الخميس، نوفمبر 17، 2016

خانہ كعبہ پر حوثيوں كانا كام حملہ، منظر اورپس ومنظر


بسم الله الرحمن الرحيم
خانہ كعبہ پر حوثيوں كانا كام حملہ
 منظر اورپس ومنظر
ازقلم:       ڈاكٹر محمد يوسف حافظ ابوطلحہ                      

استاذ جامعہ محمديہ منصوره، ماليگاؤں

۲۶محرم الحرام ۱۴۳۸ھ  مطابق ۲۷  اكتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات  پورا عالم اسلام لرز اٹها ، جب يہ ہوش ربا، سنسنى خيز خبر پہنچى كہ رات نو بجے حوثى باغيوں نے يمن كے صعده نامى شہر سے خانہ كعبہ پر بيليسٹك ميزائيل سے حملہ كيا ہے۔ جسے الله رب العالمين كى توفيق سے سعودى انبازوں نے مكہ سے ۶۵ كلوميٹر كى دورى پر فضا ميں تباه كرديا ہے، اور الله كے فضل وكرم سے كوئى نقصان  نہيں ہوا۔ حادثہ ہوتے ہى "قومى كونسل برائے مزاحمت ايران" كے صدارتى  بيان ميں كہا گيا كہ يہ حملہ خامنئى كے حكم سے ايرانى فوجى ونگ "القدس " كى نگرانى ميں يمن كى سرزمين سے انجام پايا ہے۔
اس حملہ نے عالم اسلام كے سامنے حوثيوں اور ان كے ہمنواؤں كى بد نيتى كو آشكارا كرديا، خطرناك حوثى ايرانى سازشوں كى قلعى  كھول دى،   ان كے پر فريب نعروں كى حقيقت سے پرده   اٹهاديا،  اور بالكل صاف كهل كر  يہ سامنے آ گيا كہ مشرق وسطى ميں امن وامان كى بحالى اور رافضى امتداد كى روك تهام كيلئے "فيصلہ كن طوفان" كے سلسلے ميں شاه سلمان بن عبد العزيز –حفظہ الله-  كا فيصلہ غايت درجہ دور انديشى پرمبنى تها،  اور يہ ثابت  ہوگيا كہ حوثى باغى ہر طرح كے اخلاق واقدار سے عارى ہيں، جن كى نگاه ميں نہ اسلامى احكامات كى عظمت ہے،   نہ عالمى قوانين كا پاس ولحاظ ، اور نہ صلح كى راه ميں  كى جانے والى كوششوں كا اعتبار۔
يقينا يہ نہايت  گهٹيا درجے كاگهناؤنا جرم ہے جسے كوئى  عام عقل مند آدمى  بهى گوارا نہيں كر سكتا  چہ جائيكہ ايك مسلمان جس كے دل ميں رتى برابربهى ايمان ہے  اسے گوارا كر لے. يہ گهناؤنا حملہ ہر اس آدمى كے لئے كهلا چيلنج ہے جوخانہ كعبہ كا رخ كركے دن ورات نمازيں ادا كرتا ہے،  بلكہ پورى امت اسلاميہ سے اعلان جنگ كے مترادف ہے، يہى وجہ ہے كہ اس واقعے كے بعد پورے عالم اسلام ميں غم وغصہ كى لہر دوڑ گئى۔ اسلامى ممالك، تنظيميں، مراكز، علمائے امت، قائدين ملت بلكہ تمام مسلمانوں نے نہايت سختى كے ساتھ اس نا پاك حملے اور ناپاك ايرانى منصوبوں كى مذمت كى ،  كيونكہ مكہ مكرمہ الله كے نزديك سب سے بہترين اور محبوب ترين شہر ہے، اسى شہر كو سب سے پہلے اور سب سے عظيم مسجد كے ليے الله نے منتخب فرمايا  جو سارے مسلمانوں كا قبلہ ہے، جس ميں نماز پڑھنے كا ثواب عام مساجد (سوائے مسجد نبوى ) كے مقابلے ميں لاكھ گنا ہے۔ اس كا حج كرنا ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے،  اور حج كرنے والوں كے لئے مغفرت اور جنت كى بشارت ہے،  الله تعالى نے اس شہر كو ابتدائے آفرينش سے قيامت تك حرمت اور امن والا شہر قرار ديا ، جہاں نہ خون بہايا جائے،  نہ جانوروں كا شكار كيا جائے، بلكہ بِدكايا بهى نہ جائے، جہاں از خود اُگے پيڑ پودے بهى نہ كاٹے جائيں،  اور  نہ  اِذْخِر نامى گهاس كے علاوه كوئى گهاس اكهاڑى جائے،  اس عظيم شہر كو الله نے اپنے سب سے عظيم اور افضل نبى محمد رسول الله r كى ولادت، نشوونما اور بعثت كے لئے منتخب فرمايا ، يہ سارى تفصيلات  صحيح حديثوں ميں موجود ہيں.
ليكن سوال يہ ہے كہ حوثى باغيوں نے اس ناپاك حملے كى جرأت كيوں كر كى جس سے ديڑھ  ارب مسلمانوں كے جذبات بهڑك اٹهے؟؟   جواب واضح ہے كہ حوثى قائدين نے ايرانى خمينى انقلاب كے سايہ تلے ذہنى وفكرى تربيت پائى ہے  اور  فوجى ٹريننگ حاصل كى ہے،  اور ايران ہى  انهيں جنگى ساز وسامان مہيا كرتا ہے تا كہ يہ لوگ رافضى  خمينى منصوبوں كو ايران كے زير سرپرستى عملى جامہ پہنا سكيں،   اور ان  منصوبوں كى بنياد   رافضى عقيدے پر ہے.
