الجمعة، يونيو 03، 2016

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم
ثناءاللہ صادق تیمی ، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا : بیٹے ! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے ، پہلے خوف کی کیفیت تھی ، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی ۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے !!!
انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں ۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے ۔ بچپن کو ہم معصومیت ، الھڑپن ، لاپروائی ، بے ریائی ، صدق ،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں ۔ شعراء ، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟
جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی
بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے ، مصلحتیں ، حکمتیں ، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں ، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے ۔ منور رانا کا شعر ہے ۔
میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس ، سوال کرنے کی للک ، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا ، بچپنہ تو امنگ ، تخلیقیت ، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں ، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں ، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں ، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں ، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا ۔
مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا ، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا ، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں ، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے ۔
ابو !
ہاں بیٹے !
یہ گھر ہے ؟
 ہاں بیٹے !
اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے ؟
بھینس ہے بیٹا !
بھینس ایسا ہوتا ہے ؟
ہاں بیٹے !
اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے ؟
وہ گدھا ہے بیٹا !
ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے ؟
بیٹے ! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے !
اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں
نہیں بیٹا ! وہ تو آپ کے انکل ہیں
پر ہیں تو وہ کالے !
  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں ، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے ۔
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے " انما شفاء العی السوال " نہ آئے تو پوچھنا چاہیے ، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں ، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے ، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں ، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے ، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں ، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا ۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے " کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ "  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں ، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے ۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے ، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں ، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے ۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے !
مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
راجیش ریڈی
اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی ، امنگوں کے پرندے تھے ، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا ، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی ، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے ۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے
بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں
چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں ، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں ، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے ، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے ۔ ندا فاضلی کا شعر ہے ۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں ، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں ۔


الأحد، ديسمبر 20، 2015

واقع المسلمين بالهند في العقيدة والعمل ومسؤولية الدعاة تجاهه

بسم الله الرحمن الرحيم



 إعداد: الدكتور محمد يوسف حافظ أبو طلحة
عضو هيئة التدريس بالجامعة المحمدية ماليغاون



الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين. أما بعد:
فإن الهند بلاد مترامية الأطراف بعيدة الأنحاء متعددة الملل والنحل كثيرة النسم، يبلغ سكانها أكثر من مليار نسمة، يعيش فيها المسلمون والهندوس والنصارى واليهود وغيرهم، وعدد المسلمين فيها يقارب ثلاث مائة مليون حسب تقدير القيادات الإسلامية، ولا يوجد هذا العدد الهائل للمسلمين في دولة غير إندونيسيا، وإن كان هذا العدد لا يمثل إلا نسبة 25% من سكان الهند، ويعتبر المسلمون ثاني أكبر طائفة بعد الهندوس في الهند، ولكنهم تفرقوا وانقسموا فرقا وأحزابا، وهم يمرون بظروف قاسية تقشعر منها الجلود، وتنخلع من هولها القلوب، وسببه الحقيقي التخلي عن الدين الحنيف عقيدة وعملا.
فالكثيرون والكثيرون من المنتسبين إلى لإسلام انحرفوا في مسائل التوحيد الذي هو حق الله على العبيد، بل منهم جمع غفير وقعوا في الشرك الأكبر، اعتقدوا في الأولياء والصالحين بل في الأشخاص الضالين المضلين ما هو من خصائص رب العالمين، يظنون أنهم يعلمون الغيب، ويكشفون الكربة، ويوسعون في الرزق، فيقدمون لهم النذور والقرابين، ويطوفون بمقابرهم، ويستنجدون بهم ويدعونهم من دون الله، إلى غير ذلك من صور الشرك الأكبر خاضت الأمة لُجَّتَها، فما بالك عن الشرك الأصغر فمظاهره كثيرة في حياتهم اليومية.
والأسف أن كثيرا من الناس بل من حملة راية الدعوة يقللون من شأن عقيدة التوحيد معللين بأنها تنفر الناس، ويقولون: اتركوا الناس على عقائدهم، وادعوهم إلى التآخي والتعاون والاجتماع، وهذا تناقض؛ لأنه لا يمكن كل ذلك إلا على عقيدة واحدة صحيحة سليمة، وإلا فسيحصل التفرق والاختلاف، وكل يؤيد ما هو عليه. فإن الناس لا يجمعهم إلا كلمة التوحيد، وهي: لا إله إلا الله، نطقًا واعتقادًا وعملاً. أما مجرد أن ينتسبوا إلى الإسلام وهم مختلفون في عقيدتهم فهذا لا يجدي شيئًا. (من إفادات الغلامة صالح الفوزان في محاضرته بعنوان: مظاهر ضعف العقيدة في عصرنا الحاضر).
