الأربعاء، أكتوبر 19، 2011
وفاة السيد أبوذر شقيق الدكتورمحمد لقمان السلفى
السبت، أكتوبر 15، 2011
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے
السبت، سبتمبر 24، 2011
مسلمانوں كو مسلماں كرديا طوفان مغرب نے
السبت، سبتمبر 17، 2011
آہ ! صومالیہ
صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جہاں اسلام کا سایہ مدینہ منورہ سے پہلے پہنچا ، جس نے اولیں مہاجرین کواپنی آغوش میں پناہ دی تھی، حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، یہی وہ مقام تھا جسے صحابہ کرام نے پناہ گاہ بنائی تھی اورصومالیہ کا حالیہ درالحکومت موگادیشو مشرقی افریقہ میں اسلام کا ایک مرکز بنا تھا، آج 99 فیصدمسلم آبادی پرمشتمل اس سرزمین کاشماردنیا کے غریب ترین ملک میں ہورہا ہے ۔ اورقحط ایسی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ مررہے ہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ اس ملک میں قدرتی ذخائر کی کمی ہو ، تیل یورینیم ، گیس اور سونے کے ذخائر آج بھی اس ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ آج یہ ملک ایسی خستہ حالی کا شکار ہے ، یہ ایسا نکتہ ہے جس سے پردہ اٹھائے بغیر رہا نہیں جاتا ، گوکہ عالمی برادری اس بھوک مری کو خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے لیکن حقیقت کچھ اوربھی ہے ۔ مغرب نے جب استعماری منصوبہ کے تحت عالم اسلام میں قدم رکھا تو قدرتی ذخائر سے مالامال مشرقی افریقہ کے اس ملک کو بھی اپنے استعماری پنجے میں دبوچے بغیرنہ رہے ، اور خوان یغما سمجھتے ہوئے برطانیہ ، اٹلی اورفرانس تینوں ممالک بھوکے بھیڑیوں کے جیسے اس پرٹوٹ پڑے، صومالی سورماؤں کی مزاحمت کے بعد استعماری افواج نے ملک توچھوڑدیا تاہم ”پھوٹ ڈالو حکومت کرو “کی پالیسی اپناتے ہوئے صومالیہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہی نکلے، پھراس خطے کی ثروت کو اپنے اختیار میں رکھنے کے لیے زراعت کا ایسا نظام رائج کرایا کہ ان کی زمینیں مخصوص کیمیکلز کی بنیاد پر زراعت کی بعض چیزیں ہی کاشت کرسکتی ہیں، پھر ان کی کاشت کی ہوئی اشیاء کو سستے داموں خرید کر عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں میںبیچنے کی ٹھیکیداری بھی لے لی، اس طرح صومالیہ سمیت افریقہ کے اکثر ممالک رفتہ رفتہ غربت کا شکارہوتے گئے۔ اقبال نے كہا تها
ادھرصومالیہ پر قدرت کی سخت مار بھی پڑی ہے۔ صومالی معیشت کا دارومدارچونکہ گلہ بانی اور زراعت پر تھا اور دونوں کا گہرا تعلق بارش سے ہے ، اورچارمواسم میں بارش بالکل نہیں ہوئی جس کے باعث کھیتیاں خشک ہونے لگیں، پیداوار ختم ہوگئی، حیوانات مرنے لگے، نتیجتاً اموات عام ہوگئیں، آج بھوک کی شدت سے بچے اور بوڑھے تڑپ تڑپ کر مررہے ہیں، کتنے پیاس کی شدت سے مررہے ہیں کہ پانی پچاس کیلومیٹر کا فاصلہ طے کیے بغیر دستیاب نہیں، تعلیمی ادارے اور درسگاہیں ہیں بند ہوچکی ہیں، جنوبی صومال، شمالی کینیا، اورجنوبی ایتھوپیا کے علاقے قحط سالی سے زیادہ متاثرہیں ۔ دنیا کے کونے کونے بالخصوص خلیجی ممالک سے تعاون مل رہا ہے لیکن اموات کی شرح پر قابوپانا مشکل ہے کیونکہ آبادی کے تناسب سے تعاون میں ابھی بھی بہت کمی ہے ، ایک وقت کے کھانے کی قیمت محض پندرہ فلس ہے جوآٹا تیل اورنمک پر مشتمل شوربا سے عبارت ہوتا ہے ۔
