السبت، مايو 18، 2013

چائے کی دکان


ثناءاللہ صادق تیمی
        پچھلے کئی دنوں سے میرے دوست بے نام خاں اس بات کو لے کر بضد تھے کہ ان کے ہمراہ راجا بھائی کی دکان پر چائے پی جائے،ہم نے جب بھی ان سے تذکرہ کیا کہ چلیں چائے پئیں ،حضور بس راجا بھائی کی چائے کی دکان کا ترانہ پڑھنے لگے۔ہم نے آخر کار جھلا کر کہا ،بھلا راجا بھائی کی ہی چائے کی دکان کیوں؟ یہ سننا تھا کہ ان کی آنکھوں میں چمک آگئی اور میر ے لیے یہ پہلی بار منکشف ہوا کہ حضور والا تُک بند ی بھی کر لیتے ہیں شاعری تو کر نہیں سکتے۔
چائے کی دکان کا کیا بیان کروں
وہ ہے اپنے آپ میں دنیا
جو بھی چاہوگے وہ ملے گا تمھیں
چین ،سکوں،جفا و و فا
اس لیے آومیرے یار چلو
راجا بھائی کی دکان چلو
        میں نے پوری قوت سے اپنی ہنسی دابتے ہوئے کہا،جناب بے نام خاں صاحب ! وہ دور لد گیا جب اسد اللہ خاں غالب اور مومن خاں مومن ،خان ہونے کے باوجود اچھی شاعری کرلیتے تھے۔ بھلا ان دونوں کے بعد بھی کوئی خان قابل ذکر شاعر ہوا؟ ؟ پھر آپ کیوں شاعری کی روح کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ ہمارے دوست کے لیے ہر چند کہ یہ تبصرہ غیر متوقع نہ تھا لیکن پھر وہ اپنی ناراضگی چھپا نہ پائے اور بالکل خانوں کی ادا کے ساتھ گویا ہوئے، جاہل جیسی بات مت کیجیے،اقبال کے بعد اردو شاعری کا سب سے بڑا نا م جوش ملیح آبادی کا ہے۔ اور وہ اور کچھ نہیں خان تھے ۔ہمیں امید نہیں تھی کہ خاں صاحب اس تازہ معلومات سے مستفید فرمائیں گے اور ہمیں چپی سادھ لینی پڑے گی۔
        خیر جب اصرار بہت شدید ہوا اور ڈر لگا کہ کہیں مزید انکار سے ہمارے دوست ناراض نہ ہوجائیں تو بادل ناخواستہ ان کے ہمراہ راجا بھائی کی چائے کی دکان کی طرف چل پڑے۔دکان کیا تھی ، اپنے آپ میں معجزہ،دو بالکل با با آدم کے وقت کی کرسی جو کسی طرح ٹیک لگائے کھڑی تھی، بھٹی جو اب بجھی تب بجھی کی کیفیت سے دوچاراگر ان کا ہینڈ فین (ہاتھ پنکھا) ہلتا ڈولتا نہ رہے ،ایک سسپین جو اپنی بزرگی کا بطور خود شاہد عدل،ایک بانسوں کا بنا ہوا مچان جس کی بتیاں چر مرائی ہوئیں، بیٹھو تو یوں آواز پیدا ہو جیسے پرانی سائیکل پنکچر ہونے کے باوجود چلائی جارہی ہو،ایسے انداز میں بنائی گئی جھونپڑی کہ ہوا کا گزر دھوکے سے بھی نہ ہونے  پائے۔ہم نے اپنا سامنہ بنا کر بے نام خاں سے شکوہ کیا ،میرے باپ اسی عذاب میں مبتلا کرنے کو لانا تھا کیا؟ یہاں تو کوئی مہذب آدمی پل بھر کو ٹھہر نہیں سکتا ! شروع میں  ہرکسی کو یہی لگتاہے، تھوڑی دیر صبر کیجیے پھر تو یہاں کی خوشبو آپ کو اتنی بھائے گی کہ آپ یہاں کے علاوہ کسی اور جگہ کی چائے پئیں گے ہی نہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی مہذب آدمی یہاں نہیں ٹھہر سکتا تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت کیاہے، ہم نے تو آپ کو لایا ہے ،کسی مہذب آدمی کو تونہیں!ابے بے نام خاں!اس کا مطلب تم مجھے نامہذب سمجھتے ہو؟ایسا تو میں نے نہیں کہا،اب اگر آپ کو لگتا ہے تو اس میں بھلا میرا کیا قصور ؟مجھے لگا خاموش رہنے ہی میں نجات ہے،بے نام خاں نے مخصوص انداز میں راجا بھائی کو ایک چائے کا آرڈر کیا۔ہم نے جب کھلے منہ سے ان کی طرف دیکھا تو فرمانے لگے کبھی تو ٹو اِن وَن  پرعمل ہونا چاہیے۔اس کے بڑے فوائد ہیں۔ آدمی سدا خوش رہتا ہے کم وقت اور کم خرچ میں کام چل جا تا ہے۔ یوں بھی چائے پینے کا مقصد پیٹ بھرنا تو ہے نہیں۔ہم نے ذرا کرخت لہجے میں کہا ،لیکن بے نام خاں صاحب !خرچ اگرہمیں کرنا ہو تو یہ اصول آپ کو کیوں نہیں یاد آتا ؟اس وقت تو آپ فراخ دلی اور فیاضی کی برکتوں کا شمار کر تے نہیں تھکتے!ہماری بات سن کر براسا منہ بناتے ہوئے ہمارے دوست کہہ رہے تھے،تمھاری یہی عادت ٹھیک نہیں،کبھی تو اپنی تنقیدی گھوڑی کو لگام دو میری باتیں بھی سننے کے قابل ہوتی ہیں ۔جانتے ہو ہمیشہ سعادتیں سن کر عمل کر نے سے حاصل ہوتی ہیں تنقید کرنے سے نہیں!آپ ہی بتلائیے اس تعقل آمیزی کے آگے ہم چپ نہ رہتے تو کیا کرتے؟؟؟
        چائے ایک بھری ہوئی اور ایک خالی پیالی کے ساتھ آئی ۔بے نام خاں نے نصف کم میری طرف بڑھادیا اور نصف زیادہ میں خود مشغول ہوگئے۔اس درمیان پہلی مرتبہ بے نام خاں سے تھوڑی فرصت ملی اور مختلف لوگو ں کے وِچار سننے کا اَوسر پَراپت ہوا۔
        راجا بھائی آج جامع مسجد میں مولانا کی تقریر کتنی بے مزہ تھی ،ہم تو اس سے پہلے بھی ان کی یہ تقریر سن چکے تھے ،لے دے کے لگتا ہے ان کو یہی ایک دو تقریر یاد ہے“،”نتھونی میاں نے بیٹی کی شادی میں دکھلاوے کو جہیز تو بہت دیا ہے لیکن دیکھیے گا شادی کے بعد بیٹی کا کیا حشر ہوگا“،”راجا بھائی جس طرح لوگ پہلے جیسے نہیں رہے آپ کی چائے بھی پہلے جیسی نہیں رہی“،”للو نے آج پھر ایک آدمی کا موبائل غائب کر دیا، کتنی ہوشیاری سے اپنا کام کرتا ہے وہ“،”لالو پر ساد یادو کی ہار سے ہو نہ ہو سیکولر ووٹ کا نقصان ہوا ہے“،”کام نہیں کیجیے گا تو باتوں کے سہارے کب تک چلتے رہیے گا“،”رام ولاس پاسوان تو بے وقوف ہے،ورنہ اس کو یہ دن تھوڑے ہی دیکھنا پڑتا“،”دنیا میں ہر طر ف مسلمان مظلوم ہیں،اللہ میاں کوئی فرشتہ بھی تو مدد کو نہیں بھیجتا“۔مختلف لوگ اور مختلف سادہ باتیں۔کچھ ایسی باتیں جو بولنے والاسمجھ بھی رہا ہے اور کچھ ایسی جنھیں صرف وہ دہرارہاہے۔میں انہیں باتوں میں کھویا ہوا تھا کہ بے نام خاں نے زور سے کھانستے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلایا۔کہاں کھو گئے؟تم مولویوں کے پا س دعوت کے کام کا جذبہ تو ہوتا ہے مگر حکمت سے کوسوں دور رہتے ہو، خطبہءجمعہ ،درس قرآن اور درس حدیث سے ہی انقلاب بر پا کرنا چاہتے ہو،قیامت آجائے گی یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا۔کبھی ان ہوٹلوں اور چائے کی دکانوں میں آکر بھی داعیانہ کوشش بجا لاؤ تو معلوم ہو دعوت کسے کہتے ہیں اور تبلیغ کتنی کامیاب ہوتی ہے؟اخوان المسلمین کے بانی حسن البناءنے اپنی دعوت کی شروعات انہی چائے کی دکانوں سے کی تھی۔انھوں نے لکھا تھا کہ مسجد کے مصلیوں کے بالمقابل چائے کی دکان میں بیٹھنے والے زیادہ حق کو قبول کرتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر ”غرور حق “نہیں ہوتا ، وہ احساس جرم میں پہلے ہی مبتلا ہوتے ہیں، انھیں تو کبھی توجہ کا مرکز بنایا ہی نہیں جاتا، کبھی ان پر محنت کر کے دیکھوکتنے اچھے نتائج رونما ہوتے ہیں!
        زندگی میں پہلی بار بے نام خاں کو اتنی ستھری زبان اورشستہ لہجے میں بولتے دیکھ رہا تھا۔ شاید خلوص نے لہجے میں متانت اور جوش کی تخلیق کردی تھی ۔دل ہی دل میں نے سو چا ضرور تجربہ کر کے دیکھا جانا چاہیے۔ میں سوچ رہا تھا کہ بات ختم ہوئی لیکن نہیں ،بے نام خاں کا خلوص ابھی شباب پر تھا”انقلاب آئے گا ضرور آئے گا،لیکن یہ س وقت آئے گا جب علما محنت کریں گے، دعوتی دورے کریں گے،لوگوں سے ان کے دروازے پر جاکر ملیںگے،ان سے خود کو بر تر محسوس نہ کریں گے،ان کے حقیقی مسائل کو سمجھیں گے اور پھر ان کے مطابق حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔شاہ اسماعیل،عبدالعزیز رحیم آبادی اور ثنا ءاللہ امرتسری کا کردار ادا کریں گے''
        دل میں آیا کہ بے نام خاں کو تھوڑا چھیڑا جائے لیکن ان کی سنجید گی اور متانت کے آگے سپر ہی ڈال دینا پڑا۔اچھی خاصی گھڑی کاٹنے کے بعد ہم بے نام خاں کے ہمراہ لوٹ رہے تھے ،اس ارادے کے ساتھ کہ چائے پھر یہیں کی پی جائے گی۔یکا یک بے نام خاں دوسرے انداز میں مخاطب ہوئے،بولو!اب دوبارہ چائے کہاں پیو گے؟؟؟ میں میں......راجابھائی کی ہی چائے پیوں گا!!! میں نے دیکھا بے نام خاں کے چہرے پر بشاشت کھیل رہی ہے۔گویا ہوئے،ہم ایسے ہی تھوڑے بولتے ہیں، تجربے نے ہمیں بہت کچھ دے دیا ہے۔خط کا موضوع بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر۔
        ہم لوٹ رہے تھے ۔راجا بھائی کے ہاتھ کا پنکھا ابھی بھی ہلنے ڈولنے میں مصروف تھا۔مختلف لباسوں میں ملبوس مختلف سطح کے لوگ آرہے تھے جارہے تھے۔گفتگو ہو رہی تھی تیز آوازوں میں،دھیمی سروں میں اور راز داری کے اندازوں میں اور چائے پی جارہی تھی مسلسل۔٭٭٭

ليست هناك تعليقات: