الاثنين، مايو 26، 2014

غزل
ساگر تیمی
اتنی الجھی ہوئی تحریر نہیں ہو سکتی
نیند ہی خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی
میں مصور کی لیاقت کا بھی قائل ہوں مگر
آپ سی آپ کی تصویر نہیں ہو سکتی
میری کوشش میرا انجام بدل سکتی ہے
نامرادی میری تقدیر نہیں ہو سکتی
ایسا وعدہ کہ میں وعدہ نہ کبھی توڑونگا
زندگی ہے تو یہ تقصیر نہیں ہو سکتی
عزم انسان کو پابند و مقید کرلے
اتنی مضبوط بھی زنجیر نہیں ہو سکتی
اس کا مطلب ہے اعمال ہی کھوٹے ہونگے
جادو ٹونا کی یہ تاثیر نہیں ہو سکتی
میں بھی ساگر اسے انسان کا بچہ سمجھوں
مجھ سے ظالم کی یہ توقیر نہیں ہو سکتی 

الجمعة، مايو 23، 2014


اسلامی شناخت ، نئي حکومت  اورمسلمان
ثناءاللہ صادق تیمی،جواہرلال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی
پچھلے دنوں ہندوستانی مسلمانوں کے اوپر حسن سرور کی ایک دلچسپ کتاب منظر عام پر آ‏ئی ۔ انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کے اندر مختلف ذیلی عناوین کے تحت یہ بات بتلائی گئی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نئی نسل زیادہ سمجھدار اور صحت بخش خیالات کی مالک ہے ۔ ان کے اندر جہاں اسلام کی طرف رجحان بڑھا ہے وہيں وہ ہندوستان کے مین اسٹریم کا حصہ بھی ہوئے ہیں ۔ یہ اپنے پروجوں کی مانند خوف کی نفسیات میں نہیں جیتے ۔ انہیں روزگارکی تلاش ہے ۔ مذہب ان کےلیے روحانی سکون و ارتقا کا ذریعہ ہے سیاست اور ہنگامہ آرائی کانہیں ۔ کتاب کا عنوان ہے " ہندوستانی مسلمانوں کا بہاریہ ۔ کوئي اس بارے میں بات کیوں نہیں کر رہا " ۔ اس کتاب کے اوپر جے این یو کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر ابھے کمار نے بڑا زبردست اور تفصیلی تبصرہ لکھا ہے جس کے اندر جہاں انہوں نے بہت سارے معاملات میں مصنف سے اختلاف کیا ہے وہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کا مسلمان اور خاص طورسے نوجوان بنیادی حقوق سے محروم ہے ۔ دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں اسے تعصب کا سامنا زیادہ ہے اور یہ کہ تھوڑے بہت لوگ اگر مطمئن ہيں تو اس سے پوری قوم کا اندازہ نہيں لگایا جاسکتا ۔ ابھے کمار مانتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں میں مثبت اور عملی افکار ہیں لیکن اس سے حکومت کی ذمہ داری کم نہیں ہوجاتی کہ وہ ان کے تئیں بہتررویہ اپنائے اوران کی ترقی کے لیے کام کرے ۔
       میں ذاتی طور پر حسن سرور کی اس کتاب کے بعض مشمولات کے انتہائی درجے میں گمراہ کن ہونے کے باوجود اس کتاب کو وقت کی ضرورت سمجھتا ہوں ۔ کتاب کےاندر حالانکہ مصنف کا تعصب بہت واضح جھلکتاہے ۔ ابھے کمار نے بجا طور پر گرفت کی ہے کہ تقسیم ہند کے لیے مسلم لیگ اور جناح کو الزام دینے والے سرور انڈین نیشنل کانگریس کی غلط پالیسیوں کا ذکر کیوں بھول جاتے ہیں ۔ ابھے کمار کی یہ گرفت بھی اچھی ہے کہ مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کے لیے ووٹ کرنے لگیں، اپنی روشن خیالی اور مین اسٹریم سے جڑنے کی دلیل کے طور پر  ، جس کا مشورہ دبے لفظوں میں حسن سرور دے گئے ہیں ۔    
       لیکن ان تمام کے باوجود میں سرور کی کتاب کو کئی ایک اعتبار سے اہم سمجھتاہوں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عام طور سے مین اسٹریم  میڈیا کے اندر مسلمانوں کی تصویرنہایت ناقص اور منفی دکھائی جاتی ہے ایسے میں اس قسم کی تحریر لوگوں کے سامنے ایک دوسری تصویر پیش ضرور کرتی ہے جو پوری طرح نہيں تو اسی فیصدی درست ضرور ہے ۔ تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کی مارجھیلنے والے ، روزگارسے بے دخل رکھے جانے والے اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھے جانے والے مسلمانوں کے اندر اگرتھوڑے  بہت تحفظات پائے گئے تو یہ کوئي زیادہ تعجب کی بات نہيں ۔ شاید اسی لیے نام نہاد سیکولر لوگوں نے اس کابھرپورفائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ۔ 1992 کے بعد پیدا ہونے والی نسل نسبۃ زیادہ عملی اور مین اسٹریم سے جڑی ہوئی ہو ہی سکتی ہے ۔ سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ سارےتعصبات کے بعد بھی لیبرلائزیشن آف ایکونومی کا فائدہ جہاں ملک کے اور دوسرے افراد تک پہنچاوہيں اس سے مسلمانوں کو بھی فوائد حاصل ہوے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کثرت نے ٹیلینٹیڈ نوجوانوں کے لیے اپنے دروازے وا کیے تو مسلمانوں کے اندر بھی ایسے نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں تھی ۔ ادھر آکریہ بھی سچ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دم پر محنت مزدوری کرکے بھی بہت کچھ اپنے حالات اچھے کیے اور اپنے بچوں کو تعلیم و تعلم سے جوڑا اور اس طرح ان کے حالات بہتر ہوئے ۔ عام انسانی  زندگی میں تعلیم ، روزگار اور اچھی صحت بہت معنی رکھتی  ہے ۔ اس کے بالمقابل اگرمسلم قیادت کا جائزہ لیا جائے تو وہ بالعموم اشتعال انگیز بیان بازی پر منحصر رہی ۔ کچھ باشعور لوگوں نے ملت کی مثبت رہنمائی کا بھی فریضہ انجام دیا اور الحمد للہ اس کے اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے ۔
