الثلاثاء، أغسطس 30، 2016

بسم اللہ ارحمن الرحیم

                   اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت


از قلم:ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم/امام وخطیب مسجد نبوی،مدینہ منورہ
ترجمہ:سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی/طالب جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ

الحمد للہ رب العالمین ،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.
أما بعد:
روئے زمین پر خیر وبھلائی پائے جانے کے اسباب:
اللہ تعالی جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا،انہیں اپنی فرمانبرداری کا حکم دیا،اور اپنے اطاعت گزار بندوں کے لئے سعادت اور خوش بختی مقرر کردی،اللہ کی طاعت  وبندگی وہ قلعہ ہے کہ جو اس میں داخل ہو گیا وہ مامون ہوگیا، اور جس نے اسے ادا کی اسے نجات مل گئی،عبادت ایک ایسا کار خیر ہے جس میں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں،اللہ بلندوبرتر کا فرمان ہے:ماذا علیھم لو آمنوا باللہ والیوم الآخر وأنفقوا مما رزقھم اللہ ‘‘  بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے  اور اللہ تعالی نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ،اللہ تعالی انہیں خوب جاننے والا ہے۔
زمین میں جتنی بھی بھلائی موجود ہے ،وہ سب اللہ اور رسول اللہ کی فرمانبرداری کا ثمرہ ہے،امام ابن القیم ؒ فرماتے ہیں: جو دنیا کے اندر پائے جانے والے شرور وفتن کے بارے میں غور کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ دنیا کی تمام برائیاں اللہ کے رسول کی مخالفت اور آپ کی فرمابرداری سے روگردانی کا نتیجہ ہیں،اور دنیا میں جتنی بھی اچھائیاں ہیں ،وہ سب اللہ کے رسول کی اطاعت  کے طفیل ہیں،اسی طرح انسان کو ذاتی طور پر جو غم،الم اور تکلیف لاحق ہوتی ہے ،اس کی وجہ بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے منہ موڑنا ہی ہے۔

سعادت وخوش بختی کے اسباب:
اللہ اپنے بندوں پر رحیم ہے کہ انہیں اپنی بندگی اور طاعت گزاری کا حکم دیا ہے تاکہ انہیں خیر وبھلائی نصیب ہوسکے،اللہ فرماتا ہے:استجیبوا لربکم من قبل أن یأتی یوم لا مرد لہ من اللہ ‘‘کہ اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے ایسا دن آجائے جس کا ہٹنا نا ممکن ہے ۔ چناچہ مومنوں نے اللہ کی پکار پر لبیک کہا اور کامیاب ہو گئےنما کان قول المؤمنین اٍذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم أن یقولوا سمعنا وأطعنا وأولئک ھم المفلحون"  ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلا یا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا،یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔اسی سے ان کے دل زندہ ہیں اور ان کی عظمت بلند ہے، اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: یا أیھا الذین آمنو استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم" اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجالاؤ،جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیزکی طرف بلاتے ہوں۔
اطاعت اور فرمانبرداری کے فوائد:
جس نے اللہ کی تابعداری اور بندگی کی طرف پہل کی ، اللہ اس کی ہدایت اور راست روی میں اور اضافہ کر دیتا ہے: والذین اھتدوا زادھم ہدی وآتاھم تقواھم" جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رقم طراز ہیں: آدمی جتنا ہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار ہوگا،وہ اللہ کا اتنا ہی بڑا موحد اور دین میں اسی قدر مخلص ہوگا ،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے منحرف ہو جائیگا تو اسی کے بہ قدر اس کا دین بھی ناقص وناتما م ہوتا چلا جائیگا۔
جو اللہ اللہ کی سنتے ہیں ، اللہ بھی انکی سنتا ہے،اللہ کا فرمان ہے: ویستجیب الذین آمنوا وعملوا الصالحات ویزیدھم من فضلہ " اللہ تعالی  ایمان والوں اورنیکو کاروں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتاہے ۔ بلکہ اللہ اپنے  ایسے بندوں سے محبت رکھتا، ان پر رحم فرماتا اور انہیں جنت کا مکیں بناتا ہے، اللہ عز وجل فرماتا ہے:للذین استجابوا لربھم الحسنی " جنہوں نے اللہ کی سنی ،اللہ نے ان کے لئے جنت تیار کر رکھا ہے۔
انبیاء ورسل علیہم السلام اور اللہ کی اطاعت وبندگی :
انبیاء ورسل علیہم السلام نے اللہ کی اطاعت میں سب سے پہلے پہل کی ،اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام سے کہا:أسلم قال أسلمت لرب العالمین" فرمانبردار ہوجا،انہوں نے کہا:میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔ انہیں اپنے لخت جگر کو قربان کردینے کا حکم ہوا تو انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کو ذبح کرنے کے لئے پیشانی کے بل لٹا دیا۔بیٹا بھی اسماعیل جیسا کہ جس نے یہ حکم سن کر کہا: یا أبت افعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین اباجو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
موسی علیہ السلام اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے دوڑ پڑے اور کہا : وعجلت الیک رب لترضی" اور میں نے اے رب !تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہوجائے  ۔اللہ نے نبیوں سے یہ عہد وپیمان لیا کہ اگر ان کے درمیان محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں،تو ان سب نے بیک زبان کہا:أقررنا"  ہمیں اقرار ہے ۔اللہ نے ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حکم دیا : قم فأنذر” کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے ! توآپ نکل پڑے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دینی شروع کردی،اللہ نے جب آپ سے کہا: قم اللیل الا قلیلا" رات کے وقت نماز میں کھڑے ہوجائو مگر کم۔ توآپ تہجد کا اس قدر اہتمام کرنے لگے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔
رسولوں کے علاوہ دیگر لوگوں کی اطاعت الہی میں سبقت:
عیسی علیہ السلام کے حواریوں  اور مددگاروں نے ان کی دعوت کوسنی اور آپ کی آواز پر لبیک کہا،انہیں عیسی علیہ السلام نے کہا:من أنصاری الی اللہ قال الحواریون نحن أنصار اللہ آمنا باللہ " اللہ تعای کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالی کی راہ میں مددگار ہیں ، ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں۔
جنوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اللہ کی پکار سننے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی اور انہیں اس پر ابھارا: یا قومنا أجیبوا داعی اللہ وآمنوا بہ یغفر لکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب ألیم" ہماری قوم ! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو،اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا۔
اطاعت الہی کی راہ میں صحابئہ کرام کا جذبئہ مسابقت:
صحابئہ کرام کو جوفضیلت حاصل ہوئی ووہ اس لئے کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،ان میں اخلاص تھااور وہ اللہ ورسول کی تابعداری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے تھے ،جس کے سبب وہ اللہ کی نظر میں برتر اور بہتر قرار پائے۔ جب استقبال کعبہ کا حکم نازل ہوا تو ان صحابئہ کرام نے نماز کی حالت میں ہی اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کرلیا،حکم کا سننا تھا کہ اس پر عمل پیرا ہوگئے، اتنی بھی تاخیر انہیں گوارا نہیں ہوئی کہ اگلی نماز تک اسے مؤخر کر دیتے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دلائی اور وہ اپنے قیمتی سے قیمتی اموال خرچ کرنے لگے؛حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی ملکیت کا نصف حصہ نبی کی خدمت میں لاکر پیش کیا اور حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال آپ کے قدموں میں لاکر ڈال دیا۔جب آپ نے کہا: من جھز لنا جیش العسرۃ،فلہ الجنۃ" کون ہے جو ہمارے لئے جنگ  تبوک کی تیاری کا صرفہ برداشت کرے گا،اللہ اس کو جنت کی سکونت عطا کرے گا۔تو حضرت عثمان نے اس کی تیاری مکمل کرانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔بخاری۔
جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ :لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون" جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤگے۔ تو حضرت ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول! میرا سب سے محبوب مال بیرحاء نامی باغ ہے ، اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں‘‘ ۔بخاری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کم سن صحابہ کرام کو قیام اللیل کی فضیلت کی رہنمائی کی تو وہ سب اللہ کے عبادت گزار بندے بن گئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا جبکہ وہ ابھی چھوٹے ہی  تھے کہ : وہ اللہ کے نزدیک بڑا پیارا بندہ ہے،کاش کہ وہ تہجد کا بھی اہتمام کرتا!" آپ کی یہ حدیث سننے کے بعد راتوں کو وہ بہت کم ہی سویا کرتے تھے۔متفق علیہ 
اللہ کے لئے صحابئہ کرام نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا:
طاعتِ الہی میں انہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی میں ڈال کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے،غزوئہ بدر میں مقداد ابن الأسود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا فر ما رہے تھے، اور کہا: ہم وہ نہیں کہتے جو موسی کی قوم نے ان سے کہا تھاکہ : جاؤ اور اپنے رب کے ساتھ مل کرقتال کرو،بلکہ ہم آپ کے دائیں،بائیں،آگے،پیچھے ہرطرف سے قتال کرینگے،ابن مسعود کہتے ہیں کہ : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا کہ یہ سن کر خوشی سے آپ کا چہرہ دمک اٹھا۔بخاری
حکم سنتے ہی غیر اللہ کی قسم سے توبہ کرلیا:
صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری میں اس قدر پہل اور سبقت کرتے کہ جوں ہی انہیں خبر لگتی کہ آپ نے فلاں بات یا اس طرح کے کام سے منع فرمایا ہے،توبنا کسی تامل کے فوارا اس سے باز آجاتے،زمانئہ جاہلیت میں آباء واجداد کی قسمیں کھانا ان کی عادت تھی ، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہوا:اللہ تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے توانہوں نے غیر اللہ کی قسمیں کھانا یکسر ترک کردیا،یہاں تک کہ عمر رضی اللہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تب سے کبھی بھی غیر اللہ کی قسم نہیں کھایا ،نہ خود اپنی زبان سے اور نہ کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔مسلم
بھوک کی شدت کے باوجود کھانے سے باز رہے:
ایک موقع سے صحابہ کو بہت بھوک لگی تھی،انہوں نے کھانا بنا یااور بھوک کی شدت کے باوجود صرف اس لئے کھانے سے باز رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا،یہ خیبر کاواقعہ ہے جب گھریلو گدہے مباح تھے ،اسی وجہ سے صحابہ نے اس کا گوشت پکایا،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ ندا لگائی کہ :اللہ اور رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع فرماتا ہے کیونکہ یہ ناپاک ہیں اور اسے کھانا شیطانی عمل ہے‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :یہ سننا تھا کہ ہانڈیاں گوشت سمیت انڈیل دی گئیں،جبکہ وہ گوشت سے بھری پُری تھیں۔متفق علیہ
شراب کی حرمت نازل ہوتے ہی اسے ترک کردیا:
اسلام کے شروع زمانے تک شراب مباح تھی،لیکن جیسے ہی کسی راہ گزرتے شخص سے انہوں نے اس کی حرمت کی خبر سنی تو اسے بہا ڈالا،حضرت ابوالنعمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:میں ابو طلحہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا کہ اس کی حرمت نازل ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک منادی کو ندا لگانے کا حکم دیا،آواز سن کر ابو طلحہ نے کہا: باہر دیکھو کون ہے،یہ آواز کیسی ہے،کہتے ہیں کہ : میں نکلا تو دیکھا کہ منادی ندا لگا رہا ہے: خبرادار ! شراب حرام ہوچکی ہے،اور کہا:جاکر شراب بہا ڈالو،راوی کا بیان ہے کہ :پھر تو مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی"۔متفق علیہ ،ایک دوسری روایت میں ہے کہ :جب واپس لوٹ کر آئے تو  اس آدمی کے بعد کسی اور سے اس کی بابت دریافت نہیں کیا اور بلا کسی تامل کے شراب انڈیل دیا
بلا کسی سوال کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع:
لباس وپوشاک میں بغیر کسی استفسار کے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیا کرتے تھے ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جسے آپ پہنا کرتے اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے،لوگوں نے جب یہ دیکھاتو انہوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالی ،پھر ایک دن ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھے ہوئے اپنی انگوٹھی اتا رڈالی اور یہ کہتے ہوئے اسی پھینک ڈالا کہ :میں یہ انگوٹھی پہنا کرتا تھا،اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتا  تھا،اللہ کی قسم میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔یہ سن کر صحابہ نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتارپھینکی۔متفق علیہ
صغار صحابہ بھی اتباع نبوی میں پیش پیش رہتے تھے:
حضر ت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی اسی وقت اپنی و صیت لکھ ڈالی کہ :کوئی بھی مرد مسلم جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہوجس کے با رے وہ وصیت کرنا چاہتا ہو،اسے یہ حق نہیں کہ وہ وصیت کی تفصیل لکھے بنا دو رات گزارے۔متفق علیہ ، حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ : جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تو اس کے بعد ایک رات بھی نہیں گزری اور یہ وصیت میرے پاس مکتوب شکل میں موجودتھی۔
صحابہ نے اللہ کے لئے اپنی زبانوں کی حفاظت کی:
اللہ کے رسول کی وصیت کے بہ موجب انہوں نے ہرغیر مناسب چیز سے اپنی زبان کی حفاظت کی ،جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول!میں دیہات کا رہنے والا ہوں ،اسی وجہ سے میرے اندر دیہاتیوں کی سی سخت مزاجی  ہے، آپ مجھے کچھ وصیت فرمائیں، آپ نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دو،صحابی کہتے ہیں کہ:اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہ دی ،حتی کے کسی بکری اور اونٹ کو بھی نہیں"۔
احکام کی بجا آوری :
صحابہ کرام اپنے تمام حرکت وعمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام کے پابند تھے،خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں جنگ کا پرچم تھماتے ہوئے فرمایا:آگے بڑھو اور اس وقت تک پیچھے نہ مڑنا جب تک کہ اللہ تیرے ہاتھ پہ مسلمانون کوفتح یاب نہ کردے۔حضرت علی کچھ دور چل کر ٹھہر گئے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے بہ موجب آپ سے دور ہوتے ہوئے بھی التفات کرنا گوارہ نہ کیا اور بہ آواز بلند دریافت کیا:یا رسول اللہ !علی ماذا أقاتل الناس؟ کہ اے اللہ کے رسول ! کس چیز پر لوگوں سے قتال کروں؟۔مسلم
منہیات سے اجتناب:
انہوں نے آپ کی منع کردہ ہر چیز کو ترک کردیا اگرچہ اس کے کرنے میں مسلمانوں کی فتح ونصرت کے لئے بہ ظاہر مصلحت ہی کیوں نہ نظر آرہی ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أحزاب کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا:جاؤ اس قوم کی خبر لیکر آؤ،لیکن ہاں  انہیں میرے خلاف ورغلا مت دینا ۔یعنی کہ :انہیں اپنے کسی عمل سے خائف نہ کردینا کہ وہ تجھے جان لیں اور ہمارے اوپر چڑھائی کردیں۔جب وہ اس قوم کے پاس آئے تو ان کی نظر ابو سفیان پر پڑی جو مشرکین کا قائد تھا،وہ اپنی پشت سیک رہا تھا،صحابی کہتے ہیں کہ میں نے تیر کمان میں ڈال کر نشانہ سادھ لیا ، لیکن اتنے میں مجھے آپ کی بات یاد آگئی کہ :انہیں بھڑکانا نہیں۔حالانکہ اگر میں تیر آزماتا تو نشانہ نہیں چوکتا۔مسلم
اللہ کی اطاعت گزار صحابیات:
مؤمن عورتوں نے بھی اللہ کی اطاعت میں سبقت کی ،ہاجر علیہا السلام نے اللہ پر بھروسہ کیااور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی،اور بے آب وگیاہ سرزمین پر بھی سکونت اختیار کرنے میں ذرا تامل نہ کیا ،جبکہ اس وقت مکہ میں کسی فرد بشر کا وجود تک نہیں تھا،بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ہلاکت وتباہی کے سپرد کردیا،لیکن انکی یہ بات توکل علی اللہ کی خوبی اجاگر کرتی ہے جوانہوں نے اپنے شوہر نامدار حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کرتے ہوئے کہاکہ :کیا اللہ نے آپ کو  اس کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں،اس پر وہ بول پڑی :تب تو وہ ہمیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔بخاری
صحابیات کا حجاب اور پردہ سے محبت:
جس وقت پردے کی فرضیت نازل ہوئی اس وقت صحابیات کے پاس حجاب کے لئے کپڑے نہیں تھے،انہوں نے حکم الہی کی بجا آوری میں اپنے کپڑے پھاڑ کر چہرے ڈھک لئے ،اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:اللہ پہلی پہلی ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں"تو انہوں نے اپنے ازار کے زائد حصے پھاڑ کر اوڑھنیاں بنا لیں۔بخاری
سب سے کا مل انسان:
اللہ ورسول کی اطاعت در اصل شہادتین کی بجا آوری اور بندگی کی تکمیل کا اشاریہ ہے،اگر اللہ کا کوئی حکم آپ کے گوش گزار ہوتا ہے توآپ خوشی خوشی اسے بجالائیں،اگر کسی چیزسے آپ کو روکا جاتا ہے تو آپ اس یقین کے ساتھ اس سے باز رہیں کہ اس میں کوئی نہ کوئی نقصان ہے،اور اپنے اس عمل سے خالق کائنات کی خوشنودی کے طلب گار رہیں۔
لوگوں میں سب سے مکمل زندگی والا انسان وہی ہے جس کے اندر تابعداری اور فرمانبرداری کا جذبہ سب سے زیادہ ہو،جس کے اندر تابعداری کی تھوڑی کمی آئی ،اس کے اندر اسی کے بہ قدر زندگی سے محرومی بھی آتی ہے،جس نے اللہ کی اطاعت سے انحراف برتا ،وہ غیر اللہ کی بندگی میں پڑگیااور ذلیل ہوگیا۔
اللہ کی معصیت کے آثار:
اللہ نے اپنی نافرمانی سے ڈرایا ہے اور کہا ہے کہ :وہ لوگ جو اللہ کے حکم سے منہ موڑتے ہیں ،انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں انہیں کوئی فتنہ آگھیرے یا وہ دردناک عذاب میں مبتلا کردئے جائیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ :میں کوئی بھی ایسا عمل ترک کرنے والا نہیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا کرتے تھے ،مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے کوئی بھی ایسا عمل ترک کردیا تومیں گمراہ ہوجاؤں گا۔متفق علیہ
اطاعت میں سستی:
اطاعت وفرمانبرداری اور عبادت گزاری میں سستی کمال  تابعداری کے منافی ہے،جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر کسی اور کی بات کو مقدم کیا وہ آپ کا پیروکار نہیں ہو سکتا،آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت دخول جنت سے سرفراز ہوگی سوائے ان کے جنہوں نے انکار اور اعراض کیا،صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہ اعراض کرنے والے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا:جس نے میری مانی اور میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا،اور جس نے میری نہیں سنی اور میری نافرمانی کی اس نے اعراض برتا۔بخاری
اعراض برتنے والاکل قیامت کے دن یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جاتا کہ اللہ ورسول کی اطاعت کرسکے،اور یہ آرزو کرے گا کہ زمین کی ساری ملکیت اور اس کے ہم مثل اور بھی خزانے دیکر عذاب وعقاب سے نجات پالے :والذین لم یستجیبوا لہ لوأن لھم مافی الأرض جمیعا ومثلہ معہ لافتدوا بہ " جن لوگوں نے اپنے  رب کی حکم برداری نہیں کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وہ سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ الہی ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار،متبع اور پیروکار بنادے ۔آمین
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد،وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔



آرزو نفع بخش کی



از: فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر       ترجمہ :سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی

الحمد للہ رب العالمین،وأشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ،وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ صلی اللہ وسلم علیہ وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
اللھم علمنا ما ینفعنا وانفعنا بما علمتنا وزدنا علما،واجعل مانتعلمہ حجۃ لنا لا علینا یا ذا الجلال والاکرام۔
اے اللہ ! ہمیں علم نافع عطا فرمااور جو علم تونے ہمیں دیا ہے اسے ہمارے لئے مفید بناکر ہمیں اور علم سے نواز،اے صاحب عزت وجلال ! ہم جو علم حاصل کرتے ہیں اسے ہمارے حق میں حجت بنادے نہ یہ کہ وہ ہمارے خلاف حجت ہوجائے ۔
ثم أما بعد:
میرے معزز بھائیو! آج ہماری گفتگو کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ:جو چیز آپ کے لئے مفید ہو،اسی کا آرزو مند رہیں اور اللہ سے مدد کے خاستگار رہیں‘‘ یہ در اصل اس حدیث کا ایک جملہ ہے جسے امام مسلم نے اپنے صحیح میںحضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مضبوط اور طاقت ور مؤمن اللہ کے نزدیک کمزور اور ناتواں مؤمن سے زیادہ محبوب ہے،ہر چیز کے اندر خیر وبھلائی ہے،نفع بخش چیزوں کے حریص رہو ،اللہ سے مدد مانگتے رہو اوربے کار و عاجز مت بیٹھ رہو،اگر کوئی نا گوار چیز لاحق ہو جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایساہوتا ،بلکہ یہ کہو کہ اللہ نے مقدر کیا اور اس کی جو مشیئت تھی ،وہ کیا،اس لئے کہ اگر مگر سے شیطانی عمل کا دروازہ کھلتا ہے۔  
اہل علم نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث نہایت جامع کلمات،بڑے بڑے اصول وقواعد اور بیش بہا فوائد پر مشتمل ہے۔لیکن ہماری گفتگو کا محور حدیث کا یہ ٹکڑا ہے: احرص علی ما ینفعک واستعن باللہ‘‘ جو کہ حد درجہ جامع ،مفید اور نفع بخش بات ہے،اس کے اندر بندے کے لئے دونوں جہان کی سعادت مخفی ہے،کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے عظیم اصول اور مضبوط بنیادوںکی رہنمائی فرمائی ہے کہ جن کے بغیر دنیا وآخرت کی کوئی بھی کامیابی نہیں مل سکتی :
پہلی بات: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کہ:اپنے لئے نفع بخش چیزکا آرزو مند رہو"اس کے اندر اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ انسان ہر اس عمل کے لئے جد وجہد کرے جو اس کے لئے دین ودنیا میں نفع کا باعث ہو۔ 
دوسری بات:آپ کا یہ فرمان:استعن باللہ‘‘ کہ اللہ سے مدد طلب کرتے رہو" اس کے اندر اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ صرف اسباب پرہی بھروسہ اوراعتما د نہ کیا جائے،بلکہ  پورابھروسہ اور توکل صرف اللہ کی ذات سے وابستہ ہو ،اور اسی سے مدد ،توفیق اور راست روی اور کایمابی کا سوال کیا جائے۔
آپ کا یہ ارشاد کہ : اپنے لئے مفید چیزوں کے حریص رہو‘‘ اس میں جن نفع بخش چیزوں کی  چاہت اورآرزو رکھنے کی رغبت دلائی گئی ہے،ان میں دینی امور کے ساتھ دنیاوی امور بھی شامل ہیں۔اس لئے کہ جس طرح ایک بندے کو دینی امور سے سابقہ رہتا ہے اسی طرح اسے دنیاوی امور کی بھی ضرورت پڑتی ہے، اسی لئے آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے دین اور دنیا ہردو سے متعلق مفید امور کی چاہت اورطلب رکھنے کی رہنمائی کی ہے،نیزاس کا بھی حکم دیا ہے کہ چاہت اور طلب کے ساتھ ساتھ اسے حاصل کرنے کے لئے اسباب بھی اپنائے جائیں اور بڑے بڑے مقاصد کے حصول کے لئے جو درست اور مناسب طریقے ہوا کرتے ہیں ،ان پر پوری تندہی کے ساتھ چلا جائے ،اور اس پورے سفر میں اللہ ہی سے لو لگایا جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے،اس لئے کہ بندے کی اپنی کوئی بساط نہیں،ساری قوت اور تمکنت صرف اللہ کی ذات کے لئے زیبا ہے۔اللہ جو چاہتا ہے،وہی ہوتا ہےاور جو اللہ کی مشیئت میں نہ ہو،وہ وجود میں نہیں آسکتا۔
دین سے متعلق مفید امور کا دارومدر دو بڑی بنیادوں پرہے: ایک علم نافع اور دوسرا عمل صالح:ھو الذی أرسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون" توبہ:33
ہدایت سے مراد علم نا فع او ردین حق سے مراد عمل صالح ہے،علم نافع اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت سے حاصل ہوتا ہے،وہ ایسا علم ہے جو دلوں کو پاک کرتا،نفس کی اصلاح کرتا،اور دنیا و آخرت کی سعادت عطا کرتا ہے۔علم نافع کے حصول کے لئے انسان جد وجہد کرتا ہے،اور ہر دن علم نافع کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ کوئی بھی دن ایسا گزرے کہ جس میں علم نافع سے اس کی ذات محروم رہی ہو،ہمارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا کیا کرتے :اللھم انی أسألک علما نافعا،ورزقا طیبا،وعملا متقبلا" اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم،حلال روزی اور قابل قبول عمل کا طلب گار ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی زندگی کا ایک اہم مقصد علم نافع کی تحصیل ہے۔کسی بھی مسلمان کو یہ زیبا نہیں کہ خود کو کسی بھی دن اس علم سے محروم رکھے،اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کو علم نافع کی طلب لئے ایک پروگرام مرتب کرنا چاہئے تاکہ ہر روز بلا ناغہ اسے کچھ نہ کچھ حاصل ہوتا رہے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اور کوئی بھی دن بغیر اس کے نہ گزارے ۔
اس کے بعد عمل کے لئے کوششیں کرے،عمل ہی علم کا اصل مقصد ہے،اس بارے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقو ل ہے کہ:عمل سے ہی علم کا پتہ چلتا ہے،اگر علم پر عمل کیا گیا تو علم باقی رہتا ہے ورنہ رخصت ہو جاتا ہے۔اسی وجہ سے اس طرح کے بعض اعمال کی حرص ضرور رکھنی چاہئے جن سے اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے۔اس سلسلے میں سب سے اہم فرائض وواجبات کا اہتمام ہے،حدیث قدسی ہے کہ:بندہ جن عبادتوں کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے،ان میں سب سے زیادہ محبوب فرائض ہیں" صاحب ایمان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے شب وروز فرائض اورواجبات کی لاپرواہی کے ساتھ گزر رہے ہوں۔بلکہ اسے ہمیشہ دین کے فرائض اور اسلام کے واجبات کے سلسلے میں سنجیدہ اور فکر مند رہنا چاہئے ۔ساتھ ہی محرما ت سے احتراز کرنا اور گناہوں سے دور رہنا بھی ضروری ہے تاکہ اللہ کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے اور رب کی رضا وخوشنودی کی طلب اور اس کے عذاب وعقاب سے بچنے کا راستہ بھی ہموار ہو سکے۔
جہاں تک دنیوی منفعت کی بات ہے تو حدیث میں اس کی طلب کی بھی رغبت موجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد کہ : اپنے لئے نفع بخش چیزکا آرزو مند رہو"اس کے اندر اللہ سے قریب کرنے والے اعمال اور دینی معاملات میں فائدہ پہنچانے والے امور کے ساتھ دنیوی امور کے وہ گوشے بھی شامل ہیں جو بندے کے لئے مفید ہیں۔بندہ کو ان دنیوی ضروریات سے کوئی مفر نہیں جو اس کے دینی مصالح اور مقاصد کی تکمیل کی لئے اسباب کا درجہ رکھتے ہیں۔چنانچہ اسے ان دنیوی امور کابھی خیال رکھنا چاہئے لیکن ایسا نہ ہو کہ دنیا سے اس کی وابستگی اس کے مقصد تخلیق پر فائق ہوجائے جو دراصل اللہ کی عبادت اور بندگی بجا لانا ہے،اللہ کا ارشاد ہے:وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" الذاریات- میں نے انس وجن کو صرف اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا کیا۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے جوامع الکلم میں شمار ہوتی ہے،اس کے اندر بڑے بڑے فوائد اور عظیم رہنمائیاں موجود ہیں جن سے کوئی بھی مسلمان اپنے دینی اور دنیوی ہر دومعالمات میں بے نیاز نہیں رہ سکتا ۔
اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ میرے اور آپ کے دین کو سنوار دے جو ہمارے معاملات کا محافظ ہے،ہماری دنیا کوسنوار دے جس میں ہماری معیشت اور رزق رکھی گئی ہے،ہماری آخرت سنوار دے جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے،اورہماری زندگی کو ہمارے لئے ہر طرح کی بھلائی اور موت کو ہر طرح کی برائی سے راحت کا سامان بنادے۔اللہ کی ذات بابرکات او ربلندوبالا ہے،وہ دعائوں کو سننے والاہے،اسی سے امیدیں رکھی جاتی ہیں ،وہ ہمارے لئے کافی ہے اوروہی بہتر پالنہار ہے۔

واللہ تعالی أعلم ،وصلی اللہ وسلم علی عبدہ ورسولہ نبینا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین۔

الجمعة، يونيو 03، 2016

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا : بیٹے ! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے ، پہلے خوف کی کیفیت تھی ، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی ۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے !!!
انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں ۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے ۔ بچپن کو ہم معصومیت ، الھڑپن ، لاپروائی ، بے ریائی ، صدق ،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں ۔ شعراء ، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟
جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی
بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے ، مصلحتیں ، حکمتیں ، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں ، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے ۔ منور رانا کا شعر ہے ۔
میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس ، سوال کرنے کی للک ، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا ، بچپنہ تو امنگ ، تخلیقیت ، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں ، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں ، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں ، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں ، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا ۔
مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا ، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا ، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں ، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے ۔
ابو !
ہاں بیٹے !
یہ گھر ہے ؟
 ہاں بیٹے !
اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے ؟
بھینس ہے بیٹا !
بھینس ایسا ہوتا ہے ؟
ہاں بیٹے !
اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے ؟
وہ گدھا ہے بیٹا !
ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے ؟
بیٹے ! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے !
اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں
نہیں بیٹا ! وہ تو آپ کے انکل ہیں
پر ہیں تو وہ کالے !
  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں ، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے ۔
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے " انما شفاء العی السوال " نہ آئے تو پوچھنا چاہیے ، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں ، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے ، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں ، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے ، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں ، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا ۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے " کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ "  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں ، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے ۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے ، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں ، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے ۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے !
مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
راجیش ریڈی
اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی ، امنگوں کے پرندے تھے ، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا ، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی ، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے ۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے
بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں
چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں ، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں ، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے ، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے ۔ ندا فاضلی کا شعر ہے ۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں ، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں ۔