الاثنين، أكتوبر 30، 2017

بوجھ
ساگر تیمی
کلیم : رحیمہ مجھے لگتا ہے اس بار ضرور بیٹا ہوگا ۔ دو دو بیٹیوں کا بوجھ تو ہم پہلے ہی ڈھو رہے ہیں ۔ اب تیسرا بیٹا تو ہونا ہی چاہیے ۔
رحیمہ : "ہاں ، دعا تو میری بھی یہی ہے لیکن حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے " ۔ یہ الفاظ بھی بہت مشکل سے رحیمہ ادا کرپائی ۔ شوہر کی اس بات کا مطلب اسے معلوم تھا اور وہ جانتی تھی کہ دونوں بیٹیوں کے تئیں اس کے شوہر کا کیا رویہ ہے ۔ ڈر اور خوف کی عجیب نفسیات نے اسے جکڑ لیا جب کلیم نے یہ باتیں دہرائیں ۔ شادی کی پہلی رات سے کلیم کو بیٹے کی جستجو تھی ، معاملہ رحیمہ کا بھی یکساں ہی تھا لیکن ولادت کے بعد وہ اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتی تھی جو محبت اسے اپنے شوہر کی آنکھوں میں نظر نہيں آتی تھی ۔ پہلی بچی دس سال کی اور دوسری چار پانچ سال کی تھی اور اب یہ تیسری اولاد ہونے والی تھی ۔ رحیمہ کا دھیان جب کبھی اپنے شکم کی طرف جاتا وہ سہم جاتی ۔ نہ جانے کیوں اسے لگتا کہ اس بار بھی بیٹی ہوگی اور بچیوں کے ساتھ ساتھ خود اس کا مستقبل بھی اندھیروں میں چلا جائے گا ۔
  اسے وہ رات اچھی طرح یاد تھی جب کلیم نے اسے اپنے خاص انداز میں سمجھایا تھا : دیکھو رحیمہ ! میں ایسا نہیں کہ بچیوں سے پیار نہیں کرتا لیکن یار بچوں کی تو ہمیں ضرورت ہے نا ، ہماری نسل کیسے آگے بڑھے گی ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا کون ہوگا ، ہمارا خواب کیسے پورا ہوگا ، بیٹیوں کو تو ایک دن کسی اور کے گھر جانا ہے اور پھر وہ تو ہمارے اوپر بوجھ ہی ہیں ، ان سے ہمارا بوجھ کم کب ہوگا ۔ آج کے زمانے میں بغیر لاکھوں لاکھ خرچ کیے بیٹیوں کی شادی ہوتی کب ہے ؟
  رحیمہ کو معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے اندرون تک بیٹے کی خواہش ہے جس میں اس کی شفقت پدری سے کہیں زيادہ مادی ہوس کا عمل دخل ہے لیکن عورت کی کمزور ذات کرے تو کیا کرے۔ کبھی کبھی اپنی کلی کی مانند کھلتی ہوئی بیٹیوں کو دیکھتی اور اداس ہو جاتی ۔ بات ایسی بھی نہیں تھی کہ یہ جذبات ان معصوم کلیوں تک نہيں پہنچے ہوں ۔ کبھی کبھی وہ بھی اپنی ماں کی اداسیوں کو الفاظ دے دیتیں ۔ "اماں ! آپ ہماری وجہ سے پریشان رہتی ہیں نا ؟ کیا پتہ ہمیں موت بھی کیوں نہیں آتی ۔" دس سالہ معصوم عصمت کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تو رحیمہ کا کلیجہ چھلنی چھلنی ہوجاتا اور وہ دلار پیار کرکے اپنی جان سے عزیز بیٹی کو اس طرح کے خیالات سے روکتی لیکن خود جیسے ایسے ہی خیالات کی دنیا میں کھو جاتی جہاں اسے لگتا کہ اس کے شوہر اس سے بیٹیاں چھین کر کسی خونخوار جانور کے حوالے کررہے ہیں اور وہ لاحول پڑھنے لگتی ۔
    اللہ کا کرنا دیکھیے کہ تیسری مرتبہ بھی رحیمہ کے بطن سے بیٹی ہی پیدا ہوئی ۔ نرس نے جب اس کی گود میں اس کی بیٹی کو ڈالا تو وہ اس کے حسین آنکھوں میں کھو گئی لیکن معا بعد جب اسے اس کے بیٹی ہونے کا خیال آیا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے ۔ شوہر تب کہیں اور تھا ۔ جب اسے اس کی اطلاع ملی تو جیسے کسی نے اس پر سرد پانی کی صراحی انڈیل دی ہو ۔ گھر آنے پر اس نے نہ صرف یہ کہ بچی کو گود نہيں لیا بلکہ رحیمہ کا حال احوال لینا بھی  ضروری نہیں  سمجھا ۔ رحیمہ کو چوں کہ اس قسم کی صورت حال کی توقع تھی اس لیے وہ خون کے آنسو پی جانے میں کامیاب رہی ۔
  لیکن یہ نفرت کلیم کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی ۔ وہ ایک پر ایک شیطانی منصوبے بنا رہا تھا لیکن پھر جیسے کچھ سوچ کر رک جارہا تھا یا جیسے کوئی خوف اسے دامنگیر ہو جارہا تھا ۔ کبھی پانی میں ڈبونے کا خیال آتا تو کبھی چاقو سے ذبح کردینے کا اور کبھی کہیں کسی اونچی جگہ سے نیچے پھینک دینے کا لیکن اس طرح کے ہر خیال کے بعد جیسے وہ خود ہی ڈر جاتا اور خیال ارادہ کی منزل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتا لیکن برے خیالات اگر جھٹکے نہیں جاتے تو کسی نہ کسی شکل میں عملی پیکر میں نمودار ہو ہی جاتے ہیں ۔ شیطان اپنا کام کر ہی جاتا ہے ۔
  گاؤں سے ممبئی کا سفر ریل گاڑی سے کافی لمبا تھا ۔ رات کا وہی کوئی دس بج رہا ہوگا ۔ رحیمہ نیچے والی سیٹ پر سوئی ہوئی تھی ۔ دونوں بیٹیاں اوپر والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن وہ باربار نیچے دیکھ رہی تھیں جیسے انہیں کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنا ہو ۔ کلیم نے بیٹیوں کی جب یہ کیفیت دیکھی تو اس کے دماغ میں ایک شیطانی خیال آیا اور اس نے بیٹیوں کو پیار سے نیچے اتار لیا ۔ ان کے ہاتھ پکڑے اور کہا : آؤ گیٹ کے پاس سے ٹھیک سے باہر کا نظارہ کراتے ہیں ۔ بیٹیاں بہت خوش ہوئيں اور باپ کا ہاتھ پکڑے گیٹ پر آگئیں ۔ وہ انہیں باہر کے مناظر دکھاتا رہا ، بعض دفعہ جب وہ کچھ پوچھتیں تو انہیں پیار سے بتاتا بھی رہا ، کچھ دیر گزرنے کے بعد جب بچیاں پوری طرح منظروں میں کھو گئیں ، ہنسنے مسکرانے لگیں ، دونوں بہنیں ایک دوسرے سے چھیڑ کرنے لگیں تو اس نے سناٹا دیکھ اپنا شیطانی ارادہ پورا کیا اور دونوں بچيوں کو تیز دھکے سے ٹرین کے باہر کردیا ۔
    تیز رفتار ٹرین آگے نکل گئی لیکن بوجھ اتنی آسانی سے اترتا کب ہے ۔ بچیاں جہاں گریں وہیں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا ، انہوں نے بچیوں کو اس حالت میں دیکھ کر جلدی جلدی ہاسپیٹل پہنچایا ۔ گھنٹوں بعد جب بڑی بچی کو ہوش آيا تو ساری حقیقت سامنے آئی لیکن پولیس سے لے کر ہاسپیٹل کے سارے عملہ کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تیرنے لگے جب بچی نے کہا : لیکن میرے پاپا کو کچھ مت بولیے گا ۔ انہیں جیل میں مت ڈالیے گا ۔ وہ بہت اچھے پاپا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ اور ایک بار پھر اس کا ہوش جاتا رہا ۔۔۔۔۔

  

الاثنين، سبتمبر 11، 2017

ڈر کے ماحول میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی
ثناءاللہ صادق تیمی
   اللہ پاک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بناکر مبعوث کیا اور زندگی کے تمام مرحلوں کے لیے آپ کی زندگی میں ایسے نمونے رکھ دیے کہ رہتی دنیا تک ایمان والوں کو روشنی ملتی رہے گی ۔ ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ جہاں عقیدت و محبت کی نظر سے کرنا چاہیے وہیں آپ کی زندگی کو مسائل کے حل کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے ۔ انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگی کے لیے آپ کی سیرت میں ایسے روشن نمونے موجود ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہمیں مسائل کا حل دیتے ہیں ۔
    عالمی سطح پر بطور عام اور اپنے ملک کی سطح پر بطور خاص بظاہر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں ، ہم بحیثیت امت کے ہر جگہ پریشان ہیں ، مختلف سطحوں پر ہمارے خلاف پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے دشمنوں نے پوری تیاری کررکھی ہو ، میانمار ، لیبیا ، یمن ، شام ، کشمیر اور افغانستان کہیں بھی ہمارے حق میں کچھ اچھا نہيں ہورہا ہے ۔ پچھلی کئی صدیوں سے ہم بحیثيت امت لگاتار مصائب سے جوجھ رہے ہیں، مختلف سمتوں سے ظلمت کی بدلیاں اٹھتی ہیں اور چھاتی چلی جاتی ہیں ۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سوچنے سمجھنے کا انداز بھیActive  ہونے کی بجائے Passive  ہوگيا ہے ، ہمارے نونہالان بھی عنفوان شباب سے یہ سمجھنے لگ رہے ہیں کہ وہ نبسۃ ایک زوال پذیر قوم کا حصہ ہیں ، پچھلے چند سالوں میں جتنی تحریرں زوال امت پر لکھی گئی ہیں ان کا مثبت نتیجہ کیا برآمد ہوا وہ تو بعد کی بحث ہے ، منفی نتیجہ یہ ضرور برآمد ہوا ہے کہ ہم نے بحیثيت امت کہ اپنے زوال کو بطور خود تسلیم کرلیا ہے ، بسا اوقات اس کا اظہار بھی ہم اس طرح کرتے ہیں جیسے کمزور اور نادار ہونا کوئی خاصے کی چيز ہو !!
  بہرحال حالات کی سنگينی سے قطع نظر ایک چيز اور بھی ہے اور وہ ہے کسی قوم کا اپنے عقائد و ایمان اور اصول و مبادی میں مستحکم اور غیر متزلزل ہونا ، اس کا یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور ظلمت کی بدلیاں اب تب چھٹنے ہی والی ہیں ۔ زوال کی اس نفسیات کا ایک منفی اثر بہر حال یہ رہا ہے کہ امکانات سے متعلق گفتگو عموما یا تو نظر انداز ہوئی ہے یا پھر رد عمل کی نفسیات کے تحت ہوئي ہے ۔ امکانات پر ہم نے بحیثيت امت کے سنجیدگی اور مثبت رویے کے ساتھ کم کم ہی توجہ مبذول کی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زوال پر لاکھ آنسو بہانے کے باوجود وہ زوال اب بھی سینہ ٹھونکے کھڑا ہے !!
 اس خاص تناظر میں اگر ہم قران حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں جو ہدایتیں ملتی ہیں ان میں روشنی اور امید کی کرنیں بہت نمایاں ہیں ۔ قرآن بہت صاف انداز میں ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں کسی بھی ناکامی یا پریشانی کے بعد گھبرانے یا ڈر کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور نجات اور کامرانی کے امکانات اللہ نے بہت رکھے ہیں ۔ ان مع العسر یسرا کا پیغام یہ ہے کہ پریشانی کے ساتھ آسانی کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہے ! ان مسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ  کا واضح مطلب ہے کہ دشمن سے مرعوب ہونے کی بجائے یہ سمجھو کہ دشمن کو بھی تو نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے ساتھ لا تقنطوا من رحمۃ اللہ کی صدائے الہی اس بات کا تاکیدی اشاریہ ہے کہ ابھی راہیں بند نہیں ہوئیں لیکن ابھی ٹھہریے ! اس سے بھی آگے اللہ پاک کی نشاندہی یہ ہے کہ جہاں بظاہر تمہیں خسارہ نظر آتا ہے اور ہزیمت کی ذلت محسوس ہوتی ہے وہاں بھی خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوسکتا ہے عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم ! قرآن اپنی ہدایت میں کسی پس و پیش کا شکار نہیں ، پیغام بہت واضح ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں یہ مرحلے آسکتے ہیں اور وہ قوموں کی زندگی میں آتے بھی رہے ہیں لیکن بحیثيت ایک ایمان والی قوم کے ہمت نہ ہارنا اور امکانات کی تلاش کرتے رہنا ہی ہماری کامیابی ہے اور ان شاءاللہ اس تلاش کے نتیجے میں وہ راہ ملے گی بھی ضرور و العاقبۃ للمتقین ، و ان جندنا لھم الغالبون ، کان حقا علینا نصر المومنین !!!
   رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان مرحلوں کے نمونے دیکھیے تو ہمیں کیا کیا روشنی نظر آتی ہے ۔ ہجرت کے سفر میں قدم قدم پر اس کی مثالیں سامنے آتی ہیں ۔ دشمنوں نے جب ننگی تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور بانکے نوجوان گردن اڑانے کو گھر کا محاصرہ کیے ہوے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آيات پڑھتے ہوئے ان کے پاس سے گزررہے ہیں ۔ غار ثور کے منہہ پر جب دشمن آگئے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے متعلق گھبرا رہے ہیں تو انہیں کیا ایمان افروز تسلی دے رہے ہیں " یا اباکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما ، لا تحزن ان اللہ معنا " ابوبکر ان دو لوگوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو جس کا تیسرا اللہ ہے ! گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے !!
ہجرت کے اسی سفر میں جب سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کا پیچھا کرتے ہیں تو آپ اس بے سروسامانی کے عالم میں کس درجے کے اعتماد ، اپنے مشن کی کامیابی پر یقین سے لبریز ہیں کہ انہیں قیصر وکسری کے کنگن کی بشارت دے رہے ہیں !!
   دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ، مکہ سے لے کر اطراف کے یہود تک ایک ہوکر مدینہ پر چڑھائی کرچکے ہیں ، مسلمان بچاؤ کے لیے خندک کھود رہے ہیں ، اس کھودائی کے بیچ جب کہ اپنی حفاظت بظاہر آسان نظر نہیں آرہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کھودائی بھی کررہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو قیصر و کسری کی فتح کی خوشخبریاں بھی دے رہے ہیں ۔ دنیا کے خزانے مسلمانوں کو ہاتھ لگنے والے ہیں یہ بھی بتارہے ہیں ۔ حالات کی نزاکت نے مشن کی بلندی اور نظر کی وسعت کو محدود نہیں کیا ہے ۔ سامنے کی ظاہری ظلمت نے ایمان و یقین کے اجالے کو مدھم نہیں ہونے دیا ہے ۔
   سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے روشن نمونے ہیں ۔ جنگ احد میں جب دشمنوں نے جنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ، جب مسلمان تتر بتر ہوگئے ہیں اور پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں  اس وقت آپ نے آواز لگائی ہے حالانکہ معلوم ہے کہ آپ کو نشانہ بنایا جائے گا ، جنگ حنین میں یہی کیفیت عود کرآئی ہے اور آپ نے انا النبی لا کذب انا عبد المطلب پڑھا ہے اور اپنے اوپر کسی بھی قسم کی منفی نفسیات کو حاوی ہونے نہیں دیا ہے ۔ مشن کی کامیابی اور پریشانی کے بیچ سے نکل کر کامران و کامیاب ہونے کا یقین آپ کی زندگی کا بہت روشن پیغام ہے اور آپ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اس مثبت اور مستحکم عقیدے کے ساتھ جینے کا نتیجہ کامرانی اور کامیابی ہی ہے ۔ ہمیں اس پر آشوب دور میں رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان پہلوؤں پر بطور خاص تو جہ دینے کی ضرورت ہے ۔ فتح ہمارا ہی مقدر ہے ، کامیابی ہمارے ہی حصے میں ہے لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ رویہ مثبت اپنایا جائے ، ایمان کا رشتہ کمزور نہ ہونے دیا جائے اور اللہ کے وعدے پر لازوال اور غیر متزلزل یقین رکھا جائے اور نچلے بیٹھنے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرتے رہا جائے ۔

اللہ ہمیں بہتر توفیق ارزانی کرے ۔ 

الأحد، مايو 07، 2017

احمد امین کی" حیاتی "
ثناءاللہ صادق تیمی
  جن دنوں جامعہ امام ابن تیمیہ میں اولی فضیلہ( ثانیہ کلیہ) کا طالب علم تھا ، جامعہ کی ماہانہ میگزین مجلہ طوبی کے سب ایڈیٹر کی حیثيت سے مولانا ابونصرندوی ( مکی صاحب ) جامعہ آئے تھے ۔ ان کی شادی ہماری بستی میں ہے ، گاؤں کے رشتے سے پھوپھا لگتے تھے ، ان کا اپائنٹمنٹ لیٹر میں ہی لے کر گيا تھا ، اس لیے جب وہ جامعہ آئے تو بڑی خوشی ہو ئی ، قربت بڑھی تو اور بھی مزہ آيا کہ پھوپھا تو بڑے باغ وبہار آدمی نکلے ۔ علم وادب کا بڑا ستھرا ذوق ، مست الست قسم کے آدمی ، سب سے کھل کر ملنا اور کسی سے کوئی بیر نہ رکھنا ، کتابوں کے شوقین ، اردو سے خصوصی دلچسپی ، ادبی تحریروں کے رسیا ، اقبال ، آزاد ، سید سلیمان ، شبلی ، مودودی اور وحیدالدین خان سب کے قدرداں ، شخصیات کے بیچ افکار کے اختلافات پر سیدھا اور واضح جواب خذ ما صفا و دع ما کدر ۔ ان سے قربت بڑھی اور انہوں نے پڑھنے لکھنے کا ذوق دیکھا تو ایک ایک کرکے سب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی سال تھا جب مجھے درسیات سے دلچسپی کم رہی تھی ، اس سال ششماہی امتحان میں تیسری پوزیشن آئی تھی اور اس وقت سمجھ میں آيا تھا کہ فرسٹ آنے کے بعد تھرڈ آنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے !!!
  عربی سے تھوڑی بہت دلچسپی خود سے پیدا ہوگئی تھی ، کامل کیلانی ، عبدالرحمن رافت پاشا اور ابوالحسن علی ندوی کو پڑھتا رہتا تھا لیکن اس جانب منظم رہنمائی بھی مولانا ابونصر ندوی نے ہی کی ، کچھ کچھ رہنمائی استاذ محترم مولانا فضل الرحمن ندوی حفظہ اللہ سے بھی ملی ، مکی پھوپھا نے ہی منفلوطی ، طہ حسین ، عقاد اور احمد امین کے نام لیے اور یوں شوق کی اس دنیا میں جس کی جو کتاب ہاتھ لگتی گئی دیکھتا گيا ۔ من بعید ، حدیث الاربعاء ، کتاب الاخلاق ، عبرات ، نظرات، عبقریات وغیرہ جہاں تہاں سے پڑھ ڈالے ۔ احمد امین کی حیاتی  لاکھ تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکی اور یوں تشنگی رہ گئی ۔ جے این یو میں ہمارے کلاس فیلو جناب عمران احمد ندوی صاحب نے اپنا ایم فل حیاتی پر کیا تھا ، سو ان کے پاس رکھی کتاب جہاں تہاں سے دیکھنے کو مل جاتی تھی لیکن خود کے کام میں مصروفیت رہتی تھی سو نہ پڑھ سکا۔ البتہ ان کی فجر الاسلام ، ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں فجر الاسلام پوری اور بقیہ حصے  جہاں تہاں سے جے این یو کے زمانے ہی میں پڑھا ۔
  احمد امین کی کتاب الاخلاق اس لیے کچھ پلے نہ پڑی کہ تب پلے پڑنے کی عمر ہی نہ تھی ، بس شوق تھا کہ جو کتاب مل جائے پڑھ ڈالو ، کتاب الاخلاق کا حوالہ دے کر کہ ہم نے اسے پڑھی ہے، بہت سی جگہوں پر علمی دھونس جمانے کا بھی موقع مل جاتا تھا ۔ ادھر پچھلے دنوں شمس کمال انجم صاحب کے " یومیات " نے پھر سے احمد امین کے حیاتی کی یاد دلادی ، انہوں نے حیاتی میں موجود ایک دلچسپ واقعے کو لکھا تھا ۔
    جریر بک اسٹور گیا تو نصف بہتر کا موبائل تو نہ لیا جاسکا کہ جو ان کو پسند تھا وہ تھا نہیں اور جو تھا انہیں پسند نہیں تھا ، موقع کا فائدہ اٹھا کر ہم نے کتابوں میں تھوڑا وقت صرف کرنا چاہا ، تراجم کےخانے میں حیاتی مل گئی اور جھٹ خرید لیا ۔ ویسے بھی سو ریال جو نکاح پڑھانے کے ملے تھے کہیں اور خرچ کرنا مناسب نہیں تھا !! دو تین انگریزی اور دو تین عربی کتابیں خرید لیں ۔ اس درمیان البتہ محترمہ کا ماتھا ٹھنکا رہا کہ اگر پانچ چھ کتابیں ہی خریدنی تھیں تو یہ دو گھنٹہ کتابوں کے بیچ ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟؟
   اس درمیان گھر کی شفٹنگ اور دوسری مصروفیتوں کے بیچ کتابیں کدھر رکھ دی گئیں ، پتہ ہی نہیں چلا لیکن پرسوں جب ہاتھ لگی تو رات دیر گئے تک ختم کرکے ہی دم لیا ۔
  احمد امین اپنے ششتہ اسلوب کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ، انہوں نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ لوگ اس پس وپیش میں رہتے ہیں کہ انہیں عالم کہا جائے یا ادیب اور سچی بات یہ ہے کہ ان کی نثر میں وضاحت اور سادگی پائی جاتی ہے جو ادبیت سے زیادہ علمیت کے قریب ہے لیکن اس اسلوب کا کمال یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی خشکی ، کھردراپن اور اکتاہٹ میں ڈالنے کی کیفیت نہیں پائی جاتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بولنے والی زبان لکھ دی ہے ۔ لگ بھگ یہی کیفیت ان کی فجر الاسلام ظہر الاسلام اور ضحی الاسلام میں بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں یہ رنگ اور چوکھا ہوگيا ہے ۔
 کتاب کا مطالعہ ہمیں جہاں احمد امین سے واقف کراتا ہے وہیں اس وقت کا مصر بھی نگاہوں میں پھر جاتا ہے ، مڈل کلاس لوگوں کی زندگی ، بچوں کی تربیت کا ڈراؤنا انداز، ازہر اور اس کی قدامت پسندی ، استعمار اور کے زہریلے سانپ ، نئی تعلیم اور پرانے علوم کی رسہ کشی ، غلامی اور جد وجہد آزادی کی کوششیں اور ان سب پر ایک انسان کی زندگی میں پیش آنے والے وہ واقعات جو ہمیں بہت کچھ سکھانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ احمد امین نے شادی سے متعلق جو نقشہ کھینچا ہے ، احباب کی جو باتیں لکھی ہیں ، ہاں اور نا کے کشمکش کی جو تصویرکشی کی ہے اور پھر شادی کے تکمیل پانے سے لے کر شروعاتی ازدواجی زندگی کے جو کوائف بیان کیے ہیں وہ خاصے کی چیز ہے ،انگریزی سیکھنے کی للک ، اس کے اسباب اور پھر اس کا طریقئہ کار بہت دلچسپ ہے ۔ اسفار کی تفصیل بھی اچھی ہے لیکن خاص طور سے ترکی کا سفر مزیدار ہے کہ ابھی ابھی وہاں انقلاب آیا تھا ، اس سلسلے میں ان کی اپنے استاذ سے گفتگو بہت اہمیت رکھتی ہے اور آج کے ترکی کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے ۔ منصب پر ہونے اور نہ ہونے پر احباب اور لوگوں کے رویے کو احمد امین نے ایک خاص درد دے دیا ہے ۔ کتاب کی بہت سی خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ ہے کہ مصنف نے کھلے دل سے اپنے محسنین کا اعتراف کیا ہے اور اس میں کسی مشرق مغرب کی کوئی تفریق نہیں کی ہے ۔ اگر آپ اس کتاب کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں تو عراق کا سفر اور اس میں شیعہ مقرر کی تقریر والا حصہ ضرور پڑھیے گا، آپ کو مزہ بھی آئے گا اور ہنسی بھی چھوٹے گی ۔
   اردو میں بھی بہت سی خود نوشت لکھی گئی ہے ہمیں عبدالماجد دریابادی کی " آپ بیتی " بہت اچھی لگی تھی اور عربی میں حیاتی بھی پسند آئی ہے !!! ویسےالایام اور انا کے بعض حصوں کو چھوڑ دیجیے تو عربی میں پڑھا ہی کیا ہے !!!!




  

الاثنين، يناير 30، 2017

غزل
 ساگر تیمی
لکھنے والے غلط تھے لیکن پڑھنے والے ٹھیک تھے
سطریں جیسے کہہ رہی ہوں مرنے والے ٹھیک تھے
ساری حقیقت جیسے ان افسانوں ہی میں قید ہو
اہل دانش کہہ رہے ہیں گڑھنے والے ٹھیک تھے
ظلم کی تم تائید کرو ہو شہ کے مصاحب بنتے ہو
اور ضمیر کہا کرتا ہے اڑنے والے ٹھیک تھے
کس کے اندر کس میں کتنی رہ گئی ہے بہادری
سارے فوجی سوچتے ہیں ڈرنے والے ٹھیک تھے
میرے اس کے بیچ کتنی قربتوں کا درد ہے
عشق میں روز اول ہی نہ کرنے والے ٹھیک تھے
اب تک ساگر جنگوں کی تاریخ سے کھلنا باقی ہے
 بچ کر جینے والے یا پھر مرنے والے ٹھیک تھے

الخميس، يناير 12، 2017

راہل گاندھی جی ! اس تیور کو برقرار رکھیے
ثناءاللہ صادق تیمی
2014 کے لوک سبھا الیکش میں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد ملکی سطح پر کانگریس کی جو شبیہہ بنی تھی اور جس طرح سے یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ کانگریس اب ملک کا ماضی ہے ، حال یا مستقبل نہیں ، اس میں اب کہیں نہ کہیں تھوڑی تبدیلی آنےلگی ہے ۔ لوک سبھا انتخاب سے پہلے ہی کانگریس نے جیسے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی ، اس کے بڑے بڑے نیتا خاموش تھے ، حد تو یہ تھی کہ دو ٹرم میں اس نے جو کام کیے تھے ، اسے بھی وہ ٹھیک سے عوام تک نہیں لا پائی تھی ۔ ملک نے مودی جی پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ جیت سے ہمکنار کیا تھا ، ان کے وعدے بھی بڑے لبھانے والے تھے لیکن آدھی مدت گزارنے کے بعد بھی وہ وعدے وعدے ہی ہیں بلکہ خود ان کی پارٹی نے بعض وعدوں کو انتخابی جملہ کہا ہے ۔ اس بيچ ملکی سطح پر جمہوری قدروں کی پامالی دیکھنے کو ملی ہے، آربی آئی سے لے مختلف دوسرے اداروں کا استقلال اور آزادی خطرے میں نظر آئی ہے ، تعلیمی اداروں میں خاص ذہنیت رکھنے والوں کو زبردستی بٹھایا گيا ہے، طلبہ کو سڑکوں پر آنا پڑا ہے ، ادباء شعراء کو اپنا ایوارڈ واپس کرنا پڑا ہے، ملک کے اقلیتوں میں سراسیمگی رہی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دیش بڑی تیزی سے ہندوتو کی طرف جارہا ہے ۔ روزگار کے مواقع کیا بڑھتے ، لوگوں کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ کیا آتے الٹے نوٹ بندی کے زير اثر وہ خود اپنے پیسینے کی کمائی کے لیے ترس کر رہ گئے ہیں، پچاس دن سے زيادہ کا عرصہ گزرگیا ہےاور نوٹ بندی کے برے اثرات ختم نہيں ہوئے ۔ حد تو تب ہوگئی جب آرٹی آئی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آر بی آئی کو اس بات کا علم ہی نہيں کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے پیسے چھاپے گئے ہيں !!
  ڈھائی سال سے پہلے کی مدت پر نظر دوڑائیے تو پورے ملک میں لے دے کر کیجریوال یا پھر جے این یو کے کنہیا کمار اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھاتے نظر آرہے تھے ، لالو یادو نے بہار الیکشن کے موقع سے ضرور ماحول بنایا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے لیکن ملکی سطح پر اپوزیشن کا وجود باضابطہ محسوس نہيں ہوا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کانگریس کو جس دن کا انتظار تھا وہ دن آگیا ہے ۔ اب تک جو پارٹی ڈیفینس کرتی نظر آرہی تھی وہ اب اٹیک کرنے کے رویے کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے ۔ راہل گاندھی نے جس طرح ڈریے نہیں ڈارائیے کا فارمولہ دیا ہے وہ اپنے آپ میں خوب ہے ، انہوں نے کھل کرکہا ہے کہ اچھے دن تب آئیں گے جب 2019 میں کانگریس جیت کر آئے گی ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب کانگریس تھوڑی زیادہ سرگرمی کے ساتھ میدان میں آئے گی ۔ اس بیچ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پرینکا گاندھی کو میدان میں لے آیا گیا ہے ، یوپی الیکشن کے لیے ڈمپل یادو اور پرینکا گاندھی کے بیچ کی ملاقات اور اتحاد بنانے کی کوشش کو بہت محدود پیمانے پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ ڈھائی سال کے عرصہ کے گزرنےکے بعد کئی سطحوں پر مودی حکومت کو گھیرا جاسکتا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، وعدہ خلاقی ، جمہوری اداروں کے استقلال کی پامالی ، کالا دھن اور کرپشن سے جڑی غلط دعویداری اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نوٹ بندی سے پیدا ہونے والی اقتصادی ایمرجینسی کی کیفیت ۔ اگر مکمل اعتماد اور تیاری سے کانگریس نے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تو اس کا فائدہ بہرحال اسے ملے گا ۔ جاننےکی بات یہ بھی ہے کہ اب کانگریس کے پاس گنوانے کے لیے کچھ بچا بھی نہیں ہے ، بھکتوں کو چھوڑ دیجیے تو عام آدمی بہر حال ناراض ہے اور اس ناراضگی کا مظاہرہ وہ الیکشن کے موقع سے کرسکتے ہيں ۔

  راہل گاندھی کو اپنا یہ تیور برقرار رکھنا ہوگا ، ان کے پارٹی کارکنان کو لوگوں تک پہنچنا ہوگا ، آن لائن اور ڈور ٹو ڈور کمپین سے کام لینا ہوگا ، اسی طرح انہیں سیاسی اتحاد سے بھی کام لینا ہوگا ، کہیں جھکنا تو کہیں جھکانا ہوگا لیکن سمجھداری دکھانی ہوگی ، سیکولر پارٹیوں سے جڑنا ہوگا تبھی جاکر وہ کچھ کر پائیں گے ۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد مودی جی کا جادو اترنے لگا ہے ، عوام کو اب سمجھ میں آرہا ہے وہ بھاشن دینا جانتے ہیں لیکن اس طرح سے وکاش پرش نہیں ہیں جس طرح کا ہنگامہ مچایا گیا تھا ۔ کانگریس پہلی بار اس تیور میں نظر آرہی ہے ، اپنے کارکنان اور عوام میں اپنے تئیں یقین جگانے کے لیے بھی یہ ایک اچھی پالیسی ہےلیکن یہ اہم ضرور ہے کہ یہ تیور مدھم نہ پڑے ، رکے نہیں بلکہ مسلسل چلتا رہے ۔ آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں مختلف ہتھکنڈوں سے انہيں گھیرنا بھی چاہیں گیں ، خود مودی جی اوچھے حملوں سے بھی کام لے سکتے ہیں لیکن انہیں تیار رہنا ہوگا کہ اب اگر وہ اپنے اس تیور سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کا اور ان کی اپنی پارٹی کا ہی نقصان ہوگا ۔