ويعج المجتمع المسلم الهندي بالبدع والمحدثات حتى في الأذان والصلوات، وشاعت فيه أنواع من الفواحش والمنكرات، وتسربت إليه كثير من الخرافات الهندوسية في الشؤون الاجتماعية، وحذا كثير من المسلمين حذو الغرب مغترين بنعراتهم الرنانة، فتمسكوا بالحضارة الغربية بخيرها وشرها وحلوها ومرها.
ومنهم فئة كبيرة تخلت عن الدين، فلا تعلم من الإسلام إلا اسمه، ولا تعرف من القرآن إلا رسمه، انخدعت بزخرفة الحياة الدنيا، فتنافست فيها، ونسيت الآخرة.
ومنهم من نجح فيهم الغزو الفكري، فوقعوا في حباله، فظنوا أن الإسلام الذي كان عليه سلف هذه الأمة لا يصلح في هذا العصر المتطور المزدهر، ورفضوا كثيرا من المبادئ الإسلامية بهذه الحجة الداحضة، واستهزأوا بالمسلمين المتمسكين بالكتاب والسنة.
وتتجدد كل يوم فتن تفتُّ عضد الأمة، وتُضعف شوكتها، وتعوجُّ فيها عقول كثير من الناس، وتروح ضحيتها كثير من الناس لاسيما الناشئة والشباب.
وإن قال قائل: ما من عقيدة فاسدة وفكر باطل وعمل منحرف إلا وصورها موجودة في المجتمع الهندي بين المنتسبين إلى الإسلام فليس ببعيد عن الصواب. وإلى الله المشتكى.
ولهذه الانحرافات العقدية والعملية أسباب كثيرة وعوامل وفيرة، منها الجهل، والغلو، واتباع الهوى، وتقليد الآباء والكبراء، والإعراض عن فهم السلف، وهجر النصوص الواضحة واتباع النصوص المتشابهة، والاعتماد على الروايات الواهية والمنامات والحكايات والكشف والإلهام، وتقليد غير المسلمين.   
فالحذر الحذر من التقصير والتكاسل والسبات؛ فإن الشر يزداد انتشارا كل يوم، وهذه القنوات الفضائية والمواقع الإلكترونية تشجعهم على هذا الانحلال والانهيار.
وهذه الأوضاع القاسية المريرة تذكرنا بواجباتنا العظيمة ومسؤولياتنا الجسيمة؛ فإننا مسؤولون عنهم يوم القيامة، فلا بد لنا من بذل الجهود بكل الثبات والصمود. ومن تلكم المسؤوليات:
·    أن يتبصر الداعية ويتعلم من العلم ما يكفيه في دعوته قبل أن يدعو، وأن يستزيد من العلم النافع على الدوام؛ فإنه لا بد أن يكون بصيرا بما يدعو إليه وبحال من يدعو وبأولويات الدعوة وأساليبها وآدابها. قال الله تعالى: ﴿قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِين( [سورة يوسف : 108]
ومن البصيرة أن يدرك الداعية عواقب الأمور، وأن يدرك التحديات والمخاطر التي تهدد الدعوة الإسلامية، وأن يحسن التصرف في جميع المواقف لاسيما في المواقف الحساسة، فيعالجها بحكمة وبصيرة وصبر وحزم مع مراعاة المصالح والمفاسد. ومن المشاهد أن بعض الدعاة قد يعامل معها أحيانا ما يسيئ إلى الإسلام والمسلمين، فينقلب الأمر رأسا على عقب، وتذوق الأمة من ويلاتها ما الله به عليم.
وأما الدعوة على جهل فهي تجر على الأمة من الفساد والدمار مالا يسع لوصفه هذا المقام.
·    ومنها أن يحرص الداعية على هداية الناس مع غاية الشفقة والرأفة والرحمة؛ فإن الداعي إذا كان حريصاً على هداية من يدعوه سعى إلى ذلك بكل ما عنده من قوى ووسائل وإمكانيات، ولم يدخر وسعاً في إيصال الحق له،  ولم يأل جهدا في إزالة كل عقبة تصده عن هدفه المنشود، ولم تصرفه عنه أي نازلة نزلت به، فحينئذ تؤتي الدعوة ثمارها.
وكان نبينا r حريصا على هداية قومه أشد الحرص، أرسل بالمدثر، فقام وأنذر، ولم يتوانَ ولم يفتر، فعادته قومه غاية العِداء، وآذته بأنواع من الأذى، تآمروا بقتله، وأدموا وجهه، وكسروا رباعيته، وشجوا رأسه فصبر على ذلك كله ابتغاء وجه الله ورجاء هدايتهم، وكان يدعو لهم ولعقبهم بالهداية والتوفيق، وقد ذكر الله له هذا الوصف العظيم في سياق المدح، فقال: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَحِيمٌ( [سورة التّوبة: 128]. بل كان r إذا رأى نفور الناس من دعوته يحزن حزنا شديدا كاد أن يهلكه، فقال تعالى مسليا ومنبها له: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً ( [سورة الكهف: 6]
·       ومنها أن يعتني الداعية غاية الاعتناء بنشر العلم الصحيح المستمد من الكتاب والسنة على  منهج سلف الأمة، فإنه بنشره وتعليمه يقل الجهل وتحيى السنن وتموت البدع ويعلو المعروف وتظهر شناعة المنكر. 
·       ومنها أن يهتم الداعية اهتماما تاما بيبان العقيدة الصحيحة التي كان عليها سلف هذه الأمة وتبصيرِ الناس بها والتحذير عما يخالفها مستمدا من المصادر الصافية النافعة بأسلوب واضح شيق بعيد من العبارات الغامضة التي يصعب فهمها. ومن أراد أن ينظر النموذج الرائع لهذا الأسلوب الواضح فلينظر في دروس العلامة الفقيه محمد بن صالح العثيمين –رحمه الله تعالى- وتحريراته، ما أوضحها وما أقربها إلى الفهم!
ومن صور الاهتمام بها إعطاء الصدارة لكتب العقيدة الصحيحة في المناهج الدراسية واختيار المدرسين المخلصين الأكفاء لتدريسها؛ فإن المنهج الدراسي من غير مدرس مؤهل ليس له كبير جدوى.
·       ومنها أن يسعى الداعية جاهدا على إحياء الشعور الديني وتنمية الوعي بالهوية الإسلامية في أذهان المسلمين؛ فإنه كلما قوي ذلك لدى الإنسان كان تمسكه بدينه أقوى، ولا تؤثر عليه الشعارات الخداعة والنعرات الرنانة، ولا يقع فريسة للمؤامرات الأجنبية المذهلة. ومن ثم حاول الاستعمار -وما زال يحاول- أن يضعف الشعور الديني والهوية الإسلامية لدى المسلمين بشتى وسائله؛ فإنه متى تحطمت القوة الداخلية تيسر تحطيم القوة الخارجية بكل صورها.
·       ومنها أن يعمل الداعية على غرس الثقة واليقين في قلوب المسلمين -لا سيما الطبقة التي بيدها القيادة والإعلام والفئة المثقفة الجديدة- بأن الإسلام دين شرعه للإنسانية الربُّ الذي يعلم ما كان وما يكون إلى يوم القيامة، وارتضاه دينا إلى قيام الساعة فهي شريعة خالدة محكمة من علام الغيوب، أحكمها لكل زمان ومكان وإن وصلت البشرية فوق الشمس والقمر، وهي التي فيها سعادة البشرية جمعاء. وقد ضعف هذا اليقين في قلوب الذين تربوا في أحضان الثقافة الغربية واغتروا بشعاراتهم الدجلية الماكرة. فالله المستعان.     
·       ومنها أن يحرص الداعية على حماية الثوابت والمسلمات الإسلامية من عبث العابثين ومكر الماكرين، وعلى صيانة النصوص الشرعية من تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين؛ فإن الإعلام الغربي قد كثر هجماته الماكرة ضد ثوابت الإسلام واحدة تلو الأخرى، وإن أهل الأهواء من الفرق الضالة والفئات المتغربة قد كثر عبثها بنصوص الكتاب والسنة وتحريفها عن مواضعها لأهواء شيطانية وأغراض دنيوية ومصالح سياسية، فلابد من السد أمام هذه التيارات الفاسدة. والمحافظة على تعاليم الإسلام، وكشف المؤامرات التي تحاك ضدها.
