الاثنين، سبتمبر 29، 2014


پیغام محبت
ڈاکٹرعبد المعطي الدالاتي                                                 ترجمانی: سیف الرحمان تیمی
                             يَحار القلبُ في ذكراكْ*** فيسألني متى ألقاكْ
    تیری یاد میں دل سرگرداں ہے, ہر آن یہی پوچھتا ہے کہ تیری بہار وصال کب ہے 
                              أصبّرهُ .. وأعذرهُ *** فمن يهواكَ لا ينساكْ
میں اسے منا تا ہوں, بھلاتا ہوں,جو تیرا شیفتہ ہووہ بھلا تجھے کیسے بھلا پائے
                             يحار القلبُ والفكرُ *** يحار اللحن والشعرُ
    دل دماغ حیران ہیں, سخن کو تاب گویائی نہیں, شعرکا دم ٹوٹا جاتا ہے
                          رسولَ الله ما السرُّ *** مُنى المليار في لقياكْ!
  رسو ل اللہ آخر راز کیا ہے کہ لاکھوں لوگ ایک تیرے دیدار کے فرط شوق میں بے تاب ہیں!
                            رسولَ الله يا عمري*** ألا يا حامل الذكرِ
       میری جان آپ پہ فدا اے اللہ کے رسول,اے صاحب قرآن ,اے فرقان
                             بقلب زجاجة العطرِ***حروفٌ تبتغي نجواكْ
مشک وعنبر سے باوضو ہو کر حروف والفاظ کے دل تجھ سے محو سرگوش ہونا چاہتے ہیں
                             رسولَ الله في قلبي *** رسالاتٌ من الحبِّ
میرا دل رسول اللہ کامسکن, محبت کے سارے پیغام اور الفت کے تمام سوغات انہی کے لئے ہیں
                              هنا في آخر الركبِ *** محبٌ قصدُه رؤياكْ 
یہاں کارواں کے پیچھے ایک ایسا حبیب بھی ہے جو محبوب کے شوق دیدارمیں بے قرار ہے
                                                   ***
 


بسم اللہ الرحمان الرحیم

عالمی صحافت کے اثرات اور نسل نو کی ذہنی تربیت

سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ , مدینہ منورہ
صحافت اور میڈیا ایک ہی چیز کے دو الگ الگ نام ہیں, دونوں اس ناحئے سے برابر ہیں کہ دونوں کی سنگینی ,وقتی اثرپزیری کے دائرہ کو پھلانگ کر تا دیر کی فکری اور ذہنی تبدیلی کی حد تک پہنچ جاتی ہے,صحافت میڈیا کی تمام صنفوں میں اس اعتبار سے سب سے قدیم ہے  کہ میڈیا کی تاریخ ,صحافت یعنی اخبار ہی سے شروع ہوتی ہے جسے ہم جدید مانوس لفظ میں پرنٹ میڈیا کہتے ہیں,
خبر اپنے اثر کے معاملے میں تب بھی اسی قدر مضبوط اور بے جوڑ تھا جب اس نے ابھی ڈگ بھرنے ہی شروع کئے تھے اور آج بھی اس کی بلا خیز تاثیر اسی طرح برقرار ہے بلکہ آج کے ماحول میں یہ بلا خیزی بسااوقات قیامت خیزی میں بھی بدلتی دیکھی جاتی ہے,صحافت اگرچہ بظاہر ایک معمولی سا علمی مشغلہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس پیشہ کو اختیار کرنے والے غیر معمولی ذمہ داریوں کےحامل ہوتے ہیں, کہتے ہیں کہ انسانی فکر کے تہ خانے میں چھپے ہوئے انقلاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دوڑتا دیکھنا چاھتے ہو تو اخبار نکالو اور انکو گھر سے باہر