الاثنين، سبتمبر 27، 2010

مجلس کاسب سے لذیذ گوشت


تحرير: صفات عالم محمد زبیر تیمی


(وَلَا یَغتَب بَّعضُکُم بَعضاً اُيحِبُّ أَحَدُکُم أَن یَاکُلَ لَحمَ اخِیہِ مَیتاً فَکَرِہتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَّحِيم ) (سورة الحجرات 12)
ترجمہ: اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ تمہیں تو گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈروبیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
تشریح : زیرنظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے زبان کی آفات میں سے ایک خطرناک آفت غیبت سے منع کیا ہے ۔ غیبت کیا ہے ؟ ا یک مرتبہ نبي پاك صلى الله عليه وسلم نے اپنے اصحاب سے پوچھا: تم جانتے ہو غیبت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے برا لگے، لوگوں نے پوچھا : اگرمیرے بھائی میں وہ عیب ہے جو میں بیان کررہاہوں تو؟ آپ نے فرمایا: اگراس کے اندر واقعتاًوہ عیب پایا جاتا ہے تب ہی توغیبت ہے ، اگراس کے اندر وہ عیب پایا ہی نہیں جاتا تب تویہ بہتان ہے“۔ (مسلم)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ پاک نے غیبت سے روکتے ہوئے اس کی قباحت اس انداز میں بیان کی ہے جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایک ایسے انسان کا تصور جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو، مردارکاگوشت کھاناخودہی گھناونی بات ہے جس سے ہر انسانی طبیعت نفرت کرتی ہے ، پھر گوشت بھی کسی مردار جانور کا نہیں بلکہ انسان کا اور انسان بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اپنا بھائی ، تصور کریں کہ کسی کاسگا بھائی اسکے سامنے مرا پڑا ہو اوروہ اس کے گوشت کو نوچ نوچ کرکھا رہا ہو ‘ دل دہلادینے والی مثال بیان کرکے اللہ تعالی نے اس جرم کی قباحت کی طرف اشارہ کیا ہے-
لیکن صدحیف آج ہماری مجلسو ں کا سب سے لذیذ گوشت یہی سمجھا جاتا ہے ،مزے لے لے کر اپنے سگے اورمردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے اور ڈکار لگاتے ہیں،ہمیںاس میں اتنا لطف ملتاہے کہ باربارکھانے کے باوجود طبیعت نہیں اکتاتی،منہ سے مردے کا خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، گھناونی بدبو آرہی ہوتی ہے لیکن نشہ ہے کہ چھوٹے نہیں چھوٹتا ۔ العیاذ باللہ ۔ اورظاہر ہے جس کی دنیا میں ایسا ذائقہ دار گوشت کھانے کی عادت بن گئی ہو آخر آخرت میں اس سے کیونکرمحروم رکھا جائے گا لیکن وہاں تو کوئی انسان ملے گا نہیں کہ اس پر حملہ کرے ، اس لیے اپنا ہی چہرہ نوجتا پھرے گا- سنئے یہ حدیث:
”معراج کی شب میرا گذر ایک ایسی قوم سے ہوا جن کے ناخن تامبے کے تھے جن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے میں نے جبریل امین سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی غیبت کرتے تھے“۔(ابوداؤد)
حضرت صفیہ رضى الله عنها پست قد تھیں ،ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضى الله عنها نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کہہ دیاکہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لیے کافی ہے۔( مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے) نبی کریم نے فرمایا، لقد قلت کلمة لو مزجت بماءالبحر لمزحتہ۔ (ترمذی)"تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر اسے دریا کے پانی میں ملادیا جائے تو اس کی حالت کو بدل دے"۔
توآئیے آج ہی سے عہد کریں کہ ہم سب کسی صورت میں اپنے مردہ بھائی گا گوشت نہ کھائیں گے یعنی کسی کی غیبت ہرگز نہ کریں گے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین

الأربعاء، سبتمبر 22، 2010

تذكير

يقول النبي صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر" (مسلم) بشارة نبوية للصائمين ستا من شهر شوال ونحن في هذا الشهر، بالإضافة إلى ذلك أهل علينا أيام البيض التي يوافق بدايتها من هذا اليوم الموافق 22 سبتمبر 2010 فأيام البيض في هذا الشهر يوم الأربعاء والخميس والجمعة ، كما يدخل في هذه الأيام يوم الخميس ، ثلاث مناسبات إجتمعت مرة واحدة ، فرصة لمن لم يصم ستا من شوال حتى الآن أو بقيت بعضها يستغل هذه الأيام للصيام وينوي الثلاثة كلها -

ولا تنسوا المسجد البابري في دعائكم سائلين المولى عزوجل أن ينصر دينه وشعائره ويحفظ عرض نبيه من من الروافض المجرمين وأن يحرر أخواتنا من أديرة الكفار الظالمين وأن يحفظ المسجد الأقصى وأن يكشف راية النفاق وأن يدمر الصهاينة اليهود الحاقدين والشيوعيين والعلمانيين ومن عاونهم تدميرا هو ولي ذلك والقادر عليه
وفقنا الله لما يحب ويرضى ويقبل منا صالح أعمالنا آمين يا رب العالمين

الأحد، سبتمبر 19، 2010

أين نحن من هؤلاء ؟

قبل أيام جاء ني في اللجنة أخ كويتي معه غير مسلم نيبالى يرغب دخوله في الإسلام فرحبت بهما ثم توجهت إلى الأخ وسألت عن أحواله وظروفه والديانة التي يتدين بها فعرفت من خلاله أنه ولد في الأسرة الهندوسية إلا أن الكنيسة غلبت عليه فـتنصر (للمزيد إضغط هنا)

الخميس، سبتمبر 16، 2010

تعريف بجامعة الإمام ابن تيمية بمدينة السلام (الهند)

يمكن التعرف على جامعة الإمام ابن تيمية وأنشطتها بالضغظ على هذه الروابط






التعريف بمجلة "طوبى" ومجلة "الفرقان" بقلم فضيلة الشيخ ظل الرحمن التيمي 

إلحاق ومعادلة الجامعة بقلم فضيلة الشيخ سميع الله العمري 

أسلوب الجامعة والمركز التعليمي والدعوي بقلم : فضيلة الشيخ أبو القيس عبد العزيز المدني 


إنطباعات المشائخ عن الجامعة


جامعة الإمام ابن تيمية في نظر الدكتور مقتدى حسن الأزهري رحمه الله



وإنطباعات الدكتور الأزهري رحمه الله باللغة العربية يمكن قراءتها بالضغط هنا

الأربعاء، سبتمبر 15، 2010

پاکستان کے سیلاب زدگان ہماری ا مدادکے منتظرہیں


آج کل پوری دنیا میں مسلمان داخلی وخارجی مسائل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، عراق وفلسطین ،افغانستان اورکشمیر میں آئے دن مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ، مصر میں متعدد نومسلم خواتین حکومت کی صہیونیت نوازی کی بدولت قبول اسلام کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جسمانی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں، مغربی ممالک میں حجاب، قرآن اور نبی رحمت کے ساتھ کھلواڑ کوترقی پسندی اور حدود الہی کی تنفیذ کو رجعت پسندی کا نام دیا جا رہا ہے ، ہندوستان میں بابری مسجد کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ سے 24 ستمبر کو آنے والا ہے ، فیصلہ خواہ مسلمانوں کے حق میں ہو یا نہ ہو ہر دوصورت میں معاملہ نہایت سنگین اور صبر آزما ہے ، پاکستان میں ایک طرف دہشت گردی اور شدت پسندی کے حادثات نے پاکستانی قوم کوسسکیاں لینے اور آہیں بھرنے پر مجبور کردیاہے تودوسری طرف فی الوقت سب سے بڑی مصیبت بدترین سیلاب کی تباہ کاری کی صورت میں ہمارے سروں پر آئی ہوئی ہے، جس نے 80 سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے چار صوبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ آج پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے ، ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہیں، وہ کھلے آسمان تلے حسرت کی تصویربنے ہمیں دیکھ رہے ہیں، ان کے آشیانے زیر آب ہوگئے ، ان کے زراعتی اراضی دریا برد ہوگئے، ذرائع روزگار ختم ہوچکے ، سڑکیں تباہ ہوچکیں ، کتنی مائیں جگرگوشوں سے محروم ہوگئیں، کتنے بچے یتیم ہوگئے، کتنی بیویاں سروں کا تاج کھو بیٹھیں، کتنی سہاگنوں کا سہاگ لٹ گیا، کل تک وہ ہمارے ہی جیسے تمنائیں اور آرزوئیں لیے ہوئے تھے لیکن آج ان کے خوابوں کے شیش محل چکناچور ہوچکے ہیں ،الکٹرانک میڈیا جب ان کے دلدوز مناظرپیش کرتا ہے توآنکھیں اشک بارہوجاتی ہیں، تباہی ایسی ہے کہ امیر وغریب کا فرق مٹ چکا ہے، دینے والا ہاتھ لینے والا ہاتھ بن چکا ہے، غذائی اشیاءکی شدید قلت ہے، صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں، اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بانکی مون نے جب اپنے ایک روزہ دورہ میں تباہی کے مناظر دیکھے تو اعتراف کیا کہ میں نے ایسی تباہی اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھی پھر انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ سیلاب زدگان کی تعمیر نو کے لیے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ آگے آئیں ۔ پاکستان کی ساری ملی تنظمیں انسانی اور قومی ہمدردی کا ثبوت دےتے ہوئے ہرممکن تعاون کررہی ہیں، بیرون ملک سے بھی تعاون آرہا ہے لیکن تباہی اتنی شدید ہے کہ اس کی بھرپائی نہیں ہوپا رہی ہے ، سیلاب زدگان کی داد رسی ہماری اولیں ترجیح ہونی چاہیے۔ انہیں ضرورت ہے ہماری مدد کی ، ہمارے تعاون کی،ہماری ہمدردی اورغم خواری کی۔

بفضلہ تعالی ہم کویت میں برسرروزگارہیں، خوشحال وفارغ البال ہيں یا کم ازکم ہمیں بے نیازی حاصل ہے ، ہم آرام سے ایرکنڈیشن فلیٹ  میں رہ رہے ہیں، ہمیں صحت مند زندگی میسرہے ، من پسند اور مرغن غذائیں کھارہے ہیں جبکہ ہمارے ہی بھائی بہن سرچھپانے کے لیے سائبان کے محتاج ہیں ، بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ادویات کے ضرورتمند ہیں،زندہ رہنے کے لیے دو وقت کی روٹی کے احتیاج مند ہیں، ہمیں شاید اس کا شعور نہیں کہ ہماراجسم لہولہان ہے ،درد وکرب سے کراہ رہا ہے،ذراغورکیجئے اس حدیث پر:
”مسلمانوں کی مثال آپسی ہمدردی ،محبت اور رحم دلی میں ایک جسم کی مانند ہے جس کے ایک عضو کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بخار اور بے خوابی سے پورا جسم مثاتر ہوتا ہے “ (بخاری ومسلم)
اس حدیث پاک میں مسلمانوں کے مابین قائم ہونے والے تعلق کو جسد واحد سے تشبیہ دے کر واضح فرمایا گیا کہ امت مسلمہ منتشراجزاءاور مختلف اقوام کا نام نہیں بلکہ ایک ہیکل اور جسم کانام ہے ، اور ایک جسم میں ایک ہی دل اور ایک ہی روح ہوتی ہے ، اس طرح مومن کی سوچ اور اس کا ارادہ ایک ہوتا ہے ، مختلف اجسام ہونے کے باوجود ایک قالب ہوتے ہیں،اسکے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سارے اعضاء تیماردار بن کر تکلیف کا ساتھ دیتے ہیں اور بے خوابی کا شکار ہوجاتے ہیں ، ویسے ہی ایک مسلمان کو کوئی مصیبت آتی ہے یا تکلیف پہنچتی ہے تو قومیت ، رنگ ونسل اور ذات پات کی تمیز کے بغیر اسے فوری احساس ہوناچاہیے کہ اس کے جسم کا ایک عضو بیمار ہے ،اس کی تیمارداری کرے،اس کی مدد کرے ، اور اس کی مصیبت کو دور کرنے میں لگ جائے ۔
ہمارے پاس مال اللہ پاک کا عطیہ ہے ،اس نے ہمیں وقتی طو رپر اس پر ملکیت عطاکی ہے اور اس میں فقراءومساکین کا بھی حق رکھا ہے ،کل قیامت کے دن اس کی بابت پوچھ گچھ ہوگی(ترمذی) پھر صدقات وخیرات کے بے شمار فوائد بھی بتائے گئے ہیں چنانچہ صدقہ غضب الہی کو دور کرتا اور بری موت سے بچاتا ہے (ترمذی) گناہوں اور معاصی کومٹاتا ہے ( صحیح الجامع ) میدان محشر کی ہولناکی میں ہمیں سایہ کیے ہوگا (صحیح الجامع ) جبکہ کتنے لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے ، آج ہم اپنے بھائی کی مصیبت کودورکریں گے تو کل قیامت کے دن ہمارا خالق ومالک ہماری مصیبت کودور فرمائے گا (بخاری ) پھرصدقہ وخیرات کرنے سے مال میں حسی ومعنوی دونوں طرح افزائش ہوتی ہے(البقرة 274) ،کیا دنیا میں کوئی ایسا بنک ہے جو ایک کا سات سوگنا دیتاہو لیکن رب عرش عظیم کے بنک نے ہم سے ایک دینار کے بدلے سات سو دینار دینے کا وعدہ کیا ہے بلکہ بعض لوگوں کواس سے بھی زیادہ ملے گا :
”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن (کے مال) کی مثال اُس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اُگیں اورہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور اللہ جس(کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتاہے اور وہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے“۔(سورہ بقرہ 241)
ہرروز جب بندہ صبح کرتا ہے دوفرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں ، ایک کہتا ہے ”یا اللہ نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے ”اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما “ (بخاری )
اوراللہ تعالی کو کمیت سے زیادہ کیفیت مطلوب ہے ،معمولی تعاون کوبھی حقیر نہ سمجھیں ”جہنم کی آگ سے بچو گوکہ آدھی کھجور کے ذریعہ ہی سہی“ (بخاری ومسلم) ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایاتھا ”ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا“ایک شخص نے کہا:یا رسول اللہ! ایسا کیسے ہوا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: (وہ اس طرح کہ ) ایک آدمی جس کے پاس وافرمقدارمیں مال ہے اس سے ایک لاکھ نکال کر صدقہ کردیتا ہے جبکہ دوسرا شخص دو درہم کا مالک ہے اس میں سے ایک درہم صدقہ کردیتا ہے “(نسائی ، ابن ماجہ ،ابن خزیمہ،حاکم)
عزیز قاری ! یقیناً سیلاب زدگان کے لیے یہ آزمائش کی گھڑی ہے تاہم ہمارے لیے بھی آزمائش ہے کہ ہم کس قدر ان کی مدد میں ہاتھ بٹاتے ہیں ،تو آئیے ایک جسم ہونے کا ثبوت دیجئے،سیلاب زدگان کے درد کو محسوس کیجئے ،اگر آپ نے ان کی مدد کی ہے تو مزید کی ہمت کیجئے کیونکہ ان کی پریشانیاں سوا ہوتی جارہی ہیں اور اگر اب تک نہیں کی ہے تو اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق پہلی فرصت میں ان کاتعاون کیجئے ،کیا معلوم کے کل ہمیں بھی وہی دن دیکھنا پڑے جس سے آج وہ گذر رہے ہیں ۔

