی اور اوپر سے چائے ۔ اور اس سب کے اوپر میزبان کا خلوص اور محبتوں بھرا اصرار ۔ طبیعت مست ہوگئی۔ اپنا ایک مطلع یاد آگیا
طشتری میں چائے چہرے پر تبسم رکھ دیا
میزباں نے موج الفت میں تلاطم رکھ دیا
 معا بعد ہم نے نمازیں ادا کيں اور پھر اپنے میزبان جناب ندیم اختر سلفی کی گاڑی سے قابل تفریح مقامات کی سیر کو نکل گئے ۔ اب جو شام کے وقت نکلے ہیں تو ہائے اللہ کیا ہوا ہے ۔ کیا فضا ہے ۔ کیا حسن ہے اور کیا دلکشی ہے ۔ ڈاکٹر لقمان السلفی کا جملہ یاد آگیا کہ کسی کو جنت دیکھنی ہو تو سعودی عرب آجائے ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بقول ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی  ہم کسی پہاڑی علاقے  میں آگئے ہوں ۔ تروتازہ اور غیر ملوث ہوا جس میں اتنی خنکی کہ آپ کو ایسی ٹھنڈک سے مالا مال کرے جو آپ کی روح تک کو سرشار کردے ۔ ڈیم پر پہنچے تو وہاں کے منظر نے ہمیں جیسے خیرہ ہی کردیا ۔ عرب کو بدو کہنے والے آکر دیکھیں کہ اللہ کی مہربانی اور حسن تنظیم نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے ۔ ہم نے فطری حسن کا بھرپور آنند لیا ۔ عزیزم حفظ الرحمن تیمی نے اس حسین  پل کو ضائع نہيں جانے دیا اور کئی خوب صورت تصویریں کیمرے میں قید کرلی گئیں ۔ وہاں سے لوٹ کر ہم عزاب (غیر شادی شدہ حضرات ) کے لیے مختص پارک میں آئے ۔ ہم سب نے خوب تفریح کی ، جھولے ٹنگے تھے سو موقع کا فائدہ اٹھایا خوب جھولے ، دلچسپ باتیں کیں ، ایک دوسرے سے لطف لیا اور پھراپنے میزبان کے ہاں لوٹ آئے ۔
    ہاں اس سے پہلے شاپنگ کمپلیکس گئے ۔ وہاں ایک سوڈانی شاپ کیپر سے باتیں ہوئیں ۔ ہم ( حفظ الرحن ، ثناءاللہ )نے جب انہيں طیب صالح کے ناول موسم الھجرۃ الی الشمال کی بابت بتلایا تو خوب خوش ہوئے ۔ ہمارا تجربہ رہا کہ بالعموم سوڈانی نیک طبیعت کے اچھے لوگ ہوتے ہیں ۔ اپنے میزبان کے یہاں لوٹے تو پر تکلف کھانے کا نظم رہا اور بالکل روایتی شمالی بہار کے مسلمانوں کی مانند مولانا نے ہمیں اصرار کرکے خوب خوب کھلایا ۔ اللہ انہيں بہتر بدلہ دے ۔ مولانا ندیم اختر سلفی کی بابت اپنی بستی کے صاحب ذوق چچا جناب آصف حسین کیفی سے سنا کرتا تھا اور ان سے ملے تو حسن اتفاق دیکھیے اسی بیچ ان کے بھائی جناب کاشف حسین کا ٹیلی فون آگیا اور وہ بول پڑے کہ وہ تو آصف کے دوست ہيں ۔ اور یوں میرے سامنے ماضی کی کئی تصویریں پھر گئیں ۔ ان کی بابت آصف صاحب نے کئي بار ہمارے گاؤں کے اس سالانہ پروگرام کے مواقع سے بتایا تھا جو نئے فارغین کو نوازنے اور تعلیم کو پروان چڑھانے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے اور جس کی شروعات میں دوستوں کے ہمراہ اس خاکسار کی اپنی حصہ داری رہی ہے ۔ مولانا یہاں جالیات سے جڑے ہیں ۔ دعوتی کام کرتے ہیں اور اس معاملے میں کافی متحمس اور سرگرم ہيں ۔   آنے لگے تو انہوں نے اپنے دوست جناب عاصم سلفی صاحب کو پانیوں کے دو کارٹون سے بھی نوازا ۔ واضح رہے کہ یہاں پٹرول سے کہیں زیادہ پانی مہنگا ہے ۔
  شاہراہ عام سے پہلے بھی چاروں طرف کا حسن دیدہ زیب تھا ۔ لیکن چاندنی رات نے تو جیسے صحرا کو باغیچہ میں بدل دیا تھا ۔ دور دور چل رہی گاڑیاں کیا منظر خلق کررہی تھیں، بیان سے باہر ہے اور کہیں کہيں پر بسی ہوئی بستیوں میں قمقوں سے پیدا ہونے والی روشنی اس طرح کی صورت گری کررہی تھی جیسے نیلے آسمان میں بہت سارے ستارے اپنے اپنے انداز میں سلیقے سے جمع ہوکر بات چیت کررہے ہوں ۔ راستے میں تعاون علی غیر الخیر کی بڑی اچھی صورت دیکھنے کو ملی ۔ شاہراہ عام پر 120 کی رفتار میکسیمم اسپیڈ ہے ۔ آٹومیٹک کیمرے لگے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی اس کی مخالفت کرے تو جرمانہ لگادیا جائے ۔ اب لوگ کرتے یہ ہيں کہ اس سے کہیں زیادہ رفتار سے چلتے ہیں اور جب کیمرا یا پولیس چیک پوسٹ آنے والا ہوتا ہے رفتار کو میکسیمم اسپیڈ کے مطابق کرلیتے ہیں اور اس معاملے میں ہر آگے والا اپنے پیچھے والے کو انڈیکیٹ ( اشارہ ) کردیتا ہے اور یوں پیچھے والا ہوشیار ہو جاتا ہے ۔