     نئی نسل کے اندر اگر ایک طرف دین کی طرف مثبت رجحان بڑھا ہے اور دوسری طرف وہ مین اسٹریم لائف کا حصہ ہونے لگے ہيں تو اسے خوش آئند ہی کہا جائیگا ۔ دین کا یہ مطلب قطعا نہیں ہوتاہے کہ آدمی بات بات میں جائزناجائزاپنی کمیوں کودوسروں کے تعصبات سے جوڑکردیکھے ۔ ایسے ہندوستان کے اندر اسلامی شناخت کی حفاظت اور ساتھ ہی  قومی زندگی میں عام ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کا مسئلہ شروع سے ایک پریشان کن اور پیچیدہ مسئلہ  رہا ہے ۔ اس پورے معاملے میں ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیےکہ ہم نے قومی سطح پر بالعموم عملی رویہ اپنانے کی بجائے ہنگامہ آرائی کا رویہ اپنایا اور ہماری پوری قومی اورملی زندگی ان ہنگامہ آرائیوں کی نذر ہوگئی۔ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی زبردست جیت سے مسلم شناخت اور ملی زندگی کو لے کر کئی  سارے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں ۔ عام حالات میں مسلم قیادت اور تھنک ٹینک کے اندر ایک قسم کی مایوسی کی سی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس پوری صورت حال سے مایوس ہونے کی بجائے حکمت اور دانائی کےساتھ ابرنے کی ضرور ت ہے۔ اسے مندرجہ ذیل تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
1۔  سامنے کا سچ یہ ہے کہ اس مرتبہ بی جے پی کی زبردست جیت ہوئی ہے اور سیکولرپارٹیاں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ آئندہ پانچ سالوں تک حکومت ان کےہی ہاتھ میں رہے گی ۔ اس لیے جوشیلے بیانوں کی بجائے ایسے میکانزم سے کام لینا ہوگا جس سے حکومت اور مسلمانوں کے بیچ شکوک و شبہات کے دروازے بند ہو سکیں ۔
2۔ اس قسم کی صورت حال میں ملت کے اندر دو طرح کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ عام لوگ عجیب و غریب قسم کے ڈر کی نفسیات میں جینے لگتے ہیں اور مایوسی کے  دلدل میں دھنس کر اپنے آپ کو بگاڑنے میں انرجی  صرف کرنےلگتے ہیں ۔ اور صورت حال کا فائدہ ایسے سماج دشمن عناصر اٹھالینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو دین کو تخریب کاری کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور اپنی  الٹی سیدھی تاویلیوں سے غلط قسم کے جذبات برانگیختہ کرکے لوگوں کو انتہا پسندی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے میں قائدین ملت اور سماج کے باشعور لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جہاں عوام الناس کے اندر خود اعتمادی کو پروان چڑھائیں وہيں ان کی بہتر تربیت کے ذریعہ ان کے اندر کارگر سنجیدگی کو مضبوط کرنے کی  کوشش کریں ۔
3۔  اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ قائدین اخـباری بیانبازیوں کی بجائے زمینی سطح پر لوگوں کے بیچ رہ کر کام کریں اور ملت کی تعمیر سے مزید غفلت کا ثبوت نہ دیں ۔
4 ۔ حکومت بی جے پی کی بنی  ہے ۔ عام حالات میں مسلمانوں نے مودی کو ووٹ نہیں دیا ہے ۔ لیکن بی جے پی اب ہندوستان چلائے گی اور ہندوستان کا جس طرح یہاں کے ہندو یا دوسرے لوگ حصہ ہیں وہيں ہم مسلمان بھی اسی کا حصہ ہیں ۔ ایسے میں یہ سوچنا کہ ہم حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کیسے رکھ سکتے ہیں ۔ کوئی اچھی  بات نہیں ۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور جمہوریت میں کسی کے حق اور کسی کے خلاف ووٹ کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے ۔ ہم نے اگربی جےپی کے خلاف ووٹ کیا ہے تو بہت سے ہندؤں نے بھی تو ان کے خلاف ووٹ کیا ہے ۔ سمجھنےکی بات یہ بھی ہے کہ بی جے پی کو 31 ٪ ووٹ ہی ملے ہیں ۔ یعنی کم از کم ہم یہ کہ ہی سکتے ہیں کہ ہمارے علاوہ ملک کی اکثریت بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں تھی لیکن بہر حال اوروں کے مقابلے میں انہیں ووٹ زیادہ ملا اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گے ۔  مایوسی کی اس دیوار کو پاٹنے کی ضرورت ہے ۔ خود بی جے پی کا سمجھدار طبقہ بھی یہی چاہے گا کہ مسلمانوں کے اندر ان کی پارٹی کی امیج صحیح بنے ۔
5۔ خدانخواستہ اگر بی جے پی گورنمنٹ مسلم مخالف رویے اپناتی  ہے تب بھی ہمیں مایوس ہونے کی بجائے حکمت اور دانائی کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پیش آئيگی ۔ یوں بھی جمہوریت میں کسی کو مستقل دشمن سمجھ کر معاملہ کرنا بہت عقلمندی نہیں ہوتی ۔ ہمیں یہ تو طے کرنا ہی پڑےگاکہ ہم اپنے معاملات حکومت تک کس طرح پہنچائينگے ۔ پچھلے دنوں انگریزی کے مشہور فکشن نگار چیتن بھگت کی ایک متوازن تحریر سامنے آئی تھی جس کے اندر انہوں نے بی جے پی کومشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے فلاح و بہبود کی جانب بھی توجہ صرف کرے اور مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ تھی وہ بی  جے پی کے ساتھ گفتگو کا آپشن کھلا رکھیں ۔ نئے امکانات کی تلاش کوئی بری بات بھی نہیں اور شاید ہم ان سے قریب ہو کر اپنی حقیقی صورت حال سے انہیں واقف بھی  کرا پائیں ۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم اپنی بنیادوں کو کھودیں یا چاپلوسی کے رویے کے تحت ان سے تعلقات استوار کریں ۔ نہیں ، مطلب یہ ہے کہ کھلے دریچوں کے ساتھ ان سے گفتگوکریں اور ہندوستانی حکومت کے کرتا دھرتاہونے کے ناطے ان سے ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت کی  پوری معنویت کےساتھ  معاملہ کریں یہ ہماراحق بھی ہے کہ اور ہماری ضرورت بھی ۔
        یاد رہے کہ برے دنوں میں استقلال و ثبات قدمی کا ثبوت ہی سمجھدار قیادت کی علامت ہے ۔ ہمارے اوپر اس سے بھی خراب دن آئے ہیں اور ہم نے جم کر مقابلہ بھی کیا ہے ۔ مسلمان اللہ کی مدد اور اللہ کی قوت قاہرہ پر ایمان لانے والا ہوتا ہے مایوسی اس امت کا شعار نہیں ہو سکتی ۔ خوف کی بجائے شعور اور سنجیدگی اور حکمت   عملی طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں میں قومی  سطح پر تعلیم ، روزگار اور صحت کے ساتھ دین کی طرف مثبت رجحان اگر آیا تو ہے تو اسے مزید تقویت پہنچانے کی کوشش کرنا اور اس رجحان کو پٹری پر باقی رکھے رہنا قیادت کی بڑی ذمہ داری ہے ۔ دعاہے کہ اللہ ہمیں بہتر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت سے نوازے ۔ آمین ۔
         