عزیزقاری ! اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں کویت کی سرزمین پر خوشحال اور فارغ البال رکھا ہے ، ہم اللہ تعالی کی عظیم نعمت میں پل رہے ہیں، اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ پاک کا شکرادا کریں اور ان نعمتوں کی قدرکریں، اسراف اورفضول خرچی سے بال بال پرہیز کریں، ہمارے دسترخوان پر جتنے کھانے برباد ہورہے ہیں ان سے کتنے غرباءومساکین کی کفالت ہوسکتی تھی، کیاخبرکہ کل ہماری بھی حالت وہی ہوجائے جو ہمارے کلمہ شریک صومالی بھائیوں اور بہنوں کی ہے، ہم الکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ ان بھائیوں کی بدحالی اورفاقہ کشی کے واقعات آئے دن دیکھتے اور سنتے بھی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارے دل میں اسلامی اخوت کا احسا س پیدا ہوناچاہیے، وہ ہمارے ہی جسم کا ایک عضوہیں جوصدحیف معطل ہوتے جارہے ہیں، ہمیں ان کے درد کی ٹیس محسوس ہونی چاہیے ، کیاہم نے کبھی اس حدیث پر غورکیا : ” مومن کی مثال ایک دوسرے سے محبت، ہمدردی اوررحم دلی کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح ہے جس کا کوئی ایک عضومبتلائے درد ہو تو اس کی وجہ سے پورا جسم بخاراوربے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے “۔ (مسلم)
جی ہاں! مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے، صومال میں اگر کوئی مسلمان بھوک اور پیاس کی شدت سے مررہا ہے تو ہم بھی اس کے ذمہ دارہوںگے ، کل قیامت کے دن اللہ تعالی ہم سے فرمائے گا :” اے ابن آدم! میں بھوکا تھا تونے مجھے کھانا نہیں کھلایا،اے ابن آدم! میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا....“ اس لیے اپنے دینی بھائیوں کی آہوں اورسسکیوں پرکان دھریں، ان کی مصیبت کا احساس کریں، کویت کی رفاہی کمیٹیاں ان کے لیے چندہ جمع کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں، جتنا میسر ہوسکتا ہو صومالی بھائیوں کے لیے اپنی حلال کمائی سے ضرورنکالیں، معمولی رقم کوحقیرنہ سمجھیں، آپ کی نظرمیں معمولی ہوسکتی ہے لیکن اللہ کوکیفیت مطلوب ہے کمیت نہیں، اگرآپ ایک انسان کی جان بچالیتے ہیں توگویا آپ نے ساری انسانیت کوزندگی عطا کی۔ زمین والوں پر رحم کریںآسمان والا آپ پر رحم کرے گا۔ رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کی یہ بشارت سنیں:
”جس مومن نے اپنے مومن بھائی کو پیاس میں پانی پلایا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن مہربلب جام پلائے گا ، اورجس مومن نے اپنے مومن بھائی کو بھوک میں کھانا کھلایا اللہ پاک اسے بہشت کے پھل سے کھلائے گا اور جس مومن نے کسی مومن کو ننگاپن میں کپڑا پہنایا اللہ تعالی اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا “۔ (مسنداحمد)
الخميس، أغسطس 25، 2011
؟
هذه الصورة تظهر إنطباع أحد غيرالمسلمين عبر الفيس بوك وهو الدكتور روب شاندراشاسترى الملقب بـ" ماينك " الكاتب والشاعر الهندى المعروف بين الكتاب الهنود تثمينا لجهود كاتب هذه الأسطر في دعوة غير المسلمين إلى الإسلام عبر المدونات الدعوية والدعوة الميدانية ، وليست هذه مفخرة لى إلا إذا هداه الله للإسلام ولكن لبيان أن الأرض خصبة وأنهم يقبلون منك إذا عرضت عليهم الإسلام بالحكمة والموعظة الحسنة. السبت، أغسطس 13، 2011
روايتيں جو ثابت نهيں
میرے مرتبے کا وسیلہ پکڑو
توسلوا بجاھی فان جاھی عند اللہ عظیم
ترجمہ : میرے مقام ومرتبہ سے وسیلہ پکڑو کیونکہ میرا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے “۔
[امام ابن تیمیہ اور شیخ البانی نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں [اقتضاءالصراط المستقیم لابن تیمیہ ( 2/415 ) السلسلة الضعیفة (22)]
عصر کے بعد سونے سے عقل خراب ہونے کا اندیشہ
من نام بعد العصر فاختلس عقلہ فلایلومن الا نفسہ