سڑکوں پر جاں بکف نکلتے دیکھو,عصر حاضر میں صحافت کی اہمیت اگر اس وجہ سے کسی کو گھٹتی معلوم ہو کہ ساری تاثیرات الکٹرانک میڈیا نے لے لیا ہے تو یاد رکھنا چاہئے کہ الکٹرانک میڈیا جس میں ٹی وی , ریڈیو,انٹرنیٹ اور اسکے مختلف شوسل سائٹس شامل ہیں, یہ سب کسی نہ کسی ناحئے سے پہلے پرنٹ میڈیا کے مرحلے سے ہی گزر تے ہیں ,بلفظ دیگر انہیں تاثیر, صحافت اور اسلوب صحافت ہی سے ملتی ہے ورنہ بے تکی حرکتوں اوربے معنی باتوں سے کس دل  پر اثر پڑتا اور کون سا ذہن اسے قبول کرتا ہے , یہ بتانے کی ضرورت نہیں- ہم گفتگو صحافت کی تاثیری قوت پر اس لئے کرناچاہتے ہیں کہ آج کے ماحول میں اس نے ایک خاص خول پہن لیا ہے اور اس ایک کے انیک روپ سامنے آرہے ہیں,سچائی یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں نے آج سے تقریبا ایک سو پندرہ سال قبل ۱۸۹۸ میں یہ فیصلہ لیا تھا کہ" اگر ہم یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے سونے کے ذخائز پر قبضے کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا اہم درجہ رکھتے ہیں۔ ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے، ہم اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا موٴثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی رائے کو موٴثر ڈھنگ سے ظاہر کرسکیں، اور نہ ہی ہم ان کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری نگاہوں سے گزرے بغیر کوئی خبر سماج تک پہنچ سکے" یہودیوں کا یہ منصوبہ ۱۹ پروٹوکولز کی صورت میں دنیا کے سامنے بھی آچکا ہے-
یہودیوں نے دنیا پر غلبہ پانے کے اس منصوبے کو یقینی بنانے کے لئے سب سے زیادہ صحافت اور میڈیا کے اس حصہ پر فوکس کیا جس کا تعلق نوجوانوں اور قوم کے نو نہالوں سے ہے ,تاکہ اقوام وملل کی اصل پونجی ہی مخدوش ہو جائے اور انکی تعمیری صلاحیت , تخریبی مواد میں بدل جائے ,اس کے لئے انہوں نے اخبارات و رسائل کے ساتھ خبر رساں ایجنسیوں کے قیام کی طرف بھی خصوصی توجہ کی ،یہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے استعمال سے اپنی خواہش کے مطابق وہ کام کرتے ہیں، عالمی خبر رساں نیوز ایجنسیوں کے ذریعے یہودی ہمارے دل و دماغ کو دھو رہے ہیں-دوسری طرف فلموں( جن کی بنیاد بھی صحافت ہی پر قائم ہوتی ہے) کے ذریعے ہمارے نوجوانوں اور فرزندانِ قوم کے دل و دماغ کو اپنے افکار و خیالات کی مسلسل غذا پہنچارہے ہیں تاکہ ہمارے بچے  ا ن یہودیوں کے دم چھلے اور فکری غلام بن جائیں , صرف دو گھنٹے کے قلیل وقفے میں  فلموں کے ذریعے ہماری ابھرتی ہوئی نسل کی عقل کومفلوج اور کردار کومسخ کر دیا جاتا ہے،۔ وہی عقل اور کردار جس کی تیاری میں مہینوں اور سالوں اساتذہ اور مربیوں نے صرف کیے تھے-
صحافت اور پرنٹ میڈیا کی اسی سحر انگیزی کے پیش نظریہودی اسے اس قدر عزیز سمجھتے ہیں کہ ایک ایک یہودی فرم ۵۰،۵۰ اخبارات اور میگزین شائع کررہی ہے۔ نیوزہاوٴس یہودیوں کی ایک اشاعتی کمپنی ہے جو۲۶ روزنامے اور ۲۴ میگزین شائع کرتی ہے۔
