الثلاثاء، أبريل 15، 2014

غزل

ساگرتیمی

وفا پرست جفاؤں کی زد میں آئیگا
چراغ ہے تو ہواؤں کی زد میں آئیگا
تجھے خبر ہے معالج بھی کاروباری ہے
مریض شخص دواؤں کی زد میں آئيگا
غریب آنکھوں میں حسرت بھری ہوئي ہے بہت
امیر اب کہ بلاؤں کی زد میں آئیگا
تجھے ہے ظلم سے لڑنے کا عارضہ لاحق
تو دیکھ لینا خداؤں کی زد میں آئیگا
اسے بھروسہ ہے قسمت پہ ، شک کا بندہ ہے
مجھے خبر ہے " دعاؤں " کی زد میں آئیگا
بہت حسین ہیں آنکھیں کسی کے چہرے پر
نہ دیکھ ورنہ اداؤں  کی زد میں آئیگا
مجھے یقین ہے ساگر خدا کی ہستی پر
جفا پرست جفاؤں کی زد میں آئیگا



غیر علماء دعاۃ


ثناءاللہ صادق تیمی
 جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی  110067

        تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ علماء اسلام کے شانہ بشانہ اور دوسرے مسلمانوں نے بھی انجام  د یا ہے ۔ اسلام کے شروعاتی دور کو نگاہوں میں رکھا جائے تو اس میں تاجر حضرات کا زیادہ ہی کردار نظر آئیگا ۔ یوں بھی اسلام ان معنوں ميں کوئی فلسفہ یا تھیوری نہیں جن معنوں میں فلسفہ اور منطق کو سمجھا جاتا ہے ۔ اسلام توکارآمد زندگی  جینے ، آخرت سنوارنے اور بہتر اخلاق و کردار کے ساتھ امن و عافیت کی راہ پر چلتے ہوئے اللہ رب العزت کے مطابق اس ادھار  کی زندگی کو بتانے سے عبارت ہے ۔ یہ زندگی کا وہ دستور ہے جو انسان کو اندر سے مخلص اور باہر سے باعمل بناتا ہے ۔ جو انسان کے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرتا ہے ۔ خدمت خلق پر ابھارتا ہے ۔ صرف ایک اللہ کی پرستش کی دعوت دیتا ہے ۔ ظلم کو ملیامیٹ کرنے اور انصاف کو قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ زندگی کے ہر معاملے میں خوف خدا سے دامن بھرے رکھنے اور مفاد پرستی سے روکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ماننے والے تجارت پیشہ افراد جہاں جہاں گئے لوگوں نے ان کو دیکھ کر اسلام قبول کر لیا ۔ باعمل مسلمانوں کو دیکھ جن میں علماء اور غیرعلماء سب شامل تھے ، لوگوں نے اللہ کے اس پیغام کو قبول کیا اور دنیا و آخرت کی سعادت سے ہمکنار ہو ئے ۔
        غیر عملماء دعاۃ کی تاریخ بہت بھرپور اور زبردست ہے ۔ اس میں در اصل اس اسلامی تربیت کا اچھا خاصا حصہ رہا ہے جو عام طور پر مسلمان بچوں  کو ان کے گھروں میں ملتی  رہی ہے ۔ دعوت کے علاوہ بھی اسلامی علوم کی ترویج واشاعت میں غیر علماء افراد کا کردار روشن رہا ہے ۔ آج کی اس سائنٹفک دنیا میں جسے بجاطور پر نالج اکسپلوزن کا دور بھی کہا جاتا ہے ، اس طرف آکر غیر علماء افراد کی دلچسپی نہ صرف یہ کہ اسلامی علوم اور اسلامی تعلیمات کی طرف بڑھی ہے بلکہ ان کے اندر دعوت اسلامی کا جذبہ بھی پروان چڑھا ہے ۔ مختلف ملکوں میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو باضابطہ علماء نہیں ہيں لیکن جن کے اندر اسلامی علوم اوردعوت کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے ۔ انتہا پسند ، کم فہم اور کم ظرف قسم کے بعض علماء کی جانب سے ان کی  مخالفت بھی ہورہی ہے جو ظا ہر ہے کہ اپنی ناجائز چودھراہٹ کے ختم ہو جانے کے اندیشے سے پریشان ہيں ۔ اس سلسلے میں بعض باشعور علماء کا کردار بلاشبہ قابل صد ستائش ہے کہ انہوں نے ان کا خیر مقدم بھی کیا ہے اور انہیں کام کی سنگینی سے بھی باخبر کیا ہے اور ساتھ ہی  سنجیدگی اور متانت اپنانے کی تلقین کی بھی  ہے ۔
            ذاتی طور پر مجھے دہلی میں اس دعوت سے جڑے بہت سے نوجوان مسلمانوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملا ہے ۔ ان کے اندر شدید تڑپ ، گہرا احساس ، بھرپور اخلاص اور کام کرنے کا انتھک رویہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ اللہ کے یہ بندے ہر اتوار کو مختلف پارکوں ، بازاروں اور دوسرے عوامی جگہوں کا دورہ کرکے قرآن حکیم اور احادیث کی کتابوں کی تقسیم کے ذریعے مسلم اور غیر مسلم حضرات تک صحیح اسلام پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اسٹریٹ دعوت کا یہ نظریہ انتہائي درجے میں کارگر اور مفید ہے ۔ انفرادی ملاقاتوں ، بات چيت اور گفتگو سے وہ مدعو کے مسئلہ کو بھی سمجھتے ہیں اور انہيں سمجھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور ماشاءاللہ کامیابی بھی پاتے ہیں ۔ ان کا نیٹ ورک آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے ۔ اللہ کا دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے اور ماشاءاللہ توحید کی دعوت عام ہورہی ہے ۔ بہت سے پڑھے لکھے لوگ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ جیسے ذرائع کا استعمال کرکے یہ فریضہ بحسن و خوبی انجام دے رہے ہيں ۔ ان کی باتیں ایک ایک گھرمیں پہنچ رہی ہیں اور خوب اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ بعض علماء ان کی بعض نادانیوں اور فروگذاشتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے خلاف محاذ کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ ایسےلوگوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ اپنا کام لینے والا ہے لےہی لے گا ۔ آپ جب اس کام کے لیے اخلاص کے ساتھ میدان میں نہیں آئينگے تو اللہ کسی  نہ کسی سے تو یہ کام لے گا ہی اور وہ لے رہا ہے ۔ بلاوجہ کی مخالفت کرکے اپنی عاقبت بگاڑنے کا کام نہ کریں ۔ جہاں جہاں غلطی نظر آئے وہاں ناصحانہ تنبیہ کی  ضرورت بھی ہے اور یہ آپ کا فریضہ بھی  ہے ۔
       دعوت سے جڑے ہمارے ان بھائیوں کو بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وہ بھی بہر حال علماء نہیں ہیں اس لیے خا ص طور سے فتوی وغیرہ کا بوجھ اپنے کاندھوں پر نہ لیں اور صالح اور صاحب علم علماء کی نگرانی ہی میں دعوت کی یہ ذمہ داری ادا کریں ۔ یہ نوجوان بڑا اثاثہ ہيں ۔ اگر ان کی صحیح تربیت ہو جائے تو یہ روایتی علماء سے زیادہ دعوت کا کام کرسکتےہیں ۔ اس لیے کہ ان کی رسائی بھی روایتی علماء سے کہيں زیادہ ہے ۔ اللہ ہمیں بہتر توفیق دے  ۔ آمین

الأحد، أبريل 13، 2014

نیک مطلب بے وقوف


ثناءاللہ صادق تیمی
 جواہرلال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی 110067

