الجمعة، مارس 06، 2020

ایسا کہاں سے لاﺅں کہ تجھ سا کہیں جسے ( ڈاکٹر محمد لقمان السلفی ؒ)

محمد ذبیح اللہ عبد الرﺅف التیمی

آج بتاریخ 5مارچ 2020 کو تقریبا دس بجے صبح کے بعد سے مغرب کی نماز ادا کرنے تک سوشل میڈیا کی پہنچ سے دور رہا، کیوں کہ گھریلو امور اور مسجدکی چل رہی تعمیر کے سلسلے میں دن بھر مشغول تھا ۔لیکن جونہی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ملک میں سی اے اے کے خلاف چل رہے احتجاجات کے تعلق سے ایک صاحب نے آکر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کچھ تشویشناک خبر سنائی تو فورا فیس بک کھولا مگر جونہی فیس بک آن ہوا ایک دوست کے پوسٹ کو دیکھ کر حیران وپریشان ہوگیا ۔اور ایسا ہونا فطری تھا کیوں کہ خبرتھی کہ ”بانی جامعہ علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی اب اس دنیا میں نہیں رہے “۔میرا تجسس بڑھتا گیا اور جوں جوں فیس بک کی دنیا میں آگے بڑھتا گیا تمام بڑے ،بزگوں ،دوستوں اور عزیزوں کا ایک ہی پوسٹ نظر آتا گیا کہ ”علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی اللہ کو پیارے ہوگئے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بڑی لغزشوں کو معاف فرمائے اور آپ کے حسنات کو آپ کے میزان عمل میں وزنی بنائے اور کروٹ کر وٹ اعلی علیین نصیب فرمائے۔
علامہ موصوف کا انتقال پرملا ل جہاں ایک عظیم ملی اور قومی خسارہ ہے جس تلافی کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے وہیں ان کی رحلت میرے لئے غیر معمولی نقصان ہے جسے میں اپنے الفاظ میں بیاں کرنا چاہوں توں الفاظ کم پڑجائےں گے ۔در اصل جامعہ کی فراغت کے بعد سے مادر علمی میں کام کرتے ہوئے میرے جامعہ چھوڑنے سے ایک دو سال قبل تک ان کی محبتوں ،عنایتوں اور زرہ نوازیوں سے ایسے محظوظ ہوتا رہاہوں جیسے تشنہ لب چاہ سے ۔علامہ موصوف رحمہ اللہ نے مجھے ہمیشہ اپنی کرم فرمائیوں سے نوازا اور علمی ترقیوں کے زینے پرچڑھنے کے لئے ہمت فزائی کیا۔ میں نے جب جب کسی بھی وجہ سے جامعہ چھوڑاانہوں نے ذاتی طور پر بار بار فون کرکے جامعہ میں آکر کام کرنے کا مشورہ دیا ۔میں نے اپنی اب تک کی علمی زندگی میں ان سے بڑا محسن نہیں پایا ۔ مرزا غالب کے لفظوں میں ؛
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشہ کہیں جسے 
ایسا کہاں سے لاﺅں کہ تجھ سا کہیں جسے 
اگر موقع ملا تو بعد میں اپنے محسن کے احسانوں کے بارے میں تفصیل سے لکھوں گا(ان شاءاللہ ) لیکن ابھی اللہ تعالی سے دعاگوں ہوں کہ رب العالمین علامہ موصوف ؒکی کوتاہیوں سے در گزر فر ماکر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما،ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی کر اور مادر علمی جامعہ امام ابن تیمیہ کوان کا نعم البدل نصیب فرما۔آمیں تقبل یا رب العالمین۔ 

شيخ محمد فضل الرحمن المدني

گزشتہ کل جامعۃ الأزھر الہندیۃ ، نئی دہلی کے تیمی اساتذہ کے ذریعہ علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہﷲ کے انتقال پرملال کی خبر ملی ، زبان پر آیت إنا للہ وإنا إلیہ راجعون جاری ہوگئی ، تھوڑی دیر کے لئے ماضی کے دریچے میں گم ہوگیا ، ۱۹۹۸ سے ۲۰۱۰ کا وہ زمانہ یاد آگیا جب علامہ موصوف کے قائم کردہ عظیم الشان علمی وتعلیمی مرکز جامعۃ إمام ابن تیمیۃ ، مرکز علامہ ابن باز للدرسات  الاسلامیۃ اور کلیۃ خدیجۃ الکبری للبنات میں علمی وتدریسی خدمت انجام دینے کا موقع ملا 

شیخ موصوف کے قائم کردہ مذکورہ بالا اداروں سے میری بارہ سالہ وابستگی نہایت سنہری دور تھا جسے میں نے بہت کچھ سیکھنے اور سکھانے میں گزارا -
اس مدت قیام کے دوران علامہ ابن قیم رحمہﷲ کی جلاء الافھام فی فضل الصلاۃ والسلام علی محمد خیر الانام کا  اردو ترجمہ " رسول اکرم پر درورد وسلام " کے نام سے اور علامہ موصوف کی جمع کردہ صحیحین کی احادیث کے مجموعہ ھدی الثقلین کا اردو ترجمہ " مشعل راہ " کے نام سے علامہ موصوف کی رہنمائی و نگرانی میں مرکز علامہ ابن باز سے شائع ہوا ، علاوہ ازیں علامہ موصوف کے جاری کردہ جامعہ کے ترجمان مجلہ طوبی میں دس سال تک تقریبا بلا ناغہ ہرماہ " ریشہ دوانیاں" کے کالم کے تحت اردو مضامین لکھنے کا بھی سلسلہ رہا اور مجلۃ الفرقان کے لئے عربی زبان میں مضامین و مقالات لکھے گئے ، یہ سب علامہ موصوف کی تحریک اور ہمت افزائی کی وجہ سے ممکن ہو سکا ، شیخ مرحوم ہرسال ایک یا دو مرتبہ ریاض سعودی عرب سے مشرقی چمپارن بہار میں واقع جامعہ ابن تیمیۃ تشریف لاتے تھے اور اپنی جواں سال علمی ٹیم کی ہمت افزائی کرتے تھے ، اسی کا نتیجہ تھا کہ نہایت قلیل مدت میں علامہ موصوف کے قلم سے اور ان کی سرپرستی میں ان کی ٹیم کے اہل علم کے قلم سے متعدد وقیع کتابیں منظر عام پر آئیں جس نے علمی حلقوں میں ایک ہلچل سی پیدا کردی تھی -

علامہ رحمہﷲ کے اندر ﷲ نے بے پناہ علمی ، تعلیمی و تربیتی خوبیاں ودیعت کی تھی ، جس میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ہر فرد کی قدرو قیمت کو سمجھتے تھے اور اس کی صلاحیت کے بقدر اسے کسی علمی کام کا مکلف بنا تے تھے ، وہ نہایت باشعور اور علم دوست انسان تھے ، انھوں نے تاکید کر رکھی تھی ان کے ہر باحث کے ٹیبل پر عربی زبان کی مشہور لغت المنجد ہونی چاہیے ، مجھے حیرت ہوتی تھی کہ انہوں نے نہایت پسماندہ علاقہ میں قائم جامعہ کے اندر ہند و عالم عربی سے شائع ہونے والے عربی و اردو زبان کے معیاری و مشہور رسائل و جرائد کی فراہمی کو کیسے یقینی بنا رکھا تھا ؟ نیز جامعہ کی لائبریری میں ہر سال نئی اور اہم عربی و اردو مطبوعات کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا تھا ، جس کی وجہ مجھ جیسے انسان کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ لکھنؤ اور دہلی کی جامعات کے ترقی یافتہ علمی ماحول سے نکلنے کے بعد میں کسی پسماندہ علاقہ کے معمولی ادارہ میں آگیا ہوں - یہ سب ان کے اعلی علمی ذوق اور مربیانہ صلاحیت کی روشن دلیلیں ہیں
جامعہ میں قیام کے دوران طلباء و طالبات کو عربی زبان و ادب اور انشاء وغیرہ پڑھانے کا بھی سلسلہ رہا جس سے میں سمجھتا ہوں کہ میرے شاگردوں کو علمی فوائد حاصل ہوئے ، الحمد للہ ان میں سے میرے کئی لائق و فائق شاگرد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے پی ایچ ڈی و ماجستر کر چکے ہیں ، ﷲ پاک ان سب کو مزید علمی ترقیات سے نوازے اور میرے لئے ذخیرۃ آخرت بنائے 

جامعہ امام ابن تیمیہ ، مرکز علامہ ابن باز اور کلیۃ خدیجۃ الکبری کی تاسیس بلاشبہ علامہ موصوف کا عظیم کارنامہ ہے ، امید ہے ان تمام علمی مراکز سے آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں گی اور علامہ موصوف کے لئے صدقہ جاریہ بنیں گی ، میری دعا ہے ﷲ ان کے حسنات کو قبول فرمائے ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کے قائم کردہ تمام علمی و تعلیمی مراکز کی حفاظت فرمائے اور اسے ایسے افراد مہیا فرمائے جو علم و صلاحیت ، شکل و صورت اور کردار و عمل ہر اعتبار سے ان کے سچے جانشین ہوں ، آمین یا رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین-

وفاة العالم الجليل الدكتور محمد لقمان السلفي


د. نسيم سعيد التيمي


تلقيت ظهر اليوم 10/07/1441-05/03/2020 ببالغ الحزن والأسى وفاة شيخنا ومربينا الدكتور محمد لقمان السلفي مؤسس جامعة الإمام ابن تيمية، جندنباره، جمبارن الشرقية، بيهار، الهند، المقيم في الرياض عاصمة المملكة العربية السعودية، صاحب الخدمات الجليلة، والآثار العلمية النافعة.ولد سنة (1943م)، ودرس في مدرسة دار العلوم الأحمدية السلفية، دربغه، بيهار، الهند من سنة (1956م) إلى سنة (1962م) بعد أن تعلم القراءة والكتابة في بعض المدارس الابتدائية، ثم سنحت له فرصة مواصلة دراسته في الجامعة الإسلامية بالمدينة النبوية على أيدي كبار أهل العلم أمثال سماحة الشيخ ابن باز، والمحدث الجليل محمد ناصر الدين الألباني، والمفسر الشهير، الأصولي المعروف العلامة محمد أمين الشنقيطي صاحب أضواء البيان، والمحدث النبيل العلامة الحافظ محمد غوندلوي -رحمهم الله جميعًا-، ومحدث المدينة الشيخ عبد المحسن العباد-حفظه الله-، فصقلت مواهبه، وتوسعت قدراته، فحاز شهادة البكالوريوس بتقدير ممتاز، ثم حصل على شهادة الماجستير من المعهد العالي للقضاء بالرياض، وشهادة الدكتوراه من جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض، وتتلمذ في المعهد العالي على العالم المتقن صاحب التحقيقات الأنيقة الشيخ عبد الرزاق العفيفي، والشيخ مناع خليل القطان المصري، وغيرهما من نخبة أهل العلم.واشتغل في مكتب سماحة الشيخ ابن باز مترجمًا وكاتبًا، وكان يتقن عدة لغات: العربية، الأردية، والهندية والإنجليزية، وكان له معرفة بالبنغالية، وشارك في عدة دورات علمية ودعوية داخلية وخارجية خلال هذا المنصب، وكان معتمدًا محبوبًا إلى سماحة الشيخ.وقد أفنى الرحيل حياته كلها في خدمة الإسلام والمسلمين.فسر القرآن باللغة الأردوية وسمَّاه بـ«تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان».أبرز مكانة السنة البيضاء الغراء بتأليف كتاب معروف بـ«مكانة السنة في التشريع الإسلامي ودحض مزاعم المنكرين والملحدين» بالعربية.ودافع عن الحديث النبوي الشريف، ورد على المستشرقين وأذنابهم بتدوين مؤلف متداول موسوم بـ«اهتمام المحدثين بنقد السند والمتن ودحض مزاعم المستشرقين وأتباعهم» بالعربية.وفتح مغلقات المرويات في الأحكام والآداب بشرح «بلوغ المرام» للحافظ ابن حجر سماه بـ«تحفة الكرام شرح بلوغ المرام»، وبشرح «الأدب المفرد» للإمام البخاري باسم «رش البرد شرح الأدب المفرد».وارتوى من منهل السيرة المحمَّدية العطِرة -عليها أفضل الصلاة والتسليم-، ودعا الناس إليها بأليف كتابين أحدهما: «الصادق الأمين»، والثاني: «سيد المرسلين» بالعربية، والأول أوسع.وأثرى اللغة العربية وأحسن إلى عشاقها، وحببها إليهم بإعداد سلسلة ذهبية سمَّاها بـ«السلسلة الذهبية للقراءة العرية» 12 جزءًا.خاض في غمار الفقه الإسلامي، واختار فقه أهل الحديث، وأحبَّه حبًّا بلغ مبلغه، وندب إليه الأمَّة بتأليف كتاب مفيد باسم «السعي الحثيث إلى فقه أهل الحديث» 3 مجلدات.هذه معظم مؤلفاته الكبار، وبعضها نقلت إلى الأردية، وبعضها إلى الهندية، وبعضها إلى الإنجليزية، وغيرها عشرات بالعربية والأردية مما أثرت المكتبة الإسلامية.وهناك خدمة عظيمة قدَّمها للأمة الإسلامية وهي بناء صرحين علميين شامخين في أرض بيهار، الهند، وهما مفخرتان يفتخر بهما المسلمون وأبناؤهم وبناتهم، أحدهما لتعليم البنين، والثاني لتعليم البنات، نهل من هذين المنهلين الصافيين آلاف أبناء المسلمين، وبناتهم، وانتشروا في أرض الله دعاة ومعلمين، وأنا ثمرة من ثمار هذه الحديقة الغناء، أسال الله أن يخلدها إلى يوم ورث الله الأرض ومن عليها.وكان الرحيل مقتصدًا في الحياة، لم يستفزه الشيطان بماله، فلم يسرف ولم يقتر، وكان بين ذلك قوامًا، ورزق الله الإنفاق مما آتاه في وجوه الخير، فكان قدوة لأهل المياسر.وكان محبًا للعلم وأهله، ومحرضًا على استثمار الوقت، والصبر الجميل، والعمل الدؤوب، فكان أسوة للمشتغلين بالعلم.وكان معروفًا بتنظيم الأوقات، وقد تفنن في خدمة الأمة الإسلامية من إقامة دور العلم، وإنشاء مركز النشر والطباعة، وتأليف الكتب، وإلقاء المحاضرات، ومشاركات الندوات، فكان خير مثال لأهل المدارس والمشروعات الخيرية.وهذه بعض مآثره سجلتها على عجالة، والإحاطة بكامل أعماله تتطلب سفرًا كبيرًا، ووقتًا طويلًا، فالرحيل قدوة للنشء الجديد في استثمار الأوقات، وتنظيمها، وصرفها في نفع الإسلام والمسلمين.أدعو الله أن يتقبل مجهوداته وحسناته، ويثيب عليها، ويغفر له ذنبه، ويستر عليه، ويدخله جنة الفردوس إنه سميع مجيب قريب.

علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ کی چند تالیفات کے سرورق









































وفاة العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي، مؤسس ورئيس جامعة ابن تيمية الشهيرة- رحمه الله تعالى رحمة واسعة


وما كان قيس هلكه هلك واحد     ولكنه بنيان قوم تهدما

توفي اليوم 10/7/1441هـ-5/3/2020م العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي-رحمه الله تعالى رحمة واسعة.

نزل عليَّ اليوم نبأ وفاة العلامة الدكتور محمد لقمان السلفي كالفاجعة التي هزَّت أركاني، وتركتني جامداً واجماً، وملأت جوانحي لوعة وأسى، وذهبت بلبي حزناً وكمداً، وجالت بنفسي حيرة واضطراباً، ولكن الإيمان بالله تعالى والرضاء بقضائه وقدره هو بلسم ناجع للجراح والقروح، وشفاء لما في الصدور، فوقْع موته كان خفيفاً، لو كان يمثل ذاته فحسب؛ جاء وذهب، وإنما كان -حقيقة- بنيان قوم قد تهدَّم، فلا تسأل عن شدة وقعه عليهم وفزعهم، وعن مقدار وجعهم وألمهم.

كان الشيخ عالماً متفنناً، ضرب بسهمه في فنون مختلفة؛ يعرف عنه ذلك من جلس إليه واستمع إلى حديثه في الموضوعات العلمية، وقرأ مؤلفاته في التخصصات المتنوعة؛ حيث ألَّف في التفسير، والحديث، والفقه، والسيرة، والأدب، وكتب مقالات وبحوثاً ونشرها في المجلات العلمية، وفي ذلك كله قد نال قبولاً وتقديراً من العلماء وطلبة العلم، فاستحق بجدارة لقب "العلامة"، وبه عرف.
كان الشيخ عالماً غيوراً على دينه، متمسكاً بمنهجه السلفي في العقيدة والمذهب والفكر، معتزاً بعقيدته السلفية منافحاً عنها في حديثه وتأليفه؛ اختار "السلفي" لقباً له، كأنه لقب عائلي يحمله اللاحق عن السابق عند التمايز بالأنساب، وإن زرت بيته بالرياض، وجدت على واجهته لوحة تعرِّفُك باسم صاحبه وعقيدته ومنهجه، إذ نقش فيها "محمد لقمان السلفي"، وهذا نادر عند العلماء أصحاب المنهج السلفي هنا.

كان الشيخ عالماً يعرف نفسه، ويثق بعلمه، ويعتمد على كفاءاته، لم يكن يخاف في البوح بهذه الثقة والاعتماد لومة لائم، ولم يعترض لسانه أو قلمه تلعثمٌ وإرتاج، ولم يكن يرى نفسه بين أقرانه أقل منهم شأناً، وأنزل رتبة، فكان طويل القامة بينهم بعلمه، بارز الشخصية بين أصحابه بعمله وسعة معارفه.

كان الشيخ عالماً وقوراً، حازماً، ذا أناة وعزيمة، لا يطلب من الأمور إلا معاليها، ويبتعد عن سفاسفها، أخذ نفسه بالجد والحزم، وبلغ على مطيتهما ما تخلف عنه أقرانه بمراحل؛ استثمر حياته واستغل ساعاتها في إنجاز أعمال جليلة وتنفيذ مشاريع عظيمة، يملأ حجمها وسعتها عيون الناظرين بالانبهار والإعجاب والحيرة، وتدرك بذلك أنه اغنتم ما وهبه الله تعالى من ساعات ولحظات فيما يعود على نفسه وعلى قومه بالنفع، ولم يضيع منها شيئاً، كما تدرك أنه لم ينشغل مدى حياته بملاهي الدنيا ومزالقها، وإنما سلك طريق من لا تترك له طموحاته وعزائمه فرصة الانشغال بها أو الالتفات إليها، بل تضع نصب عينيه غايته التي لا يريد أن يقف دونها، ولا يبغي سواها.

كان الشيخ ذا همة عالية، مفعماً بالنشاط والحيوية والحركة، عاش-فيما أرى- منذ بلغ الرشد حتى مرض موته الذي أذهب عنه وعيه حياةَ شابٍّ قوي البنية سليم الجسم نشيط الحركة؛ لم يجعل الشيخوخة يوماً لتترك عليه أثرها أو تأخذ به مهيعها، وقد يسَّر الله لي الاجتماع به أو الاستماع إليه أربع مرات، وفي كل مرة وجدتني أتحدث إلى عالم مفعم بالشباب في طموحه وهمومه وإراداته وحتى نبرة صوته، يريد أن يواصل الحياة ويعيشها عيشة هادفة، لا إلى عالم أصابته شيخوخة، فأنهكته، ويريد أن يتقاعد عن مناشط الحياة.
كان الشيخ عالماً عصاميا، لا عظاميا، حيث بلغ ما بلغه، وشاد ما شاده، وحقَّق ما حقَّقه بجهده وعمله ومعداته بعد فضل الله تعالى وعونه وكرمه، لا بما ورثه عن آبائه، فمن بطأ به عمله، لم يسرع به نسبه، وكان الشيخ نموذجاً حيًّا لهذه الحكمة النبوية، فلعل عجبك لا ينقضي إذا عرفت أن المدينة الجامعية التي تحتضن معاهد وكليات ومرافق حياة مختلفة إنما بناها الشيخ في قرية نائية من ولاية "بهار"، وإن رأيتها يوماً، بهرك مرآها، وأعجبتك مبانيها العظيمة التي ترامت خيوطها في انتظام وتساوق، ولا ترى مثيلها إلا في المدن الكبرى، فيا ترى! هل خطر على قلب أحد من آبائه أو من سكان المنطقة فكرتها أو حتى تصورها؟!

كان الشيخ قنوعاً في حياته، مقتصداً في نفقاته ومصاريفه، بين قتور وإسراف، لم يعرف الإسراف والبذخ والترف إلى حياته سبيلاً، ومع أن الله منَّ عليه بالوظيفة الدارَّة للأموال وغيرها من الموارد المالية، عاش على قصد وكفاف بعيداً عن الإسراف والتبذير، وأنا-شخصياً- شاهدت ذلك في مأدبته التي تشرفت بحضورها مرتين، وهذا يدل على عفته ونزاهته- والله تعالى أعلم- تجاه الأموال التي كانت تأتيه كتبرعات لمشاريع جامعته. 

فالشيخ العلامة هو نموذج رائع ومثال عظيم للعالم الرباني الناصح الذي يقدم لقومه ما يخلد ذكره في الدنيا، ويكون ذخراً له في الآخرة، فأسأل الله تعالى أن يتغمده بواسع رحمته، ويقبل حسناته، ويتجاوز عن سيئاته، ويفسح له في قبره، وينور له فيه، ويدخله فسيح جناته، ويعيذه من عذاب القبر وعذاب النار، ويزرق أهله وذويه وأصدقاءه ومحبيه وتلامذته الصبر والسلوان ويوفقهم للاقتداء به في كل ما فيه صلاح للإسلام والمسلمين، إنه سميع مجيب.  

د. حشر الدين عبد الشهيد
مكة المكرمة

الجمعة، يونيو 21، 2019


نکاح کے لئے کفو کی شرط

مؤلفہ: ڈاکٹر فاطمہ نصیف حفظہا اللہ

مترجم: سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی



کتاب کا مطالعہ کرنے کے لئے درج ذیل لنک پر جائیں:

https://indiaheadlines.in/urdu/wp-content/uploads/2019/06/%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%DA%A9%D9%81%D9%88-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B7.pdf

الخميس، أبريل 05، 2018


مسلمانان ہند ، مسلم دنیا   اور  نئے تقاضے
ثناءاللہ صادق تیمی
ہندوستان  میں مسلمانوں کی حالت بھی عجیب ہے ۔ انہیں خود اپنی اتنی پروا نہیں رہتی جتنی دوسرے ملکوں میں بس رہے مسلمان بھائیوں کے لیے وہ پریشان رہتے ہیں ۔ ابھی بھی آپ دیکھیں گے کہ ان کے یہاں ہندوستان کی موجودہ صور ت حال سے کہیں زياد ہ فلسطین ، خلیجی ممالک اور دوسرے  خطوں کے سلسلے میں  فکرمندی  پائی جاتی ہے ۔ یہ فکرمندی در اصل اس عقیدے کا نتیجہ ہے جس کی رو سے دنیا کے سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں ، اس پورے منظر کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ میں تھوڑا پیچھے بھی جانا پڑے گا ۔ معلوم بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نہیں بھی تو ایک بڑی تعداد عرب ممالک ، ایران اور خراسان وغیرہ سے آکر یہاں بسی ہے ، ہندوستانی بادشاہ عرب حکمرانوں سے اجازت حکومت لیتے تھے اور اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی ، ہم مسلمانوں نے بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے دہے میں خلافت تحریک چلائی ہے ، جس خلافت کا ہندوستان سے بس یہ تعلق تھا کہ مسلمانوں کو وہاں ایک مرکز قوت نظر آتی تھی ورنہ ترکی سے اور کیا رشتہ ہو سکتا تھا ،یہ دینی حمیت اور اسلامی اخوت تھی کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کو بچائے رکھنے اور مضبوط رکھنے کی تحریک ہم ہندوستان میں چلا رہے تھے ۔ جس کا جو منطقی نتیجہ نکلنا تھا وہ نکل کر رہا ۔ ہمارا دینی مرکز جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے وہیں صوفیا کے مختلف سلسلوں کو بغداد وغیرہ سے خاص لگاؤ رہا ہے اور ان کے لیے وہی خطہ   مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اس تناظر میں عرب ممالک کے تئیں یہ فکر مندی نہ تو تعجب خيز ہے اور نہ ہی  مستبعد البتہ افسوسناک بات یہ ہےکہ اب اس رشتے میں مسلکی زہر پیوست ہوگیا ہے ۔ اندھی عقیدتیں اورکم تر جانکاری کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی جاری رہتی ہے ۔ ہماری اکثریت کو ان خطوں کی ٹھوس جانکاری نہیں ہےلیکن سب سے زیاد ہ یقین کے ساتھ انہیں خطوں سے متعلق ہماری باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ا س کی  ایک وجہ اس طرف آکر ان ملکوں میں پائی جانے والی دولت بھی ہے ، جس سے انکار ممکن نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ  نیشن  اسٹیٹ کا حوالہ دے کر بر صغیر کے مسلمانوں سے یہ توقع رکھتے ہيں کہ وہ عرب ممالک کے مسائل پر رائے زنی سے گريز کریں وہ ایک ایسی توقع رکھتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوگی البتہ یہ بہر حال افسوسناک ہے کہ ہم ہندوستان  کے لوگ خود اپنے گھر کی خبر اس طرح نہیں لیتے جس طرح لینی چاہیے ۔ تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ ہماری یہی توجہ پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال ، برما ، بھوٹان   اور مالدیپ کے مسلمانوں کے تئیں دیکھنے میں نہيں آتی ۔  نہ معلوم کیوں یہاں آکر ہماری اخوت ایمانی اور غیرت دینی کیوں کمزور پڑجاتی ہے !!
ہندوستان ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ، ایک دوسرے پر لعنت کے تیر برساکر ہم اپنے دشمنوں کو صرف مضبوط ہی کرسکتے ہیں ، ہمارے دشمنوں کو پتہ ہے کہ وہ ہمیں ہندوستان سے مٹا نہیں سکتے اس لیے وہ ہمیں بےدست و پا کرنے کی کوشش میں ہیں ، سیاسی سطح پرہمیں بے وقعت بنانے سے لے کر  ہر طرح کے سماجی اور عوامی پلیٹ فارم سے وہ ہمیں دور کردینا چاہتے ہیں ، ان کی خواہش اور سازش دونوں یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم مسائل میں الجھا کر رکھیں اور قومی سطح پر ہمارے  بحیثيت ایک مضبوط ملت کے اٹھان کو روکا جا سکے ، اسی لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے مسائل باہر لائے جارہے ہیں جن کا قوم ملت کی ترقی و تعمیر سے دور دور تک کا رشتہ نہیں ، ایسے مسائل کو چھیڑا جارہا ہے جن سے مسلمانوں کے مختلف مسالک  اور فرقوں کے بیچ دوری پیدا کرکے دشمنی کے بیج بوئے جا سکیں ۔
اس صورت حال میں ہماری سمجھدار ی بہر حال اسی میں ہے کہ ہم اپنی تعمیری پیش رفت کو متاثر نہ ہونے دیں ، تعلیم و تعلم کی راہ پر جو قافلہ چل پڑا ہے وہ بے راہ نہ ہو نے پائے ، ایک جمہوری ملک میں جو مواقع دستیاب ہیں وہ ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائیں بلکہ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان کوششوں کو اور مضبوط کیا جائے ، نئے نئے ادارے وجود میں آئیں اور دو قدم آگے بڑھ کر ملت کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے ۔ ہماری تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم نا موافق حالات میں اور بھی زیاد ہ بہتر نتیجے حاصل کرتے ہیں ۔ انیسویں صدی کے آخری نصف اور بیسوی صدیں کے پہلے نصف کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس عرصے میں ہمارے ہاتھ سے اقتدار نکل گیا وہیں ہم نے کئی سطحوں پر بے مثال کارنامے بھی انجام دیے اور ہم میں ایسے ایسے دماغ اور افراد ابھرے جنہوں نے نازک وقت میں ملت کی بہترین رہنمائی کا فريضہ انجام دیا ۔ سر سید ،  شبلی ، اقبال ، آزاد اور بقیہ رہنماؤں اور ان کے کارناموں کو  دیکھیے تو آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ۔موجودہ حالات میں مسلک مسلک ، ایران سعودی اور ترکی وہابی کا کھیل کھیلنے سے قبل یہ ضرور دیکھیے کہ آپ کی اپنی کشتی کس منجھدار میں ہے ۔ یاد رکھیے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان میں بستی ہے ، اس آبادی میں ایک پر ایک بڑے لوگ ہیں ، بڑا دماغ اور شعور ہے ، آنے والی نسلیں ہمیں نہیں بخشیں گیں کہ اگر یہ دماغ اور شعور تعمیر کی بجائے تخریب یا آپسی اختلافات کی نذر ہوگیا ۔
دشمن تاک میں ہے ، اس نے اپنے جال پھیلا دیے ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ ہم بہر حال دشمن کو مات دیں گے اور سرخروئی ہمارا ہی مقدر ہوگی ۔ اللہ کرے کہ ہم حالات کو سمجھ سکیں اور بہتر سمت میں اپنی قوت لگا سکیں ۔راحت کی زبانی ہم اور بھی مضبوطی سے کہ سکیں ۔
ابھی غنیمت ہے صبر میرا ، ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں
مجھے وہ مردہ سمجھ رہا ہے ، اسے کہو میں مرا نہیں ہوں
وہ  کہ رہا ہے کہ کچھ دنوں میں مٹا کے رکھ دوں گا نسل تیری
ہے اس کی عاد ت ڈرا رہا ہے ، ہے میری فطر ت ڈرا نہیں ہوں
راحت اندوری

السبت، مارس 03، 2018


پھول اور کانٹے
ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کو جب کبھی بکواس کرنی ہو  وہ ہمارے ہی گھر کا قصد کرتے ہیں ، اور سوالات بھی ایسے ایسے لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ بھر مطلب غصہ آجائے ، میں نے اس مرتبہ سوچا ہوا تھا کہ چاہے جو ہو جائے میں بے نام خاں کو بکواس کرنے کا موقع نہیں دوں گا ۔ اس لیے جب وہ آئے تو انہوں نے بہت ساری باتیں شروع کیں جیسے : اور مولانا صاحب ! کیا حال ہے ۔ میں نے کہا : الحمد للہ اور اپنے کام میں لگا رہا ۔ انہوں نے پھر آغاز کیا : جو کہو مولانا ! یہ بالکل درست بات نہیں  کہ اسرائیل سے سعودی عرب تعلقات استوار کرے ۔ میں نے ہوں کہا یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات کتنی غلط ہے ، اور انہیں سمجھتے دیر نہ لگی کہ ان کے سارے وار خالی جارہے ہیں۔ اب  انہوں نے ایک اور  بات کہی: اچھا مولانا یہ تو بتاؤ کہ پھول اور کانٹے کا ذکر قرآن و حدیث میں کتنی بار اور کہاں کہاں آیا ہے ؟ اب کہ مجھے ان کی طرف اپنی توجہ صرف کرنی ہی پڑی اور میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگيا ۔ میں نے اپنے ذہن کو معلومات کے جزیرے میں دھکیل دیا ، سوچا کہ وہاں سے کچھ تو آئے لیکن نتیجہ یہ تھا کہ ہاتھ خالی تھا ۔ہمارے دوست نے ہماری توجہ اورفکرمندی سے فائدہ اٹھایا اور پھر ان کے افکار وخیالات کی آندھی چل پڑی ۔
دیکھیے مولانا : آپ بھی کہاں کھو گئے ۔ ادھر آئیے ، پھول اور کانٹے کے رشتے پر غور کیجیے ۔ اچھا ، پہلے ایک شعر سنیے
کانٹوں میں جو  کھلتا ہے ، شعلوں میں جو پلتا ہے
وہ پھول ہی گلشن کی تقدیر بدلتا ہے
پھول اور کانٹے کا رشتہ بہت مضبوط اور زبردست ہے ۔ پھول کانٹوں میں لپٹا ہوا ہوتا ہے ۔ گلاب کو کانٹے اپنے حصار میں نہ لیں تو گلاب کبھی گلاب نہ بن پائے ۔ یہ کانٹے گلاب کی حفاظت کرتے ہیں ، اسے مضبوط کرتے ہیں ، خوشبودار بناتے ہیں ، اہم کرتے ہیں ، اسے  مخصوص ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔ کانٹے نہ ہوں تو پھول مر جھا جائیں اور سچ تو یہ ہے کہ کانٹوں کے بغیر پھولوں کی معنویت بھی کیا ہو ۔ایسے میں پھول اگر کانٹوں کو اپنا دشمن یاحریف سمجھ لے اور الجھنے کی سیاست اپنائے تو پھول کانٹوں سے ہار ہی جائیں گے کہ بہر حال نرم ونازک ہوتے ہیں اور کانٹے نوکیلے ، مضبوط اور دھار دار ہوتے ہیں ۔ آپ نے پھولوں کو کانٹوں سے لڑتے ہوئے نہيں دیکھا ہوگا ۔ پھول انہیں پیار سے گلے لگاتے ہیں اور انہیں کے زیر سایہ پلتے بڑھتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیر کر دنیا کی نظروں میں محبوب ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔
مجھے خان صاحب کی باتیں تھوڑی تھوڑی ہی سمجھ میں آرہی تھیں ۔ میں نے کہا: دیکھو بھائی خان صاحب ! تم یار ، یہ تو بتاؤ کہ کہنا کیا چاہتے ہو ؟
خان صاحب مسکرائے جیسے اعتماد کے آسمان سے فکر و نظر کے کئی ستارے گرانے والے ہو ں ۔ مولانا صاحب ! زندگی میں انسان کو بہت سے کانٹوں کا سامنا ہے لیکن اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ کانٹوں سے الجھے بغیر پھول کی طرح اپنا راستہ بنائے ۔ خوشبو بکھیرے اور چھا جائے ۔ یہ کانٹے اس کے محافظ بن جائیں ، اسے بڑا ہونے کا احساس دلائیں کیوں کہ راہ انہیں کی روکی جاتی ہے جن کے چلنے میں قوت ہوتی ہے ، پریشان انہیں کیا جاتا ہے جو اہم ہوتے ہيں ، بڑے ہوتے ہیں ۔ پھول بنو کہ کانٹے محافظ ہوجائیں ۔ زندگی میں آنے والی ان پریشانیوں اور چیلنجیز کو پریشانی یا کلفت کی نظر سے نہیں محافظ کی نظر سے دیکھو کہ یہی تو تمہیں عظیم بناتے ہیں ۔ و ہ جو اصغر گونڈوی نے کہا ہے نا
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوںزندگی دشوار ہو جائے
زيادہ تر لوگ زندگی کو کالے چشمے سے دیکھتے ہیں اور انہیں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے نظر آتے ہیں جبکہ اگر ان کے اندر پھول کی خوبی ہو تو وہ ان کانٹوں کو اپنی بلندی کا ذریعہ بنالیں ۔ اسلام کی عظیم مقدس کتاب قرآن حکیم میں بھی "  ان مع العسر یسرا " کہا گيا ہے ۔ مولانا صاحب ! آپ لوگ کہتے ہيں کہ ہر پریشانی کے بعد آسانی ہے جبکہ قرآن کریم کا پیغام یہ ہے کہ ہر پریشانی کے ساتھ آسانی ہے ، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کانٹے اصلا مسئلہ نہیں ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو راستہ نکالنا آتا ہے یا نہیں ۔ ان پریشانیوں کو آسانیوں میں تبدیل کرناآتا ہے یا نہیں ۔ راہیں کھلتی ضرور ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی چشم بصیرت و بصارت اس کا سراغ پا پاتی ہے یا نہیں ۔ جس امت کی تاریخ میں پاؤں رگڑنے سے زمزم کے پھوٹنے کی روایت موجود ہو ، جس کے نبی کی سیرت میں بچاؤ کے لیے خندق کھودتے وقت قیصر وکسری کےخزانوں کی بشارت موجود ہو ، اس امت کا یہ سوچنا کہ زندگی بہت دشورا ہے ، راستے بند ہیں ، پریشانیاں جان لے رہی ہیں ، در اصل یہ چشم بصیرت سے محرومی کا اشاریہ ہے ۔" والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا " کی الہی ضمانت جہاں موجود ہو وہاں اس قسم کے خیالات کا پنپنا انتہائی خطرناک بات ہے ۔سلمان فارسی کو ہدایت ملی یا نہیں ؟ مکہ کے ستائے گئے کمزور مسلمانوں نے آخر مکہ فتح کیا نہیں ؟ قیصر و کسری کا خزانہ مسلمانوں کے ہاتھ لگا یا نہیں ؟ مکہ کے مہاجر صحابہ نے تجارت کرکے مال و اسباب پیدا کیے یا نہیں ؟  تو کیا ان کی راہیں مشکلات سے خالی تھیں ؟ کیا انہیں کلفتوں سے نہیں گزرنا پڑا ؟ لیکن کیا یہ کانٹے انہیں روک سکے ؟" لقد خلقنا الانسان فی کبد "اگر اللہ پاک کا فرمان ہے اور یقینا ہے تو انسان کو اس زندگی میں جھیلنا تو پڑے گا لیکن کیا یہ پریشانیاں اس کی راہ روک سکتی ہیں ؟ یہیں سے منفی و مثبت افکار کے سارے معاملے سمجھ میں آ جاتے ہیں ۔ دیکھو مولانا ایک شعر یاد آگیا ۔
گل سے حوصلہ سیکھو غم میں مسکرانے کا
قید ہے وہ کانٹوں میں پھر بھی مسکراتا ہے
 کون ہے جو بغیر اسٹرگل کے بڑا بن جاتا ہے ۔ پریوں کی داستانوں کو چھوڑ دو تو ہر بڑے انسان کو پھول بننے سے قبل کانٹوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ وہ چاہے رتن ٹاٹا ہو ، امبانی  ہو یا کوئی اور ۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی  راہوں میں کم کانٹے تھے لیکن کیا یہ کانٹے کی ان کی  راہ روک سکے ۔ جتنے مجددین ، مصلحین اور عظما کی تاریخ پڑھیے گا یہ حقیقت کھلتی جائے گی کہ بڑے ہونے کی راہ آسان نہیں ہوتی لیکن بڑائی انہیں کا مقدر ہوتی ہے تو اس مشکل راہ کو عبور کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔
میرے مولانا دوست ! تمہاری قوم میں آج کل مختلف اسباب کی بنا پر اس قسم کی افسردگی ، یاسیت اور نا امیدی گھر کرنے لگی ہے ۔ قوم کو سمجھاؤ کہ اصل موت حوصلے کی موت ہے ، راستہ بند نہیں ہوتا لیکن یہ سوچنا کہ راستہ بند ہے ، واقعی راستہ بند  کردیتا ہے ۔ بڑھنے والے کو کوئی چيز نہیں روک  پاتی ، بالکل سیلاب کی مانند کہ اسے بڑھنا ہوتا ہے تو وہ اپنی راہ بناہی لیتا ہے ، تمہیں بھی اپنی راہ بنانا ہے اور ہاں ایک بات قوم کے نونہالوں کو سمجھاؤ کہ خود کو بنانے کی راہ میں آنے والی پریشانیاں صرف جھیلنےوالے کو یاد رہتی ہیں ، کسی اور کو نہیں، دنیا تو جھیل کر بڑی جگہ پہنچنے والے شخص کی صرف بڑی کرسی ، بڑا عہدہ اور بڑا مقام دیکھتی ہے ۔  شکوے شکایت کے بھول بھلیے سے نکلو کہ یہاں تمہارا کریئر گم ہو جائے گا ، مستقبل بھٹک جائے گا اور سوائے حیرانی و پریشانی کے زندگی میں اور کچھ نہیں رہ جائے گا ۔  ایک شعر سناکر رخصت لوں گا
کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں
پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے
جاوید وششٹ
اور میں خان صاحب کو مست قدموں سے جاتا ہوا دیکھتا رہا اور اس بیچ سوچتا رہا کہ کبھی کبھی خان صاحب بکواس نہیں بھی کرتے ہیں !!

الاثنين، أكتوبر 30، 2017

بوجھ
ساگر تیمی
کلیم : رحیمہ مجھے لگتا ہے اس بار ضرور بیٹا ہوگا ۔ دو دو بیٹیوں کا بوجھ تو ہم پہلے ہی ڈھو رہے ہیں ۔ اب تیسرا بیٹا تو ہونا ہی چاہیے ۔
رحیمہ : "ہاں ، دعا تو میری بھی یہی ہے لیکن حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے " ۔ یہ الفاظ بھی بہت مشکل سے رحیمہ ادا کرپائی ۔ شوہر کی اس بات کا مطلب اسے معلوم تھا اور وہ جانتی تھی کہ دونوں بیٹیوں کے تئیں اس کے شوہر کا کیا رویہ ہے ۔ ڈر اور خوف کی عجیب نفسیات نے اسے جکڑ لیا جب کلیم نے یہ باتیں دہرائیں ۔ شادی کی پہلی رات سے کلیم کو بیٹے کی جستجو تھی ، معاملہ رحیمہ کا بھی یکساں ہی تھا لیکن ولادت کے بعد وہ اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتی تھی جو محبت اسے اپنے شوہر کی آنکھوں میں نظر نہيں آتی تھی ۔ پہلی بچی دس سال کی اور دوسری چار پانچ سال کی تھی اور اب یہ تیسری اولاد ہونے والی تھی ۔ رحیمہ کا دھیان جب کبھی اپنے شکم کی طرف جاتا وہ سہم جاتی ۔ نہ جانے کیوں اسے لگتا کہ اس بار بھی بیٹی ہوگی اور بچیوں کے ساتھ ساتھ خود اس کا مستقبل بھی اندھیروں میں چلا جائے گا ۔
  اسے وہ رات اچھی طرح یاد تھی جب کلیم نے اسے اپنے خاص انداز میں سمجھایا تھا : دیکھو رحیمہ ! میں ایسا نہیں کہ بچیوں سے پیار نہیں کرتا لیکن یار بچوں کی تو ہمیں ضرورت ہے نا ، ہماری نسل کیسے آگے بڑھے گی ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا کون ہوگا ، ہمارا خواب کیسے پورا ہوگا ، بیٹیوں کو تو ایک دن کسی اور کے گھر جانا ہے اور پھر وہ تو ہمارے اوپر بوجھ ہی ہیں ، ان سے ہمارا بوجھ کم کب ہوگا ۔ آج کے زمانے میں بغیر لاکھوں لاکھ خرچ کیے بیٹیوں کی شادی ہوتی کب ہے ؟
  رحیمہ کو معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے اندرون تک بیٹے کی خواہش ہے جس میں اس کی شفقت پدری سے کہیں زيادہ مادی ہوس کا عمل دخل ہے لیکن عورت کی کمزور ذات کرے تو کیا کرے۔ کبھی کبھی اپنی کلی کی مانند کھلتی ہوئی بیٹیوں کو دیکھتی اور اداس ہو جاتی ۔ بات ایسی بھی نہیں تھی کہ یہ جذبات ان معصوم کلیوں تک نہيں پہنچے ہوں ۔ کبھی کبھی وہ بھی اپنی ماں کی اداسیوں کو الفاظ دے دیتیں ۔ "اماں ! آپ ہماری وجہ سے پریشان رہتی ہیں نا ؟ کیا پتہ ہمیں موت بھی کیوں نہیں آتی ۔" دس سالہ معصوم عصمت کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تو رحیمہ کا کلیجہ چھلنی چھلنی ہوجاتا اور وہ دلار پیار کرکے اپنی جان سے عزیز بیٹی کو اس طرح کے خیالات سے روکتی لیکن خود جیسے ایسے ہی خیالات کی دنیا میں کھو جاتی جہاں اسے لگتا کہ اس کے شوہر اس سے بیٹیاں چھین کر کسی خونخوار جانور کے حوالے کررہے ہیں اور وہ لاحول پڑھنے لگتی ۔
    اللہ کا کرنا دیکھیے کہ تیسری مرتبہ بھی رحیمہ کے بطن سے بیٹی ہی پیدا ہوئی ۔ نرس نے جب اس کی گود میں اس کی بیٹی کو ڈالا تو وہ اس کے حسین آنکھوں میں کھو گئی لیکن معا بعد جب اسے اس کے بیٹی ہونے کا خیال آیا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے ۔ شوہر تب کہیں اور تھا ۔ جب اسے اس کی اطلاع ملی تو جیسے کسی نے اس پر سرد پانی کی صراحی انڈیل دی ہو ۔ گھر آنے پر اس نے نہ صرف یہ کہ بچی کو گود نہيں لیا بلکہ رحیمہ کا حال احوال لینا بھی  ضروری نہیں  سمجھا ۔ رحیمہ کو چوں کہ اس قسم کی صورت حال کی توقع تھی اس لیے وہ خون کے آنسو پی جانے میں کامیاب رہی ۔
  لیکن یہ نفرت کلیم کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی ۔ وہ ایک پر ایک شیطانی منصوبے بنا رہا تھا لیکن پھر جیسے کچھ سوچ کر رک جارہا تھا یا جیسے کوئی خوف اسے دامنگیر ہو جارہا تھا ۔ کبھی پانی میں ڈبونے کا خیال آتا تو کبھی چاقو سے ذبح کردینے کا اور کبھی کہیں کسی اونچی جگہ سے نیچے پھینک دینے کا لیکن اس طرح کے ہر خیال کے بعد جیسے وہ خود ہی ڈر جاتا اور خیال ارادہ کی منزل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتا لیکن برے خیالات اگر جھٹکے نہیں جاتے تو کسی نہ کسی شکل میں عملی پیکر میں نمودار ہو ہی جاتے ہیں ۔ شیطان اپنا کام کر ہی جاتا ہے ۔
  گاؤں سے ممبئی کا سفر ریل گاڑی سے کافی لمبا تھا ۔ رات کا وہی کوئی دس بج رہا ہوگا ۔ رحیمہ نیچے والی سیٹ پر سوئی ہوئی تھی ۔ دونوں بیٹیاں اوپر والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن وہ باربار نیچے دیکھ رہی تھیں جیسے انہیں کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنا ہو ۔ کلیم نے بیٹیوں کی جب یہ کیفیت دیکھی تو اس کے دماغ میں ایک شیطانی خیال آیا اور اس نے بیٹیوں کو پیار سے نیچے اتار لیا ۔ ان کے ہاتھ پکڑے اور کہا : آؤ گیٹ کے پاس سے ٹھیک سے باہر کا نظارہ کراتے ہیں ۔ بیٹیاں بہت خوش ہوئيں اور باپ کا ہاتھ پکڑے گیٹ پر آگئیں ۔ وہ انہیں باہر کے مناظر دکھاتا رہا ، بعض دفعہ جب وہ کچھ پوچھتیں تو انہیں پیار سے بتاتا بھی رہا ، کچھ دیر گزرنے کے بعد جب بچیاں پوری طرح منظروں میں کھو گئیں ، ہنسنے مسکرانے لگیں ، دونوں بہنیں ایک دوسرے سے چھیڑ کرنے لگیں تو اس نے سناٹا دیکھ اپنا شیطانی ارادہ پورا کیا اور دونوں بچيوں کو تیز دھکے سے ٹرین کے باہر کردیا ۔
    تیز رفتار ٹرین آگے نکل گئی لیکن بوجھ اتنی آسانی سے اترتا کب ہے ۔ بچیاں جہاں گریں وہیں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا ، انہوں نے بچیوں کو اس حالت میں دیکھ کر جلدی جلدی ہاسپیٹل پہنچایا ۔ گھنٹوں بعد جب بڑی بچی کو ہوش آيا تو ساری حقیقت سامنے آئی لیکن پولیس سے لے کر ہاسپیٹل کے سارے عملہ کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تیرنے لگے جب بچی نے کہا : لیکن میرے پاپا کو کچھ مت بولیے گا ۔ انہیں جیل میں مت ڈالیے گا ۔ وہ بہت اچھے پاپا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ اور ایک بار پھر اس کا ہوش جاتا رہا ۔۔۔۔۔

  

الاثنين، سبتمبر 11، 2017

ڈر کے ماحول میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی
ثناءاللہ صادق تیمی
   اللہ پاک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بناکر مبعوث کیا اور زندگی کے تمام مرحلوں کے لیے آپ کی زندگی میں ایسے نمونے رکھ دیے کہ رہتی دنیا تک ایمان والوں کو روشنی ملتی رہے گی ۔ ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ جہاں عقیدت و محبت کی نظر سے کرنا چاہیے وہیں آپ کی زندگی کو مسائل کے حل کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے ۔ انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگی کے لیے آپ کی سیرت میں ایسے روشن نمونے موجود ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہمیں مسائل کا حل دیتے ہیں ۔
    عالمی سطح پر بطور عام اور اپنے ملک کی سطح پر بطور خاص بظاہر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں ، ہم بحیثیت امت کے ہر جگہ پریشان ہیں ، مختلف سطحوں پر ہمارے خلاف پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے دشمنوں نے پوری تیاری کررکھی ہو ، میانمار ، لیبیا ، یمن ، شام ، کشمیر اور افغانستان کہیں بھی ہمارے حق میں کچھ اچھا نہيں ہورہا ہے ۔ پچھلی کئی صدیوں سے ہم بحیثيت امت لگاتار مصائب سے جوجھ رہے ہیں، مختلف سمتوں سے ظلمت کی بدلیاں اٹھتی ہیں اور چھاتی چلی جاتی ہیں ۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سوچنے سمجھنے کا انداز بھیActive  ہونے کی بجائے Passive  ہوگيا ہے ، ہمارے نونہالان بھی عنفوان شباب سے یہ سمجھنے لگ رہے ہیں کہ وہ نبسۃ ایک زوال پذیر قوم کا حصہ ہیں ، پچھلے چند سالوں میں جتنی تحریرں زوال امت پر لکھی گئی ہیں ان کا مثبت نتیجہ کیا برآمد ہوا وہ تو بعد کی بحث ہے ، منفی نتیجہ یہ ضرور برآمد ہوا ہے کہ ہم نے بحیثيت امت کہ اپنے زوال کو بطور خود تسلیم کرلیا ہے ، بسا اوقات اس کا اظہار بھی ہم اس طرح کرتے ہیں جیسے کمزور اور نادار ہونا کوئی خاصے کی چيز ہو !!
  بہرحال حالات کی سنگينی سے قطع نظر ایک چيز اور بھی ہے اور وہ ہے کسی قوم کا اپنے عقائد و ایمان اور اصول و مبادی میں مستحکم اور غیر متزلزل ہونا ، اس کا یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور ظلمت کی بدلیاں اب تب چھٹنے ہی والی ہیں ۔ زوال کی اس نفسیات کا ایک منفی اثر بہر حال یہ رہا ہے کہ امکانات سے متعلق گفتگو عموما یا تو نظر انداز ہوئی ہے یا پھر رد عمل کی نفسیات کے تحت ہوئي ہے ۔ امکانات پر ہم نے بحیثيت امت کے سنجیدگی اور مثبت رویے کے ساتھ کم کم ہی توجہ مبذول کی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زوال پر لاکھ آنسو بہانے کے باوجود وہ زوال اب بھی سینہ ٹھونکے کھڑا ہے !!
 اس خاص تناظر میں اگر ہم قران حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں جو ہدایتیں ملتی ہیں ان میں روشنی اور امید کی کرنیں بہت نمایاں ہیں ۔ قرآن بہت صاف انداز میں ہمیں بتاتا ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں کسی بھی ناکامی یا پریشانی کے بعد گھبرانے یا ڈر کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور نجات اور کامرانی کے امکانات اللہ نے بہت رکھے ہیں ۔ ان مع العسر یسرا کا پیغام یہ ہے کہ پریشانی کے ساتھ آسانی کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہے ! ان مسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ  کا واضح مطلب ہے کہ دشمن سے مرعوب ہونے کی بجائے یہ سمجھو کہ دشمن کو بھی تو نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے ساتھ لا تقنطوا من رحمۃ اللہ کی صدائے الہی اس بات کا تاکیدی اشاریہ ہے کہ ابھی راہیں بند نہیں ہوئیں لیکن ابھی ٹھہریے ! اس سے بھی آگے اللہ پاک کی نشاندہی یہ ہے کہ جہاں بظاہر تمہیں خسارہ نظر آتا ہے اور ہزیمت کی ذلت محسوس ہوتی ہے وہاں بھی خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوسکتا ہے عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم ! قرآن اپنی ہدایت میں کسی پس و پیش کا شکار نہیں ، پیغام بہت واضح ہے کہ اجتماعی یا انفرادی زندگی میں یہ مرحلے آسکتے ہیں اور وہ قوموں کی زندگی میں آتے بھی رہے ہیں لیکن بحیثيت ایک ایمان والی قوم کے ہمت نہ ہارنا اور امکانات کی تلاش کرتے رہنا ہی ہماری کامیابی ہے اور ان شاءاللہ اس تلاش کے نتیجے میں وہ راہ ملے گی بھی ضرور و العاقبۃ للمتقین ، و ان جندنا لھم الغالبون ، کان حقا علینا نصر المومنین !!!
   رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان مرحلوں کے نمونے دیکھیے تو ہمیں کیا کیا روشنی نظر آتی ہے ۔ ہجرت کے سفر میں قدم قدم پر اس کی مثالیں سامنے آتی ہیں ۔ دشمنوں نے جب ننگی تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور بانکے نوجوان گردن اڑانے کو گھر کا محاصرہ کیے ہوے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آيات پڑھتے ہوئے ان کے پاس سے گزررہے ہیں ۔ غار ثور کے منہہ پر جب دشمن آگئے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے متعلق گھبرا رہے ہیں تو انہیں کیا ایمان افروز تسلی دے رہے ہیں " یا اباکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما ، لا تحزن ان اللہ معنا " ابوبکر ان دو لوگوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو جس کا تیسرا اللہ ہے ! گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے !!
ہجرت کے اسی سفر میں جب سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کا پیچھا کرتے ہیں تو آپ اس بے سروسامانی کے عالم میں کس درجے کے اعتماد ، اپنے مشن کی کامیابی پر یقین سے لبریز ہیں کہ انہیں قیصر وکسری کے کنگن کی بشارت دے رہے ہیں !!
   دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ، مکہ سے لے کر اطراف کے یہود تک ایک ہوکر مدینہ پر چڑھائی کرچکے ہیں ، مسلمان بچاؤ کے لیے خندک کھود رہے ہیں ، اس کھودائی کے بیچ جب کہ اپنی حفاظت بظاہر آسان نظر نہیں آرہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کھودائی بھی کررہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو قیصر و کسری کی فتح کی خوشخبریاں بھی دے رہے ہیں ۔ دنیا کے خزانے مسلمانوں کو ہاتھ لگنے والے ہیں یہ بھی بتارہے ہیں ۔ حالات کی نزاکت نے مشن کی بلندی اور نظر کی وسعت کو محدود نہیں کیا ہے ۔ سامنے کی ظاہری ظلمت نے ایمان و یقین کے اجالے کو مدھم نہیں ہونے دیا ہے ۔
   سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے روشن نمونے ہیں ۔ جنگ احد میں جب دشمنوں نے جنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ، جب مسلمان تتر بتر ہوگئے ہیں اور پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں  اس وقت آپ نے آواز لگائی ہے حالانکہ معلوم ہے کہ آپ کو نشانہ بنایا جائے گا ، جنگ حنین میں یہی کیفیت عود کرآئی ہے اور آپ نے انا النبی لا کذب انا عبد المطلب پڑھا ہے اور اپنے اوپر کسی بھی قسم کی منفی نفسیات کو حاوی ہونے نہیں دیا ہے ۔ مشن کی کامیابی اور پریشانی کے بیچ سے نکل کر کامران و کامیاب ہونے کا یقین آپ کی زندگی کا بہت روشن پیغام ہے اور آپ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اس مثبت اور مستحکم عقیدے کے ساتھ جینے کا نتیجہ کامرانی اور کامیابی ہی ہے ۔ ہمیں اس پر آشوب دور میں رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان پہلوؤں پر بطور خاص تو جہ دینے کی ضرورت ہے ۔ فتح ہمارا ہی مقدر ہے ، کامیابی ہمارے ہی حصے میں ہے لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ رویہ مثبت اپنایا جائے ، ایمان کا رشتہ کمزور نہ ہونے دیا جائے اور اللہ کے وعدے پر لازوال اور غیر متزلزل یقین رکھا جائے اور نچلے بیٹھنے کی بجائے اپنے حصے کا کام کرتے رہا جائے ۔

اللہ ہمیں بہتر توفیق ارزانی کرے ۔