رافضہ كا عقيده  يہ ہے كہ كربلاء كى سرزمين مكہ سے افضل ہے اور مكہ كى فضيلت كربلاء كے مقابلے ميں اتنى ہى ہے جتنا پانى  سمندر ميں سوئى  ڈبونے كے بعد سوئى سے لگا ره جائے،  بلكہ الله نے كعبہ كو حكم ديا كہ تم كربلاء كے
ذليل  دُمچهلے بن كر رہو، ورنہ تمهيں جہنم رسيد  كر  دونگا۔ الله تعالى نے مكہ كو حرم بنانے سے چوبيس ہزار سال پہلے سر زمين كربلاء  كو حرمت وعظمت اور تقدس وبركت والا شہر قرارديا.  اسى پر بس  نہيں بلكہ رافضہ كربلاء  ميں قبر حسين كى زيارت كو حج سے افضل مانتے ہيں،  ان كى كتابوں ميں ہے:  جو قبر حسين كى زيارت عام دنوں ميں كرے گا  الله تعالى اسے بيس مقبول حج اور بيس مقبول عمرے  كا ثواب دے گا،  اور جو عيد كے دن زيارت كرے گا الله اسے سو مقبول حج اور سو مقبول عمرے كا ثواب دے گا،  اور جو عرفہ كے دن زيارت كرے گا   تو الله اسے ايك ہزار مقبول حج ،  ايك ہزار عمرے اور ايك ہزار عزوات  ميں  شركت كا ثواب دے گا.  الله تعالى عرفہ ميں وقوف كرنے والے حجاج سے پہلے قبر حسين كى زيارت كرنے والوں پر نظر كرم فرماتا ہے،  جو قبر حسين كى زيارت كے ليے نكلتا ہے تو ہر قدم پر اسے ايك نيكى ملتى ہے، اور جب فارغ ہوتا ہے تو رب العالمين كا فرشتہ اسے سارے گناہوں كى مغفرت كى بشارت ديتا ہے۔  اسى پر  بس نہيں بلكہ  رافضہ كا عقيده ہے كہ ان كا  امام غائب جب ظاہر ہوگا تو كعبہ اور مسجدِ نبوى كو منہدم كرے گا،   اور خانہ كعبہ كے كليد بردار   بنى شيبہ كے ہاتھ  كاٹ كر كعبہ ميں لٹكا ئے گا،  اور ابو بكر وعمر y كو ان كى قبروں سے نكال كر نذرِ آتش كرے گا۔ يہ سارى خرافات ان كى كتابوں ميں بهرى پڑى ہيں جيسے كلينى كى "فروع الكافى"، طوسى كى " تہذيب الأحكام"، ابن بابويہ كى "من لا يحضره الفقيه" ،  ابن قولويہ كى "كامل الزيارات" ، مجلسى كى  "بحار الأنوار"،   اور حُر عاملى كى "وسائل الشيعة" وغيره وغيره.
اس طرح كے عقيدے كا بنيادى نتيجہ لوگوں كو خانۂكعبہ كے حج سے روكنا ہے۔ اور رافضہ  نے اپنے بعض ائمہ سے نقل بهى كيا ہے كہ اگر ميں قبر حسين كى زيارت كى فضيلت  بيان كردوں تو تم لوگ يقينى طور پر حج كرنا چهوڑدوگے.  اور ان خرافات كو نقل كرنے والے بعض راويوں نے يہتمنا بهى ظاہر كى ہے كاش ! ميں نے قبر حسين كى زيارت كى ہوتى،  اور حج نہ كيا ہوتا۔  يہى وجہ ہے كہ خمينى، خامنئى اور سيستانى نے كبهىحج وعمره  نہيں كيا۔
اسى عقيدے پر خمينى انقلاب قائم ہے،جسكى پورى كوشش ہے كہ ايران مذہبى اور سياسى حيثيت سے عالم اسلام كا مركز بن جائے، اور شيعى مقدس مقامات امت اسلاميہ كا قلبى مركز بن جائيں.
يہ تو اس واقعہ كا اعتقادى پہلو ہے۔ اور سياسى  پہلو يہ ہے كہ حوثى باغى عالمِاسلام كو يہ دكهانا چاہتے ہيں كہ سعودى عرب كے پاس  مقدس مقامات كى حفاظت اور امن وامان  بحال ركهنے كى صلاحيت نہيں ہے۔ لہذا  اسے ايسے ملك كو سونپ دينا چاہيے جو ان كى حفاظت كر سكتا ہو  اور امن  وامان بحال ركھ سكتا ہو. ليكن قابل مباركباد ہيں سعودى عرب كے جانباز جنہوں نے اللہ كى توفيق سے اس حملے كوناكام بنا ديا ،  اور يہ ثابت كرديا كہ سعودى عرب اس كى پورى صلاحيت ركهتا ہے۔ اور يہ سب كچھ الله كى توفيق اور اس كا فضل وكرم ہے۔
جب ان مجرموں نے ديكها كہ اپنے ناپاك مقصد ميں برى طرح نا كام ہوگئے اور پورا عالمِ اسلام سعودى عرب كے ساتھ متحد ہو كر كهڑا ہوچكا ہے،  اور اس گهناؤنے حملے كى مذمت كا جو سلسلہ شروع ہوا  وه تهمنے كا نام نہيں لے رہا ہے،تو ان حوثيوں نے  دعوى كيا كہ نشانہ مكہ نہيں بلكہ جده  كا انٹرنيشنل ايئرپورٹ تها جہاں سے جنگجو جہاز يمن روانہ كئے جاتے ہيں۔ ليكن ہر عقلمند انسان يہ سمجهتا ہے كہ يہ سياسى كهيل ہے، اگر نشانہ فوجى ايئر بيس كو بنانا تها تو يمن سے قريب سعودى سرحدوں پر فوجى  ايئر بيس موجود ہيں، ليكن ان كا مقصد مسلمانوں كے كعبہ وقبلہ كو نشانہ بنانا تها تاكہ عالم اسلام  كے سامنے يہ واضح ہوجائےكہ ايران كا جو دعوى ہے كہ سعودى عرب اسلامى مقدس مقامات كى حفاظت نہيں كرسكتا   وه بالكل درست ہے. مگر الله تعالى نے ان كے ناپاك ارادے كو ناكام بنا ديا.  اور اگر يہ مان بهى ليا جائے كہ نشانہ جده كا انٹرنيشنل ايئرپورٹ تها تو آخر كيوں؟ يہ تو كوئى فوجى ايئرپورٹ نہيں  بلكہ  يہاں كے اكثر مسافرين خانۂ كعبہ كے زائرين ہوتے ہيں، اور يہ سعودى عرب كا سب سے زياده ازدحام والا ايئرپورٹ ہے،  تو پهر  كونسى عقل ياكونسا دين اس بات كى اجازت ديتا ہے كہ اس شديد  ازدحام والى جگہ پر ميزائيل داغا جائے، جہاں بے گناه لوگوں كى جانيں ضائع ہوں،يہ تو نائن اليون كے حملے سے كسى طرح كم نہيں.
يہ حادثہ  اس بات كا  تقاضا كرتا ہے كہ اسلامى حكومتوں اور عام مسلمانوں ميں مكمل بيدارى  پيدا ہو،  اور وه صفوى مجوسى منصوبوں كى خطرناكيوں كو اچهى طرح سمجهيں  اور بالكل متحد ہوكر اس راه ميں پختہ منصوبہ بندى  اور ضرورى  تدابير كے ساتھ ان خطرات سے نمٹيں،  ورنہ حالات خراب سے خراب تر  ہوسكتے ہيں۔ الله ہم سب كا حامى وناصر ہو.