       ہمارے دوست بے نام خاں ایک ایک پر ایک تھیوری اور فلسفہ دیتے رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ انہيں بھی تھیوری باز کا لقب دے دیا جائے لیکن وہ اپنے لیے خود ہی اتنے القاب و آداب استعمال کرتے رہتے ہیں کہ ایسا کرنے کا کوئی مطلب بھی نہیں بن پاتا ۔ ہمارے دوست کے حساب سے تھیوری بنانے ، پیدا کرنے میں انہيں جتنی دقتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ان سے کہیں زیادہ انہیں منوانے کے لیے  پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ حالانکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ تھیوری پیدا کرنا آسان ہے لیکن تھیوری کو تھیوری کی حیثيت سے منوا لینا آسان نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو اگر کوئي تم سے بات کرتے ہوئے کہے کہ آپ بہت سمجھدار آدمی ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ وہ تمہیں ہوشیار سمجھ رہا ہے ۔ پھر وہ سمجھدار اور ہوشیار کا فرق بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سمجھدار آدمی بس سمجھدار ہوتا ہے ۔ وہ چیزوں کو صحیح طریقے سے سمجھتا ہے اور غلط سلط رویے نہیں اپناتا ۔ ایسا آدمی اصلا شریف بھی ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس ہوشیار آدمی کے اندر منافقت اور چاپلوسی کے عناصر پائے جاتے ہیں ۔  وہ معاملہ فہم تو ہوتا ہے لیکن اس کا استعمال عموما غلط طریقے سے اپنے مفاد کے حصول کے لیے کرتا ہے ۔ ایسا آدمی بالعموم شرافت کی نعمت سے محروم ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی بات کرتے ہوئے تم سے کہے کہ آپ کے اندر سیاسی سوجھ بوجھ پائي جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آدمی تمہیں مکمل معنوں میں چالباز ، ذلیل اور بے ہودہ سمجھ رہا ہے ۔ اگر وہ زیادہ پڑھا لکھا نہ ہو تو تمہيں کہے گا کہ آپ تو سیاسی آدمی ہیں ۔ اور اس طرح تم ناراض ہو سکتے ہو لیکن پڑھا لکھا آدمی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تمہیں اس طرح بے وقوف بناتا ہے کہ بات بھی بن جائے اور بد مزگی بھی نہ ہو ۔ یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ میرے بھائی آج کی دنیا استعاروں پہ ہی چل رہی ہے ۔ اور یوں بھی پڑھا لکھا ہونے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ آدمی غلط سلط چیزوں کو تہذیب سے رکھنا سیکھ جاتا ہے ۔ مہذب انداز میں جھوٹ بولنے کا ہنر جان لیتا ہے ۔ گالی گلوج میں اعتدال و توازن پیدا کرلیتا ہے اور عام فہم الفاظ کی جگہ زیادہ نوکیلے لیکن زرا دیر سے سمجھ میں آنے والے الفاظ استعمال کرنے لگتا ہے ۔ غالب کو جب ذوق سے چھیڑ کرنی تھی تو انہوں نے اپنی لیاقت کا کتنا صحیح فائدہ اٹھایا ۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
کہا جاتا ہے کہ جب سراج الدولہ کے پاس اس کے قتل کا فرمان آیا تو اس نے بڑے ہی اعتماد کے عالم میں پڑھا تھا ۔
لاؤ تو قتل نامہ ذرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئي
سراج الدولہ کا واقعہ تو خیر بہادری ، جوانمردی اور شجاعت و بسالت کا غماز ہے لیکن تاریخ میں استعاروں کے استعمال کے ایک پر ایک نمونے ملتے ہیں ۔ پہلے زمانے میں بادشاہوں ، جابر حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کے خلاف آواز اٹھانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ ایسے میں پڑھے لکھے لوگ استعاروں کا ہی استعمال کرتے تھے اور وہ انسانوں کی بجائے جانوروں کے استعاروں سے کام لیتے تھے ۔ جنگلات اور جانوروں کے کرداروں کے ذریعے سماج کی تصویر کشی کی جاتی تھی اور اس طرح بادشاہ وقت کو نصیحت کرنے کا فریضہ انجام دیا جاتا تھا۔ عربی زبان و ادب کی شاہکار تصنیف کلیلہ دمنہ اسی سلسلے کی روشن اور مضبوط کڑی ہے ۔ یہ کتاب اصلا سنسکرت سے فارسی اور فارسی سے عربی میں منتقل کی گئی ہے لیکن کمال کا اسلوب ہے اس کتاب کا ۔ کبھی پرانی ہونے والی نہیں ۔ عباسی دور کی یادگار ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ عربی ہندوستانی ادیب مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اس کتاب کو کئی ایک بار پڑھا تھا ۔ خیر یہ باتیں تو از راہ تذکرہ آگئیں ورنہ یہ سچ ہے کہ جو سماج جتنا تعلیم یافتہ اور مہذب ہوتا جائیگا اس کے اندر استعاروں کا نظام اتنا ہی زیادہ مستحکم ہوتا جائیگا ۔ در اصل تعلیم و تہذیب کے بعد بولنا اتنا آسان نہيں ہوتا ۔ سوچنا پڑتا ہے بولنے کے لیے ۔ آدمی اگر پڑھا لکھا اور باشعور نہ ہو تو وہ بغیر سوچے بولتا ہے اس لیے بھر مطلب بولتا ہے ۔ پڑھنے لکھنے کے بعد عام طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ انسان بولے گا تبھی جب تول چکا ہوگا ۔ اسی لیے زیادہ پڑھے لکھے لوگ عام طور سے تقریر نہیں کرپاتے اور معمولی لوگ خوب تقریریں کرتے ہیں ۔ زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی جب زیادہ بولنے لگتے ہیں تو لوگ انہيں جاہلوں کی صف میں ہی رکھ کر دیکھنے لگتے ہیں ۔ اور کمال یہ ہے کہ زیادہ بولنے والے پڑھے لکھے لوگ بھی اول فول ہی بکتے ہیں ۔ اسی لیے کبھی کبھی جاہل لوگ بھی کم بولنے کی عادت ڈال کر اپنے آپ کو دانشمندوں کے زمرے میں رکھوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ یونیورسٹیز کے اندر بعض اساتذہ بھی اسی فارمولے پر عمل کرتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ خاصے کامیاب بھی  ہوتے ہیں ۔
خامشی چھپاتی ہے عیب اور ہنر دونوں
شخصیت کا اندازہ گفتگو سے ہوتا ہے
ایک معروف یونیورسٹی کے صدر شعبہ کے بارے ميں یہ بات خاصی مشہور تھی کہ تقریری امتحانات میں وہ کچھ بولتے ہی نہیں تھے اور اگر کہیں کوئی بات بحث میں آگئي تو وقفے وقفے سے صرف سراٹھا کر مسکرالیتے تھے ۔ اور جب ایک بار بولنے کی مجبوری آگئي تو ان کے شاگردوں کو بہت تکلیف ہوئي کہ سر کو کیوں بولنے پر مجبور کیا گیا جب سر کی مرضی نہیں تھی ۔ ایسے یہ وہ شاگردان تھے جو ان کی جی حضوری کے ذریعے کسی نہ کسی طرح پروفیسرشپ کے متمنی تھے ۔ ورنہ بقیہ طلبہ اور اساتذہ تو مزے میں تھے ۔ یوں بھی بڑے لوگوں کی چوری پکڑ لینے کے بعد چھوٹے لوگ مزہ لینے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں ۔
       ہمارے دوست نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں اگر تمہیں کوئي یہ کہے کہ آپ بہت نیک آدمی ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ آپ بے وقوف ہیں ۔ آپ کو ٹھگا جاسکتا ہے ۔ آپ کے اندر چونکہ معاملہ فہمی نہيں ہے اس لیے اللہ والے بنے ہوئے ہیں ۔ موقع نہيں ملا اس لیے پارسا ہیں ۔ دماغ نہيں کہ کچھ قابل ذکر کارنامہ انجام دے سکیں اس لیے شرافت اور نیکی کا بت ڈھوکر اپنے آپ کو کسی طرح تسلی دینے کی کوشش کررہے ہيں ۔ جو آدمی تمہيں نیک کہ کر تمہاری تعریف کرتا ہے تمہارے پاس سے جب اٹھتا ہے تو سب سے پہلے وہ تمہيں گالی دیتے ہوئے بیوقوف ہی کہتا ہے ۔ اب پچھلے دنوں کی بات ہی کو دیکھ لو ہمارے دوست ہیں ایک مولانا ۔ ان سے لاکھ کہا کہ اپنے بیٹے کی شادی میں کچھ نہ کچھ ڈیمانڈ ضرور رکھیں ۔ لیکن ان کی نیکی ان کے آڑے ہاتھوں آگئی اور اب بے چارے رونا روہے ہيں ۔ سارا سماج ان پر تھو تھو کر رہا ہے اور بے چارے چہرہ چھپائے پھر رہے ہیں ۔ ڈیمانڈ کیا ہوتا تو کم از کم دوچار لاکھ تو مل ہی جاتا ۔ لڑکی والے بات کرتے ہوئے کہ رہے تھے کہ بے وقوف بنا دیا ۔ ایک مرتبہ ہمیں اپنے ایک شناسا کے کاموں میں خلوص و للہیت اور افادیت کی حصہ داری نظر آئی اور ہم  نے انہیں خوش کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا کہ بھائی آپ تو ماشاءاللہ کافی نیک ہیں ۔ میرا یہ کہنا تھا کہ وہ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ سے ایسی توقع نہيں تھی ۔ میں نے کہا کہ لیکن میں نے تو کچھ ایسا غلط نہیں کہا ۔ دل نے جو محسوس کیا زبان نے ایمانداری سے ادا کردیا۔ اس پر وہ اور ناراض ہوگئے اور کہا : اس کا مطلب آپ مجھے دل سے بے وقوف سمجھتے ہیں ؟  سماج میں نیک کا مطلب بے وقوف ہی ہوتا ہے اسی لیے جس کو موقع ملتا ہے وہی اپنے حساب سے نیک آدمی کو دانشورانہ مشورہ دے ڈالتا ہے ۔ نیک آدمی کو صرف بے وقوف سمجھا جائے تو چلو چلے بھی لوگ ایسے لوگوں کو کمزور بھی کم نہیں سمجھتے ۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی ایسا کرکے آدمی گھاٹے کا سودا بھی کرتا ہے ۔ اصل میں کچھ لوگ جو نیک نہیں ہوتے ہیں وہ بھی نیکوں والی صورت بنا کر لوگوں کو الٹا دھوکہ دیتے ہیں ۔ میرے بھائی نیک ہونے کا یہ معاملہ ہر طرح سے پیچیدہ ہے ۔ اسی لیے نہ تو ہم نیک ہیں اور نہ کسی کو نیک ہونے یا بننے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ آپ کو اگر نیک بلفظ دیگر بے وقوف بننا ہے تو آگے آپ کی مرضی ۔ ہمارے مدرسے کے  زمانے میں کسی طالب علم کے نیک ہونے کا مطلب بے وقوف ہی ہوتا تھا ۔ ایک مرتبہ ہمارے ایک دوست اپنا سارا سامان ایک مسافر کے حوالہ کرکے ٹکٹ لینے گئے ۔ واپس آئے تو مسافر اپنے سفر پر نکل چکے تھے ۔ ہمارے دوست مدرسہ پہنچے تو انہوں نے اپنا واقعہ بتلاتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ  اسی درمیان اس مسافر کی ٹرین آگئی ہوگی اور اس  بے چارے نے  ٹرین پکڑ لیا ہوگا ۔ ہم تمام لوگوں نے ان کی اعلا ظرفی کو سلام نہیں کیا تھا جناب ۔ ہم کہ رہے تھے کہ ہمارے دوست نیک ہیں اور ہم سب اس لفظ کا معنی بھی سمجھ رہے تھے ۔

الأربعاء، أبريل 09، 2014

شادی کارڈ (افسانہ)

رحمت کلیم امواوی
(جے این یو :9560878428)

میاں جاوید کی شادی پندرہ سال کی عمر ہی میں ان کے والد نے مولوی صغیر کی بیٹی بشری سے کردی تھی،شادی کے فوراً بعد میاں جاوید تعلیمی سفر روک کر ایک پرائیویٹ آفس میں نوکری کرنے لگے ،آفس میں انہوں نے منشی کے عہدے پر رہ کر اس ایمانداری کے ساتھ کام کیا کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہوگیا ،شادی کو تقریباً سات سال ہوگئے لیکن اب تک میاں جاوید اور بشری کی ازدواجی زندگی میں کوئی پھول نہیں کھل پایا تھا،جبکہ اولاد کی تمنا دونوں کے دلوں میں یکسا ں تھیں ،بشری پنچ وقتہ نماز کے ساتھ ساتھ تہجد بھی پڑھا کرتی تھی،اور اولاد جیسی نعمت عظمی کیلئے خوب دعا کیا کرتی تھی،میاں جاوید بھی عبادت گزار تھے اور اس امید کے ساتھ خوب خیر و خیرات کیا کرتے تھے کہ شاید اب اللہ ہم پر رحم فرماوے اور ہمارا کوئی وارث بنا دے۔
آفس میں حارث میاں جاوید کا سب سے قریبی دوست تھا،ایک دن میاں جاوید نے اپنا سارا درد حارث کے گوش گذار کردی،پھر حارث نے میاں جاوید کو مشورةً کہا کہ اجمیر شریف کا ایک بار دورہ کرلو شاید اس وسیلے سے کوئی فائدہ ہو جائے۔اولاد کی لالچ میںپاگل میاں جاوید دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ ایک بار اجمیر شریف کی زیارت کر کے دیکھتے ہیں ۔آفس سے ایک ہفتے کی چھٹی لیکر میاں جاوید اپنی اہلیہ کے ہمراہ اجمیر شریف تشریف لے گئے،دونوں نے وہاں خوب منتیں مانیں ،مرادیں پوری کرنے کی دعا مانگیں،اجمیر شریف میں عقیدتمندوں کے جم غفیر کی بیتابی دیکھ میاں جاوید اور بشری کے دلوں کو کچھ اطمینان ہوا،اور دونوں امید بر آنے کا خواب دیکھنے لگے،اور اسی خواب کے عالم میں پورے دو سال گذر گئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا،اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
میاں جاوید جس آفس میں کام کر رہے تھے اس کی سالانہ قریب ہونے والی تھی اور اس میں کچھ پرانے ورکروں کو اعزاز بھی دیا جانا تھا،جس میں سے ایک میاں جاوید بھی تھے۔وقت معینہ پر میاں جاوید آفس پہنچے اور ایڈیٹوریم میں ایک کونے والی کرسی پر بیٹھ گئے،اعزازات کاسلسلہ شروع ہوا اور سب سے پہلے میاں جاوید کا ہی نام پکارا گیا،بیس ہزار کا ایک چیک اورایک ٹرافی گلدشتہ کے ساتھ میاں جاوید کے ہاتھ میں تھما یا جاتا ہے اور اسٹیج پر ہی لگے کرسی پر بیٹھنے کو کہا جاتا ہے،میاں جاوید کے بعد حارث کانام لیاجاتا ہے ،جب حارث اسٹیج پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس کی پانچ سالہ ننھی ،چنچل خوبصورت بیٹی زینب بھی انگلی پکڑے ساتھ ساتھ آتی ہے اور خوشی سے اچھل رہی ہوتی ہے،میاں جاوید کو یہ منظر کافی دلبرداشتہ کر دیتا ہے،اور وہ دل کے آنسوں اندر ہی اندر رونے لگتے ہیں جذبات پر قابو کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر ناکام ہوتے ہیں اور دونوں آنکھوں سے گرم گرم آنسو ں نکل پڑتے ہیں ،حاضرین معاملہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر میاں جاوید کو کیا ہوگیا،مشارکین میں میاں جاوید کے پڑوسی حاجی اکرام بھی تھے جو اسیٹیج کے بہت قریب آگے والی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے،انہوں نے سمجھ لیا کہ میاں جاوید کو کون سی چیز کی کمی کھل رہی ہے۔شام کو جب تقریب ختم ہوئی اور سارے لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے تو حاجی اکرام میاں جاوید کے گھر پہنچے،دروازے پے دستک دی ،اندرسے آواز آئی کون؟جواب دیا!اکرام،بشری دروازہ کھولی حاجی اکرام نے پوچھا میاں جاوید کہاں ہے؟بشری نے بتایا کہ آفس سے ابھی آئے ہیں ان کے سر میں درد ہے وہ سو رہے ہیں،حاجی اکرام نے کہا میرا نام لے کے کہیے کہ اکرام صاحب ملنا چاہتے ہیں،جب حاجی اکرام میاں جاوید کے پاس پہنچے تو علیک سلیک کے بعد میاں جاوید نے استفسار کیا کہ کیسے آنا ہوا حاجی صاحب؟میاں جاوید سے مخاطب ہوکر حاجی اکرام نے کہا کہ میاں جاوید شادی کو مکمل دس سال ہوگئے،اور اس دس سال میں اولاد کیلئے تم برابر پریشان رہے،کہاں کہاں کا سفر کیااور نہ جانے کتنے دربار کی خاک چھانیایک درد مند دل رکھنے والا انسان تمھاری پریشانیوں کو سمجھ سکتا ہے،میرا ایک مشورہ ہے شاید تمھارے کام آجائے اور کچھ بات بن جائے،ایک بار خانے کعبہ کی زیارت اور حج کے ارادے سے مکہ مکرمہ کا سفر کرلو،وہاں کی دنیا ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے،وہاں رات و دن اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں،وہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں اور دربار خداوندی میں اپنے مسائل پیش کرتے ہیںاور اللہ انہیں خاص رحم وکرم سے نوازتا ہے،تو بھی ایک بار جاکر دیکھ شاید رحمت خداوندی جوش میں آئے اور تمھاری زندگی میں خوشیاں ڈال دے۔حاجی اکرام کی بات میاں جاوید کے دل کو بھا گئی اور اس سلسلے میں بشری سے رائے لینی چاہی،بشری جو ماں بننے کیلئے اپنے جان کی بازی تک لگا سکتی تھی فوراً حامی بھردی،حج کا موسم آیا ،دونوں میاں بیوی امید و آرزو کا توشہ لیکر مکہ معظمہ تشریف لے گئے،اور انتہائی اہتمام کے ساتھ دونوں نے ارکان حج کی بجا آوری کیں۔میاں جاوید نے کبھی خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر رب العزت سے اولاد مانگی تو کبھی عرفات کے میدان میں دونوں ہاتھ اٹھائے گڑگڑاتے ہوئے بارگاہ الہی میں اپنی درخواشت پیش کی ۔بشری نے کبھی حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اولاد کو بوسہ دینے کی خواہیش کو اللہ کے نذر کی،تو کبھی صفا و مروہ پر سعی کرتے ہوئے حضرت ہاجرہ کے بیٹے جیسے نیک حلیم وبردبار بیٹے کی تمنا کو مالک دو جہاں سے پوری کرنے کی دعا مانگیحج کی مدت ختم ہوئی ،حجاج کرام اپنے اپنے گھر لوٹے ،میاں جاوید اور بشری بھی اپنے گھر لوٹ آئے،دونوں اندر ہی اندر خوش وخرم تھے اور پر امید بھی۔
حج سے واپسی کو سات ماہ ہو گئے تھے ،میاں جاوید دھیرے دھیرے امید کا دامن چھوڑنے لگے تھے،انہیں ایسا لگنے لگا تھا کہ اب انکا کوئی وارث نہیں ہوگا۔جمعہ کا دن تھا ،میاں جاوید نماز جمعہ پڑھ کے آئے اور آنگن میں کھاٹ ڈال کر دراز ہوگئے،بشری اچانک بیڈ روم سے نکلی اور باتھ روم کی طرف دوڑتے ہوئے گئی،میاں جاوید کھاٹ سے اٹھ بیٹھے،اور باتھ روم کی طرف جانے لگے باتھ روم میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ قے کرنے کی آواز سنائی دی،میاں جاوید فوراًپشت کی جانب ہوکر سر آسمان کی طرف اٹھائے باتھروم کی باہری دیوار سے لگ کھڑے ہوگئے اور دونوں مٹھی کو مضبوطی کے ساتھ باندھتے ہوئے دل ہی دل اللہ کا شکریہ بجا لایا،پھر بشری کو سنبھال کر آنگن میں لائے اور کھاٹ پر بیٹھا دیے۔اب دونوں کے آنکھوں میں ایک طرح کی چمک پیدا ہوگئی تھی،جبیں پے مسرت و شادمانی کے آثار لوٹ پوٹ کر رہے تھے،اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ ہولے ہولے مسکرا رہے تھے۔عصر کا وقت ہونے میں ابھی آدھہ گھنٹہ باقی تھا مگر میاں جاوید کھاٹ سے اٹھے اور وضو ءکرکے مسجد پہنچے پھر دو رکعت شکرانہ نماز ادا کی۔
ایک ماہ بعد بشری نے میکے جانے کا ارادہ ظاہر کیا ،میاں جاوید سوچنے لگے کہ اگر بشری اپنے میکے چلی جائےگی تو پھر میں کیسے رہ پاﺅں گا،بشری بھی اس بات کو سمجھ رہی تھی کہ میرے جانے کے بعد میاں جاوید کے کھان پان کا بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا،بشری کو ایک ترکیب سوجھی اس نے کہا کہ ایسا کریں حاجی اکرام سے اس سلسلے میں بات کر کے دیکھئے کہیں کچھ بات بن جائے،میاں جاوید نے جب حاجی اکرام سے بات کی تو حاجی اکرام نے کہا !میاں جاوید تم بھی کیا بات کرتے ہو،یہ بھی تمھارا ہی گھر ہے ،پوری آزادی کے ساتھ آﺅ ،جاﺅ،کھاﺅ،پیوبشری اپنے میکے چلی گئی اور میاں جاوید حاجی اکرام کے یہاں مستقل کھانا کھانے لگے۔
سموار کا دن تھا ،آفس میں میاں جاوید کو کچھ زیادہ ہی کام کرنے پر گئے تھے،جس کی وجہ سے گھر لوٹنے میں تاخیر ہوگئی،تھکے تھکائے میاں جاوید گھر لوٹے اور مغرب عشاءکی ایک ساتھ نماز پڑھ کر عشائیہ کیلئے حاجی اکرام کے یہاں تشریف لے گئے،کھاناکھاکر لوٹے اور سو گئے،تھکے ہوئے تھے اس لیے بستر پر جاتے ہی نیند آگئی۔رات کے دو بج رہے تھے،کہ میاں جاوید کے موبائل کی گھنٹی بجی ،میاں جاوید آنکھ بند کیے ہوئے ہی بستر پر ہاتھ گھما کر موبائل تلاش کی اور نیم آنکھوں سے اسکرین پر نمبر دیکھا ،نمبر میاں جاوید کی سالی یسری کاتھا،میاں جاوید فوراً اٹھ بیٹھے اور فون اٹھایا،آواز آئی !
ہیلو،جی جا جی :السلام علیکم 
میاں جاوید:وعلیکم السلام ورحمة اللہ
یسری:خیریت سے ہیں جی جا جی؟
میاں جاوید :میں تو ٹھیک ہوں ،پر آپ نے اتنی دیر رات فون کیا ،سب ٹھیک تو ہے؟
یسری:کیا ٹھیک رہے گا،کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے،اور یہ سب آپ ہی نے خراب کیا ہے۔
میاں جاوید :مطلب کچھ سمجھا نہیں،کچھ واضح انداز میں بتائیں گی؟
یسری:ہاں ضرور بتاﺅںگی،لیکن کسی کو آپ بتائیں گے نہیں تو؟
میاں جاوید :بالکل کسی سے نہیں بتاﺅں گا،آپ بتائیے۔
یسری:مبارک ہو آپ کو بیٹا ہوا ہے۔
میاں جاوید :اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے،لیکن بشری کیسی ہے؟
یسری:ہاں آپا ٹھیک ہیں،کوئی خاص پریشانی نہیں ہے،اچھا اب فون رکھتی ہوں جلدی آکر منہ میٹھا کروا دیجیے گا۔
میاں جاوید:ارے یہ بھی کوئی بات کہنے کی ہے ٹھیک ہےخدا حافظ۔
اس خوش خبری کے بعد میاںجاوید نے ایک لمبی سانس لی اور دل سے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔
بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اب کا ہے کو میاں جاوید کو نیند آئے،اس وقت سے فجر تک میاں جاوید جاگتی آنکھوں سے خواب سجانے لگے،اور خیالات کی دنیا میں غوطہ زن ہوگئے۔صبح جب ہوئی تو میاں جاوید فوراً میٹھائی کی دوکان پر پہنچے اور قیمتی میٹھائی لیے سب سے پہلے حاجی اکرام کے گھر پہنچے اور ان کا منہ میٹھ کیا ،حاجی اکرام نے میاں جاوید کو بدھائی دی اور بچے کی سلامتی کی دعاکی۔
سات دن بعد میاں جاوید نے دو موٹا وفربہ بکرے لاکر بیٹے کا عقیقہ کیا اور عندلیب نام رکھا،عندلیب کی پرورش اس کے والدین نے انتہائی لاڈ وپیار کے ساتھ کی،بشری مذہبی تعلیمات سے بہت حد تک آگاہ تھی،چونکہ وہ ایک اسلامی ادارے سے فارغ تھی،اور میاں جاوید عصری تعلیم کے نمائندہ تھے،اس لیے عندلیب کو دینی وعصری بنیادی تعلیمات گھر سے ہی مل گئیں۔عندلیب بڑا ہوا ،اعلی تعلیم کیلئے چھوٹے شہر سے بڑے شہر کا رخ کیا ،والدین بھی مجبور تھے،اوریہ مجبوری عندلیب کے روشن مستقبل کو لیکر تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں عندلیب دہلی آیا،اور ایک انجینئر نگ کالج میں داخلہ لے لیا۔عندلیب پڑھنے میں تیز تھا ،بہت کم وقت میں کلاس میں اپنی پہچان بنا لی ،عندلیب کے اخراجات میاں جاوید ہر ماہ وقت معینہ پر بھیجا کرتے تھے،اور اس امید وآس کو لیکر خوش تھے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا اور ہم انتہائی اہتمام کے ساتھ اس کی شادی کرکے گھر بسا دیںگے۔
کالج میں عندلیب یکے بعد دیگر کئی انعامات حاصل کرکے کلاس کے باہر بھی اپنی پہچان بنا لی۔عندلیب کے کلاس میں فاطمہ نام کی ایک لڑکی بھی تھی،وہ بھی کلاس کے اچھے اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی،فاطمہ ذہین کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی تھی،اس لیے عندلیب بہت جلد اس کی طرف مائل ہوگیا،اور فاطمہ بھی جلد عندلیب کے قریب ہوکر گرل فرینڈ بن گئی،اب دن بہ دن عندلیب کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا،جبکہ گھر میں عندلیب کے والد بلڈ پریشر کے شکار ہو گئے تھے اور وہ مسلسل بیمار چل رہے تھے جس کی وجہ سے آمدنی کا بیشتر حصہ میاں جاوید کے علاج و معالجہ میںصرف ہوجاتا تھا،لیکن اس کے باوجود والدین نے عندلیب کو کسی قسم کی پریشانی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
کالج میں عندلیب کا آخری سال تھا،امتحان قریب آچکا تھا،عندلیب اور فاطمہ دونوں مل جل کر امتحان کی تیاری کررہے تھے،امتحان ختم ہوا،اس کے بعد عندلیب نے ایک کمپنی میں انٹرویو دی اور بحالی ہوگئی،گھر فون کر کے ابو اور امی کو خوشخبری دی کہ میرا انجینئر نگ مکمل ہوگیا ہے اور مجھے ایک کمپنی میں نوکری بھی مل گئی ہے ۔میاں جاوید اور بشری دونوں بہت خوش تھے کہ بیٹا انجینئر بن گیا ہے۔اب اس کی شادی پورے دھوم دھام کے ساتھ کرنے کیلئے میاں جاوید اور بشری تیاری میں لگ گئے۔ادھر فاطمہ اور عندلیب کے تعلقات بھی مستحکم ہوگئے تھے،کچھ دنوں بعد فاطمہ کی بھی ایک کمپنی میں بحالی ہوگئی،پھر کیا تھا دونوں کے تعلقات اس قدر مضبوط ہوگئے کہ بہت جلد دونوں نے آپس میں شادی کا فیصلہ کرلیا،فاطمہ نے اپنے والدین کو اپنی شادی کی خبر اس لیے نہیں دی کہ انہوں نے فاطمہ کی شادی اپنے قریبی رشتہ دار میں طے کر رکھی تھی جو فاطمہ کو بالکل پسند نہ تھی،اورعندلیب نے اس لیے اپنے والدین کی رائے نہیں لی کہ کہیں وہ انکار کر دیں گے۔بہر کیف دونو ں نے آپس میں شادی کا فیصلہ کر لیا ،تاریخ متعین کی،اور شادی کارڈ بھی چھپوا لیا،عندلیب نے جہاں اپنے دوستوں و احباب کو دعوت نامہ بھیجا وہیں ایک شادی کارڈ اپنے والدین کے نام بھی پوسٹ کردیا،عندلیب نے جو شادی کارڈ اپنے ابو کے نام پوسٹ کیا اس کوپہلے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیک کیا،اور بہت بنا ،سنوار کر اس پر برائیکیٹ میں لکھاپیارے ابو وامی جان کے نام،اور پھر پوسٹل ایڈریس درج کرکے ارسال کردیا۔ 
اتوار کادن تھا ،میاں جاوید گھر پر ہی تھے،دوپہر کا کھانا کھا کرقیلولہ کر رہے تھے،دروازے پر ڈاکیہ نے دستک دی ،میاں جاوید فوراًدروازہ کی طرف گئے،اورڈاکیے سے ملاقات کی،ڈاکیہ نے کہا کہ ایک خوبصورت خط آپ کے بیٹے نے بھیجا ہے۔میاں جاوید خط لیکر واپس آنگن میں آئے اور آواز دی !بشری کہاں ہو،دیکھو عندلیب نے خط بھیجا ہے اور اوپر بڑے اچھے انداز میں لکھا ہے پیارے ابو و امی جان کے نام۔بشری دوڑی ہوئی آنگن میں آئی اور انتہائی خوشی کے ساتھ میاں جاوید کے کاند ھے پر دونوں ہاتھ رکھ کے گال ٹیک دی اور بڑے مزے لیکر کہا کہ ذرا کھولیے تو دیکھیں ہمارے شہزادے نے کیا لکھ بھیجاہے،میاں جاوید نے انتہائی پیار و خوشی کے امتزاج کے ساتھ دھیرے دھیرے لفافے کوکھولا،اس میں سے اک مضبوط اور خوبصورت ومنقش کارڈ نکلا،جس کے اوپری حصہ میں لکھا تھا” شادی کا رڈ“ اسکے نیچے بڑے اچھے انداز میں لکھا تھا !عندلیب ہمراہ فاطمہ،تاریخ شادی ۹۲ مئی بوقت شام سات بجے
بشری فوراً کاندھے سے ہاتھ ہٹاکر اپنے منہ پر حیرت سے ہاتھ رکھ لی اور میاں جاوید خط پڑھنے کے ساتھ ہی بے قابو ہوگئے اور جلد ہی زمین پر گڑ پرے،ان کا پورا بدن شل ہوگیا،بشری زور زور سے چلانے لگیحاجی صاحبحاجی صاحبسکینہ چاچیرخسار
آواز سن کر حاجی اکرام کی بیٹی رخسار دوڑتے ہوئے آئی ،اس نے دونوں کو ایسی حالت میں دیکھ فوراً اپنے ابو کو بلا لائی،،حاجی اکرام نے جلدی سے گاڑی منگوا کر میاں جاوید کو ہسپتال میں ایڈمٹ کر وا دیا پھر اطمینان سے باہر بیٹھ گئے،پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر اندر سے نکلا اور حاجی اکرام سے کہا !حاجی صاحب :معاف کیجئے مریض کو آدھہ گھنٹہ پہلے ہی دل کا دورہ پڑگیا اور ان کی روح پرواز کر گئی،اب وہ اس دنیامیں نہیں رہے۔حاجی اکرام نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا ! انا للہ و انا الیہ راجعون اور پھرمرحوم میاں جاوید کی لاش کو گھر لے آئے،اس کے بعد حاجی صاحب نے عندلیب کو خبر دی کہ وہ فوراً گھر واپس آئے ،عندلیب جب اصرار کیا کہ آخر معاملہ کیا ہے کچھ بتائیں گے؟تب حاجی اکرام نے کہا کہ تمھارے ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے ،اتنا سننا تھا کہ عندلیب نے فون کٹ کر دیا اور ندامت کے آنسو رونے لگا،تھوری دیر بعد عندلیب نے اپنے گاﺅں کے دوست شایان کو فون کیا اور کہا کہ حاجی اکرام صاحب سے یہ کہ دو کہ وہ نہیں آسکتا۔ادھرسکینہ اور رخسار دونوں نے مل کر بشری کے ہاتھ کی چوڑی توڑ ی اور عدت کے سفید لباس میں ملبوس کر دیا،دریں اثنا بشری کو مسلسل غشی طاری ہوتی رہی اور جب ہوش میں ہوتی تو چیخی چلاتی۔سوگوار ماحول میں میاں جاوید کو دفن کر دیاگیا،اور بشری عدت کے بندھن میں بندھ گئی۔اب بشری کے ذہن و دماغ پر جہاں میاں جاوید کے چلے جانے کا لامتناہی غم تھاوہیں بیٹے کے اس ناقابل یقین کرتوت کا ناسور صدمہ اور اسی دونوں ناقابل فراموش سانحے نے بشری کو اندر ہی اندر اس قدر کھوکھلا وکمزور کردیا کہ بشری اس صدمے سے ابر نہیں پائی اور حالت عدت ہی میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔

rahmatkalim91@gmail.com

الاثنين، أبريل 07، 2014

کہ زندگانی عبارت ہے ترے جینے سے

                           تحریر:شائع بن محمد الغبیشی                                               اردو قالب:سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ ‘مدینہ منورہ
رات کا اکثر حصہ بیت چکا ہوتاہے‘ گھپ اندھیرا ایسا کہ شب ِدیجور کا سماں ہوتا ہے‘ شاہراہِ عام پر ایک شخص کار ڈرائیوکر رہاہوتا ہے‘راستہ پرخطراورگاڑیوں کاہجوم سا ہوتا ہے‘سب اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں  ‘ سبھوں  کو گھر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے‘ ایسے میں  اس شخص کے کار کی لائٹ اچانک بغیر کسی اشارہ اورتنبیہ کےبند ہوجاتی ہے‘  سامنے گھپ اندہیرا ہے  اور  کار میں بیٹھے سارے مسافر سہم سے جاتے ہیں ‘ ڈرائیور کی حالت اور پتلی ہوجاتی ہے‘ آگے کی گاڑی سے ٹکڑانے اور پیچھے سے ٹھوکرکہانے کے خوف واندیشہ میں  وہ اس قدر گھرجاتا ہے کہ کچھ فیصلہ کرنا مشکل ساہوجاتا ہے   ‘ اس کی بے بسی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کار کے عقبی سیٹ پربیٹھا ہوامسافر نیم ہوش حالت میں  دروازہ کھول کرباہر نکل جاتا ہے‘  دیررات ہے اورمنزل پہنچنے کےدھن نے ساری آتی جاتی گاڑیوں  کو بے خود سا کردیا ہے اور ایسے میں  اس بے خود انسان کی پرواہ کرناانہیں ممکن نہیں ‘ ڈرائیورکو یہی   خدشہ ستانے لگتاہے اوروہ کسی طرح اندازے سے ہاتھ  پاؤں مارتا ہوااسے روکنے کی کوشش کرتا ہے ‘کئی بار گڑتاپڑتا اس  تک پہنچتا ہے اور اللہ کی رحمت کہ اسے صحیح سالم پاتاہے-
اس  تصوراتی منظرنامے کو سامنے رکھکر جب میں نے خود کو صاحب واقعہ تصور کیا تو ایک سوال مجھے باربار کوسنے لگا:میری زندگی کی شاہراہ  پراگرچراغِ حیات گل ہوجائے تو.......؟اس سوال کے نہاں خانے سے مجھے ایک ایسی حقیقت کا ادراک ہوا جس سے اکثر ہم غافل ہوتے ہیں ‘وہ یہ کہ شمع‘نور‘ہدایت‘ بصیرت ‘اورروشنی کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہے ‘رووشنی اور نورہی   میں امن وامان اورسکون واطمئنان کا سامان ہے‘ظلمت وتاریکی تو   تمام تر شقاوت ‘ بے چینی ‘اورسراسیمگی کا باعث ہے-
نور وظلمت کے اس مقارنہ کوسامنے رکھکر بآسانی سمجھاجاسکتا ہے کہ آخر کیوں ایک نوخیز بچہ بھی روشنی اور چمک دمک سے خوش ہوتا اور تاریکی سے موت کی طرح بھاگتا ہے ‘بلکہ ہر شخص بغیر کسی تمیز کے ‘ روشنی  کو پسند کرتا اور اور تاریکی سے دور رہنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہے‘جس کے پاس الکٹرانک ٹارچ  جیسی مشینری روشنی مہیا نہیں ‘ وہ آگ کے ایک انگارے سے ہی سہی ‘ روشنی ضرور حاصل کرتا ہے کہ راہ یابی کے لئے یہ بھی کافی ہے‘گویا ظلمت وتاریکی ہرانسان کے لئے یکساں مکروہ اور مبغوض شیئ ہے  ‘اس کی اس قدر کراہت اورمبغوضیت کے با وصف اس روئے زمین پر ایسے  لوگ آج بھی جی رہے ہیں جو اپنے لئے ایک ایسی ظلمت سے راضی ہیں جودرحقیقت ظاہری تاریکی  سے کہیں زیادہ خطرناک اورشب دیجور کے گھپ اندھیرے سے بھی زیادہ وحشت ناک ہے‘یہ دل کی تاریکی اور اورذہن ودماغ کی ظلمت ہے‘یہ انسان کے لئے اس  بات سے کہیں زیادہ خوفناک ہے کہ تاریک رات میں دورانِ سفراس کا چراغ گل ہوجائے ‘اور وہ سناٹے رات کا مسافر بے رحم تاریکی کے حوالے ہوکر رہ جائے ‘اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسانی زندگی کے لئے نورِ ایماں کی کیا قدروقیمت اورضرورت ہے کہ دل اسی سے تاباں وتابندہ ہوتا ہے:کیا وہ شخص جو مردہ تھا اور ہم نے اسے حیات ِنو بخشا ‘اور اسے نور سے سرفراز کیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے ‘وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں زندگی گزارتا اور وہ اس سے نکلنے  والا بھی نہیں ہے......"(انعام:۱۲۲)تو کیا وہ جس کی زندگی معصیتِ الہی سے مرکب ہو‘اس انسان کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز کیا اور اس کے دل کو نورِایماں سے منور فرمایا ہے‘ہرگزنہیں‘امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب دل کی دنیا نیروتاباں ہوتی ہے تو اس پر ہرطرف سے خیروبھلائی کے باراں برستے ہیں‘ بعینہ  جب جہان ِدل تاریک وسنسان  ہوتو ہرجانب سے اس پر شروروفتن کے بادل ٹوٹتے ہیں"(الجواب الکافی:۱۲۵)
ابن قیم رحمہ اللہ نے زندگی اور روشنی کے باہمی رشتے کو اجاگرکرتے ہوئے لکھاہے:حیات‘  انسان کی طاقت وقوت ‘ سماعت وبصارت‘  حیاء وعفت‘  صبروشجاعت‘  اچھائیوں سے اس کی محبت اوربرائیوں  سے اس کی نفرت جیسے اوصاف سے مرکب ہے جب زندگی تواںاورجواں  رہیگی تو یہ سارے صفات بھی اس پہ عیاں رہینگے اورجوں ہی اس کی  زندگی میں  نا توانی آئی ‘ یہ صفات بھی اس سے متاثرہوئے بغیر نہیں  رہ پائینگے ......عین اسی طرح جس قدر اس کا نور ِبصیرت  مکمل اورمنورہوگا‘اسی قدر اس کے لئے حقائق کو سمجھنا اور کائنات کے سرِّنہاں کاادراک کرنا آسان ہوجائیگا(إغاثۃ اللھفان:۱:۲۰)
یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نور کوئی متاع زیست نہیں کہ درہم ودینار دیکرخرید لئے جائیں‘ بلکہ یہ نور ِبصیرت ہے جس مختار کل صرف  اللہ کی ذات ستودہ صفات ہے‘وہ اپنی مشیئت سے جس کو چاہتا اس سے نوازتا ہے"نور علی نور یہدی اللہ لنورہ من یشاء"اور جیے چاہتا ہے اس سے یکسر محروم رکھتا ہے"ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور"(النور:۱۰)
شریعت اسلامیہ میں نبی امین اور قرآن مبین کی زبانی کچھ ایسے اسباب کی رہنمائی کی گئی ہے جن کواختیار کر ایک بندہِ مومن اللہ سے اس نور کی رجاء و التجاء کرسکتا ہے‘ ذیل میں بالاختصار انہیں ذکر کیا جارہا ہے:
۱-اللہ کی محبت ‘ طاعت اور عبودیت:کہ اللہ ہی آسمان وزمین کا نور ہے‘اس کے نور کی مثال اس فانوس کی سی ہے جس میں چراغ ہو اور آبگینہ پوش ہو‘آبگینہ ایسا کہ گویا درخساں ستارہ ہو ‘ اس کی ذاتِ بے نیاز اپنی مشیئت سے جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا اور جسے چاہتا ہے بےگانہ رکھتا ہے.....(نور:۳۵)نبی امی-فداہ أبی وأمی-کی مبارک حدیث ہے :اللہ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا‘ پھر ان پراپنا نور ڈالدیا‘جو اس نور سے بہرہ یاب ہوا وہ ہدایت یافتہ ہوا‘ اور جو اس سے محروم رہا و ہ گمگشتگانِ ہدایت میں سے ہو گیا......."( امام احمد نے اپنے مسند میں اسے روایت کیا اور امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
امام  ابن قیم نے إغاثۃ اللھفان ۲:۱۹۷ میں لکھا ہے :محبت ِ الہی کی شان ہی نرالی ہے‘کیوں کہ انسانی دلوں کے لئے طبعی طور پر جوذات سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے وہ  ہے ذاتِ باری‘ معبود ِ حقیقی ‘ ولیِّ یکتا‘ مولائے کل‘ ربِّ واحدواحد‘مدبرعالم ‘ رازقِ خلائق‘ اور موت و حیات کا مالک  اللہ جل جلالہ‘ اس کی محبت ہی روح کی راحت ہے‘دل کا قرار ہے‘ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘ ذہن ودماغ کی بصیرت ہے‘ ظاہروباطن کا سکون ہے‘ سلیم الطبع انسان کے لئے محبتِ الہی سے بڑھ کر کوئی چیز لذت افزا‘ حلاوت بخش‘ سرور آمیز ‘ اور انسیت خیز نہیں  ‘ گویا ایمانی حلاوت اور رب کی محبت تمام تر نعمتوں سے مافوق اور ساری لذتوں سے بالاتر ہے-
۲-اسلامی اصول اتباعِ رسول:نبی گرامی کی ذات خدائے پاک کابھیجا ہواایک ایسا نور ِ ہدایت ہے جو تا قیامِ قیامت  ہمارے لئے راہنمائے صراطِ مستقیم اور دلیلِ دین قویم ہے‘قرآن کا بیان ہے:اے نبی ہم نے آپ کوگواہ‘ بشارت دینے والا‘ اللہ کے اذن سے اس کی طرف بلانے والا ‘ اور مشعلِ تاباں بناکر بھیجا ہے(احزاب:۴۵-۴۶)اب شک کی کوئی راہ نہیں کہ نبی کی ذات مبارکہ روشن چراغ کی مانند تھی جس سے کفروعدوان کی تاریکیاں چھٹیں اور نورِ بصیرت عام ہوا‘ جو شخص اپنے  ذہن و دل کو نورِ ایماں سے  حرارت یاب کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے لئے ہدایت مصطفی اور سنت مجتبی میں اس کا مکمل حل موجود ہے کہ اسی سے ذہن ودل کے درواہوتے اور روحِ حیات کو تسکین ملتی ہے_
 إن الرسول لنور یستضاء بہ                                         مہند من سیوف اللہ مسلول
یقینا رسول ایسے نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے‘اور اللہ کی صیقل زدہ سونتی ہوئی تلوار ہیں-
کیا حسیں تعبیر ہے کہ:
بزغ الصباح بنور وجہک بعدما
غشت    البریۃ   ظلمۃ سوداء
                      فتفتقت بالنور أرکان الدجی                     
وسعی علی الکون  الفسیح ضیاء
           یا سید الثقلین یا نبع الہدی           
یا خیر من سعدت بہ الأرجاء
کہ جب خلائق عالم گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے تو تیرے چہرء انور کی تابانی سے صبحِ نو نمودار ہوئی‘ اس نور کے آتے ہی تاریکیوں نے اپنے چادر سمیٹ لئے‘اور پوری دنیا نورِ ہدایت سے ضیاء بار ہوگئی ‘ اے انس وجن کے سردار‘رشدہدایت کے سرچشمہ‘ اور خیروبھلائی کے منبع کہ جس کی آمد نے تمام گوشئہ جہاں کو سعادت یافتہ کردیا-
۳-خشیت الہی:اللہ نے اپنے کلام مقدس میں تقوی اختیار کرنے اور خشیت الہی کو اپنانے کے بطور بندہ  مؤمن سے تین نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے:
۱-اپنی دوہری  رحمت  سے سرفراز کرنے کا وعدہ‘ایک حصہ دنیا میں اوردوسرا آخرت میں(یؤتکم کفلین من رحمتہ )
۲-نور سے نوازنے کا وعدہ جس سے تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کرسکے(ویجعل لکم نورا تمشون بہ)
۳-گناہوں کی بخشش اور معاصی سے چشم پوشی
اس ربانی وعدہ میں ایک چیز جو سر چڑھ کر بول رہی ہے وہ ہے دین مبین کی یسرت وآسانی اوررب دوجہاں کی اپنے بندوں کے تئیں لطف وعنایت کہ اللہ نے اپنی خشیت کو تمام آسانیوں کا مرکز اور ترک خشیت کو تمام عسرت وتنگی کا باعث قراردیا(التبیان  فی أقسام القرآن:۳۶)
۴-نماز:نماز دین کا ستون ہے‘نبی نے اسے اپنی آنکھوں کا سکون قرار دیا‘اور  اپنے نور سے تعبیر فرمایا ہے‘شیخ ابن عثیمین شرح الأربعین للنووی میں رقمطراز ہیں:فرض ونفل ہردونماز میں نورہے‘دل کا نور ہے‘چہرے کا نور ہے‘حشر کا نورہے ‘حدیث کا اطلاق تمام نور کو شامل ہے‘تجربہ اس کا شاہد ہے‘حاضر دلی اور خشوع و خضوع کے ساتھ جب نماز اداکی جاتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ دل نورانی ہوگیا اورلاریب کہ ایک بے کیف سی لذت محسوس ہوتی ہے‘یہی مفہوم ہے حدیث پاک کا کہ"قرۃ عینی فی الصلاۃ"متعدد احادیث کے اندر مختلف پیرائے میں اس نور کی توضیح وارد ہوئی ہے‘جونماز کی پابندی اور اہتمام کی برکت سے حاصل ہوتاہے‘ اسی سبب سے نماز کو روح کی غذا‘صحت کا محافظ ‘رزق کا ضامن ‘ اور بلاء ومصیبت کا دافع بتا یاگیا ہے‘زاد المعاد میں قدرے تفصیل سے اس پرروشنی ڈالی گئی ہے‘بڑا خوش بخت ہے وہ قدم جو باوضوء وباصفا درِمالک کی طرف بڑھتا ہے اور بڑی دل آویز ہے وہ زندگی جو نماز ‘ذکرِباری اور یادِالہی سے آباد ہے:
       یمشون نحو بیوت اللہ إذاسمعوا          
 "اللہ اکبر"فی شوق وفی جذل
         أرواحہم خشعت للہ فی ادب          
           قلوبہم من جلال اللہ فی وجل        
نجواہم  ربنا! جئناک   طائعۃ   
 نفوسنا ‘وعصینا  خادعالأمل
جب انکی سماعت سے اللہ اکبر کی صداٹکراتی ہے  تو وہ شوق اور خشیت سے لبریزاللہ کے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں‘انکی روحیں اللہ کےلئے ادب کے ساتھ خشوع کا مظاہرہ کرتی ہیں‘اور انکے دل جلال ربانی کے سامنے خم ہوتے ہیں‘ وہ زبان حال ومقال سے التجاء کر رہے ہوتے ہیں کہ اے ہمارے رب !ہم نے تمام فریبی آرزوؤں کو ٹھکرادیااور اب تیرے ہی در کے سوالی ہیں ‘ تجھ سے ہی امیدیں رکھتے اور تیری ہی طاعت وعبادت کو سزاوار ٹھراتے ہیں-
 ۵-دعوت الی اللہ:حفظِ حدیث اور ترویجِ حدیث:مسند احمد اور حامع ترمذی کی حدیث ہے‘عبد اللہ ابن مسعود راوی ِ حدیث ہیں:اللہ اس شخص کا چہرہ منور کرے جس نے میری حدیث کو سنا‘ اسے یاد کیا‘ اور ہوبہو دوسرے تک پہنچابا‘ بسا اوقات مدعو داعی سے زیادہ یادرکھنے والا ثابت ہوتا ہے"حضرتِ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا قول منقول ہے:مامن أحد یطلب حدیثا إلا وفب وجھہ نضرۃ"(عون المعبود:۱۰:۹۴) کہ جو شخص طلب حدیث میں مشغول رہتا ہے اس کا چہرہ تروتازہ اور منور ہوتا ہے-
عبد الرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:اگرطلب حدیث ‘ حفظ حدیث اور تبلیغ حدیث کا کوئی او رفائدہ نہ ہوتا سوائے اس دعائے نبوی کے ‘ تو بھی اس کے فائدہ ‘ منفعت اور دارین کی سعادت کے لئے کافی  تھا(تحفۃ الأحوذی:۲:۲۰۲۶)شیخ ابن عثیمین کے نزدیک بھی حدیث کا یہی مفہوم ہے کہ جو میری حدیث کو سنے اور دوسرے تک پہنچائے‘ اللہ اسے کل قیامت کو خوش رو رکھے (شرح ریاض:۴:۵۱۷)–
یہ بنیادی اسباب ہیں جن کو اختیار کر نور الہی سے فیضیابی کی امید کی جاسکتی ہے‘ ان کے علاوہ بھی دیگر اسباب ہیں جن کا ثبوت نصوص شرعیہ سے ملتا ہے‘ ان میں والدین کی فرمانبرداری‘ صبروشکیبائی ‘ بکثؤت نوافل کا اہتمام ‘ صدقات وحسنات کا التزام ‘ جہاد فی سبیل اللہ اور حج لوجہ اللہ‘ شب بیداری اور تہجد گزاری ‘ توبہ وانابت الہی ‘ ذنوب ومعاصی سے بعد ودوری‘ نرم خوئی او رپست نگاہی ‘ باہمی اخوت اور خیر سگالی جیسے مؤمنانہ شمائل و خصائل بدرجہ اتم شامل ہیں-
نور الہی سے فیضیابی کے ثمرات ونتائج:
۱-ظاہری تازگی اور نورانیت‘انشراح صدر اور حقیقی سعادت سے سرفرازی
۲-ضلالت وظلمت سے گلو خلاصی اور ہدایت یافتگی
۳-حسنِ خاتمہ کہ جو مؤمن کا اصل منتہائے غایات ہے
۴-میدانِ حشرمیں عبورِ (پل)صراط کی نفسی نفسی میں سید المرسلین شفیع المذنبین امام الأولین والآخرین  کی مرافقت با سعادت
وخذ لنفسک نورا یستضاء بہ    
 یوم اقتسام الوری الأنوار بالرتب
                                                       فالجسر ذو ظلمات لیس یقطعہ                                                            
إلا بنور ینجی العبد فی  الرکب 
اپنے لئے ایسے نور کا بندوبست کر(ہی)لو کہ جس سے اس دن روشنی حاصل کرسکوکہ جب منزلت و مرتبت کے بقدر نور تقسیم کیا جائیگا
پل صراط ایسی تاریک  ترین جگہ ہے کہ جس کو بسلامت عبور کرنےکے لئے ایسانور الہی  درکار ہے جو نیا پارکردے
۵-دخولِ جنت کا پروانہ کے جس کے ملنے کے بعد انسان پروانہ وار جنت کی طرف لپک پڑیگا(فمن زحزح عن النار وأدخل الجنۃ فقد فاز)
یہ ایسے گراں قدر ثمرات ہیں  جن کے حصول میں نور الہی کا کافی دخول ہے‘ اللہ ہمیں اس نور سے سرفراز فرمائےاور اس نورِ بصیرت کو عام کر اس کے ثمرات سے ہمارے دامن مراد بھردے-
اللہم اجعل فی قلبی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن یساری نورا وفوقی نورا وتحتی نورا وأمامی نوراوخلفی نوراوعظّم لی نورا
اللہم اجعلنی ممن یعبر الصراط مع حبیبک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ممن یسعی نورہم بین أیدیہم  وبأیمانہم بشراہم الیوم جنات.......-اللہم آمین
binhifzurrahman@gmail.com