السبت، سبتمبر 11، 2010

كل عام وأنتم بخير

العيد جاءتنا وكيف لا تأتي وقد أنتهى شهر رمضان ، شهرالصيام والقيام ولكن الأسف الأمة الإسلامية في العالم الإسلامي بأسره في حالة بؤس وإضمحلال، في قلق واضطراب ، تحيطها من كل جانب عفريت الهم والخوف، تعاني مشاكل داخلية وخارجية، فما بال المسلين مهمومين في عراق وأفغانستان وفلسطين وكشمير؟ ألا ترى ما يحدث في فلسطين من القتل والتشريد لأهل فلسطين من قبل الصهاينة اليهود وفي مصر أخواتنا في الإسلام تعذب في السجن في بلد المسلمين من قبل الكنيسة المتعصبة وهي صابرة محتسبة حالها كـحال آسية زوجة فرعون ، وانظر حال المسلمين وبؤسهم في باكستان كيف دمرت الفيضانات بيوتهم،ولكن الجرحى والقتلى تتقاطر دمائهم يوميا إثر قنبلات إنفجارية، والسوال الذي يطرح نفسه هل المسلم يضرب أعناق المسلم في شهر رمضان المبارك وهوصائم ؟ من وراء ثلاثة إنفجارات خلال نصف ساعة في مسيرة نظمها الشيعة في غرب باكستان، وبالتالى إنفجارات في يوم فلسطين؟ أ هم مسلمون ؟ فقد شهد شاهد من أهلها و كشفت الدراسات الأمريكية حاليا أن مثل هذه الإنفجارات يتم تنفيذها من قبل سي آي أي وموساد ، لا كما يطرأ في الذهن بالبداهة إرهاب طالبان والقاعدة ، فليكن المسلم على بصيرة من أعداءه ،
هذا وإن قضية المسجد البابرى تحت المناقشة في محكمة الدستورية العليا بإله آباد وسيعلن إستحقاقه 24 من سبتمبر الجاري، لا أدرى هل الحكم يكون للمسلمين أم عليهم .
ونحن لا نملك في هذه الظروف الحرجة الا أن نتضرع إلى الله تعالى أن يحفظ الإسلام والمسلمين وأن يفرج كرب المكروبين إنه نعم المولى ونعم النصير. كل عام وأنتم بخير تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال

الأحد، أغسطس 29، 2010

فضائل العشر الأخير من شهر رمضان المبارك!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

الحمد لله العالمين وصلى الله على النبي الأمين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين وبعد:
فقد كان النبي صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الأواخر من رمضان ، ما لا يجتهد في غيرها مسلم(1175) عن عائشة ومن ذلك انه كان يعتكف فيها ويتحرى ليلة القدر خلالها البخاري (1913) ومسلم(1169) وفي الصحيحين من حديث عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم " كان إذا دخل العشر أحيا الليل وأيقظ أهله وشد مئزره " البخاري (1920) ومسلم (1174) زاد مسلم وجَدَّ وشد مئزره .
وقولها " وشد مئزره " كناية عن الاستعداد للعبادة والاجتهاد فيها زيادة على المعتاد ، ومعناه التشمير في العبادات .
وقيل هو كناية عن اعتزال النساء وترك الجماع .
وقولهم " أحيا الليل " أي استغرقه بالسهر في الصلاة وغيرها . وقد جاء في حديث عائشة الآخر رضي الله عنها : " لا أعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ القران كله في ليلة ولا قام ليلة حتى الصباح ولا صام شهرا كاملا قط غير رمضان" سنن النسائي (1641) فيحمل قولها " أحيا الليل " على أنه يقوم أغلب الليل . أو يكون المعنى أنه يقوم الليل كله لكن يتخلل ذلك العشاء والسحور وغيرهما فيكون المراد أنه يحيي معظم الليل .
وقولها : " وأيقظ أهله " أي : أيقظ أزواجه للقيام ومن المعلوم أنه صلى الله عليه وسلم كان يوقظ أهله في سائر السنة ، ولكن كان يوقظهم لقيام بعض الليل ، ففي صحيح البخاري أن النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ ليلة فقال : " سبحان الله ماذا أُنزل الليلة من الفتن ! ماذا أُنزل من الخزائن ! من يوقظ صواحب الحجرات ؟ يا رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة " البخاري (1074) وفيه كذلك أنه كان عليه السلام يوقظ عائشة رضي الله عنها إذا أراد أن يوتر البخاري (952) . لكن إيقاظه صلى الله عليه وسلم لأهله في العشر الأواخر من رمضان كان أبرز منه في سائر السنة .
وفعله صلى الله عليه وسلم هذا يدل على اهتمامه بطاعة ربه ، ومبادرته الأوقات ، واغتنامه الأزمنة الفاضلة .
فينبغي على المسلم الاقتداء بالنبي صلى الله عليه وسلم فإنه هو الأسوة والقدوة ، والجِدّ والاجتهاد في عبادة الله ، وألا يضيّع ساعات هذه الأيام والليالي ، فإن المرء لا يدري لعله لا يدركها مرة أخرى باختطاف هادم اللذات ومفرق الجماعات والموت الذي هو نازل بكل امرئ إذا جاء أجله ، وانتهى عمره ، فحينئذ يندم حيث لا ينفع الندم
ومن فضائل هذه العشر وخصائصها ومزاياها أن فيها ليلة القدر ، قال الله تعالى : ( حم . والكتاب المبين . إنا أنزلناه في ليلة مباركة إنا كنا منذرين . فيها يفرق كل أمر حكيم . أمراً من عندنا إنا كنا مرسلين . رحمة من ربك إنه هو السميع العليم ) سورة الدخان الآيات 1-6
أنزل الله القران الكريم في تلك الليلة التي وصفها رب العالمين بأنها مباركة وقد صح عن جماعة من السلف منهم ابن عباس وقتادة وسعيد بن جبير وعكرمة ومجاهد وغيرهم أن الليلة التي أنزل فيها القران هي ليلة القدر.
وقوله " فيها يفرق كل أمر حكيم " أي تقدّر في تلك الليلة مقادير الخلائق على مدى العام ، فيكتب فيها الأحياء والأموات والناجون والهالكون والسعداء والأشقياء والعزيز والذليل والجدب والقحط وكل ما أراده الله تعالى في تلك السنة .
والمقصود بكتابة مقادير الخلائق في ليلة القدر -والله أعلم - أنها تنقل في ليلة القدر من اللوح المحفوظ ، قال ابن عباس " أن الرجل يُرى يفرش الفرش ويزرع الزرع وأنه لفي الأموات " أي انه كتب في ليلة القدر انه من الأموات . وقيل أن المعنى أن المقادير تبين في هذه الليلة للملائكة .
ومعنى ( القدر ) التعظيم ، أي أنها ليلة ذات قدر ، لهذه الخصائص التي اختصت بها ، أو أن الذي يحييها يصير ذا قدر . وقيل : القدر التضييق ، ومعنى التضييق فيها : إخفاؤها عن العلم بتعيينها ، وقال الخليل بن أحمد : إنما سميت ليلة القدر ، لأن الأرض تضيق بالملائكة لكثرتهم فيها تلك الليلة ، من ( القدر ) وهو التضييق ، قال تعالى : ( وأما إذا ما ابتلاه فقدر عليه رزقه ) سورة الفجر /16 ، أي ضيق عليه رزقه .
وقيل : القدر بمعنى القدَر - بفتح الدال - وذلك أنه يُقدّر فيها أحكام السنة كما قال تعالى : ( فيها يفرق كل أمر حكيم ) . ولأن المقادير تقدر وتكتب فيها .
فسماها الله تعالى ليلة القدر وذلك لعظم قدرها وجلالة مكانتها عند الله ولكثرة مغفرة الذنوب وستر العيوب فيها فهي ليلة المغفرة كما في الصحيحين عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( من قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه ) البخاري ( 1910 ) ، ومسلم ( 760 ) .
وقد خص الله تعالى هذه الليلة بخصائص :
1- منها أنه نزل فيها القرآن ، كما تقدّم ، قال ابن عباس وغيره : أنزل الله القرآن جملة واحدة من اللوح المحفوظ إلى بيت العزة من السماء الدنيا ، ثم نزل مفصلاً بحسب الوقائع في ثلاث وعشرين سنة على رسول الله صلى الله عليه وسلم . تفسير ابن كثير 4/529 .
2- وصْفها بأنها خير من ألف شهر في قوله : ( ليلة القدر خير من ألف شهر ) سورة القدر الآية/3
3- ووصفها بأنها مباركة في قوله : ( إنا أنزلنه في ليلة مباركة ) سورة الدخان الآية 3 .
4- أنها تنزل فيها الملائكة ، والروح ، " أي يكثر تنزل الملائكة في هذه الليلة لكثرة بركتها ، والملائكة يتنزلون مع تنزل البركة والرحمة ، كما يتنزلون عند تلاوة القرآن ، ويحيطون بحِلَق الذِّكْر ، ويضعون أجنحتهم لطالب العلم بصدق تعظيماً له " أنظر تفسير ابن كثير 4/531 والروح هو جبريل عليه السلام وقد خصَّه بالذكر لشرفه .
5- ووصفها بأنها سلام ، أي سالمة لا يستطيع الشيطان أن يعمل فيها سوءا أو يعمل فيها أذى كما قاله مجاهد أنظر تفسير ابن كثير 4/531 ، وتكثر فيها السلامة من العقاب والعذاب بما يقوم العبد من طاعة الله عز وجل .
6- ( فيها يفرق كل أمر حكيم ) الدخان /4 ، أي يفصل من اللوح المحفوظ إلى الكتبة أمر السنة وما يكون فيها من الآجال والأرزاق ، وما يكون فيها إلى آخرها ، كل أمر محكم لا يبدل ولا يغير انظر تفسير ابن كثير 4/137،138 وكل ذلك مما سبق علم الله تعالى به وكتابته له ، ولكن يُظهر للملائكة ما سيكون فيها ويأمرهم بفعل ما هو وظيفتهم " شرح صحيح مسلم للنووي 8/57 .
7- أن الله تعالى يغفر لمن قامها إيماناً واحتساباً ما تقدم من ذنبه ، كما جاء في حديث أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( من صام رمضان إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه ، ومن قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه ) متفق عليه . وقوله : ( إيماناً واحتساباً ) أي تصديقاً بوعد الله بالثواب عليه وطلباً للأجر لا لقصد آخر من رياء أو نحوه . فتح الباري 4/251 .
وقد أنزل الله تعالى في شأنها سورة تتلى إلى يوم القيامة ، وذكر فيها شرف هذه الليلة وعظَّم قدرها ، وهي قوله تعالى : ( إنا أنزلناه في ليلة القدر . وما أدراك ما ليلة القدر . ليلة القدر خير من ألف شهر . تنزل الملائكة والروح فيها بإذن ربهم من كل أمر . سلام هي حتى مطلع الفجر ) سورة القدر .
فقوله تعالى : ( وما أدراك ما ليلة القدر ) تنويهاً بشأنها ، وإظهاراً لعظمتها . ( ليلة القدر خير من ألف شهر ) أي : أي إحْياؤها بالعبادة فيها خير من عبادة ثلاث وثمانين سنة ، وهذا فضل عظيم لا يقدره قدره إلا رب العالمين تبارك وتعالى ، وفي هذا ترغيب للمسلم وحث له على قيامها وابتغاء وجه الله بذلك ، ولذا كان النبي صلى الله عليه وسلم يلتمس هذه الليلة ويتحراها مسابقة منه إلى الخير ، وهو القدوة للأمة ، فقد تحرّى ليلة القدر .
ويستحب تحريها في رمضان ، وفي العشر الأواخر منه خاصة جاء في صحيح مسلم من حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ ( والقبة : الخيمة وكلّ بنيان مدوّر ) عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ قَالَ فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ وَإِنِّي أُرْيْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتْ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ . صحيح مسلم 1167
وفي رواية قال أبو سعيد : ( مطرنا ليلة إحدى وعشرين ، فوكف المسجد في مُصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فنظرت إليه ، وقد انصرف من صلاة الصبح ، ووجهه مُبتل طيناً وماء ) متفق عليه ، وروى مسلم من حديث عبد الله بن أُنيس رضي الله عنه نحو حديث أبي سعيد لكنه قال : ( فمطرنا ليلة ثلاثة وعشرين ) وفي حديث ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ألتمسوها في العشر الأواخر من رمضان في تاسعة تبقى ، في سابعة تبقى ، في خامسة تبقى ) رواه البخاري 4/260
وليلة القدر في العشر الأواخر كما في حديث أبي سعيد السابق وكما في حديث عائشة وحديث ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( تحروا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان ) حديث عائشة عند البخاري 4/259 ، وحديث ابن عمر عند مسلم 2/823 ، وهذا لفظ حديث عائشة .
وفي أوتار العشر آكد ، لحديث عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر ) رواه البخاري 4/259 .
وفي الأوتار منها بالذات ، أي ليالي : إحدى وعشرين ، وثلاث وعشرين ، وخمس وعشرين ، وسبع وعشرين ، وتسع وعشرين . فقد ثبت في الصحيحين أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر ، في الوتر ) رواه البخاري ( 1912 ) وانظر ( 1913 ) ورواه مسلم ( 1167 ) وانظر ( 1165 )
وفي حديث ابن عباس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر من رمضان ليلة القدر في تاسعة تبقى ، في سابعة تبقى ، في خامسة تبقى ) رواه البخاري ( 1917 - 1918 ) . فهي في الأوتار أحرى وأرجى إذن .
وفي صحيح البخاري عن عبادة بن الصامت قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم ليخبرنا ليلة القدر فتلاحى ( أي تخاصم وتنازع ) رجلان من المسلمين ، فقال : ( خرجت لأخبركم بليلة القدر ، فتلاحى فلان وفلان فرُفعت ، وعسى أن يكون خيراً لكم ، فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة ) البخاري ( 1919 ) . أي في الأوتار .
وفي هذا الحديث دليل على شؤم الخصام والتنازع ، وبخاصة في الدِّين وأنه سبب في رفع الخير وخفائه .
قال شيخ الإسلام ابن تيمية : ( لكن الوتر يكون باعتبار الماضي فتطلب ليلة إحدى وعشرين ، وليلة ثلاث وعشرين ، وليلة سبع وعشرين ، وليلة تسع وعشرين ، ويكون باعتبار ما بقي كما قال النبي صلى الله عليه وسلم : ( لتاسعة تبقى ، لسابعة تبقى ، لخامسة تبقى ، لثالثة تبقى ) فعلى هذا إذا كان الشهر ثلاثين يكون ذلك ليالي الأشفاع وتكون الاثنان والعشرون تاسعة تبقى ، وليلة أربع وعشرين سابعة تبقى ، وهكذا فسره أبو سعيد الخدري في الحديث الصحيح ، وهكذا أقام النبي صلى الله عليه وسلم في الشهر ، وإذا كان الأمر هكذا فينبغي أن يتحراها المؤمن في العشر الأواخر جميعه ) انتهى المقصود من كلامه رحمه الله الفتاوى 25/284،285 .)
وليلة القدر في السبع الأواخر أرجى ، ولذلك جاء في حديث ابن عمر رضي الله عنه أن رجالاً من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أروا ليلة القدر في المنام ، في السبع الأواخر ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر ، فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الأواخر ) رواه البخاري ( 1911 ) ومسلم ( 1165 ) . ولمسلم : ( التمسوها في العشر الأواخر ، فإن ضعف أحدكم أو عجز فلا يُغلبن على السبع البواقي .
وهي في ليلة سبع وعشرين أرجى ما تكون ، فقد جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم من حديث ابن عمر عند أحمد ومن حديث معاوية عند أبي داود أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ليلة القدر ليلة سبع وعشرين ) مسند أحمد وسنن أبي داود ( 1386 ) . وكونها ليلة سبع وعشرين هو مذهب أكثر الصحابة وجمهور العلماء ، حتى أبيّ بن كعب رضي الله عنه كان يحلف لا يستثني أنها ليلة سبع وعشرين ، قال زر ابن حبيش : فقلت : بأي شيء تقول ذلك يا أبا المنذر ؟ قال : بالعلامة ، أو بالآية التي أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أنها تطلع يومئذ لا شعاع لها . رواه مسلم 2/268
وروي في تعيينها بهذه الليلة أحاديث مرفوعة كثيرة .
وكذلك قال ابن عباس رضي الله عنه : ( أنها ليلة سبع وعشرين ) واستنبط ذلك استنباطاً عجيباً من عدة أمور ، فقد ورد أن عمر رضي الله عنه جمع الصحابة وجمع ابن عباس معهم وكان صغيراً فقالوا : إن ابن عباس كأحد أبنائنا فلم تجمعه معنا ؟ فقال عمر : إنه فتى له قلب عقول ، ولسان سؤول ، ثم سأل الصحابة عن ليلة القدر ، فأجمعوا على أنها من العشر الأواخر من رمضان ، فسأل ابن عباس عنها ، فقال : إني لأظن أين هي ، إنها ليلة سبع وعشرين ، فقال عمر : وما أدراك ؟ فقال : إن الله تعالى خلق السموات سبعاً ، وخلق الأرضين سبعاً ، وجعل الأيام سبعاً ، وخلق الإنسان من سبع ، وجعل الطواف سبعاً ، والسعي سبعاً ، ورمي الجمار سبعاً . فيرى ابن عباس أنها ليلة سبع وعشرين من خلال هذه الاستنباطات ، وكأن هذا ثابت عن ابن عباس .
ومن الأمور التي استنبط منها أن ليلة القدر هي ليلة سبع وعشرين : أن كلمة فيها من قوله تعالى : ( تنزل الملائكة والروح فيها ) هي الكلمة السابعة والعشرون من سورة القدر .
وهذا ليس عليه دليل شرعي ، فلا حاجة لمثل هذه الحسابات ، فبين أيدينا من الأدلة الشرعية ما يغنينا .
لكن كونها ليلة سبع وعشرين أمر غالب والله أعلم وليس دائماً ، فقد تكون أحياناً ليلة إحدى وعشرين ، كما جاء في حديث أبي سعيد المتقدّم ، وقد تكون ليلة ثلاث وعشرين كما جاء في رواية عبد الله بن أُنيس رضي الله عنه كما تقدّم ، وفي حديث ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر من رمضان في تاسعة تبقى ، في سابعة تبقى ، في خامسة تبقى ) رواه البخاري 4/260) .
ورجّح بعض العلماء أنها تتنقل وليست في ليلة معينة كل عام ، قال النووي رحمه الله : ( وهذا هو الظاهر المختار لتعارض الأحاديث الصحيحة في ذلك ، ولا طريق إلى الجمع بين الأحاديث إلا بانتقالها ) المجموع 6/450 .
وإنما أخفى الله تعالى هذه الليلة ليجتهد العباد في طلبها ، ويجدّوا في العبادة ، كما أخفى ساعة الجمعة وغيرها .
فينبغي للمؤمن أن يجتهد في أيام وليالي هذه العشر طلباً لليلة القدر ، اقتداء بنبينا صلى الله عليه وسلم ، وأن يجتهد في الدعاء والتضرع إلى الله .
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قلت : يا رسول الله أرأيت أن وافقت ليلة القدر ما أقول ؟ قال : قولي : ( اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني ) رواه الإمام أحمد ، والترمذي (3513) ، وابن ماجة (3850) وسنده صحيح .
ثالثاً : اختصاص الاعتكاف فيها بزيادة الفضل على غيرها من أيام السنة ، والاعتكاف لزوم المسجد لطاعة الله تعالى ، وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف هذه العشر كما جاء في حديث أبى سعيد السابق أنه اعتكف العشر الأول ثم الوسط ، ثم أخبرهم انه كان يلتمس ليلة القدر ، وانه أريها في العشر الأواخر ، وقال : ( من كان اعتكف معي فليعتكف العشر الأواخر ) وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله تعالى ، ثم اعتكف أزواجه من بعده متفق عليه ولهما مثله عن ابن عمر .
وكان صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يعتكف صلى الفجر ثم دخل معتكفه كما جاء في الصحيحين من حديث عائشة .
وقال الأئمة الأربعة وغيرهم رحمهم الله يدخل قبل غروب الشمس ، وأولوا الحديث على أن المراد أنه دخل المعتكف وانقطع وخلى بنفسه بعد صلاة الصبح ، لا أن ذلك وقت ابتداء الاعتكاف ، انظر شرح مسلم للنووي 8/68،69 ، وفتح الباري 4/277 . ويسن للمعتكف الاشتغال بالطاعات ، ويحرم عليه الجماع ومقدماته لقوله تعالى : ( ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد ) سورة البقرة /177 .
ولا يخرج من المسجد إلا لحاجة لا بد منها .
العلامات التي تعرف بها ليلة القدر :
العلامة الأولى : ثبت في صحيح مسلم من حديث أبيّ بن كعب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر أن من علاماتها أن الشمس تطلع صبيحتها لا شُعاع لها . مسلم ( 762 )
العلامة الثانية : ثبت من حديث ابن عباس عند ابن خزيمة ، ورواه الطيالسي في مسنده ، وسنده صحيح أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ليلة القدر ليلة طلقة ، لا حارة ولا باردة ، تُصبح الشمس يومها حمراء ضعيفة ) صحيح ابن خزيمة ( 2912 ) ومسند الطيالسي .
العلامة الثالثة : روى الطبراني بسند حسن من حديث واثلة بن الأسقع رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( ليلة القدر ليلة بلجة " أي مضيئة " ، لا حارة ولا باردة ، لا يرمى فيها بنجم " أي لا ترسل فيها الشهب " ) رواه الطبراني في الكبير انظر مجمع الزوائد 3/179 ، مسند أحمد .
فهذه ثلاثة أحاديث صحيحة في بيان العلامات الدالة على ليلة القدر .
ولا يلزم أن يعلم من أدرك وقامها ليلة القدر أنه أصابها ، وإنما العبرة بالاجتهاد والإخلاص ، سواء علم بها أم لم يعلم ، وقد يكون بعض الذين لم يعلموا بها أفضل عند الله تعالى وأعظم درجة ومنزلة ممن عرفوا تلك الليلة وذلك لاجتهادهم . نسأل الله أن يتقبّل منا الصيام والقيام وأن
يُعيننا فيه على ذكره وشُكْره وحُسْن عبادته . وصلى الله على نبينا محمد
(منقول)

أشهى لحوم العصر== لحوم البشر!!!!!!!!!!!!!!!!

لا تطيب مجالس الناس اليومَ إلا بتناول وجبةٍ دسمة من لحم أحد المسلمين، ينهش الجالسون في لحم هذا الشخص،كلٌّ منهم يتناول قطعةً منه، فلا يشبعون ولا يملُّون من تَكرار تناولها كُلَّما اجتمعوا، حتَّى أصبحت رائحة الغِيبة المنتنة تفوح من المجالس.
فإلى مَن أدمنواأكل لحوم البشر أقول:إنَّ الغيبة مرض خطير،وداء فتاك،وسلوك يُفرق بين الأحباب، وقد نهانا الله - تعالى - عن الغيبة؛ فقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ} [الحجرات: 12].
والغيبة كما قال النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -:((ذكرك أخاك بما يكره ولو كان فيه)،قيل:يا رسول الله، إن كان في أخي ما أقول؟ قال: ((إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهتَّه)،وما يكرهه الإنسان يتناول خَلْقَه وخُلُقه ونسبه، وكل ما يخصه.
وعن عائشة - رضي الله عنها - قالت: قلت للنبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -: حسبك من صفية كذا وكذا – تعني: أنَّها قصيرة - فقال النَّبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لقد قلت كلمة لو مزجت بماءِ البحر لمزجته))؛ أي: خالطته مُخالطة يتغيَّر بها طعمه أو ريحه؛ لشدَّة قبحها.
والغيبة من كبائرِ الذُّنوب، وهي مُحرمة بإجماع المسلمين؛ فقد قال - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((كل المسلم على المسلم حرام: ماله وعرضه ودمه))
وعن سعيد بن زيد - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - قال: ((إنَّ مِن أرْبَى الرِّبا الاسْتِطالَةَ في عِرْضِ المُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقّ)).
والقائل والمستمع للغيبة سواء؛ قال عتبة بن أبي سفيان لابنه عمرو: "يا بني، نزِّه نفسك عن الخنا، كما تُنَزِّه لسانك عن البذا؛ فإنَّ المستمع شريك القائل".
لذلك لا تعجب حين تَجد القرآن الكريم يصوِّر الغيبة في صورة مُنفرة،تتقزز منهاالنفوس،وتنبو عنها الأذواق؛ قال تعالى: {أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ} [الحجرات: 12]، فشبَّه أكل لحمه ميتًا المكروه للنُّفُوس غاية الكراهة باغتيابه، فكماأنَّ الناس يكرهون أكلَ لحمه،وخصوصًاإذا كان ميتًا، فكذلك فليكرهواغيبته،وأكل لحمه حيًّا؛ قال السعدي - رحمه الله -: "وفي هذه الآية دليل على التحذير الشديد من الغيبة، وأنَّ الغيبة من الكبائر؛ لأنَّ الله شبههابأكل لحم الميت، وذلك من الكبائر". اهـ.
فمثل المغتاب كمثل الكلب، فالكلبُ هو الحيوان الوحيد الذي يأكلُ لحمَ أخيه بعد موته.
والمغتاب يُعذب في قبره بأن يخمش وجهه بأظفاره،حتَّى يسيل منه الدَّم، ففي ليلة المعراج مرَّ النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم - بقومٍ لهم أظفارٌ من نحاس يخمشون بها وجوههم وصدورهم، فقال: ((من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس ويقعون في أعراضهم)).
وعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ فَقَالَ: ((يَا مَعْشَرَ مَنْ قَدْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ، لاَ تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلاَ تُعَيِّرُوهُمْ، وَلاَ تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ؛ فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ)).
قال عمر بن الخطاب - رضي الله عنه-:"عليكم بذكر الله؛ فإنَّه شفاء،وإيَّاكم وذكرَ الناس فإنه داء".
وقال الحسن البصري - رحمه اللَّه -: "والله، للغيبة أسرع في دين الرَّجل من الأكِلَةِ في الجسد".
وعن الحسن البصري - رحمه اللَّه - أنَّ رجلاً قال له: إنَّك تغتابني فقال: ما بلغَ قدرُك عندي أنْ أحكِّمَكَ في حسناتي.
وقال ابن المبارك - رحمه اللَّه -: "لو كنتُ مُغتابًا أحدًا، لاغتبتُ والديَّ؛ لأنَّهما أحقُّ بحسناتي".
حصائد اللسان هلاك الإنسان
مما لا شكَّ فيه أن اللسان هو الذي يقود إلى هذه العظائم من الآثام والذُّنوب؛ فعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِىِّ - صلَّى الله عليه وسلَّم - فِي سَفَرٍ، فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ، وَنَحْنُ نَسِيرُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِىَّ اللَّهِ، أَخْبِرْنِى بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِى الْجَنَّةَ، وَيُبَاعِدُنِى مِنَ النَّارِ، قَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِى الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ - ثُمَّ قَالَ -: أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَصَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ))، ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَهُ - تَعَالَى -: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: 16]، حَتَّى بَلَغَ {يَعْمَلُونَ}، ثُمَّ قَالَ: ((أَلاَ أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟))، فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ((رَأْسُ الأَمْرِ وَعَمُودُهُ: الصَّلاَةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ: الْجِهَادُ))، ثُمَّ قَالَ: ((أَلاَ أُخْبِرُكَ بِمِلاَكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟))، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى يَا نَبِىَّ اللَّهِ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ: ((كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا))، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ، فَقَالَ: ((ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ - أَوْ قَالَ: عَلَى مَنَاخِرِهِمْ - إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ)).
وحصائدُ اللسان: أقواله المحرمة،وهي أنواع كثيرة، فمنها ما يُوصل إلى الكفر، ومنها دون ذلك، فالاستهزاء بالله ودينه، وكتابه ورسله وآياته، وعباده الصالحين فيما فعلوا من عبادة ربِّهم، كلُّ هذا كُفر بالله، ومخرج عن الإيمان، وهو من حصائد اللِّسان، والكذب والغيبة والنميمة، والفحش والسب واللعن، كُلُّ هذا من حصائد اللسان؛ قال - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((إنَّ الله ليبغض الفاحش البذيء)).
قال الحافظ ابن رجب: "والمرادُ بحصائد الألسنة: جزاءُ الكلام المحرَّم وعقوباته، فإنَّ الإنسان يزرع بقوله وعمله الحسنات والسيئات، ثُمَّ يحصد يوم القيامة ما زرع، فمن زرع خيرًا من قولٍ أو عملٍ، حَصَد الكرامة، ومن زرع شرًّا من قولٍ أو فعل، حَصَد النَّدامة، وهذا يدلُّ على أنَّ كف اللسان وضبطه وحبسَه هو أصل الخير كلِّه، وأنَّ من ملك لسانه، قد ملك أمره وأحكمه وضبطه". اهـ.
وجاء عند الطبراني وحسنه الألباني عن أبي ذر - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((عليك بطول الصَّمت، إلاَّ مِن خير؛ فإنَّه مَطردة للشيطان عنك، وعون لك على أمر دينك)).
فيَجبُ على كل مسلم أنْ يصونَ لسانه ويحفظه، وألاَّ يطلق له العنان، فلا يسمح لنفسه أن يتكلم بغير ما هو حق وخير ومعروف، وأن يكفَّ لسانه عما هو باطل وشر ومنكر؛ قال تعالى: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} [ق: 18]، وقال - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيرًا أو ليصمت)).
قال النَّووي في "الأذكار": فهذا الحديث المتفق على صحته نصٌّ صريح في أنَّه لا ينبغي أن يتكلم إلاَّ إذا كان الكلامُ خيرًا، وهو الذي ظهرت له مصلحته، ومتى شكَّ في ظهور المصلحة، فلا يتكلم.
قال الإِمام الشافعي - رحمه اللَّه -: إذا أراد الكلام، فعليه أنْ يفكر قبل كلامه، فإن ظهرت المصلحة، تكلَّم، وإن شكَّ لم يتكلم حتى تظهر. اهـ.
وعن عقبة بن عامر - رضي الله عنه - قال: قلتُ: يا رسولَ اللّه، ما النجاة؟ قال: ((أمْسِكْ عَلَيْكَ لِسانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ على خَطِيئَتِكَ))،
وعن سهل بن سعد قال: سمعت رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - يقول: ((مَنْ يَضْمَنْ لي ما بينَ لَحْيَيْهِ وَما بينَ رِجْلَيْهِ، أضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ)).
فالمؤمنُ الصادق الإيمان بالله ولقائه لا يتكلم إلاَّ إذا كان الكلام خيرًا، أمَّا إذا كان الكلام شرًّا فلا يتكلم؛ فعن أبي هريرة - رضي الله عنه -: أنَّ النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم - قال: ((إنَّ العبدَ ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يُلقي لها بالاً يرفعه الله بها درجات،وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالاً يهوي بها في جهنم)).
وقد سُئل - صلَّى الله عليه وسلَّم -: أيُّ المسلمين خيرٌ؟ قال: ((مَن سَلِمَ المُسلمون من لسانه ويده)) وقال - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا يستقيمُ إيمانُ عبدٍ حتَّى يستقيم قلبه، ولا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه، ولا يدخل رجل الجنَّة لا يأمن جاره بوائقه)).
وقدأخذ ابنُ عباس بلسانه،وقال له:"اسكت تغنم، واسكت عن سوءٍ تسلم، وإلاَّ فاعلم أنك ستندم"،
وفي روايةعن أبي وائلٍ: أن عبدالله - رضي الله عنه - ارتقى الصَّفا، فأخذَ بلسانِه فقال: "يا لسانُ، قُلْ خيرًا تَغْنَمْ، واسْكُتْ عن شرٍّ تسْلَم، مِن قَبْلِ أنْ تَنْدَمَ"، ثُمَّ قال: سمعتُ رسولَ الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - يقول: ((أكثرُ خطايا ابنِ آدَم في لسانه)).
وكان ابنُ مسعود يقول: "والله الذي لا إله إلا هو،لا يوجد في هذا الكون شيء أحق بطول حبس من لسان".
وقال الإِمامُ الشافعيُّ - رحمه اللَّه - لصاحبه الرَّبِيع: "يا ربيعُ، لا تتكلم فيما لا يعنيك، فإنك إذا تكلَّمتَ بالكلمة، ملكتكَ ولم تملكها".
لذلك ما من يوم تصبح الأعضاءإلاَّ وهي تُخاطب اللسان، وتقول له: "اتقِّ الله فينا؛ فإنما نحن بك، فإن استقمت استقمنا، وإن اعوججت اعوججنا".
قال ابنُ القيم - رحمه الله -: "ومن العجب أنَّ الإنسانَ يهون عليه التحفظ والاحتراز من أكل الحرام والظلم والزِّنا، والسرقة وشرب الخمر، ومن النظر المحرم وغير ذلك، ويصعب عليه التحفظ من حركة لسانه، حتَّى ترى الرجل يُشار إليه بالدِّين والزُّهد والعبادة، وهو يتكلم بالكلمات من سخطِ الله لا يلقي لها بالاً، يزل بالكلمة الواحدة منها أبعد مما بين المشرق والمغرب، وكم ترى من رجلٍ مُتورع عن الفواحش والظلم، ولسانه يفري في أعراض الأحياء والأموات، ولا يبالي ما يقول". اهـ.].
احْفَظْ لَسَانَكَ أيُّهَا الإِنْسَانُ *** لاَ يَلْدَغَنَّكَ إِنَّهُ ثُعْبَانُ
كَمْ فِي الْمَقَابِرِ مِنْ قَتِيلِ لِسَانِهِ *** قَدْ كَانَ هَابَ لِقَاءَهُ الشُّجْعَانُ
كفارة الغِيبة
الغيبة من الكبائر، وليس لها كفارة إلاَّ التوبة النصوح، وهي من حقوق الآدميين، فلا تصح التوبة منها إلاَّ بأربعة شروط، هي:
1 - الإقلاع عنها في الحال.
2 - الندم على ما مضى منك.
3 - العزم على ألاَّ تعود.
4 - استسماح من اغتبته إجمالاً أو تفصيلاً، وإن لم تستطع، أو كان قد مات أو غاب، تكثر له من الدعاء والاستغفار.
هل يجب على صاحب الحق أن يُسامح؟
لا يَجب عليه ذلك، ولكن يُستحب له، فإنْ شاءَ سامح، وإن شاء لم يُسامح. وكان بعض السَّلف لا يُحلل أحدًا اغتابه.
قال سعيد بن المسيب - رحمه الله -: "لا أحلل من ظلمني".
وقال ابن سيرين - رحمه الله -: "إنِّي لم أحرمها عليه، فأحللها له، إنَّ اللهَ حرم الغيبة عليه، وما كنت لأحلل ما حرَّم الله أبدًا".
ولا شكَّ أنَّ العفو أفضلُ، فهو سبيل المحسنين، فكن كبيرًا وانس الماضي، فالحياة أقصر من أن ندنسها بالحقد والضَّغينة.
قال النووي في "الأذكار": يُستحبُّ لصاحب الغِيبة أن يبرئه منها، ولا يجبُ عليه ذلك؛ لأنه تبرُّعٌ وإسقاطُ حقٍّ، فكان إلى خِيرته؛ ولكن يُستحبُّ له استحبابًا متأكدًا الإِبراء؛ ليُخلِّصَ أخاه المسلم من وبال هذه المعصية، ويفوزَ هو بعظيم ثواب اللَّه - تعالى - في العفو ومَحبة اللَّه - سبحانه وتعالى - قال اللَّه - تعالى -: {وَالكاظِمِينَ الغَيْظَ وَالعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهِ يُحِبُّ المُحْسِنِينَ} [آل عمران: 134]، وقال تعالى: {وَلمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِن ذلكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ} [الشورى: 43].اهـ.
قِيلَ لِي قَدْ أَسَاءَ فِيكَ فُلانٌ *** ومُقَامُ الْفَتَى عَلَى الذُّلِّ عَارُ
قُلْتُ قَدْ جَاءَنَا وَأَحْدَثَ عُذْرًا *** دِيَةُ الذَّنْبِ عِنْدَنَا الاعْتَذَارُ
أسباب الغيبة وبواعثها
قال الغزالي - رحمه الله -: للغيبة أسباب وبواعث، وفيما يلي خُلاصتها:
- شفاء المغتاب غَيظَهُ بذكر مساوئ مَن يغتابه.
- مجاملة الأقران والرِّفاق، ومُشاركتهم فيما يَخوضون فيه من الغيبة.
- ظن المغتاب في غيره ظنًّا سيئًا مدعاة إلى الغيبة.
- أن يبرئ المغتاب نفسَه من شيء، وينسبه إلى غيره، أو يذكر غيره بأنَّه مُشارك له.
- رفع النَّفس وتزكيتها بتنقيص الغَيْر.
- حسد من يثني عليه النَّاس ويذكرونه بخير.
- الاستهزاء والسخرية وتحقير الآخرين.
الحالات التي تجوز فيها الغيبة
هناك صُور استثناها علماءالإسلام من الغيبة، ويَجب الاقتصار في هذاالاستثناءعلى الضرورة،ولا إثم في ذلك، وأكثرُ هذه الأسباب مُجمع على جواز الغيبة بها.
قال النووي:اعلم أنَّ الغيبةَ وإن كانت محرمة، فإنَّها تباحُ في أحوال للمصلحة؛ وعدَّد هذه الأسباب:
أولاً: التظلُّم؛ أي: إنَّه يجوزُ للمتظلم أنْ يقولَ: فَعَل بي فلان كذا وكذا لمن يتظلم إليه.
ثانيًا: يجوز في حالة الاستعانة في تغيير المنكر وردِّ العاصي إلى الصواب، فيقول لمن يرجو قدرته على إزالة المنكر: فلان يعملُ كذا فازجرْه عنه.
ثالثًا: الاستفتاء؛ بمعنى: أنْ يذهبَ المستفتي إلى المفتي، فيقول: لقد ظلمني فلان بكذا أو كذا، فماذا أفعلْ لرد الظُّلم عن نفسي، والأسلم التعريض بأنْ يقولَ: ما قولك في رجل ظلمه أخوه،وإن كان التعيين مُباحًا بقدر الحاجة،والدليل على ذلك: أنَّ هند زوجة أبي سفيان شكَت للنبي - صلَّى الله عليه وسلَّم - أنَّ سفيان رجل شحيح لا يعطيها ما يَكفيها وولدها، فهل تأخذ منه بغير علمه، فأذن لها النبيُّ أن تأخذ بالمعروف، فلأن النبيَّ لم يزجرْها فلا يُعدُّ ذلك غِيبة.
رابعًا: تحذير المسلمين من الوقوع في أيِّ شر، كأن يقول فلان مبتدع، وذلك للنصح، وكذلك جرح المجروحين من الرُّواة للحديث، وكذلك المشاورة في مصاهرة إنسان أو مُحاورته.
خامسًا: تجوز غيبة الفاسق الذي اشتهر بفسقه، كالمجاهر بشرب الخمر؛ قال عمر بن الخطاب - رضي الله عنه -: "ليس لفاجر حُرمة"؛ وأراد به المجاهر بفسقه دون المستتر.
وقال الصلت بن طريف: قلت للحسن: الرجل الفاسق المعلن بفجوره، ذكري له بما فيه غيبة؟ قال الحسن: لا، ولا كرامة.
سادسًا: التعريف، فإذا كان معروفًا بلقب؛ كالأعمش والأعرج ونحوها، جاز تعريفه بها، ويحرم ذكره بها تنقصًا، ولو أمكنَ التعريفُ بغيره كان أَوْلى؛ ولذلك يقال للأعمى: البصير؛ عدولاً عن اسم النقص. اهـ.
وقال ابن كثير: الغيبة مُحرمة بالإجماع، ولا يستثنى من ذلك إلاَّ ما رجحت مصلحته، كما في الجرح والتعديل والنَّصيحة؛ كقوله - صلَّى الله عليه وسلَّم - لما استأذن عليه ذلك الرجل الفاجر: ((ائذنوا له، بئس أخو العشيرة))، وكقوله لفاطمة بنت قيس - وقد خطبها مُعاوية وأبو الجهم -: ((أما معاوية فصعلوك، وأمَّا أبو الجهم، فلا يضع عصاه عن عاتقه))، وكذا ما جرى مجرى ذلك. اهـ]