”جو شخص عصرکے بعد سویا اور اس کی عقل کو جھپٹا مارلیا گیا (یعنی عقل ختم کردی گئی ) تو وہ سوائے اپنے نفس کے ہرگز کسی کو ملامت نہ کرے “۔
[ابن جوزی نے اس روایت کو الموضوعات (3/69) میں ‘ امام سیوطی ؒ نے اللآلی المصنوعة (2/279) میں اور امام ذہبی ؒ نے ترتیب الموضوعات (839) میں نقل کیا ہے ]
حج کے دوران قبر نبوی کی زیارت کی فضیلت
من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی
جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی تو بلاشبہ اس نے مجھ پر زیادتی کی “ ۔
[موضوع: امام ذہبی ؒ ،امام صنعانی ؒ اورامام شوکانی ؒ اسے موضوع قرار دیا ہے ترتیب الموضوعات (600) الموضوعات للصغانی (52) الفوائدالمجموعة للشوکانی (326) ]
من حج فزار قبری بعد موتی کان کمن زارنی کی حیاتی
”جس نے حج کیا ااور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے جس نے میری زندگی ہی میں میری زیارت کی ۔“
[موضوع: امام ابن تیمیہ ؒ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ شیخ البانی ؒ نے اسے موضوع کہا ہے ۔ [قاعدة جلیلة لابن تیمیہ (57) السلسة الضعیفة (47) مزید دیکھیے : ذخیرة الحفاظ لابن القیسرانی (4/5250) ]
امت کا اختلاف رحمت ہے
اختلاف امتی رحمة
”میری امت کا اختلاف رحمت ہے “ ۔
[موضوع: الاسرار المرفوعة (506) تنزیہ الشریعة (2/402) شیخ البانی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ۔ [السلسلة الضعیفة (11) ]
کسی بھی صحابی کی اتباع ذریعہ ہدایت
اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم
”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاوگے “ ۔
[امام ابن حزم ؒنے کہا ہے کہ یہ جھوٹی اور باطل خبر ہے ‘ ہرگز ثابت نہیں [الاحکام فی اصول الاحکام (5/64) شیخ البانی نے اسے موضوع کہا ہے ۔ [السلسة الضعیفة (66) مزید دیکھیے : جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر (2/91) ]
نفس کی پہچان ہی رب کی پہچان ہے
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
”جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا ‘ یقیناً اس نے اپنے رب کو پہچان لیا “۔
[موضوع: الاسرارالمرفوعة (506)تنزیہ الشریعة (2/402) تذکرة الموضوعات (11) ]
طلاق سے عرش کانپ اٹھتا ہے
تزوجوا ولا تطلقوا ، فان الطلاق یھتز لہ العرش
”شادی کرو اور طلاق مت دو ۔ کیونکہ طلاق سے عرش کانپ اٹھتا ہے ۔“
[موضوع: ترتیب الموضوعات (694)الموضوعات للصغانی (97) تنزیہ الشریعة (2/202) ]
قرآن کا دل سورہ یس
ان لکل شی ءقلباً، وان قلب القرآن ”یٓس“ من قراھا ، فکانما قرأ القرآن عشر مرات
”بلاشبہ ہرچیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورہ یٓس ہے ۔ جس نے اسے (ایک بار) پڑھا گویا اس نے دس مرتبہ قرآن پڑھا ۔“
[موضوع: العلل لابن ابی حاتم (2/55) السلسلة الضعیفة (169) ]
فکرآخرت کی فضیلت
فکرة ساعة خیرمن عبادة ستین سنة
”قیامت کی فکر ساٹھ (60) سال کی عبادت سے بہتر ہے “ ۔
[موضوع: تنزیہ الشریعة (2/305) الفوائد المجموعة (723) ترتیب الموضوعات (964) ]
روزے تندرستی کی ضمانت
صوموا تصحوا
”روزے رکھو صحت مند بن جاؤگے “۔
[ضعیف : تخریج الاحیاء(3/87) تذکرة الموضوعات (70) الموضوعات للصغانی (72) ]
کائنات کی تخلیق رسول اللہ ﷺ کے لیے
لولاک ماخلقت الدنیا
”(اے پیغمبر!) اگر تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا ۔“
[موضوع: اللولووالمرصوع للمشیشی (454) ترتیب الموضوعات (196) السلسلة الضعیفة (282) ]
ایک سنت زندہ کرنے سے سو شہیدوں کا اجر
من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجرمائة شھید
”جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اس کے لیے100 شہیدوں کا اجر ہے ۔“
[ضعیف جدا: ذخیرة الحفاظ (4/5174) السلسلة الضعیفة (326) ]
میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں
انا ابن الذبیحین
”میں دو ذبیحوں (یعنی اسماعیل ں اور آپ کے والد عبداللہ ) کا بیٹا ہوں۔ “
[اس کی کوئی اصل نہیں ۔ رسالة لطیفة لابن قدامة (23) اللولوالمرصوع (81) النخبة البھیة للسنباوی (43) ]
مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت
من صلی فی مسجدی اربعین صلاة لا یفوتہ صلاة کتبت لہ برائة من النار ونجاة من العذاب وبرئی من النفاق
” جس نے میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں چالیس نمازیں اداکیں (اور ان میں سے )کوئی ایک نماز بھی فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے آگ سے براءت اور عذاب سے نجات لکھ دی جائے گی اور وہ نفاق سے بری ہوجائے گا “ ۔
[ ضیعف : السلسلة الضعیفة (364) ]
(شيخ حسان العتيبي)
الثلاثاء، أغسطس 02، 2011
محاضرة الدكتور محمد لقمان السلفي
الاثنين، يوليو 25، 2011
وفاة والد الأخ رفيق أحمد التيمي
الاثنين، يوليو 18، 2011
وفاة والد الشيخ الفاضل صلاح الدين مقبول احمد
السبت، يوليو 16، 2011
نومسلموں کے ساتھ معاملہ كيسے كريں؟
نومسلموں کے ساتھ حسن معاملہ کیوں؟
ایسی حسین گھڑی میں خود اپنے لیے بھی ان سے دعا کی درخواست کریں ۔ اِس سے ان کے دلوں میںاسلام کی عظمت بیٹھے گی اورانہیںاللہ کی نظرمیں اپنے مقام ومرتبہ اور اپنی اہمیت کا احساس ہوگا ۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں:
”اسلام میں داخل ہونے والے کوشریعت کے سارے امورکی تلقین کردینا اور اسے بیک وقت سارے احکام کا مکلف بنادینا ممکن نہیں ، اسی طرح گناہوں سے توبہ کرنے والے ، علم دین سیکھنے والے اور رہنمائی حاصل کرنے والے کو پہلی فرصت میں دین کے سارے احکام کی تلقین کرنا اورجملہ علوم کا ذکر کردینا ممکن نہیں ، کیوں کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، جب وہ اس کی طاقت ہی نہیں رکھتے تو اس حالت میں ان پر واجب بھی نہیں ہے ، اورجب ان پر واجب نہیں تو عالم یا امیر کے لیے مناسب نہیں کہ شروع میں جملہ احکام کو ان پر واجب ٹھہرادے ۔بلکہ حق یہ ہے کہ اوامر ونواہی سے اس وقت تک ان کو معذور سمجھے جب تک کہ ان کے علم اور عمل کا مناسب وقت نہ آجائے ،جیساکہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے بیان کا وقت آنے سے پیشتر بیشمار احکامات سے لوگوں کو معذور سمجھا۔ اوریہ محرمات کے اقرار اور واجبات میں تساہل برتنے کے قبیل سے نہیں کیونکہ وجوب اور تحریم کاحکم جانکاری اور عمل کے امکان کے ساتھ مشروط ہے اور ہم نے ثابت کیا کہ یہاں یہ شرط ہی یکسرمفقود ہے۔ اس قاعدے پرخوب غورکرلوکہ یہ بہت اہمیت کا حامل ہے“۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج 20ص60)
لہذا نومسلموں کی تربیت میں تدریج کوملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے ۔ کتنے لوگ نومسلموں کے ختنہ اورنام تبدیل کرنے کے بعد قانونی دستاویز حاصل کرنے کے موضوع کواتنا اہم سمجھتے ہیں کہ پہلے ہی دن اس کا ذکر کرنے لگتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ، پہلے نومسلموں کی تربیت کی طرف دھیان دیاجائے اور ان کے عقیدے کو درست کرنے کی کوشش کی جائے ۔جب ان کے دلوںمیں اسلامی تعلیمات رچ بس جائیں گی تو خودبخود ختنہ کرانے اور پاسپورٹ پر نام تبدیل کرانے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔


