الأحد، سبتمبر 04، 2016

بسم اللہ الرحمن الرحیم
            شوق دیں سے کام لیں-عمل کا دامان تھام لیں

از:عبد الرحمن بن علی العسکر                                  اردو قالب: شفاء اللہ الیاس تیمی                                                                                  


الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد ،وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
أما بعد!
اس دنیا کے اندر انسان بہت سارے مسائل میں الجھا ہوا ہے،لاکھ کوششوں کے باوجود تما م مسائل سے تو دور ،چند سے بھی چھٹکارا مشکل ہے،انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ  مال کی جمع اندوزی کی چاہت وتمنا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وتحبون المال حبا جما‘‘الفجر:20 - تم مال کے بہت زیادہ خواہاں ہو۔اور صحیح حدیث ہے کہ: یشب ابن آدم ویشب معہ خصلتان: حب الدنیا وطول الأمل‘‘  ابن آدم کی جوانی کے ساتھ ساتھ دو خصلتیں بھی جوان ہوتی ہیں: ایک دنیا کی محبت وچاہت اور دوسری کثرت امید۔
حقیقت میں مال کوئی ایسی چیز نہیں جو بہ ذات خود مطلوب ہو،بلکہ دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے مال صرف ایک وسیلہ ہے،مال کے ذریعہ مفید چیزیں بھی حاصل کی جاتی ہیں اور نقصان اور خسارے کا سودا بھی اسی سے کیا جا تا ہے،مال وسیلہ ہے ،لیکن اس کے ممدوح ومذموم ہونے کا معیار یہ ہے کہ اسے کس ذریعہ سے حاصل کیا جارہا ہے اور کس مقصد کے لئے حاصل کیا جا رہا ہے۔
مال  ہتھیار کی طرح بھی ہے، اگر کسی سرکش کے ہاتھ رکھ دیا جائے تو اس سے کمزوروں کی لاشیں گڑینگی،اور معصوموں کا قتل عام ہوگا،لیکن اس کے بالمقابل اگرکسی مجاہد کے ہاتھ میں اس ہتھیار کو تھما دیا جائے تو وہ  اس سے اپنے دین،اپنی ذات ،اپنے اہل وعیال اور ملک وقوم کی حفاظت اور ان کا دفاع کرے گا۔آپ غور فرمائیں کہ  اللہ تعالی مال کے بارے میں کیا فرماتا ہے: فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری وأما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنیسرہ للعسری وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی" جس نے دیا اللہ کی راہ میں اور ڈرااپنے رب سے اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہیگا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دینگے،لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی  اور نیک بات کی تکذیب کی ،تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کردینگے۔اس کا مال اسے اوندھا گرتے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔
مال اپنے آپ میں  اللہ کی بہت بڑی نعمت اور بہترین عطیہ ہے،یہ ایسی نعمت عظمی ہے جس کے ذریعہ االلہ کے بندوں کے ضرورتیں مکمل ہوتی ہیں ۔لیکن مال کے غلط استعمال کے نتیجے میں کبھی کبھی اس کی یہ افادیت نقصان میں بدل جاتی ہے ،گویا مال ایک بڑا فتنہ ہے جس کے ذریعہ بندے آزمائے جاتے ہیں: واعلموا أنما أموالکم وأولادکم فتنۃوأن اللہ عندہ أجر عظیم" ۔
اس کے باوجود بھی اسلام نے انسان کو  اپنے اہل خانہ کے لئے حلال مال میں سے رزق اختیار کرنے کی تلقین کی ہے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد د بن وقاص سے یہ فرمایا کہ غربت اور قلاشی کے بجائے تمہارے لئے بہتر یہی کہ تم اپنے وارثین کو مالداری کی حالت میں چھوڑو ، کیونکہ فقیری کی حالت میں وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگیں گے،ایک دوسری حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفی بالمرئ اثما أن یضیع من یقوت" کسی انسان کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کی رزق کو برباداوربیکار کردے۔احمد ومسلم
اسلام نے اپنے متبعین کو یہ تعلیم دیا ہے کہ وہ مال کے حصول میں جائز اور مشروع راستہ اختیار کریں،چنانچہ اسلام نے مال کی حصولیابی میں عمل پیہم اور مسلسل کوشش پر ابھارا ہے،اور اس راہ میں تساہل اور سستی سے دور رہنے پر زور دیا ہے،رز ق حلا ل اور پاک مال کے لئے راستے بھی ہموار کیاہے ،قرآن اس سلسلے میں کہتا ہے :قل من حرم زینۃ اللہ التی أخرج لعبادہ الطیبات من الرزق قل ھی للذین آمنوا فی الحیاۃ الدنیا خالصۃ یوم القیامۃ"أعراف:32  یعنی کہ آپ فرمائیے کہ اللہ تعالی کے پیدا کیے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کوکس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہ دیجئے کہ یہ اشیاء اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہونگی اہل ایمان کے لئے ،دنیوی زندگی میں مومنوں کے لئے بھی ہیں۔ نیز اللہ فرماتا ہے:ھو الذی جعل لکم الأرض ذلولا فامشوا فی مناکبھا وکلوا من رزقہ والیہ النشور" ملک:15  وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤاسی کی طرف تمہیں جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ایک جگہ اللہ کا فرمان ہے: فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون"الجمعہ:10 یعنی جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بہ کثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پا لو۔گویا اللہ نے کامیابی کا دار ومدار رزق حلال ،اطاعت الہی کی بجا آوری اور ذکر الہی کی ادائیگی پر رکھا ہے۔
اسی طرح انسان کا صنعت وحرفت سے جڑنا اور پیشہ ور ہونا کوئی ایسی چیز نہیں جو دور حاضر کے لئے جدید ہو ، بلکہ انبیائ ورسل نے بھی اس راہ کو اختیار کیا،جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی انسان کی سب سے بہتر روزی اس کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے، اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے۔ایک دوسری حدیث کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کان زکریا نجارا"(مسلم)  اور یہ کہ : وأن ادریس کان خیاطا یتصدق بفضل کسبہ‘‘ کہ حضرت زکریا ایک بڑھئی تھے،اورحضرت ادریس ایک درزی تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی  میں سے صدقہ کرتے تھے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بیع وشرائ کیا کرتے اور لوگوں کے ساتھ تمام طرح کا مالی تعامل کرتے تھے۔ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابئہ کرام سے یہ فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک چھوٹی سی رسی لیکر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑی کی گٹھڑی باندہ کر لائے اور اسے فروخت کرے، اور ان پیسوں کے ذریعہ اپنی ضروریات پوری کرےاورلوگوں سے بے نیاز رہے تو اس کا ایسا کرنا دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بہتر ہے کیوں کہ دست سوال پھیلانے کے بعد لوگ اسے دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔بخاری
صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی مختلف پیشے اختیار کئے،، بیع وشراء اور تجارت میں حصہ لیا،اور رزق حلال کی طلب میں کوششیں کی،سعید ابن مسیب کے قول سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے کہ :کان أصحاب رسو ل اللہ یتجرون فی بحر الروم‘‘ کہ صحابئہ کرام روم کے سمندری راستوں سے تجارت کیا کرتے تھے۔حضرت عمر یہ کہا کرتے تھے کہ تم لوگ کاریگری کا کام سیکھا کروکیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کی ضرورت پیش آجائے۔
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ہانڈی تنور پہ ڈال کر اسے آنچ دیتے یہاں تک کہ ان کی آنکھ میں آنسو آجاتے ،اما عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ امارت اور خلافت سنبھالنے سے پہلے تک قریش کے سب سے بڑے کاروباری اور تاجر تھے۔
قیس بن عاصم نے موت کے وقت اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:مال ضرور حاصل کرو ،کیونکہ مال ودولت سخی لوگوں  کی شناخت ہے،اور اس کے ذریعہ بدبخت اور بدطینت لوگوں سے بے نیازی حاصل ہوتی ہے ۔ساتھ ہی تم مانگنے کی ذلت وخواری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کروکیونکہ یہ کسی بھی انسان کے لئے آخری ذریعہ معاش ہے۔
سعید بن مسیب کا قول ہے کہ اس شخص کے اندر خیر کا کوئی پہلو ہے ہی نہیں جس کے اندر طلب مال کی کوئی چاہت ہی نہ ہو۔جس سے قرض کی ادائیگی کرے، اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کرے،اور لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے،نیز اگر س کی موت بھی ہو جائے تو اس کے وارثین کے لئے اس کا مال میراث بن جائے  ۔
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ : شرف المؤمن صلاۃ فی جوف اللیل وعزہ استغناؤہ عن الناس"(اسے طبرانی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے)نصف رات میں نماز کی ادائیگی مؤمن کے لئے شرف کی بات ہے اوور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز رہنا اس کی عزت نفس کی دلیل ہے۔
معمولی کام میں مشغول رہنا ، سستی اور کاہلی اور اصحاب ثروت کی جانب سے نوازشوں کے لئے منتظر رہنے سے حد درجہ بہتر ہے۔اور اس طرح کے انتظار سے بھی بدتر یہ ہے کہ آدمی کسی مالدار انسان کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔کیوں کہ اس کی جانب سے اگر کچھ نوازش ہو بھی جائے تو اس احسان تلے انسان ہمیشہ دبا رہتا ہے،اور اگر اس نے دینے سے انکار کردیا توندامت اور ذلت  دونوں اس کے پیچھے لگ جاتی ہیں ۔
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ:ذلت کے ساتھ کمانا اس سے بہتر ہے کہ آدمی غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔
لقمان حکیم کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا:میرے بیٹے! حلال مال کے ذریعہ بے نیازی اختیار کرو،اس لئے کہ جس کے آگن میں غریبی ڈیرا ڈالتی ہے اسے تین میں سے کوئی ایک خصلت ضرور لاحق ہوجاتی ہے:دین میں نرمی اور کمزری،عقل کا ضعف یا مروئت کی کمی،اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اسے حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے امور سے پناہ مانگتے تھے، تاکہ لوگوں کی نگاہ میں ان کے نقصانات واضح ہو سکیں،ساتھ ہی ان امور سے بچنے کے لئے رب سے مدد ونصرت کی دعا مانگتے تھے،اس سلسلے میں امام احمد بن حبنل نے ایک روایت نقل کیا ہے کہ :رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعوذوا باللہ من الفقر والقلۃ والذلۃ‘‘  غربت،قلت مال ،اور ذلت ورسوائی سے اللہ کی پناہ مانگو۔امام نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!میں بھوک اور پیاس سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ یہ بہت برا ساتھی ہے۔
عقل مند انسان کے لئے یہ زیبا نہیں ہر طرح کی مشغولیت اور محنت سے کنارہ کش ہوکر خود کو سماج کے لئے بے سود اور بوجھ بنا ڈالے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:میں بعض دفعہ کسی ایسے آدمی سے ملتا ہوں جو اچھی بھلی شکل وصورت کا معلوم پڑتا ہے،لیکن جب میں اس کے بار ے میں معلوم کرتاہوں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بے روزگار انسان ہے ،پھر وہ میری نظر سے گر جاتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ پر توکل کی گردان لگانے والے لوگوں کے پاس جایا کرتے تھے اور انہیں ڈانٹ پھٹکار کر سمجھاتے کہ کوئی شخص رزق کی جستجو چھوڑ کر بیٹھ نہ جائے او رپھر اللہ سے رزق کی دعا کرے،جبکہ وہ خوب جانتا ہے کہ آسمان سے سونے چاندی نہیں برستے ۔بلکہ رزق کے لئے تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔
محمد بن ثور کہتے ہیں کہ :مسجد حرام میں سفیان ثوری جب بھی ہماری مجلس سے گزرتے  تو آپ فرماتے:تم لوگ کیوں بیٹھے ہو؟  تو ہم کہتے : ہم کیا کریں؟ آپ فرماتے : رب کے فضل کی تلاش میںلگے رہواور مسلمانوں پر بوجھ نہ بنو۔
فقہاء کرام نے یہاں تک کہا ہے کہ انسان کے اوپر رزق حاصل کرنا واجب ہے خواہ اس کے لئے اسے اجرت پر ہی کیوں نہ کھٹنا پڑے،کیوں کہ قرض چکانے،نذر کو پورا کرنے ،اطاعت وبندگی بجا لانے ،کفارہ ادا کرنے اور ماتحت لوگوں کے اخراجات اٹھانے کے لئے مال کا حصول نہایت ناگزیر ہے۔
آج کے نوجوانوں کی زبان پر یہ شکایت ہمیشہ رہتی ہے کہ رزق  حاصل کرنے کےلئے ان کے پاس کوئی سبیل ہی نہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے اخراجات پوری کریں۔وہ سرکاری نوکری کو ہی ذریعئہ معاش کا واحدحل سمجھتے ہیں جبکہ انکا ایسا سوچنا غلط ہے۔
انسان کوہر اچھے کام کے ذریعہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے،حلال رزق کا سچا حریص وہی ہے جو خود رزق کے لئے  تگ ودو کرے،بہتر مال بھی وہی ہے جو صحیح راہ سے محنت کے بعد حاصل ہو،رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی کمائی کے متعلق دریافت کی گیا تو آپ نے فرمایا: عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور"(احمد اورطبرانی نے اسے روایت کیا ہے) انسان کے ہاتھ کی کمائی سب سے بہتر کمائی ہے اور ہر جائزوخالص تجارت۔
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ جو آدمی کام کرکے دیکر لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے، ایسا شخص میری نگاہ میں بیٹھے رہنے والے اور لوگوں کی نوازش کا انتظار کرنے والے سے بہتر ہے۔
بلکہ  انسان، تجارت اور طلب رزق کے اندر محنت کرکے بھی رب کا تقرب حاصل کرتا ہے، ایسے تاجرکی فضیلت کے تعلق سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشھدائ ‘‘  سچا،امانت دار تاجر نبیوں،صدیقین اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
امام طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ:ایک شخص کا گزر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ،صحابہ نے اس کی محنت اور جاں فشانی دیکھ کر آپ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !کاش اس کا یہ عمل اللہ کی راہ میں ہوتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی یہ کوشش اگر اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے ہوگی تو یہ اللہ کی راہ میں ہے،اگر بزرگ اور بوڑھے والدین کے لئے ہوگی تو یہ اللہ کی راہ میں ہے،اگر خود اس کی ذات کے لئے ہوگی تاکہ (ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے اپنا دامن) محفوظ رکھے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ساری تگ ودو دکھلاوے اور فخرومباہات کے لئے کر رہا ہے تویہ شیطان کی راہ میں ہے۔
اے نوجوانو کی جماعت!کوئی بھی حکومت وسلطنت اور جماعت اس وقت خوشی اور فحر محسوس کرتی ہے جب اس کے نوجوان کے پاس پہاڑ جیسی ہمت ہو،خود سے ترقی کا زینہ طے کرتے ہوئے اعلی مقام پر اپنا مسکن بناتے ہوں،اور وسروں کی ماتحتی میں جینے پر راضی نہ ہوں،جب نوجوان ایسے ہوتے ہیں تو وہ  اپنے سے بڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
حلال مال اور اچھی کمائی کے بہ دولت ہی  مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابئہ کرام اہل کتاب کے ساتھ اقتصادی میدان میں مقابلہ کر نے کے قابل ہوسکے،کیا آپ کولگتا ہے کہ وہ اگر نادار اور محتاج ہوتے تو ان کی تمنائیں پوری ہو پاتیں۔
کسی بھی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج اس کی قوم کی سستی اور کاہلی ہی ہوتی ہے ،کیونکہ حکومتیں افراد سے ہی بنتی ہیں،تو بھلا جب  حکومت کے افراد ہی کاہلی اور ناکارہ پن کے شکار ہو جائیں تو وہ حکومت آسمان کی بلندی کو کیسے پہنچ سکتی ہے؟ بے روزگاری ایک خطرناک برائی اور ہلاکت خیز بیماری ہے جو پلک جھپکتے ہی انسانی زندگی کا سکون غارت اور زندگی کو پراگندہ کردیتی ہے۔بے روزگاری ، فقیری کا دروازہ ،چوری کی  راہ،اور دھوکہ ومکر کی سبیل ہے۔
 اسلام ،عزت وشرافت اور رفعت وبلندی  والا دین ہے۔جو اپنے پیروکاروں کو کار خیر اورنفع بخش عمل کی ترغیب دیتا ہے۔اور ناگہانی آفات ومصائب کے لئے پیشگی تیاری کی رہنمائی کرتا ہے ۔جب دین کے ساتھ ساتھ مال وزر کی فراوانی بھی ہو تو اس سے دین کو تقویت اور غلبہ حاصل ہوتا ہے اور دین کے ساتھ ساتھ اس سے حکومتوں کا بھی سر اونچا ہوتا ہے۔شاعر کہتا ہے:
ما أجمل الدین والدنیا اذا اجتمعا
 جب دین ودنیا کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے توکیا ہی خوب ہو جاتا ہے۔
آپ  رزق کی تلاش میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔اس راہ میں سستی وکاہلی سے کوسوں دور رہیں۔ساتھ ہی مسائل زندگی کے سلسلے میں دوسروں پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔

بڑے بڑے تاجر حضرات دن ورات میں ہی بلند وبالا مقام کو نہیں پہنچ گئے ، بلکہ وہ بھی اپنی جوانی میں کسی نہ کسی کام کے تلاش ہی میں تھے،لیکن ان کی ہمتیں بلند اور نگاہیں آسمان پر تھیں جس نے انہیں آج اس مقام پر پہنچا دیا ۔کسی بھی چیز کی قدر وقیمت کا معیار اس سے طے ہوتا ہے کہ اس کے حصول کے پیچھے کتنی محنت صرف کی گئی ہے۔اسی وجہ سے محنت سے حاصل کی ہوئی چیزکے بارے لوگ کم ہی غفلت اور بے توجہی برت تے ہیں۔جبکہ وہ چیز جو کسی کو  بغیر محنت اور جاں فشانی کے مل جائے، اس کی نظر میں وہ کبھی قیمتی،نفیس اور اہم نہیں ہو سکتی ۔

الثلاثاء، أغسطس 30، 2016

بسم اللہ ارحمن الرحیم

                   اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت


از قلم:ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم/امام وخطیب مسجد نبوی،مدینہ منورہ
ترجمہ:سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی/طالب جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ

الحمد للہ رب العالمین ،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.
أما بعد:
روئے زمین پر خیر وبھلائی پائے جانے کے اسباب:
اللہ تعالی جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا،انہیں اپنی فرمانبرداری کا حکم دیا،اور اپنے اطاعت گزار بندوں کے لئے سعادت اور خوش بختی مقرر کردی،اللہ کی طاعت  وبندگی وہ قلعہ ہے کہ جو اس میں داخل ہو گیا وہ مامون ہوگیا، اور جس نے اسے ادا کی اسے نجات مل گئی،عبادت ایک ایسا کار خیر ہے جس میں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں،اللہ بلندوبرتر کا فرمان ہے:ماذا علیھم لو آمنوا باللہ والیوم الآخر وأنفقوا مما رزقھم اللہ ‘‘  بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے  اور اللہ تعالی نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ،اللہ تعالی انہیں خوب جاننے والا ہے۔
زمین میں جتنی بھی بھلائی موجود ہے ،وہ سب اللہ اور رسول اللہ کی فرمانبرداری کا ثمرہ ہے،امام ابن القیم ؒ فرماتے ہیں: جو دنیا کے اندر پائے جانے والے شرور وفتن کے بارے میں غور کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ دنیا کی تمام برائیاں اللہ کے رسول کی مخالفت اور آپ کی فرمابرداری سے روگردانی کا نتیجہ ہیں،اور دنیا میں جتنی بھی اچھائیاں ہیں ،وہ سب اللہ کے رسول کی اطاعت  کے طفیل ہیں،اسی طرح انسان کو ذاتی طور پر جو غم،الم اور تکلیف لاحق ہوتی ہے ،اس کی وجہ بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے منہ موڑنا ہی ہے۔

سعادت وخوش بختی کے اسباب:
اللہ اپنے بندوں پر رحیم ہے کہ انہیں اپنی بندگی اور طاعت گزاری کا حکم دیا ہے تاکہ انہیں خیر وبھلائی نصیب ہوسکے،اللہ فرماتا ہے:استجیبوا لربکم من قبل أن یأتی یوم لا مرد لہ من اللہ ‘‘کہ اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے ایسا دن آجائے جس کا ہٹنا نا ممکن ہے ۔ چناچہ مومنوں نے اللہ کی پکار پر لبیک کہا اور کامیاب ہو گئےنما کان قول المؤمنین اٍذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم أن یقولوا سمعنا وأطعنا وأولئک ھم المفلحون"  ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلا یا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا،یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔اسی سے ان کے دل زندہ ہیں اور ان کی عظمت بلند ہے، اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: یا أیھا الذین آمنو استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم" اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجالاؤ،جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیزکی طرف بلاتے ہوں۔
اطاعت اور فرمانبرداری کے فوائد:
جس نے اللہ کی تابعداری اور بندگی کی طرف پہل کی ، اللہ اس کی ہدایت اور راست روی میں اور اضافہ کر دیتا ہے: والذین اھتدوا زادھم ہدی وآتاھم تقواھم" جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رقم طراز ہیں: آدمی جتنا ہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار ہوگا،وہ اللہ کا اتنا ہی بڑا موحد اور دین میں اسی قدر مخلص ہوگا ،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے منحرف ہو جائیگا تو اسی کے بہ قدر اس کا دین بھی ناقص وناتما م ہوتا چلا جائیگا۔
جو اللہ اللہ کی سنتے ہیں ، اللہ بھی انکی سنتا ہے،اللہ کا فرمان ہے: ویستجیب الذین آمنوا وعملوا الصالحات ویزیدھم من فضلہ " اللہ تعالی  ایمان والوں اورنیکو کاروں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتاہے ۔ بلکہ اللہ اپنے  ایسے بندوں سے محبت رکھتا، ان پر رحم فرماتا اور انہیں جنت کا مکیں بناتا ہے، اللہ عز وجل فرماتا ہے:للذین استجابوا لربھم الحسنی " جنہوں نے اللہ کی سنی ،اللہ نے ان کے لئے جنت تیار کر رکھا ہے۔
انبیاء ورسل علیہم السلام اور اللہ کی اطاعت وبندگی :
انبیاء ورسل علیہم السلام نے اللہ کی اطاعت میں سب سے پہلے پہل کی ،اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام سے کہا:أسلم قال أسلمت لرب العالمین" فرمانبردار ہوجا،انہوں نے کہا:میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔ انہیں اپنے لخت جگر کو قربان کردینے کا حکم ہوا تو انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کو ذبح کرنے کے لئے پیشانی کے بل لٹا دیا۔بیٹا بھی اسماعیل جیسا کہ جس نے یہ حکم سن کر کہا: یا أبت افعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین اباجو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
موسی علیہ السلام اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے دوڑ پڑے اور کہا : وعجلت الیک رب لترضی" اور میں نے اے رب !تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہوجائے  ۔اللہ نے نبیوں سے یہ عہد وپیمان لیا کہ اگر ان کے درمیان محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں،تو ان سب نے بیک زبان کہا:أقررنا"  ہمیں اقرار ہے ۔اللہ نے ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حکم دیا : قم فأنذر” کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے ! توآپ نکل پڑے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دینی شروع کردی،اللہ نے جب آپ سے کہا: قم اللیل الا قلیلا" رات کے وقت نماز میں کھڑے ہوجائو مگر کم۔ توآپ تہجد کا اس قدر اہتمام کرنے لگے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔
رسولوں کے علاوہ دیگر لوگوں کی اطاعت الہی میں سبقت:
عیسی علیہ السلام کے حواریوں  اور مددگاروں نے ان کی دعوت کوسنی اور آپ کی آواز پر لبیک کہا،انہیں عیسی علیہ السلام نے کہا:من أنصاری الی اللہ قال الحواریون نحن أنصار اللہ آمنا باللہ " اللہ تعای کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالی کی راہ میں مددگار ہیں ، ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں۔
جنوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اللہ کی پکار سننے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی اور انہیں اس پر ابھارا: یا قومنا أجیبوا داعی اللہ وآمنوا بہ یغفر لکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب ألیم" ہماری قوم ! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو،اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا۔
اطاعت الہی کی راہ میں صحابئہ کرام کا جذبئہ مسابقت:
صحابئہ کرام کو جوفضیلت حاصل ہوئی ووہ اس لئے کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،ان میں اخلاص تھااور وہ اللہ ورسول کی تابعداری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے تھے ،جس کے سبب وہ اللہ کی نظر میں برتر اور بہتر قرار پائے۔ جب استقبال کعبہ کا حکم نازل ہوا تو ان صحابئہ کرام نے نماز کی حالت میں ہی اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کرلیا،حکم کا سننا تھا کہ اس پر عمل پیرا ہوگئے، اتنی بھی تاخیر انہیں گوارا نہیں ہوئی کہ اگلی نماز تک اسے مؤخر کر دیتے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دلائی اور وہ اپنے قیمتی سے قیمتی اموال خرچ کرنے لگے؛حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی ملکیت کا نصف حصہ نبی کی خدمت میں لاکر پیش کیا اور حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال آپ کے قدموں میں لاکر ڈال دیا۔جب آپ نے کہا: من جھز لنا جیش العسرۃ،فلہ الجنۃ" کون ہے جو ہمارے لئے جنگ  تبوک کی تیاری کا صرفہ برداشت کرے گا،اللہ اس کو جنت کی سکونت عطا کرے گا۔تو حضرت عثمان نے اس کی تیاری مکمل کرانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔بخاری۔
جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ :لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون" جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤگے۔ تو حضرت ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول! میرا سب سے محبوب مال بیرحاء نامی باغ ہے ، اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں‘‘ ۔بخاری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کم سن صحابہ کرام کو قیام اللیل کی فضیلت کی رہنمائی کی تو وہ سب اللہ کے عبادت گزار بندے بن گئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا جبکہ وہ ابھی چھوٹے ہی  تھے کہ : وہ اللہ کے نزدیک بڑا پیارا بندہ ہے،کاش کہ وہ تہجد کا بھی اہتمام کرتا!" آپ کی یہ حدیث سننے کے بعد راتوں کو وہ بہت کم ہی سویا کرتے تھے۔متفق علیہ 
اللہ کے لئے صحابئہ کرام نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا:
طاعتِ الہی میں انہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی میں ڈال کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے،غزوئہ بدر میں مقداد ابن الأسود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا فر ما رہے تھے، اور کہا: ہم وہ نہیں کہتے جو موسی کی قوم نے ان سے کہا تھاکہ : جاؤ اور اپنے رب کے ساتھ مل کرقتال کرو،بلکہ ہم آپ کے دائیں،بائیں،آگے،پیچھے ہرطرف سے قتال کرینگے،ابن مسعود کہتے ہیں کہ : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا کہ یہ سن کر خوشی سے آپ کا چہرہ دمک اٹھا۔بخاری
حکم سنتے ہی غیر اللہ کی قسم سے توبہ کرلیا:
صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری میں اس قدر پہل اور سبقت کرتے کہ جوں ہی انہیں خبر لگتی کہ آپ نے فلاں بات یا اس طرح کے کام سے منع فرمایا ہے،توبنا کسی تامل کے فوارا اس سے باز آجاتے،زمانئہ جاہلیت میں آباء واجداد کی قسمیں کھانا ان کی عادت تھی ، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہوا:اللہ تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے توانہوں نے غیر اللہ کی قسمیں کھانا یکسر ترک کردیا،یہاں تک کہ عمر رضی اللہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تب سے کبھی بھی غیر اللہ کی قسم نہیں کھایا ،نہ خود اپنی زبان سے اور نہ کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔مسلم
بھوک کی شدت کے باوجود کھانے سے باز رہے:
ایک موقع سے صحابہ کو بہت بھوک لگی تھی،انہوں نے کھانا بنا یااور بھوک کی شدت کے باوجود صرف اس لئے کھانے سے باز رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا،یہ خیبر کاواقعہ ہے جب گھریلو گدہے مباح تھے ،اسی وجہ سے صحابہ نے اس کا گوشت پکایا،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ ندا لگائی کہ :اللہ اور رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع فرماتا ہے کیونکہ یہ ناپاک ہیں اور اسے کھانا شیطانی عمل ہے‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :یہ سننا تھا کہ ہانڈیاں گوشت سمیت انڈیل دی گئیں،جبکہ وہ گوشت سے بھری پُری تھیں۔متفق علیہ
شراب کی حرمت نازل ہوتے ہی اسے ترک کردیا:
اسلام کے شروع زمانے تک شراب مباح تھی،لیکن جیسے ہی کسی راہ گزرتے شخص سے انہوں نے اس کی حرمت کی خبر سنی تو اسے بہا ڈالا،حضرت ابوالنعمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:میں ابو طلحہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا کہ اس کی حرمت نازل ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک منادی کو ندا لگانے کا حکم دیا،آواز سن کر ابو طلحہ نے کہا: باہر دیکھو کون ہے،یہ آواز کیسی ہے،کہتے ہیں کہ : میں نکلا تو دیکھا کہ منادی ندا لگا رہا ہے: خبرادار ! شراب حرام ہوچکی ہے،اور کہا:جاکر شراب بہا ڈالو،راوی کا بیان ہے کہ :پھر تو مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی"۔متفق علیہ ،ایک دوسری روایت میں ہے کہ :جب واپس لوٹ کر آئے تو  اس آدمی کے بعد کسی اور سے اس کی بابت دریافت نہیں کیا اور بلا کسی تامل کے شراب انڈیل دیا
بلا کسی سوال کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع:
لباس وپوشاک میں بغیر کسی استفسار کے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیا کرتے تھے ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جسے آپ پہنا کرتے اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے،لوگوں نے جب یہ دیکھاتو انہوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالی ،پھر ایک دن ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھے ہوئے اپنی انگوٹھی اتا رڈالی اور یہ کہتے ہوئے اسی پھینک ڈالا کہ :میں یہ انگوٹھی پہنا کرتا تھا،اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتا  تھا،اللہ کی قسم میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔یہ سن کر صحابہ نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتارپھینکی۔متفق علیہ
صغار صحابہ بھی اتباع نبوی میں پیش پیش رہتے تھے:
حضر ت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی اسی وقت اپنی و صیت لکھ ڈالی کہ :کوئی بھی مرد مسلم جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہوجس کے با رے وہ وصیت کرنا چاہتا ہو،اسے یہ حق نہیں کہ وہ وصیت کی تفصیل لکھے بنا دو رات گزارے۔متفق علیہ ، حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ : جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تو اس کے بعد ایک رات بھی نہیں گزری اور یہ وصیت میرے پاس مکتوب شکل میں موجودتھی۔
صحابہ نے اللہ کے لئے اپنی زبانوں کی حفاظت کی:
اللہ کے رسول کی وصیت کے بہ موجب انہوں نے ہرغیر مناسب چیز سے اپنی زبان کی حفاظت کی ،جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول!میں دیہات کا رہنے والا ہوں ،اسی وجہ سے میرے اندر دیہاتیوں کی سی سخت مزاجی  ہے، آپ مجھے کچھ وصیت فرمائیں، آپ نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دو،صحابی کہتے ہیں کہ:اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہ دی ،حتی کے کسی بکری اور اونٹ کو بھی نہیں"۔
احکام کی بجا آوری :
صحابہ کرام اپنے تمام حرکت وعمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام کے پابند تھے،خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں جنگ کا پرچم تھماتے ہوئے فرمایا:آگے بڑھو اور اس وقت تک پیچھے نہ مڑنا جب تک کہ اللہ تیرے ہاتھ پہ مسلمانون کوفتح یاب نہ کردے۔حضرت علی کچھ دور چل کر ٹھہر گئے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے بہ موجب آپ سے دور ہوتے ہوئے بھی التفات کرنا گوارہ نہ کیا اور بہ آواز بلند دریافت کیا:یا رسول اللہ !علی ماذا أقاتل الناس؟ کہ اے اللہ کے رسول ! کس چیز پر لوگوں سے قتال کروں؟۔مسلم
منہیات سے اجتناب:
انہوں نے آپ کی منع کردہ ہر چیز کو ترک کردیا اگرچہ اس کے کرنے میں مسلمانوں کی فتح ونصرت کے لئے بہ ظاہر مصلحت ہی کیوں نہ نظر آرہی ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أحزاب کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا:جاؤ اس قوم کی خبر لیکر آؤ،لیکن ہاں  انہیں میرے خلاف ورغلا مت دینا ۔یعنی کہ :انہیں اپنے کسی عمل سے خائف نہ کردینا کہ وہ تجھے جان لیں اور ہمارے اوپر چڑھائی کردیں۔جب وہ اس قوم کے پاس آئے تو ان کی نظر ابو سفیان پر پڑی جو مشرکین کا قائد تھا،وہ اپنی پشت سیک رہا تھا،صحابی کہتے ہیں کہ میں نے تیر کمان میں ڈال کر نشانہ سادھ لیا ، لیکن اتنے میں مجھے آپ کی بات یاد آگئی کہ :انہیں بھڑکانا نہیں۔حالانکہ اگر میں تیر آزماتا تو نشانہ نہیں چوکتا۔مسلم
اللہ کی اطاعت گزار صحابیات:
مؤمن عورتوں نے بھی اللہ کی اطاعت میں سبقت کی ،ہاجر علیہا السلام نے اللہ پر بھروسہ کیااور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی،اور بے آب وگیاہ سرزمین پر بھی سکونت اختیار کرنے میں ذرا تامل نہ کیا ،جبکہ اس وقت مکہ میں کسی فرد بشر کا وجود تک نہیں تھا،بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ہلاکت وتباہی کے سپرد کردیا،لیکن انکی یہ بات توکل علی اللہ کی خوبی اجاگر کرتی ہے جوانہوں نے اپنے شوہر نامدار حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کرتے ہوئے کہاکہ :کیا اللہ نے آپ کو  اس کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں،اس پر وہ بول پڑی :تب تو وہ ہمیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔بخاری
صحابیات کا حجاب اور پردہ سے محبت:
جس وقت پردے کی فرضیت نازل ہوئی اس وقت صحابیات کے پاس حجاب کے لئے کپڑے نہیں تھے،انہوں نے حکم الہی کی بجا آوری میں اپنے کپڑے پھاڑ کر چہرے ڈھک لئے ،اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:اللہ پہلی پہلی ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں"تو انہوں نے اپنے ازار کے زائد حصے پھاڑ کر اوڑھنیاں بنا لیں۔بخاری
سب سے کا مل انسان:
اللہ ورسول کی اطاعت در اصل شہادتین کی بجا آوری اور بندگی کی تکمیل کا اشاریہ ہے،اگر اللہ کا کوئی حکم آپ کے گوش گزار ہوتا ہے توآپ خوشی خوشی اسے بجالائیں،اگر کسی چیزسے آپ کو روکا جاتا ہے تو آپ اس یقین کے ساتھ اس سے باز رہیں کہ اس میں کوئی نہ کوئی نقصان ہے،اور اپنے اس عمل سے خالق کائنات کی خوشنودی کے طلب گار رہیں۔
لوگوں میں سب سے مکمل زندگی والا انسان وہی ہے جس کے اندر تابعداری اور فرمانبرداری کا جذبہ سب سے زیادہ ہو،جس کے اندر تابعداری کی تھوڑی کمی آئی ،اس کے اندر اسی کے بہ قدر زندگی سے محرومی بھی آتی ہے،جس نے اللہ کی اطاعت سے انحراف برتا ،وہ غیر اللہ کی بندگی میں پڑگیااور ذلیل ہوگیا۔
اللہ کی معصیت کے آثار:
اللہ نے اپنی نافرمانی سے ڈرایا ہے اور کہا ہے کہ :وہ لوگ جو اللہ کے حکم سے منہ موڑتے ہیں ،انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں انہیں کوئی فتنہ آگھیرے یا وہ دردناک عذاب میں مبتلا کردئے جائیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ :میں کوئی بھی ایسا عمل ترک کرنے والا نہیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا کرتے تھے ،مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے کوئی بھی ایسا عمل ترک کردیا تومیں گمراہ ہوجاؤں گا۔متفق علیہ
اطاعت میں سستی:
اطاعت وفرمانبرداری اور عبادت گزاری میں سستی کمال  تابعداری کے منافی ہے،جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر کسی اور کی بات کو مقدم کیا وہ آپ کا پیروکار نہیں ہو سکتا،آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت دخول جنت سے سرفراز ہوگی سوائے ان کے جنہوں نے انکار اور اعراض کیا،صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہ اعراض کرنے والے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا:جس نے میری مانی اور میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا،اور جس نے میری نہیں سنی اور میری نافرمانی کی اس نے اعراض برتا۔بخاری
اعراض برتنے والاکل قیامت کے دن یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جاتا کہ اللہ ورسول کی اطاعت کرسکے،اور یہ آرزو کرے گا کہ زمین کی ساری ملکیت اور اس کے ہم مثل اور بھی خزانے دیکر عذاب وعقاب سے نجات پالے :والذین لم یستجیبوا لہ لوأن لھم مافی الأرض جمیعا ومثلہ معہ لافتدوا بہ " جن لوگوں نے اپنے  رب کی حکم برداری نہیں کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وہ سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ الہی ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار،متبع اور پیروکار بنادے ۔آمین
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد،وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