حوثى دہشت گردوں كا يہ حملہ شيعى تاريخ ميں كوئى نئى چيز نہيں، بلكہ تاريخ شاہد ہے كہ قرامطہ اور رافضہ اور ان كے اعوان وانصار نے مكہ مكرمہ كى حرمت اور قداست پامال كرنے ميں كوئى كسر نہيں چهوڑى ہے۔
۳۱۷ھ ميں شيعى قرامطہ نے يوم الترويہ (۸  ذى الحجہ) كو ايسى قتل وغارت گرى مچائى كہ كعبہ سے ليكر مكہ كى گليوں تك انسانى لاشوں كا انبار تها۔ طواف كرنے والے، خانہ كعبہ كا پرده پكڑنے والے سب تہ تيغ كر ديئے گئے۔ تيس ہزار سے زياده لوگ مارے گئے،  پهر انہيں مكہ كى مختلف جگہوں ميں اور مسجد حرام ميں دفن كرديا گيا،  بلكہ زمزم كا كنواں انسانى لاشوں سے پاٹ ديا گيا،  ان بد بختوں نے خانہ كعبہ كا دروازه اكهاڑ ديا،  اور حجر اسود اكهاڑ لے گئے جو ان كے پاس بائيس سال تك رہا،  مختلف تدبيروں كے بعد  ۳۳۹ھ ميں واپس كيا گيا،  إنا لله وإنا إليه راجعون۔
۱۹۷۹ء ميں ايران  كى زمين پر خمينى انقلاب آيا، جس كى اہم خارجہ پاليسيوں ميں سےيہ ہے كہ خمينى فكر كو پڑوسى ممالك اور پهر پورى دنيا ميں عام كيا جائے، اسى مقصد كى خاطر ايران نے خليجى ممالك ميں شيعى اقليتوں كو ورغلايا،  ايران اور ايران سے باہر دہشت گرد تنظيموں كى بنياد ڈالى جيسے القدس فورس، پاسداران انقلاب، حزب اللات وغيره۔ اور بہت سارے اقليتى گروہوں كى ذہنى اور عسكرى تربيت كى اور انہيں ہتهياروں سےمسلح كيا۔ جيسے يمن كے حوثى باغى وغيره،   تاكہ  حسب ضرورت انہيں  دعوتى، سياسى، اور جنگى سرگرميوں ميں استعمال كيا جاسكے. 
 ايران اور اس كى مسلح تنظيموں نے مكہ ميں بہت سارى مجرمانہ حركتيں كى ہيں، ان ميں سے چند سپرد  تحرير كى جاتى ہيں:·   
* ۱۴۰۶ھ مطابق ۱۹۸۶ء ميں حرمين شريفين ميں بارودى مواد   داخل كرنے كى نا كام كوشش  كا گهناؤنا منظر  سامنے آيا ، ۳/۱۲/۱۴۰۶ھ كو  جده انٹرنيشنل ايئرپورٹ پر ايرانى جہاز پہنچا،  عام سسٹم كے مطابق سامانوں كى تفتيش كى گئى، پچانوے ايسے سوٹ كيس پكڑے گئے، جن كے اندرونى طبق ميں بارود ركهے ہوئے تھے،  بارود  كا ٹوٹل وزن اكاون (51)  كيلوگرام تها،  اور  تحقيق كے دوران اس گروپ كےبڑے ذمہ دار نے اعتراف كيا كہ ہمارے مجموعے كو ايرانى قيادت نے حرمين شريفين اور مقدس مقامات پر بلاسٹ كرنے كے لئے مكلف كيا تها۔
*   ۵/۱۲/۱۴۰۷ھ مطابق  ۳۱/جولائى ۱۹۸۷ء  كو ايرانى حاجيوں نے مكہ ميں مسجد حرام سے قريب بہت بڑا ہنگامى جلوس نكالا،  انھوں نےاپنے كپڑوں كے اندر چاقو  اور خنجرچھپا ركها تها،    خمينى كى تصويريں اور مسجد اقصى كا مجسمہ اٹهائے ہوئے خمينى انقلاب كے نعرے لگا رہے تہے،  سارے راستوں اور گذر گاہوں كو بند كرديا تها جس كے نتيجے ميں ايسى زبردست بهگدڑ  مچى كہ چار سو دو (402)  لوگوں نے  اپنى جانيں گنواديں۔
*    ۶/ ذى الحجہ ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۰/جولائى ۱۹۸۹ء كو  مكہ ميں دو بم  بلاسٹ ہوئے،  ايك مسجد حرام كے راستے ميں،  اور دوسرا مسجد سے قريب والے بريج  پر،  الله نے رحم وكرم كيا، صرف  ايك آدمى كى وفات  ہوئى ، اور۱۶  لوگ زخمى ہوئے، يہ دونوں بلاسٹ كويت ميں مقيم  بعض ايرانى سفارت كاروں كى منصوبہ بند سازش كے تحت كويت كے كئى رافضہ اور احساء كے ايك سعودى رافضى نے مل كر انجام ديا تها،  ۲۱/ ستمبر ۱۹۸۹ء  كو شاه فہد رحمة الله عليہ كے حكم سے ۱۶ مجرموں كو پهانسى دى گئى، جنہيں آج تك رافضہ شہدائے حرم مكى كے نام سے ياد كرتے ہيں۔
*    ۱۰/ ذى الحجہ ۱۴۱۰ھ مطابق ۲/جولائى ۱۹۹۰ء كو  مكہ كى معيصم سرنگ ميں بهگدڑ مچى جس ميں ہزاروں حاجيوں كى جانيں گئيں، اس كا  سبب وه  زہريلى گيس تهى جسے كويت كے حزب اللات كے ٹرينڈ نوجوانوں نے سرنگ ميں چهوڑا  تها۔
*    ۱۰/ذى الحجہ ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۴/ ستمبر ۲۰۱۵ء كو منىٰ ميں زبردست بهگدڑ مچى، جس ميں لگ بهگ ايك ہزار جانيں گئيں، اس حادثے كا سبب ايرانى  حاجيوں كى ايك بڑى جماعت تهى، بلكہ معروف ايرانى سياستداں فرزاد فرہنگيان نے انكشاف كيا تها كہ يہ حادثہ پاسداران انقلاب كے چھ كمانڈروں كے زير سرپرستى انجام پايا ہے۔
تعجب ہے ايران اور اس كے بازوؤں پر !  يہ سارے جرائم امن وحرمت والے  مقدس شہر ميں انجام دے رہے ہيں، اور نعره لگاتے ہيں:مرگ بر امريكہ، مرگ بر اسرائيل!  ان گهناؤنے جرائم كى  بهينٹ مسلمان چڑھ رہے ہيں يا امريكہ اور اسرائيل؟! ليكن رافضہ كے پاس ايك ظاہرى كامياب ہتهيار ہے، وه  ہے تقِيَّہ جس كا مطلب يہ ہے كہ انسان كے دل ميں كچھ اور ہو مگر  زبان سے كسى اور چيز كا اظہار كرے، يہ عقيده رافضى دين ميں نھايت اہميت كا حامل ہے، بلكہ رافضى دين  كے دس حصوںميں  صرف يہ عقيده نو حصہ ہے، اس لئے علماء كرام كہتے ہيں كہ رافضہ الله كى سب سے جهوٹى مخلوق ہے۔
بہرحال خانہ كعبہ كى عظمت وفضيلت پر جن كا دل حسد وبغض سے پاش پاش ہو رہا ہے  وه يہ جان ليں كہ الله تعالى اپنے گهر كى حفاظت كرنے والا ہے، جيساكہ ابرہہ كے حملوں سے اس كى حفاظت كى ہے،  اور جس كے دل ميں اس كےتئيں برا   اراده ہوگا الله تعالى اسے رسوا كرے گا، دنيا ميں بهى اور آخرت ميں بهى ۔ )ومن يرد فيه بإلحاد بظلم نذقه من عذاب أليم( (سوره حج: 25)
الله تعالى اسلام اور مسلمانوں كى عزت وعظمت كى حفاظت فرمائے. آمين



الثلاثاء، نوفمبر 15، 2016

استهداف الحوثيين لقبلة المسلمين جريمة نكراء استنكرتها الأمة جمعاء

بسم الله الرحمن الرحيم
استهداف الحوثيين لقبلة المسلمين جريمة نكراء استنكرتها الأمة جمعاء
إعداد: الدكتور محمد يوسف حافظ أبو طلحة
عضو هيئة التدريس بالجامعة المحمدية ماليغاون، الهند
