الأربعاء، أكتوبر 19، 2011

وفاة السيد أبوذر شقيق الدكتورمحمد لقمان السلفى

ببالغ الحزن والأسى تلقينا نبأ وفاة السيد الحاج أبوذر ركن المجلس التنفيذي لجامعة الإمام ابن تيمية ووالد الأخ عبدالمحسن الصديقي والشقيق الأكبرللدكتورمحمد لقمان السلفى مساء اليوم . إنا لله وإنا إليه راجعون . نســـأل الله له العفو والرحمة وأن يلهم أهله وذويه الصبر والسلوان. وسيوارى جثمانه الثرى بمشيئة الله تعالى صباح الغد . وبالمناسبة نعزى الأخ عبدالمحسن الصديقي والدكتور ونقول لهما : أعظم الله أجركم ، اصبر وا واحتسبوا فكل من عليها فان ، ويبقى وجه ربك ذوالجلال والإكرام.

السبت، أكتوبر 15، 2011

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے


آج سے تقریباً چارہزارسال پہلے بابل کی سرزمین پر‘ پروہت گھرانے میں ایک بچہ جنم لیتا ہے ، کفروشرک کی گھٹاٹوپ تاریکی میں آنکھیں کھولنے والے اس بچے نے سن شعورکوپہنچنے کے بعد قوم کی دیرینہ روایت کواپنا لیا ہوتا تو آج اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا لیکن اس نے فطرت سے بے پناہ عزم وہمت اوربلند حوصلگی پائی تھی ۔ مخالفتوں کی پرواہ کیے بغیر معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ باپ کوسمجھایا، قوم کو سمجھایا، بادشاہ وقت تک توحید کا پیغام پہنچایا لیکن ان کا دل بنجر تھا، ان کا ضمیر مرچکاتھا، اس لیے خیرخواہ ہی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئے، دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا ، گھر سے بے گھر کیا، پوری زندگی سفراورہجرت میں گزاری لیکن معاشرے سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ معاشرتی زندگی میں جھانک کردیکھیں تو ایسی جاںنثاری وفداکاری کا مظاہرہ کیا کہ خالق کائنات کو اس کی ایک ایک ادا بھا گئی۔ پھر کیا تھا ؟ رب کائنات اسے اپنا خلیل بنا لیتاہے، سارے انسانوں کے ”امام “کا خطاب عطاکرتا ہے ، اوران کی ذریت میںنبوت ورسالت کاسلسلہ جاری کردیتاہے یہاںتک کہ آفاقی پیغام کے لیے خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی بعثت انہیں کے نسل سے ہوتی ہے ۔ آج خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، حج، قربانی، صفا ومردہ کی سعی، آب زمزم اوررمی جمرات امت مسلمہ کے لیے ابراہیمی یادگاریں ہیں۔
 اب سوال یہ ہے کہ آخر کیوں اللہ پاک نے ان کی یاد کو دوام بخشا اوران کوپوری دنیا والوں کے لیے صبح قیامت تک نمونہ بنادیا‘ یہ ایسا نکتہ ہے کہ جسے کسی صورت میں نظر انداز کرنا مناسب نہیں، بالخصوص اس وقت جبکہ آج دنیا کی اکثریت گو علمی ، تمدنی اورمادی اعتبار سے بہت آگے جا چکی ہے تاہم دینی ، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے بہت پستی کی شکارہے ۔ ان گم کردہ راہوں کوراہ دکھانے کے لیے اب کوئی نبی یا رسول آنے والا نہیں، یہ ذمہ داری امت مسلمہ کے ہرفرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانیت تک اس پیغام کو پہنچائے کیونکہ اسلام وراثتی مذہب نہیں بلکہ دعوتی مذہب ہے، اسلام نسبت کا نام نہیں بلکہ دل کے یقین کا نام ہے ۔
جی ہاں! ابراہیم عليه السلام  کی سبق آموززندگی میں آج کے نوجوانوں کویہ پیغام ملتا ہے کہ وہ اپنے اندر عقابی روح پیدا کریں، وہ شاہین صفت بنیں ، وہ اسلام کے علمبردار بنیں، ابراہیم عليه السلام نے عین شباب میں دعوت کی ذمہ داری اٹھائی تھی، آج بھی وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارے نوجوان دین کی دعوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں کہ دعوت کے اولیں مخاطب ہمارے نوجوان ہی ہیں۔
 یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی میں اس کے نوجوانوں کا کلیدی رول ہوتاہے ، اسلام بھی اقصائے عالم میں نوجوانوں کے عزم راسخ ، یقیں محکم، عمل پیہم اور اعلی کردارکی بدولت پھیلا۔ کم عمری میں اسامہ بن زید رضى الله عنه  کا سپہ سالاربننا، زید بن ثابت رضى الله عنه کا جامع قرآن ہونا، مصعب بن عمیررضى الله عنه کا پہلا سفیربننا،بلال حبشی رضى الله عنه کا موذن رسول ہونا اور سلمان فارسی رضى الله عنه کامتلاشی حق بننا اسلام میں نوجوانوں کے گرانقدر کردار کوواضح کرتاہے۔ اسی طرح عقبہ بن نافع ، طارق بن زیاد ، موسی بن نصیر، اور محمدبن قاسم جیسے اسلام کے جیالے اورسورما نوجوان ہی تو تھے جنہوں نے گلش اسلام کی آبیاری کی اورچہاردانگ عالم میں اسلام کا جھنڈا لہرایا۔
عصرحاضرمیں اسلام دشمن عناصر نے اس نکتہ کو بخوبی سمجھا ہے اوراپنے اہداف کی تکمیل کے لیے نوجوانوں کوتیار کررہے ہیں، آج ہندوازم کی مختلف تنظیمیں نوجوانوںکی رہنمائی میں اسلام کے خلاف سرگرم ہیں ،آرایس ایس ، شیوسینا، بجرنگ دل اوروشوہندپریشد نے اپنے نوجوانوں کی ایسی ذہن سازی کی ہے کہ اسلام کی مخالفت ان کی رگ وریشے میں پیوست ہوچکی ہے، عیسائی مشینریاں نوجوانوں کو خصوصی تربیت دے کر میدان میں اتار رہی ہیں ، وہ جس میدان میں کام کررہے ہوں عیسائیت کی تبلیغ اپنی اولیں ذمہ داری سمجھتے ہیں ، الحمدللہ چند دہائیوں سے نوجوانان ملت میں بھی یہ شعور پیدا ہوا ہے اورجن مسلم نوجوانوں کی صحیح خطوط میں تربیت ہوئی ہے وہ اسلام کی خدمت میں رات دن ایک کررہے ہیں، ایسے نوجوانوں کو دیکھ کریقیناً آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں لیکن جس حد تک اس سمت میں توجہ دینے کی ضرورت تھی تاہنوز نہیں دی گئی ہے، نتیجہ ظاہر ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت پست ہمت ،کاہل اور کام چور بنتی جا رہی ہے ، ان کی قوت فکر وعمل سلب ہوتی جا رہی ہے ۔
آج ضرورت ہے کہ ہم نوجوانوں کی صحیح سمت میں تربیت کریں،چاہے وہ جس میدان میں ہوں پہلے انہیں اسلام کا داعی بنائیں، اس طوفان بلاخیز میں اسلام کی سچی اور خالص تعلیمات انسانیت تک پہنچانے کے لیے یہ وقت کی پہلی پکار اوراولیں ضرورت ہے ۔ جب تک ہمارے نوجوان کوہساروں کا سا عزم لے کر میدان عمل میں نہ اتریں گے تب تک ہم اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت نہیں کرسکتے۔ امید کہ میری آواز صدا بصحرا ثابت نہ ہو گی اور دعوت وتربیت کے  ذمہ داران اور نوجوانان ملت ان گزارشات پر کان دھریں گے۔رہے نام اللہ کا
                     صفات عالم محمدزبیرتیمی
                   safatalam12@yahoo.co.in

السبت، سبتمبر 17، 2011

آہ ! صومالیہ

پچھلے چند مہینوں سے براعظم افریقہ کا تاریخی ملک صومالیہ شدید قحط اور خشک سالی سے دوچار ہے ، جس سے ایک کروڑ افراد متاثر ہیں ، 20 لاکھ افرادغذائی مواد کی کمی اور بھوک سے تڑپ تڑپ کرمرچکے ہیں، جن میں29ہزار بچے شامل ہیں۔ عالمی امدادی اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق صومالیہ کی یہ خشک سالی گذشتہ نصف صدی کی سب سے بڑی آفت ہے، اگربھرپورغذائی امداد کی فراہمی نہ ہوسکی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ صورتحال کسی انسانی المیے کوجنم دے ۔
صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جہاں اسلام کا سایہ مدینہ منورہ سے پہلے پہنچا ، جس نے اولیں مہاجرین کواپنی آغوش میں پناہ دی تھی، حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، یہی وہ مقام تھا جسے صحابہ کرام نے پناہ گاہ بنائی تھی اورصومالیہ کا حالیہ درالحکومت موگادیشو مشرقی افریقہ میں اسلام کا ایک مرکز بنا تھا، آج 99 فیصدمسلم آبادی پرمشتمل اس سرزمین کاشماردنیا کے غریب ترین ملک میں ہورہا ہے ۔ اورقحط ایسی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ مررہے ہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ اس ملک میں قدرتی ذخائر کی کمی ہو ، تیل یورینیم ، گیس اور سونے کے ذخائر آج بھی اس ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ آج یہ ملک ایسی خستہ حالی کا شکار ہے ، یہ ایسا نکتہ ہے جس سے پردہ اٹھائے بغیر رہا نہیں جاتا ، گوکہ عالمی برادری اس بھوک مری کو خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے لیکن حقیقت کچھ اوربھی ہے ۔ مغرب نے جب استعماری منصوبہ کے تحت عالم اسلام میں قدم رکھا تو قدرتی ذخائر سے مالامال مشرقی افریقہ کے اس ملک کو بھی اپنے استعماری پنجے میں دبوچے بغیرنہ رہے ، اور خوان یغما سمجھتے ہوئے برطانیہ ، اٹلی اورفرانس تینوں ممالک بھوکے بھیڑیوں کے جیسے اس پرٹوٹ پڑے، صومالی سورماؤں کی مزاحمت کے بعد استعماری افواج نے ملک توچھوڑدیا تاہم ”پھوٹ ڈالو حکومت کرو “کی پالیسی اپناتے ہوئے صومالیہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہی نکلے، پھراس خطے کی ثروت کو اپنے اختیار میں رکھنے کے لیے زراعت کا ایسا نظام رائج کرایا کہ ان کی زمینیں مخصوص کیمیکلز کی بنیاد پر زراعت کی بعض چیزیں ہی کاشت کرسکتی ہیں، پھر ان کی کاشت کی ہوئی اشیاء کو سستے داموں خرید کر عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں میںبیچنے کی ٹھیکیداری بھی لے لی، اس طرح صومالیہ سمیت افریقہ کے اکثر ممالک رفتہ رفتہ غربت کا شکارہوتے گئے۔ اقبال نے كہا تها
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی       اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
ایک طرف مغرب کے ٹھیکیداروں کی یہ سامراجی پالیسی پورے شدومد سے کام کررہی تھی تودوسری طرف صومالیہ کی قوم مسلم آپسی خانہ جنگی میں ایسی دھت ہوگئی کہ اس کی متحدہ قوت پارہ پارہ ہوکر رہ گئی ۔ آپسی خانہ جنگی کے نتیجہ میں گذشتہ اٹھارہ سال سے اب تک پانچ لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں ،تین لاکھ بیس ہزار لوگ ملک میں بے گھر ہوچکے ہیں اورتاہنوز خانہ جنگی کایہ سلسلہ جاری ہے ۔
 ادھرصومالیہ پر قدرت کی سخت مار بھی پڑی ہے۔ صومالی معیشت کا دارومدارچونکہ گلہ بانی اور زراعت پر تھا اور دونوں کا گہرا تعلق بارش سے ہے ، اورچارمواسم میں بارش بالکل نہیں ہوئی جس کے باعث کھیتیاں خشک ہونے لگیں، پیداوار ختم ہوگئی، حیوانات مرنے لگے، نتیجتاً اموات عام ہوگئیں، آج بھوک کی شدت سے بچے اور بوڑھے تڑپ تڑپ کر مررہے ہیں، کتنے پیاس کی شدت سے مررہے ہیں کہ پانی پچاس کیلومیٹر کا فاصلہ طے کیے بغیر دستیاب نہیں، تعلیمی ادارے اور درسگاہیں ہیں بند ہوچکی ہیں، جنوبی صومال، شمالی کینیا، اورجنوبی ایتھوپیا کے علاقے قحط سالی سے زیادہ متاثرہیں ۔ دنیا کے کونے کونے بالخصوص خلیجی ممالک سے تعاون مل رہا ہے لیکن اموات کی شرح پر قابوپانا مشکل ہے کیونکہ آبادی کے تناسب سے تعاون میں ابھی بھی بہت کمی ہے ، ایک وقت کے کھانے کی قیمت محض پندرہ فلس ہے جوآٹا تیل اورنمک پر مشتمل شوربا سے عبارت ہوتا ہے ۔
عزیزقاری ! اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں کویت کی سرزمین پر خوشحال اور فارغ البال رکھا ہے ، ہم اللہ تعالی کی عظیم نعمت میں پل رہے ہیں، اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ پاک کا شکرادا کریں اور ان نعمتوں کی قدرکریں، اسراف اورفضول خرچی سے بال بال پرہیز کریں، ہمارے دسترخوان پر جتنے کھانے برباد ہورہے ہیں ان سے کتنے غرباءومساکین کی کفالت ہوسکتی تھی، کیاخبرکہ کل ہماری بھی حالت وہی ہوجائے جو ہمارے کلمہ شریک صومالی بھائیوں اور بہنوں کی ہے، ہم الکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ ان بھائیوں کی بدحالی اورفاقہ کشی کے واقعات آئے دن دیکھتے اور سنتے بھی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارے دل میں اسلامی اخوت کا احسا س پیدا ہوناچاہیے، وہ ہمارے ہی جسم کا ایک عضوہیں جوصدحیف معطل ہوتے جارہے ہیں، ہمیں ان کے درد کی ٹیس محسوس ہونی چاہیے ، کیاہم نے کبھی اس حدیث پر غورکیا : ” مومن کی مثال ایک دوسرے سے محبت، ہمدردی اوررحم دلی کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح ہے جس کا کوئی ایک عضومبتلائے درد ہو تو اس کی وجہ سے پورا جسم بخاراوربے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے “۔ (مسلم)
جی ہاں! مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے، صومال میں اگر کوئی مسلمان بھوک اور پیاس کی شدت سے مررہا ہے تو ہم بھی اس کے ذمہ دارہوںگے ، کل قیامت کے دن اللہ تعالی ہم سے فرمائے گا :” اے ابن آدم! میں بھوکا تھا تونے مجھے کھانا نہیں کھلایا،اے ابن آدم! میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا....“ اس لیے اپنے دینی بھائیوں کی آہوں اورسسکیوں پرکان دھریں، ان کی مصیبت کا احساس کریں، کویت کی رفاہی کمیٹیاں ان کے لیے چندہ جمع کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں، جتنا میسر ہوسکتا ہو صومالی بھائیوں کے لیے اپنی حلال کمائی سے ضرورنکالیں، معمولی رقم کوحقیرنہ سمجھیں، آپ کی نظرمیں معمولی ہوسکتی ہے لیکن اللہ کوکیفیت مطلوب ہے کمیت نہیں، اگرآپ ایک انسان کی جان بچالیتے ہیں توگویا آپ نے ساری انسانیت کوزندگی عطا کی۔ زمین والوں پر رحم کریںآسمان والا آپ پر رحم کرے گا۔ رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کی یہ بشارت سنیں:
”جس مومن نے اپنے مومن بھائی کو پیاس میں پانی پلایا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن مہربلب جام پلائے گا ، اورجس مومن نے اپنے مومن بھائی کو بھوک میں کھانا کھلایا اللہ پاک اسے بہشت کے پھل سے کھلائے گا اور جس مومن نے کسی مومن کو ننگاپن میں کپڑا پہنایا اللہ تعالی اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا “۔ (مسنداحمد)

 صفات عالم محمدزبیرتیمی          
      safatalam12@yahoo.co.in
       

الخميس، أغسطس 25، 2011

؟

هذه الصورة تظهر إنطباع أحد غيرالمسلمين عبر الفيس بوك وهو الدكتور روب شاندراشاسترى الملقب بـ" ماينك " الكاتب والشاعر الهندى المعروف بين الكتاب الهنود تثمينا لجهود كاتب هذه الأسطر في دعوة غير المسلمين إلى الإسلام عبر المدونات الدعوية والدعوة الميدانية ، وليست هذه مفخرة لى إلا إذا هداه الله للإسلام ولكن لبيان أن الأرض خصبة وأنهم يقبلون منك إذا عرضت عليهم الإسلام بالحكمة والموعظة الحسنة.

السبت، أغسطس 13، 2011

روايتيں جو ثابت نهيں

میرے مرتبے کا وسیلہ پکڑو

توسلوا بجاھی فان جاھی عند اللہ عظیم

ترجمہ : میرے مقام ومرتبہ سے وسیلہ پکڑو کیونکہ میرا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے “۔

[امام ابن تیمیہ اور شیخ البانی نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں [اقتضاءالصراط المستقیم لابن تیمیہ ( 2/415 ) السلسلة الضعیفة (22)]

عصر کے بعد سونے سے عقل خراب ہونے کا اندیشہ

من نام بعد العصر فاختلس عقلہ فلایلومن الا نفسہ

”جو شخص عصرکے بعد سویا اور اس کی عقل کو جھپٹا مارلیا گیا (یعنی عقل ختم کردی گئی ) تو وہ سوائے اپنے نفس کے ہرگز کسی کو ملامت نہ کرے “۔

[ابن جوزی نے اس روایت کو الموضوعات (3/69) میں ‘ امام سیوطی ؒ نے اللآلی المصنوعة (2/279) میں اور امام ذہبی ؒ نے ترتیب الموضوعات (839) میں نقل کیا ہے ]

حج کے دوران قبر نبوی کی زیارت کی فضیلت

من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی

جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی تو بلاشبہ اس نے مجھ پر زیادتی کی “ ۔

[موضوع: امام ذہبی ؒ ،امام صنعانی ؒ اورامام شوکانی ؒ اسے موضوع قرار دیا ہے ترتیب الموضوعات (600) الموضوعات للصغانی (52) الفوائدالمجموعة للشوکانی (326) ]

من حج فزار قبری بعد موتی کان کمن زارنی کی حیاتی

”جس نے حج کیا ااور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے جس نے میری زندگی ہی میں میری زیارت کی ۔“

[موضوع: امام ابن تیمیہ ؒ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ شیخ البانی ؒ نے اسے موضوع کہا ہے ۔ [قاعدة جلیلة لابن تیمیہ (57) السلسة الضعیفة (47) مزید دیکھیے : ذخیرة الحفاظ لابن القیسرانی (4/5250) ]

امت کا اختلاف رحمت ہے

اختلاف امتی رحمة

”میری امت کا اختلاف رحمت ہے “ ۔

[موضوع: الاسرار المرفوعة (506) تنزیہ الشریعة (2/402) شیخ البانی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ۔ [السلسلة الضعیفة (11) ]

کسی بھی صحابی کی اتباع ذریعہ ہدایت

اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم

”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاوگے “ ۔

[امام ابن حزم ؒنے کہا ہے کہ یہ جھوٹی اور باطل خبر ہے ‘ ہرگز ثابت نہیں [الاحکام فی اصول الاحکام (5/64) شیخ البانی نے اسے موضوع کہا ہے ۔ [السلسة الضعیفة (66) مزید دیکھیے : جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر (2/91) ]

نفس کی پہچان ہی رب کی پہچان ہے

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ

”جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا ‘ یقیناً اس نے اپنے رب کو پہچان لیا “۔

[موضوع: الاسرارالمرفوعة (506)تنزیہ الشریعة (2/402) تذکرة الموضوعات (11) ]

طلاق سے عرش کانپ اٹھتا ہے

تزوجوا ولا تطلقوا ، فان الطلاق یھتز لہ العرش

”شادی کرو اور طلاق مت دو ۔ کیونکہ طلاق سے عرش کانپ اٹھتا ہے ۔“

[موضوع: ترتیب الموضوعات (694)الموضوعات للصغانی (97) تنزیہ الشریعة (2/202) ]

قرآن کا دل سورہ یس

ان لکل شی ءقلباً، وان قلب القرآن ”یٓس“ من قراھا ، فکانما قرأ القرآن عشر مرات

”بلاشبہ ہرچیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورہ یٓس ہے ۔ جس نے اسے (ایک بار) پڑھا گویا اس نے دس مرتبہ قرآن پڑھا ۔“

[موضوع: العلل لابن ابی حاتم (2/55) السلسلة الضعیفة (169) ]

فکرآخرت کی فضیلت

فکرة ساعة خیرمن عبادة ستین سنة

”قیامت کی فکر ساٹھ (60) سال کی عبادت سے بہتر ہے “ ۔

[موضوع: تنزیہ الشریعة (2/305) الفوائد المجموعة (723) ترتیب الموضوعات (964) ]

روزے تندرستی کی ضمانت

صوموا تصحوا

”روزے رکھو صحت مند بن جاؤگے “۔

[ضعیف : تخریج الاحیاء(3/87) تذکرة الموضوعات (70) الموضوعات للصغانی (72) ]

کائنات کی تخلیق رسول اللہ ﷺ کے لیے

لولاک ماخلقت الدنیا

”(اے پیغمبر!) اگر تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا ۔“

[موضوع: اللولووالمرصوع للمشیشی (454) ترتیب الموضوعات (196) السلسلة الضعیفة (282) ]

ایک سنت زندہ کرنے سے سو شہیدوں کا اجر

من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجرمائة شھید

”جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اس کے لیے100 شہیدوں کا اجر ہے ۔“

[ضعیف جدا: ذخیرة الحفاظ (4/5174) السلسلة الضعیفة (326) ]

میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں

انا ابن الذبیحین

”میں دو ذبیحوں (یعنی اسماعیل ں اور آپ کے والد عبداللہ ) کا بیٹا ہوں۔ “

[اس کی کوئی اصل نہیں ۔ رسالة لطیفة لابن قدامة (23) اللولوالمرصوع (81) النخبة البھیة للسنباوی (43) ]

مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت

من صلی فی مسجدی اربعین صلاة لا یفوتہ صلاة کتبت لہ برائة من النار ونجاة من العذاب وبرئی من النفاق

” جس نے میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں چالیس نمازیں اداکیں (اور ان میں سے )کوئی ایک نماز بھی فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے آگ سے براءت اور عذاب سے نجات لکھ دی جائے گی اور وہ نفاق سے بری ہوجائے گا “ ۔

[ ضیعف : السلسلة الضعیفة (364) ]

(شيخ حسان العتيبي)

الثلاثاء، أغسطس 02، 2011

محاضرة الدكتور محمد لقمان السلفي

كرم الله عبدالرؤف التيمي

محاضرة الدكتور محمد لقمان السلفي/ حفظه الله
في المركز الثقافي الإسلامي –مبارك الكبير
بإدارة الدراسات الإسلامية بوزارة الأوقاف بدولة الكويت
الدكتورمحمد لقمان السلفي حفظه الله من أحد كبارالعلماء في الهند وهو غني عن التعريف في شبه القارة الهندية بخدماته الجليلة من أهمها تأسيس جامعة الإمام ابن تيمية بولاية بيهار التي يدرس فيها أكثر من الف ومائتين طالبا وكلية خديجة الكبري للبنات وغيرذلك من الأعمال النبيلة كما تصدر الجامعة مجلتين إحداهما "الفرقان" باللغة العربية والأخري "طوبي" باللغة الأردوية .
كما أن للدكتورإنتاجات علمية عديدة باللغة العربية والأردية والإنجليزية منها "تيسير الكريم الرحمن" باللغة الأردية والانجليزية و"الصادق الأمين" في السيرة النبوية باللغة العربية والأردية و"السلسلة الذهبية للقراءة العربية" 12 مجلدا و "السنة مكانتها في التشريع الإسلامي" و"اهتمام المحدثين بنقدالحديث سندا ومتنا ودحض مزاعم المستشرقين وأتباعهم" و"تحفة الكرام لشرح بلوغ المرام" و"رحلة مريم جميلة الأمريكية من الكفر إلي الإسلام" (ترجمة من الانجليزية إلي العربية) وغيرها.
وقد لازم الدكتور سماحة المفتي العام بالمملكة العربية السعودية الشيخ ابن باز رحمه الله رحمة واسعة حوالي 38 سنة واستفاد بعلمه الغزير وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء وللمزيد يمكن الاستفادة بالمقالات التي سبق أن نشرت في صوت التيمي ولاسيما مقال الأخ ظل الرحمن التيمي " نبذة عن سيرة مؤسس الجامعة العلامة الدكتورمحمد لقمان السلفي وحياته الدعوية "
وبمناسبة قدوم الدكتور الكويت شارك في الحفل الختامي للأنشطة الصيفية تلبية لدعوة المركز الثقافي الإسلامي - مبارك الكبير- بالوفد المرافق بكل من الشيخ عارف جاويد المحمدي والشيخ شمعون المدني والأخ عبدالله وأسامة (من أبناء الشيخ عارف جاويد) فرحبهم المشرف العام والأستاذ خالد رجاء العميري والهيئة الإدارية بالمركزترحيبا حارا ثم بدأ الحفل، فالأستاذ أحمد الكندري شكرالمدرسين على جهودهم القيمة لتربية الطلبة في الفترة الصيفية ، ثم ألقي الدكتور كلمته فبين أهمية اللغة العربية في الإسلام حيث أن الإنسان مهما كان لايمكن له الاستفادة من المصدرين الأساسيين وهما الكتاب والسنة الصحيحة إلا بعد تعلم اللغة العربية واستدل بقول شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله بأن تعلم اللغة العربية واجب حيث أن التعرف علي مبادئ الإسلام وقيمه واجب ومالايتم الواجب إلا به فهو واجب كماهوالمعروف عند الأصوليين. ثم ذكر كيفية تعليم اللغة العربية لغيرالناطقين بها مشيرا إلى أنه قام بإعداد كتب باسم السلسلة الذهبية لتعليم اللغة العربية 12 مجلدا كما وجه النصائح الثمينة إلى الطلبة والحضور منها الحذر من الكبر في التعلم حيث أن أباجهل كان يسترق السمع حينما يتلوالنبي صلى الله عليه وسلم بالليل ولكنه لكبره لم يوفق إلي فهم معاني القرآن الكريم وكلام سيدالأنبياء والمرسلين، فضل وغوي وخاب وخسر في الدنيا والآخرة. والعياذ بالله.

الاثنين، يوليو 25، 2011

وفاة والد الأخ رفيق أحمد التيمي

ظل الرحمن لطف الرحمن

توفى والد الأخ رفيق أحمد التيمي / الباحث في مركز الدراسات العربية والإفريقية بجامعة جواهر لال نهرو ، إنا لله وإنا إليه راجعون – فاتصلت قبل قليل بالأخ رفيق أحمد التيمي فأخبرني عن الحادث مشيرا إلى أنه سوف يصل إلى بيته قريبا ، علما بأن والد الأخ رفيق التيمي رحمه الله رحمة واسعة وأدخله في فسيح جناته ، كان رجلا متوازنا ، هادئ الطبيعة ، خلوقا - نســـأل الله له العفو والرحمه وأن يلهم أهله وذويه الصبر والسلوان. وبالمناسبة أصالة عن نفسي ونيابة عن جميع الإخوة التيميين نعزى الأخ رفيق التيمي ونقول له : أعظم الله أجرك ، اصبر واحتسب فكل من عليها فان ، ويبقى وجه ربك ذوالجلال والإكرام .

الاثنين، يوليو 18، 2011

وفاة والد الشيخ الفاضل صلاح الدين مقبول احمد

ببالغ الحزن والأسى تليقينا نبأ وفاة والد الشيخ الفاضل صلاح الدين مقبول احمد إنا لله وإنا إليه راجعون ،نسأل الله أن يرحم الفقيد و يسكنه فسيح جناته، ويلهم أهله و ذويه الصبر والسلوان . وإذ نشارك في مصاب الشيخ نقول له : لله ما أخذ ولله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب.