·       ومنها أن يبذل الداعية جهده في جمع كلمة المسلمين وتحقيق الأخوة والألفة بينهم وتوحيد صفوفهم على الكتاب والسنة، ويبين لهم ما في الوحدة من عواقب حميدة وما في الفرقة من آثار وخيمة، فبتوحيد الكلمة يعود للأمة عزها ومجدها، ويندحر عدوها.
·       ومنها أن يهتم الداعية بنشر نصوص الترغيب والترهيب والنصوص التي ترقق القلوب مما يتعلق بعذاب القبر ونعيمه وأشراط الساعة وأهوال يوم القيامة وصفة الجنة والنار مقتصرا على الأحاديث الثابتة، فإن القلوب بسماعها تلين وتنزجر عن المعاصي، وتقبل على الاستعداد ليوم المعاد.
ولا يعني هذا أن يهمل تعليم الأحكام التي تهم المسلمين في حياتهم اليومية. وقد وقع بعض الدعاة في إفراط وتفريط، فمنهم من أفرط في ذكر الترغيب والترهيب والرقاق، فخاض غمار الأباطيل والموضوعات، وأهمل جانب تعليم الأحكام. ومنهم من بالغ في تعليم الأحكام، فبدأ يعلم عامة الناس المسائل الدقيقة مع أنهم لا يعلمون كثيرا من المسائل المهمة التي يحتاجونها في حياتهم اليومية، وفرط في بيان نصوص الترغيب والترهيب والرقاق. والمنهج الصحيح وسط بين طرفين.
·       ومنها أن يتصدى الداعية للأفكار المنحرفة والمناهج المتطرفة التي تزعزع كيان الأمة، وأن يبذل جهده في تحصين الأمة من الغزو الفكري وفق خطة علمية مدروسة؛ فإنه قد ضرب بأطنابه في مختلف صوره بوسائل متنوعة على أذهان كثير من الناس لا سيما الناشئة والشباب.
·       ومنها أن يعتني الداعية بدعوة الشباب واستثمار نشاطهم في سبيل الخير؛ فإنهم مستهدفون من قبل الأعداء، لأنهم عنوان مستقبل الأمة؛ فإن صلحوا فسوف يقودون الأمة إلى مستقبل مضيء زاهر، وإن فسدوا فسوف يجرون الأمة إلى مستقبل مظلم حالك.
·       ومنها أن يحرص الداعية على درء الفتنة عن المجتمع فينظر في عواقبها ويحذر الناس منها ويبين خطرها ويعلم الناس فقه التعامل معها. فإن الفتن إذا أقبلت على المجتمع تذهل الناس وتطيش فيها العقول، فتجلب على المجتمع الهزيمة والتخلف والضياع والدمار، فعلى الداعية أن يبصر الناس بمواقع الفتنة ومراقدها وبأصول العصمة منها، ويحمي المجتمع من ويلاتها.    
·       ومنها أن يخالط الداعية الناس في مجتمعه، ويتفقد أحوالهم، ويعود مريضهم، ويغيث ملهوفهم، ويعين فقيرهم، ويشيع ميتهم، ويشارك مشاركة فعالة في الأعمال الخيرية والحملات الإغاثية، ويستفيد منها في الدعوة بالحكمة؛ فإن الناس مفطورين على حب من يحسن إليهم، وكلما كان الداعية محبوبا لدى الناس كانت استجابتهم لدعوته أكثر. وهذا المسلك الدعوي قد سلكه الأنبياء عموما ونبينا r خصوصا. وزبدة تعاليم الإسلام أمران: عبادة الخالق وحده، والإحسان إلى الخلق أجمع. 
·       ومنها أن يستغل الداعية جميع الفرص الدعوية دون أي تردد وتكاسل، فيهتم بخطب الجمع والعيدين وبالدروس المنظمة في المساجد، وبالمحاضرات في المؤسسات التعليمية العصرية والمناسبات الموسمية، وبمشاركة فعالة في الندوات والمؤتمرات، وبإنشاء حلقات تعليمية ودورات دعوية وتربوية، وبتأليف الكتب وترجمتها إلى اللغة المحلية، وبكتابة المقالات والبحوث، وبتوزيع الأشرطة والكتيبات، وبجولات دعوية ميدانية في المدن والقرى والهجر، يهتم بذلك كله اهتمام العاقل اللبيب الذي يحسن وضع الأشياء في مواضعها.