دنیا میں پانچ بڑی میڈیا فرم ہیں جن کے سارے سربراہان, عہدیداران, ایڈیٹرز اور منیجرز یہودی ہی ہیں
پہلے نمبر پر والٹ ڈزنی آتی ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو ،پروڈیوسرز ، منیجرز اور جنرل منیجرزسب یہودی ہیں۔
۔دوسری بڑی میڈیا کمپنی” ٹائم وارنر“ہے، جس میں کام کرنے والے تمام چھوٹے بڑے عہدیدار یہودی ہیں۔
۔ ”وایا کام پیراماوٴنٹ “دنیا کی تیسری بڑی میڈیا فرم ہے۔ اس میں بھی تمام ملازمین یہودی ہیں۔
چوتھی بڑی کمپنی” نیوز کا رپوریشن“ ہے، اس کمپنی میں یہودیوں کے علاوہ اور کسی کو کام نہیں ملتا
پانچویں نمبرپر جاپان کی کمپنی ”سونی“ ہے۔ گو اس وقت اس میں زیادہ تر عملہ جاپانیوں پر مشتمل ہے، لیکن یہودی لابی اسے خرید نے کیلئے پورا زور لگا رہی ہے۔
میڈیا سے یہودیوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ
اس وقت جاپان میں صرف ۲۰۰۰ یہودی آباد ہیں۔ ان میں سے۱۰۰۰ یہودی کسی نہ کسی شکل میں میڈیا سے وابستہ ہیں-
یہ تمام کمپنیاں بہ اتفاق رائے جس مشن پر لگی ہوئی ہیں اسے اگر وہ اپنے لفظوں مین دنیا پر غلبہ پانے کا نام دیتے ہیں تو ہم اسے مسلمان عالم کو صفحئہ ہستی سے مٹادینے کے ناپاک عزم  سے تعبیر کرتے ہیں,یہ تعبیر کہاں تک درست ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہودی مکاریوں اور سازشوں کا تاریخی تسلسل بہت کافی ہے,
فرقہ واریت کے جذبات کو شہہ دینا، واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنا اور ان کو خلافِ شان حرکتوں پر مجبور کرنا، دوسروں کے محاسن کو بالائے طاق رکھنا , ان پر دبیز پردے ڈالنے کی کوشش کرنا، نااہل افراد اور جماعتوں کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دینا، رائی کو پہاڑ بنانا، اصولی مسائل کے بجائے جزئیات اور غیرضروری اُمور پر توجہ مرکوز کرانا___ یہ سب عالمی صحافت اور میڈیا کے ایسے مظاہر ہیں جو یہودی عزائم کی تکمیل کے لئے شب وروز انجام دئے جارہے ہیں۔ حقائق کا نظروں سے اوجھل ہوجانا، اخلاقی قدروں کی پامالی، فتنہ و فساد کا دور دورہ اور انسانیت دشمنی کے المناک حوادث اور کربناک واقعات کی ذمہ داری بھی تعصب و جانب داری پر مبنی اسی قسم کی صحافت کے سر آتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام عزائم میں سب سے زیادہ اور سب سے آسانی سے ناپختہ نوجوان ہی استعمال ہوتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں, ان عزائم کی تکمیل میں انکی موجودگی ہی دراصل صحافت کی سنگینی کو دوبالا کرتی ہے,صحافت کے ذریعہ انکی برین واشنگ, انکے جذبات سے کھیل کر انکی بلیک میلنگ اور ان کے کندھوں پر بندوق رکھ کر نشانہ بنانے جیسے دورخے پن نے یہودیوں کے لئے ان کا مشن آسان بنا دیا ہے,وہ مختلف پروگرامز اور متنوع کالمزکے ذریعہ انکی رائے سے بآسانی با خبر ہوتے ہیں اور اس طرح بغیر مشقت کے معاشرہ کے نبض پر ان کا ہاتھ موجود رہتا ہے,وہ سماج کے ہر پرندے کا پر تولنے اور ہر گھر کا نمک چکھنے میں کامیاب رہتے ہیں-
میڈیا کا حملہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ نوخیز ذہن کو ایک خاص رخ دینے میں  بہت جلد کامیابی مل جاتی ہے , صحافت نے نئی نسل کا مزاج بگاڑنے، اس کے اخلاق خراب کرنے اور اسے نفسانی خواہشات کا غلام بنانے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی ہے,
وہ ناپختہ ذہن جسے ابھی تربیت , پختگی اور بلند فکری حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے, اسے یہ مرحلہ آنے سے پہلے ہی اس لائق بنادیا جاتا ہے کہ مربی کی تربیت, مصلح کی اصلاح اور استاد کی فکری باتیں اس پر بے اثر اور بے معنی ثابت ہوتی ہیں,اور وہ صحافت کے پیش کردہ اخلاق سوزی,فکری پستی اورناروا کردارو گفتار کے جال(نٹ) میں پھنستا ہی چلا جاتا ہے, پھر ہوتا یہ ہے کہ ہزار مخالفتوں کے باوجود بھی سماج ومعاشرہ میں وہی تہذیب راہ پاجاتی ہے , جو صحافت کے ذریعہ پیش  کی جاتی ہے,نتیجہ ظاہر ہے سماج ہمارا ہوتا ہے, اس کے حوادث غیروں کے کئے ہوتے ہیں,اس میں اٹھائے جانے والے ایشوز کسی اور کے پیش کردہ ہوتے ہیں,اولاد مسلمانوں کی ہوتی ہیں,انکے دماغ کو غذا اور فکر کو توانائی کہیں اور سے پہنچ رہی ہوتی ہے,اب وہ ہمارا ہوکربھی ہمارا نہیں رہتے,چال ڈھال اتنے خود سر کہ باپ دادا کی برسوں پرانی تہذیب کویک لخت روندتے ہوئے بھی انہیں باک نہیں ہوتا,روشن خیالی کے نام پر ساری پرانی روایتیں دقیانوسیت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں,اب مغرب کے خول میں مشرقیت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے,سیکولر ذ                                                                                        ہنیت کو فروغ دینے کی آڑ میں لادینیت کا رواج ہونے لگتا ہے,الحاد ایک مذہب کے روپ میں پنپنے لگتا ہے, اورفکری دیوالیہ پن کا ایسا آغاز ہوتا ہے کہ تھامے نہیں تھمتا.... ہمارے موجودہ سماج میں ان سب کی زندہ مثالیں کسی بینا نظرسے اوجھل نہیں!
خلاصہ یہ ہے کہ یہ حالاتِ حاضرہ کا ایک دل گیر عمومی منظر نامہ ہے، جوسب  نام نہادسیکولر جرنلزم کا کیا دھرا ہے۔ اوراگر بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تویہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ سانحہ صرف  اسلامی  صحافت کے بحران کے نتیجے میں رونما ہوا ہے۔ کیوں کہ اگر یہ بات المیہ ہے کہ حالات اور کفریہ طاقتیں ہمارے خلاف ہیں، توپھر یہ امر بھی سانحہ ہے کہ ہم نے اس خطر ناک اور تباہ کُن خاموش طوفانِ بلا خیز کا چیلنج بھی قبول نہیں کیا ہے۔ مدارسِ دینیہ اورعلمائے کرام کی طرف سے صحافت کا میدان  اکثر بے توجہی کا شکار رہا ہے ۔ اس محاذ کو جس التفات کی ضرورت تھی، وہ اس کو نہیں مل پائی ۔ جس کی وجہ سے ایک ’’اسلامی صحافت کے بحران‘‘ کا سا سماں رہا ہے۔       اور یوں علمائے کرام  اس میدان میں قدم رنجہ فرمانے  سے کتراتے رہے اور اس زمین کو بے علم اور بے فہم سیکولر لوگ روند تے رہے۔عوام ان کی گمراہ کُن راہ نمائی کی وجہ سے اپنا اسلامی راستہ دھیرے دھیرے فراموش کرتے گئے۔ بنا بریں یہ معاشرہ اسلامی نہیں ،بلکہ مغربی تہذیب کی ایک خزاں رسیدہ اور سوختہ شاخِ نازک کا منظر پیش کرنے لگا۔ آج 95فیصد صحافت سیکولر ہے۔ اسلامک جنرنلزم نہ ہونے کی وجہ سے مغرب نواز کالم نگار، اینکر پرسن، پروڈیوسرزاور پروگرامرز سب  ملکر اسلامی روح کو مسخ کرنے اور جہاد,خلافت,تکفیرجیسے اسلامی اصطلاحات کو غلط طریقے سے پیش
کرنے میں کامیاب رہے ہیں ,اس کے علاوہ یہودی دماغ سے فکری نشوونما اور عیسائی وسائل سے بطنی غذا پانے والے
قلم  کاروں نے  جہاں  بہت سے گل کھلائے وہیں
ایک اور خطرناک کام یہ کیا کہ انہوں نے آج کے حقیقی علم سے نابلد نوجوانوں  کو یہ باور کرانا شروع کررکھا ہے کہ اسلام موجودہ زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔
اس دکھتے ہوئی رگ کا علاج وہی ہے جسے ہم نے اسلامی صحافت سے تعبیر کیا ہے, جب تک ہم اپنی کاوش سے موجود خلا کوپر کرنے کےلئے آگے نہیں آتے, دشمن کے پاؤں جمتے ہی جائینگے اور انکے ناپاک عزائم کی تکمیل آسان تر ہوتی جائیگی,ہم اپنےنونہالان اور قوم کے نوجوانان کو انکے فکری یرغمال  بننے سے نہیں روک پائینگے ,ہمارے گھر اور سماج مغربی رنگ میں رنگتے رہینگے ,ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے نونہالوں کا مستقبل لٹتا رہیگا,قوم کے نوجوانوں کی مردانگی جاتی رہیگی اور حوا کی بیٹیاں اپنی نسوانیت سے محروم ہوتی رہینگی اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہینگے!
اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے




الأربعاء، سبتمبر 24، 2014

خرد   
ساگرتیمی
  وہ شام کا وقت تھا ۔  سارے لڑکے لڑکیاں کینٹین میں چائے نوشی کے لیے آیا ئے ہوئے تھے ۔ یہ یونیورسٹی کاعام مزاج تھا ۔ لائبریری سے نکل کر کبیر نے بھی کینٹین کی راہ لی ۔ کینٹین میں جوہی  پہلے سے چائے کا آرڈر دے کر اس کے انتظار میں تھا ۔ کبیر نے چائے لی اور اپنے نئے خوبصورت موبائل کے ساتھ میسجینگ میں مصروف ہو گیا ۔  جوہی  کو برا لگا لیکن وہ جانتا تھا کہ اب اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا ۔ اور تھوڑی دیر بعد وہ اس سے معذرت کرتا ہوا نکل گیا ۔ فیس بک کی اہمیت کا احساس اسے اس دن کچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا ۔
   " میں تہمیں فیس بک پر دیکھتی رہی ہوں "
"اچھا ؟"
" تم بہت اچھے لگتے ہو "
" تصویر میں یا سچ مچ؟ "
" دونوں جگہ "
" تو ؟ "
" میں تم سے ملنا چاہتی ہوں اگر تمہیں مجھ سے مل کر خوشی  ہو "
" ٹھیک ،کل شام چائے پر ملتے ہیں "
     کبیر نے اسے ہلکے میں لینے کی کوشش ضرور کی تھی ۔ لیکن اب اسے شام کا انتظارشدت سے تھا ۔اس کی باتوں سے اس کی لیاقت بول رہی تھی ۔ اس نے بغیرملے ہی اسے اپنا گرویدہ بنا لیاتھا ۔ اس کی طبیعت نے بارہا اسے اکسا یا کہ وہ اس سے بات کرے لیکن در اصل وہ ہمت نہ کرسکا۔  اسے لڑکیوں سے باتیں کرنے اور ان کے ساتھ  چھیڑ کرنے کی عادت سی تھی لیکن اس مرتبہ اس کے دل کی کشتی خود ہی ڈانواڈول تھی ۔  فلسفےدم توڑ چکےتھے اور ترکیبوں کا کوئی مطلب بھی  نہیں تھا  ۔
     دوسرے دن کی  شام گوری رنگت کی ایک چلبلی سی لڑکی اس کے سامنے تھی ۔ میانہ قد ، چوڑی پیشانی، چمکداربولتی ہوئي آنکھیں اس کے بھولے  سے چہرے پر سلیقے سے سجی ہوئی تھیں ۔ اس پر اس کے پتلے سے دونوں لب جیسے پھول کی  دو پتیاں ۔ اس نے اس کے سراپے پر ایک نطر ڈالی اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہ پاتا اس نے کہا " ہائے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔"
" اور میں کبیر ۔۔۔۔۔۔"
چائے لیتے ہوئے دونوں کی گفتگو آگے بڑھنے لگی جیسے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ پچھلے کئی مہینوں سے چل رہا ہو ۔ کبیر نے دوسری بار اس کے مقابلے اپنی شکست قبول کی ۔ بولتے ہوئے اس کے دانتوں کی چمک اور مسکراتے ہوئے اس چہرے کی دمک نے اسے کہیں کا نہيں چھوڑا تھا  ۔ آج اسے بھی اپنے سمارٹ ہونے کا احساس ہو رہا تھا کہ بہر حال پہل تو اسے نے کی تھی ۔  اس کے خیالات کی دنیا پھیلتی چلی گئی۔ اور دل کے دریچوں سے خوشبوؤں کی آمد سی ہونے لگی ۔ اورپھر وہ اس کے ساتھ کچھ ایسے آئی جیسے بہار نہ جانے کے لیے آگئی ہو ، جیسے نسیم کے چلنے کا سلسلہ رکے گا نہيں ،  جیسے صبح و شام کے یہ حسین نظارے کبھی فنا نہیں ہوںگے ، جیسے گلاب کے اوپر صبح کے وقت  شبنم کے حسین قطرے گرتے رہینگے ۔ 
     اس کا نام نورین  تھا ۔ ہندو ماں اور کمیونسٹ باپ کے بیچ پروش پانے والی اس لڑکی کے اندر غضب کا حسن جمع ہو گیا تھا ۔ ایک طرف اس کے اندر پرانے ہندو خاندان کی تہذيب تھی  تو دوسری طرف کمیونسٹوں کی سی روشن خیالی ، لاابالی پن اور زبردست سماجی شعور ۔ یونیورسٹی کے اندر اپنے شروعاتی دنوں میں اس نے بایاں محاذ کی  پارٹیاں بھی جوائن کی تھی ۔ اسی لیے بولنے کے معاملے میں خاصی بے باک اور اپنے نکتے واضح کرنے کے سلیقہ سے آراستہ تھی ۔ سیاست ، سماج ، مذہب اور جرائم کی نفسیات پر گفتگوکرتےہوئےاس کی سنجیدگي کےساتھ ہی اس کے نکتے اس کی غیر معمولی ذہانت کے گواہ ہوتے ۔
         کبیر جب اپنے دوستوں کے ساتھ اس کی باتیں شیئر کرتا تو اس کے دوست مسکرا کر رہ جاتے جیسے انہیں یقین ہی نہ ہو لیکن جب وہ اس سے مل لیتے تو پھر کبیر کی خوش نصیبی  پر رشک کا اظہار ضرور کرتے اور یہ بات کبیرکو بہت اچھی لگتی ۔ ان میں سے ایک نے جب یہ کہا کہ اسے نورین کی بجائے خرد کہا کرو تو اسے یہ نام بہت پسند آیا اور پھر نورین خرد بن گئی ۔ بات یہ تھی کہ خود نورین کو بھی اپنی شخصیت سے جڑی یہ تعریف اچھی لگتی تھی ۔ ایسے کبیر ایک عام سا طالب علم تھا ۔ سیاست ، مذہب اور فلسفہ سے اسے کوئی زیادہ سروکار نہیں تھا ۔ وہ اپنے سبجیکٹ میں اچھا تھا اور دیکھنے میں ایسا کہ لڑکیاں اعتماد سے اپنی سہیلیوں سے اس کے بارے میں اپنے عشق کا قصہ بیان کرسکیں ۔ خرد کو اس کے مردانہ وجاہت نے ہی اس کے اتنا قریب کردیا تھا ۔