فجع المسلمون بما قامت به الطائفة الباغية المجرمة المتطرفة المليشيات الحوثية اليمنية المدعومة من إيران من استهداف قبلة المسلمين حيث أطلقت صاروخاً باليستيا من محافظة صعدة اليمنية الحدودية جنوب المملكة العربية السعودية نحو مكة المكرمة في الساعة التاسعة مساء الخميس 26 محرم 1438هـ الموافق 27/اكتوبر 2016م. وقد تمكنت قوات التحالف التي تقودها المملكة العربية السعودية بتوفيق رب الكعبة من اعتراضه وتدميره في الجو قبل أن يصيب هدفه على بعد 65 كم من مكة المكرمة من دون أي أضرار. وجاء في تصريحات رئيسة المجلس الوطني للمقاومة الإيرانية بأن الهجوم تم بأمر من خامنئي وتحت إشراف قوة القدس من داخل الأراضي اليمنية. وهي جريمة نكراء لا يرتضيها أي عاقل فضلا عن مسلم في قلبه مثقال ذرة من إيمان، وهي تؤذن بزوال تلكم النبتة الفاسدة ونهايتها بإذن الله. وقد كشفت عن خطر المشروع الصفوي على العالم الإسلامي وعن النوايا الخبيثة للحوثيين وأعوانهم وعن شعاراتهم الزائفة، كما أكدت أن عاصفة الحزم لا مناص منها للحفاظ على الأمن في الشرق الأوسط وللقضاء على الاعتداء الشيعي والحد من المد الصفوي. وأبانت أن الميليشيات الحوثية لا تقيم وزنا لقرارات المجتمع الدولي والمساعي القائمة لحل سلمي للأزمة اليمنية. وهذه الفاجعة تحدٍ واضح لكل من يتوجه إلى الكعبة في صلواتهم، بل بمثابة إعلان حرب على الأمة الإسلامية بأسرها، فتوالت عقبها ردود واستنكار وتنديد وإدانة لهذا العدوان الإرهابي الإجرامي وللمشروع الفارسي الإيراني من الدول والمنظمات والجمعيات والمراكز والمؤسسات الإسلامية والقادة والعلماء بل من كل مسلم في قلبه مثقال ذرة من إيمان، كل بحسبه؛ لأن مكة المكرمة خير أرض الله وأحب أرض الله إلى الله، فاختارها لأول مسجد وضع في الأرض، وجعله قبلة للمسلمين، وجعل الصلاة فيه أفضل من مائة ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد النبوي، وفرض حجه على من استطاع إليه سبيلا، ووعد حجاجه بغفران الذنوب والفوز بالجنة، وحرم الله مكة منذ خلق السموات والأرض، فهي حرم آمن إلى يوم القيامة، لا يسفك فيها دم، ولا تعضد شجرها، ولا يختلى خلاها غير الإذخر، ولا ينفر صيدها، ولا تحل لقطتها إلا لمنشدها على الدوام، واختارها الله لخاتم النبيين وأفضل المرسلين مولدا ومنشأ ومبعثا ومسرى، كما نطقت الأحاديث الصحيحة، فصارت مكة مهوى أفئدة الأمة الإسلامية جمعاء. ولكن الناس يتساءلون: ما الذي جعل المليشيات الحوثية تقدم على هذه الجريمة الشنعاء التي استفزت مشاعر مليار وثلاثمائة مليون مسلم؟ والجواب أن المليشيات الحوثية تربت قادتها في كنف قادة الثورة الخمينية تربية فكرية، وتدربت في أحضانها تدريبا عسكريا، وتدعمها إيران بأسلحة ومعدات حربية ومساعدات مالية، حتى تقوم هذه المليشيات بتنفيذ وتحقيق الخطط الصفوية والمشاريع الرافضية. والرافضة تعتقد أن كربلاء أفضل من مكة، وليس فضل مكة في جنب فضل كربلاء إلا بمنزلة الإبرة غرست في البحر فحملت من ماء البحر، بل أمر الله تعالى الكعبة أن تكوني ذنبًا متواضعًا ذليلاً مهينًا لأرض كربلاء وإلا هويت بك في نار جهنم. وتذكر مصادر الرافضة أن الله قد اتخذ أرض كربلاء حرما آمنا مقدسا مباركا قبل أن يخلق الله أرض الكعبة ويتخذها حرما بأربعة وعشرين ألف عام، فما زالت قبل خلق الله الخلق مقدسة مباركة، ولا تزال كذلك حتى يجعلها الله أفضل أرض في الجنة، وأفضل منزل ومسكن يسكن فيه أولياءه في الجنة. وكذلك تجعل الرافضة زيارة قبر الحسين منسكا أفضل من مناسك الحج، فإن كتبهم تنص أن من أتى قبر الحسين عارفا بحقه في غير يوم عيد كتب الله له عشرين حجة وعشرين عمرة مبرورات مقبولات. ومن أتاه في يوم عيد كتب الله له مائة حجة ومائة عمرة. ومن أتاه يوم عرفة عارفا بحقه كتب الله له ألف حجة وألف عمرة مبرورات متقبلات وألف غزوة مع نبي مرسل أو إمام عادل. وإن الله تعالى يبدأ بالنظر إلى زوار قبر الحسين عشية عرفة قبل نظره إلى أهل الموقف، ومن خرج من منزله يريد زيارة الحسين كتب الله له بكل خطوة حسنة. وإذا قضى مناسكه أتاه ملك فقال له: أنا رسول الله، ربك يقرئك السلام، ويقول لك: استأنف فقد غفر لك ما مضى. ويعتقدون أيضا أن إمامهم الغائب إذا ظهر يهدم الكعبة والمسجد النبوي، ويقطع أيدي بني شيبة حجبة الكعبة، ويعلقها على الكعبة، ويخرج أبا بكر وعمر من قبريهما، ويحرقهما، إلى غير ذلك من الخرافات التي طفحت بها كتب الرافضة، كفروع الكافي للكليني وتهذيب الأحكام للطوسي ومن لا يحضره الفقيه لابن بابويه وكامل الزيارات لابن قولويه وبحار الأنوار للمجلسي ووسائل الشيعة للحر العاملي. تعالى الله عما يقولون علوا كبيرا. والهدف من ذلك صد الناس عن حج بيت الله الحرام؛ فقد ذكروا عن بعض أئمتهم أنه قال: "لو أني حدثتكم بفضل زيارة الحسين وبفضل قبره لتركتم الحج رأسا". وقال بعض رواة هذه الأساطير: "والله لقد تمنيت أني زرت الحسين ولم أحج". وفعلا لم يحج المراجع الشيعية المعاصرة: الخميني وخامنئي والسيستاني مع استطاعتهم القيام بتلك الفريضة. فسبحان من يطمس على القلوب. وعلى هذا المعتقد قامت الثورة الخمينية، وهي تسعى أن تكون إيران مركز العالم الإسلامي سياسيا ودينيا، وأن تكون المقدسات الشيعة مثابة للأمة الإسلامية، فلا حول ولا قوة إلا بالله. ومن الجانب الآخر أرادت المليشيات الحوثية أن تبرهن أمام العالم الإسلامي أن المملكة العربية السعودية ليست عندها كفاءة ومقدرة على توفير الأمن في الحرمين، فيجب تسليمهما للدولة التي عندها مقدرة أو تدويلهما. ولكن رد الله كيدهم في نحورهم، وقيض له القوات الباسلة التي تصدت لهذا العدوان السافر، ونجحت في إفشاله، وأثبتت قدرة المملكة على حفظ المقدسات الإسلامية، فطوبى لهم. وكل ذلك بفضل الله وتوفيقه، فله الحمد أولا وآخرا وظاهرا وباطنا. ولما رأى هؤلاء المجرمون أنهم فشلوا في هدفهم الخبيث البغيض، ووقف العالم الإسلامي صفا واحدا إلى جانب المملكة العربية السعودية