ويواكب الداعية أيضا تطورات العصر في عرض الدعوة الإسلامية عبر وسائل الإعلام كالإذاعة والتلفاز والمواقع الإلكترونية ومواقع التواصل الاجتماعي والجرائد اليومية. فإننا لو اقتصرنا في دعوتنا على الوسائل القديمة المحدودة النطاق لا يعم نفع الرسالة الإسلامية كما ينبغي، مع أن حملة راية الباطل والشر ينشرون أباطيلهم ويشوهون سمعة الإسلام وأهله عبر وسائل الإعلام بكل ما أوتوا من قوة، ونتائج جهودهم الإعلامية بينة ظاهرة يعجز عن وصفها البيان، فالله المستعان.
وعلى حكام المسلمين أن يتنبهوا لهذا الخطر الإعلامي المعاصر، وأن يجابهوه بكل بصيرة وحكمة، وأن يفتحوا باب وسائل الإعلام على مصراعيه للعلماء المتقنين والدعاة المتمسكين بالنهج القويم حتى يتمكنوا من نشر الرسالة المحمدية على الوجه الصحيح وعرض الصورة الصحيحة للإسلام والمسلمين أمام العالم وكشف الأكاذيب والتلبيسات والمؤامرات التي تحاك ضد الإسلام والمسلمين.  
·       ومنها أن يكون الداعية ترجمانا عمليا للإسلام، بأن تكون أقواله وأعماله وتصرفاته تترجم عن سمو تعاليم الإسلام ومحاسنه، وتنادي من حوله للاقتداء به، فحينئذ تثمر الجهود الدعوية، بل تثمر تلك الدعوة الصامتة في ظروف قد لا يتجرأ الإنسان فيها على الدعوة باللسان. وقد أثنى الله عز وجل على من جمع بين الدعوة إلى الله والعمل الصالح، فقال: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ( [سورة فصلت: 33]   
·       ومنها أن يضع الداعية لنفسه خطة مدروسة واضحة المعالم والأهداف، حتى يتحقق له النجاح في عمله والوصول إلى هدفه. وإن ظهر له فيها خلل يتفاداه في خطته المستقبلية.
·       ومنها أن يتكاتف الدعاة ويكونوا يدا واحدة على نشر الخير والقضاء على الشر، لاسيما في هذا العصر الذي تكالبت فيه الأعداء على الأمة الإسلامية، وأحاطت بها الكوارث والمحن من كل جانب، فإن الجهود إذا تكاتفت أثمرت بإذن الله ولو كانت الظروف عصيبة والمحن شديدة. فالحذر الحذر أن يوقع الشيطان العداوة والبغضاء بين الدعاة، فإن عاقبتها وخيمة، وإن نجح فيهم هذا الكيد الشيطاني فليتبوبوا إلى الله وليعودوا إلى صوابهم.    
·       ومنها أن يستمر الداعية في أداء مهمته في جميع أحواله مخلصا محتسبا صابرا على القيام بواجب الدعوة وعلى أذية الخلق، ولا ييأس وإن لم يستجب لدعوته أحد، فإنه ليس عليه إلا البلاغ. وأما التوفيق فبيد الله عز وجل. قال تعالى حكاية عن نبيه نوح عليه السلام: ﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا (5) فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا (6) وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا (7) ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا (8) ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا (9) ([سورة نوح 6-9] وفي الصحيحين من حديث ابن عباس t: قال: خرج علينا النبي r يوما فقال: «عرضت علي الأمم، فجعل يمر النبي معه الرجل، والنبي معه الرجلان، والنبي معه الرهط، والنبي ليس معه أحد».
والداعي إلى الله إذا كان من أهل العزم والصبر استمر في أداء مهمته، وإن كان من أهل الجزع والضعف تركها كليا، وإن كان من أهل الحمق والجهل ربما انتصر لنفسه واعتدى على المدعو، فأفسد دعوته. والعياذ بالله.
أيها الداعية! إنك من ورثة الأنبياء في تبليغ الدعوة ونشر الرسالة فعليك أن تؤدي مسؤوليتك وتبذل ما في وسعك في سبيل الدعوة إلى الله مخلصا محتسبا صابرا يبارك الله في جهودك فتؤتي ثمارها، وتظهر نتائجها. ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ( [سورة التوبة: 120]
اللهم وفق الدعاة وسددهم وتقبل جهودهم، واجعلهم مباركين أينما كانوا. آمين.