        خرد کی یادداشت بلا کی تھی  ۔ اسے پڑھنے کا بھی شوق بہت تھا ۔ کبیر اسے اپنے موضوع پر لاکر بات کرتا کہ لٹریچر میں تو کم از کم اپنی برتری ثابت ہو لیکن وہ ادب پر گفتگو کرتے ہوئے بھی کہيں سے کمزور نہ پڑتی ۔ خرد کی باتیں سن کر اسے " لندن کی ایک رات " کی شیلا گرین یاد آجاتی۔ ایک روز اس نے اس سے کہا ۔
" کبیر ! ہم سب اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ "
" خرد ! مجھے اس قسم کے سوالات الجھن میں ڈالتے ہيں ۔ اس لیے میں اس طرف سوچتا بھی نہیں "
" لیکن یہ مسئلے کا حل تو نہيں ہے  نا "
" ہاں ، لیکن میں بے مطلب الجھنا بھی نہیں چاہتا ۔ یوں بھی ہم سے پہلے لوگ سب کچھ کر کراکر تھک چکے ہيں "
" لیکن اس سے ہماری ذمہ داری ختم تو نہيں ہو جاتی ۔"
" خرد ! میں جب کبھی اس پر سوچتا ہوں کنفیوزڈ ہو جاتا ہوں "
" تو یہ کرو نا کہ سوچنے کی بجائے بس کرنا شروع کردو ۔ کوئي ایسا کام جس میں سب کی بھلائی ہو ۔ ہماری تمہاری اور سب کی ۔ میرا مطلب ہے انسانوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
      اسی درمیان کبیر کی  کال آگئی اور اسے وہاں سے نکلنا پڑا ۔  
اس بیچ وہ دونوں کئی بارملے ۔ باتیں ہوئیں ، مناقشے ہوئے ، بحث و تکرار میں لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن ان کی محبت پروان بھی چڑھتی رہی ۔ خرد اس درمیان یہ کوشش کرتی رہی کہ کبیر زندگی کے اس افادی پہلو کو سمجھے جس پر وہ ایمان رکھتی ہے ۔ اس کبیر سے بلا کی محبت تھی اور اس معاملے میں اس کا کوئي اختیار بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا ہم سفرایک عام سے فکر کا آدمی ہو جو بس کمانے کھانے کو زندگی سمجھتا ہو ۔
 کئي  دنوں بعد خرد نے باتوں باتوں میں کبیر سے پوچھا ۔
" کبیر ! ایسے تم کرنا کیا چاہتے ہو ؟ "
" پہلے تو بہت زیادہ متعین ہدف نہیں تھا ۔ بس نوکری کرنا چاہتا تھا لیکن اب ۔۔۔۔۔۔"
"لیکن اب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
" اب تم سے ملنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے تمہارے نظریے سے اختلاف کرنا آسان نہیں تو کیوں نہ تسلیم ہی کرلیا جائے "
 خرد کی آنکھوں میں بجلی کی سی چمک آئی۔ اس نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے پیار سے دباتے ہوئے کہا ۔
" کبیر اب تک تم اپنی مادی شخصیت کی وجہ سے میرے لیے مرکز توجہ تھے ۔ میں نے جب تمہیں دیکھا تھا تم مجھے سمارٹ کے ساتھ ہی ذہین لگے تھے ۔ لیکن آج جب تم نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ہے مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے پوری دنیا مل گئی ۔ جان من ! تم اس راستے پر آگے بڑھو ، تمہاری  خرد سدا تمہارے ساتھ  ہوگی ،ہم اس دنیا  کو بدلینگے ۔ اونچ نیچ ، بھید بھاؤ اور تفریق کی لعنت کے خلاف ہم لڑینگے ۔ ہم سیاست کا مفہوم بدلینگے ۔ کبیر آج میں حد سے زیادہ خوش ہوں ۔ آج میں اپنے پاپا سے کہ سکوں گی کہ میں نے ایک ایسے مرد کو چنا ہے جو ان کی طرح ترقی پسند خیالات کا مالک ہے اور جو اپنی کوششوں سے بہتر سماج بنانے کا خواہشمند ہے  "
" ہاں خرد ! میں تم سے وعدہ کرتاہوں کہ اب یہ زندگی ایک مقصد کے تحت چلے گی۔ تمہارا ساتھ رہا تو میں پہاڑوں سے گزر جاؤنگا  "
" کبیر! میں نے تمہیں منتخب کیا تھا ۔ تم میرا یقین مانو کہ وہ بھی میری خود اعتمادی تھی ۔ تم یہ سوچ کر خوش ہو سکتے ہو کہ تہمیں ایک لڑکی نے چنا لیکن میں یہ سوچ کر بہت خوش ہوں وہ لڑکی میں تھی اور میرے دل نے جو کہا وہ میں نے کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اے کاش میری ہی طرح اس دیش کی ہر لڑکی کو اس کی اپنی  پسند سے اپنی زندگی کا ہم سفر چننے کی آزادی حاصل ہو تی ۔ "
" خرد ! ہم لڑینگے اس آزادی کے لیے ، تمہارے لیے ،اپنے لیے،سب کے لیے"
       پھر وہ دونوں خود اعتمادی ، اپنی مدد آپ اور انسانیت کی بھلائی کے بارےمیں دیر تک باتيں کرتے ۔ لمبی چوڑی اور کبھی ختم نہ ہونے والی باتيں ۔ " کبیر ! میں ایسے لوگوں کو نکما اور فالتو سمجھتی ہوں جو اپنا کام خود نہيں کر سکتے ۔ میں نے اپنی ایک لڑکی دوست سے اپنا تعلق اس لیے توڑ لیا کہ وہ ایک لڑکے کو چاہتی تھی اور  وہ یہ چاہتی تھی کہ میں اس لڑکے تک یہ بات پہنچاؤں کہ میری دوست اس پر مرنے لگی ہے ۔ میں نے اسے صاف لفظوں میں کہا تھا  کہ یہ ذلیل حرکت مجھ سے نہيں ہوگی ۔ اگر اس کے  اندر ہمت ہے تو جا کر اظہار عشق کرے ورنہ آہیں بھرنے والوں اور دکھڑا سنانے والوں سے مجھے کوفت ہی  ہوتی ہے ۔" اور کبیر مسکرائے بغیر نہيں رہ سکا تھا ۔
       آج سالوں بعد جب سماج سدھار کے کام میں کبیر کی شناخت بن گئی تھی ۔ عورت ، بچہ اور پسماندہ لوگوں کے حقوق کے لیے لڑائی جاری تھی اور کبیر کو ایک آئیکن کے روپ میں دیکھا جارہا تھا ۔ غریب لوگ اسے مسیحا سمجھ رہے تھے  ۔ اپنے آنگن میں بیٹھا کبیر خرد کی گود میں گلکاریاں لے رہے اپنے بیٹے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور خرد محلے کے ایک لڑکے کو سمجھا رہی تھی کہ اگر تم امتحان پاس کرنے کے لیے سفارش کے محتاج ہو تو بتاؤ زندگی کے امتحان کیسے پاس کروگے ۔ اور اسے وہ منظر بہت شدت سے یاد آرہا تھا جب خرد نے اس کے ایک دوست سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ۔ " جوہی  ! اگر وہ لڑکی تمہيں اچھی لگتی  ہے تو جاؤ اس سے خود اپروچ کرو ۔ جب ایک  معمولی لڑکی  سے اپنی بات نہيں کہ سکتے تو اس ظالم دنیا کے سامنے تمہاری زبان کیسے کھلے گی ۔ یوں بھی مجھے دلوں والا کام بالکل بھی پسند نہيں " ۔