تضامنا ونصرا وتأييدا بكل صلابة وحزم، وتتابعت ردود وإدانات شديدة تترى لا تتوقف، قالوا: إن المستهدف ليس مكة، بل مطار الملك عبد العزيز الدولي في جدة؛ لأنه يضم القاعدة الجوية السعودية التي تنطلق منها الطائرات للقصف في اليمن. ولكن كل من له عقل وبصيرة على يقين بأنها لعبة سياسية؛ فإن كان الهدف ضرب القواعد العسكرية فثمة قواعد على مقربة من الحدود مع اليمن، ولكنهم قصدوا استهداف مكة حتى يبرهنوا أمام العالم لما ادعته إيران من أن السعودية لا تستطيع توفير الأمن في المدينة المقدسة. وعلى فرض أن المستهدف مطار جدة فهو ليس بمطار عسكري، بل أغلب ركابه من المعتمرين وزوار بيت الله الحرام، وهو أكثر مطار المملكة ازدحاما، فأي دين وعقل يرضى استهداف أبرياء في مثل هذه الأماكن، وهذا لا يقل فظاعة عن الهجمة الإرهابية التأريخية التي استهدفت نيو يورك في 11 سبتمبر 2001م. وهذه الفاجعة تطالب الحكومات والشعوب الإسلامية أن تستشعر بالخطر المحدق بالأمة في ظل التحديات المجوسية الصفوية، وأن تقف صفا واحدا للتصدي لها، وأن تتخذ تدابير لازمة وخططا محكمة في سبيل مواجهة هذا الخطر الذي ينذر بشر مستطير. والله غالب على أمره. وما قامت به المليشيات الحوثية ليس بغريب في تاريخ الشيعة؛ فإن التاريخ يشهد أن الشيعة رافضتهم وقرامطتهم وإخوانهم وأعوانهم لم يراعوا حرمة البلد الحرام، بل قاموا فيه بأعمال إجرامية بشعة تقشعر لها الأبدان، وتنخلع من هولها القلوب: ففي سنة سبع عشرة وثلاثمائة (317ه) خرج الشيعة القرامطة على الحجاج بسيوفهم يوم التروية، فقتلوا في الشهر الحرام في رحاب مكة وشعابها حتى في المسجد الحرام من الحجاج خلقًا كثيرًا، قتلوهم وهم يطوفون، قتلوهم وهم متعلقون بأستار الكعبة، وقد بلغ عدد القتلى زهاء ثلاثين ألفا من أهل البلد ومن الحجاج، ثم دفنوهم في أماكنهم من الحرم وفي المسجد الحرام وفي بئر زمزم، وقلعوا باب الكعبة، ونزعوا كسوتها، وقلعوا الحجر الأسود، وأخذوه إلى بلادهم، فمكث عندهم ثنتين وعشرين سنة حتى ردوه في سنة تسع وثلاثين وثلاثمائة. فإنا لله وإنا إليه راجعون. (انظر: البداية والنهاية 15/37-39). وقامت الثورة الخمينية في إيران عام 1979م، وكان من أهم الأسس التي قامت عليها سياستها الخارجية مبدأ تصدير الثورة للمناطق المجاورة، فقامت بإثارة الأقليات الشيعية في دول الخليج، وأسست العديد من المنظمات الإرهابية الشيعية في داخل إيران كفيلق القدس وغيره، وفي خارجها، كحزب الله في لبنان، وحزب الله الحجاز، ودربت وجندت العديد من الميليشيات الطائفية في عدد من الدول، كالحوثيين في اليمن. وقد قامت إيران ومنظماتها المجندة بأعمال إجرامية كثيرة في البلد الحرام والأماكن المقدسة، من أهمها: في عام 1406ھ/1986م حاولوا إدخال المواد المتفجرة إلى الحرمين الشريفين والمشاعر المقدسة، فقد وصلت طائرة إيرانية على مطار الملك عبد العزيز الدولي بجدة 3/12/1406ھ، واكتشف رجال الجمارك والأمن خمسا وتسعين حقيبة ذات مخازن سفلية ملبسة بمادة شديدة الانفجار، وقد بلغ وزن المواد المتفجرة واحدا وخمسين كيلو غراما، وأثناء التحقيق اعترف كبير ركاب هذه الطائرة بأن مجموعته كلفت من قبل القيادة الإيرانية باستخدام تلك المتفجرات في الحرمين الشريفين والمشاعر المقدسة.  وفي 5/12/1407ھ الموافق 31/يوليو 1987م أقام الحجاج الإيرانيون في مكة قرب المسجد الحرام مسيرة صاخبة رافعين شعارات الثورة الإسلامية في إيران وصور الخميني ومجسما كبيرا للمسجد الأقصى، وكانوا يحملون السكاكين والأسلحة البيضاء داخل ملابسهم، وأغلقوا منافذ الطرقات، وعرقلوا الممرات، وأخذوا يدافعون الحجاج والمدنيين بقوة وعنف، فوقعت اضطرابات وفوضى أسفرت عن مقتل أربع مائة واثنين.  وفي 6/ذي الحجة 1409ھ الموافق 10/يوليو 1989 وقع انفجاران، الأول في أحد الطرق المؤدية للمسجد الحرام والآخر فوق الجسر المجاور للمسجد، ونتج عن ذلك وفاة شخص واحد وإصابة ستة عشر آخرين، وكان ذلك على يد عدد من رافضة الكويت وواحد من السعودية من الأحساء بالتنسيق مع دبلوماسيين في السفارة الإيرانية بالكويت، وتم إعدام ستة عشر متهما في 21/سبتمبر 1989م بأمر من الملك فهد. ويعتبرهم الرافضة شهداء الحرم المكي، فإلى الله المشتكى.  وفي 10 ذي الحجة 1410 هـ الموافق 2/يوليو 1990م وقع تدافع عنيف واختناق شديد في نفق المعيصم بمكة مما أدى إلى مقتل ألاف ضيوف الرحمن. وكان ذلك بسبب الغاز السام الذي أطلقته عصابة من حزب الله الحجاز في الكويت بالتنسيق مع السلطات الإيرانية. وفي 10/ذي الحجة 1436ھ الموافق 24/سبتمبر 2015م وقع تدافع شديد أدى إلى مقتل آلف حاج تقريبا، وكان وراء هذا الحادث حشد كبير من الحجاج الإيرانيين، بل كشف الخبير السياسي الإيراني المعروف فرزاد فرهنكيان أن هذه الحادثة افتعلها ستة ضباط من الحرس الثوري الإيراني، وذكرهم بأسمائهم. فلا حول ولا قوة إلا بالله. فواعجبا لإيران وأجنحتها تفعل هذه الأفاعيل الإجرامية في البلد الحرام، وتهتف بشعارات زائفة: الموت لأمريكا، والموت لإسرائيل؛ لاستمالة قلوب عامة المسلمين، فياترى هل هذه الأضرار الفادحة وقعت بالمسلمين؟ أو وقعت بأمريكان وإسرائيل؟ ولكن السلاح الفعال الناجح –فيما يبدو- الذي يملكه الرافضة سلاح التقية، وهي تسعة أعشار الدين الرافضي، وتعني أن يظهر الإنسان خلاف ما يبطنه تدينا. ولذلك وصفهم أهل العلم بأنهم أكذب خلق الله.     هذا، وليعلم كل من يتشقق قلبه حقدا على المكانة التي تحظى بها الكعبة المشرفة أن الله تعالى يحفظها بحفظه، كما حفظها من هجمات أبرهة وجنوده، وأنه يذيق الخزي والندامة كل من يريد به سوءا. ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴾ [سورة الحج:25]. والله أسأل أن يعز الإسلام والمسلمين، ويحفظ الحرمين الشريفين من كيد الأعداء وشر الأشرار، وأن يديم على الأمة مجدها وعزها، وأن يجعل كيد أعدائها في نحورهم. آمين.