السبت، يوليو 16، 2011

نومسلموں کے ساتھ معاملہ كيسے كريں؟

صفات عالم محمد زبیر تیمی

نومسلموں کے ساتھ حسن معاملہ کیوں؟
ایک نومسلم اسلام قبول کرنے کے بعد گویا ایک نئی دنیا میںداخل ہوتا ہے جہاں اس کا سابقہ ایسے سماج سے پڑتا ہے جواس کے لیے غیرمانوس ہوتا ہے، جہاں پر ایک طرف تو اس کے لیے اسلام کی حفاظت اوراس پر کاربند ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے تو دوسری طرف اکثرکوگھریلوجائیداد سے محرومی ،خاندان کی مخالفت اور قوم کی ایذارسانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ ایسے حالات میں ہرقدم پر اس کی اعانت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسکے لیے مسلم معاشرہ بہترین متبادل بن سکے، اسے اپنائیت کا احسا س ہو اوروہ بآسانی نئے معاشرے میں ضم ہوسکے ۔ پیارے نبی ا کی سیرت سے ہمیںیہی سبق ملتا ہے کہ جن لوگوں نے آپ ا کی دعوت پرلبیک کہاپہلے ہی دن بھائی بھائی بن گئے ، وہ اپنے مسلم بھائی کو سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوگئے ، کیونکہ اسلام ان کے دلوں میں وحدت الہ اور وحدت آدم کی ایسی روح پھونکتا تھا کہ وہ اسلام کو گلے لگاتے ہی مسلم معاشرے کا اٹوٹ حصہ بن جاتے تھے ۔ پھر تاریخ کے ہردور میں نومسلموں کے ساتھ مسلم معاشرہ نے ایسی ہی بے مثال اخوت وبھائی چارگی کا معاملہ کیا۔
آج بھی اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہورہے ہیںاورہمارے مسلم معاشرے کا اٹوٹ حصہ بن رہے ہیںاب اگرہم ان بھائیوں اور بہنوں کا خیر وخوبی سے استقبال نہ کریں گے توکون کرے گا ؟ اگر ہم ان کے ساتھ صحیح معاملہ نہ کریں گے تو آخر کون کرے گا؟۔ لیکن افسوس کہ جہالت اور دعوتی ذوق کے فقدان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان امور کی رعایت کرنے والے افراد خال خال ہی پائے جاتے ہیں ۔ ہماری اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ نومسلموں کو پہلے دن سے ہی اسلام کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر کسی طرح کی ان سے کوتا ہی ہوگئی تو فوراً ان کا مواخذہ ہوتا ہے حالانکہ کتنے مسلمان خود طرح طرح کی برائی میں لت پت ہیں، ظاہر ہے کہ جس شخص کو چند دنوں قبل ہدایت ملی ہے اس کی تربیت کے لیے ایک مدت درکارہے بالخصوص جبکہ ایک شخص نے عمر کا اچھا خاصا وقت غیراسلامی ماحول میں گزارا ہو۔ اس لیے ذیل کے سطورمیں ہم نومسلم بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ معاملہ کرنے سے متعلق چند گذارشات پیش کررہے ہیں:
مبارکبادی کے کلمات کہیں
اگرآپ قبولِ اسلام کے ایمان افروز منظر کا مشاہدہ کر رہے ہوں تو کلمہ شہادت کا اقرارکرنے کے فوراً بعد بلندآواز سے تکبیر کہیں،پھر نومسلم بھائی کا گرم جوش استقبال کریں ، مصافحہ ومعانقہ کریں کہ حسن استقبال نومسلم کے لیے اسلام میںپہلا پیغام ہوتا ہے جواسے دین پرثابت قدم رکھنے میں معاون بنتا ہے جبکہ قبول اسلام کے وقت اس کی طرف سے بے التفاتی برتنا اسلام سے متنفر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ قبول اسلام کی اس ایمان افروز ساعت میں نومسلم کو اس بات سے مطلع کیاجائے کہ انہوںنے آج ایسی بیش قیمت نعمت حاصل کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں ،انہیںیہ بھی بتایاجائے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان سے جوبھی غلطیاں ہوئی تھیں قبولِ اسلام کے بعد وہ سارے گناہ معاف ہوچکے ہیں۔اب وہ گناہوں سے پاک وصاف اور دودھ کا دھلا بن چکاہے ۔
ایسی حسین گھڑی میں خود اپنے لیے بھی ان سے دعا کی درخواست کریں ۔ اِس سے ان کے دلوں میںاسلام کی عظمت بیٹھے گی اورانہیںاللہ کی نظرمیں اپنے مقام ومرتبہ اور اپنی اہمیت کا احساس ہوگا ۔
’معاشرے کوآپ کی ضرورت ہے‘ کا احساس دلائیں
جب ایک غیرمسلم کلمہ شہادت کے اقرا رکے بعد ہمارا دینی بھائی بن گیا تو اب اس کو خاص احترام دیں، اس کے اندریہ احساس پیدا کریں کہ مسلم معاشرے کو اس کے جیسے لوگوں کی سخت ضرورت ہے ۔ اسے اسلام سے پہلے جووقار حاصل تھا اسے قبولِ اسلام کے بعد بھی بحال رکھا جائے کہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے اس نکتے کی بھی پوری رعایت کی تھی چنانچہ اسلام سے پہلے جولوگ سپہ سالار تھے اسلام لانے کے بعد بھی سپہ سالار بنائے گئے جن میں خالد بن ولید رضى الله عنه ، عمروبن عاص رضى الله عنه اور عکرمہ رضى الله عنه کی مثال سرفہرست ہے ۔ یہ طریقہ نومسلم کے اسلام پر ثابت قدمی کا سبب بنے گا اور اسے احساس ہوگا کہ اس نے اسلام قبول کرکے اپنی شخصیت کو باوقار بنایا ہے ۔
جذبات کا احترام کریں
نو مسلم خواہ جس سماج سے تعلق رکھتا ہو اوراپنے سماج میں جیسا بھی مقام رکھتا ہو اس کے پاس بھی جذبات ہیں جن کا حترام نہایت ناگزیر ہے۔ کوئی انسان اپنے جذبات کو ٹھیس پہنچتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ بسا اوقات طنزوتعریض اور مذاق کے بعض کلمات ایسے سخت ہوتے ہیں کہ اسلام کی آفاقیت دل میں پیوست ہونے کے باوجود مسلمانوں سے اسے نفرت سی ہونے لگتی ہے بلکہ اس طرح کے نازیبا کلمات نومسلم کو اپنی سابقہ زندگی کی طرف لوٹ آنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اس قبیل کے بیشمار واقعات سے راقم سطورکوسابقہ پڑا ہے اور نومسلم بھائیوں نے مسلم کمیونٹی کے افراد کے تئیں اپنی شکایتیں درج کرائی ہیں جنہیں یہاں ذکر کرنا طولانی کا باعث ہوگا۔
مسکراکر ملیں
سچی مسکراہٹ دل میں پاکیزہ جذبات کے وجود کا پتہ دیتی ہے، اوراپنے بھائی کے چہرے پر مسکرانا بھی باعث اجرو ثواب ہے ۔ اس لیے ان سے جب اور جہاں کہیں ملیں کشادہ پیشانی سے ملیں، چہرہ کھلا ہوا ہو ،کہ اس کے ذریعہ آپ ان کے دلوں میں جگہ بناسکیں گے۔
نرمی اور آسانی کا برتاؤ کریں
نومسلموںکے ساتھ نرمی وبردباری اورشفقت سے پیش آئیں، اورکسی بھی معاملے میں سختی نہ برتیں،کیونکہ دین آسان ہے (بخاری ) اوراللہ پاک نے دین میں کسی طرح کی تنگی نہیں رکھی ہے۔ (الحج 78)، اسلام کے بنیادی خصائص میں سے ایک اہم خصوصیت نرمی اورآسانی برتنا ہے۔اسلام کے اوامرونواہی میں آسانی اورسہولت ملحوظ رکھی گئی ہے۔اللہ کے رسول ا جب کسی کو دعوتی مہم پر ارسال کرتے تو فرماتے یسروا ولا تعسرو ا ”آسانی کرو،سختی مت برتو“۔ (بخاری ومسلم) اس لیے شروع میں ان کی معمولی کوتاہیوں کو نظر انداز کریں اورپیار اورمحبت کے ساتھ ان کے سامنے دین کے احکامات رکھیں۔ واجبات کا حکم دے رہے ہوں یا منہیات سے روک رہے ہوں ہرایک صورت میں نرمی کا پہلواختیار کریں ۔ کسی طرح کی کوتاہی یا غلطی ہونے کی صورت میں اصلاح کے وقت سخت رویہ ہرگز اختیارنہ کریں کہ ماضی کی عادتوں کو بیک وقت ذہن سے کھرچنا ممکن نہیں ۔
تدریج کوملحوظ رکھیں
یہ بات حکمت دعوت کے منافی ہے کہ احکامات کے معاملے میں نومسلموں پر سختی برتی جائے اور بیک وقت انہیں دین کے سارے احکام کا مکلف کردیاجائے ۔کیونکہ تدریح کی رعایت نہ کرنے کے سبب ممکن ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں یا اسلامی احکامات کی بجاآوری میں سست پڑجائیں ۔ لہذا نومسلموں کے سامنے دین کے احکام بتدریج پیش کیے جائیں ، شرعی احکام کی تلقین میں جلدبازی نہ کی جائے ، اتنے ہی احکام کا مکلف کیا جائے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں، طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے طبیعت میں اکتاہٹ پیدا ہوگی اورممکن ہے کہ وہ دین کومشکل سمجھنے لگیں گے۔اسی لیے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”دین میں تکلف کرنے اورشدت برتنے والے ہلاک ہوگئے“ (مسلم)۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں:
”اسلام میں داخل ہونے والے کوشریعت کے سارے امورکی تلقین کردینا اور اسے بیک وقت سارے احکام کا مکلف بنادینا ممکن نہیں ، اسی طرح گناہوں سے توبہ کرنے والے ، علم دین سیکھنے والے اور رہنمائی حاصل کرنے والے کو پہلی فرصت میں دین کے سارے احکام کی تلقین کرنا اورجملہ علوم کا ذکر کردینا ممکن نہیں ، کیوں کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، جب وہ اس کی طاقت ہی نہیں رکھتے تو اس حالت میں ان پر واجب بھی نہیں ہے ، اورجب ان پر واجب نہیں تو عالم یا امیر کے لیے مناسب نہیں کہ شروع میں جملہ احکام کو ان پر واجب ٹھہرادے ۔بلکہ حق یہ ہے کہ اوامر ونواہی سے اس وقت تک ان کو معذور سمجھے جب تک کہ ان کے علم اور عمل کا مناسب وقت نہ آجائے ،جیساکہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے بیان کا وقت آنے سے پیشتر بیشمار احکامات سے لوگوں کو معذور سمجھا۔ اوریہ محرمات کے اقرار اور واجبات میں تساہل برتنے کے قبیل سے نہیں کیونکہ وجوب اور تحریم کاحکم جانکاری اور عمل کے امکان کے ساتھ مشروط ہے اور ہم نے ثابت کیا کہ یہاں یہ شرط ہی یکسرمفقود ہے۔ اس قاعدے پرخوب غورکرلوکہ یہ بہت اہمیت کا حامل ہے“۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج 20ص60)

لہذا نومسلموں کی تربیت میں تدریج کوملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے ۔ کتنے لوگ نومسلموں کے ختنہ اورنام تبدیل کرنے کے بعد قانونی دستاویز حاصل کرنے کے موضوع کواتنا اہم سمجھتے ہیں کہ پہلے ہی دن اس کا ذکر کرنے لگتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ، پہلے نومسلموں کی تربیت کی طرف دھیان دیاجائے اور ان کے عقیدے کو درست کرنے کی کوشش کی جائے ۔جب ان کے دلوںمیں اسلامی تعلیمات رچ بس جائیں گی تو خودبخود ختنہ کرانے اور پاسپورٹ پر نام تبدیل کرانے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔
راہ ورسم رکھیں
قبول اسلام کے دن سے ہی نومسلم بھائی کا ایک ایسا نیک دوست ہوناچاہیے جوہروقت اس کے ساتھ رہے اور اس کے عمل اورکردار سے یہ نووارد دین کی باتیں سیکھتا رہے البتہ دوست ایسا ہونا چاہیے جوصحیح عقیدہ کا حامل ہو، صوم وصلاة کا پابند ہواور بردبار ہوشدت پسند نہ ہو۔ اس لیے جب کسی نومسلم کے قبول اسلام کی خبر ملے یا آپ کےواسطے سے اسلام قبول کرے تو اسی دن اس کو اپنا دوست بنالیںاگرخود کو اس لائق نہیں سمجھتے تو اسے کسی نیک ساتھی کے حوالے کردیں جو اس کی دینی نگرانی کرتا رہے ، اس کا نمبر حاصل کرلیں اوراس سے روابط رکھیں اور جب کبھی فرصت ملے اس کی ملاقات کے لیے چلے جائیں یا خود اپنے پاس بلاکر لائیں بشرطیکہ آپ کے گھر یا رہائش گاہ کے افراد دینی مزاج کے حامل ہوں۔
طلب علم کی ترغیب دلائیں
کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد اس کے تقاضے پرعمل کرنے کے لیے اسلام سیکھنے کی ضرورت ہے ، اس کے لیے کویت کی سرزمین پر IPC کی ہر شاخ میں نومسلم بھائیوں اوربہنوں کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ دروس کا انتظام کیاگیا ہے ۔ جہاں ترجیحات دین کا خیال رکھتے ہوئے نومسلموں کو بتدریج اسلام سکھایا جاتا ہے اوران کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ رکھا جاتا ہے ۔ اس کے لیے IPC نے ہرزبان کے باصلاحیت داعیان دین کی خدمات حاصل کررکھی ہیں جو انہیں کی زبان میں انہیں تعلیم دیتے ہیں ۔ اس لیے جہاں کہیں ایسے نومسلم بھائی یا بہن کا پتہ چلے فوراً ان کو IPC کے کلاسیزمیں داخل کرانے کی کوشش کریں ، یہ آپ کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔
حسن ظن رکھیں
اگر کسی مردیاعورت نے اسلام قبول کیاہے تواس کے تئیں اپنے دل میں اچھا خیال رکھتے ہوئے اس کے اسلام کو پروان چڑھانے میں لگ جائیں اگرچہ بظاہر اس کے اسلام کا کوئی معقول سبب ظاہر نہ ہورہا ہو، تجربہ بتاتا ہے کہ کتنے غیرمسلموں نے کسی مادی یا معنوی فائدے کے لیے اسلام قبول کیا لیکن پھر ان کا اسلام اچھا ہوگیا ۔ ویسے بھی ہمیں ظاہر پر حکم لگانے کا مکلف کیا گیا ہے باطن پر نہیں ، کچھ لوگوں کا رجحان ہمیشہ منفی ہوتا ہے، ہرنومسلم کے تئیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ کسی مالی فائدے کی خاطر اسلام قبول کیا ہے، اوراسی بدظنی کی بنیاد پر نومسلموں کواسلام سے متنفر کرنے کا سبب بنتے ہیں، ویسے بھی IPC میں کسی شخص کواسلام قبول کرتے وقت مالی تعاون نہیںملتا، البتہ اگرقبول اسلام کے بعد کسی طرح کے مسائل سے دوچار ہوجائے تواسکے تدارک کی ہرممکنہ کوشش کی جاتی ہے ۔
صبرکی تلقین کریں
نومسلم بھائی یا بہن کو پہلے دن ہی صبر وشکیبائی کی تلقین کی جائے کہ راہ ِ استقامت میں صبرناگزیر ہے ، حق کو اپنانے کی وجہ سے اس کے لیے آزمائش کے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ کھلیں گے، گھر کے افراد تعلق کاٹ سکتے ہیں، ملازمت سے متعلقہ آزمائشیں آسکتی ہیں۔ دوست واحباب یہاں تک کہ روم پاٹنرزبھی مذاق اڑائیں گے ، جاہل مسلمانوں کی طرف سے بھی آزمائشیں آسکتی ہیں ان سب کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں کہ آپ نے دین حق کو اپنایاہے اوراس راہ میں مصیبتیں بھی آسکتی ہیں ۔
دینی ماحول فراہم کریں
اپنے نومسلم بھائی کے لیے دینی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کریں ،اپنے ہمراہ انہیں مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے لے جائیں ،پیار اورمحبت سے ان کو نماز کے لیے بیدار کریں ،کبھی قبرستان کی زیارت کے لیے چلے جائیں ، کبھی معروف علمائے دین کی مجلس میں حاضر ہوں، مساجد میں منعقد ہونے والے ہفتہ واری اجتماعات اوراگرممکن ہو سکے تو روزانہ کے قرآنی حلقات میں ان کو ساتھ لے کر جائیں ۔ان کے دین پر ثبات قدمی کے لیے اللہ پاک سے دعا کرتے رہیں اورہرحال میں آپ کی کوشش ہو کہIPC میں منعقد ہونے والے تربیتی دروس میں ان کی شرکت ناغہ نہ ہونے پائے کہ ہفتہ میں کم ازکم ایک بارانہیں اپنے ہم زبان نومسلموں کے ساتھ بیٹھ کردین سیکھنے اور ایمان کو تازہ کرنے کا موقع ملتا ہے ۔
تحفہ تحائف کا لین دین کریں
بسااوقات ان کو موقع اورمناسبت سے تحفہ تحائف دینے کی کوشش کریں اگرچہ معمولی ہی کیوں نہ ہو ،مسواک ،خوشبو ، یادوسری کوئی بھی چیز تحفہ دینے کے لیے اختیار کرسکتے ہیں کہ اس سے تعلقات مضبوط ہوںگے اورمکارم اخلاق پر مبنی اسلام کا روشن پہلو نکھر کر ان کے سامنے آسکے گا ۔
مسلکی اختلافات سے گریز کریں
نومسلموں کے سامنے فقہی اختلافات اور متنازعہ مسائل کا تذکرہ نہ کریں،ان کو کتاب وسنت کی واضح تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کاموقع فراہم کریں ۔ اگر کسی طرح کا شبہ ہوتو براہ راست ان کے ہم زبان داعی سے رابطہ کرلیں کہ نومسلموں کوفقہی اختلافات میں الجھانا حکمتِ دعوت کے منافی ہے ۔
نجی مسائل کے حل میں شریک ہوں
اگروہ ملازمت سے متعلق کسی طرح کی پریشانی سے دوچار ہوں تواس سلسلے میں جس طرح کا تعاون درکار ہو پیش کریں ۔ کمپنی میں اس کے منیجر اور ذمہ داران سے ملاقات کریں اور اس کے ساتھ نیک برتاؤ کی تاکید کریں ۔ مسلم معاشرے میں ضم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کاروائیوں میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے تعاون پیش کریں ۔ اور اگر وہ غیرشادی شدہ ہوں یا پہلی بیوی ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہو تومسلم معاشرے کی نیک اور صالح لڑکی سے اس کی شادی کرادیں کہ یہ ہماری بہت بڑی اخلاقی اوردینی ذمہ داری ہے افسوس کہ ہم اس تعلق سے ان کے تئیں اپنے دلوں میں مختلف طرح کے تحفظات رکھتے ہیں حالانکہ اسلام رنگ ونسل کے امتیازاور ذات پات کے فرق کو بالکل مٹا دیتا ہے ۔ آج نومسلم بھائیوں اور بہنوں کو شادی کے معاملے میں جو پریشانیاں اٹھانی پڑرہی ہیں وہ قابل افسوس ہیں جومسلم معاشرے کے لیے آئندہ بہت بڑا چیلنج ہے ، ضرورت ہے کہ ہم اپنے دلوں میں نومسلموں کے تئیں جگہ پیدا کریں ۔