      

چوری اس پر سینہ زوری !!


ثناء اللہ صادق تیمی 
اسسٹنٹ پروفیسر ، امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض ، سعودی عرب

ہمارے دوست کا بھی کچھ عجب حال ہے ۔ وہ وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر جاتے ہیں کہ ہمیں الجھن سی ہونے لگتی ہے ۔ اب جیسے ہی ہم نے نماز کی اہمیت اور اللہ اور بندے کے رشتے کی معنویت انہيں سمجھائی وہ نماز چھوڑنے کا فلسفہ ہمہیں سسمجھانے لگے ۔ انہوں نے کہا کہ بھائی ایسا نہيں ہے کہ نماز چھوڑنا صرف کوتاہی یا بے عملی ہے ۔ یہ تو در اصل ایک فلسفہ ہے ۔ میرا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ؟ ہمارے دوست بے نام خاں گویا ہوئے دیکھو ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ بنایا ہے اور وہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے ۔ بھلا جو رب اپنے بندوں سے اتنی محبت کرتا ہے ۔ اس نے انہيں اتنی بڑی کائنات میں نائب بنا کر بھیج دیا ہے اس اللہ کو آخر کیا حاجت ہوگئی کہ لوگ اس کے آگے ماتھے ٹیکیں ، سجدے کريں اور رورو کر گڑگڑائیں ۔ وہ تو چاہے گا کہ اس کے بندے خوش رہيں ، آباد رہیں اور دی ہوئی زندگی پوری طرح جیئیں ۔ یہ تو مولویوں کے ڈھکوسکے ہیں کہ نماز کو اتنی اہمیت مل گئی ہوئي ہے ۔ بھائی ہمارا رب کیا انسانوں جیسا بادشاہ ہے کہ جب بندہ اس کے آگے جھکےگا وہ خوش ہو جائےگا ؟ سوچو دماغ لگاؤ ۔

    پتہ ہے یہ مولوی ان سوالوں کا کوئی جواب دینے کی بجائے کیا کہینگے کہ نماز چھوڑنے والے کافرہيں ۔ اللہ کے باغی ہیں اور رحمت الہی سے دور ہیں ۔ اور دیکھنا اکثر مولوی ہی اللہ کی رحمت سے دور نظر آئینگے ۔ چہرہ بجھا ہوا ، مسکینی اور محرومی کی تصویر ! ایک مرتبہ عبد الرزاق ملیح آبادی کی ملاقات علامہ تقی الدین ہلالی سے ہوئی ۔ تقی الدین ہلالی مولانا ابو الکلام آزاد  سے ملنے گئے تھے ۔ باتوں باتوں میں ملیح آبادی اور ان سے نماز کے مسئلے پر بات ہونے لگی ۔ ملیح آبادی نے تارک نماز کے کافر نہ ہونے کی انہيں ایسی دلیل دی کہ وہ بس دیکھتے رہ گئے ۔ ملیح آبادی نے کہا کہ بھائی میں نماز نہيں پڑھتا اور ایک لمحے کے لیے بھی  میرے دل میں یہ بات نہيں آتی کہ میں مسلمان نہيں ہوں ! یوں بھی نماز پڑھنے والے لوگ اپنی نماز کا دھونس جما کر لوگوں کو وہ وہ دھوکہ دیتے ہیں کہ غیر نمازی دے ہی نہیں سکتے ۔ آپ تجربہ کرلینا نمازی لوگوں میں عجیب و غریب قسم کا غرور دیکھنے کو ملے گا ۔ وہ بقیہ مسلمانوں کو ہر طرح سے اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں ۔ یہ اتنے بد اخلاق ہوتے ہیں کہ سوچا بھی نہيں جا سکتا ۔

     بھائی ہم اللہ کے بندے ہيں ۔ اس کی زمین پر رہتے ہیں ۔ اس کی دی ہوئي ساری نمعتیں ہيں تو ہم اسے یاد کرلیں یہ کیا کم ہے ۔ اور ہم تو الحمد للہ اللہ کو یاد کرتے ہی رہتے ہيں ۔ ان مولویوں نے تو سارے اسلام کو داڑھی اور نمازمیں سمیٹ دیا ہے ۔ نماز کے علاوہ اخلاق بھی ہے جس کی تکمیل کے لیے رسول بھیجے گئے تھے ۔ لوگوں کی مدد ہے جو انسانیت کا بنیادی تقاضہ ہے ۔ ایسے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نماز چھوڑنے کے معاملے میں مولوی طبقہ سب سے آگے ملےگا ۔ اگر صلاۃ واقعی دخول جنت کے لیے ضروری ہے تو ان مولویوں سے پوچھیے یہ مولویانہ پیشوں سے نکلنے کے بعد نماز کو بالعموم طلاق بتہ کیوں دے دیتے ہيں ۔ یہ جب تک مولوی ہیں تب تک نماز ہے اور جیسے ہی دنیا کے راستے کھلے کہاں داڑھی اور کہاں نماز ! ایک اور بات بتاؤں یہ جب لوگوں کے بیچ ہونگے نماز پڑھینگے اور جب تنہا ہونگے انہیں نماز سے کوئی مطلب نہيں ہوگا ۔ میرے بھائی اصل انسانیت یہ ہے کہ لوگوں کی مدد کیجیے ۔ غریبوں کا خیال رکھیے اور کسی کو اپنی  ذات 
سے تکلیف مت دیجیے ۔ دھوکہ فریب مت کیجیے ۔ حالی نے کہا ہے

یہی ہے عباد ت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
نماز وغیرہ در اصل انسان کو انسانیت سے دور لے جانی والی چیز ہے ۔ اسی لیے اکثر زیادہ پڑھے لکھے ، سمجھدار اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کو دیکھوگے وہ مسلمان ہونگے لیکن نمازی نہيں ۔

    میں نے اپنے دوست سے دو تین باتيں عرض کرنی چاہی ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نماز اسی اللہ کا حکم ہے جس اللہ نے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی نمازی آدمی اخلاق کا برا ہے تو اس میں نماز کا کیا کردار ہے کہ غیر نمازی تو زیادہ تر بھونڈے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں اور کیا ایک بد اخلاق نمازی کی بجائے ایک با اخلاق نمازی کو مثال نہيں بنایا جا سکتا ۔ تیسری بات یہ کہ کیا یہ سارے فلسفے انسان کو قیامت  کے دن اللہ کے قہر سے بچالینگے ۔ ہمارے دوست نے ہمیں مسکراکر دیکھا اور کہا کہ بھائی ناراض مت ہونا ۔ یہ باتیں ہماری کب تھیں یہ تو ہم تمہیں بے  نمازی متفلسفین کے افکار عالیہ سے روشناس کرارہے تھے !