الذَّمُّ لَيْسَ بِغِيبَةٍ فِي سِتَّةٍ *** مُتَظَلِّمٍ وَمُعَرِّفٍ وَمُحَذِّرِ
وَلِمُظْهِرٍ فِسْقًا وَمُسْتَفْتٍ وَمَنْ *** طَلَبَ الْإِعَانَةَ فِي إِزَالَةِ مُنْكَرِ
لحوم العلماء مسمومة
ومن أشد أنواع الغيبة: الخوض في أعراض العلماء، فعلماء المسلمين لهم احترامهم ومكانتهم، وينبغي التعامُل معهم بكل أدب واحترام، فالطَّعن في أهل العلم والانتقاص منهم غير جائز شرعًا، ولا يحقُّ لأحدٍ مهما كان أنْ يتناول العلماء بلسانه، وإنْ صدرت عنهم آراء مُجانبة للحق والصواب، فالخطأ قد لا ينقص من مَنزلة العالم عند الله، ولا يُحل لنا دمه ولا عرضه، وكل يؤخذ منه ويُرد عليه إلا المعصوم - صلَّى الله عليه وسلَّم.
قال الحافظ ابن عساكر: "اعلم يا أخي - وفقني الله وإياك لمرضاته، وجعلني وإيَّاك ممن يخشاه ويتقيه حق تقاته - أنَّ لحومَ العلماء مَسمومة، وعادة الله في هتك أستار منتقصيهم معلومة، وأنَّ من أطلق لسانه في العلماء بالثلب، ابتلاه الله قبل موته بموت القلب"؛ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [النور: 63]. اهـ.
وقال الشيخ أبو إسحاق الحويني في مُحاضرة له بعنوان: "عظم ذنب من تنقَّص أحدًا من الأنبياء": "لقد اشتهر عند العلماء والعامَّة قولٌ، وهو: "إنَّ لحوم العلماء مسمومة"، ومعنى هذا: أنه إذا حَرُم على الإنسان أنْ يغتابَ أخاه المسلم، أو يأكل لحمه، فلا شك أنَّ حرمة العالم أجلُّ من حرمة المسلم مطلقًا؛ لأنَّه جمع الإسلام والعلم، فهو يزيد على الرجل العامي بدرجة العلم، ولأن منصبَ العلماء بين الناس هو كمنصب الرَّسول؛ لأنَّ النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال: ((إنَّ الأنبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا، ولكن ورَّثوا العلم))، والعلماء هم ورثة الأنبياء، وهم الذين يبلغون رسالاتِ الله، فيجبُ أنْ تصانَ أعراضهم؛ لأنَّ النيلَ من عِرْض العالم قد يضر بدعوته؛ لذلك كان لحمه مسمومًا، وقلَّما تجد رجلاً طعن فيه أو نالَ منه إلاَّ هتكه الله - عزَّ وجل". اهـ.
وأما بيان خطأ العالم - إن أخطأ - فهذه مسألة تزلُّ فيها الأقدام، فقد تختلط الغيبة ببيان الحقِّ، فعلى طالبِ العلم أنْ يبين الخطأ دونما تجاوز، وذلك بالتزام أدب الرَّدِّ، فإن العلماء لم يزل يرد بعضُهم على بعض وكتبهم مملوءة بذلك.
مجالس الغيبة
الواجب على الإنسان إذا سمع أحدًا يغتاب غيره أنْ ينكرَ عليه وينصحه، ويخبره أنَّ هذا لا يجوز، وأن الغيبة محرمة؛ لقول النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((من ردَّ عن عرض أخيه بالغيب، رَدَّ الله عن وجهه النار يوم القيامة))؛ ولقوله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((ما من امرئ يخذل مُسلمًا في موضع تنتهك فيه حُرمته، وينتقص فيه من عِرضه إلاَّ خَذَلَه الله في موضع يُحب فيه نصره))، ولقوله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((مَن حَمَى مؤمنًا من مُنافق - أراه قال -: بعث الله - تعالى - مَلَكًا يَحمي لحمه يوم القيامة من نار جهنم، ومَن رمى مسلمًا بشيء يريد شيْنه، حبسه الله على جِسْرِ جهنم حتَّى يخرج مما قال))،.
وقد دافع مُعاذ بن جبل عن كعب بن مالك حين ذمَّه رجل من بني سلمة في مجلس رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - وأقر النبي فعل معاذ.
أمَّا إذا لم يستطعْ الإنسانُ الإنكارَ، أو لم يستجب له أحد، فيجب عليه في هذه الحالة مفارقة المغتاب وعدم الجلوس معه؛ وذلك لقول الله - تعالى -:{وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [الأنعام: 68]، وقوله - عز وجل -: {وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ} [النساء: 140]، وقول النبي - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((مَن رأى منكم منكرًا، فليغيره بيده، فإنْ لم يستطع فبلسانه، فإنْ لم يستطع، فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان)).
روى الأوزاعي أنَّ عمر بن عبدالعزيز قال لجلسائه: "مَن صحبني مِنكم، فَليصحبني بخمس خصال: يدلُّني من العدل إلى ما لا أهتدي إليه، ويكون لي على الخير عونًا، ويبلغني حاجة من لا يستطيع إبلاغها، ولا يغتاب عندي أحدًا، ويُؤدي الأمانةَ التي حملها بيني وبين الناس، فإذا كان ذلك فحيَّهلا، وإلاَّ فقد خرج عن صحبتي والدخول عليّ".
وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا يبلِّغني أحد عن أحد من أصحابي شيئًا؛ فإني أحب أن أخرج إليهم، وأنا سليم الصدر)).
قال ابنُ عباس: قال لي أبي: "إنِّي أرى أميرَ المؤمنين – يعني: عمر - يدنيك ويقرِّبك، فاحفظ عني ثلاثًا: إياك أن يجرِّب عليك كذبة، وإيَّاك أنْ تُفشي له سرًّا، وإياك أن تغتاب عنده أحدًا".
وَسَمْعَكَ صُنْ عَنْ سَمَاعِ الْقَبِيحِ *** كَصَوْنِ اللِّسَانِ عَنِ النُّطْقِ بِهْ
فَإِنَّكَ عِنْدَ سَمَاعِ الْقَبِيحِ *** شَرِيكٌ لِقَائِلِهِ فَانْتَبِهْ
من أضرار الغيبة
1 - صاحب الغيبة يعذَّب في النَّار، ويأكل النتن والقذر.
2 - ينال عقاب الله في قبره.
3 - تُذهب أنوار إيمانه وآثار إسلامه.
4 - لا يُغفر له حتى يعفو عنه المغتاب.
5 - الغيبة مِعول هدام وشر مُستطير.
6 - الغيبة تؤذي وتضر وتجلب الخصام والنفور.
7 - الغيبة مرض اجتماعي يقطع أواصرَ المحبة بين المسلمين.
8 - الغيبة دليل على خِسَّةِ المغتاب ودناءة نفسه.
علاج الغيبة، هل من دواء؟
لكي تتخلص من هذا المرض الخطير، عليك بالعلم والعمل، بأنْ تعلمَ أنك ستتعرض لسخط الله - تعالى - يوم القيامة بإحباطِ عملك، وإعطائك حسناتك مَن اغتبته في الدُّنيا حتَّى تصلَ إلى درجة الإفلاس، وذلك في يوم تكون أحوج إلى حسنة واحدة تخرج بها من النار وتدخل الجنة، واسأل نفسك: هل تحب أنْ يغتابَك أحد ويستهزئ بك؟ بالطبع: لا، فعاملِ الناس بما تحب أن يعاملوك به، وإذا حدثتك نفسك باغتياب أحد المسلمين، ففتش في نفسك، فستجد فيها من العيوب أكثر مما تريد أن تقولَ عن أخيك المسلم، واستحضر ما سَبَقَ ذكره من أحاديث وأخبار في ذم الغيبة.
وقال الشاعر:
يُشَارِكُكَ الْمُغْتَابُ فِي حَسَنَاتِهِ *** وَيُعْطِيكَ أَجْرَيْ صَوْمِهِ وَصَلاَتِهِ
وَيَحْمِلُ وِزْرًا عَنْكَ ضَنَّ بِحَمْلِهِ *** عَنْ النَّجْبِ مِنْ أَبْنَائِهِ وَبَنَاتِهِ
فَكَافِئْهُ بِالْحُسْنَى وَقُلْ رَبِّ جَازِهِ *** بِخَيْرٍ وَكَفِّرْ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
فَيَا أَيُّهَا الْمُغَتَابُ زِدْنِي فَإِنْ بَقِي *** ثَوَابُ صَلاَةٍ أَوْ زَكَاةٍ فَهَاتِهِ
وأخيرًا: أخي القارئ الكريم:
لِمَ تعطي حسناتك لمن تغتابه، بل وتتحمل من سيِّئاته إذا فنيت حسناتك؟! فَكِّرْ جَيِّدًا، وكن بطلاً من الآن، واعزم على أن تترك مجالسَ الغِيبة فإنَّها مجالس سوء، واعْزم على أنْ تتركَ هذه العادة السيئة التي تُودي بصاحبها إلى النار، فأنا مشفق عليك من أن تكون من حَصَبِ جهنم، دع ذكر مساوئ إخوانك، واذْكُر محاسنهم، واشتغل بعيب نفسك.
أسأل الله - تعالى - بأسمائه الحسنى وصفاته أنْ يُطهِّر ألسنتنا وجوارحنا من كلِّ ما يكره، وأن يُجمِّلها بكل ما يحب، وأن يجعل هذا العمل خالصًا لوجهه الكريم، وأن ينفع به المسلمين، إنه ولي ذلك والقادر عليه.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه والتابعين لهم بإحسان إلى يوم الدين.

الاثنين، أغسطس 16، 2010

مسابقة التعريف بالإسلام للبحوث الدعوية

تعلن إدارة الشئون الدعوية في لجنة التعريف بالإسلام بدولة الكويت عن بدأ مسابقة التعريف بالإسلام للبحوث الدعوية برعاية كريمة من السيد/ فهد سند العجمي والمسابقة يمكن المشاركة فيها للأخوة داخل الكويت و خارج الكويت من أهل العلم الشرعي خاصة
لمزيد من المعلومات برجاء زيارة رابط المسابقة على موقع لجنة التعريف بالإسلام