السبت، مايو 17، 2014

الوسطية والاعتدال فى التعامل الدعوى

ثناء الله صادق التيمي 
جامعة جواهر لال نهرو - دلهي

 مُلئ القرن التاسع عشر والعشرون فى الهند بالمباحثات والمناقشات حول الديانات والمذاهب الفقهية وكان لفئة أهل الحديث فيها دور فاعل ممتاز. انتهز علماء السلفية هذه الفرصة السانحة لتبليغ رسالة الله إلى عامة الناس مستخدمين هذه المناسبات بغاية من الرزانة والحكمة بدون لجوء إلى العنف أو إثارة الكراهية ضد أية فرقة أو ديانة و مع أن هذه المناسبات حملت فى طياتها بعض السلبيات غير أنها نفعت كثيرا و لاسيما فئة أهل الحديث فى وصولهم إلى الناس و انتشار الفكر السلفي المبني على تعاليم الكتاب و السنة, لأن الدعاة السلفيين تماسكوا بأهداب الوسطية و الحكمة فى الجهود الدعوية فكان الشيخ ثناء الله الأمرتسرى على رأس هذه الجماعة, يقوم و يقعد للحق, يناضل بالحق كل من يخالف الحق والصواب سواء كان المقلدون من البريلويين أو الديوبنديين أو أصحاب المرزائية ـ أتباع مرزا غلام أحمد القاديانى ـ أو المسيحيين أو رجالات الديانة الهندوسية غير أنه كذلك كان يتحالف مع فئات المسلمين الأخرى على قضايا وطنية وتعليمية وما إليها. فكان يرأس جلسات ندوة العلماء بلكناؤ و يفصل بين أعضاءها فى الأمور المختلفة ويشارك فى حفلات جمعية علماء الهند مشاركة فعالة كرئيس لها و صاحب حكم فيها كما كان لايمنعه اختلاف فى المسلك من مؤازرة الفئات المسلمة الأخرى ضد أصحاب الديانات الأخرى الذين كانوا يحاولون النيل من صورة الإسلام الصافية. كذلك نلمس هذه الرزانة و الحكمة البالغة فى إجابات الشيخ القاضى سلمان سليمان المنصورفورى صاحب "رحمة للعالمين" كتاب معروف فى السيرة النبوية ومن أهم ما كتب فى الأردية حول السيرة فى الصحة و الأسلوب الحكيم العالى على شبهات أثيرت من قبل عالم لا يغضب ولا يميل إلى العاطفية بل يزود الرجل بالشعور و يكشف له عما انغلق عليه من الحقائق بغاية من الحكمة و المتانة العلمية.
غير أن هذه الأيام التى نمر بها نسيت هذه الأمثلة الحكيمة أو تقللت هذه الجهود الدعوية الحكيمة و جعلنا نميل إلى العنف و الضيق الفكرى حتى فى القضايا العلمية و الدعوية. و لابد هنا من الاعتراف بأن العاملين بالحديث النبوى فى الهند حققوا بعض النجاح الواضح فى العقيدة و السلوك. فقد تم تطهير العقيدة حول التوحيد من التلوثات الهندوسية و الآثار التصوفية ولاسيما فى الأسماء و الصفات و جعل عامة الناس يدركون أهمية الحديث فى صحته و ضعفه فيسئلون العلماء والدعاة عن صحة الحديث إذا ذكروه فى خطابهم أو بمناسبة أخرى, اللهم إلا أنه حدثت بعض المشاكل جنبا بجنب فقد كثر الميل إلى المباحثات والعنف فيها بدل الحكمة الدعوية لدى بعض العلماء الذين يغضون النظر عما يربط فيما بين المسلمين و يركزون جهودهم على إبراز ما يحدث التفرقة والخلاف فيما بين الأمة و بالتالى فإن الوحدة تكاد أن تنهار و تعم فتاوى الكفر, يطول اللسان و يضيق الصدر و الأعمال تكاد أن تغيب. إن هذه الظاهرة مؤسفة جدا وهى تحمل سموما تهلك الأمة و تقضى على وحدتها كما تضر الدعوة السلفية فى الهند.
وهنا يجدر بنا أن نأخذ هذه القضية, قضية التكفير و العنف من عدة جهات. أما الوجهة الإسلامية فهي واضحة تمام الوضوح بأن الإيمان مجمل و الكفر مفصل و معناه أن الرجل يعتبر مسلما مالم يصدر منه الكفر البواح و اجترأ على إنكار أركان الإيمان أو الإيمان و لقد صرّح أسلاف الأمة بأنه لوتأول أحد و دفعه التأويل إلى إنكار وليس إنكاره مباشرا صريحا, فلا يعد كافرا. فكانوا يؤثرون وجهة واحدة تشير إلى إيمان الرجل وإسلامه على تسع و تسعين وجهة تشير إلى كفره ولأجل ذلك قليلا ما نجد عندهم الجرأة على تكفير أحد.
ويرشدنا فى هذا الطريق العلامة ابن تيمية, فهو على رأس الجماعة السلفية, يدعو إلى العمل بالكتاب و السنة و يجاهد ضد الفرق الباطلة والأفكار غير الإسلامية و الدخيلة و لكنه لا يميل إلى العنف بل يكتب رفع الملام عن الأئمة الأعلام, لبيان أسباب الاختلاف و يبرهن على احترام كل من سلف و خدم الدين. وكذلك يرشدنا الشيخ العلامة محمد ناصر الدين الألبانى محدث العصر ومجدد الأمة جرئ فى الحق لا يخاف لومة لائم و لكنه لا يميل إلى التكفير أو العنف. يستدل بالآيات و الأحاديث وبها يبرهن على موقفه فأين نحن من هولاء الأسلاف؟
ولا يفوتنى أن أذكر هنا سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله فقد عاش حياة دعوية حكيمة, لا يداهن فى سبيل الحق ولا يميل إلى الشدة, حكيم فى أسلوبه, خبير بطرق الدعوة و مسالكها, قدم نموذجا خالدا للحياة الدعوية الحكيمة الناجحة.
ومما لاشك فيه أن الجهل يبيض العنف والتكفير و الكبر يفرخهما. فليس فيهم علماء أكفاء, إنهم أناس سمعوا بعض الخطباء فآمنوا بجهلهم أو أفراد دارسوا القرآن و السنة بدون إرشاد من أستاذ أو عالم فتمسكوا بظاهرهما أو رجال قضوا بعض الأيام فى العالم الإسلامي فمسهم الغرور أو متفرغون فى المدارس لا يعرفون عن حقيقة الدين غير أنهم علماء و مشايخ فى ظنهم و كثيرا ما تخطئ الظنون!!
و المسؤلية ترجع إلى العلماء ذوى المواهب العلمية و التوازن الفكرى فى عدم إنكارهم الشديد على هولاء المتعالين فى الأرض و مما يعجب له أن بعضهم يظنون بأن هذه الجهود و لولم تكن حكيمة لا تخلو من الفوائد, فالصراحة تبدى مالا تبدى الرموز, غير أنهم ينسون أو يتناسون بأن الدعوة إن لم تكن حكيمة ومطابقة بما أتى به الرسول محمد بن عبد الله صلى الله عليه و سلم فلن تكون مفيدة أبدا. فكل من يقبل السلفية بهذه الطريقة الغاضبة الهاجمة سيفقد العمق و يبرز أنعمة التأنى ولا يلبث أن يكفر كل من لا يكون رأيه كرأيه.
هذا, و تثير الفئات الأخرى فى الهند القضايا المتعددة وبها ترمي من التهم الزائفة الى السلفيين. و هذه بلاشك جهود سلبية و لكنها تكشف عن مخاوف الفئات و اضطرابها حول انتشار الفكر السلفى و هذا الأمر ملموس بأن الكثرة الكاثرة تدخل فى السلفية كلما تدارس القرآن و السنة و كلما يسعى أهل الحديث و لا سيما الدعاة منهم إليهم بالحكمة والموعظة الحسنة فتغضب هذه الجماعات وتخاف على مستقبلها وبالأخص الزعماء منهم, ومع هذا فإن ما يقوم به بعض المنتسبين إلى السلفية ردا للفعل من التكفير والتعنيف, لا نبّرره ولاتفتح هذه الظاهرة إلا أبواب الشر و الفساد و التفرقة فيما بين المسلمين.
ومن المؤسف جدا أن الجهود الدعوية السلفية فيما بين المسلمين تتمثل فى الخطابات والحفلات الدينية التى يجسدها الخطباء ونصيبهم من العلم قليل, يثيرون العواطف, يحدثون الغوغاء وبها يكتسبون وتنحرف الأذهان وتسلك سبيل غير المؤمنين فالحاجة ماسة إلى إصلاح هذه الظاهرة الفاسدة المفسدة و إلا فتكون النتائج وخيمة. وهنا يحسن بى أن أشير إلى بعض النقاط لو تم العمل بها ستنفع إن شاء الله.
1-    إسناد مسؤلية الدعوة إلى علماء أكفاء يعرفون أصول الدعوة وحكمتها تحت إشراف عالم أو شيخ يعرف السلفية ومبادئها.
2-    الابتعاد و مقاطعة أولئك الذين يكتسبون بالدعوة ويثيرون العواطف الساذجة ظلما وعدوانا.
3-    بذل الجهود لإحداث ترابط قوي فيما بين العلماء و العوام.
4-     الاهتمام فى المدارس بتاريخ السلفية فى الهند بالإضافة إلى التاريخ الإسلامي ليتعرف الجيل السلفى الجديد بأن السلفية متمثلة فى الوسطية فليست هى مداهنة وليست هى بعنف.
5-    العناية الفائقة بالروح العلمية بالإضافة إلى الجهة الفكرية, حتى تتحقق الأمانى الإيمانية و تخف المباحث الجدلية.
6-    تفتح مراكز لتأهيل الدعاة وتقوم الجمعيات السلفية بتدريب العلماء على الدعوة و التبليغ و تحريا للرفق و الحكمة التى بها تميزت شخصية الرسول صلى الله عليه و سلم. ولله من وراء القصد