الأحد، سبتمبر 04، 2016

بسم اللہ الرحمن الرحیم
            شوق دیں سے کام لیں-عمل کا دامان تھام لیں

از:عبد الرحمن بن علی العسکر                                  اردو قالب: شفاء اللہ الیاس تیمی                                                                                  


الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد ،وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
أما بعد!
اس دنیا کے اندر انسان بہت سارے مسائل میں الجھا ہوا ہے،لاکھ کوششوں کے باوجود تما م مسائل سے تو دور ،چند سے بھی چھٹکارا مشکل ہے،انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ  مال کی جمع اندوزی کی چاہت وتمنا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وتحبون المال حبا جما‘‘الفجر:20 - تم مال کے بہت زیادہ خواہاں ہو۔اور صحیح حدیث ہے کہ: یشب ابن آدم ویشب معہ خصلتان: حب الدنیا وطول الأمل‘‘  ابن آدم کی جوانی کے ساتھ ساتھ دو خصلتیں بھی جوان ہوتی ہیں: ایک دنیا کی محبت وچاہت اور دوسری کثرت امید۔
حقیقت میں مال کوئی ایسی چیز نہیں جو بہ ذات خود مطلوب ہو،بلکہ دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے مال صرف ایک وسیلہ ہے،مال کے ذریعہ مفید چیزیں بھی حاصل کی جاتی ہیں اور نقصان اور خسارے کا سودا بھی اسی سے کیا جا تا ہے،مال وسیلہ ہے ،لیکن اس کے ممدوح ومذموم ہونے کا معیار یہ ہے کہ اسے کس ذریعہ سے حاصل کیا جارہا ہے اور کس مقصد کے لئے حاصل کیا جا رہا ہے۔
مال  ہتھیار کی طرح بھی ہے، اگر کسی سرکش کے ہاتھ رکھ دیا جائے تو اس سے کمزوروں کی لاشیں گڑینگی،اور معصوموں کا قتل عام ہوگا،لیکن اس کے بالمقابل اگرکسی مجاہد کے ہاتھ میں اس ہتھیار کو تھما دیا جائے تو وہ  اس سے اپنے دین،اپنی ذات ،اپنے اہل وعیال اور ملک وقوم کی حفاظت اور ان کا دفاع کرے گا۔آپ غور فرمائیں کہ  اللہ تعالی مال کے بارے میں کیا فرماتا ہے: فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری وأما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنیسرہ للعسری وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی" جس نے دیا اللہ کی راہ میں اور ڈرااپنے رب سے اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہیگا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دینگے،لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی  اور نیک بات کی تکذیب کی ،تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کردینگے۔اس کا مال اسے اوندھا گرتے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔
مال اپنے آپ میں  اللہ کی بہت بڑی نعمت اور بہترین عطیہ ہے،یہ ایسی نعمت عظمی ہے جس کے ذریعہ االلہ کے بندوں کے ضرورتیں مکمل ہوتی ہیں ۔لیکن مال کے غلط استعمال کے نتیجے میں کبھی کبھی اس کی یہ افادیت نقصان میں بدل جاتی ہے ،گویا مال ایک بڑا فتنہ ہے جس کے ذریعہ بندے آزمائے جاتے ہیں: واعلموا أنما أموالکم وأولادکم فتنۃوأن اللہ عندہ أجر عظیم" ۔
اس کے باوجود بھی اسلام نے انسان کو  اپنے اہل خانہ کے لئے حلال مال میں سے رزق اختیار کرنے کی تلقین کی ہے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد د بن وقاص سے یہ فرمایا کہ غربت اور قلاشی کے بجائے تمہارے لئے بہتر یہی کہ تم اپنے وارثین کو مالداری کی حالت میں چھوڑو ، کیونکہ فقیری کی حالت میں وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگیں گے،ایک دوسری حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفی بالمرئ اثما أن یضیع من یقوت" کسی انسان کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کی رزق کو برباداوربیکار کردے۔احمد ومسلم
اسلام نے اپنے متبعین کو یہ تعلیم دیا ہے کہ وہ مال کے حصول میں جائز اور مشروع راستہ اختیار کریں،چنانچہ اسلام نے مال کی حصولیابی میں عمل پیہم اور مسلسل کوشش پر ابھارا ہے،اور اس راہ میں تساہل اور سستی سے دور رہنے پر زور دیا ہے،رز ق حلا ل اور پاک مال کے لئے راستے بھی ہموار کیاہے ،قرآن اس سلسلے میں کہتا ہے :قل من حرم زینۃ اللہ التی أخرج لعبادہ الطیبات من الرزق قل ھی للذین آمنوا فی الحیاۃ الدنیا خالصۃ یوم القیامۃ"أعراف:32  یعنی کہ آپ فرمائیے کہ اللہ تعالی کے پیدا کیے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کوکس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہ دیجئے کہ یہ اشیاء اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہونگی اہل ایمان کے لئے ،دنیوی زندگی میں مومنوں کے لئے بھی ہیں۔ نیز اللہ فرماتا ہے:ھو الذی جعل لکم الأرض ذلولا فامشوا فی مناکبھا وکلوا من رزقہ والیہ النشور" ملک:15  وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤاسی کی طرف تمہیں جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ایک جگہ اللہ کا فرمان ہے: فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون"الجمعہ:10 یعنی جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بہ کثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پا لو۔گویا اللہ نے کامیابی کا دار ومدار رزق حلال ،اطاعت الہی کی بجا آوری اور ذکر الہی کی ادائیگی پر رکھا ہے۔
اسی طرح انسان کا صنعت وحرفت سے جڑنا اور پیشہ ور ہونا کوئی ایسی چیز نہیں جو دور حاضر کے لئے جدید ہو ، بلکہ انبیائ ورسل نے بھی اس راہ کو اختیار کیا،جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی انسان کی سب سے بہتر روزی اس کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے، اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے۔ایک دوسری حدیث کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کان زکریا نجارا"(مسلم)  اور یہ کہ : وأن ادریس کان خیاطا یتصدق بفضل کسبہ‘‘ کہ حضرت زکریا ایک بڑھئی تھے،اورحضرت ادریس ایک درزی تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی  میں سے صدقہ کرتے تھے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بیع وشرائ کیا کرتے اور لوگوں کے ساتھ تمام طرح کا مالی تعامل کرتے تھے۔ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابئہ کرام سے یہ فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک چھوٹی سی رسی لیکر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑی کی گٹھڑی باندہ کر لائے اور اسے فروخت کرے، اور ان پیسوں کے ذریعہ اپنی ضروریات پوری کرےاورلوگوں سے بے نیاز رہے تو اس کا ایسا کرنا دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بہتر ہے کیوں کہ دست سوال پھیلانے کے بعد لوگ اسے دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔بخاری
صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی مختلف پیشے اختیار کئے،، بیع وشراء اور تجارت میں حصہ لیا،اور رزق حلال کی طلب میں کوششیں کی،سعید ابن مسیب کے قول سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے کہ :کان أصحاب رسو ل اللہ یتجرون فی بحر الروم‘‘ کہ صحابئہ کرام روم کے سمندری راستوں سے تجارت کیا کرتے تھے۔حضرت عمر یہ کہا کرتے تھے کہ تم لوگ کاریگری کا کام سیکھا کروکیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کی ضرورت پیش آجائے۔
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ہانڈی تنور پہ ڈال کر اسے آنچ دیتے یہاں تک کہ ان کی آنکھ میں آنسو آجاتے ،اما عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ امارت اور خلافت سنبھالنے سے پہلے تک قریش کے سب سے بڑے کاروباری اور تاجر تھے۔
قیس بن عاصم نے موت کے وقت اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:مال ضرور حاصل کرو ،کیونکہ مال ودولت سخی لوگوں  کی شناخت ہے،اور اس کے ذریعہ بدبخت اور بدطینت لوگوں سے بے نیازی حاصل ہوتی ہے ۔ساتھ ہی تم مانگنے کی ذلت وخواری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کروکیونکہ یہ کسی بھی انسان کے لئے آخری ذریعہ معاش ہے۔
سعید بن مسیب کا قول ہے کہ اس شخص کے اندر خیر کا کوئی پہلو ہے ہی نہیں جس کے اندر طلب مال کی کوئی چاہت ہی نہ ہو۔جس سے قرض کی ادائیگی کرے، اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کرے،اور لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے،نیز اگر س کی موت بھی ہو جائے تو اس کے وارثین کے لئے اس کا مال میراث بن جائے  ۔
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ : شرف المؤمن صلاۃ فی جوف اللیل وعزہ استغناؤہ عن الناس"(اسے طبرانی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے)نصف رات میں نماز کی ادائیگی مؤمن کے لئے شرف کی بات ہے اوور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز رہنا اس کی عزت نفس کی دلیل ہے۔
معمولی کام میں مشغول رہنا ، سستی اور کاہلی اور اصحاب ثروت کی جانب سے نوازشوں کے لئے منتظر رہنے سے حد درجہ بہتر ہے۔اور اس طرح کے انتظار سے بھی بدتر یہ ہے کہ آدمی کسی مالدار انسان کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔کیوں کہ اس کی جانب سے اگر کچھ نوازش ہو بھی جائے تو اس احسان تلے انسان ہمیشہ دبا رہتا ہے،اور اگر اس نے دینے سے انکار کردیا توندامت اور ذلت  دونوں اس کے پیچھے لگ جاتی ہیں ۔
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ:ذلت کے ساتھ کمانا اس سے بہتر ہے کہ آدمی غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے ۔
لقمان حکیم کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا:میرے بیٹے! حلال مال کے ذریعہ بے نیازی اختیار کرو،اس لئے کہ جس کے آگن میں غریبی ڈیرا ڈالتی ہے اسے تین میں سے کوئی ایک خصلت ضرور لاحق ہوجاتی ہے:دین میں نرمی اور کمزری،عقل کا ضعف یا مروئت کی کمی،اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اسے حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے امور سے پناہ مانگتے تھے، تاکہ لوگوں کی نگاہ میں ان کے نقصانات واضح ہو سکیں،ساتھ ہی ان امور سے بچنے کے لئے رب سے مدد ونصرت کی دعا مانگتے تھے،اس سلسلے میں امام احمد بن حبنل نے ایک روایت نقل کیا ہے کہ :رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعوذوا باللہ من الفقر والقلۃ والذلۃ‘‘  غربت،قلت مال ،اور ذلت ورسوائی سے اللہ کی پناہ مانگو۔امام نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!میں بھوک اور پیاس سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ یہ بہت برا ساتھی ہے۔
عقل مند انسان کے لئے یہ زیبا نہیں ہر طرح کی مشغولیت اور محنت سے کنارہ کش ہوکر خود کو سماج کے لئے بے سود اور بوجھ بنا ڈالے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:میں بعض دفعہ کسی ایسے آدمی سے ملتا ہوں جو اچھی بھلی شکل وصورت کا معلوم پڑتا ہے،لیکن جب میں اس کے بار ے میں معلوم کرتاہوں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بے روزگار انسان ہے ،پھر وہ میری نظر سے گر جاتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ پر توکل کی گردان لگانے والے لوگوں کے پاس جایا کرتے تھے اور انہیں ڈانٹ پھٹکار کر سمجھاتے کہ کوئی شخص رزق کی جستجو چھوڑ کر بیٹھ نہ جائے او رپھر اللہ سے رزق کی دعا کرے،جبکہ وہ خوب جانتا ہے کہ آسمان سے سونے چاندی نہیں برستے ۔بلکہ رزق کے لئے تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔
محمد بن ثور کہتے ہیں کہ :مسجد حرام میں سفیان ثوری جب بھی ہماری مجلس سے گزرتے  تو آپ فرماتے:تم لوگ کیوں بیٹھے ہو؟  تو ہم کہتے : ہم کیا کریں؟ آپ فرماتے : رب کے فضل کی تلاش میںلگے رہواور مسلمانوں پر بوجھ نہ بنو۔
فقہاء کرام نے یہاں تک کہا ہے کہ انسان کے اوپر رزق حاصل کرنا واجب ہے خواہ اس کے لئے اسے اجرت پر ہی کیوں نہ کھٹنا پڑے،کیوں کہ قرض چکانے،نذر کو پورا کرنے ،اطاعت وبندگی بجا لانے ،کفارہ ادا کرنے اور ماتحت لوگوں کے اخراجات اٹھانے کے لئے مال کا حصول نہایت ناگزیر ہے۔
آج کے نوجوانوں کی زبان پر یہ شکایت ہمیشہ رہتی ہے کہ رزق  حاصل کرنے کےلئے ان کے پاس کوئی سبیل ہی نہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے اخراجات پوری کریں۔وہ سرکاری نوکری کو ہی ذریعئہ معاش کا واحدحل سمجھتے ہیں جبکہ انکا ایسا سوچنا غلط ہے۔
انسان کوہر اچھے کام کے ذریعہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے،حلال رزق کا سچا حریص وہی ہے جو خود رزق کے لئے  تگ ودو کرے،بہتر مال بھی وہی ہے جو صحیح راہ سے محنت کے بعد حاصل ہو،رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی کمائی کے متعلق دریافت کی گیا تو آپ نے فرمایا: عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور"(احمد اورطبرانی نے اسے روایت کیا ہے) انسان کے ہاتھ کی کمائی سب سے بہتر کمائی ہے اور ہر جائزوخالص تجارت۔
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ جو آدمی کام کرکے دیکر لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے، ایسا شخص میری نگاہ میں بیٹھے رہنے والے اور لوگوں کی نوازش کا انتظار کرنے والے سے بہتر ہے۔
بلکہ  انسان، تجارت اور طلب رزق کے اندر محنت کرکے بھی رب کا تقرب حاصل کرتا ہے، ایسے تاجرکی فضیلت کے تعلق سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشھدائ ‘‘  سچا،امانت دار تاجر نبیوں،صدیقین اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
امام طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ:ایک شخص کا گزر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ،صحابہ نے اس کی محنت اور جاں فشانی دیکھ کر آپ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !کاش اس کا یہ عمل اللہ کی راہ میں ہوتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی یہ کوشش اگر اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے ہوگی تو یہ اللہ کی راہ میں ہے،اگر بزرگ اور بوڑھے والدین کے لئے ہوگی تو یہ اللہ کی راہ میں ہے،اگر خود اس کی ذات کے لئے ہوگی تاکہ (ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے اپنا دامن) محفوظ رکھے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ساری تگ ودو دکھلاوے اور فخرومباہات کے لئے کر رہا ہے تویہ شیطان کی راہ میں ہے۔
اے نوجوانو کی جماعت!کوئی بھی حکومت وسلطنت اور جماعت اس وقت خوشی اور فحر محسوس کرتی ہے جب اس کے نوجوان کے پاس پہاڑ جیسی ہمت ہو،خود سے ترقی کا زینہ طے کرتے ہوئے اعلی مقام پر اپنا مسکن بناتے ہوں،اور وسروں کی ماتحتی میں جینے پر راضی نہ ہوں،جب نوجوان ایسے ہوتے ہیں تو وہ  اپنے سے بڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
حلال مال اور اچھی کمائی کے بہ دولت ہی  مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابئہ کرام اہل کتاب کے ساتھ اقتصادی میدان میں مقابلہ کر نے کے قابل ہوسکے،کیا آپ کولگتا ہے کہ وہ اگر نادار اور محتاج ہوتے تو ان کی تمنائیں پوری ہو پاتیں۔
کسی بھی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج اس کی قوم کی سستی اور کاہلی ہی ہوتی ہے ،کیونکہ حکومتیں افراد سے ہی بنتی ہیں،تو بھلا جب  حکومت کے افراد ہی کاہلی اور ناکارہ پن کے شکار ہو جائیں تو وہ حکومت آسمان کی بلندی کو کیسے پہنچ سکتی ہے؟ بے روزگاری ایک خطرناک برائی اور ہلاکت خیز بیماری ہے جو پلک جھپکتے ہی انسانی زندگی کا سکون غارت اور زندگی کو پراگندہ کردیتی ہے۔بے روزگاری ، فقیری کا دروازہ ،چوری کی  راہ،اور دھوکہ ومکر کی سبیل ہے۔
 اسلام ،عزت وشرافت اور رفعت وبلندی  والا دین ہے۔جو اپنے پیروکاروں کو کار خیر اورنفع بخش عمل کی ترغیب دیتا ہے۔اور ناگہانی آفات ومصائب کے لئے پیشگی تیاری کی رہنمائی کرتا ہے ۔جب دین کے ساتھ ساتھ مال وزر کی فراوانی بھی ہو تو اس سے دین کو تقویت اور غلبہ حاصل ہوتا ہے اور دین کے ساتھ ساتھ اس سے حکومتوں کا بھی سر اونچا ہوتا ہے۔شاعر کہتا ہے:
ما أجمل الدین والدنیا اذا اجتمعا
 جب دین ودنیا کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا جائے توکیا ہی خوب ہو جاتا ہے۔
آپ  رزق کی تلاش میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔اس راہ میں سستی وکاہلی سے کوسوں دور رہیں۔ساتھ ہی مسائل زندگی کے سلسلے میں دوسروں پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔

بڑے بڑے تاجر حضرات دن ورات میں ہی بلند وبالا مقام کو نہیں پہنچ گئے ، بلکہ وہ بھی اپنی جوانی میں کسی نہ کسی کام کے تلاش ہی میں تھے،لیکن ان کی ہمتیں بلند اور نگاہیں آسمان پر تھیں جس نے انہیں آج اس مقام پر پہنچا دیا ۔کسی بھی چیز کی قدر وقیمت کا معیار اس سے طے ہوتا ہے کہ اس کے حصول کے پیچھے کتنی محنت صرف کی گئی ہے۔اسی وجہ سے محنت سے حاصل کی ہوئی چیزکے بارے لوگ کم ہی غفلت اور بے توجہی برت تے ہیں۔جبکہ وہ چیز جو کسی کو  بغیر محنت اور جاں فشانی کے مل جائے، اس کی نظر میں وہ کبھی قیمتی،نفیس اور اہم نہیں ہو سکتی ۔