الأحد، مايو 11، 2014

عدل ، اسلام اور ہم

ثناءاللہ صادق تیمی 
جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی

اسلام میں عدل کی کافی زیادہ اہمیت ہے ۔ اسلام کی بنیاد توحید پر ہے ۔ قرآنی تعلمیات کے مطابق تمام انبیاء کرام دنیا کو اسی توحید کا پیغام دینے آئے تھے ۔  توحید کی ضد شرک ہے اور قرآن حکیم کے اندر شرک کو ظلم عظیم یعنی بڑا ظلم کہا گیا ہے ۔ ان الشرک لظلم عظیم ۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی بنیاد عظیم عدل پر قائم ہے ۔ اور اس عدل کا تعلق محدود نہيں ۔ اسلامی تعلیمات کے اعتبارسے عدل انسانی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ ظلم کسی چيز کو اس کے اصل اورجائز مقام سے ہٹا کر کہیں اور رکھنے دینے کا نام ہے۔ مطلب یہ کہ عدل کسی چیز کو اس کے صحیح جگہ رکھنے سے عبارت ہے۔ اس تناظر میں عدل کی آفاقیت اور وسعت کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے کائنات کی تخلیق اللہ نے کی ۔ وہی اس کا مالک ہے اور اسی کے حکم و ارداے سے اس پوری کائنات کا نظام چلتا ہے تو پھر ایک وہی ایسا ہے جو اس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ۔ اللہ نے در اصل اسی غرض کے لیے بنی نوع انس و جن کوپیدا بھی کیا ۔ اللہ فرماتا ہے ۔ وماخلقت الجن و الانس الا لیعبدون (الذاریات :56) اس لیے عدل کا تقاضہ یہی ہے کہ عبادت صرف اسی ایک اللہ کی کی جائے ۔ اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اس لیے بھیجا کہ وہ لوگوں کو اس دین کی طرف بلائیں اور اس دین پر عمل کرکے دکھلادیں ۔ اللہ نے ان کا یہ حق بتلایا کہ ان سے محبت کی جائے ، اطاعت کی جائے اور ان کو ان کے اسی مقام پر رکھا جائے جس سے اللہ نے انہیں نوازا ہے ۔ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث کے اندر فرمایا کہ لاتطرونی کما اطرت النصاری عیسی بن مریم ، انما انا عبد فقولوا عبداللہ و رسولہ (متفق علیہ ) مجھے اس طرح مت بڑھاؤ جس طرح نصاری نے عیسی علیہ السلام کو بڑھادیا میں تو اللہ کا بندہ ہوں تو مجھے اللہ کا بندہ اور رسول کہا کرو ۔ حدیث پرغور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں غلو کرنے سے منع کیا وہیں اپنی اصل حقیقت سے آگاہ بھی کیا ۔ آپ کی زندگی بھی بتلاتی ہے کہ آپ نے افراط وتفریط ہردو صورت کو غلط قراردیا اور دین کی بنیاد عدل پر رکھی ۔ اسلام میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو عدل کے اس علامت کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم مسلمان اس بنیادی عدل سے بھی ناواقف ہیں اور اللہ رسول کے معاملے میں طرح طرح کے ظلم روا رکھے ہوئے ہیں ۔ رسول کو اللہ  بنالینا بھی خلاف عدل ہے اور اللہ کا ساجھی و شریک بنا لینا بھی ظلم ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقام نبوت سے اس طور پر نیچے لانے کی کوشش کرنا کہ ان کی بجائے کسی اور کو ان کا درجہ دے دیا جائے یہ بھی خلاف عدل ہے ۔ اسے ہماری بے حسی کہیں یا جو کہیں لیکن ہمارے یہاں یہ ظلم بہت رائج ہے ۔ اللہ بھلا کرے ۔ عدل کا یہ نظام انسان کے اپنے معاملے میں بھی لاگو ہے ۔ اسلامی تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان تزکیہ  کی خاطربھی  کوئي ایسا اقدام نہ کرے جس سے تعذیب نفس لازم آئے ۔ اسی لیے اسلام میں رہبانیت حرام اور ترک دنیا کو غلط کہا گیا ہے ۔ حضرت ابودرداء کے قصے میں یہ بات آئی ہے کہ انسان کے نفس کا اس پر حق ہے ، اس کے اہل و عیال کا اس پر حق ہے اور اس کے رب کا اس پر حق ہے تو اسے سب کا حق ادا کرنا چاہیے ۔ (البخاری )
       عام طور سے لوگ اسلام میں عدل کے تصور کو سماجی اور معاشرتی زندگی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ لیکن در اصل یہ عدل کے اسلامی تصور کا ناقص فہم ہے ۔ اسلام میں سماجی عدل کا تصور تو اتنا مضبوط ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مخزومیہ عورت کے چوری کیے جانے پر سفارش کی گئی تو آپ نے کہا کہ اگرفاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کیا ہوتا تو ان کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا ۔ ( البخاری ) ۔ ایک موقع سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوج کی صف درست کررہے تھے اور ایک صحابی نے نیزے سے چوٹ لگنے اور ایذا پہنچانے کی شکایت کرکے عدل کا تقاضہ کیا تو آپ نے بلا تامل اپنے پیٹ سے کپڑے الگ کردیے ۔ حضرت عمر نے بھری سبھا میں عمروبن العاص گورنر مصر کے بیٹے کو ایک حبشی غلام سے انصاف دلاتے ہوئے پٹوایا ۔ لیکن اسلام کا تصور عدل سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ پوری انسانی زندگی کو شامل ہے ۔ عدل و انصاف کے اس معاملے میں اسلام قوم و ملت کی کوئی تفریق نہیں کرتا ۔ وہ ہر معاملے میں عدل سکھلاتا ہے کہ اسلام دین حق ہے اور عدل سچ کا ہی دوسرا نام ہے ۔ اسلام کی بنیاد افسانوں پر نہيں ۔ اس لیے اسلام کبھی بھی ان چیزوں پر فخر نہيں سکھلا سکتا جو اصل نہ ہو ۔ اللہ نے تو اس امت کو اسی حق کی گواہی کے لیے بھیجا ہے ۔ لتکونوا شھداء علی الناس ۔ حضرت ربعی بن عامر نے کسری کے سامنے اسی حقیقت کا بر ملا اظہار کرتے ہوئے کہا" ان اللہ ابتعثنا لنخرج الناس من عبادۃ الناس الی عبادۃ اللہ ومن ضیق الدنیا الی سعتھا ومن جور الادیان الی عدل الاسلام " ہمیں اللہ نے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں کو لوگوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لگادیں ۔ دنیا کی تنگی سے نجات دلا کر اس کی وسعتوں سے ہمکنار کردیں اور ادیان باطلہ کے مظالم سے رہائي دے کر  اسلام کے شاہراہ عدل سے آشنا کردیں ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام اوراسلاف کے مقابلے میں ہم مسلمانوں کے اندر عدل کا جذبہ سرد پڑتا چلاگیا ہے ۔ انفرادی زندگي سے لے کر اجتماعی زندگي  تک  میں ہم نے عدل کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے اندر اس عدل کے ختم ہونے کی وجہ سے قومی سطح پر دو بڑی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ۔ ہمارے اندر اعتراف حقیقت نہيں اور اس کے نتیجے کے طور پر اگر دیکھیے تو ہمارے اندر جذبہ شکربھی نہیں ہے ۔ ہم مسلمانوں نے شکوے شکایت اور الزام تراشی کی نفسیات کو اپنا لیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اندر غصہ ، چرچراپن اور ملال کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ ہم خود کو مظلوم اور پوری دنیا کو ظالم کی نظر سے دیکھنے لگے ہيں ۔ اسلام نے تو یہ سکھلایا تھا کہ عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرو اور اپنے حقوق اللہ کے سپرد کردو ۔ لیکن ہم نے بالکل الٹا رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ ہم غلط طور پر فخر کی نفسیات میں جیتے ہیں اور افسانوں پر عمارتیں کھڑی کرتے ہیں جس سے سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ کچھ مثالوں سے اسے سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ جنگ آزادی ہند میں مسلمانوں کا زبردست کردار رہا ہے ۔ 1857 سے پہلے پہلے جنگ آزادی کی تمام کوششیں لگ بھگ مسلمانوں نے اپنے دم پر کیں ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ 1857 کے بعد بالعموم مسلمانوں کا رویہ سرسید کی مفاہمانہ روش کےزیر اثر رہا ۔ ہاں 1900 کے بعد جب مولانا آزاد جیسے لوگ سیاست میں آئے تو پھر مسلمانوں نے جی جان کی بازی لگا کر برادران وطن کے ساتھ دیش کو آزاد کرانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ۔ اور اس طرح اس مشترکہ کوشش سے یہ دیش آزاد ہوا ۔  ہم میں سے بہت سے مسلمان جوش میں آکر پوری جنگ آزادی کو صرف مسلمانوں کا کارنامہ بتلاتے ہیں ۔ اس سے دو بڑا نقصان ہوتا ہے ۔ پہلا تو یہ کہ ہم عدل کا دامن چھوڑ دیتے ہيں جو اسلام کی بنیاد ہے اور دوسرے یہ کہ انصاف پسند برادران وطن کو بھی یہ لگنے لگتا ہے کہ مسلمان جوشیلے اور غیر سنجیدہ ہیں اور اس طرح فرقہ پرستوں کو من مانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ اس کی ایک اور مثال کے طور پر ہم سائنس کو لے سکتے ہیں ۔ ہمارا دعوی ہوتا ہے کہ اسلام نے ہی سائنس کے پروان چڑھنے کے اسباب مہیا کیے ۔ پوری کائنات کو انسانوں کے لیے مسخر بتلایا اور اس طرح یہ دنیا یہ سوچنے کو تیار ہوئی کہ دنیا کو زیر نگیں کیا جاسکتا ہے ۔ ہمارا دعوی یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیا کو میڈیکل سائنس اوردوسرے سائنسی علوم کا تحفہ ہم نے ہی دیا ۔ یہ بات بالکل سچ ہے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ ہم نے ان علوم کو یونانیوں اور رومیوں سے بھی لیا اور اپنی محنتوں اور کاوشوں سے انہيں آگے بڑھایا ، ان میں اختراعات کیے اور اپنی حصہ داری نبھائی پھر جب ہم سوگئے اور یورپ جگا تو اس نے ہماری کوششوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس قافلے کواور بھی آگے بڑھایا اور وہ لگاتا ر ایسا کربھی رہا ہے ۔ جہاں ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم نے کیا کیا وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ جو دنیا نے کیا ہم اس کا اعتراف بھی کریں اور انہيں اس کا کریڈٹ بھی دیں ۔ اسلام کی تعلیم یہی ہے ۔ ولا یجرمنکم شنآن قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ھواقرب للتقوی ( المائدۃ : 8 ) کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھار دے کہ عدل نہ کرو ، عدل کرو یہی تقوی کے قریب ہے ۔ ہم اگر اعتراف نہيں کر سکتے تو شکر نہیں کر پائینگے اور اگر انسانوں کا شکرنہ ادا کیا جاسکے تو اللہ کا بھی شکر ادا کرپانا ممکن نہیں ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لا یشکر اللہ من لا یشکر الناس ( صحیح الجامع ) ۔ یہاں الناس سے مراد ظاہر ہے کہ صرف مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ ہم عام طور سے تنقید کرتے ہوئے اس عدل سے کام نہيں لیتے ۔ غلط پر نقد نہ کرنا غلط ہے لیکن صحیح پر نہ سراہنا بھی غلط ہے ۔ ہمارے یہاں جہاں غلط کو الحمد للہ بالعموم غلط کہنے کی تہذیب پائی جاتی ہے وہيں صحیح کو صحیح کہنے کا رجحان کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہمارے غیر منصفانہ رویے نے صورت حال ایسی بنادی ہوئي ہے کہ اگر صحیح کو صحیح کہا جائے تو بالعموم یہ ڈر رہتا ہے کہ کہيں چاپلوسی کا الزام نہ لگ جائے ۔ ہم جب دنیا کو یہ بتلا تے ہوئے فخرمحسوس کرتے ہیں کہ اسلام میں عدل ہے مساوات یا ظلم نہیں تو کیا یہ ذمہ داری ہماری نہیں بنتی کہ ہم اپنی سطح پر بھی اس عدل کو اپنی زندگیوں میں اتارلیں ۔ اللہ ہمیں عدل کو اس کے آفاقی تناظرمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔

السبت، مايو 10، 2014

انسانیت نوازی‘خدابیزاری‘ دین داری

سیف الرحمان حفظ الرحمان تیمی
جامعہ اسلامیہ‘مدینہ منورہ

اسے ہمارے عہد کا المیہ کہئے کہ ہر لفظ اپنا معنی کھو چکا ہے ‘ اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ‘ صحیح غلط کا معیار بدل گیا ہے‘ دین سے راہ فراری اور مذہب سے گلوخلاصی کے نئے نئے طریقے ڈھونڈ لئے گئے ہیں ‘ الحاد نظریہ کی شکل اختیار کرچکا ہے‘ لادینیت ایک مستقل مذہب کا روپ دھار چکی ہے‘ خدا بیزاری کو جدت پسندی اور روشن خیا لی کے سنہرے نام دئے جارہے ہیں ‘ انسانیت نوازی کے نام پر اور  خوش اخلاقی کے درپردہ دین متین کا انکار کیا جارہا ہے‘ مزہ کی بات تو یہ ہے کہ اسی کو تہذیب وتمدن اوربلند فکری سے موسوم کیا جاتا ہے‘ کسی یتیم کے گال کو تھپتپا کر‘بیوہ کی دادرسی کر‘ مسکین ودرماندہ کی فریادرسی کر‘ڈبڈباتی آنکھوں سے آنسو پوچھ کر‘ اور روٹھے لبوں پر مسکان چھیڑکرخدا کو پانے کاخواب سجایا جارہا ہے یا کہئے کہ دین بے زاری کے نئے اور دلفریب راستے وا ہورہے ہیں‘ مسجد ومحراب کے بجائے کسی غریب خانہ کے بجھے ہوئے چھولے میں خدا کو تلاشنے کا فلسفہ پیش کیا جارہا ہے‘ بلکہ معبودیت کو انسانیت کی ضد تسلیم کر لئے جانے پر ایک خاص حلقہ میں اتفاق سا ہو گیا ہے:
بچہ بولا دیکھ کے مسجد عالی شان 
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان 

اور یہ کہ:
کسی گہر کے کسی بجھتے ہوئے چھولے میں ڈھونڈ اس کو
جو چوٹی اور داڑھی تک رہے وہ دین داری کیا
اور یہ کہ :
مسجدیں ہیں نمازیوں کے لئے
اپنے گھر میں کہیں خدا رکھنا
یہ اشعار اسی قبیل کے مغربی اور دین بیزارانہ افکار کے معمولی نمونے ہیں_
ایسے نازک حالات میں اس نام نہاد انسانیت نوازی اور اخلاق نمائی کی حقیقت ‘ اور سچی دین داری کا صحیح مظہر سامنے لانا ضروری ہوگیا ہے کہ یہیں سے تکفیر کی راہ ہموار ہوتی اور دین میں تشدد کا راسبہ کھلتا ہے-
لفظ دین بنیادی طور پر اپنے اندر دو معنی کوشامل ہے‘ عام(لغوی) اور خاص(دینی): دین کے عمومی معنی میں خیروبھلائی اور نصح ونصیحت کی تمام قسمیں داخل ہیں‘ جبکہ دین اپنے خصوصی معنی کے اعتبار سے شعائر کی پابندی‘ رب کی طاعت گزاری‘ نوافل کے اہتمام‘ محرمات سے اجتناب‘ اور اسلامی تقدس کے احترام جیسے خالص مذہبی معانی پر دلالت کرتا ہے‘ اور اسکا درجئہ کمال رب سے تعلق کی استواری کے بقدر گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے-
دین کے عمومی اور خصوصی معانی کا یہ باریک سا فرق عام آدمی کی نظروں سے اوجھل پایا گیا ہے‘ بیشتر لوگ اسی تمیز سے بے بہرہ ہونے کے سبب دین کے معاملہ میں التباس کے شکار پائے گئے ہیں‘ کوئی محض ظاہری بود وباش ‘ خارجی طرز معیشت اوروقتی آداب تعامل سے متاثر ہو کر کسی کو دیندار ‘ خدا پرست اور انسانیت نواز ہونےکی سند دیدیتاہے‘ تو کوئی صرف اخلاق واقدار میں کمزوری اور عوامی رکھرکھاؤمیں ڈھیلا پن جیسے معمولی نقائص کی بنیاد پر ہی بے دینی کا فتوی دینے سے گریزاں نہیں‘  جبکہ انصاف کی بات یہ ہےکہ دین ایک الگ شیئ ہے ‘ اور عوامی سلوک وبرتاؤ اور اخلاقی قدروں کا لحاظ الگ..... یہ اور بات ہے کہ دین اپنے مبادئ اور اصول میں حسن تعامل اور خوش اخلاقی کو بہی شامل ہے‘ تاہم کسی انسان کے ظاہری خلق میں کمزرو ہونے سے دین کےتمام معاملات میں اس کے ہیچ ہونے کا حکم لگانا کسی بہی طرح بجا نہیں‘جس طرح کہ کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ دین داری میں اعلی مقام پر فائز ہے ‘ صرف اس بنیاد پر کہ سلوک وبرتاؤ اور خلق وتعامل میں وہ عوام کا ہردلعزیز ہے-
گویا ایک انسان دین داراور اور اطاعت گزار ہونے کے باوجود حسن اخلاق سے تہی داماں ہو سکتا ہے‘ بعینہ کوئی شخص اخلاق وکردار کے اوج ثریا پر ہو کربھی دین کے ادنی حصہ سے محروم پایا جاسکتا ہے‘ اس آخری قسم کے لوگ آج کے "تہذیب یافتہ اور انسانیت نواز"کہے جانے والے معاشرے میں ڈگ ڈگ پر نظر آتے ہیں‘کہ جہاں اخلاق واقدار کا معیار ہی بدل چکا ہے-
دین اور خلق کے باب میں تیسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جو دین داری اور حقوق اللہ کی پاسداری  کے دست بدست خوش مزاجی‘ حسن سلوک‘ خندہ جبینی‘ نرم گفتاری اور تواضع وانکساری جیسے حقوق العباد سے متعلق ضروری صفات سے بھی متصف ہوتے ہیں‘ یہی وہ لوگ ہیں جو عباد الہی کے ساتھ بندگان الہی کے تئیں  حسن تعامل کو اتمام دین سمجھتے بلکہ ہر ایک کو دوسرے کا لازمہ گردانتے ہیں اور اس میں تشدد کی درآرائی سے گریزکرتے ہیں-در اصل یہی صحیح اسلام کی سچی تصویر ہے ‘ گرچہ اس کے نمونے خال خال ہی ہمیں نظر آئیں-
ہرچند کہ دین اسلام کی تکمیل حسن خلق کے بنیادی اساس پر ہوتی ہے‘ پھر بھی بظاہر بد خلق اور بدزبان نظرآنے والے انسان سے بہر صورت دین وایمان کی نفی نہیں کی جاسکتی-ہمارے سماج میں ایسے بھی لوگ ہیں جوخود تو شب وروزفسق وفجور میں لت پت رہتے ہیں لیکن عوام کے ساتھ انکا معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ بولیں تو باتوں سے پھول جھڑیں‘ انکے گھرآنگن عام آدمی کا دسترخان‘ احسان واکرام میں اتنے اعلا وبالا کہ قطرئہ شبنم مانگو تو ابرباراں سے نوازدیں-اس کے برعکس ایسے دین داربھی  ہمارے بیچ آپ کو مل جائینگے جو اللہ والے‘ تہجد گزار اور شب بیدار تو ضرور ہیں لیکن دنیا انکی پھوٹی کوڑی تک نہیں جانتی-
دین واخلاق کا جورشتہ آپ نے دیکھا بالعموم یہی مفہوم عام انسان کے ذہن میں رچابسا ہوا ہے ‘ جس کا نتیجہ ہے کہ ہر اخلاق مند ‘ شیریں زباں اورخندہ رو انسان کومتدین سمجھ لیا جاتا ہے‘ اور اس کے برعکس ہر اس بندے پر بے دینیت اور لامذہبیت کا فتوی داغ دیا جاتا ہے جو ان اوصاف سے تہی داماں ہو‘جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا نظریہ صرف اور صرف کج فہمی ‘ نقطئہ نظر کی کوتاہی ‘ جانبداری‘ تعصب پسندی ‘ بدگمانی اور ذاتی پرخاش جیسے موہوم اور مذموم صفات سے عبارت ہے‘ کیوں کہ دین اپنے خاص معنوں میں ان کو لازمی طور پر اس لئے شامل نہیں کہ کمال اور اتمام کے درجہ پر پہنچنے کے بعد ہی فضائل وشمائل کا وہ حصہ نصیب میں آسکتا ہے جس کی توقع ہم ہرکس وناکس سے کر لیتے ہیں اور ہمیں بدلے میں زک پھنچتا ہے-
دور حاضر کی موجودہ صورت حال سے رو شناس انسان اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ ہمارے اس عہد میں ایسے نام نہاد دین پسند کس قدرکثرت سے موجود ہیں جو جو بزعم خویش تودین وایمان کے ٹھیکیدار ہیں لیکن عوام کے سامنے انکی حیثیت بھیگی بلی سے زیادہ کچھ بھی نہیں-لوگ انکی وعدہ خلافی‘ افترا پردازی ‘ مکاری و کذب بیانی اور ناجائز طریقے سے مال ومنال ھڑپنے جیسی بیہودہ صفات سے تنگ آچکے ہیں‘ انکی حالت یہ ہوتی ہے کہ اپنے مفاد سے جڑے ہوئے معاملات میں ایسے چپ سادھے بیٹھے ہوتے ہیں گویا منہ میں زبان ہی نہ ہو‘ اور جب بات دوسروں کی ہو اور اپنی ذات پہ آنچ
آنے کا اندیشہ نہ ہوتو پھر انکی پھانکے بازی‘ لمبی چوڑی تقریر‘ تقوی کے سیلان اورزہدوورع کے ہیجان کا پوچہئے ہی مت‘ کان پک پک سے جاتے اور طبیعت جھنجھلا سی جاتی ہے! ایسے ہی لوگ انسانی جذبات سے کھیلتے ‘ دین کی تجارت کرتے ‘ ایمان فروشی کابازار سجاتے‘اور حرص و طمع کی دیوی کو مالا چڑھاتے-
نبی اکرم رسول اعظم کر اسوئہ حسنہ کی روشنی میں ایک کامیاب بندئہ مومن کے اندردین داری کی اعلی معیاری کے دست بدست حسن اخلاق کی اعلی مقامی بھی ہونی چاھئے‘ عفت وحیا‘ امانت وفا‘ عفووصفح‘ اور ہیبت وسکینت ایسے اوصاف حمیدہ ہیں کہ جن سے دین اسلام کے منشا ومزاج کی درست ترجمانی ہوتی ہے اور یہی صفات صحابئہ کرام کو تمام بشریت سے ممتاز کرتی ہیں‘ ہر مسلم کو بحیثیت مسلمان ان سے اپنی زندگی کو سجانے سنوارنے اور انہی کے نقش پا پر اپنے کردار کی تعمیر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے—
دین داری اور وفا شعاری کے ہمراہ اخلاق واقدار کی پاسداری رضائے الہی کا موجب ہے‘ اصلاح نفس کے بعد جو عظیم ترین ذمہ داری ایک بندئہ مسلم پھ عائد ہوتی ہے وہ ہے دین کی ترویج:اس حقیقت  کا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ اسلام کی کما حقہ ترویج کے لئے کردار وگفتار میں اسلامی امتیازات سے لیس ہونا ازحد زیادہ ضروری ہے کہ دنیا ہماری بات سے پہلے ہماری ذات کو دیکھتی ہے ‘ اور ذات کی تاثیریت اخلاق وکردار میں نہاں ہے‘ جس قدر اخلاق کے اعلی مقام پہ آپ فائز ہونگے کامیابی آپکی قدموں سے اتنی ہی نزدیک ہوتی جائیگی‘ اور دنیاآپکے گردپا میں آتی چلی جائیگی-تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن –وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے -